Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 55

ساری رات وہ اپنے باپ کو دیکھتا رہا تھا ۔۔۔۔
اگر وہ اس بات کو سوچتا کے مرتضی نے اسے ساری زندگی دھوکے میں رکھا ۔۔ تو شاید وہ آگے نہ بڑھ پاتا یہ بات۔۔ اسکے دل سے کوئ نکال نہیں سکتا تھا ۔۔یہ حقیقت کے وہ خریدو فروخت ہوا تھا ۔۔۔۔ یہ بات اسکی انا پر ہر روزلگنے والا کوڑا تھا مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ وہ۔۔۔ مرتضی کو کھو نہیں سکتا تھا ۔۔ اس ایک سال کے گزشتہ عرصے میں اسنے بار بار ایک بات محسوس کی تھی جتنی شدت زیمل کو پا لینے کی تھی اتنی اپنے باپ کو دیکھنے کی تھی اپنی ماں سے ملنے کی تھی بھائیوں سے دوبارہ مل جانے کی تھی رشتے کی بھوک نے اسے کئی بار کمزور کیا کہ وہ خود ہی واپس لوٹ جائے ۔۔۔
مگر قدم اٹھے نہیں وہ لوگ تو انجان تھے اسکے لیے ۔۔۔
اور سگے ماں باپ کے لیے اسکے دل میں کچھ نہیں تھا ڈھونڈنےسے بھی اسے یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ کسی اور کی اولاد تھا ۔۔۔۔
اسکے دل میں نہ نفرت کا جذبہ تھا نہ ہی محبت کا ۔۔۔۔۔
مگر مرتضی کے بنا رہنا یہ ناممکن تھا ۔۔۔۔
اور اس بات کو بھلا دینا بھی نہ ممکن تھا ۔۔۔۔
وہ کشمکش کا شکار تھا رات آنکھوں میں کٹ رہی تھی دوسری نظر اسنے زین پر ڈالی سالار اس سے کچھ بولا نہیں تھا تبھی وہ کتنا بے چین تھا ۔۔ وہ مسکرا دیا ۔۔۔
اگر وہ اسے بات کو بھلا دیتا تو ۔۔۔۔ اسکی فیملی دنیا کی بہترین فیملی تھی ۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور زین کے پاس آیا ۔۔
وہ سو رہا تھا ۔۔۔۔
صوفے پر اسکے بالوں میں ہاتھ چلایا ۔۔
بہت مس کیا ہے یار میں نے تمھیں ” وہ آہستگی سے بولا
۔ اور مسکرا دیا ۔۔۔
زین گھیری نیند میں تھا دوسری نظر اسنے مرتضی پر ڈالی تو ایکدم چونکا وہ جاگ رہے تھے اسی کیطرف دیکھ رہے تھے اسنے وقت دیکھا رات کے تین بج رہے تھے ۔۔۔
کچھ چاہیے ” وہ بنا نزدیک آئے بولا
اپنا بیٹا ” وہ اسکی جانب ہاتھ بڑھا کر بولے
کھو گیا ہے وہ ۔۔۔ آپکے کاروبار میں ” وہ بولا
سالار کیا ساری زندگی ناراض رہو گے ” وہ غمگین سے بولے ۔۔۔
آپ نے غم ہی ایسا دیا ہے ساری زندگی ۔۔۔۔ کے لیے یاداشت میں سما جائے گا ” وہ انکے پاؤں کے پاس آ گیا ۔۔۔ انکا چارٹ دیکھنے لگا ۔۔۔۔
میں نے بھلے اس وقت ۔۔۔ تمھیں صرف اپنی بیوی کی محبت میں لیا تھا مگر کبھی تم سے محبت کم نہیں ہوئ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ تم سے محبت ۔۔۔ بڑھتی چلی گئ اور دیکھ یار ۔۔ تیرے غم نے دل کا مرض دے دیا ۔۔۔۔ معلوم نہیں تھا تو اتنا اہم ہے ” وہ بھیگے لہجے میں بولے ۔۔
سالار نے انکیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔
مت مان اپنا باپ یارمگر بدگمان نہ ہو” کیوں نہ مانوں ” وہ بگڑا ۔۔ انکی جانب بڑھا ۔۔۔ مرتضی اٹھ بیٹھے
کیوں نہ مانوں ۔۔۔۔ میں مانتا ہی نہیں ایسی کوئ بات ۔۔۔ کوئ بات نہیں جانتا میں ایسی ۔۔۔۔
میں نے پورا سال انتظار کیا ہے بابا آپکا۔۔۔۔ اور آپ نہیں آئے ۔۔۔۔
مجھے پرواہ نہیں کیا حقیقت ہے کیا نہیں ۔۔۔۔ مگر میں نے بس آپکو دیکھا ہے اپنے باپ کی صورت اپنی ماں کو دیکھا ہے۔۔۔ اپنے بھائیوں کو دیکھا ہے سب کو اپنا سمجھا ہے۔۔۔ ایک بار مجھے بتاتے تو ۔۔۔۔۔ آپ۔۔ نے یوں چھپایا خود بتاتےخدا کی قسم کبھی چھوڑ کر نہ جاتا بلکہ سختی سے تھام لیتا آپکو ۔۔۔
کہ کہیں آپ نہ دور ہو جائیں مگرآپ نے۔۔۔۔ چھپا کر ۔۔۔۔ میرے ساتھ بہت برا کیا ہے ۔۔۔۔
بے حد ” وہ بولا ۔۔۔ لہجہ بھیگا ہوا تھا ۔۔۔۔
مرتضی نے اٹھ کر اسے سینے سے لگا لیا ۔۔
سالار نے بھی انھیں سختی سے جکڑ لیا جیسے ان سے کبھی الگ نہیں ہونا چاہتا ہو ۔۔۔
میں جانتا ہوں کبھی نہیں نکالو گے اپنے دل سے یہ بات مگر ۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں اپنی آخری سانس تک ۔۔۔۔ کوشش کروں گا کہ تم اسکو بھول جاؤ ۔۔ اور یاد رکھنا میرے بیٹے ہو تم ۔۔۔ بس ۔۔ اسکے علاؤہ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔
سال بھر تمھارے سے سامنا کرنے سے ڈرتا رہا تھا میں ۔۔۔ ورنہ اپنے بیٹے کے پاس اگلے لمہے آ جاتا ۔۔۔
غصہ بھی تو کھوتے کی ناک پر بیٹھا رہتا ہے “
ہاں اب بھی مجھے ہی گالیاں دیں ” وہ خفگی سے بولا ۔۔
مرتضی کھل کر ہنسے ۔۔۔۔
تو میرا شیر ہے ۔۔۔۔ آنکھ جھکا کر نہیں آنکھ اٹھا کر بات کرنا لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ۔۔۔ کوئ نہیں کہہ سکتا ۔۔۔۔ کہ تو میرا بیٹا نہیں ۔۔ جب تک ہم ساتھ ہیں کوئ ہماری طاقت نہیں ختم کر سکتا ۔۔ بڑا مشکل سال گزارا ہے ۔۔ میرے بیٹے ۔۔۔
بہت مشکل ۔۔۔ تمھاری ماں ۔۔۔ مجھ سے سال بھر سے نہیں بولی ۔۔۔ تمھارے بھائ کھل کر بات نہیں کرتے ۔۔۔ یہ بہت مشکل تھا ۔۔۔ تو میرے ساتھ ہے نہ تو مجھے کسی کا ڈر نہیں ” وہ اسکا چہرہ تھام کر بولے ۔۔۔۔
سالار سر ہلا گیا ۔۔سرخ آنکھیں مرتضی نے اسکی صاف کی ۔۔
سالار مرتضی ۔۔ اور بس ” انھوں نے جیسے جتایا ۔
سالار نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔ اور سر ہلا دیا وہ ایک فرمابردار بچے کیطرح انکی باتیں مان رہا تھا شاید وہ چاہتا تھا کہ کوئ اسے ۔۔۔ سنبھال کے اسے ۔۔۔۔ قابو کرے ۔۔۔۔ اسے حکم دے اور ایک سال نے اسے تنا تھکا دیا تھا کہ ۔۔۔ وہ مان رہا تھا سب ۔۔ ہاں دل اب بھی اسی جگہ پر تھا مگر اگر کھڑا رہتا تو بہت کچھ کھو دیتا ۔۔۔ اسے اپنے دل کو مارنا ہی تھا ۔۔۔۔۔اسکے علاؤہ وہ
جانتا تھا اسے صرف مرتضی سنبھال سکتا ہے ۔۔اور ایسا ہو رہا تھا ۔۔زین کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا
یار میں بھی تم لوگوں کا کچھ لگتا ہوں ایک منٹ کے لیے مجھے نہیں دیکھا ” وہ برا مناتا بولا ۔۔ سالار نے آنکھیں صاف کرکے اسکیطرف دیکھا۔۔۔
اور اسکے لیے بازو کھول دیے
زین ایکدم اسکے بازؤں میں سما گیا ۔۔۔
ائ مس یو آئ مس یو سو مچ بھیا ۔۔ بہت زیادہ میں نے آپکو مس کیا ۔۔۔ ہے ۔۔۔ آپ سوچ نہیں سکتے ہر پل مس کیا ہے آپ جانتے ہیں بڑے بھیا نے میرا نکاح کرا دیا مگر میں نے قسم کھائی تھی شادی تبھی کروں گا جب آپ ساتھ ہوں گے “
وہ باتیں کرنے لگا
واٹ” سالار کو دھچکا لگا
تمھارا نکاح ہو گیا ہے۔۔۔وہ حیران تھا
ہاں کبیر نے رمشہ سے نکاح کرا دیا ہے اسکا ” مرتضی اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولے ۔۔۔
زین انکیطرف دیکھنے لگا
یہ انسان تو ضرورت سے زیادہ اوور ہے اسے لگ رہا تھا میں مر گیا ہوں وہاں نہیں آؤں گا ” سالار غصے سے بولا ۔۔۔
زین تو بہت خوش تھا ۔۔۔ اب کبیر کی بھی پکڑ ہو گی
زین نے باپ کیطرف دیکھا
سوری بابا ” وہ شرمندگی سے بولا سال بعد ان سے بولا تھا ۔۔۔
مرتضی نے دونوں بیٹوں کو سینےسے لگا لیا ۔۔۔
انکے چاروں بیٹے انکی طاقت تھیں ۔۔۔اور وہ تب ہی مظبوط تھے جب سب سب ساتھ تھے ۔۔۔
چلو اب واپس ۔” مرتضی بولے ۔۔سالار نے نفی کی ۔۔
مجھے لگتا ہے میں یہاں سیٹل ہوں ” اسنے کہا ۔۔۔۔
تو تم چاہتے ہو میں تمھاری جوتیوں سے چھترول کر دوں ” وہ بھڑکے ۔۔۔۔
یار میرا موڈ نہیں مجھے کندن پسند آ گیا ہے بلکہ آپ بھی شفٹ “
سالار ” مرتضی نے اسکو گھور کر دیکھا
سالار اپنی بولتی دبا گیا ۔۔
اچھا یار ٹھیک ہے ۔۔۔ مگر میرا کنسرٹ ہے ۔۔ اسکے بعد ۔۔ اور میں چاہتا ہوں میرے لندن کے آخری کنسرٹ میں میری ساری فیملی ہو ” وہ جوش سے بولا ۔۔
یہ اچھا ہے بھیا زرا ہم بھی کندن کی کھل کر ہوا کھا لیں گے” زین ایکسائٹیڈ ہوا ۔۔
یار تمھاری شادی ہی یہاں کرتے ہیں قسم سے ایسا۔۔ مست “
میں سن رہا ہوں ” مرتضی نے گھورا ۔۔۔
تو آپکو کیا منع ہے لڑکیوں سے باتیں کرنا ” وہ آنکھ دبا کر بولا
۔۔
مجھے لگا شاید تم کچھ سدھر جاؤ “
سالار مرتضی صاحب کبھی نہیں سدھرے گا ۔۔۔ اولڈ مین ۔۔۔ آپکے لیے ۔۔۔ بھی میرے پاس ۔۔ اے ون گرلز۔۔”
سالار” وہ غصےسے بھڑکے مدیھا تو پہلے ہی ناراض تھیں اوپرسے یہ کھوتا ۔۔۔ حد ہی تھی ۔۔۔۔
اسپر بھی ۔۔
بابا ویسے یہ اچھا اوپشن ہے کہ ۔۔۔میری شادی لندن میں ہو ” زین تو وہیں ٹک گیا ۔۔۔
شیٹ آپ” مرتضی دوبارہ بیڈ پر لیٹتے بولے ۔۔
زین نے منہ بنایا سالار نے آنکھ ماری جیسے کہہ رہا ہو ۔۔
تم تو ریلکس رہو ۔۔۔ میں دیکھ لوں گا زین تو ایکدم خوش ہو گیا ۔۔۔
دوسری طرف ۔۔۔ مرتضی نے سالار کیطرف دیکھا ۔۔۔
یہ کب تک مراسیوں والا کام کرنا ہے تم نے” وہ بولے
یار بابا آپ میری انسلٹ کرتے ہیں یہ بول کر” وہ غصے سے بولا ۔۔
یار تیرے پاس کوئی ڈھنگ کا کام ہے ” مرتضی بھی بگڑے
میں دنیا بھر میں مشہور ہوں “
سالار یہ ہی منہ جا کر اللہ کو دیکھانا ہے ساری زندگی ناچنا گانا ہے تم نے” مرتضی اور سالار کی بحث فل فورم میں تھی ۔۔
دونوں طرف سے جوابوں کے گولے پڑ رہے تھے اور آدھی رات کو ۔۔ زین یہ سب خوب انجوائے کر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر لوٹے تو ۔۔زیمل سالار کو خوش دیکھ کر بہت خوش ہوئ ۔۔۔
اسنے بے پناہ خوشی سے ۔۔ سالار کا ہاتھ پکڑتے پکڑتے خود کو روکا کیونکہ مرتضی بھی تھے وہیں ۔۔۔
سالار نے اسکیطرف دیکھا
کافی بنا دو ۔۔ ہمیں” وہ کہنے لگا۔۔۔
زیمل نے جلدی سے سر ہلایا ۔۔۔ اور وہاں سب کے لیے کافی بنانے لگی ۔۔۔
وہ سب۔۔۔باتیں کر رہے تھے ۔۔ سالار مرتضی کی گود میں سر رکھےلیٹا تھا ۔۔ بحث نوک جھوک چل رہی تھی اسے سب کچھ بتا رہا تھا کہ پریشے اور عمل کی شادی ہو گئ ہے
۔۔ اسکی پوسٹینگ اسکی جوب ۔۔۔۔ کبیر کی بیٹی عارض کی بیٹی سب کے بارے میں بتا رہا تھا ۔۔۔
سالار بھی سن رہا تھا جبکہ مرتضی اسکو مسکرا کر دیکھ رہے تھے
یہ تو وہ بھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
یہ پھر وہ خوش تھا جو بھی صورت تھی انکا بیٹا انکا جوان خون۔۔ انکا شیر خوش تھا اسکے علاؤہ انھیں کچھ نہیں چاہیے تھا ۔۔۔
یار آپ مما سے بات کر لیں مما بہت روتی ہیں ” زین نے کہا تو سالار ایکدم اٹھا ۔۔۔
لاؤ فون دو اپنا ” اسنے مانگا ۔۔۔
زین نے اسے فون دیا ۔۔۔ جبکہ زیمل نے انکے آگے کافی دی ۔۔
ایک منٹ زرا مجھے ایک بات بتاو۔۔ تم زیمل کے ساتھ اتنا مس بیہیو کیوں رکھتے تھے” سالار غصےسے اسکا موبائل پھینکتا بولا
اوہ میرا موبائل” زین کی جان نکل گئ ابھی تو لیا تھا اتنا مہنگا ۔۔ اسکی نوکری سالار جیسی تو نہیں تھی جہاں پیسہ برستا ہو
یار بھیا سیدھی طرح کہیں بھابھی سے معافی مانگو میرا موبائل کیوں پھینکا ” وہ منہ بناتا بولا ۔۔
تمیز سے معافی مانگو اور دوبارہ اسطرح کرنے کی صورت میں تمھاری گردن دبا دوں گا ” وہ وارن کرنے لگا
سوری بھابھی ” وہ زیمل کیطرف دیکھتا بولا ۔۔۔
اٹس اوکے ” وہ جلدی سے بولی زین خوش ہو گیا جبکہ اپنے موبائل کو دیکھنے لگا جس کی سکرین پر سکرچ آیا تھا
آپ لے کر دیں گے مجھے موبائل حد کرتے ہیں” وہ رو دینے کو تھا
ڈھائ لاکھ کے لیے مر رہے ہو ۔۔ دفع ہو جاؤ کنجوس ” اسنے گھور کر دیکھا اور ۔۔۔۔ دوبارہ مرتضی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
۔۔
مرتضی سمیت وہاں سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات بھر جاگنے کے باعث وہ تھک کر کمرے میں آیا تو زیمل بھی جلدی سے بھاگ کر ۔۔ اسکے پیچھے آئ کیونکہ ۔۔ زین اور ۔۔۔ مرتضی بھی ریسٹ کرنے چلے گئے تھے جبکہ ساری فیملی سالار کے لندن میں آخری کنسرٹ پر یہاں آ رہی تھی اور سب کو زین نے بلایا تھا سالار نے نہیں ۔۔۔
سالار روم میں آیا تو فورا کمرے میں آتی زیمل کو اسنے پیار سے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا
جلدی جلدی مجھے سب بتائیں ” وہ اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی بولی اسکی قربت سے زرا شرم سی بھی آئ ۔۔۔
اممم کچھ خاص نہیں ۔” سالار اسے لیے بیڈ پر آ گیا
ایسا کیسے ۔۔ خاص نہیں باتئں مجھے۔۔ بابا نے کیا کہا ۔۔ آپ خوش ہیں نہ اب ” وہ پوچھنے لگی جبکہ ۔۔۔ سالار لیٹ گیا اور زیمل ۔۔ کو بھی ساتھ لیٹا لیا ۔۔
وہ بنا کچھ کہے زیمل۔۔۔ کی گردن میں چہرہ چھاپ گیا ۔۔ بھینے بھینے بالوں کی خوشبو ۔۔۔ اسے سکون دے رہی تھی
سالار” زیمل نے احتجاج کیا وہ اس سے نہیں بول رہا تھا
جی میری جان ” وہ اسکے گال کو چھوتا بولا ۔۔
ب۔۔ بابا بابا نے کیا کہا ” وہ کچھ گھبرا کر بولی اسکی خمار آلودہ نظریں زیمل پر جو اٹک گئیں تھیں ۔۔۔۔
کچھ خاص نہیں کہا ۔۔” وہ پھرسے وہی جواب دینے لگا
پھر آپ ” زیمل کنفیوز ہوئ ۔۔۔
مجھے میرا باپ چاہیے تھے زیمل میں انھیں کھو نہیں سکتا ۔۔۔۔
ہاں یہ بات میرے دل سے نکل نہیں سکتی ۔۔۔۔
مگر میں انھیں کھو نہیں سکتا اپنے رشتوں کو نہیں کھونا چاہتا ” اسنے کہا ۔۔ آنکھوں میں اداسی آ گئ
۔۔۔
آپکے دل سے اللہ نکال دے گا یہ ساری باتیں ۔۔ آپ خوش رہا کریں سالار ” وہ اسکا چہرہ تھامتی بولی اور ۔۔ آج پہلی بار ۔۔اسکی آنکھوں کو چھو کر اسنے سالار کا دل واقعی خوش کیا تھا ۔۔
سالار مسکراہٹ دبا گیا جبکہ وہ ۔۔ شرمانے لگی ۔۔۔
یہ اچھا تھا جوابی کروائ زرا ٹف ہو گی” وہ معنی خیزی سے آنکھوں کو جنبش دینے لگا
زیمل نے دانتوں میں پھر سے لب دبا لیا جبکہ سالار نے اپنے انگوٹھے سے اسکے دانتوں سے نکالا اور چاہت سے اسکو چھو لیا ۔۔
زیمل نے اسکی گردن میں بازو حائل کر لیا ۔۔۔
لمہے سرکنے لگے ۔۔ گاؤں بڑھنے لگا ۔۔۔
جیسے چارو جانب ۔۔۔ پھول سے بکھرنے لگے ۔۔۔۔
وہ چاہت سے اسے دیوانہ بنا رہا تھا ۔۔ وہ اسے ہلکان سا کر رہا تھا ۔۔
سالار کا زہن جیسے برسوں بعد سکون میں آیا تھا ۔۔ اور زیمل مسکرا دی آج اسکی قربت میں ۔۔۔
وہ عجب فسوں محسوس کر رہی تھی۔
مجھے بیٹا چاہیے” وہ اچانک اسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا ۔۔۔۔
زیمل پل دو پل میں سرخ ہوئ ۔۔۔
کبیر اورعارض کی بیٹیوں کا جینا حرام کر دینے والے دو بیٹے” اسنے آنکھ دبائ
مجھے یقین ہے ۔۔ آپ جیسے فضول دماغ ہی ہو گے اگر بیٹے ہوئے تو ” وہ مسکراہٹ روکتی بولی
اچھا ۔۔ تو میرا فضول دماغ ہے بتاتا ہوں تمھیں ایسی کی تیسی تمھاری زبان جو پٹا پٹ چل رہی ہے” وہ بولا اور اچانک ہی حملہ آور ہوا ۔۔
زیمل کھلکھلا کر ہنس دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے