Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

تمھارا اڈمیشن ہو چکا ہے ” کلرک کی بات سن کر نین نے اسکو حیرانگی سے دیکھا ۔۔
کب ہوا ” اسنے زرا غصے سے پوچھا ۔۔۔
اس دن تو ایسے بحث کر رہے تھے جیسے ۔۔۔ مجھ سے ذاتی بیر ہے ” وہ کھا جانے کو دوڑی ۔۔۔
دیکھو بی بی مجھ سے بحث مت کرو وہ صاحب کھڑے ہیں انھوں نے تمھارا اڈمیشن کرایا ہے اب جاؤ یہاں سے اور بھی سٹوڈنٹس ہیں” کلرک غصے سے بولا تو اسکی نگاہ اسکے بتائے گئے بندے پر گئ ۔۔۔
سیاہ پینٹ کوٹ میں وہ جو بھی شخص تھا فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
نین نے اپنی فائلز اٹھائ اور اس آدمی کی جانب بڑھی ۔۔۔
اور اچانک ۔۔۔ جب من چاہا شخص آپکے سامنے ا کھڑا ہوتا ہے تو اپکے جزبات کس قدر مشکل میں ہوتے ہیں بلکل ویسا ہی کبیر کے ساتھ ہوا تھا ۔۔۔
اچانک وہ اسکے سامنے ا گئ تھی ۔۔ فائلز کو سینے سے لگائے ۔۔۔ گاؤن اور اسی طرح گاؤن کے اوپر دوپٹہ لیے ۔۔۔ جس میں اسکے بالوں کی گولڈن لٹیں نکل کر چہرے کو چھو رہیں تھیں بار بار ۔۔۔ ہر قسم کے میکپ سے پاک چہرہ چمکتا ہوا روشن ۔۔۔۔ بس کھڑی ناک میں چھوٹا سا سفید نگ ۔۔۔
حالانکہ اسکی عمر کے لحاظ سے یہ فیشن کچھ مناسب نہیں تھا
۔ مگر وہ نگ کبیر کے دل کا حال برا کر گیا تھا وہ سکوت میں کھڑا اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس کی نظریں سپاٹ تھیں ۔۔
میرے اڈمیشن کے پیسے آپ نے بھرے ہیں” نین اسکے اسطرح دیکھنے پر کچھ برہم نظر ا رہی تھی ۔۔۔۔
کبیر نے ارد گرد دیکھا ۔۔ جیسے اپنا تلاسم توڑا ہو ۔۔اور موبائل کان پر سے ہٹایا ۔۔۔۔
ہممم ہاں ” وہ بولا
۔۔
کس لیے” وہ بنا کسی لچک کے بولی تھی ۔۔۔۔
کبیر کے پاس البتہ جواب نہیں تھا ۔۔۔۔ وہ یوں ہی کھڑا رہا نظریں اس چاند کی چاندنی کیطرح کھلتے چہرے پر سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہیں تھیں ۔۔
نین نے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھا اور غصے سے ۔اپنے ہاتھ کی مٹھی میں دبے پیسے ۔۔ اسکی جانب بڑھا دیے ۔۔۔
یہ لیں ” اسنے کہا ۔۔۔ کبیر نے ۔۔ مٹھی میں دبنے کی وجہ سے ۔۔ کچھ خراب سے نوٹوں کو دیکھا ۔ پھر اسکو دیکھا ۔۔۔
اسکی ہتھیلی اسکے سامنے ۔۔ تھی دل کیا چھو کر محسوس کر لے ۔۔ مگر ۔۔ وہ دل کی کبھی مانی نہیں تھی۔۔۔۔
ضرورت نہیں ہے اسکی ” اسنے بس اتنا کہا ۔۔۔
مگر مجھے ہے ۔۔ مسٹر ایکس وائے زیڈ ۔۔۔ میں خود کو کسی بھی مصیبت میں نہیں پڑوانا چاہتی ” اسنے سرخ چہرے سے اسکی مظبوط ہتھیلی تھامیی اور اس میں نوٹ پٹخ کر وہ ایک غصیلی نگاہ اسپر ڈال کر وہاں سے چلتی چلی گئ ۔۔۔
کبیر نے اپنی ہتھیلی کو اور پھر جاتی ہوئ نین کو دیکھا ۔۔۔۔
ہائٹیڈ اور سلیم ۔۔۔ اوپر سے زرا نخریلی سی ۔۔۔ وہ کبیر کی دھڑکنوں کے ساز پر بجنے لگی تھی ۔۔۔۔
اسنے مسکرا کر وہ نوٹ مٹھی میں تھام لیے ۔۔۔ اور وہاں سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ صبح زین کے ساتھ وہاں پر وہ آیا تھا ۔۔۔۔ مگر زین تو گدھے کے سر پرسے سینگ کیطرح غائب ہو گیا تھا ۔۔۔
البتہ اسے فرق نہیں پڑتا تھا وہ جس کام کے لیےا یا تھا وہ ہو گیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ” کافی کا کپ ہاتھ میں تھامے وہ رف نائٹ ڈریس میں ۔۔۔ لاونج کے صوفے پر دونوں ٹانگیں اوپر کیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
دوپہر ہو چکی تھی ۔۔۔ تبھی اسکی آنکھ کھلی تھی ۔ اور وہ سیدھا نیچے ا گیا تھا ۔۔۔
مدیھا کو دیکھ کر اسنے سلام کیا ۔۔۔
جبکہ مدیھا نے نظروں میں ہی اسکی نظر اتار دی تھی
۔
ویسے تو اسکے چارو بیٹے ہی بہت ہینڈسم تھے ۔۔۔ مگر سالار اپنی لوکس کو کچھ زیادہ مین ٹین رکھتا تھا ۔۔۔۔ اور پھر اسکی اور زین کی آنکھوں کا ہیزل گیرے کلر اور بھی خوبصورت لگتا تھا جبکہ کبیر اور عارض کا ہونٹوں کے پاس ۔۔۔ تل ۔۔۔۔ اسکے بیٹے سب میں الگ ہی نمایاں ہوتے تھے ۔۔
سالار کے پاس ا کر اسکے بڑے بڑے بکھرے بالوں کو ماتھے پر سے ہٹا کرا سکی پیشانی کو چوما تھا ۔
میرا نالائق بیٹا آخر کو گھر کو لوٹ کر آ گیا ” وہ اسکا اے سی بلینکٹ اٹھا کر بولیں ۔۔۔ جو وہ ساتھ ہی لے آیا تھا ۔۔
سالار نے انکی جانب دیکھا اور منہ بنایا ۔۔۔
دنیا سے پوچھیں اپکا بیٹا نالائق ہے یہ نہیں”
یہ تو میری جان آپکے بابا ہی بتائیں گے کہ اب کی بار آپ کس چیز کے لائق ہیں” وہ ہنسی ۔۔۔۔ جبکہ سالار کو یاد ا گیا پیچھلی بار جب ایک مہینے بعد وہ گھر لوٹا تھا تو مرتضیٰ نے جوتیوں سے اسکی تواضع کی تھی ۔۔۔
بیٹا ہوں یارر میں آپکا اور آپکے جلاد شوہر سے مجھے ڈر بھی لگتا ہے” وہ منمنایا ۔۔
ہاں اتنے ہی آپ معصوم ہیں ۔۔۔
جتنا ہنگامہ آپ اور عارض مچاتے ہیں ۔۔۔ اور تو کوئ نہیں کرتا اتنا “
خیر میں عارض کیطرح بیوقوف نہیں ہوں ۔۔۔” سالار نے شانے اچکاے ۔۔
چھوٹا بھائ ہے آپکا سمجھایا کریں اسے ” مدیھا اسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔
اسکی عقل سمھجنے کے لائق نہیں ۔۔ دنیا جہان کی ضد ہے اس میں اسے کبیر ہی سیٹ کر سکتا ہے” سالار نے شانے اچکاے اور کپ صوفے پر ہی رکھ دیا ۔۔ مدیھانے گھور کر کپ اٹھا لیا ۔۔ جبکہ سالار مسکرا کر اپنا سیل فون دیکھنے لگا ۔۔۔
اپنے بابا سے ملنے چلے جائیے گا آفس ” مدیھا نے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔
نہ جی ۔۔۔ کبیر آئے گا ۔۔۔ پھر ہی میں کسی سے ملو گا ۔۔۔۔ مجھ سے نہیں ہینڈل ہوتے آپکے شوہر “
شیٹ آپ سالار ۔۔۔ بابا کہا کریں” مدیھا ۔۔۔ نے گھورا ۔۔
ہاں وہی” وہ لاپرواہی سے بولا ۔۔۔ جبکہ مدیھا نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
بھیا ا گئے آپ ” پریشے اور عمل ایکدم چیخیں کے سالار کے ہاتھ سے سیل گیرتا گیرتا بچا ۔۔۔۔
جب میں نظر آ رہا ہوں تو۔ آگیا ہوں ۔۔ یہ چیخنے کی کیا تک تھی” وہ دونوں کو گھور کر بولا ۔۔۔
جبکہ وہ دونوں ہی ہنسنے لگیں ۔۔۔
کیا لائیں ہیں آپ ہمارے لیے سب سے پہلے ہ
یہ بتا دیں” ہمیشہ کیطرح انھوں نے سوال کیا ۔۔
سالار نے سہل فون سائیڈ پر رکھا ۔۔
کیا مجھے کچھ لانا تھا” وہ پرسوچ ہوا ۔۔۔۔
بھیا ” وہ دونوں چیخیں ۔۔۔۔۔
آرام سے آرام سے ابھی سوٹ کیس نہیں کھولا میں نے ۔۔۔۔ ” وہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔۔
میں کھولوں گی ” پریشے جلدی سے اوپر بھاگی ۔۔۔
آیت کو بھی لیتی آنا اور ۔۔۔۔بنا کھولے سوٹ کیس میرے پاس ہو ” وہ آنکھیں نکالتا وارن کرنے لگا ۔۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے” پریشے نے سر جھٹکا ۔۔۔
مجھے تو سامان سے مطلب ہے” وہ مزے سے بولی ۔۔۔۔
میں آیت کو بلاتی ہوں” عمل نے کہا تو سالار نے سر ہلایا ۔۔۔۔
تنزیلہ افشین صوفیہ بھی اس سے ملیں تھیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت اپنے لیے لایا گیا سامان دیکھ رہی تھی ۔ سالار نے اسے اپنے پاس بیٹھایا ہوا تھا ۔۔ جبکہ سارا کام پریشے اور عمل کر رہیں تھیں ۔۔
چند پل کو وہ عارض کو اور اپنی حالت کو بھول بھال کر ۔۔ اپنے ہاتھ میں موجود بڑے سارے بھالو کو خوشی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
تھینک یو بھیا ” وہ خوشی سے بولی ۔۔۔ مسکراہٹ نے اسکے چہرے کو ۔۔ بے پناہ حسن بخش دیا تھا ۔۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ سالار نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔ اورایت کی نگاہ عارض پر گئ جو ۔۔۔ لاونج کے دروازے میں کھڑا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
سرد سپاٹ نظریں ۔۔۔ آیت کی مسکراہٹ سمٹتی چلی گئ ۔۔۔
اسنے جلدی سے سر جھکا لیا ۔۔۔
سالار نے اچانک دروازے کی جانب دیکھا ۔۔۔
لو تمھارا زہنی مریض شوہر ا گیا ” اسنے آیت کے کان میں کہا ۔۔ جبکہ آیت نے بس ایک نگاہ اسپر ڈالی ۔۔۔۔ اور اٹھنے لگی سالار نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔
بیٹھو چپ چاپ ۔۔اسکی مجال نہیں ہے میرے سامنے تمھیں کچھ کہے اور فٹو سے بلاوجہ ڈرتی ہو تم” وہ بولا ۔۔ جبکہ عارض کو اگنور کر دیا تھا ۔۔۔
عارض اندر آیا ۔۔۔اور ڈائریکٹ آیت سے بولا ۔۔
مجھے کچھ کھانے کو دو ” وہ اکثر اسپر حکم جماتا تھا ۔۔۔ مگر کبیر اور بابا کے سامنے دور ہی رہتا تھا ۔۔۔
آیت سر ہلاتی اٹھی جبکہ سالار نے پھر اسے بیٹھا لیا ۔۔۔
بھائ تمھارے ہاتھ پاوں سلامت ہیں جا کر لے لو کچن سے ” اسنے چیڑانے والے انداز میں کہا ۔۔۔ اور آیت کا سامان دیکھنے لگا ۔۔۔۔
بھیا میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں ” عارض سنجیدگی سے بولا۔۔ جبکہ سالار نے اسکی جانب دیکھا ۔۔ آیت کا بھی دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔۔
پہلی بار اسنے یہ بات کی تھی ۔۔۔
م۔ میں دے دیتی ہوں ” آیت نے جلدی سے کہا ۔۔ جبکہ سالارنے شانےاچکائے ۔۔
اسے کسی سے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔ تبھی زیادہ بحث کیے بنا ۔۔۔ وہ پریشے اور عمل کی جانب متوجہ ہو گیا ۔۔۔۔
جبکہ عارض آیت کے پیچھے کچن میں ا گیا ۔۔
بیٹا میں سنیکس لا ہی رہی تھی ۔۔”تنزیلہ بولی ۔۔۔۔
گھر میں چھل پھل سی ہو گئ تھی تبھی وہ مسکرا رہیں تھیں آیت کو دیکھ کر بولیں ۔۔۔
چچی مگر مجھے سنیکس نہیں کھانے” عارض کی سرد آواز سنائ دی ۔۔ توتنزیلہ نے اثبات میں سر ہلایا اور ۔۔ خود سنیکس لے کر وہاں سے باہر ا گئ ۔۔۔
آیت نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ جو ۔۔ ہاتھ باندھے اسی کو گھور رہا تھا ۔۔۔
ک۔۔۔کیا کہیں گے آپ” اسکی گیرتی اٹھتی پلکوں کے رقص کو طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا ہوا ۔۔وہ چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
اگر تم پیش ہو جاؤ ۔۔ تو رات اچھی گزر جائے گی”
۔۔ ٹانگیں ٹیبل کے نیچے پھیلا کر وہ بے باکی سے بولا ۔۔
آیت کی سانسیں۔ پھولنے لگیں ۔۔۔۔
مگر بولنے کی ہمت نہیں ہوئ ۔۔۔
ہممم ڈرامہ ۔۔۔ تمھیں ایساکیوں لگتا ہے ۔۔ میڈیم آیت ۔۔ کے یہ بھولی بننے کا ناٹک کر کے تم ۔۔۔ میرے دل میں جگہ بنا لو گی” اچانک چھری اٹھاتا وہ اسکی جانب بڑھا ۔ جبکہ آیت ۔۔ کہ چیخ سی۔نکلی ۔ عارض نے چھری اسکی جانب کی جبکہ آنکھیں نکال کر اسکو دیکھا گویاجتایا ہو کہ آواز بند رکھو ۔۔۔ ورنہ گلا کاٹ دوں گا ۔۔۔
آیت نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔ جبکہ عارض کو سنائ دے رہا تھا ۔جیسے کچن میں کوئ۔ آرہا ہو ۔۔ اسنے آیت کا ہاتھ پکڑا۔۔اور کچن کے ساتھ بنے سٹور روم میں لے گیا جہاں ۔۔ راشن لا کر رکھا جاتا تھا ۔۔۔ آیت اپنا ہاتھ چھڑانے لگی ۔۔
زیادہ آواز نکالو گی ۔۔ تو سب کو پتہ چل جائے گا ۔۔۔۔ تو بہتر ہے ۔۔اپنی آواز کا گلا گھونٹ دو ورنہ تمھارا گلا گھونٹنے میں مجھے بہت مزاہ آتا ہے” وہ بلکل اسکے نزدیک ہو گیا ۔۔ جبکہ آیت کی پشت ۔۔۔ الماری سے جا لگی ۔۔۔
پلیز عارض ۔۔۔ ایسی۔۔ ایسی حرکتیں کیوں کرتے ہیں آپ ۔۔۔ ” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی ۔۔۔
صرف ایک بات کہو گا ۔۔ اسکے بعد مجھے تم سے غرض نہیں ۔ ” اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر وہ اسکا چہرہ بلکل اپنے نزدیک کرتا ۔۔ ہلکی آواز میں بولا ۔۔۔۔
آیت کے سرخ کانپتے لب ۔ بھیگی پلکیں ۔اسکو اسکی جانب متوجہ کر رہیں تھیں۔ جبکہ وہ
۔۔ اسپر غصہ کر کے اپنی توجہ باٹ رہا تھا ۔۔۔۔
پوچھو کیا ” اسکا دوسرا ہاتھ بے ساختہ ۔۔۔ اسکے گال کو سہلانے لگا ۔۔۔
آیت نے ایک پل کو آنکھیں بند کیں تھیں
ک۔۔کیا ” وہ بولی ۔۔۔
بابا سے تم کہو گی ۔۔ کہ عارض کو دوسری شادی کی اجازت دیں” وہ پھنکارہ ۔۔ آیت کا سانس ٹوٹ سا گیا ۔۔۔۔
عارض نے طنزیہ مسکراہٹ سے ۔۔۔ اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھے ۔۔۔
آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر عارض کی انگلی پر جا سجا جسے اسنے مسکراتے ہوئے ہونٹوں سے لگا لیا ۔۔۔
پھر میں تمھیں اور تمھارے اس بچے کو دونوں کو قبول کر لوں گا ۔۔۔ ورنہ میری آخری سانس تک ۔۔ تم بیاہی یہ کنواری ۔۔۔ یہ ایک بچے کی ماں ۔۔۔
لوگوں کو سیسپینس میں ہی ڈالتی رہ جاؤ گی ۔۔۔سوچ لو ۔۔۔۔” وہ پیار سے مسکرایا ۔۔اسکی جان نکال کر کیسے بلکل مطمئین تھا ۔۔۔
آیت کو رونا ا گیا ۔۔۔ اسکی شرٹ دونوں مٹھیوں میں جکڑ۔۔۔ لی ۔۔۔
جبکہ عارض اسکے کانپتے لبوں سے مزید نگاہ نہیں ہٹا پایا ۔۔۔اور وہ اسکے چہرے پر اچانک ہی جھکتا اپنے لمس کی شدت سے اسے جھلسانے لگا
جبکہ آیت کی سانسیں بند سی ہونے لگیں ۔۔۔ مگر عارض خمار میں بھکتا چلا گیا ۔۔۔ اپنی سانسوں کی فکر ہوئ تو اسنے اس سے علیحدگی برتی ۔۔ اور اسکو سختی سے جکڑے وہ سانس بحال کرنے لگا ۔۔
آیت کی سانسوں کی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔۔
اسنے آیت کی گردن کو اورسختی سے جکڑا ۔۔۔
تمھارے پاس وقت کم ہے جتنی جلدی ہو ۔۔ بابا سے بات کرو انھیں مناؤ یہ کچھ بھی کرو ۔۔سمھجی” اچانک اسے چھوڑ کر وہ دور ہوا ۔۔۔
اور اپنے لبوں پر سے معمولی سا لگا خون صاف کرنے لگا انگوٹھے پر خون دیکھ کر ۔۔۔ اسنے وہ خون زمین میں بیٹھی آیت کے گال پر سجا دیا جس کے لبوں سے خود بھی خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔ عارض مسکرا دیا ۔۔۔
یقین مانو ۔۔۔ تم ساری بھوک ختم کر دیتی ہو” وہ اسکے کان میں بولا ۔۔۔
میں انتظار کروں گا ۔۔۔” اسکاگال تھپتھپا کر وہ اسکے پاس سے اٹھا ۔۔۔ اور کچن میں سے نکلتا چلا گیا ۔۔ باہر وہ سب سنیکس کھا رہے تھے ۔
عارض بیٹا کھانا کھا لیا”
مدیھا نے پوچھا ۔۔۔
جی مما کھانا اچھا تھا “وہ مسکرا کر بولا ۔۔ سب حیرانگی سے اسکی مسکراتی بوتھی دیکھنے لگے ۔۔۔۔
جبکہ مما نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔
کہاں جا رہے ہو اب تم” سالار نے مغرب کے بعد کا وقت دیکھا ۔۔۔
عارض نے بھی باہر دیکھا اور پلٹ کر
۔۔ ا گیا ۔۔۔ جانتا تھا وہ اسے نکلنے نہیں دے گا اور اگر وہ ضد کر کے گیا بھی تو ۔۔۔ کبیر اور بابا سے بلاوجہ جھاڑ پلاوا دے گا ۔۔۔
یہ انسان کا بچہ کب بنا” سالار نے ماں کے کان میں کہا جنھوں نے اسکے شانے پر تھپڑا مارا بھائ ہے
تمھارا ۔۔”
پتہ ہے پتہ ہے ” اسنے کہا ۔۔۔
اوہ ہ ہ بھیا” اچانک سالار کی گردن میں بازو ڈالے زین اسپر چڑھا جو ابھی اٹھا ہی تھا مشکلوں سے تو ۔۔۔ وہ کچھ کرتا تھا ۔۔۔اور اب بھی فریش ہونے کے لیے کہ بابا دیکھ کر ۔۔اسکو جھاڑ نہ پلا دیں ۔۔۔ وہ جانے لگا کہ زین اسپر چڑھ دوڑا ۔۔۔
سالار مسکرا دیا ۔۔۔اور اسکا کان پکڑ کر اسکو اپنے سامنے کیا ۔۔۔
ٹھرکی آدمی کہاں تھے پورے دن سے تم اور یہ وقت ہے گھر آنے کا ” اسنے گھورا ۔۔
یار پلیز بڑے بھیا کی ایکٹینگ مت کریں ۔ ” زین نے ہاتھ جوڑے ۔۔۔
جبکہ سالار کی جان تھا زین اسنے ہنستے ہوئے اسے گلے سے لگایا ۔۔
بیچ میں کوئ میٹینگ تو نہیں آئ تمھاری” وہ اسکے کان میں پوچھنے لگا ۔۔
مت پوچھو یار بڑے بھیا کی وجہ سے کنگال ہوں میں” وہ منہ بسور نے لگا ۔۔۔۔
جبکہ سالار ہنسا ۔۔
بچ تو گئے ہو نہ” اسنے پوچھا ۔۔ زین نے ۔۔۔ سر ہلایا ۔۔۔۔
میں سب سن رہا ہوں ” عارض نے ان دونوں کیطرف دیکھا ۔۔۔ جن کا چہرہ ایکدم سنجیدہ ہو گیا تھا ۔۔۔
ایسی باتیں بچے نہیں سنتے” سالار نے کہا ۔۔۔
مگر بڑے بھیا ضرور سنتے ہیں” کبیر کو دیکھ کر۔۔ عارض ہنسا ۔۔۔ سب اسکو ہنستا مسکراتا دیکھ کر خوش ہوئے تھے ۔۔۔
سب کی نگاہ کبیر پر گئ ۔۔۔
البتہ سالار کی ہنسی سمٹ گئ ۔۔۔
یار بابا تو نہیں ا رہے ابھی” وہ ایکدم ۔۔اسکو دیکھتا بولا ۔۔
گاڑی پارک کر کے ا رہے ہیں” کبیر نے سنجیدگی سے کہا اور عارض کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔
آہ شیٹ” سالار جبکہ ۔۔ بھاگا تھا اپنے کمرے کی جانب ۔۔بابا کو سخت چیڑ تھی کہ ماں بہنوں کے بیچ کوئ بھی لڑکا اپنے نائٹ ڈریس میں بیٹھے جبکہ وہ کب سے یوں ہی بیٹھا تھا ۔۔
وہ اوپر بھاگ گیا ۔۔۔ جبکہ ۔۔ کبیر بھی اٹھا عارض کچھ دیر تک میرے روم میں آو ” اسنے کہا ۔۔۔۔
جبکہ مدیھا جو عار ض کے مسکرانے پر خوش ہو رہی تھی اچانک جیسے اسے احساس ہوا کہ آیت یہاں موجود نہیں ہے
کبیر کے جانے کے بعد عارض بھی اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
جبکہ مدیھا جلدی سے کچن میں گئ ۔۔۔
مگر وہاں کوئ نہیں تھا اسنے سٹور روم چیک کیا وہاں بھی کوئ نہیں تھا ۔۔
یا اللہ ۔۔ اب اس معصوم لڑکی کا دل دکھا کر میرا بیٹا خوش نہ ہو رہا ہو” اسنے دل سے دعا کی اور باہر گئ جہاں مرتضیٰ صاحب ا گئے تھے سب نے انھیں سلام کیا اور وہ وہیں سب کے بیچ بیٹھ گئے ۔۔۔
مسکراتے چہرے ۔۔۔ آنے والے وقت سے انجان رشتوں میں خوش تھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے” کبیر کو سٹیڈی میں داخل ہوتے دیکھ انھوں نے کتاب بند کی ۔۔
ہاں بولو” اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہو بولے ۔۔ یعنی اسکی جانب متوجہ ہوئے ۔۔۔
کبیر انکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔
ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں ۔۔۔ وہ یوں بھی کافی ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔
بابا شادی کا فیصلہ کیا ہے میں نے” وہ بولا ۔۔۔ بنا جھجھکے ۔۔۔
مرتضیٰ مسکرا دیے
گڈ ۔۔۔ میں تمھارے اسی فیصلے کے انتظار میں تھا ۔۔”وہ مسکرا کر دراز میں سے کچھ تلاش کرنے لگے ۔۔۔
میں چاہتا ہوں آپ ۔۔۔ اس لڑکی کے گھر ۔۔۔مما کے ساتھ جائیں ۔۔ میرا رشتہ لے کر “وہ بولا ۔۔۔
کون لڑکی” تیوری ماتھے پر ڈالے وہ پوچھنے لگے۔۔
نین نام ہے اسکا ۔۔۔ مجھ سے چھوٹی بھی ہے کافی مگر ۔۔۔ مجھے پسند ہے” وہ بولا ۔۔ تو مرتضیٰ تیش میں اسکی جانب دیکھنے لگے ۔۔
دماغ خراب ہے یہ درست کروں تمھارا ہمارے خاندان میں کوئ غیر لڑکی نہیں آئے گی ۔۔۔
اور تم سمھجہ رہے ہو جو افشین نے ضد میں ا کر کر لیا تو اب اس گھر میں سب کی ضدیں مانی جائیں گی” وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتے بولے جبکہ ۔۔ کبیر نے سرخ نظروں سے انکی جانب دیکھا ۔۔۔
میں آپ سے اپنی بات کر رہا ہوں ۔۔ افشین چاچی کی نہیں” کبیر کے مزاج سے کون نہیں واقف تھا سامنے چئیر پر بیٹھے وہ بھی جانتے تھے ۔۔
کبیر میں بحث نہیں کرنا چاہتا مگر تمھارے لیے ۔۔۔ تمھاری مما کی بہن کی بیٹی ۔۔ کے بارے میں ہم نے کافی پہلے سے سوچا ہوا ہے خاندانی لوگ ہیں ۔۔۔” مرتضیٰ تحمل سے بولے ۔۔
بابا ۔۔۔ میں آپ سے ۔۔۔۔ نین کی بات کر رہا ہوں ” کبیر نے اپنے غصے کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔۔۔
کبیر بحث مت کرو جاؤ یہاں سے ۔۔۔
ہم لوگ کل ہی انکے گھر رشتہ لے جائیں گے” وہ بولے اور دوبارہ کتاب اٹھا لی ۔۔
اس وقت کبیر کے خون میں انگارے سے دوڑ اٹھے تھے ۔۔۔
شادی بھی پھر خود کر لینا” پاس پڑی کتابوں کو پھینکتا وہ اٹھا اور تن فن کرتا باہر نکلا ۔۔
تو سالار سامنے ہی سنجیدگی سے کھڑا تھا دونوں کی نظریں ملیں ۔۔ کبیر کا لال سرخ چہرہ تھا ۔۔
وہ وہاں سے اپنے روم میں جانے لگا
کبیر بات سنو میری” سالار اسکے پیچھے دوڑا ۔۔
مجھ سے کسی نے بکواس کی تو اپنا منہ ٹوٹوائے گا ” وہ آدھی رات کو دھاڑا۔۔۔
جبکہ سالار دور ہٹ گیا ۔۔۔
میں تم سے بکواس نہیں صرف بات کرنا چاہتا ہوں اور تم میرا منہ توڑو گے تو میں تمھارا توڑ دوں گا بہتر ہے بات کر لو ۔۔ ٹوٹے ہوئے منہ سے پھیرتے ہوئے دونوں اچھے نہیں لگیں گے”
وہ سکون سے بولا ۔۔ کبیر نے غصےسے سانس کھینچا اور کمرے میں چلا گیا ۔۔ جبکہ سالار بھی اسکے پیچھے اندر چلا گیا ۔۔۔ وہ نین نامی لڑکی کے بارے میں سب جاننا چاہتا تھا ۔ جو اسکے بھائ کو پسند ا گئ ۔۔۔۔ یعنی اس ڈھیٹ انسان کو جو اپنے ساتھ ساتھ اسکی عمر بھی نکال رہا تھا ۔۔شادی کی