Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

پورے گھر میں ۔۔۔ہنگامہ مچا ہوا تھا ۔۔صبح سات بجے سالار کی فلائیٹ تھی مدیھا اسے چھ بار اٹھا چکیں تھیں مگر وہ پھر بھی سوتا رہا اور اب اچانک ۔۔جب بس آدھا گھنٹہ رہ گیا ۔۔ تو وہ بھاگتا ہوا نیچے آیا تھا ۔۔ ٹائ بھی بنا باندھے ہاتھ میں لیے کھڑا تھا ۔۔
یار مما مجھے وقت پر اٹھانا تھا نہ ۔۔۔ “وہ جھنجھلایا ۔۔۔
بیٹا جی آپکو چھ بار اٹھا چکیں ہوں جب آپکی نیند ہی نہ پوری ہوتی ہو تو اس میں میرا کوئ قصور نہیں اور ناشتہ آرام سے کرو سالار “مدیھا کو اسکی یہ جلد بازی بری لگی ۔۔۔
صبح کے وقت سب ہی ٹیبل پر موجود تھے نین ۔۔۔ صوفیہ اور تنزیلہ سب کے آگے ناشتہ لگا رہے تھے ۔۔۔۔ جبکہ کبیر شاداب سے بات کر رہا تھا مرتضی اخبار میں مصروف تھے ۔۔۔
اور پریشے عمل اور زین کے پیپرز چل رہے تھے تبھی وہ لوگ بھی ناشتہ کر کے جانے کے لیے تیار تھے ۔۔
البتہ اس خاموش ماحول میں سالار نےا۔ کر واویلا مچا دیا تھا ۔۔۔۔
مما دس منٹ ائیر پورٹ جاتے لگیں گے اور دس منٹ یہاں سے ۔۔۔ نکلتے میرا آدھا گھنٹہ ختم ۔۔۔۔” وہ کافی کا گرم گرم کپ لبوں سے لگا گیا ۔۔
سالار” مرتضی نے اسکو گھورا ۔۔
یار یہ بلیک میلنگ نہ کیا کریں” وہ سر جھٹکتا ۔۔ چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
زیمل کہاں ہے ۔۔۔۔ اس بچی سے بھی کہیں کے ناشتہ کرے ا کر ۔۔۔” مرتضی کو ہی اسکا خیال آیا ۔۔ جبکہ سالار نے کوئ ریسپوںس نہیں دیا البتہ اسکیطرف سب نے دیکھا ضرور تھا ۔۔۔
وہ ٹیکسٹ سینڈ کرتا اب بھی عجلت میں تھا ۔۔۔
پریشے اٹھی اور ۔۔ زیمل کو لینے چلی گئ ۔۔۔
سالار تم واپس شام کی فلائیٹ سے گھرا و گے ۔۔کہیں نہیں رکنا اب تم نے ۔۔۔ کہ مہینہ مہینہ شکل نہ دیکھاو “
بابا بہت مشکل ہے ۔۔۔ یہاں سے کراچی کا سفر چھ گھنٹے ہے ۔۔ میں تو مارا جاؤں گا اس آنے جانے میں ۔۔۔”وہ بولا
بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں تمھارے بابا ۔۔۔ بھولو مت کسی سے نکاح کیے بیٹھو ہو ۔۔۔۔” مدیھا کو احساس تھا کہ وہ تو اپنے نکاح کو بھی بھول جانے والا انسان ہے ۔۔۔ تبھی اسے یاد دلایا ۔۔
ارے واہ واقعی ۔۔اور ظالم سماج آپ لوگ۔ جیسا ۔۔میرے اور میری بیوی کے بیچ حائل ہے ۔۔اسکا کیا ” وہ جان بوجھ کر اپنے مزاج کے مطابق بولا جبکہ زیمل کو تو اگنور کرنے کی قسم کھا لی تھی ۔۔
بہت ہی بے شرم ہیں بیٹا جی آپ” مدیھا ۔۔ نے نفی میں سر ہلایا سب کے لب مسکرا رہے تھے ۔۔
تمھیں جو میں نے کہا ہے وہ ہی کرنا ” مرتضی نے تنبھی کی ۔۔
اچھا بھئ ٹھیک ہے ہر وقت ہلاکو خان بنے رہتے ہیں “
سالار “مرتضی نے بھڑک کر چمچ اٹھائ جبکہ وہ زبان دانتوں تلے دبا کر کان پکڑ گیا ۔۔۔
تھوڑا تو لحاظ کیا کریں میرا ۔۔ میں دوسرے نمبر پر آتا ہوں اس گھر میں” وہ معصومیت سے بولا ۔۔
اپنی زبان کا خیال بھی رکھا کرو ” مرتضی نے چائے پیتے ہوئے کہا ۔۔۔
تبھی زیمل اور پریشے بھی ا گئیں ۔۔۔۔
زیمل کافی گھبرا رہی تھی ان سب کے سامنےانے سے ۔۔۔
اسنے سب کو سلام کیا ۔۔۔ تو سب نے ہی خوش دلی سے جواب دیا ۔۔۔۔ افشین یہاں موجود نہیں تھی زیمل نے ایک نگاہ پوری ٹیبل پر ڈالی اورسکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔
سالار نے سیل فون نیچے رکھا اور زیمل کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اسکے خوبصورت معصوم چہرے پر ۔۔۔ چمک ہی الگ تھی جبکہ اسکی نگاہ پھسلتی ہوئی اس نشان پر ٹھر گئ جو کے نیلا سا تھا ۔۔۔۔
سالار نے فورا کپ رکھا اور اسکے سامنے سے ٹیبل بجائ ۔۔
وہ واقعی بنا شرم و لاحاظ کا انسان تھا ۔۔کبیر اور نین سب کے سامنے ۔۔۔ کافی ڈیسنٹ رہتے تھے ۔۔۔ جبکہ سالار صاحب کو روک کون سکتا تھا ۔۔۔
زیمل نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
کیا ہوا ہے تمھارے چہرے پر ” سب کے سامنےا سکا ایسے اسکیطرف متوجہ ہونا زیمل کے چہرے پر اچانک سرخی پھیل گئ ۔۔۔
دل جبکہ دھڑکنے لگا ۔۔۔۔۔
وہ گھبرائ ہوئ سی اسکیطرف دیکھ رہی تھی ۔۔
ہاں تم سے پوچھ رہا ہوں کیا ہوا ہے تمھارے گال پر ” وہ
سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔۔سب اسکیطرف متوجہ تھے ۔۔
وہ میں ۔۔ گیر گئ تھی واشروم میں ” زیمل انگلیاں چٹخاتی بولی ۔
جھوٹ”سالار تیوری چڑھا کر بولا ۔۔۔
میں سچ بول رہی ہوں ۔۔” زیمل کا سانس خشک ہوا ۔۔
سالار چئیر پیچھے کرتا اٹھا ۔۔
تم سچ بتا رہی ہو ۔۔۔۔ یہ نہیں” وہ بے حد غصے میں لگا ۔۔۔ ارد گرد بیٹھے لوگوں کا بھی لحاظ نہیں تھا ۔۔
زیمل پریشانی سے اسکو دیکھنے لگی
سالار جب وہ کہہ رہی ہے تو سچ ہی بول رہی ہو گی ” مرتضی بیچ میں بولے ۔۔۔
اسنے مرتضی کو ایک نظر دیکھا اور دوسری نظر بھرپور ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۔۔۔ زیمل پر ڈالی ۔۔
میں سچ کہہ رہی ہوں ” زیمل نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں بے اعتباری تھی ۔۔
وہ بنا کچھ بولے اپنا سیل فون اٹھا کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔
سب اچانک سنجیدہ ہو گئے تھے ۔۔
زیمل شرمندہ سی ہو گئ ۔۔ جیسے یہ قصور اسکا ہو ۔۔اسنے ان سب کے چہرے کی مسکراہٹ ۔۔ ختم کر دی تھی ۔۔
وہ بھی آنسو پیتی اٹھی ۔۔ مگر ۔۔ نین نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
تم بلکل آیت جیسی ہو چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا جاتی ہو ” وہ ۔۔ مسکرا کر بولی ۔۔
چلو بیٹھو ناشتہ کرو اب ” نین نے کہا ۔۔ تو سب مسکرا دیے ۔۔۔
بیٹھ جاؤ بیٹا ” مرتضی تو آہستہ آہستہ اسکے فیور میں اتر رہے تھے ۔۔
اور اسکی فکر مت کرما کبھی پانی اور کبھی آگ کیطرح کا مزاج ہے اسکا اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا ” مرتضی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔ تو زیمل بیٹھ گئ ۔۔۔
سب کے ساتھ ۔۔۔
اور پھر رفتہ رفتہ سب ۔۔ اپنے اپنے کام پر نکل گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کا کھانا اسنے اور زیمل نے بنایا تھا جبکہ صوفیہ تنزیلہ اور مدیھا ۔۔۔کو زبردستی ریسٹ کا کہا ۔۔۔۔
پریشے اور عمل بھی کالج سے ا گئیں جبکہ زین ۔۔ کہیں چلا گیا تھا باقی گھر میں افشن اپنے وپرشن میں تھی ۔۔ وہ صبح سے ہی ادھر نہیں آئ تھی ۔۔۔
نین ۔۔۔ کو گرمی کا شدید احساس ہوا تو ۔۔۔ اسنے شاور لینے کا سوچا ۔۔۔۔ اچانک اسکی نگاہ اپنے ہاتھ میں موجود بریسلیٹ پر گئ ۔۔
وہ قیمتی تھا ۔۔ اسکی شادی کا تحفہ تھا ۔۔اسکی گوری کلائی میں جچتا بھی خوب تھا وہ خوش تھی وہ محسوس کر رہی تھی ۔۔ وہ خوش رہنے لگی ہے ۔۔۔
جب سے شادی ہوئ تھی ۔۔ اسکے بعد سے اب تک ۔۔۔۔ اس نے اپنے اندر کبیر کے لیے جزبات میں بے حد تبدیلی محسوس کی تھی ۔۔۔۔
وہ اکثر اب اسکو یاد آنے لگا تھا ۔۔۔۔
اسنے کبھی اسے میسیج یہ کال نہیں کی تھی مگر آج سامنے موبائل دیکھ کر اسکا دل کیا وہ اسے کال کرے اس سے پوچھے وہ کیسا ہے ۔۔۔۔ دل میں عجیب سے احساس جنم لے رہے تھے ۔۔۔
وہ سر جھٹک گئ ۔۔۔
کنٹرول کرو نین” اسنے کہا اور ۔۔۔ واشروم میں چلی گئ ۔۔
پندرہ منٹ بعد وہ واشروم سے باہر نکلی ۔۔۔
گیلے بالوں کو ابھی وہ ڈرائیر سے سکھا ہی رہی تھی کہ اسکا اسیل فون بجنے لگا ۔۔۔
یہ پہلی کال تھی جس کی تھی وہ جانتی نہیں تھی ۔۔
کبیر نے یہ فون دیا تھا ۔۔ اس میں کس کے نمبر تھے وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔
سیل فون کی سکرین پر کبیر مرتضی جاتا نام جگمگا رہا تھا ۔۔وہ مسکرا دی اور کال اٹینڈ کی ۔۔
سلام کیا ۔۔۔ اور اسکے بولنے کی منتظر ہوئ ۔۔
میں تمھیں مس کر رہا تھا سوچا تم تو مجھے یاد نہیں کرو گی میں ہی کر لوں ” وہ بولا ۔۔۔ جبکہ نین کو محسوس ہوا وہ ساتھ ساتھ کوئ کام بھی کر رہا ہے ۔۔۔۔
نین کو ایسے شرم آئ جیسے ۔۔۔ وہ سامنے کھڑا ہو اپنی گھیری نظروں سے اسے دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔
آپکو اپنے کام میں دل لگانا چاہیے” وہ اپنی مسکراہٹ دباتی بولی ۔۔
آئینے میں اپنے خوش باش عکس کو دیکھا ۔۔۔۔
کیا کروں روز ۔۔۔ یہ سات آٹھ گھنٹے ۔۔ مجھ پر بھاری ہوتے ہیں ” کبیر بے چارگی سے بولا تو نین کھلکھلا دی ۔۔
کبیر بھی ہنس دیا ۔۔
اچھا ۔۔لڑکی زیادہ مت ہنسو تمھیں کام کی بات بتانی ہے “
وہ کچھ دیر بعد بولا ۔۔
جی ” نین نے پوچھا ۔۔۔
تم ریڈی ہو جاؤ دس منٹ میں تمھیں لیتا ہوں میں ” وہ بولا اور گھیری سانس لی ۔
وہ کیوں ” نین کو یاد نہیں رہا ۔۔
لگتا تو نہیں تم اتنی بھلکڑ ہو ” کبیر نے مسکرا کر طنز کیا ۔۔۔
نین خاموش رہی ۔۔
ہمیں تمھارے پیرنٹس سے ملنے جانا تھا بیوقوف لڑکی” کبیر نے کہا تو نین ایکدم اچھلی ۔۔
اوہ ہاں ۔۔۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے ہم کب جائیں گے کیا انھوں نے خود بلایا ہے ۔۔۔ جلدی بتائیں آپ کب ا رہے ہیں میں ابھی بس ابھی ریڈی ہو جاتی ہوں ” وہ ایک سانس میں۔ بولی ۔۔ کبیر اسکے خوش ہونے پر مسکرایا ۔۔
اوکے میں آتا ہوں “اسنے کہا تو نین سیل کی سکرین کو دیکھنے لگی ۔۔۔
کیا واقعی مجھے معاف کر دیا ہے انھوں نے ” بھیگی آنکھوں سے وہ سوچنے لگی اور پھر پلٹ کر ۔۔ وہ جلدی جلدی تیار ہونے لگی ۔۔
لباس جو سادہ سا نکالا تھا اسے بدل کر مختلف نکال لیا ۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر باہر آ گئ ۔۔
واہ بھابھی کہاں جا رہیں ہیں ” پریشے نے اسکو دیکھ کر ۔۔ آنکھ ماری ۔۔ تو نین سر تھام گئ ۔۔تمھارا کیا بنے گا لڑکی تم شرمندہ کر دیتی ہو سب کو ” نین بولی تو وہ ہنسنے لگی ۔۔زیمل۔نے بھی اسکو دیکھا ۔۔۔ اور مسکرانے لگی وہ بہتر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ کیونکہ نہ سالار تھا اور نہ افشین اور باقی سب اسکابہت خیال رکھ رہے تھے ۔۔۔
بتائیں نہ کہاں جا رہی ہیں ” عمل بے چینی سے بولی ۔۔
میں اپنے پیرنٹس کے گھر ” نین نے مسکرا کر بتایا اور مدیھا کیطرف دیکھا ۔۔
کیا میں چلی جاؤ ۔۔۔ مما ” وہ بولی تو مدیھا کو اسپر پیار آیا ۔۔۔اسے اچھا آلگا نین نےا س سے پوچھا ۔۔۔۔
بیٹا تمھارے ماں باپ کا گھر ہے اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے” وہ مسکرائیں تو نین بیٹھ گئ ۔۔
کبیر لینے آئے گا ” صوفیہ نے پوچھا تو وہ سر ہلا گئ ۔۔
چلو خیر سے جاؤ ” وہ بولیں ۔۔۔ اور سب ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگے ۔۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں گارڈ نے کبیر کے آنے کا بتایا تو وہ ۔۔ باہر ا گئ ۔۔ اسے بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔ ایسا لگ رہا تھا وہ اپنے ماں باپ سے ۔۔ صدیوں بعد ملنے جا رہی ہے ۔۔ قدم ہواؤں میں تھے ۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔ ۔کبھی میرے لیے بھی اتنے دل سے تیار ہو جایا کرو ” کبیر اسکو دیکھتا گاگلز اتارتا بولا ۔۔۔
آپ ساری تیاری خراب کر دیتیں ہیں ۔۔۔۔ ” نین نے بے ساختہ کہا جبکہ کبیر نے اسکو دلکشی سے دیکھا ۔۔
اچھا بس بس ۔۔۔ فلحال ہم وہاں جا رہے ہیں اور آپ مجھ سے کوئ ڈیمانڈ نہیں کریں گے ” نین نے فورا اسکی آنکھوں۔ پر ہاتھ رکھا ۔۔
تھوڑی سی چھوٹی سی” کبیر بولا ۔۔
تو نین ہنسنے لگی ۔
کبیر بچوں والی حرکتیں نہ کریں ” نین نے اسکو گھورا ۔۔
کبیر نے منہ بنایا اور منہ پھیر لیا ۔۔۔۔
اور گاڑی سٹارٹ کر لی ۔۔۔
نین چپ چاپ بیٹھی رہی کبیر نے گلاسز لگا لیے ۔۔وہ محسوس کر رہی تھی کبیر ایکدم خاموش ہو گیا تھا ۔۔ لیکن وہ کیوں ہوا تھا ۔۔ کیا وہ سوچ رہا تھا کہ نین اسکے ساتھ اسی طرح کرتی ہے مگر جب اسنے چاہا کبھی نین نے اسکو روکا نہیں ۔۔۔۔
بھلے اسکے اندر کوئ بھی حالات ہوں مگر یہ بھی حقیقت تھی اسکی بے پناہ محبت اور چاہت کا جواب بھی وہ اس عرصے میں اسے نہیں دے سکی تھی ۔۔
نین کو شرمندگی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
وہ کبھی خود سے اسکے نزدیک نہیں گئ تھی ۔۔۔
شاید خیال نہیں رہا ۔۔۔
لیکن محبت میں محبوب کا خیال نہ رہے ۔۔۔ حیران کن تھا ۔۔۔
لیکن اسے محبت بھی نہیں تھی ۔۔
کیا اب بھی اسکے دل میں احمد تھا ۔۔
کیا اسکی گھٹیا سوچ جانے کے بعد ۔۔ بھی وہ کبیر کی محبت سے ۔۔ دستبردار ہونا چاہتی تھی وہ اچانک بے ساختہ کئ سوچوں میں الجھ گئ ۔۔۔
انکا گھر آیا تو کبیر نے ۔۔ اس سے بنا بولے ہارن بجا دیا ۔۔۔۔
نین ہوش میں آئ ۔۔
اور جلدی سے باہر نکلی ۔۔
آپ بھی ائیں گے نہ” اسنے پوچھا ۔۔۔
اسکی بڑی ساری گاڑی کو محلے کے لوگ ۔۔ حیرانگی سے دیکھ رہے تھے جبکہ نین کی قسمت پر ۔۔۔ رشک کر رہے تھے ۔۔۔
نین پر کئ عورتوں کی نگاہ گئ ۔۔ کئ نے کوشش کی اس سے بات کریں ۔۔ مگر کبیر کے اترتے ہی سب ہی پیچھے ہٹ گئیں ۔۔
وہ گھر میں داخل ہوئے تو ۔۔۔ امی نے نین کو سینے میں بھینچ لیا ۔۔
اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیں ۔۔
جبکہ نین۔ کا بھی یہ ہی حال تھا ۔۔۔
اسکے والد کبیر سے ملے کبیر آج تک سمھجہ نہیں سکا تھا وہ کیوں اس سے ناراض تھے اسنے کبھی نین سے پوچھا بھی نہیں تھا ۔
کبیر خاموشی سے کھڑا رہا یہاں تک کے نین اپنے ابو کے گلے لگی اور بری طرح رو دی ۔۔
ابو پلیز مجھ سے خفا نہ ہوں ” وہ بولنے لگی ۔۔
نہیں میری بچی میں کیوں خفا ہوں گا بلکہ تم ہمیں معاف کر دو ” وہ بولے تو نین نے جلدی سے انکے ہاتھ پکڑے ۔۔۔
کبیر اب بھی خاموش کھڑا تھا ۔۔۔وہ دو بار یہاں آیا تھا ۔۔۔
نین کے پیچھے سے ۔۔۔ اور اسنے ۔۔۔ ان سے وجہ جاننی چاہی تھی مگر کسی نے نہیں بتائ تھی اور پھر جب تیسری بار وہ آیا تو انکے انداز بدل گئے تھے وہ اس تبدیلی پر حیران تھا مگر زیادہ نہیں سوچا کیونکہ وہ صرف نین کی خوشی چاہتا تھا ۔۔
اور آج ۔۔ نین کے چہرے پر وہ خوشی دیکھ کر وہ بھی خوش ہو گیا جو اسنےا پنے گھر میں اسکے چہرے پر نہیں دیکھی تھی ۔۔
کبیر اور اسکے والد تو ایک کمرے میں بیٹھ گئے نین بھی انکے پاس تھیں امی نے کھانے کا انتظام کیا تھا ۔۔ بہت مزے دار کھانے بنائے تھے ۔۔۔
نین وہاں سے اٹھ کر امی کے پاس ا گئیں ۔۔
میں لگا دیتی نہ کھانا تم کیوں ا گئ ” وہ بولیں ۔
میں آپکی مدد کر دیتی ہوں ” نین نے کہا ۔۔۔
امی نے نین کیطرف دیکھا ۔۔۔
نین تم خوش ہو ” وہ پوچھنے لگیں ۔۔
جی امی بہت”آج وہ بتا نہیں سکتی تھی کتنی خوش تھی اور کبیر کی قدر اسکی نظروں میں کتنی بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔
اور آج اسے محسوس ہوا تھا وہ واجب المحبت تھا ۔۔۔۔
وہ مسکرا دی ۔۔۔
نین تیری پھوپھو نے اپنی اصلیت دیکھا دی بیٹا “امی کا لہجہ بھیگ گیا ۔۔۔
وہ اور احمد تیرے ابو کے ساتھ اتنی بدتمیزی کر کے گئے جبکہ احمد نے کہا کہ وہ تیری کبیر سے طلاق کرا دے گا ۔۔۔اسکو سچ بتا کر کے تو ۔۔۔” امی رک گئیں ۔۔۔
نین کے ہاتھ سے چھری چھوٹ کر زمین پر جا گیری ۔۔
ام۔۔امی” اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔۔
امی میرا کوئ قصور نہیں ہے ” نین ہلکی آواز میں بولی ۔۔
میں جانتی ہوں میری بچی ” امی نےا سے گلے سے لگا دیا ۔۔
میں نے تجھے بہت سخت الفاظ کہے مجھے معاف کر دے نین میں ماں ہو کر تیری تکلیف نہیں سمجھ سکی ” وہ اسکو سینے سے لگائے بول رہیں تھیں ۔۔۔
جبکہ نین کو تو صرف احمد کی فکر تھی ۔۔
چل زیادہ نہ سوچ ۔۔ہم دیکھ لیں گے اسے ۔۔ تو سٹور میں سے نیا سیٹ نکال لا ” امی نے کہا تو نین سر ہلاتی سٹور میں ا گئ ۔۔۔
جبکہ اسے محسوس ہوا ۔۔ باہر کوئ آیا ہے ۔۔۔
احمد اور پھوپھو کی آواز سن کر وہ سن سی ہو گئ ۔۔
باہر گاڑی دیکھ کر وہ لوگ ا گئے تھے ۔۔۔
نین آئ ہے ” پھوپھو بولیں ۔۔۔۔
آج تو میں بھی ملوں گا نین کے شوہر سے ” احمد بولا ۔۔۔
نین کا دل بیٹھنے لگا ۔۔ وہ فورا وہاں سے باہر نکلی ۔۔اور اسے احساس بھی نہیں ہوا اسکے ہاتھ سے بریسلیٹ ایکدم کھل کر گیر گیا۔۔۔۔۔۔
وہ باہر آئ ۔۔۔۔اور پھوپھو کو دیکھا ۔۔
جو مکرو مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہیں تھیں اسکا دل کیا کہہ دے چلی جائیں یہاں سے مگر کبیر کی وجہ سے کچھ نہیں بولی ۔۔
کبیر اور ابو بھی باہر ا گئے ۔۔
کبیر نےا حمد کو چونک کر دیکھا ۔۔
اسلام علیکم میں نین کا کزن ہوں ” احمد نے کبیر کی جانب ہاتھ بڑھایا ۔۔۔
کبیر حیران تھا ۔۔۔۔ مگر تادیر نہیں وہ اسکا ورکر تھا ایک عام معمولی سا ۔۔ اسنے مسکرا کر اس سے ہاتھ ملا لیا ۔۔۔ جبکہ احمد اس وقت کبیر کو صرف نین کے شوہر کی حثیت سے ٹریٹ کر رہا تھا ۔۔
نین کھڑے کھڑے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔
اندر چلتے ہیں کبیر صاحب ۔۔” احمد بولا تو کبیر شانے آچکا کر اندر چلا گیا ۔۔۔
اور پھوپھو بھی ۔۔
نین پیلی پڑ گئ ۔۔
امی اگر اسنے کچھ کہہ دیا تو ۔۔۔۔” وہ ہول رہی تھی ۔۔
جا تو اندر جا ۔۔” امی خود پریشان تھیں اور یہ ہی حالت ابو کی بھی تھی ۔۔۔۔
کبیر نے نین کو اندر آتے دیکھا ۔۔۔ اور اسکو اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
نین اسکے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔
بیٹا کیا کرتے ہو” پھوپھو نے پوچھا ۔۔۔۔ کبیر کو ہنسی آ گئ ۔۔۔
آپکے بیٹے کا بوس ہوں ۔۔۔ ” وہ بولا ۔۔۔ تو نین نے ایکدم اسکو دیکھا ۔۔ پھوپھو اور احمد کا منہ اتر گیا جبکہ کبیر کے لبوں پر مسکراہٹ اب بھی تھی ۔۔۔
آسکے اگے کسی کے بولنے کی ہمت نہیں ہوئ ۔۔ تو امی نے کھانا لگا دیا ۔۔۔
کھانا کافی اچھا تھا ۔۔ کبیر نے تعریف کر دی ۔۔
آنٹی نین بھی آپکے جیسا کھانا بناتی ہے کافی لزیز ہے ” وہ بولا ۔۔۔
تو پھوپھو ہنسنے لگی ۔۔
ارے بیٹا نین نے تو ساری کوکینگ ۔سیکھی ہی احمد کے لیے تھی” وہ بولیں نین کا لقمہ یوں ہی رہ گیا احمد بھی ہنس دیا ۔۔جبکہ کبیر ۔۔ نے انکی طرف دیکھا ۔۔۔
اچھی بات ہے آنٹی ۔۔ بہنوں کوبھائیوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔۔ میری بھی دو بہنیں ہیں ۔۔۔ اور بلکل ایسی ہی ہیں ۔۔۔۔” اسنے مسکرا کر کہا تو پھو پھو کا ایک بار پھر منہ سا اتر گیا ۔۔۔۔
احمد آج تم چھٹی پر تھے ” کبیر نےا حمد کیطرف دیکھا ۔۔
احمد کی ساری ہوا ایکدم نکلی ۔۔
س۔۔سر ۔۔۔ وہ طبعیت ٹھیک نہیں تھی ” وہ ہکلا گیا ۔۔۔۔
یہ سکول والے بچوں والے بھانے نہیں کرنے چاہیے ویسے تمھیں ۔۔۔”کبیر مسکرایا ۔۔
احمد کا رنگ پھیکا پڑ گیا اور اسنےاپنی ماں کو چپ رہنے کے لیے کہا ۔۔۔۔
اب اسے احساس ہو رہا تھا وہ کبیر مرتضی کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔ جو بلکل عام انسان نہیں تھا ۔۔
کچھ دیر ٹھر کر کبیر اٹھ گیا ۔۔
بیٹا اور بیٹھتے ۔۔۔ ” نین کے والد بولے ۔۔
پھر کبھی انکل ۔۔۔۔ ” کبیر نے سہولت سے کہا ۔۔
اگر نین رکنا چاہتی ہے تو رک جائے” کبیر بولا تو نین نے فورا نفی کی ۔۔۔
نہیں میں ا جاؤ گی دوبارہ” وہ بولی اور کبیر کو دیکھا ۔۔۔
کبیر نے سر ہلایا اور ان سب سے مل کر باہر نکل گیا ۔۔۔
البتہ احمد کے ساتھ اسکا رویہ کھینچ گیا تھا ۔۔۔۔
نین بھی ماں باپ سے مل کر باہر چلی گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھی تو کبیر خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا نین نے دو تین بار اسکو دیکھا ۔۔ اسنے گاگلز لگائے ہوئے تھے ۔۔اور نین کو لگا وہ اس سے لا تعلق سا ہو گیا ہے ااس وقت نین کو کافی کھل رہی تھی اسکی خاموشی ۔۔۔ نین نے خود سے کبیر کا شانہ تھامہ اور تھوڑا سا اچک کر اسکے گال پر پیار کیا ۔۔۔۔
یہ حرکت اسنے کافی ہمت کر کے کی تھی ۔۔
کبیر نے گاڑی کو چونک کر بریک لگائی ۔۔۔۔
تم نے مجھے بیچ راستے میں ہارٹ اٹیک کیوں دیا ” وہ آئ برو آچکا آکر اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
نین مسکرا دی ۔۔ دل کو تسلی ہوئ وہ نارمل ہے
آپ مجھ سے بول نہیں رہے تھے ۔۔۔ مجھے فکر ہو رہی تھی ” نین نے کہا کبیر ہنس دیا ۔۔
تمھیں میری فکر حیرت نہیں ہے “وہ بولا ۔ نین کو نہ جانے کیوں یہ طنز لگا ۔۔۔وہ سر جھکا گئ ۔۔
اے ۔۔۔ خوش خوش رہو ۔۔”کبیر نے اسکا گال سہلایا ۔۔۔
کبیر ” نین نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔ لہجہ بھیگا ہوا تھا
کبیر نے اسکو سینےسے لگایا ۔۔۔اسے لگا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی وہ
بولو” وہ منتظر تھا جیسے ۔۔۔
نین نے آنسو حلق میں اتارے ۔۔۔
آپ بہت اچھے ہیں” وہ اسکو دیکھنے لگی ۔۔
بس ۔۔۔” کبیر نے مصنوعی ناراضگی دیکھائی ۔۔
مجھے لگا تم کہو گی مجھے آپ سے بے پناہ محبت ہے میری خواہش ہے تمھارے منہ سے یہ الفاظ سنوں” کبیر نے اسکے بال سہلائے ۔۔۔۔
نین اسکو دیکھنے لگی ۔۔
ہو سکتا ہے جلد اپکی خواہش پوری ہو جائے” وہ مسکرائ ۔۔
اوہ میں منتظر ہوں ” کبیر نے اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔
نین اس سے الگ ہوئ ۔۔۔
اب گھر چلیں ” اسنے کہا ۔۔۔تو کبیر نے گاڑی سٹارٹ کر لی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے ہاتھ میں ٹائ یوں ہی تھی پی آئے نے باندھنے کے لیے کہا بھی مگر اسنے پورے دن ٹائ مٹھی میں بھینچے رکھی ۔۔۔
اول تو اسے ٹائ باندھنی آتی نہیں تھی ۔۔۔ وہ اتنا بڑا ہو کر بھی مدیھا سے بندھواتا تھا یہ پھر اسکا پی اے باندھتا تھا ۔۔۔۔
اور آج وہ عجیب غصے کا شکار تھا ۔۔۔۔۔
وہ کس قدر فضول لڑکی تھی ۔۔۔ وہ اسکیطرف مائل ہو رہا تھا جبکہ ۔۔۔ وہ
۔۔لڑکی اسی سے سب سے زیادہ بدق رہی تھی ۔۔۔
مگر سالار سے ۔۔ اسکے چہرے کا نشان ہضم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
سر شوٹ ریڈی ہے” ایک لڑکی ا کر بولی ۔۔
کو پاٹنر کون ہے” اسنے پوچھا ۔۔۔اور اٹھا ۔۔
ماہم” اسکا پی آئے بولا ۔۔۔ سالار نے پی آئے کیطرف دیکھا ۔۔۔
نہ کر یار ” وہ پاؤں پٹخ کر بولا ۔۔
سر یہ آپکے ہی کام ہیں ” پی آئے سنجیدگی سے بولا ۔۔
تو میں تو کام ہی الٹے کرتا ہوں تم سدھار تو سکتے ہو ” وہ بھڑک کر بولا ۔۔
میں نے پوری کوشش کی ماہم کے ساتھ آپکا پئیر نہ بنے مگر ۔۔۔ شاید یہ ماہم کا فورس تھا کیوں کہ موڈلز کی لسٹ میں آپ لیڈ کر رہے ہیں اور ماہم بھی” پی آئے سکون سے بولا ۔۔۔۔
دل تو کر رہا ہے تیری کھوپڑی اڑا دوں ” سالار تپ کر بولا ۔۔
پی آئے کو ۔۔۔۔ تو یہ الفاظ سننے کی عادت تھی چپ رہا ۔۔۔
مجھے بہت غصہ ا رہا ہے میں سچ کہہ رہا ہوں ” وہ پھر سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔
جی سر جانتا ہوں ” پی آئے نے کہا ۔۔
سالار مٹھیاں بھینچ کر ۔۔اسکے پاس سے ہٹ کر ۔۔۔ ریمپ پر ا گیا ۔۔۔
اسنے اپنا کوٹ اتارا ۔۔اور پی اے کو دیا ۔۔ اسکا مظبوط کسرتی جسم واضح ہوا ۔۔۔جو کہ سفید شرٹ میں نمایاں تھا
ٹائ ابھی تک اسکی مٹھی میں قید تھی گویا زیمل کا گلہ تو اسنے دبا رکھا تھا ۔۔۔۔
اور وہ ایکدم میوزک چلنے پر واک کرتا آگے آیا کہ میوزک رک گیا ۔۔اسنے ڈائریکٹر کو ۔۔۔ بھڑک کر دیکھا ۔۔۔
سوری سر ایکچلی ماہم میم۔اپکے ساتھ واک کرنا چاہتی تھیں” وہ بولا۔۔۔ سالار نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔
ماہم نے اسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔
ان دونوں کے کئ کلیپس بنے ۔۔۔
ہاتھ میں ٹائ پکڑے ۔۔۔ وہ ایک یونیک سٹائل کو کیری کرتا نظر ا رہا تھا ۔۔
ماہم نے اسکی ٹائ پکڑ کر پوز بنانا چاہا اور ۔۔سالار نے ایکدم ہاتھ اٹھا لیا جبکہ ۔۔ ماہم اس ٹائ کو پکڑنے کے لیے چہرے پر بے بسی سجا چکی تھی ۔۔۔ اور اسکے ہونٹ سالار کی شرٹ سے مس ہوئے
اور وہیں کلک ہو گیا ۔۔۔۔
یہ ہی تصویر فرنٹ میگزین بنے گی ” ڈائیریکٹر نے خوش ہو کر کہا ۔۔
سالار نے ماہم کو دور کیا ۔۔۔اور ریمپ پر سے اتر گیا ۔۔
پی آئے سے پانی کی بوتل لی ۔۔
تم مجھے سے غصہ کیوں ہو ” ماہم اسکا رویہ سمھجی نہیں ۔۔
ایکسکیوز می” سالار نے کہا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
ٹائ پر گرفت اور سخت ہو گئ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اگلی فلائیٹ سے گھر پہنچا تھا رات زیادہ ہو گئ تھی ۔۔وہ اس حرکت سے جھنجھلایا ۔۔۔
اسنے سوچ لیا تھا کہ مرتضی سے بات کر لے گا کہ اسے ایک مہینے کا وقت دے وہ ایک ماہ بعد گھر ۔۔ ا جائے گا ۔۔۔
وہ تھکا ہوا ۔۔۔ گھر میں داخل ہوا تو پورے گھر میں خاموشی تھی دو بج رہے تھے ۔۔ ہونی ہی تھی وہ چلتا ہوا ۔۔ اوپر جانے لگا کہ اچانک پریشے کے کمرے کا دروازہ کھلا ۔۔
وہ رک گیا ۔۔
اگر پریشے جاگ رہی تھی تو ۔۔ وہ اس سے کچھ کھانے کو کہہ دیتا ۔۔
وہ اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
پریشے کے بجائے زیمل۔کو ۔۔ دیکھ ۔۔ کر اسکی نگاہ وہیں ٹھر گئ ۔۔۔۔
زیمل باہر نکلی تو سیدھی نظر اسپر گئ ۔۔۔۔
سالار نے ایک سانس بھرا لمبا ۔۔ چہرے پر سختی چھا گئ ۔۔۔ اسنے مظبوط قدم زیمل کی جانب اٹھائے جبکہ زیمل گھبرا کر دوبارہ اس سے پہلے کمرے میں جاتی سالار نے اسکی کلائی جکڑ لی ۔۔
کلائی پر گرفت ایسی تھی جیسے اسنے ٹائ کو پکڑا ہوا تھا ۔۔۔
اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اپنے پورشن میں لے جانے لگا ۔۔۔
مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا ” زیمل اپنا ہاتھ چھڑانے لگی ۔۔ افشین پر بے ساختہ اسکی نگاہ گئ جو آج بھی اسپر ہاتھ صاف کرنے ائ تھی ۔۔۔
سالار کے ساتھ زیمل کو دیکھ کر تن بدن میں آگ ہی بھڑک اٹھی ۔۔
سالار نے جواب نہیں دیا ۔۔ زیمل کو افشین نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔
سالار اسے سیڑھیوں پر گھسیٹتا اوپر لے آیا ۔۔
اوپر آنے کا دروازہ بند کیا دھاڑ کی آواز سے اور اسے اپنے روم میں لے آیا ۔۔۔
زیمل کو خاموشی سے بیڈ پر دھکیل دیا
آپکو شرم نہیں آتی” زیمل بولنے لگی ۔۔۔۔
چپ رہو ” سالار نے غرا کر کہا ۔۔
سمجھتی کیا ہو خود کو کوئ بہت بڑی توپ چیز ہو ۔۔ بس اتنا یاد رکھو ۔۔ سالار کی بیوی ہو ۔۔۔۔۔ اور بیوی کے کیا حقوق ہوتے ہے ۔۔ڈارلنگ ” وہ اسا گال تھپتھپا کر کوٹ اتارنے لگا ۔۔۔
آہ نہیں ۔۔۔” زیمل نے چیخ مارتے ہوئے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔۔۔
تمھارا ہی ہوں دیکھ سکتی ہو ۔۔” وہ کوٹ اسکے منہ پر مار ۔۔ کر آئینے کے سامنے آیا ۔۔۔
تو نگاہ ۔۔ سفید شرٹ پر لگے لیپسٹک کے نشان پر گئ ۔۔
اوہ شیٹ ” ماہم پر سخت غصہ آیا ۔۔اسنے ریمپ پر ہی یہ حرکت کی تھی ۔۔ چیپک بھی تو اتنا رہی تھی ۔۔اس سے ۔۔۔
سالار نے آئینے میں زیمل۔کو دیکھا جس کی نگاہ بھی اسپر اٹھی تھی ۔۔
اور زیمل نے دوبارہ نگاہ جھکا لی ۔۔۔
وہ بیڈ پر سے اٹھی اور ۔۔ دروازہ کھولنے لگی ۔
سالار بے ساختہ اسکے پاس پہنچا ۔۔
یہ ۔۔۔ یہ نشان ۔۔۔ ریمپ کے دوران
۔۔ کو پاٹنر کا لگا ہے ” وہ جھنجھلا کر صفائ دینے لگا ۔۔
میں نے آپ سے کب پوچھا ہے” زیمل سنجیدگی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔
مگر میں بتا رہا ہوں ” سالار نے دروازے پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔
آپ مجھے جانے دیں ” زیمل نے دروازے کیطرف دیکھا ۔۔۔
سالار نے اسکی جھکی پلکوں کو غور سے دیکھا ۔۔۔۔
اور میں کہوں آج رات میرے ساتھ گزارو گی تو ” اسکی جھولتی کان کی بالی پر انگلی رکھتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں بولا ۔۔ تو زیمل ایکدم دور ہوئ ۔۔۔
آپ آپ ۔ایساکچھ نہیں کر سکتے” زیمل نے زرا غصےسے کہا ۔۔
میں سب کر سکتا ہوں تمھارے ساتھ ” سالار نے شانے آچکا کر کہا ۔۔۔
جاری ہے