Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

نین الماری میں کپڑے کی لگا رہی تھی ۔۔۔ کہ پیچھے سے کبیر کی خوشبو اپنی پشت پر محسوس ہوئ تو وہ پلٹی ۔۔۔۔۔
کبیر کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔ جو کہ اسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔
کیا ہوا آپ تو افس گئے تھے ” نین نے خود ہی سوال کر لیے جبکہ کبیر نے اسکی کمرے میں ہاتھ ڈالا اور اپنے نزدیک کر کے ۔۔ خود سے لگا لیا ۔۔
نین اس افتاد پر گھبرا سی گئ ۔۔۔۔
اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔
تمھارے لیے ایک سرپرائز ہے ” کبیر نے اسکے کان کی بالی کو انگلی سے چھو ا۔۔۔ جبکہ نین اسکے لمس پر آنکھیں بند کر گئ ۔۔۔۔
روز وہ اسکی قربت میں یہ ہی سوچتی رہی تھی کیا یہ ہمیشگی کی تکلیف ملی ہے اسکو کہ دل میں کسی اور کو بسا کر
۔۔۔ وہ کسی اور کی قربت میں تھی ۔۔۔۔
کیوں اسکو اتنی بڑی تکلیف ملی وہ ۔۔۔۔ احمد کے ساتھ رہنے کا سپنا سجاچکی تھی ۔۔۔اسکی آنکھوں میں تو احمد کا عکس تھا ۔۔ مگر ۔۔۔ جب سے وہ آفس سے آئ تھی ۔۔۔۔
اور وہاں احمد کو ملازم اور خود کو مالک دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
جیسے اسکے احساسات میں تبدیلی آئ تھی ۔۔
وہ احساسات کبیر کے حق میں جانے سے لگے تھے ۔۔۔۔
ایسا لگا جیسے اسکے زخموں پر اللہ نے مرحم رکھا ہو ۔۔اسکئ حثیت ۔۔۔اسکی وقعت اسکی ۔۔ کیا ولیو تھی آج ۔۔۔ یہ احمد کو دیکھا کر ۔۔
اسکے صبر کا پھل دیا ہو ۔۔اور کل رات ۔۔سے وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ ۔۔ کبیر کے ساتھ کیوں بے ایمانی کرے ۔۔۔۔۔۔
اسکے دل میں اسکے لیے محبت کے جزبات نہیں تھے ۔۔۔۔
مگر ۔۔۔ گزشتہ جزبات بھی نہیں رہے تھے ۔۔۔
وہ کوشش کرتی تو کبیر کے ساتھ جو کہ اب ساری زندگی گزارنی تھی ۔۔ وہ اسکے لیے اچھا سوچ سکتی تھی
وہ ایک کھلے دماغ اچھی سوچ ۔۔ اچھے مزاج اور سب سے خاص اسکو چاہنے والا مرد تھا ۔۔۔۔
جس کو اسنے چاہا ۔۔۔ اسنے اسکی حثیت کو پیسوں میں تولا تھا ۔۔اور جو اسکو چاہتا تھا اتنے اونچے معیار کا ہونے کے باوجود اسکے ماں باپ کے اتنے برے رویے کو مسکرا کر برداشت کر گیا تھا ۔۔یہ اسکی اعلی سوچ اور تربیت تھی وہ رشتوں میں کندھا انسان تھا ۔۔
اور نین نے یہ سوچ لیا تھا کہ ۔۔وہ صدق دل سے اسکے ساتھ نبھانے کی کوشش کرے گی ۔۔۔۔
اگر اسے کبیر سے محبت نہیں بھی ہو گی۔۔ تب بھی وہ اسکا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گی ۔۔۔
مگر احمد کے لیے ۔۔۔۔ تو جیسے دل میں چبھن سی تھی ۔۔۔۔
مگر اپنے صبر کا پھل
پا کر سکون تھا ۔۔اب وہ گزشتہ سوچوں سے آزادی چاہتی تھی ۔۔
اسنے آنکھیں کھولیں اسکا ہینڈسم چہرہ اسکے سامنے تھا ۔۔
نین مسکرا دی ۔۔۔
کبیر نے زرا غور اسے اسکو دیکھا ۔۔
پہلی بار تمھیں اپنے نزدیک مسکراتا دیکھ رہا ہوں ” وہ بول گیا نین نے اسکو پھرسے دیکھا ۔۔
یعنی وہ سب نوٹس کرتا ہے ۔۔ مگر کہتا کچھ نہیں ۔۔ نین گھبرائ ۔۔کیا وہ اسکی آنکھوں کے راز بھی جانتا تھا مگر بتاتا نہیں تھا ۔۔۔ وہ سوچ میں پڑ کر پریشان سی دیکھائی دینے لگی ۔۔
کبیر نے اسکے چہرے پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری ۔۔
نین نے اسکو پھر سے دیکھا ۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم جب جب میرے نزدیک رہو بے حد خوش رہو ” کبیر نے کہا اور اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔
نین نے اسکی شرٹ جکڑ لی ۔۔ہرروز کیطرح ۔۔
تم جانتی ہو تم میری شرٹ میں شکن ڈالتی ہو “وہ خفگی سے بولا ۔۔۔
آپ بے وقت حملے کرتے ہیں ” نین شرمندہ سی ہو گئ اسکی شرٹ واقعی خراب ہو گئ تھی ۔۔۔
اسے حملہ تو نہیں کہتے یہ تو ۔۔ نرم سا لمس تھا بس ” کبیر نے کہا ۔۔۔۔ تو نین نے نے اس کی شرٹ پر کوٹ کو آگے کر دیا ۔۔
یہ اب ٹھیک دکھ رہا ہے ” وہ بولی ۔۔۔۔
ہممم ” کبیر نے ۔۔ ہنکارہ بھرا ۔۔۔
اچھا سوری میں ۔۔پریس کر دیتی ہوں ” وہ بولی ۔۔۔۔
جبکہ کبیر تو واقعی مائینڈ کر گیا تھا اسنے ۔۔۔۔ اپنا کوٹ اتارا اور پھر اپنی شرٹ
نین نظریں جھکائے کھڑی رہی ۔۔
کبیر اسکو مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اسکے ہاتھ میں شرٹ تھما دی ۔۔۔
نین نے غصے سے لی ۔۔۔
اب تمھیں غصہ کیوں آیا ہے ” وہ اسکے پیچھے آیا ۔۔ جو ڈریسنگ روم میں آ گئ ۔۔۔
مروت ہی نہیں ہے آپ میں تو ۔۔۔ اتار کر تھما ہی دی ہاتھ میں اس طرح بھی کرتے ہیں ۔۔۔” وہ شرٹ کو زور سے استری سٹینڈ پر پٹخ کر۔۔۔۔ استری اسپر چلانے لگی کہ ۔۔۔ شرٹ کا بٹن ہی ٹوٹ گیا بازو سے ۔۔۔
استری اتنی زور سے اسپر ا پڑی ۔۔۔
دونوں نے بیک وقت اس ٹوٹے ہوئے بٹن کو دیکھا ۔۔۔۔۔
نین کا چہرہ شرمندگی سے لال سرخ ہو گیا جبکہ کبیر ۔۔۔۔
اسکی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
س۔۔۔سوری” وہ بولی ۔۔۔۔
کبیر پھر بھی خاموش رہا اسکو دیکھتا رہا ۔۔۔۔
بٹن لگانے کا کہا تو ۔۔۔ کچھ اور کر دو گی زلزلے میں ۔۔۔ اب اسکو چھوڑو اور نیو شرٹ نکالو “کبیر نے سنجیدگی سے کہا اور ۔۔شرٹ لے لی ۔۔
مگر مجھے غصہ نہیں تھا ۔۔۔۔” نین صفائ دینے لگی ۔۔۔۔
وہ تو دیکھ رہا ہے مجھے ” کبیر نے ترچھی نظروں سے اسکو دیکھا ۔۔۔۔
آپ سنجیدہ ہو گئے ہیں ” وہ پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔
کبیر نے اپنی ہنسی دبائ ۔۔ بولا کچھ نہیں
میرے پاس اس کا ہل ہے ” نین کے دماغ میں گویا بتی جلی ۔۔
کبیر نے اسکو باہر بھاگتے ہوئے دیکھا ۔۔۔
خود بھی اسکے پیچھے روم میں آیا ۔۔۔
وہ اسکی سڈیڈی ٹیبل پر کچھ ڈھونڈ رہی تھی ۔۔
اور اچانک اسے اسکی مطلوبہ چیز مل گئ ۔۔۔
شرٹ پہنیں ” وہ جلدی سے بولی ۔۔۔
یہ بٹن ٹوٹا ہواہے اس میں شکن بھی ہے ” کبیر جیسے بے زار ہوا۔۔
آف ہو ۔۔ کبیر صاحب پہن لیں بس ” وہ آنکھیں گھوما کر بولی ۔۔
کبیر کو بہت پیاری لگی ۔۔۔۔۔گویا اسپر حکم۔ چلا رہی ہو ۔۔۔۔
کبیر نے جی حضوری کرتے ہوئے شرٹ پہن لی ۔۔۔
اور اسکے بٹن بند کرنے لگا ۔۔۔
اب وہ نین کو دیکھ رہا تھا ۔۔ جس نے ۔۔۔۔سٹیپلر ایکطرف رکھا ۔۔۔
اور اسکی شرٹ کا بازو پکڑا۔۔۔۔
کبیر اسکو توجہ سے دیکھ رہا تھا کیونکہ اسنے کبھی ایسادماغ نہیں چلایا تھا ۔۔
نین نے اسکی کف پر تین سٹیپلر اندر کی طرف سے لگائے ۔۔۔۔
اور کف کو فولڈ کر دیا کہ سٹیپلر نظر نہیں آ رہے تھے اور کف بھی فولڈ ہو چکی تھی ۔۔۔۔
کبیر منہ کھولے اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔
نین اپنے کام پر بہت خوش ہوئ ۔
۔ دیکھا ۔۔۔ اسکو کہتے ہیں شورٹ ٹرک ۔۔۔۔” وہ چٹکی بجا کر بولی ۔۔۔
اسپر بٹن بھی لگ سکتا تھا مجھے لگا میری بیوی ۔۔ تھوڑا رومینس کے موڈ میں ہے ۔۔۔۔۔
اپنے دانتوں سے دھاگا توڑے گی میں اسکو اپنی طرف کھینچو ۔۔۔ گا
بس بس کبیر ۔۔۔ خوابوں سے باہر آئیں ۔۔۔۔۔ جلدی شاباش ۔۔۔۔۔ ” وہ اسکی ہمت باندھتی شانا تھپتھپا کر بولی ۔۔۔۔
یہ پیٹنے کام تھا تمھارا ۔۔” کبیر نے کف سیدھی کرنی چاہی ۔۔
کبیر یہ کیا کر رہے ہیں ” نین نے جلدی سے پکڑا ۔۔
تم پاگل ہو گئ ہو میں یوں جاؤ گا ۔۔ میں پھٹا ہو الباس اور ٹوٹی ہوئ چیز استعمال نہیں کرتا ” کبیر نے کہا ۔۔۔۔ اور شرٹ اتارنے لگا ۔۔
نین نے خفگی سے اسکو دیکھا ۔۔
پہن کر جائیں گے تو یہ ہی ورنہ ۔۔۔۔ “
ورنہ ” کبیر نے اسکے لفظوں کو ہی جکڑ لیا ۔۔۔
یہ اچانک حملہ تھا ۔۔۔
نین کی آنکھیں پھٹ گئیں ۔۔
اسکا لمس نرم تھا ۔۔۔۔ مسرور تھا ۔۔۔۔ وہ مسکرا رہا تھا ۔۔ نین جیسے مدہوش سی ہوئ اور پھر اسکے دور ہوتے ہوش میں آئ ۔۔۔۔
ورنہ ” کبیر نے اسکے گالوں کو چھوا ۔۔۔
ک
ک ک ۔۔کچھ نہیں ” وہ ہکلا گئ ۔۔۔۔
کبیر ہنس دیا ۔۔۔
چلیں جی محترمہ ۔۔ آپکی آمد سے اپنے اصول بھی توڑ دیے ۔۔۔
ویسے ۔۔۔ یہ مزے دار تھی ” اسنے ابھی ہونے والے عمل کی جانب اشارہ کیا نین سرخ پڑ گئ ۔۔
لیپسٹک کا ٹیسٹ بھی زرا ڈیفرنٹ تھا ” وہ اسے اور تنگ کرنے لگا ۔۔
جبکہ نین جلدی سے وہاں سے ہٹی کبیر ہنسنے لگا اور نین باہر نکل گئ۔۔۔۔۔
الماری لوک ہے ۔۔ آپ یہ ہی پہن کر باہر آئیں گے ” جاتے جاتے وہ کہنے لگی ۔۔
نہ کرو یار ” کبیر کا ارادہ پھر بھی چینج کا تھا ۔۔
نین نے شانے اچکائے اور جلدی سے چلی گئ جبکہ کبیر ۔۔ نے اسی کو مینیج کیا ۔۔
اور کف کو بازو تک فولڈ کر لیا ۔۔۔
سٹیپلر کھولتے ہوئے ا سے ہنسی الگ ا رہی تھی ۔۔
دماغ کیسے چلایا تھا اسنے ۔۔
کل کو پھٹے ہوئے کپڑوں کو ٹیپ سے نہ جوڑنے لگ جائے” وہ کھل کر خود ہی ہنسا اور کوٹ پہن کر بازؤں کو کھونی تک چڑھا لیا ۔۔۔۔۔وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرتا تھا
باہر آیا تو چہرے پر مسکان الگ تھی ۔۔۔
جبکہ اسکا سٹائل دیکھ کر ۔۔۔
سالار کی تو آنکھیں پھیلی اسنے وقت دیکھا ۔۔۔۔۔
اس وقت تو گھر پر کوئ نہیں تھا اور یہ نواب کہاں سے نکلا تھا ۔۔۔
وہ کبیر کو بری طرح گھورنے لگا ۔۔
کبیر نے پہلے تو اسکو اگنور کیا پھر غصے سے اسکو دیکھا ۔۔
کیا مصیبت ہے ۔۔۔۔ “
اسنے چیڑ کر پوچھا ۔۔۔۔۔
یہ تو تم بتاؤ گے ۔۔ یہ بدلے بدلے کیوں لگ رہے ہو ۔۔۔۔
ہیرو کیطرح ۔۔۔۔۔ ہاں
۔ لبوں پر مسکان بھی الگ ہے جبکہ تمھارا منہ تو ہر وقت باسی اخبار جیسا رہتا ہے ۔۔۔” وہ اٹھ کر اسکے گرد چکر لگانے لگا ۔۔جبکہ نین نے اپنی ہنسی روکی ۔۔۔۔
کبیر نے نین کو گھورا وہ ٹیبل کے پاس ہی کھڑی تھی ۔۔۔
بھابھی آپ میری بات سے متفق ہیں یہ نہیں ” اسنے نین کو بھی پکڑا ۔۔۔
ہاں ہوں ” نین نے کہا ۔۔
کیا بات ہے تالی ماریں ” اسنے ہاتھ آگے کیا ۔۔
نین نے جھجھکتے ہوئے تالی مار دی ۔۔۔۔۔
ہو گیا تم دونوں کا ” کبیر نے دونوں کو بھڑک کر دیکھا ۔۔۔
فیشل تو نہیں کرایا ۔۔ تم نے ۔۔۔یہ تم روز باروز نکھرتے جا رہے ہو ۔۔ ہو کیا رہا ہے اس گھر میں ۔۔ مجھ کنوارے کے جزبات کا بلکل احترام نہیں ہے ۔۔مما مجھے فلفور شادی کرنی ہے ” اسنے مدیھا کے آگے پاؤں پٹخے مدیھا اسکے ڈراموں پر ہنسنے لگی جبکہ نین کے لبوں پر بھی مسکان تھی نانی بھی وہیں ا گئیں ۔۔ جبکہ مامی اور خالا جا چکیں تھیں البتہ ایمن اپنی ضد پر رکی ہوئ تھی ابھی ۔۔۔۔
ایمن تو شرما ہی گئ ۔۔اور نانی اسپر صدقے واری ہوئیں ۔۔۔۔
کیوں نہیں میرے چاند تمھاری بھی شادی ہونی چاہیے ۔۔
یہ موا تھارا باپ ہی نہیں سوچ رہا ” وہ بولیں تو ۔۔۔۔سالار نے اور بھی مسکین شکل بنا لی ۔۔۔
جبکہ کبیر نے اسکی کمر پر مکہ جڑا ۔۔۔۔
اور لبوں پر مسکان سجا لی ۔۔ وہ اسکے کان میں جھکا ۔۔
نانی کے سامنےا ور۔ مظلوم بنو نانی کے پاس صرف ایک بکری ہے جس کا شکار انشاء اللہ میرے بھائ اگلا تو ہے ” وہ اسکا شانا تھپتھپا کر مدھم آواز میں بولا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔
سالے تیری ایسی کی تیسی ” سالار چلایا اور اسکے پیچھے بھاگا ۔۔۔جیسے اسکی بکواس پر تلملا گیا ہو
جبکہ کبیر آگے بھاگا ۔۔۔اور پورچ میں نکل گیا ۔۔۔
تیری ہمت کیسے ہوئی ۔۔اس چھپکلی کو میرے ساتھ جوڑنے کی ” وہ دونوں گاڑی کے ارد گرد گھوم رہے تھے ۔۔۔
مجھے لگا تیرے ساتھ جچے گی ” کبیر نے بھی اسکو جلانے پر کمر باندھ لی تھی ۔۔۔۔
سالار کا تو میٹر ہی گھوم گیا ۔۔۔
جس دن کبیر مرتضی میرے ہاتھ لگ گیا ۔۔۔
بھای اسکی ٹانگیں توڑ دوں گا ۔۔ معافی چاہتا ہوں ۔۔ کوئ اوپشن نہیں ” وہ نین کو دیکھ کر ۔۔۔ بولا
۔۔
مگر انھوں نے ایسا کہا کیا ہے ” وہ جاننے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
جبکہ کبیر نے دانت نکالے ۔۔
بتاو بتاؤ ” وہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔
کبیر تم گنجے ہو گے ۔۔۔ لکھ لو اج” وہ تپتا ہوا بولا ۔۔۔
پلیز گنجے نہیں ۔۔۔ ” نین نے جلدی سے کہا ۔۔
سالار کا قہقہ اٹھا ۔۔
لنگڑے کے ساتھ گزارا کر لیں گی بھابھی ۔۔ گنجے کے ساتھ نہیں ” وہ مزے سے ہنس رہا تھا ۔۔
نین بھی ہنس کر سر ہلانے لگی ۔۔
ویسے کوئ میری پرواہ نہیں تمھیں ” کبیر نے ۔۔ افسوس سے نین کو دیکھا ۔۔
اسکے ساتھ مل کر شوہر کے بے عزتی پر ہنس رہی ہو ” وہ خفا ہوا
ہے تو سہی وہ گنجا نہیں کریں گے آپکو ” وہ شرارت سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔
کبیر آنکھوں انکھوں میں وارن کرنے لگا ۔۔۔
اوو بھائ چل اب جا اپنے کام دھندے پر ” سالار بیچ میں کباب میں ہڈی بننے لگا ۔۔
جا رہا ہوں ” کبیر نے کہا اور گاڑی میں سوار ہوا ۔۔۔
نین اور سالار ایک ساتھ کھڑے تھے کبیر نے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔
اور پلیز زرا دیر سے آنا ” سالار نے خالص زنانہ آواز میں کہا ۔۔ تو نین کا ایکدم قہقہ ابھرا جس پر ۔۔۔۔اسنے جلدی سے منہ پر ہاتھ رکھا سالار الگ ہنس رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ کبیر تپ کر اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔
بہت برداشت کر رہا ہوں میں تمھیں ۔۔۔۔” کبیر نےا نگلی اٹھائ ۔
سالار نے لاپرواہی سے ۔۔۔ شانے اچکائے ۔۔۔
خیال سے جائیے گا ۔۔” نین نے گاڑی موڑتے ہوئے اسے کہا ۔۔۔
جس پر وہ مسکرا کر باہر گاڑی نکال لے گیا ۔۔
اوہ تو یہ کہنا تھا ” سالار نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
آپ بے حد تیز ہیں” نین نے نفی میں سر ہلاتے مسکراہٹ روکی ۔۔۔
کہاں بھابھی جی ۔۔میں تو اس قدر معصوم ہوں کہ بس ایک عدد بیوی چاہتا ہوں ” مدیھا کے شانے پر ہاتھ رکھتا وہ بولا ۔۔
اے دیکھ لو اس لڑکے کو شادی کی کتنی جلدی ہے ” نانی مسکرائیں ۔۔
نانی آپکی مسکراہٹ میں تو خطرہ ناچ رہا ہے ۔۔
بزرگو مجھے تو ڈر لگ رہا ہے مت مسکراو ” وہ ڈھٹائی سے بولا ۔۔ جبکہ مدیھا نے اسکے سر پر تھپڑ لگایا ۔۔
بدتمیز ہو تم بہت” مدیھا بولیں نانی کی تو واقعی مسکراہٹ رک گئ ۔۔۔۔
سالار کو خوامخواہ ہنسی آنے لگی اور ۔۔ نین کا اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو گیا ۔۔ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر ادھر ادھر ہو گئے ۔۔
کیونکہ نانی کے ہنسنے سے زیادہ اس سنجیدہ شکل کو دیکھ کر اور ہنسی ا رہی تھی ۔۔۔
اماں پلیز برا نہ منائیں گا وہ آپ جانتی ہیں زرا منہ پھٹ ہے “مدیھا نے انکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔
ہاں مدیھا پتہ ہے ۔ خیر بچہ ہے چھوڑو مجھے تم سے بات کرنی ہے جا ایمن تو جا یہاں سے “ساتھ ہی انھوں نے ایمن کو کہا جو ۔۔ سالار کی حرکتوں پر مسکرا رہی تھی وہ بات سمجھتی جلدی سے اٹھ کر وہاں سے بھاگی اور چھپ کر نانی کی باتیں سننے لگی ۔۔۔۔
جی اماں” مدیھا نے پوچھا ۔۔۔
میں چاہتی ہوں ۔۔ کہ سالار اور ایمن کی منگنی کر دی جائے “
وہ بولیں تو مدیھا تو حیران رہ گئ ۔
جی اماں۔ مگر ایسی تو کوئ بات نہیں تھی” وہ حیرت کم کرتیں بولی ۔۔
تو کہہ تو رہی ہوں بس ہو جائے گی بات بھی ” وہ بولیں تو ۔۔ مدیھا ۔۔۔۔ تو سالار کا سوچنے لگی ۔۔
وہ تو تنگ کر کے رکھ دیتا اسکو اگر وہ پوچھ بھی لیتی بالفرض اس بارے میں ۔۔۔۔
وہ پریشانی سے ماں کو دیکھنے لگی ۔۔
مدیھا کبیر کی باری بھی تو نے میری بچی کا دل دکھایا تھا ۔۔۔ بس سالار کے باپ سے بات کر لے ۔۔۔” وہ بولیں تو ۔۔ مدیھا بس سر ہلا گئ کہتی بھی کیا ماں تھیں وہ اسکی ۔۔
نانی خوش ہو گئیں جبکہ ایمن کا دل بھی تیزی سے دھڑکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔وہ سیب کھاتے ہوئے فون یوزکر رہا تھا کہ نظر ایمن پر پڑی جو چھپ کر باہر کو جھانک رہی تھی ۔۔
ہیلو جاسوس ایمن کس کی جاسوسی ہو رہی ہے اوہ ہو نانی کی ۔۔
وہ تو تمھاری ہی ٹیم کی ہیں محترمہ ” وہ اسی کیطرح باہر جھنکتا ہوا بولا ۔۔۔۔
ایمن دل پر ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
جبکہ اسے رتی بھی فرق نہیں پڑا ۔۔۔۔
پاگل ہو ۔۔۔ ” سالار نے اسکی حرکت پر پوچھنا ضروری سمجھا پھر وہ شرمانے لگی ۔۔
بلکل نہیں ” اسنے کہا
ہاں مجھے پتہ ہے پوری چیز ہو خیر بھابھی کو دیکھا ہے غائب ہی ہو گئیں ” سالار ادھر ادھر دیکھتے بولا ۔۔۔ ایمن نے اسکیطرف دیکھا ناگواری سے اسکے پاس سے تو جانے کی جلدی کرتا تھا ۔۔۔
کچن میں ہیں ویسے ایک بات ہے ” کہتے ساتھ ہی وہ بولی سالار نے کچن کیطرف قدم بڑھائے
کیا ” سوال بھی کیا
آپکو اپنی بھابھی سے زرافاصلہ رکھنا چاہیے” وہ دونوں چلتے ہوئے کچن کے نزدیک ا گئے سالار نے رک کر اسکو دیکھا ۔۔
وہ کیوں ” وہ شانے اچکا کر پوچھتا اندر ا گیا ۔۔۔
ایمن اسکے اندر جاتے ہی خاموش ہو گئ ۔۔۔۔ جبکہ سالار نے اسکو چھوڑنا نہیں تھا اب ۔۔
بتاو بھی وہ کیوں ” اسنے شیلف پر بیٹھتے کھیرا اٹھا کر کھاتے پوچھا ۔۔۔
کیا ہوا” نین سلاد کاٹ رہی تھی صوفیہ اور تنزیلہ کی دونوں کی ہی طبعیت ٹھیک نہیں تھی جبکہ افشین کوکینگ کرتی ہی نہیں تھی ۔۔ تبھی اسنے سوچا وہ خود کر لے ۔۔۔۔
یہ کہہ رہی ہے مجھے آپ سے فاصلہ رکھنا چاہیے” سالار نے لاپرواہی سے کہا ۔۔۔
وہ کیوں” نین اسکی شکل دیکھ کر ہنسی ۔۔
ایمن سر نفی میں ہلاتی نکل گئ ۔۔
ہممم باندری” سالار نے نخوت سے کہا اسکی ذہانت تو سمھجہ گیا تھا ۔۔
خیر چھوڑیں آپ کچھ لوگوں میں سینس نہیں ہوتی” نین نے اسکو زراغصے میں دیکھا تو کہا ۔۔۔۔
ہمم ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ ۔ خیر میں آپکی ہیلپ کرتا ہوں آج کوکینگ میں ہٹیں زرا ” اسنے سالن میں چمچ چلا کر چکھا ۔۔
اوہ ااس میں تو مرچی ہی نہیں تھوڑی ڈال دیتا وہ۔ آپکے شوہر کو بہت پسند ہے ” وہ شرارتی لہجے میں بولا اور نین ابھی کچھ کہتی کے بھر بھر کے چمچ ڈال دیے ۔۔
نین کا منہ کھل گیا ۔۔سالارجبکہ مطمئین ہوا ۔۔۔۔ دونوں جانتے تھے کبیر مرچوں ولاا کھانا نہیں کھاتا ۔۔۔
یہ کیا کیا آپ نے کھانا تو ۔۔۔ ” وہ رک گئ ۔۔۔
یار اب یہ مزے دار ہو گیا ہے ” سالار نے وکٹری کا نشان دیکھایا اور ہنسنے لگا ۔۔
آپکی بیوی بہت تنگ رہے گی ” وہ پھر سے کھیرہ کھانے لگا ۔۔
یار نظر تو آئے ۔۔۔۔ میں شریف ہو جاؤ گا پکا ۔۔ویسے بھی اب تو میں کل سے جا رہا ہوں یہاں سے اب میرا اور بابا کا دنگل لگے گا ۔۔ اکھاڑے میں دو ۔۔۔ پہلوان لڑیں گے ۔۔اور آپکا دیور جیت جائے گا ۔۔” وہ فخر سے کالر اکڑا کر بولا نین نے ہنسی روکی ہر بات ہی ایسے کرتا تھا کہ ہنسی ا جائے
وہ کیوں کہاں جا رہے ہیں آپ” اسنے پوچھا ۔۔۔۔
اور سالن کو چیک کرنے لگی جس میں مرچیں کافی تیکھی ہو گئ تھی ۔۔۔۔
اسنے افسوس سے ۔۔۔ اس سالن کو صیحی کرنے کی کوشش کی ۔۔
یار میں نالائق نہیں ہوں ۔۔۔ ایک دنیا کے دلوں کی دھڑکن ہوں ۔۔۔ اب مجھے انکی دھڑکنیں بڑھانی ہیں اور اپنا بینک بیلنس بھی بڑھانا ہے تو ۔۔ دوبارہ کام پر جانا ہے “
ہر بات کا الٹا جواب ہے آپ سیدھی طرح بتائیں ۔۔۔ آپ کی شوٹنگ ہے ” نین نے کہا تو ۔۔ سالار نے سر ہلایا ۔۔
ہاں وہ ہی” وہ میٹھا چکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
نین نے اسکے ہاتھ سےباول لے کر پیالی میں ڈال کر اسکو دیا ۔۔
تھینکیو ۔۔سسٹر ” وہ بولا ۔۔۔۔
تو آپ گھر نہیں آیا کریں گے” نین نے اسکیطرف دیکھا جو بہت ہینڈسم تھا اپنی لاپرواہ شخصیت کی وجہ سے اور بھی دلچسپ لگتا تھا ۔۔۔۔
جی ۔۔ ایکچلی ۔۔ جہاں ڈائریکٹر شوٹینگ کرتا ہے وہیں جانا پڑتا ہے خیر فلحال تو ۔۔۔ ریمپ شو ہے “اسنے بتایا ۔۔۔
اچھا” نین بولی ۔۔۔۔ تو سالار نےا سکی جانب دیکھا ۔۔۔
یار اپنی جسیی ہی کوئ ڈھونڈ دیں ” وہ اور میٹھا لیتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
میری جیسی ” نین ہنسی ۔۔۔۔
تنگ ا جائے گی آپ سے ۔۔”نین نے اسے صیح طرح نکال کر دیا ۔۔
نہیں میں بہت نیک انسان ہوں آپ اسے بتائیے گا یہ میں لے جا رہا ہوں ۔۔۔ آپکا شوہر آئے گا پھر ملیں گے ” وہ اسے بائے کہتا اپنے روم میں چلا گیا جبکہ نین بس مسکرا دی ۔۔۔اور کھانا بنانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارض اپنی شرٹ میں آیت کو دیکھ کر بس اسی کی جانب دیکھتا رہا ۔۔۔۔
اسکے پاس تو سب تھا وہ سیراب کے پیچھے دوڑا ۔۔۔
یہ شکر تھا اسنے دیر نہیں کی لوٹنے پر ۔۔۔اگر وہ کر دیتا تو شاید وہ ساری زندگی پشتاتا۔۔
اسنے اسکے بال سنوارے جبکہ آیت نے الجھن سے اسکی طرف سے کروٹ لے لی ۔۔۔ ایک دن میں وہ تو عارض سے تنگ آ گئ تھی
جبکہ عارض نے شرٹ کا کلر کھینچا اور اسکی گردن پر ۔۔۔ لمس رکھا ۔۔۔۔۔
آیت نے بیڈ شیٹ کو۔۔ سختی سے مٹھی میں جکڑ لیا ۔۔۔
اس لمس کی شدت کو وہ ۔۔کل رات سے ہی برادشت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔۔
بھاگ چلو میرے ساتھ ” وہ اسکے کان کے قریب بولا جبکہ ٹھوڑی اسکے شانے پر رکھی ۔۔۔۔
بڑے بھیا آپکو درست کر دیں گے ” آیت نے رخ سیدھا کرنا چاہا ۔۔۔ لبوں کی مسکان پتہ دے رہی تھی وہ کتنی پرسکون ہے اور خوشی محسوس کر رہی ہے ۔۔۔۔
ہاں مجھے کیا پتہ تھا میں ۔۔۔ اتنے بھائیوں کی بہن میں پھنس جاؤ گا “
عارض نے اسکے گال پر پیار کیا ۔۔
عارض میں ہم باہر کب گھومنے جائیں گے “
کون کافر یہاں سے ہلے گا ۔۔۔۔ سوئیٹ ہارٹ” وہ اسکو خود پر کھینچتا بولا ۔۔۔
عارض ” آیت اسکی حملے پر گھبرا سی گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے