Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
دو ہفتے بعد کی شادی کی وجہ سے گھر میں ۔۔۔ سما ہی الگ بندھ گیا ۔۔۔ افشین نے سب سے بائے کاٹ کر لیا تھا ۔۔۔۔
کبیر بس مسکرا کر پلٹ گیا وہ اپنی خوشی کا اظہار اسی شخص کے سامنے کرنا چاہتا تھا جس کو وہ پانے جا رہا تھا ۔۔ جبکہ دوسری طرف سالار ۔۔۔ نے سب کچھ ارینج کرنی کی ٹھان لی تھی ۔۔اور عارض بھی اس باراسکے ساتھ تھا کیوں کے بڑے بھیا کے لیے اسے نین بہت پسند آئ تھی اور سب سے زیادہ نین کی تعریفیں وہ ہی کیے جا رہا تھا ۔۔۔۔
زین بھی اپنے غم سے نکل کر اب ۔۔ ان سب کے ساتھ موجود تھا ۔۔
یار پریشے ڈھولکی منگاو سب سے پہلے “عمل نے کہا ۔۔۔
لو جی ساری چڑیلیں شروع ہو جائیں گی گانا گانے صرف سالار بھیا گائے گے ۔۔۔” زین نے کہا ۔۔ تو عمل نے اسکو ناگواری سے اگنور کر دیا ۔۔ البتہ پریشے جان چھوڑ دینے والوں میں سے بلکل نہیں تھی اٹھ کر زین کے دو مکے رکھ دیے ۔۔ سالار اور عارض دل کھول کر ہنسے ۔۔۔۔۔
یار یہ بڑے بھیا کو بھی پکڑ کر لاؤ ۔۔۔ زین” عارض نے کہا ۔۔ کیونکہ وہ سب ۔۔ محفل لگائے بیٹھے تھے سب خواتین کپڑوں کے بارے میں گفتگو کر رہیں تھیں جبکہ بابا ہمیشہ کیطرح ناراض سٹڈی میں بند تھے اور باقی سب فنکشنز کی چیزیں ارینج کر رہے تھے ۔۔۔
نہ بھئ ۔۔ کبھی مجھے شوٹ نہ کر دیں ” زین نے فورا انکار کیا ۔۔
یار جاؤ بلا کر لاؤ “سالار نے اسکو دھکا دیا تو زین برا سا منہ بناتا وہاں سے ۔۔ چلا گیا ۔۔۔۔
اور کبیر کے روم کا دروازہ بجایا ۔۔ سب اسی کو دیکھ رہے تھے جو بے حد ڈر رہا تھا ۔۔ یہ ہی سالار کا روم ہوتا تو وہ اندر کب کا گھس چکا ہوتا مگر کبیر کے روم میں انٹری سے پہلے دستک ضروری تھی ۔۔۔۔
یس کم ان ” کبیر کی آواز پر زین اندر داخل ہوا ۔۔۔
ہاں بولو ” کبیر نے اسکو دیکھا ۔۔
وہ بڑے بھیا سالار بھیا کہہ رہے ہیں آپ بھی باہر آ جائیں ” زین نے ملبا سالار پر ڈالا ۔۔
میرا موڈ نہیں جاؤ دروازہ بند کر دینا “کبیر نے کہا زین تو فٹ سے باہر نکلنے لگا اور پیچھے سے سالار خور ہی اٹھ کر آ گیا ۔۔اسکے ہاتھوں سے کتاب کھینچ لی ۔۔ سالار”کبیر نے غصے سے دیکھا ۔۔
اپنے دل کی گدگدی کو غصے میں چھپاؤ یار خوش ہو تو خوشی ظاہر کرو ہم نے کون سا تمھاری ٹانگیں کھینچنی ہیں ” وہ آرام سے بولا
۔۔
شیٹ آپ
تمہاری وجہ سے یہ سب بگڑ رہے ہیں” کبیر بولا ۔۔۔
کیا واقعی ” سالار نے خوب اداکاری کی اور کبیر کو گھسیٹ کر باہر لے آیا ۔۔ تبھی افان بھی یہ خبر سن کر پہنچ گیا تھا ۔۔اور کبیر کو بیچ میں کھڑا کر کے پھر سب لڑکوں نے بھنگڑا ڈالا ۔۔۔ اسکے ارد گرد جبکہ لڑکیوں نے تالیاں بجانا شروع کر دی ۔۔عارض کو پہلی بار اتنا خوش دیکھ رہی تھی آیت ۔۔۔
اسنے سالار کے پاؤں میں ٹانگ اڑا کر ایک پاؤں سے بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیا جبکہ گانا سالار گا رہا تھا اور بلاشبہ اسکی آواز بے حد ۔۔۔ زبردست تھی ۔۔۔
اسی میں افان اور زین بھی شامل ہو گئے جب کے کبیر اپنے اوچھے بھائیوں کی حرکتوں پر مسکراہٹ دبا گیا ۔۔۔۔
سانس پھولنے پر وہ سب صوفے پر بیٹھ گئے ۔۔
پانی ” سالار نے آیت کیطرف دیکھا ۔۔ اور وہ جی جی کرتی اٹھ گئ ۔۔
زین سب سے برا تم نے ڈالا ہے ” پریشے نے کہا ۔۔
میں پیدائشی بھنگڑے ڈالنے والے ہوں کیا ” زین نے منہ بنایا ۔۔۔۔
جبکہ سالار لمبے سانس بھرتا ۔۔۔اسکی کمر پر مکہ مار گیا ۔۔
جوان ہوش میں آ گئے ہو ” پانی کا گلاس بھرتے ہوئے وہ بولا تو ۔۔ زین مسکرا دیا ۔۔ لاشعوری طور پر عمل سے نگاہ ملی جو اسکی کیطرف دیکھ رہی تھی آنکھوں میں غصہ ناگواری سب تھا ۔۔۔۔
زین نے نگاہ پھیر لی ۔۔۔۔
مجھے بھی دے دو کچھ لگتا یوں میں بھی تمھارا ” آیت نے افان کو جب پانی دیا تو عارض چیڑ کر بولا ۔۔۔
آیت نے گلاس ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔
عارض اس بےعزتی پر حیران رہ گیا سب کے سامنے ۔۔۔
جبکہ سالار اور افان کے قہقہوں میں زین کا بھی شامل ہو گیا تھا کبیر البتہ مسکرا رہا تھا ۔۔۔
جیو میری بہنا ایسے ہی چھکے مارتی رہو ۔۔۔” سالار نے داد دی ۔۔۔
جس دن وکٹ اڑ گئ نہ لگ پتہ جائے گا” عارض نے گھور کر جواب دیا ۔۔۔
اور تیس مار خان بکواس پیٹ میں ہی رکھ ۔۔۔ اسکے بھائ بیٹھیں ہیں سمجھا “سالار نے گھور کر اسکو دیکھا ۔۔۔
میں نے تو کچھ نہیں کہا ۔۔” عارض نے صاف انکار کیا ۔۔۔
ویسے کبیر یہ آیت کی شاپنگ عارض کو کرانی چاہیے رائٹ”سالار کسی کے معاملے میں ٹانگیں اڑائے بنا باز آ سکتا تھا ۔۔ آیت ۔۔ زراخفیف سی ہو گئ ۔۔۔۔
عارض کا پانی باہر کو نکل آیا ۔۔ جینی کو منانے کے لیے وہ تو اپنے سارے پیسے اسے بھیج چکا تھا ۔۔اب تو اسکے پاس اتنے ہی تھے کہ وہ ۔۔اپنے چھوٹے موٹے خرچے کر لیتا کہاں ۔۔ پوری شادی کی تیاریاں کرانا ۔۔۔۔
لو میں کیوں کراؤ ” عارض نے نفی کی ۔۔
تمیز سے عارض “کبیر نے کہا تو عارض منہ بنانے لگا ۔۔
کل ہی
تمہارے اکاؤنٹ میں بیس لاکھ ٹرانسفر ہوئے ہیں ۔۔۔ تمھاری بیوی کو شاپنگ تم ہی کراؤ گے” کبیر نے فیصلہ سنایا تو عارض سالار کو گھورنے لگا جو اپنی ہنسی پانی کے گلاس کے پیچھے دبا رہا تھا ۔۔۔
عارض کا بس نہیں چلا کچا چبا جائے ۔۔۔ یہ بڑے بھائ بھی کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتے اسے آج محسوس ہو رہا تھا
۔۔۔آ گئ سمھجہ”کبیر نے اپنی بات پر زور دیا ۔۔
جی بڑے بھیا ” عارض نے کہا اور آیت کو دیکھا جس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔ لمبی سیاہ گھنی پلکیں جھکی ہوئی تھیں ۔۔۔
اسنے اس خوبصورت مجسمے سے نگاہ ہٹا لی ۔۔
دن بدن وہ ایسی ہوتی جا رہی تھی کہ عارض اسکے چہرے سے نگاہ ہی نہیں ہٹا پاتا تھا ۔۔
وہ سب کافی دیر وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور جب رات زیادہ وہ گئ تو مرتضی صاحب کو ہی باہر نکل کر سب پر برسنا پڑا تو ۔۔سب جلدی جلدی اپنے کمروں میں بھاگ اٹھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح سے ہی کام شروع ہو گئے ۔۔۔ کبیر نے مرتضی صاحب کو ہر ممکن طریقے سے منانے کی کوشش کی ۔۔اور وہ زیادہ نہیں تو کچھ کچھ تو مان ہی گئے تھے اور فلحال کبیر کے لیے اتنا ہی بہت تھا ۔۔۔
کبیر اور عارض آفس چلے گئے ۔۔ جبکہ زین کالج جانے کے لیے تیار ہی تھا تبھی سالار نیچے آ گیا ۔۔ وہ اپنے نائٹ ڈریس میں تھا ۔۔۔ جب مرتضی چلے جاتے تھے تبھی وہ نیچے اس طرح اترتا تھا ۔۔۔۔
کہاں جا رہے ہو”سالار آرام سے ۔۔۔ چئیر گھسیٹ کر بیٹھا ۔۔
دوبارہ کالج” زین نے بتایا ۔۔
گولی مارو کالج کو ۔۔” سالار نے منہ بنا کر کہا ۔۔
کیا واقعی ” زین ایکدم خوش ہوا ۔۔
افکورس میرے بھائ گولی مار دو کالج کو ۔۔ جب تک کبیر کی شادی نہیں ہوتی” وہ بولا تو زین نے گھیری سانس بھری ۔۔
اور بڑے بھیا ” زین کو اسی کی فکر تھی ۔۔
اسے بھی گولی مار دو “سالار نے ہلکی آواز میں کہا اور دونوں ہنس پڑے ۔۔۔
لڑکیوں تم بھی کالج کو خیر باد کہہ دو ۔۔ آرام سے شادی کے بعد جانا ” عمل اور پریشے سے بھی کہا سب ہی خوش ہو گئے جبکہ مدیحا نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
کبیر سے خود نپٹنا پھر ۔۔”
وائے نوٹ مائے موم فلحال کافی کا کپ دیں تا کہ میں ہوش میں آؤ عارض نے میسیج کیا تھا بابا نے میرے لیے لیسٹ ریڈی کر دی ہے “وہ منہ بنا کر بولا تو ۔۔ مدیحا اسکے لیے کافی بنانے چلی گئ ۔۔
لڑکیاں اپنے کپڑے ڈسائیڈ کرنے لگی ۔۔ زین تم لے جانا انکو “سالار نے کہا ۔۔
مجھے نہیں جانا اسکے ساتھ”عمل ایکدم بولی ۔۔ سب نے حیرت سے اسکو دیکھا ۔۔۔۔
کیوں بدتمیزی کر رہی ہو عمل” تنزیلہ نے گھورا زین البتہ ۔۔ غصہ قابو کر رہا تھا اب یہ لڑکی زیادہ کر رہی تھی جو اسنے نہیں کیا اسکی سزا دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
عمل وہاں سے چلی گئ جبکہ سالار نے زین کو دیکھا جس نے شانے آچکا دیے ۔۔۔ اور دوبارہ ناشتہ کرنے لگا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ ایوننگ سر ” پی آئے کی کال اسنے پیک کی ۔۔۔۔
گڈ ایوننگ “ا
وہ گھر سے نکل ہی رہا تھا ۔۔۔۔ اور ابھی وہ فون کرتا اسکی خود ہی کال آ گئ ۔۔
اچھا کیا تم نے فون کر لیا ۔۔۔ مجھے مارکیٹ جانا ہے ۔۔۔ ” اسنے کہا تو پی آئے نے ابھی پہنچنے کا کہا ۔۔۔
سالار نے دس منٹ اسکا ویٹ کیا اور ۔۔۔۔ وہ پہنچ گیا ۔۔ ڈرائیونگ کے دوران اسنے دوبارہ اسے بلایا ۔۔
ہاں بولو ” وہ بولا۔
سر آپ نے میڈیم کے بارے میں کوئ آرڈر نہیں دیے اس دن کے بعد” پی آئے بولا تو۔۔ سالار نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ دن یاد آ گیا ۔۔ ہاتھ کی چوٹ اب بھی ہری تھی ۔۔
کمفرٹیبل ہے ” اسنے بس اتنا پوچھا ۔۔
یس سر ۔۔ اب کچھ کمفرٹیبل ہیں شاید انھیں یقین ہو گیا ہے کہ آپ نہیں آئیں گے اب ” اسنے کہا ۔۔۔ تو سالار نے سر ہلایا ۔۔۔۔
گڈ ۔۔۔”
یہ عدت کب ختم ہوتی ہے تمھیں کچھ پتہ ہے ” سالار نے موبائل ایک طرف رکھ کر پوچھا ۔۔۔۔
سر ۔۔۔ میرے خیال سے انکی عدت کچھ دنوں تک ختم ہو جائے گی “پی آئے نے بتایا ۔۔۔
سالار نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
تو وہ اسے سمجھانے لگا کہ چار مہینے دس دن کا عرصہ اور سب باتیں بتائیں ۔۔۔
لگتا ہے مولوی رہے ہو تم میرے پرسنل اسسٹنٹ سے پہلے” سالار ہنسا ۔۔
نہیں سر یہ کومن بات ہے ” پی آئے نے مسکرا کر کہا ۔۔
اچھا مجھے نہیں پتہ تھی ۔۔
خیر جس دن ختم ہو جائے اس دن اسکے بارے میں بات کرنا “
سر ایک سوال کروں ” پی آئے نے پوچھا تو سالار جو دوبارہ موبائل اٹھا چکا تھا ۔۔ مصروف سے اندازا میں بولا ۔۔
ہمم پوچھو ” اسنے کہا ۔۔
سر آپ عدت ختم ہونے کے بعد کیا کریں گے ” اسنے کچھ جھجھکتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
جائز طریقے سے عزت لوٹنی ہے اسکی “سالار نے عام سے لہجے میں کہا ۔۔ جبکہ وہ ایکدم گاڑی روک گیا ۔۔
سر” وہ حیرانگی سے دیکھنے لگا ۔۔ جبکہ سالار نےا سکو گھور کر دیکھا ۔۔
سالے اتنی بھی تمیز نہیں میرے مطلب ہی سمھجہ جائے ۔۔۔
شادی کروں گا ۔۔”
لیکن سر “
بھئ تمھیں کیا مسلہ ہے “
سر آپکو ماہی میڈیم یاد ہیں کیا “پی آئے نے بتایا تو سالار جیسے تھم طگیا ۔۔۔
جب وہ بینکاک میں شوٹ کے لیے گیا تھا ماہی تب اسکے ساتھ کافی سیٹ ہو گئ تھی ۔۔اور سالار سے شادی کی خواہش مند تھی ۔۔۔جبکہ سالار نے بھی ہامی بھر لی مگر اناؤنسر نہیں کیا تھا خیر وہ تو اسکی منتظر تھی
سالار نے گھیری سانس کھینچی ۔۔
تمھیں سچ بتاؤ تو مجھے کسی میں دلچسپی نہیں ۔۔۔
اس لڑکی وہ صرف اسکے تھپڑ کی سزا سالار کے روپ میں ملے گی ۔۔۔
مگر سر ۔۔۔ آپکو برا نہ لگے تو ایک بات کہو “
کب سے بولے جا رہے ہو “سالار نے گھورا ۔۔۔
پی آئے خاموش ہو گیا ۔۔۔
اب بولو بھی ” اسنے جاننا چاہا ۔۔
پی آئے نے گاڑی سٹارٹ کر دی ۔۔۔۔
سر آئ تھینک وہ میڈیم الریڈی مطلب کافی کچھ سہہ چکیں ہیں”وہ بولا لفظوں کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
یار تمھیں میں سائیکو لگتا ہوں ۔۔۔۔ بس مجھے لگتا ہے وہ شادی مٹیریل ہے اب مجھ سے مزید سوال نہیں کرنا “
سر آپکو واقعی دلچسپی نہیں ان میں ” اسنے آخری سوال کیا ۔۔
نہیں” سالار نے صاف جواب دیا ۔۔۔۔
اور وہ خاموش ہو گیا وہ تو سمھجا تھا کہ سالار کو محبت ہو گئ ہے جو اسنے ۔۔ اس لڑکی کو اٹھوا کر اپنے فلیٹ میں رہنے کی جگہ دی تھی مگر یہاں تو کہانی ہی الگ تھی ۔۔۔۔
اور اسے حیرت ہوئ کہ یہ شخص کافی عجیب ہے ۔۔۔۔
اسے خود بھی نہیں پتہ ہوتا کہ اسنے آخر کرنا کیا کیا ہے ۔۔۔
برحال ماہی تو اسکے لیے سیریس تھی ۔۔۔ یہ بات وہ باخوبی جانتا تھا جبکہ جس نے سیریس کیا تھا وہ بھولا بیٹھا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی تیاریوں کا جوش ہی الگ تھا ۔۔۔۔ ہفتہ کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا گھر میں شاپنگ مسلسل جاری تھی مدیحا کو تو کسی کے لیے بھی وقت نہیں مل رہا تھا نانی بھی گاؤں سے آ گئیں تھیں سب کے ساتھ ۔۔ جبکہ ایمن بھی آئ تھی ۔۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی جس کے لیے کبیر نے اسے ٹھکرایا ہے وہ کون ہے۔۔۔۔
گھر مہمانوں سے بھرگیا افشین اب بھی ٹھیک نہیں ہوئ تھی ۔۔۔ اور سالار کو تو اس دن کے بعد فرصت ہی نہیں ملی سر کھجانے کی ۔۔۔
مرتضی نے ہر کام کی زمہ داری اسپر ڈال دی تھی ۔۔۔
زین اپنی مستی میں مگن تھا آنے والے وقت سے انجان ۔۔۔
جبکہ عارض کو آیت کے کپڑوں کی فکر تھی ۔۔۔
کیونکہ کبیر اس سے بار بار یہ ہی پوچھ رہا تھا کہ تم نے آیت کو شاپنگ کر دی۔۔۔۔
عارض نے کمپنی کے اکاؤنٹس سے ۔۔۔ کسی کو بتائے بنا ۔۔۔ پیسے نکلوا لیے ۔۔
کیونکہ شادی کی وجہ سے کسی کا دھیان نہیں تھا اس طرف ۔۔
وہ آیت کے روم میں آیا ۔۔۔ آیت بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی کمرے میں اندھیرہ تھا ۔۔
حالانکہ سب باہر تھے پھر وہ یہاں کیوں تھی ۔۔۔
اسنے روم کا دور لوک کیا ۔۔۔
اور اندر آ گیا ۔۔۔
اسے شاید احساس نہیں ہوا تھا تبھی وہ یوں ہی لیٹی رہی ۔۔۔
عارض کو اسکے گلابی لب اور چہرے کا نیلا حصہ نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔
آیت نے اچانک ہی آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹایا ۔۔ تو سامنے اسکو پایا ۔۔۔
دونوں کی نگاہ ایک دوسرے میں الجھ کر رہ گئ ۔۔۔۔
آیت نے نگاہ پھیر کر اٹھنا چاہا ۔۔۔
جبکہ عارض نے پیسے دوسری طرف بیڈ پر پھینک کر ۔۔۔ اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
آیت کا دل بری طرح دھڑکا ۔۔۔
ک۔۔کیوں آئے ہیں” وہ پوچھنے لگی ۔۔
یہاں کیوں بند ہو ” عارض نے سوال کیا اسکی آنکھوں کے پردے پھولے ہوئے تھے ۔۔۔
عارض کے سوال پر آیت کی آنکھیں تیزی سے بھیگی اور اسکی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکلنے لگے ۔۔
عارض نے بے زاری سے اسکو دیکھا ۔۔
لازمی وہی مرغے کی ایک ٹانگ ۔۔۔ جو وہ کبھی کرے گا نہیں اسی کا غم منایا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
مگر آیت نے آنسو صاف کر لیے اسکے چہرے پر بے زاری دیکھ کر ۔۔۔
میں حیران ہوں تمھاری ڈھٹائی پر ۔۔۔۔ ” عارض نے ۔۔۔ ایک آئ برو آچکا کر دیکھا ۔۔۔
آیت کو لگا اسکی دم گھٹ جائے گا اس شخص کی نفرت ختم ہی نہیں ہو رہی تھی دن بدن عجیب ہو رہی تھی خود ہی اسکے پاس آتا اور خود ہی طنز کرتا ۔۔ اسی حالت میں وہ کیا کر سکتی تھی ۔۔
میری اداسی اور کسی بھی غم کا عارض آپ سے کوئ تعلق نہیں ہے ” آیت نے کہا اور چادر ہٹا کر اٹھنے لگی ۔۔
عارض کو ہنسی آ گئ ۔۔
کیا واقعی ۔۔۔۔ تم اس کمرے میں بند یہ نہیں سوچ رہی کہ نانی نے تمھاری آنکھوں سے اور تمھارے وجود سے سب پہچان لیا تو ” وہ وہی بات کرنے لگا جس کا خوف اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا ۔۔
اگر کوئ پہچان بھی گیا تو ۔۔۔ میں بلکل نہیں کہو گی یہ بچہ آپکا ہے ۔۔ فکر نہ کریں ” آیت نے ازیت کی انتہا پر پہنچتے سرخ نظروں سے اسکو دیکھا ۔۔۔۔
عارض کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئ ۔۔۔
تو کس کا ہے یہ بچہ ” وہ سنگین لہجے میں اسکا بازو جکڑ گیا ۔۔۔
کسی کا بھی ہو سکتا ہے مگر عارض آپکا نہیں ہے آیت نے گناہ کیا ہے اور وہ اسے چھپاتی پھیر رہی ہے ۔۔ کوئ بھی پہچان لے مجھے پرواہ نہیں” وہ اچانک اسے دور دھکیلتی چلائ جبکہ عارض کا ہاتھ اسپر اٹھا اور ۔۔اسکا چہرہ سرخ کر گیا ۔۔۔
مجھے اور میرے بچے کو گالی دے رہی ہو ” وہ دھاڑا ۔۔ آپے سے باہر ہی لگا ۔۔ کوئ سن لے گا
۔ پھر کیا جواب دیں ۔۔۔دیں گے” وہ سسکنے لگی ۔۔ اتنی تکلیفیں نہ دیں مجھے کہ اسکے نشانات چھپانے مشکل ہو جائیں ۔۔اب اس تھپڑ کے نشان کو کیسے چھپاؤں گی ” وہ جیسے خود اذیتی کا شکار لگی ۔۔
عارض کے دل پر لگی تھی آج پہلی بار اسکی حرکات ۔۔۔
یہ بچہ میرا ہے ۔۔ جائز ہے ۔۔اورمجھے پرواہ نہیں یہ بات کھولتی ہے یہ ںہیں’
اچھی بات ہے مجھے بھی پرواہ نہیں” میک اپ سے تھپڑ کے نشان کو چھپاتی وہ بولی ۔۔
یہ سب کیا کر رہی ہو تم” عارض کی برداشت سے باہر ہوا اور اسنے اسکے ہاتھ سے سامان لے کر دور اچھال دیا ۔۔
دفع ہو جائیں آپ میرے کمرے میں سے ورنہ باہر نکل کر آپکا اتنا تماشہ لگاؤ گی کہ یہاں موجود سب سوچیں گے کیا یہ آیت ہے” وہ بھی بنا لحاظ کے چلائ ۔۔۔
تمہاری اس چونچ پر قدم رکھنے مجھے آتے ہیں آیت” اسنے اسکا منہ جکڑ کرکہا ۔۔۔۔ اور اسکو دور دھکیل کر باہر نکل گیا
۔
دھڑ دھڑ سڑھیاں اترتا وہ کئ لوگوں کی نظروں میں آیا تھا ۔۔۔
وہ بے حد ہینڈسم تھا ہینڈسم تو مدیحا کے چارو بیٹے ہی تھے ۔۔۔ اور یہ بات تو سب ہی کہتے تھے ۔۔ وہ مما کے کمرے میں پہنچا تو وہاں بھی مہمان تھے نانی بھی تھیں ۔۔۔
دیکھو لڑکے کو کیسے سرخ چہرہ لیے منہ اٹھائے پھیر رہا ہے ” نانی نے جھڑک دیا ۔۔
مما کچھ دیر بعد کر سکتا ہوں ” عارض ضبط سے بولا ۔۔
ہاں بولو بیٹے’ مدیحا نے پوچھا ۔۔
اکیلے میں” وہ کہہ کر باہر نکل گیا ۔۔
ارے دیکھ لو مدیحا ہم سے بھی پردہ داری ہونے لگ گئ “نامی نے برا منایا ۔۔۔
مدیحا شرمندہ سی باہر نکل گئ ۔۔۔
اور عارض کے پاس آئ ۔۔
رخصتی چاہیے مجھے آیت کی ۔۔ وہ بھی کل ہی ۔۔۔ بڑے بھیا کی مہندی پر ” وہ بولا ۔۔ جبڑے تنے ہوئے تھے چہرے پر پسینہ سا تھا ۔۔
کیا کیا ہے تم نے آیت کے ساتھ ۔” مدیحا نے اسکا شانا پکڑا ۔۔
اسے آیت کی فکر ہونے لگی
۔
میں آپکو فیصلہ سنا چکا ہوں ” عارض بول کر وہاں سے نکل گیا مدیحا نے سر تھام لیا ۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا تھا ” وہ اندر آئ ۔۔ تو اسکے چہرے پر پریشانی تھی ۔۔
کیا ہو ا مدیحا “پھر سے نانی نے پوچھا ۔۔
کچھ نہیں “وہ مسکرائیں اور سالار کا نمبر ڈائل کیا ۔۔
بیٹے زرا اوپر آو”انھوں نے کہا ۔۔
اور فون بند کر دیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھکاوٹ سے اسکا برا حال تھا موڈ الگ خراب تھا کہ نیند پوری نہیں ہو رہی تھی ۔۔
نہ جانے کس نوعیت کے سکون کی تلاش تھی سرخ آنکھوں اور سرخ ناک سے جو یہ پتہ دے رہی تھی کہ وہ بیمار پڑ گیا ہے ۔۔ کام کے برڈن کے باعث وہ اندر آیا ۔۔۔
جی مما ” اسنے بنا کسی کو دیکھے پوچھا تو ایمن تو اسکو دیکھتی رہ گئ ۔۔۔
کبیر تو شاید سوبر سا لگتا تھا ۔۔ مگر سالار کیا پرسنلٹی تھی وہ وہیں حونک نظروں سے دیکھتی رہی ۔۔
بڑی بڑی آنکھوں میں بلا کی ناگواری تھی ہر چیز کے لیے ۔۔۔
بیٹا نانی سے سلام نہیں کیا ” مدیحا نے کہا ۔۔ تو اسنے نانی کے آگے سر جھکایا پھر ۔۔ مامی کے آگے اور پھر ایمن کو ایک نگاہ دیکھ کر وہ مدیحا کیطرف متوجہ ہوا ۔۔۔
باہر آؤ زرا “مدیھا مسکرا کر بولی ۔۔۔
سالار باہر نکل گیا ۔۔ جبکہ ایمن کے لبوں پر اسکو دیکھ کر عجیب مسکان آ گئ ۔۔
امی جی کبیر نے تو من مانی کر لی سالار کے لیے ایمن کی بات چلا لیں ” مامی بولیں تو نانی ۔۔ جو پان کھا رہیں تھیں ہوش میں آئیں ۔۔
ہاں یہ تو تم نے ٹھیک کہا ہے ۔۔۔ مگر
زرا ٹھرے دماغ کا ہے “
نانی بولیں کیونکہ سالار کے بارے میں مدیحا سے سن چکیں تھیں ۔۔۔
نانی کیا فرق پڑتا ہے میں مینیج کر لوں گی” ایمن نے کہا تو انھوں نے اسکے سر پر پیار کیا ۔۔
اگر تجھے پسند ہے تو پھر کر لیتی ہوں بات پکی ۔۔۔” انھوں نے کہا تو ایمن مسکرا دی ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف ۔۔مدیھحا نے سالار کو ساری بات بتا دی ۔۔۔
میں منہ توڑ دوں گا اسکا ” وہ غرایا ۔۔
آرام سے بات کرو ۔۔ سالار اور میں بھی یہ ہی چاہتی تھی کہ آیت کی رخصتی ہو جائے جتنی جلدی ہو اتنا بہتر ہے ” مدیھا بولیں ۔۔۔
بھئ یہ کوئلوں پر کیوں کھڑے ہو رہیں ہیں کبیر کے بعد ہو جائے گی رخصتی یہ کل ہی کرنے کی کسی ضد ہے ” سالار نے غصے سے کہا ۔۔
تمھیں میں کہہ رہی ہوں سب سمبھال لو ۔۔ میں ایسا ہی چاہتی ہوں ” مدیحا آیت کے خیال سے ہی کہہ رہی تھی ۔۔
ٹھیک ہے”سالار نے کہا اور انھیں بگڑے تیروں سے وہاں سے گزر گیا ۔۔
مجھے لگتا ہے اسکی طبعیت نہیں ٹھیک” مدیھا بڑبڑاتی ہوئ اندر آئیں
جا ایمن بچے کو دودھ میں ہلدی دے آ ساری تھکاوٹ اتر جائے گی ” نانی نے کہا تو ایمن جلدی سے اٹھی
۔
امی جی پریشے دے دے گی ” مدیھا بولی
چپ رہ بس ۔” انھوں نے کہا تو وہ چپ ہو گئیں جبکہ ایمن نے سالار کو اوپر جاتے دیکھا تو مسکرا کر کچن میں آ گئ ۔۔ دودھ اور ہلدی بنا کر وہ ۔۔۔ اوپر جانے لگی ۔۔۔
اوپر کا پورشن بے حد حسین تھا یونیک چیزیں مہنگی طرز کا وہ سکون دہ جگہ تھی ۔۔
ایمن اندر آ گئ سالار اندھا بستر پر لیٹا تھا ۔۔۔۔
ایمن زرا سے کھانسی سالارجھٹکا کھا کر مڑا ۔۔۔
ایمن کو دیکھ کرپل بھر کے لیے حیران ہوا ۔۔۔۔
آپ یہاں ” اسنے کہا ۔۔
آپ تھک گئے ہیں یہ دودھ ہلدی لے لیں ٹھیک ہو جائیں گے ” ایمن بولی تو سالار نے گھیری سانس بھری ۔۔
میں یہ سب نہیں لیتا ۔۔۔۔ “اسنے کہا اور اسکے جانے کا انتظار کرنے لگا ۔۔
پھر آپکے شانے دبا دو ۔۔۔ نانی کہتی ہیں تھکاوٹ اتر جائے گی “
نانی نے یہ نہیں بتایا کہ کسی وارہ لڑکے کے کمرے میں جا کر اسے دعوت نہیں دینی چاہیے” سالار نے گھورا ایمن ہنس دی ۔۔۔۔
اور دوپٹے کو مزید گردن سے چیپکا لیا ۔۔ اسے سمھجہ آ گئ تھی کہ کبیر ایمن سے شادی پر کبھی کیوں نہیں راضی ہوا ۔۔۔
نانی تو بہت کچھ بتاتی ہیں بتائیں آپکی خدمت کیسے کرو “
رہنے دو لے لی میں نے تمھاری خدمت تو باقی پیچھے کچھ نہیں رہے گا تمھارے پاس ” سالار اٹھ گیا ۔۔ کہ شاید وہ اٹھ کر چلی جائے ۔۔
روکیں تو ۔۔۔ ” ایمن اسکے پیچھے آئ ۔۔
یار جاؤ تم میرا دماغ خراب مت کرو”سالار نے اسکو دور دھکیلا ۔۔۔
جبکہ ایمن کو کوئ خاص فرق نہیں پڑا ۔۔۔
میں مما کو بلا لوں گا ۔۔
کیوں ڈر گئے ایک آوارہ لڑکا لڑکی سے ڈر گیا
“ایمن بولی تو سالار نے غصے سے اسکے بال جکڑ لیے ۔۔
اس سے پہلے وہ واقعی اسکی خواہش پوری کر دیتا ۔۔اسے جسٹ ٹائم پاس سمھجہ کر ۔۔ دماغ میں زیمل کا چہرہ اتر آیا ۔۔۔
وہ ایک دم جھٹکا لگا کر اس سے دور ہوا ۔۔
پیشانی پر پسینہ اترآیا ۔۔۔ وہ سمھجہ نہیں سکا اسکا چہرہ کیوں زہین کی سکرین پر آیا اور وہ ایسے کیوں دور ہوا ۔۔۔۔
جبکہ ایمن کو اسکی ماں نے پکار لیا مگر وہ تو سالار پر مر ہی مٹی تھی ۔۔۔
عجیب جنگلی سا آدمی تھا اور اسے ہر قیمت پر سالار ہی چاہیے تھا ۔۔
جاری ہے
