Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

نین سانس روکے اسکی جانب دیکھتی رہی ۔۔لبوں پر چپ کا کفل ڈال لیا تھا ۔۔۔۔
میں نہیں جانتا تمھیں دیکھ کر ۔۔۔ میرے خاموش دل میں اس طرح حل چل کیسے ہو گئ ” وہ اسکا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھتا بولا ۔۔۔۔
نین کو اپنی ہتھیلی پر اسکے دل کی دھڑکن محسوس ہوئ ۔۔
اسنے سانس کھینچا۔۔اور اپنا ہاتھ ہٹانا چاہا مگر کبیر کو یہ منظور نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ یوں ہی اسکا ہاتھ تھامے ایک بار پھر سے اسکے چہرے پر جھک آیا ۔۔۔ اسکی سانسوں کو قید کر لیا ۔۔۔
جبکہ پر حدت لمس میں شدت تھی۔۔۔
نین پھر سے اسکا کرتا جکڑ گئ ۔۔۔
کبیر کی شدت کا دورانیہ بھڑنے لگا ۔۔۔۔
کتنے آرام سے اسکی محبت اسکو ملی تھی ۔۔ یہ بات اسکے لیے بہت تھی ۔۔۔
وہ اسپر اپنے سارے جزبے لوٹا دینا چاہتا تھا
۔۔
اسنے ایک جھٹکے سے نین کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو اپنے ساتھ کھینچ کر بیٹھا لیا ۔۔۔
نین کے لیے البتہ یہ قربت قابل قبول نہیں تھی اسکی آنکھوں میں نمی بھر گئ ۔۔ جسے اسنے ۔۔۔۔
آنکھیں سختی سے بند کرکے اندر اتار لیا ۔۔
جب دل میں کوئ اور ہو تو کسی اور کی قربت کیسے سکون کا باعث بن سکتا ہے ۔۔ وہ اپنی مرضی سے اس سے جدا ہوا ۔۔۔۔
اور اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔ نین میں بلکل اسکو دیکھنے کی ہمت نہیں تھی اگر وہ اسکی جانب نگاہ اٹھاتی تو اسے علم ہو جاتا کہ اسکی آنکھوں میں کسی اور کا عکس ہے ۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکا گئ ۔۔ کبیر مسکرا دیا
۔
اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر گال تھپتھپا یا ۔۔۔
بھوک لگی ہے ” وہ مسکرا کر پوچھنے لگا ۔۔
نہیں” نین بولی ۔۔
اوہ ہو کھانا تو کھانا چاہیے ۔۔۔ ویسے لگتا نہیں تمھاری فیملی تمھیں کچھ کھلاتی بھی تھی”
وہ اٹھا ۔۔۔
طنز کر رہے ہیں” اسنے اسکی جانب دیکھا جبکہ کبیر نے چونک کر اسکو دیکھا ۔۔
مجھے تم ٹیپیکل مت سمجھنا میں بلکل ان باتوں پر وقت ضائع نہیں کرتا ۔۔ جو بے مقصد ہوں ” اسنے کہا اور ٹیبل پر لگا کھانا اٹھانے لگا ۔۔۔
ایسا کرو تم ادھر ا جاؤ ۔۔۔ ” اسنے نین کو اپنے پاس بلایا خود صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔
نین اٹھ کر اسکے پاس۔ آگئ ۔۔۔
کیا یہ لہنگا تنگ کر رہا ہے” اسنے سوال کیا اور اسکا ہاتھ تھام کر بلکل اپنے نزدیک بیٹھا لیا ۔۔
نہیں”نین جلدی سے بولی ۔۔ کبیر نے جھک کر اسکے ہاتھ پر پیار کیا اور ۔۔ اسکو آپنے ہاتھ سے کھلانے لگا ۔۔۔
تم پر کوئ پابندی نہیں ہے ۔۔ میں مانتا ہوں ہمارا ایج ڈیفرنس بہت ہے ۔۔۔ مگر ۔۔ پھر بھی تمھارے لیے سارے راستے کھلیں ہیں تم جیسے چاہو زندگی گزار سکتی ہو ۔۔ بس ایک بات کا خیال رکھنا”اسکے منہ میں لقمے دیتے ہوئے وہ مدھم لہجے میں بول رہا تھا ۔۔ نین نے واقعی ہی کچھ نہیں کھایا تھا تبھی وہ چپ چاپ کھانے لگی ۔۔
کون سی بات”وہ پوچھنے لگی ۔۔۔
جب تم میری ہو ۔۔ تو صرف میرے بارے میں سوچنا ۔۔ اپنے اس دل میں صرف میرا خیال رکھنا ۔۔ اپنی ان آنکھوں میں صرف مجھے دیکھنے کی خواہش رکھنا ۔۔۔۔
اپنے جذبوں کو صرف میرے لیے کھرا رکھنا ۔۔۔
ہم چارو بھائ ہی اس کے بارے میں کافی ضدی رہے ہیں ۔۔۔ بس جو چیز ہماری ہوتی تھی وہ ہم کسی سے شئیر نہیں کرتے تھے ۔۔۔
اور یہ عادت ہم چارو میں آج تک ہے ۔۔۔
اور مجھ میں بھی ۔۔۔۔ میں نے تمھیں بہت آسانی سے پایا ہے ۔۔۔۔ “وہ مسکرایا جبکہ نین کا ایک ایک لقمہ بھاری ہو گیا حلق سے کچھ بھی نیچے نہیں اتررہا تھا ۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں ا
ہم ایک آئیڈیل لائف گزاریں نہ کہ ہماری ایج ڈیفرنس لوگوں کو ہم پر باتیں بنانے کا موقع دے۔ ۔۔۔۔ میری طرف سے تم پر کسی چیز کی پابندی نہیں ہے ۔۔۔
تم جہاں چاہے وہاں جا سکتی ہو ۔۔۔ مگر اطلاع دے دیا کرنا مناسب سمجھو تو بندہ پریشان بھی ہو سکتا ہے اور وہ بھی وہ ۔۔ جو اپنی بیوی پر مرتا ہو “وہ اسکے چہرے کے نزدیک آیا ۔۔ اور سہولت سے جسارت کر دی ۔۔
نین سر جھکا گی۔۔۔
کچھ نہیں کہو گی” کبیر مسکرا کر پوچھنے لگا ۔۔۔
تو نین نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔
کیوں ” کبیر پوچھنے لگا۔۔۔۔
میں نے کھا لیا ہے” وہ اب مزید نہیں کھا سکتی تھی تبھی اسکا ہاتھ روک دیا ۔۔ یار تمھاری چڑیا سی جان ہے کیسے “وہ معنی خیزی سے رکا ۔۔ نین نے چہرے کا رخ موڑ لیا اسکا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔۔
کبیر نے ہنسی دبائ ۔۔ شاید ہی وہ زندگی میں اتنا ہنساہو۔۔۔۔۔
میرے گھر والے مجھ سے ناراض ہیں ۔۔۔۔۔ “
کیوں”کبیر نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔
معلوم نہیں میں صرف انھیں منانا چاہتی ہوں ۔۔ بس اس میں میری مدد کیجیے گا ۔۔۔ باقی جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا “نین نے کہا
۔۔اور کچھ کنفیوز سی دیکھائی دینے لگی کبھی وہ یہ ہی نہ پوچھ لے گھر والے بھی تمھارے ناراض اور تم جانتی بھی نہیں کیوں ناراض ہیں ۔۔۔۔
کبیراسکیطرف دیکھتا رہا جو رو دینے کو تیار تھی اور پھر ہاتھ بڑھا کرا سکو اپنے سینےسے لگا لیا ۔۔۔
اوکے “اسنے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔
نین نے گھیرہ سانس کھینچا ۔۔۔۔
کبیر اسکے چہرے کی جانب ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ نین اس پریشانی میں تھی کیا وہ اسکاچہرہ پڑھ رہا ہے ۔۔۔
وہ کسمسا کر اس سے الگ ہوئ ۔۔۔۔
میری منہ دیکھائی “اسنے جان بوجھ کر یہ زکر چھیڑا ۔۔ کہ وہ زیادہ توجہ نہ دے ۔۔۔
اوہ ” کبیر نے ماتھے پر ہاتھ مارا ۔۔ نین زبردستی مسکرائ ۔۔۔۔
دل تو عجیب دھائیاں دے رہا تھا ۔۔۔
وہ جلدی سےاٹھا اور بیڈ کے سائیڈ کے دراز سے ایک بکس نکال لایا ۔۔۔
نین اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
وہ اسکے پاس ا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
اور ایک بریسلیٹ جو کہ کافی مہنگا دکھ رہا تھا ۔۔ نکال کر ۔۔۔ اسنے اسکی کلائی میں پہنا دیا ۔۔اسکی سفید کلائی میں بریسلیٹ بے حد حسین لگ رہا تھا ۔۔۔
اور کبیر فدا ساہوا اسکی کلائی پر جھک کر پیار کر گیا ۔۔۔
نین اتنے مہنگے تحفے کو دیکھ کر سوچنے لگی ۔۔۔۔
کہ اسکو ٹھکرانے والے نے اسکی محبت کی قیمت پیسوں میں تولی تھی اور آج ۔۔۔ اسکے ہاتھ میں کتنی قیمتی شے تھی ۔۔۔۔
اچھا لگا “وہ پوچھنے لگا ۔۔
جی”وہ بولی ۔۔ اور کبیر نے اسے اچانک ہی صوفے سے اٹھالیا ۔۔۔
اپنے بازؤں میں قید کیے وہ اسے۔ دوبارہ بیڈ پر لے آیا ۔۔ نین کا وجود کانپ سا گیا گویا وہ لمہےا۔ گئے جن میں اسے برداشت کی انتہا پر جانا تھا۔۔۔
کبیر نے روم کی لائٹس آف کر دیں۔ ۔۔
نین کی آنکھ سے آنسو ٹوٹا ۔۔ کاش وہ اسے چیخ کر بتا سکتی کہ ۔۔
میرا دل تمھاری قربت کا خواہشمند نہیں ہے ۔۔۔۔
مگر اپنی ساری آہ زاری حلق میں دبائے وہ اندھیرے میں اسے شرٹ لیس ہوتا ۔۔ دیکھنے لگی ۔۔اور پھر اسنے آنکھیں بند کر لیں ۔۔
یہ رات اسپر گزرنی تھی ۔۔۔ اس رات کو وہ روک نہیں سکتی تھی وقت کو پکڑ کر بدل نہیں سکتی تھی ۔۔
کبیر کا شدت بھرا لمس محسوس کر کے ۔۔ بڑی رفتار سے اسکی انکھوں سے آنسو نکلنے کے لیے مچلے مگر کمال ضبط کا مظاہرہ کرتی وہ ۔۔ ایک لفظ بھی نہیں بولی ۔۔ اسکی قربت میں نرمی تھی پھولوں کی سی دیوانگی سی تھی مسروریت تھی گویا ۔۔۔ جو اسنے چاہا وہ پا لیا تھا ۔۔ مگر نین اسکا کسی طرح ساتھ نہیں دے پائ تھی مگر مقابل کو اپنے جوش میں ہوش ہی کہاں تھا ۔۔۔۔
۔محبت بانہوں میں تھی موقع تھا ۔۔۔ حاکمیت تھی۔۔۔
وہ اسکو اپنی چاہت کی بارش میں بھگو رہا تھا اسکا پور پور ۔۔ سجا دینا چاہتا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح روشن تھی ۔۔۔۔ کبیر کے لیے خاص طور پر ۔۔۔۔۔
نین اسکی بانہوں میں تھی ۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ ۔۔۔ جوش میں کچھ زیادہ ہی ا گیا تھا ۔۔۔ جبکہ وہ تو اسکی وجہ سے
ایک لفظ بھی نہیں بولی ۔۔۔ اسنے نین کے چہرے پر سے بال ہٹائے ۔۔۔ اور اسکے گال پر پیار کیا ۔۔۔
اچانک اسکے موبائل کی بیل بجی ۔۔
اسے لگا یہ ضرور سالار ہو گا ۔۔۔۔۔
مگر میسیج دیکھ کر وہ بھی ان نون نمبر سے وہ اس طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
اور جب اسنے وڈیوز کھولیں ۔۔۔۔ توایکدم دماغ سپارک ہوا تھا ۔۔۔۔
یہ وڈیوززین کی تھیں
۔۔
جو کوٹھےمیں کسی لڑکی کے ساتھ تھا ۔۔۔
اور بے حد چیپ حرکت کر رہا تھا ۔۔۔۔
کبیر سر تھامے وہ وڈیوز دیکھنے لگا ۔۔۔۔
جبکہ نین کو یوں ہی چھوڑے اپنی جگہ سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔ نین نے اسکی بانہوں کے حصار سے نکلتے کروٹ بدل لی ۔۔۔۔
مگر وہ اب بھی نیند میں تھی ۔۔۔
دوسری طرف کبیر تو سر سے پاؤں تک آگ کیطرح بھڑک اٹھا تھا ۔۔ دوسری وڈیو اسنے کھولی
اس میں زین ایک لڑکی کو دیوار سے چیپکائے کھڑا تھا ۔۔ اوراچانک اسے خیال آیا یہ وہ لڑکی تھی جس نے ابھی سوسائیڈ کی ہے ۔۔۔
تیسری وڈیو میں ۔۔ ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی کی جا رہی تھی مگر وہ اتنی اندھیرے میں تھی معلوم نہیں ہو پایا کہ کون ہے ۔۔۔ زین یہ پھر کوئ اور ۔۔۔۔
اگر چاہتے ہو کہ یہ سب ۔۔ پولیس کو نہ دوں تو ایک کروڑ روپے دے دو۔۔” نیچے میسیج لکھا تھا ۔۔۔
کبیر نے سرخ چہرے سے سر اٹھایا ۔۔ آنکھوں میں خون سا اتر گیا تھا ۔۔
وہ اٹھا اور موبائل پھینک کر واشروم میں چلا گیا ۔۔۔۔
اس اٹھا پٹک پر نین کی آنکھ کھل گئی ۔۔ اسنے واشروم کی جانب دیکھا اور ایکدم اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔
اور خود سے ہی شرمندہ ہو گئ ۔۔۔
بلنکیٹ خود پر کھینچ کر اسنے جلدی سے ڈریسنگ کیطرف جانا مناسب سمجھا ۔۔ تھا ۔۔ وہ لباس تبدیل کرکے واشروم جانے کے لیے نکلی تو کبیر ۔۔ آئینے کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔
چہرے پر رات کے جیسی نرمی غائب تھی ۔۔۔
جبکہ اتنی سختی تھی وہ ایکدم گھبرا گئ ۔۔۔
کبیر نے اسکی حیران پریشان نظروں کو دیکھا اور اسکے پاس ا یا ۔۔ چاہ کر بھی اپنے غصے کو اندر چھپا نہیں پا رہا تھا ۔۔۔
انکی عزت کو داغدار کر دیا تھا زین نے ۔۔ اسکے وجود میں شعلےسے جل اٹھے تھے اور کس کی ہمت تھی اسے دھمکی دیتا۔
وہ نین کے پاس آیا ۔۔۔اور اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔
آپ ٹھیک ہیں ” نین نے سوال کیا چہرے پر پریشانی سی تھی ۔۔
ہممم” کبیر زبردستی مسکرایا ۔۔اور اسکی پیشانی پر لب رکھے ۔۔۔
تم فریش ہو جاؤ ۔۔۔۔ میں زرا باہر جا رہا ہوں ۔۔۔”
گھرسے “وہ پریشانی سے پوچھنے لگی ۔۔۔
کبیر نےا سکیطرف دیکھا ۔۔ مدھم سا مسکرا دیا ۔۔
نہیں کمرے سے “وہ بولا اور سیل فون اٹھا کر باہر نکل آیا ۔۔۔
نین جبکہ واشروم میں چلی گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر سالار کے پورشن میں ا گیا ۔۔۔ جبکہ زین کے کمرے کے پاس سے گزرتے ہوئے اسنے زین کے کمرے کا دروازہ آندھی طوفان کیطرح بجایا تھا ۔۔
مدیھا پریشان ہو گئ ۔۔۔
کیا ہو گیا کبیر ” اپنے بیٹے کو آگ شعلے اگلتے ہوئے وہ شادی کی پہلی صبح دیکھ کر حیران تھیں نانی خالا مامی ایمن بھی جاگ رہے تھے ۔۔۔۔
جبکہ مرتضی بھی ۔۔
کچھ نہیں ” اسنے صاف جواب دیا ۔۔۔۔
اور زین نے دروازہ کھولا ۔۔
بڑے بھیا آپ ” وہ بولا نیندوں میں کبیر کا بس نہیں چلا یہیں اسکا منہ تھپڑوں سے سرخ کر دے
کبیر نے اسکا ہاتھ جکڑا ۔۔۔ اور اسے کھینچتا ہوا اوپر لے ایا ۔۔
مدیھا بھی پیچھے بھاگیں تھے جبکہ مرتضی سمیت ۔۔ باقی لوگ بھی تجسس کے مارے ۔۔ اٹھے مگر تنزیلہ اور صوفیہ نے انھیں سمبھال لیا ۔۔۔
عارض جو رات سے گھر میں داخل ہی نہیں ہوا تھا ۔۔۔ وہ ابھی آیا تھا اور سب کو اوپر بھاگتا دیکھ وہ ایکدم اوپر کی جانب بڑھا کہ کیا ہو گیا ہے ۔۔
سالار کے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھول کر کبیر نے زین کو کھینچ کر اندر پھینکا تھا وہ فرش پر جا گیرہ ۔۔
سالار کی آنکھ کھلی تو زین کو فرش پر دیکھ کر وہ تلملا کر سیدھا ہوا ۔۔۔
کبیر ۔۔۔ عارض مدیھا مرتضی سب تھے اسکے کمرے میں ۔۔۔
وہ سمھجہ نہیں سکا یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔۔۔
کہاں تھے تم پیچھلے دنوں ” کبیر نے چئیر کھینچی اور زین کے پاس رکھ کر وہ جھک کر سنجیدگی سے اس سے سوال کرنے لگا ۔۔
زین کا رنگ سفید پڑ گیا ۔۔
یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا “سالار کا دماغ کبیر کی حرکت پر خراب ہو گیا ۔۔
شیٹ آپ”کبیر کی دھاڑ نے ۔۔۔۔ گویا سب کو سانپ سنگھا دیا ۔۔
تمھارے کمرے میں اس لیے لایا ہوں ۔۔ کہ یہ سب تمھاری دی۔ ہوئ چھوٹیں ہیں ۔۔ میری بات کے بیچ میں مت بولنا سالار ورنہ اچھا نہیں ہو گا ” کبیر انگلی اٹھا کر آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر جب نہیں آیا تو نین کو خود ہی باہر آنا پڑا باہر کا ماحول تو خوفناک سا تھا ۔۔ سب اوپر سے آنے والی آوازیں سن رہے تھے ۔۔۔
جبکہ اسنے تین لڑکیوں کو دیکھا ۔۔جن کے نام وہ بھول گئ تھی وہ سہمی کھڑی۔ تھیں ۔۔
کیا ہوا ہے “وہ انکے پاس ا کر پوچھنے لگی ۔۔
بڑے بھیا”عمل رونے لگی وہ جان گئ تھی زین کا بھانڈا کھل چکا ہے ۔۔۔ اور کبیر کا غصہ تو اسی نوعیت کا تھا ۔۔ وہ کچھ نہیں دیکھتا تھا حالات واقعات کیا ہیں بس وہ ریاکشن دیتا تھا ۔۔۔۔
کبیر کی بات کر رہی ہو “نین نے پوچھا تو عمل نے سر ہلایا ۔۔۔
وہ کہاں ہیں”
اوپر “آیت بھی رو دینے کو تھی ۔۔۔
کیا ہم اوپر جا سکتے ہیں” اسنے ان سب کو روتے دیکھا تو سوال کیا ۔۔
ہم چلتے ہیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے”پریشے بولی ۔۔۔
تو وہ چاروبھی اوپر چڑھنے لگی جہاں سب لوگ موجود تھے ۔۔ شہاب سکندر افشین وجاہت ۔۔ جو آج خاموش کھڑے تھے ۔۔
سالار کے ہاتھ میں موبائل تھا ۔۔۔ جبکہ مرتضی سر تھامے سالار کے بستر پر بیٹھے تھے مدیھا ۔۔ مسلسل رو رہیں تھیں ۔۔
زین میں پوچھ رہا ہوں ۔۔۔ تم پیچھلے دنوں میں کہاں تھے”کبیر دھاڑا ۔۔۔
نین تو اچھل ہی اٹھی کیا یہ وہی مرد تھا جو رات ۔۔۔ اتنی نرمی سے اس سے مخاطب تھا کہ ۔۔۔۔ اگر اسکے دل میں چور نہ ہوتا تو شاید وہ خود کو خوش قسمت تصور کرتی ۔۔۔۔
بھیا ۔۔۔ بڑے بھیا میں ۔۔۔ یہ سب ۔۔۔ اچانک ہوا یہ سب ۔۔۔ احتشام نے کیا ہے “زین گھبرایا ہوا سا بولا ۔۔۔۔
جبکہ کبیر کا ہاتھ اٹھا اور زین کے منہ پر کھینچ کر تھپڑ لگا ۔۔۔
جتنا پوچھ رہا ہوں اتنا جواب دو ۔۔۔”کبیر حلق کے بل چلایا ۔۔۔۔
جبکہ زین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔
سالار موبائل ہاتھ میں تھامے ضبط سے کھڑا تھا ۔۔۔۔
یہ سب زین نے کیا تھا ۔۔۔ اسے اول تو یقین کرنا مشکل تھا دوسرا ۔۔۔۔
اسکی جان کو کبیر نے دھن کر رکھ دیا تھا دانتوں پر دانت چڑھائے وہ کھڑا تھا ۔۔۔۔
احتشام کے ساتھ سب سے جھوٹ بول کر ۔۔ کوٹھے پر جاتا تھا ” زین نے پھولتی سانسوں میں سچ بتایا ۔۔۔
سب عورتوں نے منہ پر ہاتھ رکھ لیے کہ وڈیو تو صرف مرتضی اور سالار نے دیکھی تھی ۔۔
عارض نے بھی سر تھام لیا جبکہ وہ ۔۔ بے چین بھی دیکھا ۔۔
نین تو سفید پڑ گئ تھی ۔۔ کبیر کا غصہ دیکھ کر
کبیر نے زین کے بال جکڑ لیے ۔۔۔۔
کس نے تمھیں اتنی جرت دی ۔۔کہ تم ۔۔ کوٹھے پر جا کر ۔۔۔ ہمارے خاندان کا نام اچھالو “وہ پھنکارہ ۔۔۔
بھیا مجھے معاف کر دیں ” زین رونے لگا ۔۔۔۔
سالار خاموشی سے ہاتھ باندھ گیا ۔۔۔۔
معاف کر دوں ۔۔۔۔ تمھیں معاف کروں ۔۔۔۔میں تمھیں جان سے مار دوں گا زین “وہ غرایا اور زین کے چہرے پر بنا رکے تھپڑ برسا دیے ۔۔
سب ضبط سے کھڑے تھے کوئ بیچ میں نہیں آ سکتا تھا جانتا تھا ۔۔۔ جو بیچ میں آیا کبیر اسپر بھی ہاتھ چھوڑ دے گا بنا دیکھے ۔۔
مرتضی وہاں سے اٹھ کر چلے گئے جبکہ انکے بھائ مرتضی کے پیچھے گئے ۔۔۔۔
کبیر نے اسکا چہرہ نیلا کر دیا ۔۔۔
اس لڑکی کا ریپ کیا تھا تم نے ” اسنے زین کی گردن جکڑتے ہوئے پوچھا ۔۔
نہیں میں نے نہیں کیا میں سچ کہہ رہا ہوں “
زین روتے ہوئے بولا ۔۔۔ کبیر سے تو پہلے ہی اسکی جان نکلتی تھی ۔۔
جھوٹ بول رہے ہو بکواس کر رہے ہو ۔۔۔”کبیر نے چپل پاوں سے نکالی اور اس سے پہلے وہ زین کو چپل سے بھن دیتا سالار ۔۔ نے اسکی چپل جکڑ لی ۔۔
عارض بھی سالار کے آتے ہی بیچ میں آیا ۔۔ جبکہ زین نے روتے ہوئے سالار کے پاؤں پکڑے اور کبیر سے دور ہو گیا ۔۔
سالار “کبیر آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔۔۔
بس “سالار ضبط سے بولا ۔۔۔۔۔
یہ سب تمھارا کیا دھرا ہے ۔۔۔۔ یہ جھوٹ بول بول کر ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ۔۔ یہ ہماری عزت اچھالتا رہا ۔۔اور تم اب بھی اس کے لیے کھڑے ہو گے ۔۔”عارض جس نے کبیر کا ہاتھ جکڑا تھا ۔۔۔ کبیر اسکا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
یہ بات ہم بعد میں کریں گے ” سالار نے ضبط سے کہا ۔۔
یہ بات بعد میں نہیں ہو گی ۔۔۔
یہ ابھی اور اسی وقت اس گھر سے نکلے گا اور جو بلیک میل کر کے ایک کروڑ مانگ رہا ہے نہ مجھ سے ۔۔۔۔ یہ اسکو ایک کروڑ دے گا ۔۔ تاکہ ۔۔۔ پولیس اسکو اٹھا کر نہ لے کر جائے سمجھے تم”وہ بولا ۔۔ غصے سے چہرہ سرخ تھا ۔۔۔۔
یقین تو کسی کو نہیں ا رہا تھا زین کی اس حرکت کا ۔۔۔۔۔
اینڈ ڈونٹ سے ۔۔۔کہ تم اسکی زرا بھی حمایت کرو گے اگر تم نے ایساسوچا بھی ۔۔۔۔۔
تو ۔۔۔ میں اسکی جان لے لوں گا ” زین کو روتے دیکھ وہ پھنکارہ ۔۔۔۔
سالار چپ چاپ اسکی بات سنتا رہا ۔۔۔
جبکہ زین اسکے بازو سے لگے رو رہا تھا ۔۔
آج پہلی بار اسے بے بسی محسوس ہوئ تھی اپنے کسی رشتے کے لیے اسنے کبھی بے بسی محسوس نہیں کی تھی ۔۔
اس سالے نے مارا ہے اس لڑکی کو جرت تو دیکھو اسکی”کبیر پھر سے جھپٹا ۔۔ اور زین کے تھپڑ دے مارا ۔۔۔۔۔
میں نے نہیں مارا میں سچ کہہ رہا ہوں ” زین بولا ۔۔۔ جبکہ رونے میں اور تیزی آ گئ تھی ۔۔۔
سب لڑکیاں اس سے دور رہیں گی ۔۔ یہ غلیظ انسان گھر میں رہنے قابل نہیں ہے جاؤ اب سب یہاں سے ” کبیر نے پریشے آیت اور عمل کو کہا ۔۔۔ تو وہ جی بڑے بھیا کہہ کر وہاں سے نیچے چلی گئیں ۔۔۔
نین نے بھی جانے کی کوشش کی مگر پاؤں میں چلنے کی ہمت نہیں ہوئ۔ ۔۔
کچھ بولو گے اب تم” کبیر سالار پر غصہ ہوا ۔۔۔
یار یہ سب کیا ہے ” سالار بے یقینی سے پوچھنے لگا ۔۔۔
جبکہ زین اسکے اعتبار کو توڑنے پر بری طرح رو دیا ۔۔۔۔
کبیر نے بھی ضبط سے دانت بھینچے سالار کی اٹیچمنٹ تو وہ جانتا تھا زین کے لیے
۔ اسے اگر غصہ تھا تو سالار کو تکلیف ہوئ تھی وہ جانتا تھا ۔۔
پلیز بھیا آپ پانی پی لیں” عارض نے پانی کا گلاس دیا ۔۔
تم دیکھ نہیں رہے عارض اس نے تماشہ بنوا دیا ۔۔۔
یار ہمارے گھر کی بیٹیاں پھر تو اس سے دور رہیں یہ تو اس قابل ہی نہیں اسے رکھا جائے گھر پر کوٹھے پر جانا پسند کرے گا عورتوں کے ساتھ راتیں رنگین کرے گا تو ماں بہنوں کو کن نظروں سے دیکھے گا ” کبیر بولا ۔۔
تو عارض چپ سا ہو گیا ۔۔
کبیر نے پانی جھٹک دیا۔۔۔۔ عارض نے ماں کی جانب دیکھا ۔۔۔
نین بھی خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی شادی اور خوشیوں سے کھلکھلاتا یہ گھر اچانک کیا ہو گیا تھا ۔۔ مدیھا چپ چاپ پلٹ گئیں ۔۔۔۔
جبکہ عارض نے نین کو دیکھا ۔۔ وہ ہمت کرتی آگئے آئ ۔۔
پانی پی لیں” وہ بولی ۔۔۔ کبیر نے گلاس کو دور اچھال دیا ۔۔۔۔
اور عارض کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔۔
بھابھی آپ جائیں” عارض کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔
نین پیچھے پلٹ گئ جبکہ عارض نے دروازہ بند کر دیا ۔۔
کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے “
بھیا مجھے معاف کر دیں میری غلطی کوٹھے تک ہے ۔میں سچ کہہ رہا ہوں ” زین اسکے قدموں میں بیٹھ گیا ۔۔۔
کبیر اسے اس گھر سے نکالو ۔۔ جتنی عیاشی کرنی ہے یہ کر لے “سالار نے کہا اور موبائل دور اچھال دیا ۔۔۔
جبکہ زین روتے ہوئے نفی کرنے لگا ۔۔۔۔
اس وقت وہ چارو پہلی بار اکیلے ۔۔۔۔ پریشان بیٹھے تھے ۔۔۔۔
بہت دیر یوں ہی خاموشی کی نظر ہو گئ ۔۔۔۔
اسکو ہوسٹل شیفٹ کر دو ۔۔۔” کبیر اٹھتے ہوئے بولا ۔۔۔
اگر اس میں غیرت ہے تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گا ۔۔۔۔
ورنہ یہ ہوسٹل میں بھی جو دل کرے کرتا جائے ۔۔مگر دوبارہ اس گھر میں کبھی نہیں آئے گا نہ مجھے اسپر انچ بھر بھی بھروسہ” وہ بولا اور باہر نکل گیا ۔۔۔
عارض اسے لے جاؤ یہاں سے ” سالار نے سرخ چہرے سے کہا ۔۔۔۔
زین نے سالار کی جانب دیکھا اسکے چہرے پر نیلے نشان پڑ گئے تھے ۔۔۔
عار ض نے زین کو اٹھایا ۔۔
پلیز بھیا “زین نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
اور سالار اٹھ کر واشروم میں چلا گیا ۔۔۔
زین نے عارض کی جانب دیکھا ۔۔۔ جو خود منہ بگاڑے ہوئے تھا ۔۔
جاؤ زین “وہ بولا ۔۔۔
زین اٹھ گیا ۔۔ جب سالار ہی اسکے ساتھ نہیں تھا تو اور کون ہوتا ۔۔۔اور ٹھیک ہوا تھا شاید اسکے ساتھ وہ سمھجہ رہا تھا اسکی کسی بات کی پکڑ نہیں ہو گئ ۔۔۔۔
اور جب ہوئ تو اسکے قیمتی رشتے اس سے خفا ہو گئے ۔۔ عارض بھی اسکے پاس سے گزر کر اپنے روم میں ا گیا ۔۔۔
جبکہ زین اپنے کمرے میں سب کے سامنے گیا اور سب نے اسکانیلا چہرہ دیکھا تھا پورے گھر میں خاموشی چھا گئ تھی مرتضی الگ غمگین سے تھے ۔۔۔۔
ملازم کچھ دیر بعد زین کے کمرے میں آیا ۔۔اور اسکو ۔۔ ٹکٹ تھما دی ۔ا
اسلامہ آباد کی ۔۔
زین اس ٹکٹ کو دیکھنے لگا ۔۔
ایک لمہے میں اسے وہ لوگ دور کر دینا چاہتے تھے ۔۔”وہ اٹھا خود پر اتنا غصہ تھا کہ سامان سمیٹ کر وہ بنا کسی سے ملے پل میں وہاں سے نکل کر چلا گیا ۔۔۔
جبکہ پیچھے ۔۔۔۔ سے وہ سب کی آنکھوں میں انسو چھوڑ گیا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمے کا فنکشن ضروری تھا اسی لیے کر دیا گیا ۔۔ مگر وہ تینوں زین کے بنا ۔۔ ایسے ہو رہے تھے ۔۔ جیسے ۔۔۔ لوٹ سے گئے ہیں جیسے ادھورے ہو گئے ہوں ۔۔ سب سے زیادہ سالار ۔۔
بلکل خاموش ۔۔۔۔ پھیر رہا تھا
۔۔۔جبکہ کبیر میں بھی وہ بات نہیں تھی ۔۔عارض بھی چپ چپ تھا ۔۔ جبکہ مدیھا ان چار کے بجائے تین کو دیکھ کر مسلسل رو دیتیں ۔۔۔
سب فنکشن میں سے واپس ا گئے ۔۔ سالار سب سے پہلے اپنے روم میں چلا گیا ۔۔ رفتہ رفتہ سب ہی چلے گئے ۔۔
وہ ماحول لگ ہی نہیں رہا تھا ۔۔
نین نے بھاری لباس اتار کر سادہ سا لباس پہن لیا ۔۔
کبیر نےا سکی جانب دیکھا ۔۔
کہا کچھ نہیں ۔۔۔ نین البتہ اس سے ڈر محسوس کر رہی تھی کبیر سر جھکا کر بیٹھا تھا ۔۔۔
نین ہمت کرتی اسکے پاس۔ ا کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
ا
وہ اپنے لب کاٹ رہی تھی کبیر کو اسکی موجودگی کا احساس تو ہوا مگر بولا کچھ نہیں ۔۔۔
وہ چھوٹا ہے ۔۔اگر اس سے غلطی ہو گئ تو ۔۔۔اپ اسے معاف کر دیں ۔۔۔”وہ بولی ۔۔۔۔
کبیر کچھ نہیں بولا ۔۔۔
غلطیاں تو سب سے ہو جاتیں ہیں ۔۔۔ معاف کر دینے والوں کا دل بڑا ہوتا ہے ۔۔۔”نین پھر سے بولی ۔۔۔۔
میں جانتی ہوں آپ ہرٹ ہیں ۔۔
میں ہرٹ نہیں ہوں ۔۔ میں صرف اسپر غصہ کر سکتا ہوں سختی کر سکتا ہوں ۔۔۔ مجھے تکلیف اس بات کی ہے ۔۔۔ کہ میرا بھائ اسکی وجہ سے ہرٹ ہے ۔۔۔اور میرے ماں باپ اس کھوتے کی وجہ سے رو رہے ہیں ۔۔۔۔ ” کبیر سرخ نظروں سے بولا ۔۔۔
تو آپکی اس سے کوئ اٹیچمنٹ نہیں ” نین نے اسکو بھی کوریدنا چاہا ۔۔
میں اپنے ایموشنز پر قابو رکھنا جانتا ہوں۔ ۔۔ مگر سالار کا خود پر کوئ کنٹرول نہیں ہے ۔۔
۔ آپکو سالار سے زیادہ محبت ہے” نین مسکرا دی کبیر اسکیطرف دیکھنے لگا ۔۔
زین سے زیادہ سالار کی فکر ہے “
وہ گھر کی رونق ہے تمھیں جلد پتہ چلے گا ۔۔ وہ چپ ہو جاتاہے مما بابا بھی اداس ہو جاتے ہیں اور جو۔۔ گدھا گیا ہے ۔۔اسکی بھی جان جاتی ہے ۔۔۔ “
اوہ اچھا ۔۔۔ تو پھر آپ زین کو واپس بلا لیں ۔۔ وہ خوش ہو جائیں گے “نین نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
کوئ فائدہ نہیں ۔۔۔۔
سالار ہی بلائیں گے کیا “نین کو حیرت ہوئ ۔۔اس شخص کی کتنی اہمیت تھی اس گھر میں ۔۔۔
ہممم وہ آئے گا بھی اسکے بلانے سے ہی اور ٹکٹ بھی اسکے پاس ۔۔ اسی نے بھیجوائ تھی ۔۔۔میں کیوں چاہو گا وہ جائے یہاں سے ۔۔۔ بھائ ہے میرا وہ ۔۔”کبیر نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے زرا مظطربی لہجے میں کہا
آپکو برا نہ لگے کیا میں سالار سے بات کروں “
نین بولی ۔۔۔
تم بات کر لو گی”
ہمم میں کر لوں گی ۔۔۔”
اور وہ سن لے گا ۔۔”وہ مسکرایا ۔۔۔
آپ اچھے لگتے ہیں سمائیل کرتے ہوئے “نین بولی ۔۔
کبیر نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
میں چاہتی ہوں ۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے آپ مجھے ایک موقع دیں میں کوشش کر لوں اگر آپ انکار کریں گے ۔۔ تو میں فورس نہیں کروں گی مگر اگر آپ اجازت دے دیں گے ۔۔۔ تو مجھے لگے گا آپ مجھے اس فیملی کا حصہ سمجھتے ہیں” وہ بول رہی تھی جبکہ کبیر اسکے ہلتے لبوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اچانک اسکے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسنے اسکے لفظوں پر پیار کیا ۔۔۔
نین کچھ گھبرا سی گئ ۔۔۔۔
جاؤ آیت کو لیتی جانا ۔۔۔ اس کو دیکھ کر غصہ کم کرتا ہے مگر اگر تم کامیاب نہیں ہوئ تو سزاکی حق دار بن جاؤ گی”وہ آنکھیں گھماتا بولا ۔۔
میں کبھی ہارتی نہیں” نین نے کونفیڈینس سے کہا ۔۔
کبیر مسکرایا ۔۔ اور بیڈ پر پیچھے کو گیر گیا ۔۔۔
جبکہ نین باہر آ گئ ۔۔۔
اب آیت کا روم کونسا تھا وہ نہیں جانتی تھی برحال ملازمہ کی ہیلپ سے اسنے دروازہ بجایا ۔۔۔
عارض نے کھولا ۔۔
بھابھی آپ اندر ا جائیں” وہ بولا ۔۔
نہیں آپکی بیوی کی ضرورت ہے کیا کچھ دیر کے لیے لے جاؤ “وہ بولی عارض مسکرا دیا ۔۔
یعنی بڑے بھیا نے ۔۔ سالاربھیا کو منانے کے لیے آپ لوگوں کا انتخاب کیا ہے ۔۔
میری بیوی تو پہلے ہی ڈھیلی ہے میں چلتا ہوں”عارض باہر ا گیا ۔۔
میں بھی چلو گی”آیت بولی عارض نے مڑ کر دیکھا ۔۔ اور نین نے اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر نکال لیا ۔۔
آپ نے آنا ہے تو آئیں منع نہیں کیا مگر میرے شوہر نے بس اسکو لے جانے کی اجازت دی ہے”وہ شانے آچکا کر ۔۔ بولی ۔۔
جبکہ عارض ہنس دیا ۔۔ اور تینوں اوپر ا گئے ۔۔
پورے پورشن میں اندھیرہ تھا ۔۔۔
کچھ زیادہ ہی حساس ہیں آپکے یہ بھائ ۔۔
نہیں حساس نہیں ہیں ۔۔۔ ٹھیڑے ہیں بس ” عارض بولا ۔۔۔ تو نین اور عارض دونوں ہنس دیے ۔
آپ دونوں میرے بھیا کی برائ کرنا بند کریں” آیت نے گھورا ۔۔۔
چلو بجاؤ اب دروازہ “عارض نے آیت کو آگے کیا ۔۔
یار اسکو ہی بجانے دیں “نین کچھ بولتی کہ عارض نے اسے پیچھے آنے کا کہا ۔۔
آیت نے دروازہ بجایا ۔۔۔
آجاؤ”سالار نےا ندر سے کہا ۔
تو آیت نے دروازہ کھولا ۔۔ وہ دروازے کی جانب ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
لیپ ٹاپ گود میں رکھے بسترے میں دبا وہ اچھے موسم میں اے سی چلائے ۔۔۔ بیٹھا تھا اتنی ٹھنڈ تھی کمرے میں کہ ان تینوں کو جھرجھری آئ ۔۔۔
کس لیے آئے ہو تم”عارض کو دیکھ کر ۔۔ سالار غصے سے بولا ۔۔
بھیا بھابھی بھی ہیں” عارض نے کہا تو سالار سیدھا ہو گیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین اندر ا گئ اسے یہ بات بہت اچھی لگی وہ سب لوگ ایک دوسرے کو بہت ریسپیکٹ دیتےتھے ۔۔
اور ان سب کے رشتوں میں کتنا خلوص تھا ۔۔ پیسے کی طلب نہیں تھی پھر بھی سب کے پاس تھا پیسہ۔۔
سالار فورا اٹھا اور انکے لیے چئیر کھینچ کر لے آیا ۔۔
تھینکیو نین نے کہا ۔۔اور بیٹھ گئ جبکہ آیت ۔۔ دوسری طرف سے گھوم کرسالار کے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔
اور عارض کھڑا تھا ۔۔
وہ آیت کی بھیگی بھیگی پلکوں کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جو اب کچھ ہی لمہوں۔ میں رو دینے کو بے تاب تھیں ۔۔۔
یار تمھیں کیا ہو گیا ہے ۔۔”سالار نے آیت کو دیکھا ۔۔
بھیا پلیز غصہ نہ کریں “آیت بولی تو عارض نے ہنسی کنٹرول کی ۔۔۔
میں کب کر رہا ہوں غصہ “سالار حیران ہوا ۔۔۔
بھابھی میری بیوی ہی یہ کام کر دے گی فکر نہ کریں “اسنے سکون سے نین کو کہا ۔۔ آیت انوسینٹ تھی ۔۔ کافی اسنے محسوس کیا تھا ۔۔۔
آپ زین کو بلا لیں”
گڑیا اسنے جو کیا ہے اسکی سزا مل رہی ہے اسکو بس “سالار سنجیدہ ہو گیا ۔۔
معافی بھی تو مل سکتی ہے”نین نے کہا ۔۔
سالار خاموشی ہو گیا ۔۔۔
ہو سکتا ہے وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا ہو”نین بولی ۔۔
آپ وڈیو دیکھ لیں اپکے ہی شوہر کے موبائل میں ہے”وہ بگڑے تیوروں میں بولا ۔۔
یعنی آپکو برا لگا زین کو کبیر نے مارا”
تو بات بھی برا لگنے کی تھی “وہ بولا ۔۔
جب ایسی بات تھی ٹکٹ کیوں بھیجی پھر اسکے پاس”نین بولی تو ۔۔ سالار نےا سکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
عارض نے بھی سالار کو دیکھا سب کو لگا ۔۔کہ کبیر نے بھیجی ہے ۔۔۔
سالار کچھ نہیں بولا ۔۔۔ پھر سے خاموش ہو گیا ۔۔۔
جو اسنے کیا ۔۔۔۔ وہ غلطی ہے اور غلطی کو معاف کر دینا چاہیے ۔۔۔
کیوں کہ وہ چھوٹا ہے ۔۔۔ اور وہ جس لڑکے کا نام لے رہا تھا پکڑ اسکی ہونی چاہیے ۔۔۔۔ نہ کہ اسکی جو اپنی غلطی قبول کر چکا ہو ۔۔۔اور سزا بھی بھگتنے کو تیار ہو ۔۔
یہ تو وہ ۔۔ اپنی غلطی پر ڈھٹائی کر کے آپ لوگوں نے آگے تن کر کھڑا ہو جاتا ۔۔ پھر ۔۔۔وہ اس رویے کو ڈیزرو کرتا تھا “نین کی بات وہ تینوں خاموشی سے سن رہے تھے ۔۔۔۔ ۔
نین بھی چپ ہو گئ ۔۔۔۔
پلیز میری سپیچ ضائع ہو جائے گی”وہ اچانک ہی تو سالار کو ایکدم ہنسی ا گئ ۔۔۔ جبکہ باہر کھڑا کبیر بھی ہنس دیا ۔۔ یہ ہی حال عارض اور آیت کا بھی تھا ۔۔۔
ویسے آپ نے کچھ نیا نہیں کہا ۔۔اپکو مزید اپنی سپیچ کو بہتر کرنا چاہیے”سالار بولا ۔۔۔
چلیں سر جیتنی کی ہے اتنی تو ایکسیپٹ کر لیں”نین بولی تو سالار مسکرا کر سر ہلانے لگا ۔۔
بٹ ایک کام کیجیے گا ۔وہ لڑکا “
وہ رکی ۔
احتشام”عارض نے بتایا ۔۔
ہاں ۔۔۔احتشام ۔۔ اسکے ہاتھ پاؤں ٹانگیں وانگیں توڑ دیجیے گا ۔۔۔ تاکہ وہ کبھی زندگی میں کسی کو بہکا نہ سکے “نین بولی
کافی انتقامی جذبے ہیں برو بھابھی میں”سالار کبیر کو دیکھ چکا تھا ۔۔۔
نین مڑ کر کبیر کو دیکھنے لگی جو مسکرا رہا تھا ۔۔۔
اٹھو اب مما بابا کے پاس چلیں”کبیر نے کہا ۔۔ تو سالار سب چھوڑ چھاڑ یوں ہی اٹھ گیا ۔۔۔
جبکہ کبیر نے نفی میں سر ہلاتے اے سی بند کیا ۔۔۔
نین اسکے ساتھ ہی رک گئ ۔۔۔
کبیر نے ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔
واقعی کافی انتقامی جذبے ہیں تم میں”وہ بولا ۔۔۔
نین مسکرا دی ۔۔۔۔
یہ جگہ نہیں ورنہ اس مسکراہٹ پر پیار بنتا ہے “
وہ بولا تو نین نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا ۔۔اور نیچے چلی گئ ۔۔ جبکہ کبیر بھی نیچے ا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے