Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

روز ایک ہی بات کرتے تم تھکتے نہیں “سمیر کو دیکھتے وہ بولے ۔۔۔ جبکہ
اس دن کے بعد ان ۔میں سے کسی نے بھی انکو نہیں بلایا تھا ۔۔۔۔ اور یہ بات سمیر کو لگ ہی نہیں رہی تھی بے عزتی تھی ۔۔۔۔
مجھے توڑنا ہے اس گھر کو ۔۔۔۔۔ بکھیر کے رکھنا ہے اس گھر کو ۔۔۔۔ میری عزت ۔۔۔ دو کوڑی کی کر کے وہ لوگ خوشیاں نہیں بنا سکتے ۔۔ یہ بات سن لیں آپ ۔۔۔۔۔ ” سمیر بھپرا ۔۔۔۔ جبکہ ۔۔۔۔ اسکے باپ نےا سکیطرف دیکھا ۔۔۔۔ جو جیسے چین ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔۔۔ جبکہ اتنے عرصے میں وہ ہزار ہا بار اسے سمھجا چکے تھے مگر دوسری طرف فرق نہیں پڑا رہا تھا وہ وہیں کا وہیں کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
تم اس بات کو بھول جاؤ ۔۔۔۔۔ اور اپنی زندگی شروع کرو میں جانتا ہوں تمھیں اس لڑکی میں دلچسپی نہیں ” وہ پریشے کے متعلق بولے جبکہ سمیر مسکرا دیا ۔۔۔۔
سیگریٹ کا گھیرہ کش لیا ۔۔۔۔۔
لڑکیوں میں کس کو دلچسپی نہیں ہوتی ۔۔۔ یار ۔۔۔۔ آپ کو تو حد سے زیادہ ہے ” وہ ہنساتو اسکا باپ بھی اسکے ساتھ ہنسنے لگا ۔۔۔
مگر وہ آخری لڑکی نہیں ہے دنیا کی اور میں نہیں چاہتا ۔۔ کہ وہ گھر تو بکھرے نہیں البتہ وہ لوگ مل کر تمھیں کہیں کا نہ چھوڑیں ۔۔”
وہ پریشان ہوئے
ان لوگوں کو لگتا ہے ۔۔ میں کچی گولیاں کھیل رہا ہوں ۔۔ میرے پاس ایسی بات ہے جو آگ ہے آگ ۔۔۔ بم سمجھو ۔۔ جس دن یہ بات سالار تک پہنچ گئ ۔۔اس دن ۔۔۔۔ مرتضی اینڈ سنز ۔۔۔۔۔
شووووو
ریت کی مانند یہ مظبوط عمارت ٹوٹے گی ۔۔۔۔ اور اس دن دنیا انھیں ٹوٹتا دیکھے گی ۔۔۔ اور میں بھی دیکھو ۔۔۔۔۔گا۔ ” سمیر کی بات سے سامنے والے کی آنکھوں میں دلچسپی ناچ سی گئ۔۔۔۔
کیا پتہ ہے تمھیں ایسا ” وہ جلدی سے شراب کا گھیرہ گھونٹ بھرتے بولے ۔۔۔
جبکہ سمیر کا قہقہ نکلا ۔۔۔۔۔
اور اسنے سانس اندر کھینچا ۔۔۔۔۔۔
یہ تو کہانی ۔۔۔۔ مزے دار ہو گی ۔۔۔۔ آپکو انتظار کی ضرورت ہے سب سے پہلے تو آپ ایک بار پھر جائیں وہاں رشتہ لے کر۔ ” سمیر نے کہا اور خود بھی بوتل سے وہ حرام شے گلاس میں ڈالنے لگا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکا باپ ۔۔ خاموش ہو گیا تھا وہ جانتا تھا وہ ۔۔۔۔ اپنی بے عزتی کو کبھی نہیں بھولا ہے ۔۔۔۔ اور نہ ہی وہ ۔۔۔ کبیر کا اسکو نکالنا بھولے گا ۔۔۔
سمیر نے گلاس اٹھا کر باپ کیطرف بڑھایا اور مزے سے چیرز کر کے وہ مسکراتا ہوا دور ہو گیا ۔۔۔ اور آہستہ آہستہ پرسوچ نظروں سے ۔۔ وہ آنے والے وقت کو سوچنے لگا جس نے اسکا دل گدگدا دیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آفس سے گھر ۔۔۔ کسی کام سے آیا تھا ۔۔ عجلت میں تھا ۔۔عارض چونںکہ یہاں نہیں تھا ۔۔۔ اسی لیے ۔۔۔ وہ خود گھر ا گیا ۔۔۔۔ اور جلدی سے روم میں آیا ۔۔۔۔۔۔
تو اچانک ٹھٹھک کر رہ گیا ۔۔۔۔۔۔
سامنے کا منظر ہی ایسا تھا کہ اسے ہر صورت تھمنا پڑا ۔۔۔۔۔۔
دروازے میں وہ یوں ہی پھنسا کھڑا تھا جبکہ ۔۔ مدیھا ۔۔۔۔ نے نین کی ساڑھی کا پلو ۔۔۔ اسکے بازو پر ڈالا ۔۔۔۔ اور کٹینگ سے تراشیدہ بالوں کو ۔۔ سمیٹ کر ایک شانے پر کر دیا ۔۔۔۔
اور مسکرا کر اسکو آئینے میں دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ ” مدیھا نے کہا تو ۔۔۔ نین کنفیوز سی ہوتی سر جھکا ۔۔۔ گئ دونوں نے ہی پیچھے بت بنے کھڑے کبیر کو نہیں دیکھا ۔۔۔
ویسے تمھاری ہائیٹ ساڑھی کے لیے پرفیکٹ ہے ” مدیھا نے ۔۔۔۔ اسکے گالوں پر مزید لالی بکھیر دی ۔۔ جبکہ بلش نے گالوں کو سرخ کر دیا ۔۔۔ حقیقتاً وہ خود بھی شرماہٹ سے سرخ سی رہ گئ ۔۔۔ تھی ۔۔۔
نین کچھ نہیں بولی ۔۔۔ البتہ دل میں شور سا اٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔
اسنے اس عجیب سے شور کو ۔۔ دبا دیا ۔۔۔ کیونکہ اکثر احمد اسے کہتا تھا کہ اسکی ہائیٹ اور احمد کی ہائیٹ پرفیکٹ ہے ۔۔ وہ دونوں ساتھ کھڑے ایک دوسرے کے لیے بنے ہوئے لگتے ہیں ۔۔۔
اور آج مدیھا کی بات پر وہ ۔۔ ایکدم پیچھے چلی گئ ۔۔۔
اور کافی دقت سے اسنے اپنے آپ کو ۔۔۔۔ گھسیٹ کر دوبارہ آگے بلایا تھا ۔۔۔۔ وہ پھیکا سا ہنسی ۔۔
میں بھی ریڈی ہو جاتی ہوں ۔۔۔۔ عمل اور پریشے تو دیکھو لگتا ہے تیار ہی ہو گئیں ہیں ” مدیھا نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
آج وہ لوگ ۔۔ مدیھا کی فرینڈ کے ہاں جا رہے تھے ۔۔۔ زین کے ساتھ ۔۔ زین اپنے روم میں تھا جبکہ ۔۔۔ باقی سب تیار ہو رہے تھے جن میں ایمن بھی شامل تھی ۔۔۔نانی کی طبعیت البتہ بلکل اچھی نہیں تھی تبھی وہ نہیں جا رہیں تھیں ۔۔۔۔
نین نے سر ہلایا ۔۔۔اور مدیھا پلٹی تو بیٹے کو بت بنا دیکھ ۔۔۔۔اسکی ہنسی نکل گئ ۔۔۔
آپ یہاں کب سے کھڑے ہیں ۔۔۔اور ہمیں احساس بھی نہیں رہا ” وہ کبیر کے پاس آئ ۔۔۔۔
کبیر جیسے ہوش میں آیا ۔۔
جی وہ میں کچھ فائلز لینے آیا تھا رات وہ ساری رات ہی ان فائلز سے سر کھپاتا رہا تھا ۔۔۔۔
اور آج صبح یہ منظر دیکھ کر تو ۔۔۔ گھوم ہی گیا دماغ ۔۔۔وہ خود کو کمپوز کرتا اندر آیا ۔۔۔۔
اور اپنی مطلوبہ جگہ پر فائل کو تلاشنے لگا جبکہ فائل تو اوپر ہی پڑی تھی ۔۔
نین ایکدم آگے بڑھی ۔۔ کبیر کی ناک کے نتھنوں سے ۔۔ خوشبو ٹکرائی ۔۔۔۔ اسنے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔جزبات کی توڑ پھوڑ لاگ ہو رہی تھی
یہ رہی آپکی فائلز آپ ایسے ہی چیزیں الٹا رہے ہیں ” نین نے کچھ بھی نہ سمھجتے ہوئے کہا اور ۔۔۔ سنجیدگی سے ۔۔۔ فائلز اسکو تھما کر وہ اسکی ٹیبل درست کرنے لگی جبکہ کبیر کے حلق میں تو نین اڑ ہی چکی تھی ماں پیچھے کھڑی ہنس رہی تھی ۔۔۔۔
کبیر نے اوہ ہاں کہہ کر فائل کو ہاتھ میں تھاما ۔۔۔اور جیسے اپنے پاؤں کو گھسیٹنے لگا ۔۔
مدیھا اب بھی وہیں کھڑی تھی شاید بیٹے کی حالت سمھجتے جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہی تھی جبکہ ۔۔ اسکی بیوی تک تو اسکے اندر کے سگنلز پہنچ ہی نہیں پا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا کبیر بیٹے جانا نہیں “مدیھا نے پھر سے پوچھا ۔۔۔
ج۔۔جی مما میں جا رہا ہوں ۔۔۔ بس فائلز تو مل ہی گئ ۔۔۔” وہ دانت کچکا کر ایک نظر نین پر ڈالتا بولا ۔۔۔۔
اوہ ۔۔۔ ہاں ۔۔” نین کو ایکدم جیسے کچھ یاد آیا ۔۔۔
کبیر کے جاتے ہوئے قدم رک گئے۔۔۔۔۔ جیسے وہ یہ ہی چاہتا ہو
یہ بھی بھول گئے تھے آپ صبح جلد بازی میں میں نے سمبھال کر رکھ لی تھی ” نین نے فلیش اٹھا کر اسکو دی ۔۔اسے یاد آیا ۔۔ یہ اسنے لیپ ٹاپ کے بیگ میں نہیں ڈالی تھی ۔۔۔ مگر وہ ۔۔۔۔ کچھ دیر اس بات کو پیٹ میں بھی دبا سکتی تھی تا کہ مما کے سامنے کوئ بھانا تو ہوتا وہاں کھڑے ہونے کا تھوڑی دیر ڈھونڈ تو سکتی تھی۔۔۔۔۔ مگر نہیں ۔۔۔عجئب نالائق لڑکی تھی “
کبیر سوچنے لگا ۔۔اوکے ہاتھ سے فلیش جھپٹنے والے انداز میں چھینی ۔۔۔
نین نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
مگر وہ بولی کچھ نہیں جبکہ مدیھا ۔۔۔ باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔
آجائیں کبیر آپکے بابا غصہ کریں گے” جاتے جاتے بھی وہ
۔۔۔ کہہ گئ تھی ۔۔
جی جا رہا ہوں “کبیر نے کہا اور انکے پیچھے پیچھے نکلا ۔۔۔اور جیسے ہی مدیھا اپنے کمرے میں بند ہوئی۔ ویسے ہی کبیر نےا پنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور فائلز دور اچھال کر ۔وہ ایک جست میں نین تک پہنچا ۔۔ جس کی ایکدم چیخ نکلی اور وہ ۔۔ اس سے دور ہوتی کے کبیر نے اسکو ۔۔۔ پکڑ کر ۔۔ بسترپر پھینکا ۔۔۔
نین کے لیے یہ سب غیر متوقع تھا ۔۔۔۔
وہ بستر پر۔۔ ایکدم گیرنے سے بکھر سی گئ ۔۔۔۔۔ حلیہ خراب ہو گیا
اسکا پلو نیچے کو سرک گیا جبکہ ۔۔۔۔ بال بستر پر پھیل گئے ۔۔۔۔
کبیر نے ایک ہاتھ اسکے ایک طرف رکھا ۔۔۔اور وہ اسپر جھکا ۔۔۔۔
نین کو لگا دھڑکنوں کا شور چارو جانب گونجنے لگا ہو ۔۔۔۔ سانسوں کے آنے جانے میں دقت سی ا گئ ۔۔۔
اسکا ہینڈسم چہرہ ۔۔۔۔ اسکے گھبرائے ہوئے چہرے کے نزدیک۔ تھا ۔۔۔۔۔
تمھیں مجھ سے پیار تو بلکل نہیں ہے مجھے ایک بات تو پتہ چل گئ ہے ” کبیر نے اسکے چہرے سے گردن تک کا سفر انگلی کے زریعے طے کیا ۔۔۔
لہجہ گھمبیر تھا ۔انداز مخمار تھا ۔۔۔۔۔
دل کی دھک دھک ۔۔۔ تھی جبکہ ۔۔۔۔ تنہائ پرلطف تھی ۔۔۔۔
نین البتہ اسکے لفظوں سے ۔۔۔۔۔ اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔۔
کبیر نے اسکی پلکوں کو اپنا لمس دیا ۔۔۔
نین نے پھر سے اسکی شرٹ کو مٹھی میں جکڑ لیا ۔۔۔۔
جبکہ کبیر اسی سچویشن میں تھا مگرا سکی اس طرح شرٹ پکڑنے پر
۔ اچانک وہ غصے میں ا گیا ۔۔۔
اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر اوپر بستر کو لگا دیے ۔۔۔
ایم۔۔ایم سوری”نین نے شرمندگی سے ۔۔۔ شکن زدہ شرٹ کو دیکھا ۔۔۔۔۔
یہ ضروری ہے تمھارا کرنا ” وہ سختی سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
نین نے ایک بات محسوس کی تھی ۔۔۔ اسکے لباس میں شکن ا جاتی تھی تو وہ عجیب جزباتی ہو جاتا تھا ۔۔۔۔۔
نین نے پلکیں گیرا ۔لیں ۔۔
میری طرف دیکھو ۔۔۔ جرم کر کے ۔۔۔۔ نگاہیں جھکا لیتی ہو ” کبیر نے کہا ۔
نین لب کاٹنے لگی مگر اسکے آگے مزاہمت نہیں کی ۔۔۔خود کو اس سے چھڑانے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ خود کو جیسے اسکے حوالے ۔۔۔ کر دیا ۔۔۔۔۔
یہ جرم تو نہیں ہے ۔۔اپ تو ۔۔۔ شرٹ پکڑنے پر غصہ ایسے کرتے ہیں جیسے میں نے نہ جانے کیا کر دیا ہو ۔۔۔”نین کو بھی غصہ ایس بندہ کسی اچھی بات پر ہی غصہ کر لے ۔۔۔۔
خود ایسی حرکتیں کرتا تھا ۔۔اور جب وہ گھبرا کرا سی کا سہارا لینا چاہتی تھی تو غصہ کرتا تھا۔ ۔۔۔
میں نے تمھیں بتایا ہے کے مجھے شکن نہیں پسند “
تو اپنے جزبات کو قابو میں رکھا کریں ” نین نے اب کے مزاہمت کی اپنے ہاتھ اس سے چھڑوا لیے ۔۔۔۔ اور اسے خود پر سے دور کرنے لگی ۔۔
انداز میں خفگی سما گئ ۔۔۔۔۔
کبیر نے گھیرہ سانس لیا ۔۔۔۔ وہ اس معاملے میں مجبور تھا ۔۔۔۔
وہ نین کی کوشش کے باوجود بھی اسپر سے نہیں ہٹا ۔۔۔ اور اپنا ہاتھ اسنے اسکی گردن میں حائل کیا ۔۔۔۔ اور اسکے چہرے پر جھک گیا ۔۔۔۔
اسکے غصے کو سانسوں کے زریعے خود میں اتارنے لگا ۔۔۔۔۔ نین نے پھر سے اسکی شرٹ مٹھی میں گھبرا کر جکڑ لی ۔۔۔۔
جبکہ کبیر ۔۔۔۔۔ نوٹس تو کر چکا تھا ۔۔۔ مگر فلحال جزبات اتنے بے قابو تھے کے وہ پیچھے نہیں ہٹا ۔۔۔ مگر سزا سی دے ڈالی ۔۔۔ہمیشہ نرمی برتنے والا انسان ۔۔ آج اسکو جس شدت سے لمس کی حرارت دے رہا تھا ۔۔۔
نین مچل سی گئ ۔۔ پھڑپھڑا کر خود کو اسکی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی مگر کبیر نے اسکی سانسوں کی جان بخشی کرتے ساتھ ۔۔ پلو کو مٹھی میں جکڑ کر دور کیا ۔۔۔ اور جا بجا ۔۔۔۔۔ لمس کی شدت چھوڑتا گیا ۔۔۔۔ جس نے واضح دلیل دے دی کہ اب نین اس ساڑھی کو پہننے کی سچویشن میں نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔
اسکی سانسیں پھول گئ تھیں ۔۔۔ لبوں کو دانتوں میں سختی سے دبائے اسنے یہ سب برداشت کیا ۔۔۔۔
اور جب تک اسکادل کیا وہ یہ برداشت کرتی رہی ۔۔۔
اور پل سرکتےسے چلے گئے ۔۔
وہ اس میں مدہوش ہو گیا تھا ۔۔۔ نین نے اسے ۔۔۔ ہٹانے کی ایک بار کوشش کی مگر۔۔۔اسے اندازا ہوا ۔۔ کہ اس وقت وہ بے حد سنجیدہ ہے ۔۔۔ تبھی اسکے ہاتھوں نے دم توڑ دیا ۔۔۔۔اور وہ ۔۔انکھیں بند کر گئ ۔۔۔۔
حیا اسکے جسم میں سسرا سی گئ ۔۔۔۔
اسنے اسکی شرٹ کو مٹھیوں سے چھوڑا اور ۔۔۔۔ بیڈ شیٹ کو جکڑ لیا ۔۔۔۔
کبیر اپنی مرضی سے دور ہوا ۔۔۔۔۔
نین کی بکھری ہوئی حالت دیکھنے لگا ۔۔۔
نین اسکے اٹھتے ہی آنکھیں کھول گئ ۔۔۔۔
جس نے ۔۔اپنی اوپری دو بٹن اس دوران کھول لیے تھے ۔۔۔
وہ سنجیدہ نظروں سے مطمئین سا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
باقی کا حساب رات کو ہو گا ۔۔۔ تا کہ تمھیں عقل آئے کہ میں کس وقت کیا محسوس کرتا ہوں ۔۔۔اور ایک اور بات ۔۔ میری شرٹ میں دوبارہ شکن نہ ڈالنا ورنہ سزا اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئ ۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔اور کوٹ اتار کر شرٹ اتارنے لگا
۔۔ وہ اب ٹی شرٹ پہنے کا ارادہ رکھتا تھا کیونکہ نین کے جو تیور تھےو ہ یہ تو بلکل نہیں بتا رہے تھے کہ نین اٹھ کرا سکی شرٹ استری کرے گی ۔۔۔۔
نین نے اپنی ساڑھی کا پلو خود پر کھینچا۔۔۔۔اور اٹھی ۔۔۔ جیسے ہی وہ آئینے کے سامنے آئ اپنا حولیہ دیکھ کر دنگ رہ گئ ۔۔
اسکے لبوں پر لیپسٹک کا نام و نشاں نہیں تھا۔
جبکہ اسکا مسکارا بھی پھیل گیا تھا ۔۔۔۔ اور جا بجا اسکی شدتوں کے نشاں ۔۔۔۔
نین تو تپ ہی گئ ۔۔۔
میں آپکی ساری شرٹس میں آگ لگا دوں گی کبیر” وہ پہلی بار اس طرح غصے سے بھڑکی تھی ۔۔
کبیر ٹی شرٹ پہن کر ۔۔۔ باہر آیا ۔۔ لبوں کی تراش میں مسکراہٹ چھپاتا ۔۔۔ وہ اس تک آنے لگا کہ نین دور ہوئ ۔۔۔
چلو آگ لگا دینا غصہ تو کم کرو “
آپ جائیں یہاں سے ۔۔اور آپ لے کر دیکھائیں مجھ سے حساب اسکا حساب تو میں آپ سے لوں گی ۔۔” اسنے بھڑک کر کہا ۔۔
جبکہ بالوں کو جوڑے کی قید میں کیا ۔۔۔
کبیر کو اپنے پاس بھی نہیں آنے دے رہی تھی جہاں وہ جاتا وہاں سے پلٹ جاتی ۔۔۔۔۔۔
تو سمھجا کرو نہ میری آنکھوں کے تیور “
جی آج تو اچھے سے سمھجہ گئ ہوں میں ۔۔” نین نے چیزیں پھینکی ۔۔۔
ویسے ساڑھی ۔میں تم ۔۔۔۔”
وہ ڈریسنگ ٹیبل کیطرف جاتی پلٹی خون خوار شیرنی کی طرح آنکھیں نکال کر اسکو دیکھنے لگی ۔۔ کبیر نے ۔۔ زبان دانتوں تلے دبا لی ۔۔
میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں ۔۔۔ رات میں بھی پہنا کرو بہت اچھا اور آسان لباس ہے” وہ آنکھ دبا کر بولا ۔۔۔۔
نین کی حالت ایسی تھی ابھی پھٹ جائے گی ۔۔ جبکہ کبیر کو اپنی ماں کی آواز آئ ۔۔ تو وہ جلدی سے وہاں سے ۔۔۔ نکل۔گیا ۔۔ جبکہ نین خود گھبرا کر ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی ۔۔۔ وہ اسکی طرف دیکھ کر اسکے بارے میں کیا سوچتی ۔۔۔تبھی وہ ڈریسنگ روم میں بند ہو گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار اس وقت اپنے فلیٹ کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
لبوں میں سیگریٹ دبی تھی جو کہ وہ گھر کے باہر ہی پینے کا شوق پورا کرتا تھا ۔۔۔ مگر اسکا پورشن اتنا سیپریٹ تھا کہ وہ پی سکتا تھا آرام سے ۔
پی آئے بھی خاموش کھڑا تھا ۔۔۔
سالار نے سیگریٹ کو لبوں سے نکالا ۔۔۔ اور دھواں باہر نکال کر ۔۔۔ وہ ابھی دروازہ کھولتا ہی کہ اسکی آواز پر رکا ۔۔۔
مڑ کر دیکھا ۔۔
سر سیگریٹ یہیں پھینک جائیں ” پی آئے کی بات پر اسنےا یک آئ برو اچکائ ۔۔
کیوں ۔۔۔۔ ” وہ دروازہ چھوڑ اب ۔۔اسکی جانب مڑ گیا ۔۔۔
میرا مطلب ۔۔۔ میم پہلے بھی غلط سمھجہ گئ تھی ۔۔ ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔۔
تیری” سالار نے اسکے پیٹ میں مکہ مارنے کی ایک دم کوشش کی مگر مجال ہے دوسرے پر فرق بھی پڑا ہو وہ اپنی جگہ سے بھی نہیں ہلا ساکت منہ لیے کھڑا رہا ۔۔۔۔
یہ جو تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو ۔۔۔ مجھے بہت برا لگتا ہے ” وہ بولا ۔۔۔اور پیٹ موڑ کر اسنے ۔۔۔ دوسری سیگریٹ لبوں۔میں دبا لی ۔۔ گویا بھرپور چڑایا تھا ۔۔۔ مگر پھر بھی جب اسپر اثر نہیں پڑا تو ۔۔وہ اسے بھاڑ میں پھینکتا ۔۔۔ دروازہ کھول کر اندر ا گیا ۔۔۔۔
فلیٹ تو ایسے چمک رہا تھا جیسے ۔۔۔۔۔
ہر چیز نئ ہو ۔۔۔۔۔
مگر وہاں تو کوئ بھی نہیں تھا ۔۔ وہ بنا آواز کے کچن کیطرف آیا ۔۔۔۔
وہاں پر بھی کچھ نہیں تھا مگر ۔۔۔۔
کھانا پلیٹ میں سجا ہوا تھا ۔۔۔ جس کو دیکھ کر ۔۔۔ وہ اس طرف آیا ۔۔۔اور میرر وال سے کمرے میں جھنکتا ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ پلیٹ سے ۔۔۔
چکن اٹھا اٹھا کر کھانے لگا ۔۔۔
یہ تو مزے دار ہے ” اسنے ۔۔ سوچا اور وہ پلیٹ ہی ہاتھ میں اٹھا لی ۔۔۔۔
انکی آخری ملاقات کافی خطرناک تھی جبکہ اسے تو یہ یاد بھی نہیں تھا اس ملاقات کے بارے میں وہ روم میں آیا ۔۔۔ تو بیڈ پر اسکا لیڈیز سامان دیکھ کر اسکی آنکھیں گھومیں ۔۔۔۔۔
جبکہ اب اسے اندازا ہو گیا وہ واشروم میں ہے ۔۔۔
مگر یہ سامان کہاں سے آیا ۔۔۔”وہ اٹھا کر دور پھینکتا بستر پر لیٹ گیا ۔۔۔
یہ جانے بنا کہ اسے تو شرم چھو کر نہیں گزرتی باہر نکلنے والی کا کیا حال ہو گا ۔۔۔۔
یہ چالاک میرا پی آئے تو نہیں کر رہا ۔۔۔ بہت خبیث آدمی ہے ” وہ بھڑکا ۔۔۔۔
اور کانٹے سے ایک اور چکن منہ میں رکھ کر وہ زیمل کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔
اچانک شاور بند ہوا ۔۔۔۔ پاؤں اوپر کر کے اسنے پاؤں ہلانے شروع کر دیے ۔۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا ۔۔۔ سالار کے اندر ۔۔۔ گویا ۔۔۔ شرارت ناچ رہی تھی وہ اسکا ریاکشن دیکھنا چاہتا تھا کیسا ہو گیا ۔۔۔۔
اسنے سیگریٹ جو باہر پھینک دی تھی کانٹا وہیں پھینک کر ۔۔ دوسری سیگریٹ کو جلایا ۔۔۔۔
ابھی وہ ۔۔۔ لائٹر سے سیگریٹ کو شعلہ ہی دے رہا تھا کہ ۔۔ دروازہ کھلا اور نازک وجود ٹاول میں لیپٹا باہر نکلا ۔۔۔۔۔
سالار کی آنکھیں وہیں جم گئ ۔۔۔۔ جبکہ سیگریٹ کا شعلہ بھڑک کر جل اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ زیمل کی اسکیطرف پشت تھی ۔۔۔۔
اور جیسے ہی اسنے رخ موڑا ۔۔۔۔ تو اچانک بے حد زور سے چلا اٹھی ۔۔
سالار کے اینگل میں البتہ کوئ تبدیلی نہیں آئی تھی وہ تو
۔اپنی جگہ جم ہی گیا ۔۔۔۔
زیمل دوبارہ واشروم میں گھس گئ ۔۔۔۔۔
سالار نے آنکھوں کو جھپکا ۔۔۔۔۔ چہرہ تپ اٹھا ۔۔۔
سیگریٹ کو ایک نظر دیکھا ۔۔۔۔
جو تقریبا جل چکی تھی کیونکہ وہ شعلے کو بھجانا لائیٹر کو بھجانا بھول گیا تھا ۔۔۔
اسنے وہ سیگریٹ ۔۔۔
وہیں پھینک دی ۔۔ صاف ستھرے ۔۔ گھر میں گند مچ گیا تھا ۔۔۔ مگر اسکی سانسوں کا بھاری پن ۔۔ جیسے بیان کر رہا تھا ۔۔ وہ حواسوں میں نہیں ہے ۔۔۔
یہ۔۔۔یہ کیا حرکت ہے آپجائیں یہاں سے کیسے آ سکتے ہیں آپ اسطرح’زیمل کی آواز ابھری جیسے ابھی رو دے گی
میں کیوں جاؤ محترمہ تم ہی میرے گھر میں ٹاول میں گھوم رہی ہو ۔۔۔۔ کیسی ہو تم تمھیں شرم نہیں آتی “وہ جیسے سانسیں بھال کرتا اب دوبارہ اپنی ٹون میں آ گیا تھا ۔۔۔۔
زیمل کا مقام ایسا تھا کہ زمین میں گڑھ جائے گی ۔۔۔۔۔۔
آپ ۔۔۔” وہ سمھجہ نہیں سکی کہ کیا کہے ۔۔۔۔۔۔شرمندگی سے ۔۔۔۔۔ اسکا سر ہی جھک چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے میں نے دیکھ لیا ” وہ دروازے کے پاس ا گیا ۔۔۔۔۔ اپنی ہنسی روکتا بولا ۔۔۔
اندر سے بلکل خاموشی چھا گئ ۔۔۔۔۔۔
اور کچھ دیر بعد ۔۔۔۔ اندر سے اٹھنے والی سسکیوں سے ۔۔۔ جیسے اسے وہ دن یاد آیا ۔۔۔ جب۔۔۔ اسنےا پنے پورشن میں سے اسے سسکتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔اسے اچھا نہیں لگا کہ وہ اسکے تنگ کرنے سے روئے ۔۔
ہے ریلکس یار ۔۔ میں نے کچھ نہیں دیکھا ۔۔۔۔ ریلکس ۔۔ اوکے رو مت ” وہ دروازے کو چھوتا بولا ۔۔۔۔۔
آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔” زیمل کی بھیگی آواز ابھری ۔۔۔۔
خیر یہ تو سچ ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں ۔۔۔” وہ بڑبڑایا ۔۔۔۔
نہیں مجھے کچھ یاد نہیں ۔ کہ میں نے کیا دیکھا۔۔” وہ بولا تو زیمل اسکی بات سمجھتی اور رو دی ۔۔۔۔
سالار اسکی آواز پر بے چین ہو ا۔۔۔
میرا مطلب غلطی میری ہے مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔ اب رونا بند کرو ” وہ حکم دینے لگا ۔۔۔۔۔
باہر آؤ ” اسنے کہا ۔۔۔
نہیں او گی آپ جائیں یہاں سے ” زیمل آنسو صاف کرتی بولی ۔۔۔۔
سالار نےا سکے سامان کو دیکھا جسے وہ پھینک چکا تھا ۔۔۔اور وہاں سے باہر نکلا ۔۔ چونکہ ۔۔۔۔میرر وال کی دیواریں تھیں تبھی وہ گھر سے باہر ہی نکل گیا ۔۔
باہر پی آئے صاحب ۔۔کھڑے تھے اسنے دروازہ بند کیا ۔۔۔
آپ نے ۔۔۔ پھر ہرٹ کیا ” وہ پوچھنے لگا ۔۔
پہلے تو مجھے یہ بتا ۔۔ تو میرا پی آئے ہے یہ اسکا چمچا ” سالار آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔۔۔
انکا بھائ” پی آئے کے الفاظ پر سالار ۔۔۔حیرانگی سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔
کیا مطلب ۔۔ تم دونوں میلے میں گم ہوئے بہن بھائ ہو کیا ۔۔۔” وہ آنکھیں پھاڑ کر بولا ۔۔۔۔۔
پی آئے نے گھیری سانس بھری ۔۔۔۔
آپ نہیں سمجھیں گے ۔۔۔” پی آئے نے نفی میں گردن ہلاتے رخ موڑ لیا ۔۔
سالے صاحب سمھجاو گے تو سمھجہ آئے گی نہ” وہ دانت نکالتا
۔۔اسکے شانے پر ہاتھ رکھتا بولا ۔۔۔۔۔
پی آئے ابھی کچھ بولتا کہ ۔۔۔۔ سالار کے سیل پر افان کی کال آنے لگی ۔۔۔۔
میں تو تم پر فاتحہ پڑھ چکا تھا” فون اٹھا کر وہ بولا ۔۔۔۔۔۔
میں نے بھی پڑھ دی تھی” افان نے بھی الٹا جواب دیا ۔۔۔
تجھے فاتحہ آتی بھی ہے” سالار نے ۔۔ گرج کر کہا ۔۔۔
مجھے تو آتی ہے ۔۔۔۔۔ الحمدللہ ۔۔۔تیرا پتہ نہیں”
اوو بھائ مجھے بھی آتی ہے سمھجا ۔۔۔۔ وہ پاگل مرا تو پورے تین بار پڑھیں تھی میں نے” سالار بولا جبکہ افان سمیت اسکے پی آئے نے بھی نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
عدیل تھا نام اسکا ” افان بولا ۔۔
ہاں وہی ” سالار نے کہا اور پھر سے سیگریٹ جلا لی ۔۔۔۔۔۔
خیر کیسے یاد کیا ۔۔۔۔ “
وہ دونوں اپنی باتوں میں مگن ہو گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب زیمل۔کو یقین ہو گیا کہ وہ اب باہر نہیں ہے اسنے دروازہ کھولا اور کمرے میں جھانکا ۔۔۔ کمرہ خالی تھا ۔۔وہ باہر نکلی ۔۔۔
تو سامنے اپنے سامان کو دیکھ کر اسکے اندر ہمت نہیں ہوئ وہاں تک پہنچ سکے ۔۔۔کانپتے قدموں سے وہ جلدہ سے وہاں تک پہنچی ۔۔اور جلدہ سے کپڑے لے کرواشروم میں گھس گئ ۔۔۔۔
شاید آج کے بعد وہ اس شخص کا کبھی سامنا نہیں کر پاتی ۔۔۔۔۔
جو آج اسے اندازا ہو گیا تھا حد درجے بدتمیز اور بدتہذیب تھا لڑکیوں کے کمرے میں منہ اٹھا کر تو نہیں آیا جاتا” وہ خود سے بولی ۔۔۔
یہ اسی کا گھر ہے” اچانک دل نے کہا ۔۔۔
وہ خاموش ہو گئ ۔۔۔۔۔۔
اور اپنے بال سلجھانے لگی جو بہت تیزی سے بڑھ چکے تھے ۔۔ لمبے بال اسے بہت تنگ کرتے تھے اسنے پورے گھر میں کینچی ڈھونڈی تھی بس کینچی ہی نہیں ملی تھی ۔۔۔۔۔
بال بھاری اور لمبے تھے اسے پسند بھی تھے جب عدیل نے جنگلیوں کیطرح کاٹے تھے تو ۔۔۔اسے دکھ ہو اتھا ۔۔وہ روئ۔ بھی تھی ۔۔۔ ہمیشہ سے دوسروں کو دیکھ کر دل میں خواہش ہوتی تھی اچھی سی کٹینگ کرانے کی مگر اس طرح نہیں جس طرح عدیل نے کھینچ کر کاٹ دیے ۔۔۔۔۔
عدیل کا سوچ کر جسم میں جھرجھری سے لگی
۔اور اسنے اسکی مغفرت کے لیے فورا دعا کی ۔۔
وہ تو شاید خود کچھ سمجھتا بھی نہیں تھا ۔۔۔
اسنے گھیرہ سانس بھرا اور واشروم سے باہر ا گئ ۔۔ بال پوری کمر پر پھیلے ہوئے تھے ۔۔اسنے اپنے کھانے کو جھوٹا دیکھا ۔۔ تو اسے رونا۔ آنے لگا ۔۔۔۔
وہ اتنے دل سے بنا کر شاور لینے آئ تھی ۔۔۔اور وہ ان مینیرڈ انسان ۔۔۔ بنا پوچھے کھا چکا تھا ۔۔۔۔۔
اسنے وہ پلیٹ اٹھائ اور سیگریٹ کا گند صاف کیا ۔۔۔بیڈ کی شکن دور کی
اور باہر ا گئ ۔۔۔۔
اسنے اپنے لیے پھر سے کھانا بنایا ۔۔۔ اسے لگا وہ جا چکا ہے ۔۔۔ مگر دروازہ لوک نہیں تھا ۔۔۔۔۔ اسکا پی آئے اکثر آتا تھا ۔۔اور جب سے اسنے اسکو اپنی بہن کہا تھا ۔۔۔ زیمل بہت خوشی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
اور وہ ہمیشہ اسکے ساتھ بہت دھیمے
ےاور نرم لہجے میں پیش آتا تھا ۔۔اسکو ساری چیزیں مہیا کر کے دیتا تھا ۔۔ اور جاتے ہوئے ہمیشہ لوک کر دیتا تھا ۔۔ زیمل لوک کرنے کے لیے جانے لگی کہ ۔دروازہ کھلا اور سالار پھرسے اندرا یا ۔۔ زیمل اسے دیکھتے ہی کیبنیٹ کے پیچھے چھپ گئ ۔۔۔۔۔
سالار نے یہ منظر دیکھا ماتھے پر بل ڈلے ۔۔۔
اسکے قدموں کی چاپ قریب ا رہی تھی ۔۔۔
آپ پ میرے سامنے مت آئیے گا ” زیمل جیسے ہی بولی سالار ناگواری سے ۔۔ اس جگہ کو گھورنے لگا ۔۔ چہرہ سنجیدہ ہو گیا ۔۔۔۔۔
قدم رک گئے ۔۔۔
کیوں ” وہ بولا ۔۔۔۔
م۔۔میں نہیں دیکھنا چاہتی آپ کو ” زیمل نے کہا ۔۔۔۔ اسنے تو ۔۔۔ شرمندگی کی وجہ سے کہا ۔۔۔تھا کہ وہ اسکا سامنا کیسے کرے گی اب ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ سالار کی یہ بات سر پر لگی اور تلوں پرجا بھجی ۔۔۔۔۔۔
دانتوں پر دانت چڑھا کر ۔۔۔۔ اسنے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔۔۔
یہ دوسری بار تھا جو اس لڑکی نے اسکی بے عزتی کی تھی ۔۔ایک پل کے لیے دل کیا ۔۔ کھینچ کر باہر نکالے اور دو چار چماٹ مار دے ۔۔۔ اور بتائے کہ سالار مرتضی میں برداشت بلکل نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنی بے عزتی برداشت کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔
مگر ۔۔۔ وہ گھیرہ سانس لے کر خود پر ضبط کرتا وہاں سے پلٹ گیا ۔۔۔۔۔
کیونکہ اسکے دماغ نے لمہوں میں فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔
کہ اب وہ کس طرح اسکے سامنےا آئے گا ۔۔
پانچ منٹ میں وہ دوبارہ باہر نکلا تو ۔۔ بھڑکا ہو اتھا ۔۔اسنے افان کو دوبارہ کال کی ۔۔۔
میں نکاح کر رہا ہوں آنا ہے تو ا جاؤ ” کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔
پی آئے ایکدم خوش ہوا سالار نےا سکے منہ پر پہلی بار مسکراہٹ دیکھی تھی ۔۔۔ جو پل میں مفقود ہوئ ۔۔۔۔
جاؤ ۔۔۔ انتظام کرو ۔۔۔۔ اور جس مرضی کو گواہ بنانا ہے ۔۔۔۔ انکو بھی پکڑ لاؤ ” سالار نے کہا ۔۔اور خود گلاسز لگا کر ۔۔۔۔ گاڑی میں بیٹھ گیا
۔۔
پی آئے نے دروازہ لوک کیا اور ۔۔۔انتظام کرنے بھاگا ۔۔۔
زیمل نے سکھ کا سانس لیا ۔۔ لگتا نہیں تھا اتنا سیدھا اسکے ایک بار کہنے پر چلا ہی گیا ۔۔مگر وہ مطمئن ہوئ ۔۔۔
اور دوسری طرف افان طوفان کیطرح سالار کے بتایے گئے اڈریس تک پہنچا تھا ۔۔سالار نے زین کو بھی کال کر دی ۔۔۔ جو ۔۔۔۔ خود گولی کی رفتار سے ۔۔۔ اسکے اڈریس تک پہنچا تھا ۔۔۔۔۔
یہ دو ہی ۔۔۔۔اسکے ہر جرم کے ساتھی تھے تبھی اسنے ان دونوں کو شامل کرنا ضروری سمجھا
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے