Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
اس وقت وہ سب جیل میں بند تھے ۔۔۔سالار کا شدید موڈ بگڑ چکا تھا جبکہ ۔۔۔۔ اسکے خوبصورت چہرے پر پڑنے والا نیلا نشان اور باہر تلملاتا میڈیا ۔۔۔ کہ آخر کس بنا پر سالار مرتضی جیل میں ہے ۔۔ سب جاننے کے لیے بے تاب تھے ۔۔۔
اسنے ایک پولیس کانسٹیبل کو بلایا ۔۔۔اور اسے کچھ پیسے دینے کی رشوت لگائ ۔۔وہ صرف کبیر کو کال کرنا چاہتا تھا ۔۔ یہ ایس ایچ او کوئ نیا تھا ورنہ پورانے کے تو وہ جانتا تھا تبھی ایسی ٹھڑی حرکت کی تھی کہ اسے اٹھا کر جیل میں بند کر دیا تھا ۔۔غارض اسکا پی آئے افان ۔۔ تینوں اس سے دور ہی کھڑے تھے ۔۔
کانسٹیبل نے ۔۔۔ ادھر ادھر دیکھتے اسکے ہاتھ میں اپنا چھوٹا سا موبائل پکڑا دیا ۔۔۔
اور خود سالار کے آگے کھڑا ہو گیا ۔ موبائل کے ملتے ہی سالار نے فورا ۔۔ کبیر کا نمبر ڈائل کیا تو وہ تینوں بھی قریب انے لگے مگر اسکی گھوری پر دوبارہ وہیں رک گئے ۔۔
عارض تو ایک لفظ بھی لبوں سے آزاد نہیں کر سکا تھا ۔۔۔۔ وہ تینوں گارڈز اور جینی الگ سیل میں بند تھے ابھی تک کوئ تشویش نہیں کی گئ تھی ۔۔۔
کبیر کی آواز پر سالار نے گھیرہ سانس بھرا وہ ہیلو ہیلو کہہ رہا تھا ۔۔۔ نمبر نہیں جانتا تھا۔۔تبھی اس سے پہلے وہ فون بند کرتا ۔۔۔
میں جیل میں ہوں ۔۔۔۔۔ فورا میرے پاس پہنچو ۔۔” اسنے لوکیشن بتا کر ۔۔۔۔ کال کاٹ دی ۔۔۔۔ دوسری طرف کبیر پر بجلی کی طرح یہ خبر گیری تھی اور وہ ایکدم بیڈ پرسے اٹھا تھاسالار کی آواز وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا ۔۔۔
نین اسکے اتنی عجلت میں بھاگنے پر پریشان ہو گئ ۔۔۔
جبکہ کبیر اسکیطرف دیکھے بنا باہر نکلا ۔۔البتہ ایک پل وہ رکا تھا ۔۔۔
میں باہر جا رہا ہوں کسی کو ۔۔۔ مت بتانا ” اسنے اسے کہا اور وہاں سے باہر نکل گیا ۔۔البتہ نین جاننا چاہتی تھی کہ ہوا کیا ہے مگر اسکے تیزی سے نکلنے پر وہ زیادہ سوال نہیں کر سکی اور کبیر باہر بھاگ کر نکل گیا ۔۔۔۔
اسی دوران ۔۔۔ زین کی بھی نگاہ کبیر پر پڑی تھی وہ پریشانی سے اسکے دوڑنے پر کبیر کے پیچھے ہوا تھا ۔۔
بڑے بھیا کہاں جا رہے ہیں ایسے ” زین کی پکار پر کبیر نے ۔۔۔ سردسانس کھینچی تھی ۔۔
بیٹھو گاڑی میں” اسنے بس اتنا کہا زین گاڑی میں سوار ہو گیا ۔اور کبیر ۔۔سالار کے بتائے گئے تھانے کی طرف گاڑی موڑ چکا تھا وہ پل کی چوتھائ میں سالار تک پہنچ جانا چاہتا تھا ۔۔ سالار جلے پاؤں کی بلی کیطرح کھڑا تھا دو گھنٹےسے وہ شخص کھڑا تھا ۔۔۔۔
سالار بیٹھ جاؤ اب کبیر کو فون کر چکے ہو پھر بھی یوں کھڑے ہو ” افان بولا تو ۔۔۔سالار ایڑیوں کے بل مڑا اور اسکا گریبان جکڑ لیا ۔۔
باہر سے تمھیں کچھ شور سنائ دے رہا ہے۔۔
یہاں میری ریپوٹیشن کی ماں بہن ہو گئ ہے اور تم بکواس کر رہے ہو کہ تم لوگوں۔ کیطرح سکون سے بیٹھ جاؤ ” وہ دھاڑا ۔۔۔۔
تھا دھاڑ میں اتنی گرج تھی کہ تھانے دار انکے سیل تک پہنچ گیا ۔۔۔
آوے چلا کیوں رہا ہے ” وہ سالار کو دیکھے بنا بولا ۔۔۔۔
تھا۔۔
عارض ایکدم اٹھا ۔۔۔۔
سوری سر ” اسنے کہا سالار البتہ مڑا نہیں تھا افان کے پاس اسکی بات کا کوئ جواب نہیں تھا ۔۔۔۔
بھیا ” عارض نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔جبکہ سلاار نے وہی ہاتھ۔۔ کھینچ کر اس سےدور کیا اور ایک زور دار تھپڑ عارض کے منہ پر دے مارا ۔۔۔۔
عارض ۔۔ ایک پل کو وہیں تھم گیا ۔۔۔۔
مجھ سے بکواس مت کرنا ۔۔۔۔۔۔ ” وہ اپنے کام کو لے کر ۔۔۔ بے حد سیریس ہو چکا تھا پی آئے تو ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔۔۔ کیونکہ وہ دونوں اسکے بھائ تھے شاہد رایت برت چکا تھا اسکا تو شاید مار مار کر بھرکس نکال دیتا ۔۔ سالار ان تینوں کو وہیں چھوڑ کر پھر سے سلاخوں۔ کو اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر کھڑا ہو گیا جیسے انھیں توڑ کر نکل جانا چاہتا ہو ۔۔
پندرہ منٹ کے بامشقت انتظار کے بعد ۔۔۔۔
کبیر اور زین کو اندر آتے دیکھ ۔۔۔۔
اسکے کے اندر لگی آگ ۔۔ اور بھڑبھڑاتے غصے میں جیسے معمولی سا فرق آیا تھا ۔۔۔۔
کبیر سالار کو سلاخوں کے پیچھے دیکھ کر ۔۔۔ ایس ایچ او پر برس ہی اٹھا۔۔اسکا بھائ ۔۔۔۔۔
تھا وہ ۔۔۔ اور عارض بھی تھا۔۔۔ وہیں ۔افان بھی تھا۔
مگر سالار شایداسکی بات الگ تھی۔۔
کبیر کو ایس ایچ او پہچان چکا تھا آخر کو وہ بہت بڑی کمپنی کا سی ای او تھا اور اس سے پہلے بھی ان دونوں کی ملاقات ہو چکی تھی۔۔
سوری سر ۔۔۔ ” ایس ایچ او نے باقائدہ خود سے معافی مانگی اور ۔۔سالار سمیت سب کو باہر نکال لیا ۔۔۔۔
باہر میڈیا ۔۔۔اب بھی موجود تھا ۔۔۔
ان تینوں کو بھی چھوڑ دو ” پی آئے کی جیکٹ میں سے چیک بک نکال کرا یک بڑی اماونٹ اسپر درج کر کے سالار بے حد سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔۔
عارض سالار کے پیچھے ہی کھڑا تھا کبیر نے بس اچٹتی ہوئ نگاہ اسپر ڈالی تھی ۔۔ مگر سالار پر اسکی پوری توجہ تھی
ایس ایچ او نے مسکرا کر وہ چیک لے لیا اور ان سب کو آزاد کر دیا ۔۔۔
سالار نے پی آئے کیطرف دیکھا ۔۔۔
سرائ ویل ہینڈل ” وہ جلدی سے باہر بھاگااور میڈیا ۔۔۔
کو اپنی باتوں میں پھنسایا کہ اسی دوران سالار ۔۔۔ سر پر کیپ رکھے وہاں سے فورا نکلا تھا ۔۔ کیمرے کی آنکھ نے اسکا معمولی سا عکس لیا تھا جبکہ عارض کبیر افان زین مکمل آئے تھے ۔۔۔
سالار جلدی سے سیاہ گاڑی میں سوار ہو گیا اور اس سے پہلے۔ میڈیا اس تک پہنچتا وہ بنا کسی کی جانب دیکھے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا ۔۔۔
جبکہ کبیر نے عارض کو بنا کچھ کہے افان اور ۔۔۔زین کو دوسری گاڑی جو ۔۔ کہ اسنے کچھ دیر پہلے ڈرائیور کو لانے کو کہا تھا اس میں سوار ہونے کو کہا ۔۔۔
خود بھی وہ گاڑی میں بیٹھ گیا البتہ عارض وہیں کھڑا تھا ۔۔
بیٹھو گاڑی میں”افان نے اسکاشانہ ہلایا البتہ سنجیدہ وہ خود بھی تھا ۔۔
عار ض نے افان کی جانب دیکھا افان نے نگاہ گھما لی ۔۔۔
زین اور کبیر چپ چاپ شایداسکے منتظر تھے وہ ۔۔۔
گاڑی میں بیٹھا تو گاڑی سپیڈ سے ڈرائیور نے گھر کے راستے پر ڈال لی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار گھر پہلے پہنچا تھا ۔ غصے سے ۔۔۔ بندگیٹ پر ہی گاڑی دے ماری ۔۔۔ ایک زور دار آواز پورے گھر میں پھیلی تھی گویاسب کو اندازا ہو گیا سالار وپاس ا چکا ہے۔۔۔
اور دوسری طرف زیمل جو وہیں لون میں ہی روتے روتے اور اسکا انتظار کرتے کرتےاسکیبا نکھ لگ گئ تھی ہڑبڑا کر اٹھی ۔۔۔
اور کھڑی ہو گئ ۔۔۔
بہرے ہو سنائ نہیں دے رہا ۔۔۔ دروازہ کب سے بجا رہا ہوں ۔۔نیندیں پوری ہو رہیں ہیں نواب زادے کی ” وہ گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے چلایا ۔۔۔۔
زیمل اسکی اوازپہچان گئ تھی اسکے غصے سے گھبرا سی گئ ۔۔
تھوڑا قریب ا گئ ۔۔ لون کے چوکیدار نے جلدی سے دروازہ کھول دیا ۔۔اسکطرح گاڑی زن سےاندرا گئ ۔۔
سب کے سب۔۔۔ بھرے ہیں”وہ بھڑکتا ہوا گاڑی سے باہر نکلا ۔۔ کیپ سر پرسے اتار کر زمین پردے ماری ۔۔۔۔
اور بناادھرادھر دیکھے اندرچلا گیا۔
زیمل کو دکھ سا ہوا ۔۔وہ نزدیک ہی تھا چاہتا تو۔۔اسے دیکھ سکتا تھا ۔۔اسنے جھک کر اسکی کیپ کو اٹھا لیا ۔۔اور شرمندگی سے چوکیدار کو دیکھا جس کا چہرہ اتر گیا تھا ۔۔۔۔
اپ برا مت منائیے گا بابا ” زیمل نے کہا تو ۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا دیا ۔۔
جانتا ہوں بیٹی ۔سالار باؤ تو کبھی ایسے نہیں بولتا لگتا ہے آج کچھ ہو گیا ہے ” اسنے کہا اور دوسری گاڑی کے لیے دروازہ کھلنے لگا ۔۔ جبکہ زیمل سر ہلاتی اندر جا چکی تھی ۔۔
سالار سڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔اسکے قدموں میں بھی غصہ تھا ۔۔۔
زیمل نیچے سے اسکو دیکھ رہی تھی تبھی کبیر کی آواز اسے اپنے پیچھےسے آتی محسوس ہوئ ۔۔۔
سالار رک جاؤ “
بکواس مت کرو مجھ سے “وہ پھاڑ کھانے کو دوڑا ۔۔۔۔
تمھیں کس نے کہا تھاجاو ۔۔ کسی کے پیچھے وہ بھی ایسے بزدل شخص کے پیچھے”کبیر نے بنا عارض کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔
چلو میں گدھاہوں ۔۔ سرٹیفیکیٹ دے دیا تم نے اب خوش ہو جاؤ ” وہ وہیں سے ۔دوبادوہوا ۔۔
زیمل نے محسوس کیا تھا وہ بلکل کبیر کی عزت نہیں کرتا تھا جبکہ کبیر اسپرجان چھڑکتا تھا وہ ایکطرف کھڑی اسکا غیض و غضب دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
چلو تم نے مان لیا آئندہ کے لیے نصحیت ہو گی
انف کبیر میرا کریر داو پر لگ گیا ہے ۔۔۔ آج تک مجھ پرا یک سکینڈل نہیں بنا ۔اور تم جلتی پر تیل لگا رہے ہو “وہ پاس پڑا واس آٹھا کر زمین پر پھیکتا دھاڑا ۔۔۔۔
زیمل کی چیخ ہی نکل گئ ۔۔۔ سب کی نظروں کا زاویہ اسکیطرف مڑ گیا ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔۔ سالار نے اسکی چیخ کو کوفت سے سنا اور دیکھا تھا ۔۔۔اس لڑکی کے بھی دو چار چماٹ لگا کرا یک بار ہی سارا ڈر نکال دینا چاہتا تھا وہ ۔۔۔
مرتضی اس شور شرابے کو سن کر ۔۔
باہر ا گئے ۔۔۔۔
مدیھا کو سخت بخار تھا مگر وہ بھی باہر ا گئییں اور رفتہ رفتہ سب ہی باہر ا گئے ۔۔عارض کودیکھ کر ۔۔پورا گھراپنی جگہ جم گیا تھا ۔۔ آیت نے بس ایک سرسری نگاہ اٹھائ تھا ور دوبارہ اپنے کمرے میں چلی گئ یہ منظر عارض کے لیے تکلیف دہ تھا ۔۔ تمام منظر پر ۔۔۔۔۔
اس ڈرامے بازی کو بند کرو ۔۔۔۔۔ اور چاروں میرے کمرے میں آؤ ” مرتضی لگا ایک بار پھر سے پہلے جیسے ہو گئے۔۔ چاروں پر کڑک نگاہ ڈال کر ۔۔ وہ دوبارہ کمرے میں جانے لگے کہ سالار انکی بات نہ مانتے ہوئے ۔۔۔۔ دوبارہ اپنے کمرے میں جانے لگا
سالار” مرتضی کی آواز میں تنبہی تھی ۔۔۔وہ خون کا گھونٹ بھر کر رہ گیا ۔۔۔
اور سب سے پہلے تن فن کرتا مرتضی کے کمرے میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔
عارض زین اور کبیر بھی مرتضی کے کمرے میں ا گئے جبکہ ۔۔افان اپنے گھر کو نکل گیا ۔۔مدیہا نے شدت سے یہ بات محسوس کی تھی ۔۔۔
انکی ضرورت نہیں رہی تھی کیا اب ۔۔۔
زیمل انکے پاس ا۔ گئ ۔۔۔
مما آپکی طبعیت نہیں ٹھیک آپ ریسٹ کریں ” انکو پکڑ کر دوبارہ زین کے کمرے میں لے جاتے وہ بولی تھی نین نے بھی وہاں جانا ضروری سمجھا ۔ جبکہ باقی سب رفتہ رفتہ اپنے کمروں میں چلے گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں الگ الگ صوفوں پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔
جبکہ مرتضی رولنگ چئیر پر ۔۔۔۔
چاروں کے سر جھکے ہوئے نہیں تھے ۔۔۔وہ جانتے تھے ۔۔۔ کہ چاروں ہی ایساکام نہیں کریں گے جن سے انکے سر جھکے ۔۔
مگر شاید جانے انجانے میں وہ ایسا کرتے جا رہے تھے ۔۔۔
مجھے بیٹی کی خواہش تھی ۔۔۔ کہ میری بیٹی ہو ۔۔ مگر اللہ نے مجھے چار بیٹے دیے ۔۔۔ پھر خوشی ہوئ کے یہ چارومیرا بازوں ہیں ۔۔ ہمیشہ ایک مٹھی ۔۔ کیطرح جوڑ کر تم چاروں کو رکھا میں نے ۔۔۔۔ مگر شاید اب ۔۔۔ زندگیوں میں من مانیاں اتر گئیں ہیں تمھاری سب کی ۔۔۔ یہ شاید تم چاہتے ہو مرتضی مر جائے تو۔۔ تم چارو سکون کی زندگی گزاریں۔۔” انکی سخت آواز پر ۔۔ان چاروں نے پہلو بدلا تھا ۔۔۔۔
تمھارے ساتھ جو بھی مسلہ تھا اس ڈرامے بازی کے بجائے تم اسے بتا سکتے تھے “وہ اب ڈائریکٹ عارض سےمخاطب ہوئے۔۔
آیت کو داؤ پر نہیں لگا سکتا تھا “وہ مظبوط لہجے میں بولا ۔۔۔
بکواس بند کرو دوبارہ آیت کا نام لبوں پربھی مت لانا ” کبیر غصے سے اسے وارن کرنے لگا ۔۔عارض کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔
اب تمھیں لگتا ہے آیت ۔۔۔ کیا خوش ہے ۔۔۔”مرتضی نے کبیر کو روکا ۔۔اور عارض کی طرف دیکھا انکا لہجہ بے لچک تھا ۔۔۔۔
کم از کم اس تکلیف میں نہیں ہے۔۔جس کی ہوا بھی اسکو چھو جاتی تو ۔۔۔ شاید خود کو معاف نہ کر پاتا۔۔۔۔ ” عارض نے پھر سے جواب دیا ۔۔۔۔
کیا چاہتی ہے وہ لڑکی”مرتضی بولے۔۔
بیس کروڑ “
عارض نے باپ کی جانب دیکھا ۔۔۔جیسے پوچھ رہا ہو ۔۔ اب بتا دیں ۔۔۔۔
کبیر زین دونوں نے اس کیطرف دیکھا تھا ۔۔۔۔ جبکہ سالار تو پہلے سے ہی جانتا تھا۔
اوراب کہاں ہے لڑکی “مرتضی نے سالار کیطرف دیکھا ۔۔
مجھے نہیں پتہ ۔۔۔ مجھ سے کچھ مت پوچھیں جہاں بھی ہو گئ ۔۔۔ اس کی موت بن کر اسی کے پاس آئے گی اور اچھا ہے ۔۔۔۔ جینا حرام کر دے سالے کا “وہ نخوت سے بولا تھا بس نہیں چل رہا تھا عارض کا منہ تھپڑا دے ۔۔۔۔
سالار جو پوچھا ہے جواب دو “مرتضی اسکے ٹھیڑے پن سے واقف تھے تبھی ضبط سے بولے وہ کچھ دیر کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔
اور پھر اہستگی سے بتایا ۔۔
فیروز فلحال اسے ٹھکانے لگا چکا ہو گا باقی بھی میں دیکھ لوں گا ۔۔وہ چھپکلی اور کتنی جرت رکھتی ہے”وہ سر جھٹک کر بولا ۔۔۔۔
آزاد کر دو اسکو ۔۔”مرتضی نے حکم دیا ۔۔۔۔
چاروں نے انکیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔
اگر اتنا ہی آیت کا خیال ہے اسکو اور جو اسنے کیا ۔۔ایت کے لیے ۔۔کیا تو ۔۔ اسکے ساتھ رہ کر اسکی حفاظت کرے گا یہ ۔” وہ جیسے عارض کو سزا سنانے لگے ۔۔
بابا آیت کی جان کو خطرہ ہے اس بیچ سے “عارض بھڑکا ۔۔
کبیر نے بھی بھڑک کر عارض کو دیکھا ۔۔۔۔
مرتضی البتہ نارمل تھے ۔۔۔
توتم کس لیے ہو ۔۔ بس اسے تکلیفیں دینے کے لیے ۔۔۔۔ “مرتضی نے غصے سے۔۔۔ کہا ۔۔۔۔
اگر آیت اتنی ہی ا ہم ہے تو بچاؤ اسکی جان بھلا اپنی جان لگا دینا داؤ پر۔۔۔۔ویسے خیر تمھارامعملہ آیت کے فیصلے پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔”
آیت وہ چاہے گی جو میں چاہوگا ۔۔اور میں مزید زیادتی ایت کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔ طلاق دے گا یہ آیت کو “کبیر کی بات پر سب کی زبان تالو سے لگ گئ ۔۔۔۔
عارض پر تو گویا پہاڑ ٹوٹا تھا ۔۔۔
بھیا “
بکواس بند کرو اپنی جس قابل ہو تمھیں اسی جگہ پر رکھا جا رہا ہے ۔۔۔ اتنا ہی ہیرو بننے کا شوق تھا تو۔ اپنی بیوی کو ایک نظر دیکھ لیتے اسے اعتماد میں بھی لے سکتے تھے۔۔۔۔
مگر تم نےوہ کیا جو تمھارا دل کر رہا تھا اب آیت وہ کرے گی ۔۔جواسکا دل کرے گا ۔۔۔ طلاق تو ہو گی” یہ سالار تھا۔۔
عارض ڈھے ہی گیا ۔۔۔۔
طلاق کا فیصلہ ۔۔۔ آیت پر ہے ۔۔۔اگر وہ چاہتی ہے تو یہ دے گا اسے طلاق ۔۔۔”یہ مرتضی تھے ۔۔۔۔۔۔
کم ازکم آیت ساری عمر کی تکلیف سے آزاد ہو جائے گی ۔۔۔۔
اور سکون کی زندگی گزارے گی بھیا آپکے بنا “یہ زین تھا ۔۔عارض ۔۔۔ چارو طرف سے گھیر گیا تھا ۔۔
کیا ہو گیا ہے آپ سب کو ” وہ بولا ۔۔۔۔
وہ جینی یہاں اس گھر تک پہنچ گئ تھی آیت کو ابزروکر رہی تھی ۔۔۔۔ اگر وہ آیت کو یہ میرے بچے کو کچھ کر دیتی ۔۔۔
میرے پاس نہیں ہیں بیس کروڑ۔۔ نہ میں اسے دے سکتا ۔۔۔
وہ میرا گناہ تھی ۔۔ اسکے پاس جا کر کم ازکم آیت کو اور اپنے بچے کو تو پروٹیکٹ کر سکتا تھا میں ۔۔۔”
عارض نے اصل مدعا بیان کیا ۔۔۔
ایک بات یاد رکھنا ۔۔۔ فلوپ فلم کے ہیرو۔۔۔۔
ہیرو۔۔۔ اپنی محبت کو بچانے کے لیے تکلیف دے تو بکواس ہیرو ہے وہ۔۔۔۔۔
اپنی محبت کے لیے دنیا کو آگ لگادے پرواہ نہ کرے ۔۔ کون ہے سمانے کون نہیں ۔۔۔۔ جڑ سے کاھاڑ کر پھینک دے ۔۔۔۔۔ اصل مردانگی یہ ہے ۔۔۔اور یہ جو بھوکس جملے پھینک رہے ہو ۔۔۔ اپنے منہ میں رکھو ” سالار نے اسے بری طرح گھورا ۔۔۔
اور اپنی جگہ سے اٹھا
جتنا میرا نقصان تم نے کیا ہے جی تو کر رہا ہے ۔۔ الٹا لٹکا دوں ” وہ ناگواری سے بولا ۔۔۔۔
کبیر بھی اٹھ گیا مرتضی بھی اٹھے عارض جبکہ یوں ہی بیٹھا رہ گیا ۔۔۔۔
آیت مجھ سے کبھی الگ نہیں ہو گی ۔۔۔۔ “وہ جیسے تسلی دینے لگا تھا ۔۔۔
ان چاروں نے کوئ جواب نہیں دیا اور زین کبیر سالار وہاں سے باہر نکل گئے ۔۔
بابا “عارض نے باپ کیطرف دیکھا ۔۔ مدد طلب نظریں تھیں
جاؤ یہاں سے ۔” وہ سختی سے بولے اور ۔۔ سٹڈی میں چلے گئے ۔۔۔۔
جبکہ ۔۔۔ عارض یوں ہی کھڑا رہ گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر اپنے روم میں چلا گیا ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ سالار اپنے پورشن میں جانے لگا ۔۔۔ کہ اسے ماں کے سسکنے کی آواز آئ ۔۔۔
اسکے قدم زین کے روم کیطرف مڑ گئے ۔۔۔۔
نین اور زیمل کے گلے سے لگیں وہ رو رہی۔ تھیں ۔۔۔
مما” سالار کی آواز پر سر اٹھایا ۔۔۔ تو سالار انکی پھولی ہوئ آنکھوں کو دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
انکے نزدیک آیا ۔۔۔۔
اور مدیھا اسکے سینے سے لگ گئ ۔۔۔
آج تم لوگوں۔ کو میری ضرورت محسوس نہیں ہوئ اتنی ہی بری ہوں نہ میں ” مدیھا بولیں ۔۔۔ اور رونے لگیں ۔۔
ایسی کی تیسی ۔۔سب کی۔دوبارہ۔۔ پنچائیت لگوا دوں گا ۔۔ کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ ۔۔۔ اور یہ آپکا شوہر زیادہ نہیں نکھرے دیکھا رہا دیکھتا ہوں زرا میں” وہ بولا ۔۔
مت جاؤ سالار میں معافی کے قابل واقعی نہیں” مدیھا بے بسی سے بولی ۔۔عارض بھی وہیں کھڑا تھا مدیھا نے عارض سے رخ موڑ لیا ۔۔عارض جیسے ۔۔۔۔ بے چین ہو گیا ۔۔ وہ ابھی ایک دن پہلےا نکی آنکھوں کی بے بسی کو اگنور کر کے نکلا تھا اور آج ۔۔۔ وہ انکے پاس آنا چاہتا تھا ۔۔ کہ زین نے روکا ۔۔۔۔
بھیا مما کی طبعیت واقعی ٹھیک نہیں ابھی رک جائیں ۔۔۔۔ ” زین نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
عارض زین کو حیرانگی سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
اور سالار مدیھا کو لے کر کمرے سے ۔۔۔۔ باہر نکلا ۔۔۔
اور سیدھا مرتضی صاحب کے دروازے تک پہنچا اور دھڑ سے کھول دیا ۔۔
یہ بدتہذیبہ سالار ہی تھا مرتضی جانتے تھے مدیھا کو ایک نظر دیکھ کر ۔۔۔ چہرہ موڑ لیا ۔۔۔
مسٹر مرتضی میری مما یہاں ہی رہتی ہیں ۔۔۔ اب یہاں سے کہیں نہ جائیں ۔۔۔ اور نہ ہی روئیں “وہ باپ کے قریب آیا ۔۔
تھپڑ لگا کر منہ سجا دوں گا ۔ باپ ہوں تمھارا تمیز نہ بھولا کرو ۔۔”
ایک تو اپکو رومینس کا موقع دے رہا ہوں پھر بھڑک بھی مجھ سے رہیں ہیں” وہ مدھم آواز میں مسکراہٹ روکتا باپ کو گھورنے لگا ۔۔۔
کتنے کمینے مرے ہیں جو توایک ہو گیا ” مرتضی اسکی آنکھوں کی شرارت پر تپ کھا گئے ۔۔۔ یہ کوئ ورق تھا اس سب بکواس کا
بائے ڈیڈ۔ ہیو ا گڈنائٹ”آنکھ مار کر وہ وہاں سے باہر نکلا ۔۔۔
جبکہ مرتضی دانت پیسنے لگے اسکی معنی خیزی پر بھلا انکی عمر تھی یہ شوشے سہنے کی ۔۔۔
مدیھا۔۔۔ رونے لگیں وہ مدیھا سے سخت خفا تھے تبھی اسے اگنور کر کے وہاں سے دوبارہ سٹڈی میں چلے گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین بھی اپنے روم میں جا چکی تھی ۔ آیت اپنے روم میں تھی عارض ایک بار پھر سے اسی روم میں۔ آگیا ۔ جہاں وہ اسے تنہا چھوڑ گیا تھا ۔
جبکہ زین اپنے روم میں چلا گیا۔
سالار بھی اپنے پورشن میں جا چکا تھا ۔۔ یہ جانے بنا کہ اسکے ساتھ جڑی زندگی کے لیے اب کوئ کمرہ نہیں بچا تھا آیت کا روم تھا جس میں ہے وہ رہ رہی تھی ۔۔
زیمل یوں ہی خالی ہال کو دیکھتی رہی ۔۔
تبھی اسے احساس ہوا ۔۔۔ افشین کا ۔۔۔ جیسے۔۔۔ وہ اسکے اردگرد ہو ۔۔اور جیسےابھی اسے جکڑ کر پھر سے عدیل کے کمرے میں بند کر دے گی۔۔ خوف سے رنگ زرد پڑ گیا۔۔۔۔
یعنی اتنا اسکے زہن پر سوار ہو چکی تھی کہ ۔۔۔ وہ اپنے آپ ہی اسکاتصور کر کے گھبرا گئ تھی ۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کیسے۔مگر اسکے پاؤں نے بھاگ کر سالار کے کمرے تک کا سفر طے کیا تھا ۔۔۔۔
گھیری سانسوں کی آواز پر۔۔۔ وہ چونکا تھا اتنا تھک چکا تھا کہ اب ۔۔کسی کو دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔۔اسنے ۔۔ ٹاول گردن سے نکالا اور اسے ۔۔ صوفے پر اچھال دیا ۔۔۔
کوئ ہے وہاں “وہ آئینے کے سامنے کھڑا پوچھنے لگا۔۔۔
جبکہ ایک ہاتھ سے پورے کمرے میں ۔۔کرٹنز کھول دیے تھے ۔۔
کمرے کی روشنی بھی کم کر دی تھی۔۔
خواب ناک سےماحول میں چھوٹی چھوٹی سانسوں کی آوازوں نے اسے پھرا سے متوجہ کیا ۔۔۔
اور اسکے قدم دوسرے روم کیطرف گئے ۔۔۔۔
پنک لباس میں لمبےریشمی آبشار کی مانند بالوں کو یوں ہی بکھیرے۔۔۔ دونوں ہاتھوں کو سینے سے لگائے ۔۔۔
خوف سے پسینے کی چمکتی بوندوں اور سانسوں کے شور سے ہلکان ہوتی وہ سالار۔کے اعصابوں ۔۔ پر جیسے ۔ ایکدم بجلی کیطرح گیری تھی۔۔۔۔
گھیری نظروں میں طلب کی شدت لیے وہ اسے دیکھتا رہا ۔۔
زیمل کی آنسووں سے لبریز نظریں اسپر اٹھیں ۔۔۔
وہ ۔۔ کوئ روم فری ۔۔فری نہیں تھا ۔۔۔ مجھے اکیلے ۔۔ہال ہال میں ڈر ۔۔۔
ششششششش” اچانک اپنی جانب اسے کھینچ کراسنے اپنی انگلی کو ۔۔ زیمل کے لبوں پر رکھ کرجیسے ۔۔۔ اسکی ٹوٹی پھوٹی بات کو وہیں روک دیا ۔۔۔۔
زیمل کے وجود میں سرد لہر سی دوڑی ۔۔۔۔
گھبرا ہی اٹھی وہ ۔۔اس انوکھے لمس پر جو آج سے پہلےاسنے سالار کے چھونے پر محسوس نہیں کیا تھا ۔۔۔
سالار کی انگلیاں اسکے گھنے بالوں میں پھیسلنے لگیں ۔۔۔۔
زیمل پریشانی سے اسکو دیکھ رہی تھی آنکھوں میں بلا کی معصومیت چھپی تھی ۔۔۔
اپنے سارے ڈر مجھے دے دو ” سالار نے اسکی دونوں ہتھیلیوں کو ۔۔۔۔ چھو لیا اپنے حرارت سے بھرپور لمس سے ۔۔۔۔ بھیگو دیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
