Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

وہ دونوں لمبی سٹریٹ پر کون کھاتے ادھر ادھر دیکھتے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔ کہ آیت نے گھیرہ سانس بھر کر اسکیطرف دیکھا ۔۔ وہ بے حد خوش تھی ۔۔۔اسنے عارض سے کوئ شکایت نہیں کی تھی اور اسے اس سے کوئ شکایت تھی بھی نہیں جو بھی اسنے کیا ۔۔۔ آیت کی محبت نے سب بھلا دیا ۔۔۔ آج وہ اسکے ساتھ تھا اسکے ہمقدم تھا وہ کسی بھی قسم کی انا رکھ کر ان لمہوں کو خود پر تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔ بار بار دل میں اللہ کا شکر ادا کرتی ۔۔۔ وہ بس اسکا ساتھ پوری زندگی کے لیے مانگتی وہ نہیں جانتی تھی عارض اسکے بارے میں کیا سوچتا ہے مگراسکی آنکھیں اسکی توجہ اسکا لمس ۔۔ اسکی شدتیں ۔۔ جیسے بیان کرتیں تھیں ۔۔۔کہ اسکے دل میں آیت کے لیے پوشیدہ جزبات کھل کر سامنے آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
اسنے مسکرا کر عارض کیطرف دیکھا جو لونگ کوٹ میں ۔۔۔ بار اگر جھک کر اسکی کون ۔۔۔ سے آئسکریم لیتا اور لبوں پر زبان پھیر کر اسکو صاف کر کے ادھر ادھر دیکھتا جبکہ اسکا ایک ہاتھ آیت کے شانے پر تھا ۔۔۔اور دوسری کوٹ کی پوکٹ میں ۔۔۔
رنگ برنگی لائٹیں اور خاموشییں مدھم مدھم لوگوں کی آواز ۔۔۔۔اور ڈھنڈی خوشگوار تیز ہوا۔۔۔ یہ منظر مکمل تھا وہ اتنی خوش تھی کہ اپنی خوشی وہ بیان کرنے کے لیے لفظ کم لگ رہے تھے ۔۔۔
عارض میں تھک گئ ہوں اب ” حالانکہ وہ تھکی نہیں تھی مگر پھر بھی اسنے چہرے پر معصومیت تاری کی بھلا اسکے ساتھ ہوتے ہوئے بھی وہ تھک سکتی تھی جان بوجھ کر کہا ۔۔ کہ دیکھ سکے کہ وہ اسکے لیے کیا کرتا ہے ۔۔۔
عارض نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اوہ ۔۔۔ بینچ پر بیٹھ جاتے ہیں ” عارض نے بینچ کیطرف اشارہ کیا ۔۔۔
مگر مجھے چلنا بھی ہے ” آیت نے خفگی سے کہا ۔۔یہ کیا بات ہوئی بینچ پر بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔۔ اسنے کچھ اور کیوں نہیں سوچا ۔۔۔
آیت رک کراب اسکی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی جب تھک گئ ہو تو بیٹھ جاؤ ” عارض سمھجہ نہیں سکا اسکی چالاکی ۔۔۔
میں نے کہا نہ مجھے چلنا بھی ہے اور میں تھک بھی گئی ہوں اور اب مجھے یہ آئسکریم بھی نہیں کھانی ۔۔۔۔
مجھے اب کچھ اور کھانا ہے ” وہ بیچ میں بیٹھ کر ضد پر اڑ گئ ۔۔۔
عارض چند لمہے اسکیطرف دیکھتا رہا ۔۔۔۔ آیت منہ پھلائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ایسا کرتے ہیں واپس ہوٹل چلتے ہیں ۔۔۔ یقیناً تمھیں کافی آرام ملے گا ” وہ اسکے نزدیک ہوا اپنی ہنسی دباتا بولا ۔۔۔۔
نو نو نو ۔۔۔ ہوٹل تو مجھے بلکل نہیں جانا ” عارض کے سینے پر انگلی رکھ کر۔۔وہ سر نفی میں ہلاتی بولی ۔۔
ایک بار وہ ہوٹل چلے جاتے اسکا مطلب تھا کہ عارض کے اندر کا بھوت جاگ گیا ۔۔اور پھر آیت مشکل میں پھنس جاتی تھی ۔۔ عارض اسکے گھبرانے پر کھل کر ہنسا۔۔۔۔
عارض” آیت نے اسکے شانے پر ہاتھ مارا ۔۔۔
۔ جان عارض ” اسنے اسکے اسی ہاتھ کو لبوں سے چھوا۔۔۔
آیت شرما سی گئ اتنے لوگوں میں اسنے کتنی آرام سے اسکے ہاتھ پر لمس کی حدت چھوڑی تھی ۔۔۔۔
آیت اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ اس سے پہلے نکالتی کہ ۔۔۔ عارض نے جھک کر اسکو اپنے بازؤں میں بھر لیا ۔۔اور ایکدم اسے اٹھا لیا وہ اسکے باوزوں میں سمائی اور آیت کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا ۔۔۔۔۔
پلکےے گیرنے اٹھنے لگی ۔۔ ۔۔۔
عارض اس دلکش منظر کو ۔۔۔۔ دیکھنے لگا ۔۔
۔۔عارض لوگ دیکھ رہے ہیں ” وہ اترنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
اگر میں
۔۔ تمھیں ۔۔۔۔ یہاں پرسنل اٹیک بھی کرتا ہوں تب بھی ان لوگوں کو فرق نہیں پڑے گا ” وہ مدھم گھمبیر لہجے میں اسکے کان میں بولا ۔۔۔۔ آیت نے گھور کر اسکو دیکھا ۔۔۔۔
مگر عارض پر کوئ فرق نہیں پڑا ۔۔۔۔
تو میڈیم آیت ۔۔۔ آپ کی ایک خواہش تو پوری کر دی ۔۔۔۔
اب دوسری ۔۔۔ یہ ہے کہ آپکو ۔۔۔ کچھ اور کھانا ہے ۔۔۔ہمممم” وہ ارد گرد دیکھنے لگا ۔۔
عارض مجھے بہت شرمندگی محسوس ہو رہی ہے آیت اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپاتی بولی جبکہ عارض ہنس دیا اور ۔۔۔ ایک اور سٹال کی جانب چلنے لگا ۔۔جبکہ آیت بھکلا گئ وہ اندھیرے سے روشنیوں میں آ رہے تھے ۔۔۔۔
عارض نے اسکے لیے ۔۔۔۔ کاٹن کینڈی لی ۔۔۔۔ جبکہ آیت اب بھی اسکے بازؤں میں ہی تھی ۔۔۔ شرمندگی سے وہ آنکھیں بھی نہیں اٹھا پا رہی تھی جبکہ ۔۔۔۔ لوگ انکو دیکھ کر دبا دبا ہنس رہے تھے ۔۔۔ وہ وہاں سے ۔۔۔ گھوما اور دوبارہ اسی راہ پر چلنے لگا جبکہ اب زرا کچھ زیادہ اندھیرے میں آ گئے تھے ۔۔
آپ اتار دیں میں چل لوں گی” آیت نے پھر سے کہا ۔۔
اب چپ چاپ کھاؤ اور مجھے بھی کھلاؤ ورنہ اسی سمندر میں پھینک دوں گا زیادہ نکھرے دیکھائے تو ” عارض نے اسکو گھورا ۔۔۔۔
جبکہ آیت خاموش ہو گئ ۔۔۔اور تھوڑا سا توڑ کر اسکے منہ میں دیا ۔۔۔
غصہ تو ناک پر بیٹھا رہتا ہے جن کے ” وہ منہ میں منمنائ ۔۔۔۔۔
مجھے سب سنائ دے رہا ہے ۔۔آیت عارض۔۔۔۔۔ بہرہ نہیں ہوں ” عارض نے بلند آواز میں کہا تو ۔۔ آیت زبان دانتوں تلے دبا گئ ۔۔۔
جبکہ وہ یوں ہی اسے کافی دیر تک لیے چلتا رہا۔۔۔۔۔۔
آیت کے لیے یہ حسین لمہے تھے ۔۔۔۔
ایک بات پوچھوں “اسنے عارض کے منہ میں توڑ کر پھر سے کنڈی دی ۔۔۔
ہممم” عارض بولا ۔۔۔ اور کچھ فاصلے پر پڑے بینچ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ جبکہ آیت اسکی گود میں تھی ۔۔۔۔ یہاں دور دور تک کوئ نہیں تھا ۔۔۔۔۔
آیت کا چہرہ عارض سے کافی نزدیک تھا ۔۔۔۔
جبکہ عارض کی نگاہ بار بار گردن کے پوشیدہ تل پر ٹھر جاتی جسے وہ اس دوران بار بار تنگ کر دیتا تھا ۔۔۔۔
یہاں تک کے وہ اب اس سے چھپ کر ۔۔۔۔ اسکی شرٹ کے اندر سے جھانک کر اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
آپ کو مجھ سے واقعی محبت ہے ” وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی
۔ عارض نے اس شرارتی تل پر سے نگاہ ہٹا کر اسکی خمار نگاہوں کو دیکھا ۔۔۔
جن میں اسکے لیے چاہت ہی چاہت تھی ۔۔۔۔۔
تمھیں ایسا کیوں لگا کہ کوئ جھوٹ میں بھی محبت جیتا سکتا ہے ” اسنے بلآخر اسکی نیک کے گرد گھوما ہوا مفلر ۔۔ ہٹایا ۔۔۔
آیت نے اسکی جناب دیکھا ۔۔۔
جبکہ عارض نے اسے تھوڑا اور آگے آنے کا اشارہ کیا ۔۔
آیت مسکراہٹ چھپاتی نفی کرنے لگی ۔۔
عارض نے گھورا۔۔۔ جسے آیت نے کھاتے میں نہیں لانا تھا مگر مقابل عارض تھا ۔۔۔ آیت کی شرارت پر اسنے ایکدم آیت کو بینچ پر پٹخا اور خود جست لگا کر اب اسکے سامنے آ گیا ۔۔
آیت کا منہ کھل گیا
۔یہ کیا ایکدم وہ نیچے آ گئ تھی ۔۔۔ بینچ پر ٹھنڈا بینچ اسکے گرم پناہوں کی نسبت ظالم سا لگ رہا تھا ۔۔۔
آیت نے ۔۔۔ منہ بسورا ۔۔۔۔
تو مجھے وہ کرنے دو جو
۔۔میں چاہتا ہوں ” عارض نے اپنا مدعا بیان کیا ۔۔۔۔
پہلے میری بات کا جواب دیں ” آیت نے اسکے لبوں پر اپنی انگلی رکھ دی ۔۔
عارض کے وجود میں جزبات بھڑک اٹھے ۔۔۔۔۔
وہ بے قابو سا اسکیطرف بڑھا ۔۔۔ مگر آیت نے خود کو اس سے بچا لیا ۔۔۔
آیت” عارض جھنجھلایا ۔۔
پہلے میرا جواب ” آیت نے کہا ۔۔۔۔
ہاں بھئ کرتا ہوں نہ پیار ۔۔
بہت پیار کرتا ہوں ۔۔ کب کہاں کیسے ۔۔۔ کیوں معلوم نہیں ۔۔شاید نفرت کرتے کرتے تم سے پیار کرنے لگا ۔۔۔ اور خود بھی نہیں جان پایا ۔۔۔۔
کہ تم کتنی اہم ہو میرے لیے ۔۔۔۔
مدھم مدھم آواز میں بولتا وہ اس تل کے بلکل نزدیک پہنچ ۔۔ گیا ۔۔۔ آیت کے لی اسکا ایک ایک لفظ موتی تھا ۔۔۔
تو وہ اسکی خواہش کو پورا کیوں نہ کرتی ۔۔۔ اسکی گردن میں بازو حائل کر کے ۔۔ اسنے اپنی گردن کو زرا سا خم دیا ۔۔۔
لبوں کی تراش میں حیا سے لبریز مسکان تھی ۔۔۔عارض فدا سا ہو گیا ۔۔۔
اسکا مفلر اسکی گردن سے کھینچ کر نکلا ۔۔۔۔
اور اس تل کو ۔۔ اب اسنے طنزیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
کہ وہ کس طرح چھپنے کی کاوشں میں تھا ۔۔اور ۔۔۔ آیت نے اسکے لیے اسکو سر عام کر دیا تھا ۔۔۔
عارض کا بھی
ہہکا بہکا لمس ۔۔۔۔ اسکے تل کے گرد تھا ۔۔۔۔ نرمی سے چھوتے چھوتے شدت سے ۔۔۔ بکھرنے لگا ۔۔۔ پھسل کر کبھی ایک جانب تو کبھی دوسری جانب کا سفر طے کرنے لگا ۔۔
آیت دیوانی سی ہونے لگی ۔۔۔۔
اسکی قربت دلکش تھی ۔۔۔۔ مسروریت سے بھرپور تھی ۔۔اور اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی ۔ ہمیشہ اسکی منتظر رہی ۔۔۔۔۔
عارض نے اسکی گردن پر اپنی شدت کے نشان دیکھے۔۔۔۔
جو واضح تھے ۔۔ آیت نے آنکھیں کھول کراسکو دیکھا وہ اپنی بنائ گئ ڈرائیونگ سے کافی مطمئین لگ رہا تھا ۔۔۔
میں نہیں ہوں گی اب یہ” آیت نے نروٹھے لہجے میں کہا ۔۔
وہ جان بوجھ کر ایسی حرکت کرتا تھا ۔۔۔ جو آیت برداشت کر جاتی تھی ۔۔ اپنی محبت میں مجبور ہو کر چور ہو کر ۔۔۔
مگر مجھے یہ خوبصورت لگتے ہیں تمھاری گردن پر سجے ” وہ ان کو چھوتے ہوئے بولا ۔۔
آیت نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا ۔۔۔۔
شرم کریں ۔۔ آپ ہوٹل سے باہر ہیں مگر باز نہیں آتے “
دیکھو یہ زیادتی ہے تم نے خود مجھے آفر کی تھی ” عارض کمر پر ہاتھ رکھتا ۔۔اسپر الزم ڈالنے لگا
۔کیا میں نے کی تھی ۔۔۔ کس قدر جھوٹے ہیں عارض آپ ” آیت بینچ پر کھڑی ۔۔ لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھتی اسے گھورنے لگی ۔۔
عارض اسکے انداز پر کھل کر ہنسا اوراسے یوں ہی اٹھا لیا ۔۔۔
اور گول گول گھمانے لگا ۔۔آیت کی ہنسی کا جلترنگ رات کی خاموشی میں چاروسو پھیل گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ
۔۔ عار ض نے ایک بھرپور شدت بھری جسارت کی ۔۔
بس ہوٹل چلو اب ۔۔۔۔مجھ سے مزید دیری نہیں برداشت ہو رہی” وہ معنی خیزی سے بولا ۔۔۔
عارض ” آیت رو دینے کو تھی ۔۔
میری جان یہاں آنے کا مقصد یہ ہی تھا ۔۔۔اب ۔۔۔ تمھیں رونا دھونا نہیں ڈالنا چاہیے” وہ اسکے ہنستے ہوئے بال سنوارتے بولا ۔۔۔
آیت چپ ہو گئ ۔۔
کتنے چیپ ہیں آپ ” جتنا وہ کہہ سکتی تھی کہہ گئ ۔۔۔
تھینکیو ۔۔۔” عارض نے کندہ پیشانی سے کہا اور گاڑی کی جانب چلنے لگا ۔۔۔۔
آیت نے اسکے شانے پر سر ٹکا دیا ۔۔۔
عارض اب ہمارے بیچ کوئ نہیں آئے گا نہ ” وہ گاڑی میں بیٹھتے ہی پوچھنے لگی ۔۔۔
عارض نے اسکی صورت کو دیکھا ۔۔اور اسکے معصوم چہرے پر شدت سے لمس بکھرتا اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھا کر بھاری کر گیا ۔۔۔
اسکے عمل میں جنون تھا ۔۔۔ واضح دلیل تھی کہ ۔۔۔ دوبارہ ویسا نہیں ہو گا ۔۔۔۔
کیا تمھیں مجھ پر یقین نہیں ” وہ بولا ۔۔ آیت اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔عارض نے لب بھینچ لیے ۔۔۔۔
گویا وہ اسپر یقین نہیں رکھتی تھی ۔۔
آیت چاہ کر بھی اسے یہ نہیں کہہ سکی کہ اسے یقین ہے اسپر ۔۔۔
عارض مسکرا دیا اور اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
اسکے ہاتھ پر بھی پیار کرتا وہ گاڑی ڈرائیو کرنے لگا آج اسے اندازا ہوا تھا ۔۔ آیت کس کس طرح اسکے رویے سے ہرٹ ہوتی تھی ۔۔
اسے اسپر یقین نہیں تھا ۔۔۔ اور عارض ۔۔ کو یہ بات بہت چبھ رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتضی صاحب کا غصہ ۔۔۔ بے حد تھا ۔۔۔ جبکہ انھیں یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ زیمل کے ساتھ سالار نے زبردستی کی تھی ۔۔ وہ غصے سے مدیھا کو جھڑک گئے ۔۔
یہ تربیت ہے تمھاری ۔۔۔۔ کہ تمھاری اولاد یہ کارنامے کر رہی ہے ۔۔پہلے اس معصوم کو افشین نے کم زلیل کیا تھا ۔۔جو یہ نواب زادہ بھی ۔۔۔ ” وہ بھڑکے ۔۔ مدیھا ۔۔۔ تو سر ہی تھام گئیں ۔۔۔ جبکہ نانی کا منہ کھل گیا ۔۔۔۔ مرتضی کی بات سن کر ۔۔۔۔اور دوسری طرف ۔۔ کبیر وہ خود سن ہو گیا تھا سالار کی حرکت پر جبکہ اگر کوئ وہاں خوش پرجوش ۔۔ تھا تو وہ پریشے تھی جس نے سب سے پہلے زیمل کا ہاتھ تھامہ تھا ۔۔
آف میں تو بہت خوش ہوں “وہ اسکے کان میں بولی جو کہ رونے کا شغل جاری رکھے ہوئے تھی ۔۔۔۔
مرتضی سالار وہ اندر نہیں آنے دے رہے تھے جبکہ وہ ۔۔اب رات ڈھلنے لگی تھی وہیں بیٹھا تھا ۔۔۔
یار بابو تمھارا بھی کوئ باپ تو ہو گا ۔۔۔ کیا ایسا ہی تھا ۔۔۔ ظالم جابر ۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے معصوم لوگوں کے ارمانوں کا خون کر دینے والا ۔۔ لوگوں کے رومینس کی دیوار ۔۔۔
یقین مانو ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں تھا ” وہ ۔۔۔۔ اداسی سے بولا ۔۔
جبکہ بابو کافی عمر رسیدہ تھا ۔۔۔ بچپن سے اسکو ایسا ہی دیکھتا آیا تھا اسکی باتوں پر ہنس دیا ۔۔
صاحب امارا ابا ۔۔۔ تو ۔۔۔ سوٹے سے چھینت دیتا تھا ۔۔۔۔۔
اگر کو کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا بھی لیتا تھا ۔۔۔۔۔” بابو اپنا قصہ بتانے لگا ۔۔۔۔
سالار نےا سکیطرف ہمدردی سے دیکھا ۔۔۔
مگر مجھے یقین ہے بابو تم میں میری جیسی صلااحیتں نہیں ہوں گی ۔۔۔” وہ ہاتھ جھاڑتا ۔۔فخر سے مسکراتا اٹھا ۔۔۔
بابو بھی اٹھ گیا ۔۔
تم تو بیٹھو ۔۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں اپنے باپ کو ۔۔۔۔۔ ایکچلی مجھے چھترول کھانے کا بہت شوق ہے” وہ بابو کا شانہ تھپتھاپتا ۔۔ بلآخر اندر کی جانب چل دیا ۔۔۔۔
اور ایکدم پیکر کے پیچھے چھپ گیا ۔۔ کیونکہ مرتضی باہر ہی دیکھ رہے تھے جبکہ بابو کا ایکدم قہقہہ نکلا ۔۔
سالار نے اسکو گھورا ۔۔۔۔
اور دوبارہ اندر جھانکا ۔۔ سب عدالت میں اب بھی کھڑے تھے ۔۔۔
اگر وہ اندر جاتا تو ۔۔اسے زبح کردیا جاتا کوئ بعید نہیں تھی ۔۔۔ اسکی نئی بیوی کے سامنے ۔۔اسکی عزت ہی نہ رہتی ۔۔۔ وہ یوں ہی اندر کے حالات دیکھتا رہا ۔۔
نانی کے بولنے کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔۔۔۔
یہ تو نے اچھا نہیں کیا مدیھا ۔۔۔ تیرے بیٹے سب کے سب آوارہ ہیں ایک ۔۔ نے میری ایمن پر اس چھوکری کو فوقیت دی دوسرا تو بھاگا کر لے آیا ۔۔۔” نانی چیخی جبکہ ۔۔زیمل کا سر جھک گیا ۔۔۔۔۔
سالار نے یہ منظر دیکھا ۔۔۔ تو اسکے ماتھے پر کئ بل ڈلے ۔۔۔۔
وہ سیدھا بنا لحاظ کے اندر آ گیا ۔۔۔
سب نے اسکی جانب دیکھا اور ۔۔۔ وہ زیمل کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔۔ عزت نفس اور اکڑ تواس میں ان سب سے زیادہ تھی جبکہ ڈرامے بازی بھی کوٹ کر بھری تھی ۔۔مگر یہ بھی حقیقت تھی اسے ڈر کسی سے نہیں لگتا تھا ۔۔۔
زیمل نے اسکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ۔۔۔
تم سالار مرتضی کی بیوی ہو ۔۔۔ تم پر بلکل یہ بات نہیں جچتی کہ تم سر جھکا کر کسی کی بھی کوئ الٹی سیدھی بات سنو ۔۔۔” وہ سب کے سامنے اس سے بولا ۔۔۔۔۔
کبیر نے گھیری سانس ابھری نانی تو آنکھوں سے آنسو صاف کرنے لگی جبکہ ایمن کے سارے خواب جیسے ٹوٹ ہی گئے ۔۔جو اسنے ڈالر کے متعلق سوچ لیے تھے ۔۔۔۔
ایک تو تم نے غلط حرکت کی ہے اسپر سینہ زوری کر رہے ہو ” مرتضی بھڑکتا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر زیمل سے دور کیا ۔۔
غلط حرکت میں نے کی ہے ۔۔اس میں زیمل کا کوئ قصور نہیں ہے ” وہ انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے بولا
تمھیں اندر آنے ہی کس نے دیا ہے ۔۔۔۔۔ میں تمھیں کہہ چکا ہوں جب تک یہ لڑکی نہیں چاہے گی ۔۔ تم اس کے اس پاس بھی مت بھٹکنا “
بابا یہ سارے ظلم مجھ پر ہی توڑنے ہیں کیا “
کھوتے کی اولاد ” مرتضی نے پھر سے جوتی اتاری ۔۔۔ جبکہ سلار تو بھاگ کر مدیھا ۔۔۔۔ کے پاس کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
مدیھا نے گھور کر سالار کو دیکھا ۔۔۔۔
جبکہ سالار نے گھیری سانس کھینچی ۔۔۔
اور چپ ہو گیا معملہ سنگین تھا ۔۔۔
مجھے اب اس گھر میں نہیں رہنا ۔۔۔ تو میری ٹکٹ کرا دے مرتضی مجھے نہیں رہنا تیرے اس گھر میں جب تیری اولاد ہی تیرے بس میں نہیں ” نانی بے حد دیکھی تھیں اور ایمن تو اس سے بھی زیادہ ۔۔۔۔
سالار دور ہی کھڑا رہا ۔۔۔وہ کچھ بولتا تو۔۔۔۔ ایک اور چپل پڑتی تبھی چپ رہا ۔۔
کبیر بھی خاموش تھا کہ وہ بھی اس زلزلے کی زد میں آ جاتا ۔۔۔
جبکہ زین نے چونچ دبا لی کہ انکا اگلا ڈارگیٹ کہیں وہ ہی نہ بن جائے ۔۔۔۔۔
نانی ایمن کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں چلیں گئیں ۔۔۔۔ جبکہ مدیھا ماں کے پیچھے بھاگی ۔۔
امی جی میری بات سنیں “
مرتضی نے کھا جانے والی نظروں سے ۔۔۔ سالار کو دیکھا جو لیول کا میسنا بنا کھڑا تھا ۔۔۔۔
تم اپنی یہ شکل میری نظروں کے سامنے سے گم کر لو ” وہ دھاڑے ۔۔۔ سالار ۔۔۔ چپ چاپ اوپر چلا گیا ۔۔۔
جبکہ ۔۔۔ مرتضی بھی نانی کے کمرے میں چلے گئے ابھی افشین اور سکندر کو یہ بات نہیں پتہ چلی تھی ۔۔۔ جبکہ سب تو خود حیران و پریشاں تھے ۔۔سالار جو بے حد لااوبالی تھا وہ کیسے اتنا بڑا قدم اٹھا گیا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔
نین نے کبیر کو سالار کے پورشن میں اور زین کو اپنے کمرے میں جاتے دیکھا تو خود زیمل کے پاس آ گئ ۔۔
جس کی اب دبی دبی سسکاریاں اٹھ رہیں تھیں ۔۔۔۔
نین کو اسپر کافی ترس آیا ۔۔۔۔
اور وہ زیمل پریشے اور عمل تینوں پریشے کے
کمرے کی جانب چل دیں ۔۔ پریشے اس سب میں بے حد خوش تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے سالار ” کبیر کی آنکھوں میں خفگی تھی ۔۔
یار تمھیں مجھے سپورٹ کرنا چاہیے” وہ لاپرواہی سے بولا ۔۔
سپورٹ وہاں کی جا سکتی ہے جہاں کوئ سپورٹ کرنے والی بات ہو تم جانتے وہ عدیل کی بیوی رہ چکی
کبیر” وہ آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔۔۔
کبیر چپ رہ گیا ۔۔۔
اس وقت اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ سالار مرتضی کی بیوی ہے اور مجھے بلکل غرض نہیں کے اسکا ماضی کیا تھا ۔۔۔
مگر اسکا ماضی حقیقت ہے ۔۔۔ کبیر نے احساس دلایا ۔۔
ہاں ہو گا ۔۔۔۔ مگر میں کہہ چکا ہوں مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔
تمھیں پڑنا چاہیے سالار ۔۔ تم ینگ ہو ۔۔۔ تم ایک ایسی لڑکی ۔۔
کبیر تم یہاں سے چلے جاؤ میری برداشت مت آزماؤ ” سالارکو پتنگے لگے ۔۔۔
کبیر اس کو کچھ دیر دیکھاتا رہا ۔۔
تم میرے بھائ ہی نہیں ہو ۔۔۔۔ ” سالار نے ناگواری سے اسے دور جھٹکا ۔۔۔
کبیر کے دل پر لگی تھی یہ بات اور اسے اپنی غلطی کا احساس فورا ہو گیا ۔۔۔
کہ سالار نے نین کے معاملے میں اسکی ہر طرح سے سپورٹ کی تھی ۔۔
ایم سوری”وہ جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑتا بولا ۔۔۔
شیٹ آپ ” سالار نے ہاتھ جھٹکا ۔۔۔
یار اچھا سوری میں بس فضول سوچنے لگ گیا تھا ۔۔” کبیر کو اسکی ناراضگی برداشت ہی کب تھی ۔۔
سالار پھر بھی اکڑ کر کھڑا رہا ۔۔۔
سوری پلیز “کبیر ہنسا ۔۔۔
سالار نے اسے ۔۔ دھکا دیا ۔۔۔ اور اسپر چڑھ گیا ۔۔۔۔
تم نے آئندہ میری بیوی کے متعلق ایک لفظ بھی بکواس بکی تو ۔۔گردن تن سے الگ کر دوں گا ۔۔۔ “وہ اسپر چڑھا گریبان جکڑتا بولا تھا ۔۔۔
اوکے اوکے ٹیک اٹ ایزی ۔۔۔”کبیر اپنا بچاؤ کرتا بولا ۔۔تو سالار اسپر احسان کرتا اٹھ گیا ۔۔۔
سالار اسپر سے ہٹ کر واشروم میں شاور لینے جانے لگا ۔۔۔
جبکہ کبیر بستر پر بیٹھ گیا۔۔
بات سنو واقعی اسے محبت کرتے ہو “کبیر نے جاننا چاہا ۔۔۔
ہاں شاید ۔۔ ” اسنے شانے اچکائے ۔۔
کیا یہ شاید کیا ہے” وہ ایکدم اٹھا ۔۔۔
شاید” سالار نے قہقہہ لگایا ۔۔ اور باتھروم میں گھس گیا ۔۔
اس شاید پر اس نے تین مکے جڑ دیے جب محبت ہو گی تو بندے لگ پتہ جائے گا ” وہ ہنستا ہوا ۔۔ نیچے اتر گیا ۔۔
اسکی ہنسی کو تب بریک لگا جب مرتضی نے پھاڑ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھا وہ جلدی سے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کیا تماشہ ہے “افشین چیخنے لگی ۔۔ جبکہ سکندر نے اسکو آواز نیچی رکھنے کو کہا ۔۔
میں تو اس لڑکی کو اس گھر میں برداشت ہی نہیں کروں گی میرے بیٹے کی قاتلہ کو بیاہ کر لے آیا یہ ۔۔” افشین کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلی ۔۔۔
اور دندناتی ہوئی وہ ۔۔۔ سیدھا مرتضی کے کمرے تک پہنچی تھی جو ۔۔۔ بمشکل سوئے تھے دروازہ بجنے پر ایکدم اٹھ گئے ۔۔۔۔۔۔
مرتضی نے بے ساختہ دل پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔ مدیھا ڈر گئ ۔۔۔
نہیں مجھے کچھ نہیں ہو رہا “مرتضی نے کہا ۔۔
نہیں آپ کا چہرہ زرد کو رہا ہے ۔۔۔ مرتضی ” مدیھا کا لہجہ بھیگ گیا ۔۔
بس اس ہاتھ میں درد سا ہو رہا ہے ” مرتضی نے سیدھے ہاتھ کیطرف دیکھا ۔۔۔
یا اللہ ” مدیھا جلدی سے اٹھی اور باہر بھاگیں ۔۔۔ افشین کچھ بولتی کے ۔۔۔ مدیھا نے کبیر کا دروازہ بجایا ۔۔۔۔
کبیر تمھارے باب کی طبعیت خراب ہو رہی ہے” مدیھا چیخی ۔۔۔ کبیر پل میں باہر نکلا تھا ۔۔
جبکہ ۔۔۔ زین بھی اس چیخوں پکار پر نکلا ۔۔۔اور حالت دیکھ کر وہ سالار کیطرف بھاگا
سکندر۔۔۔ بھی اندر بھاگے ۔۔ مرتضی بے د م سے ہو رہے تھے ۔۔ کبیر نے باپ کا چہرہ تھپتھپایا جو ریسپوںس نہیں کر رہا تھا ۔۔۔
اور اچانک اس بھیڑ کو چیرتا سالار ۔۔اندر داخل ہوا ۔۔
اسنے کبیر کو پیچھے کیا ۔۔۔۔۔
تم گاڑی نکالو ” سالار نے کہا ۔۔اور باپ کو ۔۔۔ اپنے مظبوط بازؤں میں اٹھا لیا اور وہ باہر لے کر انکو دوڑا اس وقت ۔۔۔ انکے چہروں پر ۔۔۔ کچھ چھین جانے کا خوف تھا ۔۔۔۔
تینوں بیٹے ۔۔۔ اور بھائ ۔۔۔ مرتضی کے لیے
۔۔ ہسپتال پہنچے تھے جبکہ سکندر نے افشین کو غصے سے دیکھا ۔۔
اگر میرے بھائ کو کچھ ہوا تو زمہ دار تم ہو گی اور میں تمھیں چھوڑو گا نہیں” وہ کہہ کر نکل گئے جبکہ ۔۔ افشین نے سب کیطرف دیکھا کوئ اسکیطرف متوجہ نہیں تھا ۔۔۔
سب مدیھا کو چپ کرا رہے تھے ۔۔ جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے