No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ساری رات اسنے یہ سوچنے میں گزار دی کہ نین نے آخر اقرار کیسے کیا تھا کیا وہ اسے جانتی تھی ۔۔ کیا وہ اسے پہچان گئ تھی ۔۔۔۔۔ کئ سوال تھے جن کا جواب بس وہ ہی دے سکتی تھی مگر وہ جواب لینا نہیں چاہتا تھا وہ بے حد خوش تھا ۔۔ صرف بابا تھے بیچ میں ورنہ وہ پل کی چوتھائ میں اسے اپنے اس کمرے میں لے آتا ۔۔۔
وہ آفس جانے کے لیے ریڈی ہو کر باہر نکلا ۔۔۔ تو روز کیطرح سب ٹیبل پر موجود تھے سوائے سالار کے ۔۔۔
عارض اور آیت کی شادی کے بارے میں گفتگو کی جا رہی تھی جبکہ عارض بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے وہ ۔۔اٹھ کر کوئ بد لحاظی کرتا کبیر اسکے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔
صرف سنجیدگی سے اسکو دیکھا ۔۔
بھیا میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتا ” عارض نے اپنا مدعا رکھا ۔
اگر تم مجھے اب بھی جینے دو گے تو یہیں بیٹھے بیٹھے ۔۔۔ میں تمھارا ڈر پھاڑ دوں گا ” وہ حد درجے سنجیدہ تھا ۔۔۔۔
ان دونوں کی گفتگو پر سب ان کی طرف متوجہ ہوئے
اب کیا ارشاد فرما رہے ہیں یہ محترم ” مرتضی نے پوچھا ۔۔۔
عارض کچھ نہیں بولا ۔۔۔
کچھ نہیں بابا شادی کی ڈیٹ فیکس کر لیتے ہیں اگر آفتاب چاچو آنا چاہتے ہیں تو انھیں بلا لیں “
وہ کبھی آیا ہے اس بچی کا اتا پتہ بھی لینے ۔۔۔ ” وہ ناگواری سے بولے ۔۔۔۔
مگر آفتاب ہی آیت کا سربراہ ہے بھائ جان اس سے بات کرنا ضروری ہے” شہاب بولے تو مرتضی نے سر ہلایا ۔۔۔
تم کال کر کے بلا لینا بلکہ انوائیٹ کر لینا اسکو اور اسکی فیملی کو ۔۔۔
اور میرے خیال سے شادی کی تیاریاں شروع کر لیں آپ لوگ ” مرتضی نے مدیحا کیطرف دیکھا ۔۔ جو اس گفتگو سے گویا ہلکی پھلکی ہو گئیں تھیں ۔۔۔
عارض نے ناشتے کی پلٹ میں کانٹا پٹخا ۔۔۔۔
جتنی زبردستی آپ لوگوں نے کرنی تھی بس کر
۔۔ لی ۔۔۔۔ میں مزید اس زبردستی کا حصہ نہیں بنو گا ۔۔ میں آپ لوگوں کی آیت سے سخت نفرت کرتا ہوں ۔۔۔۔ اور شادی نہیں کروں گا ۔۔۔ پھر چاہے میری بلا سے کسی سے بھی اسکے نکاح پڑھوا۔۔۔۔۔۔۔۔ کبیر نے ایک جھٹکے سے اٹھ کر اسکا گریبان جکڑ لیا ۔۔۔۔۔
وہ لاوارث نہیں ہے جو محفل میں اسکو ایسے زلیل کر رہے ہو ۔۔۔۔
نہیں کرنا چاہتے شادی مت کرو لعنت بھیجتا ہوں میں تم پراگر تم نے ڈوب کر وہیں مرنا ہے ۔۔۔” کبیر کی دھاڑ سے ۔۔ جیسے سب سہم سے گئے ۔۔ مرتضی اور باقی بھائیوں نے خاموشی سے یہ منظر دیکھا تھا اور حال کے باہر کھڑی آیت ۔۔ کو لگا اب وہ اپنے قدموں پر چل بھی نہیں پائے گی اتنی نفرت ۔۔۔۔
اتنی نفرت تھی اسکو آیت سے ۔۔۔۔
آنسو نے اسکے گال بھگو دیے تھے ۔۔۔۔
عارض چند پل یوں ہی کھڑا رہا ۔۔۔ بہت عجیب سی لگی تھی یہ بات ۔۔۔۔
کبیر نے اسکا گریبان جھٹک دیا ۔۔۔
بابا شادی صرف میری ہو گی ۔۔۔۔۔ اگر آفتاب ابو کو بلانا چاہتے ہیں تو بلا لیں ۔۔۔۔ “
وہ اپنا فیصلہ سنا کر وہاں سے اپنا موبائل اٹھا کر بنا ناشتہ کیے چلا گیا ۔ جبکہ مرتضی نے عارض کو سخت گھور کر دیکھا۔۔ عارض بھی وہاں سے چلا گیا مگر دماغ عجیب کیفیت کا شکار تھا اور چند لمہوں میں اسنے سر جھٹک دیا ۔۔۔۔
جبکہ مدیحا نے سر تھام لیا تھا ۔۔۔۔
آپ گئیں تھیں اس لڑکی کے گھر” مرتضی نے اب کے مدیحا کو گھورا ۔۔۔۔
تو وہ خاموشی سے سرجھکا گئیں ۔۔ تنزیلہ اور صوفیہ کا بھی یہ ہی حال تھا جبکہ افشین کے چہرے پر طنزیہ مسکان تھی ۔۔۔
رفتہ رفتہ سب اٹھ کر چلے گئے اور پیچھے موضوع عارض کا رہ گیا ۔۔
آیت دوباره اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔اور پریشے اسکے روم میں آ گئ ۔۔۔
بات سنو میری یہ رونا دھونا جو تم نے ڈالا ہے نہ اب مجھے روتی ہوئی نظر مت آنا “پریشے نے اسکو گھور کر دیکھا اور ۔۔ اسکے آنسو صاف کیے ۔۔۔
آیت سے کچھ بولا ہی نہیں گیا ۔۔۔۔
دیکھو آیت انسان میں کچھ کچھ تھوڑی سی تو سیلف رجسپیکٹ ہونی چاہیے ۔۔
ایک تو اسنے اتنا بڑا دھرنا کیا ہوا ہے ۔۔ دوسرا وہ ہاتھ دینے کے لیے تیار ہی نہیں”پریشے نے بچے کے بارے میں کہا ۔۔ آیت نے اسکو دیکھا اور ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
میری بات سنو پلیز کسی کو کچھ مت بتانا میں میں یہ بچہ ۔۔ نہیں چاہتی ۔۔۔ تم خود سوچو پریشے جب وہ مجھ سے شادی ہی نہیں کررہا تو یہ بچہ میں کیا بتاؤں گی ہر دن گزرنے کے ساتھ ۔۔ میرا دل ڈوب رہا ہے میری ہمت جواب دے رہی ہے ” وہ اسکے ہاتھوں پر سر رکھتی بری طرح رو دی جبکہ پریشے کی بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔۔
آیت یہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو اس بچے کا کیا قصور ہے ” پریشے خوف زدہ تھی
میرا کیا قصور ہے” آیت کے سوال پر پریشے نے نگاہیں جھکا لیں ۔۔۔
تم میرا ساتھ دو گی” اسنے اسکی جانب آس سے دیکھا ۔۔۔
میں مجھے سمھجہ نہیں آ رہا ” پریشے پریشانی سے بولی ۔۔۔
ہم شام میں ڈاکٹر کے پاس جائیں گے ۔۔” آیت نے حتمی فیصلہ کیا ۔۔
جبکہ پریشے نے نفی کی ۔۔
یہ ظلم ہے تم ایسا کچھ نہیں کروگی ” اسنے سختی سے کہا ۔۔۔ جبکہ آیت پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔
اور اچانک دروازہ بجا دونوں نے گھبرا کر دروازے کو دیکھا ۔۔
ہیلو لیڈیز ” سالار نے سراندرڈالا ۔۔۔۔
اور آیت کو روتا دیکھ اسکے ماتھے پر بل سے ڈلے ۔
کیا ہوا ہے پھر سے اس کھوتے نے کچھ کہا ہے” وہ سنجیدگی سے اندرآیا۔۔۔نہیں نہیں تو بس ایسے ہی بابا کی یاد آ رہی تھی” آیت نے آنسو صاف کیے ۔۔۔
اگر اسنے کچھ کہا تو بتاؤ مجھے” سالار کے چہرے کی سنجیدگی سے دونوں کو اور بھی ڈر لگنے لگا جبکہ وہ پہچاننا چاہ رہیں تھیں کیا وہ انکی باتیں سن چکا ہے مگر اسکے چہرے سے ایسا لگ نہیں رہا تھا ۔۔۔
میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔
میں بتاتی ہوں آپکو سچ ” پریشے جلدی سے بیٹھی آیت نے اسکا ہاتھ سختی سے جکڑا ۔۔
کیا عزت رہ جائے گی اسکی کہیں گڑھ کر مر جائے گی وہ اگر گھر کے مردوں کو یہ علم ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے جبکہ صرف نکاح ہوا ہے اسکا۔۔۔
ہاں بتاؤ ” سالار متوجہ ہوا ۔۔
بڑے بھیا کی شادی فائنل ہو رہی ہے ۔۔۔ اب دیکھیں بھیا ہمارے گھر میں پہلی شادی ہے ۔۔۔ توکیا ہم اسی گھر میں شادی کریں گے “
تو تم نے خلا میں جا کراپنے بڑے بھیا کو دولہا بنانا ہے” سالار اس بکواس ہر بد مزہ ہوا ۔
آف ہو ۔بھیا میں کہہ رہی ہوں گاؤں چلتے ہیں نانی کے پاس ۔۔ وہیں شادی کریں گے بڑے بھیا کی ڈسٹینیشن ویڈینگ” پریشے ایکسسائٹیڈ تھی ۔۔۔
سالار نے اسکی شکل دیکھی ۔۔۔
وہاں ۔۔ پر ایمن بھی ہو گی “سالار نےاسے یاد دلایا ۔۔
تو پھر ۔۔۔ شادی تو کسی اور سے ہو رہی ہے نہ” پریشے نے سر جھٹکا ۔
کیا تم جانا چاہتی ہو گاؤں”سالار نے آیت کیطرف دیکھا جب سے وہ آیا تھا وہ چپ چپ ہی رہتی تھی زیادہ تر کمرے میں یہ پھر روتی ہوئی پائ جاتی تھی ۔۔۔
ج۔۔جی” اسنے مدھم مسکان کے ساتھ کہا ۔۔ تو سالار سرد سانس کھینچ کر اٹھا ۔۔
اوکے لیڈیز مگر شرط ہے اور وہ یہ کہ ۔۔۔ دونوں بہنیں اٹھو ۔۔۔ اور زبردست سا کھانا بناؤ ۔۔”اسنے ان دونوں کو کام پر لگایا ۔۔ آیت تو فورا مان گئ جبکہ پریشے کی جان سی نکل گئ ۔۔
شرم کرو تم نے اگلے گھر نہیں جانا ” سالار پیچھے سے ۔۔۔ اسکے منہ بنانے پر بولا ۔۔۔
میرے اگلے گھر میں ملازم ہوں گے بہت سارے ” پریشے بھی کم نہیں تھی ۔۔۔
وہ دونوں کچن میں چلی گئیں جبکہ افان پر بس اچٹتی ایک نگاہ ڈالی سالار کی بھی اسپر نگاہ گئ ۔۔
مگر میرے گھر تو نوکر نہیں” افان نے جیسے کہا سالار بری طرح ہنس دیا ۔۔۔
تو انتظامات کر لو کافی ناک چڑھی ہے ۔۔۔” اسنے کان میں کہا ۔۔ افان نے سرد سانس کھینچی
مجھے خبرملی ہے بڑے بھیا کی شادی کی” افان نے حیرانگی سے ۔۔ سالار کو دیکھا ۔ مجھے بھی ابھی پتہ چلا ہے ” اسنے شانے اچکائے ۔۔
اور چانک دونوں متوجہ ہوئے ۔
چیخوں کی آوازوں پر ۔۔۔۔۔
یہ آواز ” دونوں نے لون کیطرف دوڑ لگائی ۔۔۔۔
اور پیچھلی طرف آ گئے جہاں عدیل کا پورشن تھا ۔۔۔۔
وہ چیخوں کی آوازیں زیمل کی تھیں ۔۔۔۔
عدیل ٹیریس پر کھڑا تھا جبکہ ۔۔۔ چھلانگ لگانے کے لیے بے تاب تھا ۔۔افشین چاچی اس وقت گھر نہیں تھیں تبھی وہ یہاں نہیں آ ۔ سکیں ۔۔۔
سالار نے زیمل کو روتے ہوئے دیکھا ۔۔
مدھم نرم لہجے میں وہ ایک ہی بات کہہ رہی تھی ۔۔
عدیل میں آپ سے پیار کرتی ہوں پلیز نیچے آ جائیں ” سالار نے ایک آئ برو اٹھائ ۔۔۔۔
جبکہ افان تو اس لڑکی کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔اسنے سالار کی شکل دیکھی جو سنجیدہ تھا ۔۔
زیمل کو بھی اپنے پیچھے احساس ہوا ۔۔۔
وہ دوڑ کران تک آئ ۔
وہ وہ چھلانگ لگا دیں گے پلیز انھیں نیچے اتاریں” زیمل نے سالار کی جانب دیکھا ۔۔۔
اچھا ہے جان چھٹے گی تمھاری ۔۔ بیٹھ جاؤ شوانجوائے کرو ” سالار نے شانے اچکاۓ تو ۔۔ افان نے اسکی کمر پرمکہ مارا اور ۔۔ زیمل کی آنکھیں حیرت سے کھلیں تھیں ۔۔۔۔۔
وہ پھرسےعدیل کو پکارنے لگی ۔۔ مگر عدیل چھلانگ لگانے کے لیے بے تاب تھا ۔۔۔
اوئے پاگل اوپرکیوں چڑھا ہے” سالار نے غصے سے پوچھا ۔۔
تم تم جاؤ یہاں سے کیوں آئے ہو ۔۔۔ یہ مجھ سے پیار نہیں کرتی میں یہاں سے کود جاؤ گا “
اپنی شکل دیکھ وہ تم سے کیوں پیار کرے گی ۔۔ چل دل پر نہ لے میرے بھائ نیچے آ جا “
سالاربکواس بند کرو ۔۔ افشین مامی تمھاری گردن اڑا دیں گی اگر انھوں نے یہ فضولیات سن لی تو ۔۔”
ہاں ڈرتا نہیں ہوں کسی سے میں” سالار نے سر جھٹکا ۔۔
میں کوئ مدد نہیں کررہا اچھا ہے کود کے مرے ۔۔ جان چھٹے لوگوں کی” اسنے زیمل کو دیکھا جو بلاوجہ اسکے نزدیک رو رہی تھی ۔۔
کوئ تم سے بڑا ڈھیٹ پیدا نہیں ہوا” افان نے غصے سے کہا اور ۔۔ خود جلدی سے اندر داخل ہوا تا کہ ٹیرس میں جا سکے ۔۔۔۔
جبکہ سالار نے زیمل کی جانب دیکھا ۔۔ جو عدیل کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اسنے آج اپنا چہرہ نہیں چھپایا تھا ۔۔ اور اسکے چہرے پر چوٹوں کے نشان بڑے واضح تھے جب جب وہ یہ منظر دیکھتا تھا اسکا خون سا کھول جاتا تھا ۔۔۔۔
وہ دو قدم آگے ہو کر زیمل کے ساتھ آ کھڑا ہوا ۔۔۔
اور اسنے زیمل کے نازک شانے پر ہاتھ پھیلا لیا۔۔۔۔
زیمل چونک کر اسکو دیکھنے لگی جبکہ عدیل ان دونوں کو دیکھ کر آگے بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔
سالار کے منہ پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔
عدیل رک جاؤ ” پیچھے سے افان چیخا ۔۔
زیمل خود کو بچانے کے لیے ۔۔۔ اپنا آپ چھڑانے لگی ۔۔
اوئے پاگل جانتا ہے یہ کس سے پیار کرتی ہے” سالاراس پل کیا کرنے جا رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔۔
چھوڑیں پلیز یہ کیا کر رہے ہیں آپ” زیمل اسکی سخت گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش میں ہلکان ہونے لگی ۔۔۔۔
جبکہ عدیل افان کے روکنے کے باوجود یہ منظر دیکھ کر آگے بڑھنے لگا ۔۔۔
عدیل ” افان چلایا ۔۔۔۔
جبکہ ۔۔سالار نے بھی ایکدم زیمل کو چھوڑا ۔۔۔۔
اسکا بلاوجہ کا مزاق مہنگا پڑنے والا تھا ۔۔
عدیل پیچھے ہٹو”سالار چلایا ۔۔۔
یہ تجھ سے پیار کرتی ہے ” عدیل نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑ لیا جبکہ وہ ۔۔۔ بے حد نزدیک تھا کہ کسی بھی وقت اسکا پاؤں پھسیلے اور وہ دو منزلوں سے نیچے آ پڑے۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔ تم پیچھے ہٹو” سالار سنجیدہ ہوگیا ۔۔
عدیل پلیز پیچھے ہٹ جائیں” زیمل ۔۔۔ رونے لگی ۔۔۔
تم تو چپ کرو ۔” سالار اسپر چلایا ۔۔۔
جس کی بڑی بڑی آنکھوں میں اسکے لیے خوف سا سما گیا ۔۔
کیا دھرنا ہے یہ” وہ زیچ ہوا ۔۔۔
افان پکڑو اسے ” سالار چلایا اورافان اس سے پہلے عدیل کا ہاتھ پکڑتا ۔۔ عدیل کو وہیں دورے پڑنے لگے ۔۔ جس کی وجہ سے اسکا بیلینس خراب ہوا اور وہ نیچے آ پڑا ۔۔۔۔۔
یہ سب چند لمہوں میں ہوا تھا ۔۔۔۔ زیمل کی چیخ نکلی ۔۔۔اور وہ اسکے نزدیک دوڑی ۔۔ سالار بھی عدیل کے نزدیک آیا ۔۔۔
جبکہ افان نیچے بھاگا تھا ۔۔
عدیل” سالار نے اسے بازؤں میں اٹھا لیا سانسیں چل رہیں تھیں مگر ۔۔۔ سر سے خون نہیں نکل رہا تھا جو خطرے کی بات تھی وہ دونوں بنا کچھ دیکھے وہاں سے اسکو لے کر ۔۔۔ بھاگے ۔۔ زیمل منہ پر ہاتھ رکھے ۔۔۔ یہ منظر دیکھنے لگی ۔۔
ان دونوں کو بھاگتا دیکھ مدیحا نے دیکھ لیا تھا وہ بھی پہلی بار وہاں آئ تھی اس پورشن میں ۔۔۔ اور بے پناہ حسین نازک سی لڑکی کو دیکھ کر ۔۔ چند پل حیران ہوئے اور پھر اسے روتا دیکھ ۔۔۔ وہ اسکے نزدیک آئ ۔۔
بیٹا میرے ساتھ آؤ کیا ہوا ہے عدیل کو ” مدیھا نے سوال کیا ۔۔
چ۔۔چھت سے چھلانگ لگا لگا دی ۔۔ وہ وہ مر تو نہیں جائیں گے”
اللہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہی ہو ۔۔ تنزیلہ ۔۔ پانی لاؤ زرا ” مدیھا بولی ۔۔۔
تو آیت اور پریشے بھی باہر نکل آئیں عمل بھی ابھی سو کر اٹھی تھی سب زیمل کو حیرت اور اشتیاق سے دیکھ رہے تھے ۔۔
یار تم اس پاگل کے لیے رو رہی ہو ۔۔جسے اپنا بھی نہیں پتہ” پریشے بولی تو ۔۔ زیمل کو احساس ہوا یہ سلاار کی ہی بہن ہو گی ۔۔۔ جسے بولنے کی بھی تمیز نہیں ۔
زیمل نے کوئ جواب نہیں دیا جبکہ تنزیلہ نے اسکو سخت گھورا تو وہ زبان دانتوں میں دبا گئ ۔۔۔
دوسری طرف افشین بھی آ گئ تھی ۔۔ وہ دوڑتی ہوئی ۔۔ زیمل تک آئ اور بنا لحاظ کے اسکا منہ تھپڑوں سے سوجھا دیا ۔۔
کہاں ہے میرا بیٹا کیا کیا ہے تو نے اسکے ساتھ ۔۔ مارنا چاہتی تھی نہ اسکو تو ” وہ اسکے بال کھینچتے بولیں ۔۔۔
سب حیران تھے جلدی سے آگے بڑھ کر افشین کو اس سے دور کیا ۔۔۔
زیمل بے آواز رونے لگی ۔۔
ہٹ جائیں بھابھی اسنے میرے بچے کے ساتھ کیا کیا سکندر”
انھوں نے فون گھمایا ۔۔
سکندر کامران عدیل ہسپتال ہے فورا پہنچیں آپ ” وہ چیخی
اگر میرے بچے کو کچھ ہوا تو تجھے بھی جان سے مار دوں گی” وہ وارن کرتیں باہر بھاگیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ہسپتال جمع ہو گئے تھے ۔۔۔ سب مرد حضرات افشین نے ایک ادھم مچایا ہوا تھا ۔۔۔ جبکہ سالار اور افان سب کو سب کچھ بتا کر خاموش کھڑے تھے ۔۔
تم نے کوئ بکواس کی تھی” کبیر نے سالار کو گھورا ۔۔
نہیں ” اسنے نے نگاہ چرائ ۔۔
سالار” کبیر نے اسکا ہاتھ جکڑا اور افان کو اشارہ کر کے باہر لے آیا ۔۔۔۔
ان تینوں کے پیچھے عارض بھی آگیا ۔۔۔۔
بھیا آپکا تو کوئ عمل دخل نہیں” عارض نے سب سے پہلے سوال کیا ۔۔
یار میں کیا کروں گا جو مجھے مشقوق سمھجہ رہے ہو ۔۔
سالار چیڑا ۔۔
ہم جانتے ہیں تمھیں جتنی چیڑ ہے اس سے ” کبیر نے سختی سے کہا ۔۔
مجھے اس سے نہیں ۔۔۔ اسکے پاگل پن سے ہے ۔۔۔ جب وہ پاگل ہے تو پاگل کھانے پہنچاؤ ایک لڑکی کو وہ بھی پوری عقل شعور رکھنے والی کو اسکے ساتھ بندھنا ضروری ہے ۔۔میرا مسلہ بس یہ ہے ” سالار نے کہا ۔۔
تم وہیں تھے افان مجھے بتاؤ کیا ہو اتھا” کبیر نے افان سے پوچھا ۔۔
سالار نے افان کو گھورا مگر افان سب بتا گیا ۔۔۔۔
سالار تمھیں شرم آتی ہے” کبیر بھڑکا ۔۔۔
میں نے نہیں کہا تھا میں تو بس بتا رہا تھا ” وہ منمنایا ۔۔۔
بکواس بند کرو ۔۔۔۔ بچے ہو جو چیڑا رہے تھے “
میں نے نہیں کہا تھا کود جاؤ ۔۔۔ عدیل”سالار بھی بھڑکا ۔۔۔
دعا کرو وہ زندہ بچ جائے ۔۔ سر سے خون نہ نکلنے کی وجہ سے ڈاکٹر خطرے کا شبہ دے رہے ہیں “
اگر مارنا ہوتا تو یہاں نہ لاتا ۔۔ جو بھی ہو گا وہ سب اسکے پاگل پن ہے میرا مسلہ نہیں اور ویسے بھی ڈاکٹر نے بتایا ہے اسکو دوری پڑا تھا جس کی وجہ سے وہ گیرا ” سالار نے آنکھیں نکال کر سچ بتایا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ تینوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔
اور سب دوبارہ کاریڈور میں جمع ہو گئے ۔۔ کچھ گھنٹے مزید انتظار کے بعد ڈاکٹرز باہر نکلے ۔۔۔اور عدیل کی موت کی خبر نے جیسے ان سب کو ہلا کر رکھ دیا ۔۔۔
افشین کی چیخوں نے پورا ہسپتال سر پر اٹھا لیا تھا ۔۔ جبکہ سارے بھائیوں نے سکندر کو دلاسہ دیا ۔۔
سالار چند پل وہاں رکا اور پھر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
جبکہ باقی سب ۔۔ سکندر اور افشین کے غم میں شامل تھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدیل کا جنازہ اٹھا تو ۔۔ افشین نے سب عورتوں کے سامنے زیمل کو بری طرح مارنا شروع کر دیا ۔۔
اس نے مارا ہے میرے بیٹے کو ۔۔۔ یہ ہے میرے بیٹے کی قاتل” مدیحا تنزیلہ اور صوفیہ نے اسکو بہت روکنا چاہا مگر وہ تو کسی کے ہاتھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔
جبکہ پریشے نے زیمل کو پیچھے کھینچ لیا ۔۔۔۔
اور آیت اور پریشے زیمل وہ اپنے ساتھ لے گئیں ۔۔۔۔
ہوش کرو افشین
مدیحا نے غصے سے کہا ساری عورتوں کے سامنے تماشہ بن گیا تھا ۔۔۔۔
اسکو نکالیں بھابھی یہاں سے ” وہ چلائ ۔۔۔
ٹھیک ہے نکلا دیں گے تم ہوش کے ناخن لو کچھ” تنزیلہ نے کہا ۔۔اور افشین اپنا ہاتھ چھڑا کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔سب نے رمشہ کو بھی دلاسہ دیا ۔۔۔
جبکہ اوپر زیمل جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔ پریشے نے اسکے چہرے پر پڑے میلوں پر دوائ لگانی چاہی
پلیز آپ مت کریں وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں پیٹنے کی حق دار ہوں ۔۔۔
میں نے ہی لاپرواہی کی تھی” وہ بولی اور رونے لگی جبکہ پریشے نے سر تھام لیا ۔۔
بس کرو اب بیوقوف لڑکی ” وہ غصے سے بولی ۔۔
آیت نے حیرانگی سے اسکو دیکھا ۔۔۔
ایک پاگل کے لیے روئے جا رہی ہے” پریشے بولی تو زیمل ۔۔ کو اس میں اس شخص کی جھلک دیکھائی دی جو حقیقت تھی بے پناہ حسین تھا ۔۔۔ مگر نہ جانے الٹی سیدھی حرکات کیوں کرتا تھا۔۔۔۔
جاری ہے
