Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 39
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
آیت کو افس چھوڑ کر ۔۔ اسنے اپنے پی آئے سے کنٹیکٹ کیا تھا سب سے پہلے
دوسری طرف فیروزنے فون اٹھا کر اسے جینی کے بارے میں سب کچھ بتایا ۔۔۔۔ کہ وہ انھیں اسکے فلیٹ کی بیسمنٹ میں ۔۔ بند کر چکا ہے۔۔۔۔
جس پر سالار نے اسے انکے پاسپورٹ پیسے اور پاکستان اور امریکہ میں بینک بیلنس کی ریپورٹ نکالنے کے آرڈرز دیے ۔۔۔۔اور خود کو پیک کرنے کے لیے کہا ۔۔
اسنے فیروز کو دو گھنٹے بعد کا وقت دیا تھا ۔۔
دو گھنٹے میں اسے ایک ڈائریکٹر سے ملنا تھا ۔۔۔
جو کہ ہولی وڈ کا ڈائریکٹر تھا ۔۔۔اور وہ کافی ایکسائٹیڈ تھا اس سے ملنے کے لیے ۔۔ مگر اس سے پہلے ۔۔ اسے سب سےاہم کام کرنا تھا ۔۔۔
وہ گاڑی ہاسپٹل کی جانب گھما چکا تھا ۔۔۔
جبکہ فون پر کسی سے رابطے میں تھا ۔۔
ایسا کرو تم چلے جاؤ
میں نے انھیں انفارم کر دیا ہے ۔۔۔ ” لڑکی کے آواز پر اسنے سر ہلایا۔۔۔
اور گاڑی تیزی سے اس سفر پر چل دی ۔۔ جہاں وہ جاننا چاہتا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت ایسا کیسے کر سکتی تھی کوئ بھی سوال جانے سمجھے بنا ہی وہ ۔۔۔ اتنا بڑا فیصلہ لے چلی تھی۔۔۔ وہ اسے سنتی توصیحی ہاں ٹھیک ہے وہ مانتا ہے ۔۔ اسنے جو کیا جلد بازی میں کیا اور اسنے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا جس سے ۔۔۔ یہ نقصان ہوا کہ ۔سب اس سے خفا ہو گئے ۔۔۔
مگر وہ تو سمجھتی کوئ تو سوال کرتی ۔۔
اور اب بھی وہ اسی کیطرف سے پیش قدمی کا خواہش مند تھا ۔۔
اوپر سے یہ طلاق والی بات تو گویا تلوار کیطرح لٹک گئ تھی اسکے سر پر ۔۔۔۔
اسنے مدیھا کے کمرے کا رخ کیا ۔۔۔۔ تاکہ ان سے بات کر سکے ۔۔
مدیھا کی طبعیت بھی کچھ خاص اچھی نہیں تھی دروازہ بجا کر وہ اندر داخل ہوا تو وہ شاور لے کر آئیں تھیں۔۔اور اپنی چوٹ پر خود ہی۔۔۔ پٹی کر رہیں تھیں ۔۔
اسے شرمندگی ہوئ اسنے اپنی ماں کو کیسے تکلیف دے دی اتنی بڑی ۔۔
مدیھا اسکو کمرے میں دیکھ کر۔۔۔ نظر کا رخ پھیر گئیں ۔۔۔۔
کس لیے آئیں ہیں آپ “مدیھا نے بنا توقف کے پوچھا
عارض انکے نزدیک آیا ۔۔۔اور سر جھکا کر کھڑا ہو گیا ۔۔
سوری مما ” وہ بس اتنا ہی بول سکا ۔۔۔۔
مدیھا کا دل پسیج ہی اٹھا ۔۔۔۔
مگر اسکی وجہ سے انھیں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا شروع سےاب تک ۔۔وہ ایسے کام کر گزرتا تھا جس کا خمیازہ وہ ساتھ ساتھ بھگتی تھیں ۔۔۔ وہ باشعور خوبصورت مرد تھا اب تو ایک بچے کا باپ بننے والا تھا مگر ۔۔ جلد بازی اتنی تھی
گویا ہر کام ہی سوچے سمجھے بنا کرتا تھا ۔۔
اور اسکے ساتھ ساتھ وہ خود کو بھی آیت کا مجرم سمجھتیں تھیں ۔۔
دو دن سے وہ ۔۔ باہر نہیں نکلیں تھیں کمرے سے صوفیہ تنزیلہ نے اسے بار بار کہا مگر ۔۔۔۔
کچھ اثر نہیں پڑا جب تک کبیر اور مرتضی نہ مان جاتے ۔۔۔۔
عارض آپ جائیں ۔۔ میرے سر میں درد ہو رہا ہے”وہ بول کر سائیڈ پر ہو گئیں ۔۔ جبکہ وہ ہمیشہ کیطرح ۔۔۔
انکے بیڈ پر بیٹھ کر ۔۔ انکے قدموں میں بیٹھ گیا جبکہ ۔۔۔ انکی گود میں زبردستی سر رکھ لیا ۔۔۔۔
مدیھا نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔
مما یہ سب میں نے اسے تکلیف دینے کے لیے نہیں کیا ۔۔۔ میں اسے سیف کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے میں جینی کو دے کر ۔۔۔۔ اسکا خود سے پیچھا چھڑاتا ۔۔۔ میں نے بہت وقت اس بات کو سنبھالنا چاہا اور جب وہ پاکستان آ گئ تو مجھے ۔۔۔۔ مجھے آیت کی محبت نے کمزور کر دیا ۔۔۔۔
میں اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں ۔۔۔
میں مرد تھا ۔۔۔ یہ سب قابو میں کرسکتا تھا ۔۔۔ مگر میں آیت کی وجہ سے کمزور ہو گیا ۔۔
اسے بچانے کے لیے اسے چھوڑ دینے کا سوچ لیا ۔۔۔۔۔” وہ ان سے اپنے دل کی بات کر رہا تھا ۔۔۔ مدیھا خاموش بیٹھیں رہیں البتہ ۔۔انکا ہاتھ عارض کے گھنے بالوں میں چلنے لگا تھا ۔۔
اسکی اداسی دیکھی کہاں جانی تھیں ان سے ۔۔۔۔ وہ اپنے ایک ایک بچے سے محبت کرتی تھیں ۔۔۔
اور ۔۔ ماں باپ کا دل کس طرح نرم سا ہوتا ہے کہ اولاد کتنا ہی کیوں نہ ۔۔۔انکا دل دکھاۓ۔۔۔ وہ اولاد کے ایک لفظ سےبھی راضی ہو جاتی ہیں اسکی آنکھوں میں اداسی اور اپنی بات کا یقین دلانے والا انداز انکے دل پر لگا تھا ۔۔۔۔
میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔ ” اسنے ماں کے ہاتھ پکڑ لیے ۔۔۔
میں سب پہلے کیطرح ٹھیک کر دوں گا ۔۔۔” وہ انھیں یقین دلانے لگا ۔۔۔۔۔
واقعی آپ کر سکتے ہیں ” وہ پوچھنے لگی ۔۔۔ چہرے پر غم و غصہ تھا ۔۔۔
کیا اس لڑکی کے ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جوڑ سکتے ہیں ۔۔
جب وہ مجھے سنے گی تو سمجھے گی ۔۔۔۔ ” عارض نے یقین سے کہا ۔۔۔۔۔
مدیھا نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ ۔۔۔
شیر کیطرح تربیت کی ہے مرتضی نے آپ چاروں کی ۔۔۔ اسطرح خود سے کمزور مخلوق کا دل دکھا کر ۔۔ آپ انکی تربیت ۔۔۔ کو رائیگاں نہ جانے دیں ۔۔۔۔ میری تربیت تو ویسے بھی “
وہ سر جھکا گئیں آنکھوں میں انسو بھر آئے ۔۔ عارض نے جلدی سے انھیں سینے سے لگا لیا ۔۔
میں جانتا ہوں آپکو میری وجہ سے ۔۔کیا کیا سننے کو ملا ہے ۔۔۔ مگر میرا یقین کریں میں سب ٹھیک کر دوں گا ” وہ کہنے لگا تو مدیھا نے سر ہلایا ۔۔۔۔۔
اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا ۔۔
آپ ناراض تو نہیں مجھ سے اب ” وہ پوچھنے لگا ۔۔ مدیھا نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
جب تک آیت نہیں مانے گی تب تک تو ہوں میں آپ سے ناراض ” مدیھا نے صاف انکار کر دیا ۔۔
عارض نے نفی میں سر ہلا کر گھیرہ سانس بھرا ۔۔
آپ کے دونوں بیٹے نہ جانے خود کو کیا سمجھتے ہیں ۔۔۔
طلاق کی باتیں کر رہے ہیں واہ دیکھ لیں ۔۔۔ مجھے سولی پر لٹکانے کا کون سا طریقہ سوچا ہے” وہ غصے سے انھیں شکایت لگانے لگا ۔۔۔
مدیھا ۔۔ تو حیران ہی رہ گئیں۔ ۔۔۔
جبکہ عارض سالار اور کبیر کی بات یاد کر کے غصے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر آیت کو دیکھ کر مسکرانے لگا وہ فیصلہ تو کر چکی تھی مگر اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور وہ بری طرح شرما رہی تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔ نہیں کرنا چاہتی” کبیر نے پوچھا ۔۔۔
چہرہ سنجیدہ تھا مگر آنکھوں میں جیسے مسکراہٹ تھی ۔۔
نہیں بھیا میں کرنا چاہتی ہوں مگر مجھے سمھجہ نہیں آ رہا میں کیسے کروں گی کام ” وہ کنفیوز تھی۔۔۔۔
آئ تھینک میرے پاس تمھارے لیے بیسٹ کام ہے ” کبیر کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔۔
واقعی ” آیت ایکدم جوش سے بولی ۔۔۔
بلکل اسطرح ۔۔۔۔ اس کام سے ۔۔۔ تمھیں ایکسپیرینس بھی آئے گا اور ۔۔ تم ریسٹ بھی کر لو گی۔۔ انڈرسٹینگ ورک فور یو” اسکی طبعیت کو بھی مدنظر رکھا تھا آیت ۔۔زرا جھجھک سی گئ ۔۔۔۔
کبیر نے اسکا ہاتھ تھاما اور پورے افس میں اسکو انٹرڈیوز کرایا ۔۔
سب اسکو مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
مس آیت نے آج ہمیں جوائن کیا ہے۔۔اورمجھے امید ہے آپ سب لوگ مس آیت کے ورک میں ہیلپ کریں گے ۔۔ اٹس آ ریکویسٹ اور آرڈر ۔۔۔”
وہ بولا ۔۔۔۔ تو سب نے یس سر کہا تھا ۔۔۔
اور اسکے خوبصورت چہرے پر سب کی نگاہ تھی۔ جبکہ وہ کنفیوز سی سر جھکاتی کہ۔۔ کبیر نے اسے سر اٹھانے کا کہا ۔۔۔۔
اس طرح دنیا کو فیس نہیں کرو گی ۔۔۔ یہ سب یہاں تمھارے ورکر ہیں ۔۔۔ تم اونر ہو اوکے یہ مت بھولنا جس سے جیسے بھی تمھیں کام کرانا ہے تم کراؤ ۔۔۔ جب تمھیں ہیلپ چاہیے ہو ۔۔ مس عائشہ تمھاری ہیلپ کریں گی اوکے” اسنے عائشہ کیطرف دیکھا ۔۔
جی سر بہتر” اور آیت کو لے کر وہ ۔۔۔۔
ایک کیبن کیطرف چل پڑا ۔۔۔۔
یہ کس کا کیبن ہے بھیا ۔۔” آیت کیبن کو گھوم کر دیکھتی پوچھنے لگی ۔۔۔۔
وائیٹ اور بلیو کومبینیشن کا کیبن کافی خوبصورت تھا ۔۔۔۔
سمھجو تمھارا ہے ۔۔” کبیر اسکے مسکرانے پر مسکرایا ۔۔
مگر مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا پھر میں کیبن میں کیا کروں گی ” وہ حیران ہوئ ۔۔
اس کیبن کا مالک تمھاری ہیلپ کرے گا ڈونٹ وری ” وہ اپنی آنکھوں میں آنے والے وقت کا سوچ کر ۔۔۔ گویا ۔۔ مطمئین ہو گیا ۔۔۔ تھا ۔۔۔۔
وہ جانتا تھا۔۔۔ اس کا مالک ۔۔۔۔ ورکرز کا کتنا عادی تھا ۔۔ اسے یہاں تک کے فائنل اٹھانے کے لیے بھی سیکٹری کی ضرورت تھی صرف انگلیوں پر کی بورڈ چلانے کو ہی وہ بہت کچھ سمجھتا تھا ۔ اور اس آفس کا ۔۔۔ وہ پہلا فرد تھا جس کے انڈر ایک پوری ٹیم آفس سے ہٹ کر کام کر رہی تھیں اور ۔۔ اب۔۔۔ اصل اس شخص کی بینڈ بجنے والی تھی۔۔۔۔
کبیر کے دل کو جیسے ٹھنڈ سی پڑ گئ ۔۔۔
اس آفس کے مالک کون ہیں” آیت نے پھرسے پوچھا ۔۔
میں نے کہا نہ تم ہو ” کبیر نے اسکا گال کھینچا وہ بہت خوش لگ رہی تھی ۔۔
اوکے” آیت نے کہا ۔۔۔۔
اور کبیر اسے مرتضی شہاب شاداب ۔۔۔ سکندر کے رومز دیکھنے لگا وہ سب سے ملی بھی سب اسکو دیکھ کر کافی خوش لگ رہے تھے۔۔۔۔۔
اتنا مزے دار دن ہو گا اسنے سوچا بھی نہیں تھا وہ بلکل کنفیوز نہیں تھی اب ۔۔۔۔۔۔
سارا دن اسنے کبیر کے ساتھ گزرا تھا انھوں نے لنچ بھی ساتھ کیا ۔۔۔۔
اور کبیر نے اسے ہلکا پھلکا کام بھی سمجھایا جسے کرنے کے لیے وہ کافی سے زیادہ ایکسائٹیڈ تھی ۔۔
جبکہ ۔۔۔ کبیر بھی آنے والی کل کے لیے ایکسائٹیڈ تھا ۔۔۔۔
شام ہوتے ہی آفس ۔۔۔ کی چھٹی ہوئ تو ۔۔ کبیر اسے ۔۔ گھر لے آنے کے بجائے باہر لے گیا ۔۔۔۔
اس دوران ایک پل کے لیے بھی اسے نین کی یاد نہیں آئ تھی کہ وہ کیسی ہے ۔۔ نہ ہی اسنے اسے کوئ فون کیا تھا ۔۔
آیت کو آئسکریم پالر میں لے جاتے ۔۔اور اسکے چہرے پر خوشی دیکھ کر ۔۔ کبیر کافی خوش تھا اور اپنی سنگین غلطی کو بھول گیا تھا ۔۔۔
بھیا ۔۔۔ مجھے لگتا ہے ۔۔ اب مجھے نیو شاپینگ کرنی چاہے ” آیت نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔۔
افکورس میری جان ۔۔۔ تمھیں نیو شاپینگ کرنی چاہیے۔۔اینڈ یو ٹرائے ٹو چینج یور سٹائل”وہ خود کافی پی رہا تھا ۔۔۔
مسکرا کر بولا ۔۔۔
آیت معصومیت سے آنکھیں جھپکنے لگی ۔۔۔
مگر میں کیسے چینج کروں گی سٹائل اور ۔۔۔ کیا میں اچھی نہیں دیکھتی” وہ افسردہ ہو گئ ۔۔۔۔
کبیر کا بے ساختہ قہقہہ نکلا ۔۔۔
ویٹ ق سیکنڈ” اسنے موبائل نکالا اور سالار کا نمبر ڈائل کیا ۔۔۔
جو نیکسٹ کال پر اٹینڈ کر لیا گیا دوسری طرف بھی کافی پرجوشی تھی
واؤ برو میں کسی سے ابھی اپنی نیو اگریمنٹ ڈسکس کرنا چاہتا تھا اور تمھارافون آ گیا ” سالار پر جوش سا بولا ۔۔
وائے نوٹ برو ۔۔۔ میں اور آیت تمھارا ۔۔ کیفے میں ویٹ کر رہیں ہیں آ جاؤ ” وہ بولا تو سالار نے اسے لوکیشن سینڈ کرنے کے لیے کہا ۔۔ آیت تو پہلی بار اس طرح باہر نکلی تھی وہ بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ ۔۔ کچھ عرصے پہلے جو اس میں اداسی مایوسی کے جزبات ابھر رہے تھے سب جاتے رہے تھے آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد سالارکیفے میں داخل ہوا تو سب لوگ ایکدم اسکیطرف متوجہ ہوئے
اور جلد ہی بہت سے لوگوں نے اسے گھیر لیا ۔۔۔۔
اسنے ایزیلی سب کے ساتھ پیکس کھینچوائی اور ۔۔۔
آٹوگراف دیا ۔۔۔اور کچھ دیر بعد وہ ۔۔ وہاں سے ہٹ گیا ۔۔ لوگ اب بھی اسکی پیکس کھینچ رہے تھے آیت نے یہ سب پہلی بار دیکھا تھا آج سالار پر اسے بہت فخر محسوس ہو رہا تھا ۔۔
ہیلو ڈول”وہ جھکا اور آیت کا گال کھینچا۔۔ آیت مسکرا دی ۔۔۔۔
اور چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔
بھیا میں بہت بہت خوش ہوں ” آیت ایکدم بولی تو وہ دونوں ہنسنے لگے ۔۔۔
رئیل یہ سب تم نے پہلی بار دیکھا ہے”سالار نے لوگوں کیطرف اشارہ کیا اس کے گارڈ لوگوں کو اس تک پہنچنے سے روک رہے تھے۔
ہمم” آیت نے جوش سے سر ہلایا ۔۔۔
تو سالار نے اسکا ایک بار پھر گال کھینچا اور ایزی ہو کر چئیر پر بیٹھ گیا ۔۔۔
اسنے کبیر کو دیکھا ۔۔۔۔
بتاو کیا شئیر کرنا تھا ۔۔کبیر پوچھنے لگا سالار ۔۔ کو نہ جانے کیوں آج ڈرنک کرنے کا موڈ بن گیا ۔۔ مگر کبیر کے ساتھ ۔۔
مطلب بھری جوانی میں ۔۔۔ مر جانے کے مترادف تھا خیر وہ سالار کی اس حرکت سے واقف بھی کہاں تھا ۔۔۔
سالار نے ریگولر ڈرنک پر اکتفا کیا ۔۔۔۔
ہولی وڈ سے آفر ہوئ ہے
۔۔ اینڈ آئ ایکسیپٹ اٹ “وہ مزے سے بولا ۔۔۔
کبیر اور آیت حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے ۔۔۔
واقعی ” آیت کی تو باقاعدہ چیخ نکلی تھی ۔۔
Yeah “وہ فخر سے بولا تھا ۔۔۔
واؤ بھیا ۔۔۔۔ ” آیت نے اپنی آئسکریم کا سپون اسکے منہ میں خوشی کے اظہار کے طور پر دیا ۔۔۔
جسے اسنے لے لیا ۔۔
تم کچھ بولو گے یہ بت بن گئے ہو “سالار نے گھورا ۔۔۔
یہ سوچ رہا ہوں تمھارا باپ کیا کرے گا تمھارے ساتھ” کبیر نے کہا ۔۔۔ تو۔۔ سالار نے آنکھیں نکالیں ۔۔۔
میری بات سے پہلے اگر تم نے کچھ پھوڑنے کی کوشش کی تو
دیکھنا کیا حشر کرتا ہوں ” وہ غصے سے بولا ۔۔۔
اوکے اوکے” کبیر نے کہا ۔۔۔اور تینوں مسکرا دیے ۔۔
تینوں تادیر باتیں کرتے رہے آیت کے لیے یہ لمہے زندگی کے حسین لمہوں میں شامل ہو گئے تھے ۔۔
سالار اور کبیر نے اسے ۔۔جیسے پھولوں کیطرح ٹریٹ کیا تھا کہ ہلکی سی بھی چوٹ نہ لگ جائے اور سالار کو ملنے والی وی آئ پی پروٹوکول دیکھ کر
وہ مزید پرجوش ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
انھوں نے کافی شاپینگ کی تھی اور سالار نے وہ وہ چیزیں دلائیں ۔۔۔ جو اسنے کبھی نہیں پہنیں تھی۔کافی سٹائلش کپڑے تھے ۔۔۔
میکپ تھا ۔۔ شوز تھے ۔۔۔ جیولری تھی ۔۔ یہ نیا سفر اسکی زندگی میں ۔۔۔واقعی کافی خوبصورت تبدیلی لایا تھا۔۔
سالار کی ضد پر وہ ۔۔۔ اسے پالر لے آیا جبکہ کبیر تو بلکل آیت کے بال کٹنے کے حق میں نہیں تھا ۔۔
میں اب لگا دوں گا تمھارے تھپڑ اچھے بھلے بال ہیں اسکے” کبیر نے غصے سے اسکو گھورا ۔۔۔
تم پورانی صدی کے آدمی چپ رہو ” سالار نے کہا اور۔۔ وہ اسے لیڈیزپالر میں ل آیا ۔۔ کبیر تو اندر نہیں گیا تھا جبکہ آیت حیران تھی سالار پالر میں آ گیا تھا ۔۔۔
اسکی ساری کٹینگ اور سب چیز ڈیسائیڈ کرکے وہ ۔۔۔ خود کبیر کے پاس آ گیا ۔۔۔۔
عارض کو ہارٹ اٹیک آئے گا۔۔ لکھ کر رکھ لو “سالار پرمزہ انداز میں بولا ۔۔
یہ ہی چاہتا ہوں میں” کبیر نے کہا ۔۔۔
برو آئ نیو اٹ ” اسنے ہنس کر کہا۔۔۔
ابھی تو تم زرا اپنے مصروف وقت میں سے کسی دن وقت نکال کر ۔۔ شہزادے پر ہوا ظلم دیکھنے آنا ” کبیر ہنسا ۔۔۔
سالار مطمئین ہوا تھا تھوڑا ۔۔۔۔
کیا کیا ہے تم نے” وہ پوچھنے لگا ۔۔اورکبیراسے اپنی ساری چالاکی بتا گیا ۔۔
اوہ شیٹ” یہ بات تو سالار بھی جانتا تھا وہ ۔۔ کس طرح اپنے ارد گرد کام کے لیے لوگ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔
یار ” سالار کا ہنس ہنس کر برا حال تھا
کبیر بھی انجوائے کر رہا تھا ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد سالار نےاسکیطرف دیکھا ۔۔۔
تمھیں مما سے بات کرنی چاہیے ماں ہیں وہ ہماری
۔۔اور تمھارا یہ رویہ انھیں ہرٹ کر رہا ہے” وہ بولا ۔۔
میں مما سے ناراض نہیں ہوں ۔۔۔ مگر وہ بتا تو سکتی تھیں ” کبیر نے کہا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
آیت کی عزت کا سوال تھا اور پھر وہ جانتی ہیں ۔۔ ہم سب کو۔۔۔ ” سالار سنجیدگی سے بولا ۔۔۔ کبیر خاموش ہو گیا ۔۔۔۔
کچھ دیر مزید دونوں نے سونگز سنے تھے اور کبیر کے لاکھ انکار کے بعد سالار نے اسے اپنا گانا سنایا تھا ۔۔ دونوں ٹین ایجرز کی طرح ایک دوسرے کی کھینچائ میں لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔
اور کچھ دیر بعد آیت باہر آ گئ ۔۔
وہ بے حد شرما رہی تھی ۔۔
جبکہ وہ دونوں ساکت سے آیت کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔
آیت شرمندہ ہو گئ ۔۔
اسکے بال ایک حسین کٹینگ میں بدل چکے تھے اسنے کبھی کٹینگ نہیں کرائ تھی ۔۔۔اور انکے دلائے گئے ڈریس میں ۔۔ وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی کہ ۔۔۔۔۔ وہ دونوں بت بن گئے تھے آیت دروازہ کھول کر خود ہی بیٹھ گئ ۔۔
ایکسیلینٹ” وہ دونوں بیک وقت بولے ۔۔
آیت کو کچھ حوصلہ ہوا ۔۔
بھیا میرے زیادہ بال کٹ گئے ہیں” آیت افسردہ سی بولی ۔۔۔
تمھارے ہی بال ہیں پھر آ جائیں گے ٹینشن کیا ہے ” اسنے مزے سے کہا ۔۔ جبکہ کبیر نے گھورا ۔۔
وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔ زیمل کے کٹوانا پھر مانو گا “کبیر نے کہا ۔۔ توسالار نے سرد سانس کھینچی ۔۔
ایک بار چڑھ تو جائے میرے ہتے ۔۔۔ ” وہ دماغ میں اسکو سوچتا ۔۔۔۔
بولا ۔۔۔
کبھی اچھا بی سوچ لیتے ہیں” کبیر نے آیت کا لحاظ کرتے ہوئے ۔۔۔ اسکیطرف دیکھا اور دونوں کا ایک دم قہقہہ نکلا ۔۔۔اور ۔۔ تقریبا ۔۔۔ وہ بارہ بجے گھر پہنچے تھے تینوں ۔۔۔۔
ان دونوں نے آیت کے شاپینگ بیگ اٹھائے ہوئے تھے ۔۔ جبکہ آیت نے سر پر دوپٹہ لے لیا اسے شرمندگی ہو رہی تھی مگر اچھا بھی لگ رہا تھا ۔۔۔
مرتضی وہیں لاونج میں تھے جبکہ عارض جلے پاؤں کی بلی بنا انتظار کر رہا تھا
۔دوسری طرف نین بھی وہیں ۔۔ بیٹھی تھی ۔۔اورزیمل وہ بھی تو منتظر تھی ۔۔
ان سب نے ان تینوں کیطرف دیکھا ۔۔۔
اور سب سے پہلے نین اٹھ کر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔
آج اسکی کتنی طبعیت خراب ہوئ تھی ۔۔
اور اسنے کبیر کو کتنے فون کیے ۔۔۔۔ تھے ۔۔۔
کم از کم۔وہ بتا تو سکتا تھا وہ کہاں پر ہے ۔۔۔ اسک دل ٹوٹ سا گیا اور وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئ ۔۔
زیمل کو کہاں اپنی ولیو محسوس ہوتی تھی ۔۔۔۔ وہ بھی ۔۔۔ آیت کے روم میں چلی گئ ۔۔۔ جبکہ آنکھوں میں انتظار کی شدت سے پانی بھر گیا تھا ۔۔۔
عارض آیت کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ ستم گر بن گئ تھی آیت نے ایک منٹ کے لیے بھی اسکیطرف نہیں دیکھا تھا ۔۔وہ کتنی مشکل میں تھا نہ جانے اسکی طبعیت کیسی ہو گی ۔۔۔ کچھ کھایا ہو گا یہ نہیں ۔۔۔۔ کتنی سوچیں تھیں دماغ میں جب کہ وہ ظالم اسکو ایک پل کے لیے دیکھنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔۔۔
بتا دیتے ہیں گھر میں۔۔۔ تم دونوں کی بیویاں بھی ہیں اسی گھر میں” مرتضی نے بس اتنا ہی کہا تھا ۔۔ سالار اور کبیر نے ایک دوسرے کیطرف دیکھا ۔۔
مرتضی اپنے کمرے میں جانے لگے ۔۔
بابا مجھے مما سے بات کرنی ہے”اچانک کبیر بولا تو وہ سر ہلا گئے گویا پیچھے آنے کی اجازت دی تھی ۔۔۔
۔۔ آیت زیمل اور نین سے کافی شرمندہ سی ہو گئ تھی ۔۔۔
بھیا بھابھی اب ناراض تو نہیں ہوں گی دونوں مجھ سے ” وہ پوچھنے لگی ۔۔۔۔
میری والی تو بلکل نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔ وہ فکر نہ کرو اور نین بھابھی بھی نہیں ہوں گی ۔۔ البتہ کبیرآج رات باہر سوئے گا ۔۔مزہ آئے گا “وہ قہقہہ لگا کر ہنسا ۔۔۔
عارض یوں ہی کھڑا تھا ۔۔ جبکہ آیت اپنے روم میں جانے لگی
ویٹ میں بھی آتا ہوں ” دونوں اسے اگنور کر کے ۔۔۔آیت کے روم میں چل دیے ۔۔۔ خیر سالار کو تو اپنی پسند کی چیزچاہیے تھی ۔۔
جس کی ناک پرغصہ غصہ سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
دوسرا عارض کا چہرہ غصے کی شدت سے تپ اٹھا ۔۔۔ آیت کے کٹے ہوئے بال دیکھ کر ۔۔۔۔
وہ لڑکی ۔۔۔اب اس کو اکسا رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت اپنے روم میں آئ ۔۔ تو زیمل وہاں بیٹھی تھی آیت کو دیکھ کر بھی بیٹھی رہی ۔۔۔
آیت نے مڑ کر سالار کو دیکھا ۔۔۔
محترمہ شوہر گھر آئے تو کھانے پینے کے بارے میں پوچھ لیتے ہیں” وہ وہیں دروازے میں کھڑا کھڑا ہی بولا ۔۔۔۔
جبکہ زیمل نے کوشن پٹخا اور بنا کچھ کہے ۔۔اسکے لیے کھانا نکالنے کچن میں چلی گئ ۔۔
سالار نے اسکی اس ادا اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔ بالوں کی ڈھیلی سی چوٹیاں کو اسنے دوپٹے سے ڈھانپ لیا تھا ۔۔۔ پاس سے گزرتے ہوئے ۔۔
سالار کے دل نے ۔۔ بیٹ مس کی ۔۔
اس چوٹیاں کو کھول کر۔۔ان لمبے بالوں کی ریشم سے نرمی کو محسوس کرنے کا خواہش مند تھا وہ ۔۔۔۔
عارض پر گزرتا دکھ اب اسے محسوس ہوا ۔۔ مگر۔۔ یہ مزہ ہی الگ تھا ۔۔۔
وہ آیت کے سر پر ہاتھ رکھ کر مسکراتا ہوا۔۔۔
وہاں سے چلا گیا ۔۔
روم لوک کر لینا” آیت کو کہہ بھی گیا آیت نے سر ہلا کر روم لوک کر لیا ۔۔۔
زیمل کو خود سمجھہ نہیں آ رہی تھی اسکی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے ہیں جبکہ وہ شدید غصے میں تھی ۔۔ صبح سے لے کر اب تک ایک جھلک بھی نہیں دیکھی تھی اسکی ۔۔اسے بلکل خیال نہیں تھا اسکس۔۔اپنی مرضی سے خیال رکھتا تھا اپنی مرضی سے پھینک دیتا تھا ۔۔۔۔
جب دل چاہتا تھا پاس بولا لیتا تھا اوراسکے دل کی پرواہ کیے بنا اسے۔۔۔ ایسے بھول جاتا تھا۔۔ کہ جیسے وہ اسکی زندگی کا حصہ ہی نہ ہو ۔۔۔۔
وہ
۔۔ ٹرے میں کھانا رکھتی سوچتی ہوئ غصےسے روتی بھی جا رہی تھی ۔۔ تبھی نین بھی کچن میں داخل وہی غصے سے چہرہ سرخ تھا ۔۔۔۔
بھابھی ۔۔۔ یہ میں نے گرم کر دیا ہے ۔۔”زیمل نے اپنی سرخ آنکھیں رگڑ کر صاف کیں ۔۔
تھپڑ کھاؤ گی مجھ سے اگر تم مزید روئ تو “نین تو غصے سے پھٹ پڑی ۔۔ زیمل نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
سمجھتے کیا ہیں یہ دونوں ہمیں اپنی بہن کے ساتھ تھے تو کم از کم ایک فون کال کر سکتے تھے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ انتظار کی سولی پر لٹکا دیا ۔۔۔اوپرسے تم رونے بیٹھ گئ ہو ۔۔۔۔ میں تمھیں بتا رہیں ہو زیمل ۔۔۔۔ اب تم روئ ۔۔ تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا ۔۔”نین نے کہا تو زیمل نے بھی تھک کر اپنے آنسو صاف کیے اور سر ہلایا ۔۔
زہر ملا کر دے دو اس کھانے میں اسے “نین نے تپ کر کہا ۔۔۔
ایساتو مت کہیں ” زیمل جلدی سے گھبرا کر بولی ۔۔۔
زیادہ نہیں محبت امڈ رہی اور ان نواب کو دیکھو ۔۔۔ میری پرواہ نہیں ” وہ اب کبیر کیطرف آ گئ ۔۔۔
آپ کی تو طبعیت بھی خراب تھی ” زیمل کو یاد آیا کہ اسے سارے دن چکر آتے رہیں ہیں ۔۔۔
وہ شاید بھول گیا ہے کہ اسی نے مجھے اس مصیبت میں ڈالا ہے۔۔ مگر میں بلکل آیت یہ زیمل نہیں ہوں ہوش ٹھکانے لگا دوں گی اور ایسا ہی تم کرو گی سمھجہ رہی ہو نہ میری بات “نین نے اسے جھنجھوڑا ۔۔۔۔
میں میں کیا کروں ” نین نے سر پیٹ لیا
عجیب لڑکی تھی یہ بھی
تم کھری کھری سناؤ گی اسے ۔۔۔”نین نے کہا ۔۔۔
کیسے ” زیمل نے بھی آج پوچھ ہی لیا ۔۔۔
میرا سر زیمل ۔۔” نین تو غصے سے جھنجھلا ہی گئ ۔۔
بھابھی مجھے لڑنا نہیں آتا ” وہ اپنی مجبوری بیان کرنے لگی ۔۔
یہ کھانا یہیں چھوڑو ٹھونس کر آۓ ہیں وہ دونوں ۔۔ کھایا تو ہم دونوں نے نہیں ۔۔۔۔ تم ۔۔۔ تم اس سے کھانا منگواو۔۔۔ جاو۔۔اور خود لے کر آئے گا وہ ۔۔۔یہ یاد رکھنا “
مگرابھی تو وہ تھکے ہوئے آئے ہیں ” زیمل کو گویا احساس ہو گیا ۔۔
تھکا ہوا ۔۔۔۔ کہاں سے لگ رہا تھا تھکا ہوا ہے تمھارا شوہر اور میرے والے کی تھکاوٹ تو دیکھو ادھے گھنٹے سے ۔۔ بیٹھا ہے ۔۔۔۔ بابا کو چا ہیے تھا دونوں کو جوتیاں لگاتے بس میں آیت کی وجہ سے چپ ہوں ۔۔ کہ چلو کئ دونوں بعد ہی صیحی اسکے چہرے پر مسکراہٹ تو تھی ۔۔
ہممم آیت خوش تھی اور اسنے کتنے پیارے بال کٹوائے ہیں” زیمل نے کہا ۔۔
ہم بہت پیاری لگ رہی تھی اچھا خیر تم جاؤ اور جو میں نے کہا ہے وہی کرنا بات بات پر لڑنا ہے تم نے اس سے “
اسنے کھانے کی ٹرے رکھ لی ۔۔
مگر انھوں نے کھانا کھانا ہے “
کہہ دو میرے پاس نہیں ہے ۔۔۔اوراتنی دیر سے آئیں ہیں تو نواب زادے کھا کر بھی میں آئے ۔۔” نین نے فل زیمل کو تیار کر دیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ خود تو کبیرکوآنکھوں سے نگلنے کا ارادہ رکھتی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
