Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Pt.4

“یہ ہے شاہ ویز سکندر بلیک سٹارز کا بانی۔۔۔ شہباز آفندی کی کزن حمیرا کا بیٹا ہے یہ۔۔۔ جس کے باپ سکندر شاہ کی جائیداد چھین کر اُس کے پورے خاندان کو زندہ جلا دیا تھا شہباز آفندی اور اُس کے بھائیوں نے۔۔۔ لیکن یہ قسمت سے بچ گیا تھا۔۔۔
اور اُس دن کے بعد سے یہ اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لیے ارادے سے شہباز آفندی اور اُس کے پورے خاندان کے پیچھے ایسا پڑا کہ اُنہیں تباہ کرکے ہی دم لیا۔۔۔ اِس کے نیچے لاکھوں کی تعداد میں لوگ کام کررہے ہیں۔۔۔ اِس کے ملک بھر میں کئی خفیہ ٹھکانے ہیں مگر اِس کی رہائش گاہ بلیک ہاؤس ہے۔۔۔ وہیں اِس کے لوگوں کو ٹریننگ سی جاتی ہے۔۔۔۔
پراپر فوج تیار کی ہوئی ہے بلیک سٹارز نے۔۔۔ لیکن ایک سب اہم اور چونکا دینے والی بات کہ اِن کا نام آج تک کبھی کسی ایسے جرائم میں نہیں آیا جو غریب یا مظلوم لوگوں کے خلاف ہو۔۔۔
بلکہ بلیک سٹارز کی توسط سے کئی گھر آباد ہیں۔۔۔ اُن کے راشن پانی کی ساری زمہ دادی بلیک سٹارز نبھا رہا ہے۔۔۔۔ بہت سے علاقے تو ایسے ہیں جہاں مصیبت آجانے پر پولیس والوں کے بجائے اب بلیک سٹارز کی مدد لی جاتی ہے۔۔۔ وہ پولیس سے بہت پہلے پہنچ منٹوں میں لوگوں کے مسئلے حل کردیتے ہیں۔۔۔
اب آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں سے اِن بلیک سٹارز کا خوف ختم ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔ وہ اب اِنہیں اپنا خیر خواہ سمجھنے لگے ہیں۔۔۔ جو بات ہم سب کے لیے بہت خطرے کی بات ہے۔۔۔ کیونکہ عوام ہی اُن کی سپورٹ میں ہوگی تو اُن کی کہیں ہر بات باآسانی مانے گی بھی سہی۔۔۔
شہباز آفندی کی بھتیجی پریسا آفندی بیوی ہے اِس بلیک سٹار کی۔۔ یہ وہی لڑکی ہے جسے فیصل بخشی حاصل کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔”
اقبال کیانی کے سامنے اپنا لیپ ٹاپ کھولے وہ سامنے چلتے پروجیکڑ پر آتی تصویروں کے ساتھ اُسے ساری تفصیل بتا رہا تھا۔۔۔ وہ کوئی اور نہیں قاسم کا چھوٹا بھائی بابر تھا۔۔۔ وہی قاسم جسے حازم نے اُس کی غداری کی وجہ سے مار دیا تھا۔۔۔
وہ اب اپنے بھائی کا بدلہ بلیک سٹارز کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔۔۔ اِس لیے اُس نے قاسم کی دی ساری معلومات اقبال کیانی کے آگے کھول کر رکھ دی تھی۔۔ جبکہ اندر سے اُس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔
کیونکہ بلیک سٹارز سے دشمنی مول لینے والے کبھی بچ نہں پائے تھے۔۔۔۔
اقبال کیانی جیسے جیسے بلیک سٹارز کے بارے میں سن رہا تھا۔۔ ویسے ہی اُس کا چہرا زرد پڑتا جارہا تھا۔۔۔
جبکہ مُٹھیاں سختی سے بھینچ لی تھیں۔
“یہ ہے میر حازم سالار۔۔ بلیک سٹار نمبر 2 شاہ ویز سکندر کا جگری دوست ہے۔۔۔ جس کی دہشت کی کہانیاں بھی بہت سننے کو ملی ہیں۔ یہ اپنے دشمنوں کے مینٹلی طور پر اتنا کمزور کردیتا ہے کہ وہ خود چل کر اِس کے قدموں میں آن گرتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔ اور اِس کے بعد آتی ہے تیسری بلیک سٹار مہروسہ کنول۔۔۔۔ جو اِن دونوں کی طرح بھرپور طاقت ور اور زہانت سے مالا مال ہے۔۔۔ اِس کا شکار کبھی اِس سے بچ نہیں پایا۔۔۔ جس کام میں گھستی ہے اُسے پورا کرکے رہتی ہے۔۔۔ اِسے چیلنج لینا بہت پسند ہے۔۔۔
یہ تینوں کون ہیں آج تک اِس بات کو سراغ کوئی نہیں لگا پایا۔۔۔ کیونکہ اِن کے لوگوں نے کبھی اِن کے ساتھ غداری نہیں کی۔۔۔ یہ اپنے لوگوں پر جان دیتے ہیں۔۔ لیکن شاید میرے بھائی کی قسمت ہی خراب تھی۔۔۔ یا شاید اس کی موت ہی ایسی لکھی تھی۔۔۔ “
اپنے بھائی کا ذکر کرتے بابر کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں ہوئے تھے۔۔۔
اقبال کیانی اب اِسی شے کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
“سر ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔۔۔۔”
اُسی لمحے اقبال کیانی کا خاص آدمی بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
“ایک ایس پی حبہ ایک بلیک سٹار کو گرفتار کر چکی ہیں۔۔۔۔ اُسے ابھی کچھ دیر پہلے سینٹرل جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔۔۔ اب آگے اُس کو لے کر ہمارے لیے کیا حکم ہے۔۔۔؟”
وہ سب ہی بہت زیادہ ایکسائیٹڈ تھے۔۔۔ آہستہ آہستہ ہر شے اُن کی فیور میں آنے لگی تھی۔۔۔۔
“مروا دو اُسے۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر کا ایک بازو ٹوٹ چکا ہے۔۔۔ اب اِس کے بھی مر جانے سے وہ بالکل تنہا رہ جائے گا۔۔۔۔ پھر میں اُس سے بدلہ لوں گا۔۔۔ ہر اُس عمل کا جو اتنے سال میرے خلاف سازشیں کرکے اُس نے مجھے ذلیل کیا ہے۔۔۔ ہر بار میرا نقصان ہوا اُس کی وجہ سے۔۔۔ اگر وہ تینوں نہ ہوتے تو آج میں اقتدار کے کئی سال گزار چکا ہوتا۔۔۔۔ اِن لوگوں کا اب خاتمہ ہونا ہی ہوگا۔۔۔۔”
اقبال کیانی کے چہرے سے خباثت ٹپک رہی تھی۔۔۔ وہ کتنا گھٹیا لیڈر تھا یہ بات بہت سے لوگ پہلے سے جانتے تھے۔۔۔ اُس کے ہاتھ اقتدار آتے ہی اُس نے سب کچھ تباہ کردینا تھا۔۔۔۔
“جو حکم سر۔۔۔ اُسے صرف کھانے کے ذریعے ہی زہر دیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ بہت جلد آپ کو یہ خوش خبری بھی مل جائے گی۔۔۔”
وہ لوگ سرخم کرتے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔
“اُن کو مارنا اتنا آسان نہیں ہے سر۔۔۔۔ جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔ “
بابر اُن لوگوں کی خوشی دیکھ طنزیا مسکرایا تھا۔۔۔
“میں رُکا ہوا تھا کہ میرے پاس اُن کی شناخت نہیں تھی۔۔۔ اب میں اُنہیں کتے کی موت ماروں گا۔۔۔۔ کہ دوبارہ کوئی یوں ہم سے ٹکرانے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔۔۔۔”
اقبال کیانی سگار سلگاتا اُسے اپنی انگوٹھیوں بھری اُنگلیوں میں دبا گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے پاس ابھی اُس کے دو بہت اہم مہرے موجود تھے۔۔۔ جسے اب اُسے استعمال کرنا تھا۔۔۔ اور اُن مہروں گا نام تھا ایس پی حمدان صدیقی اور ایس پی حبہ امتشال۔۔۔۔
جن کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ اُن کے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حازم کی گرفتاری کی خبر ہر طرف پھیل چکی تھی۔۔۔ شاہ ویز اور مہروسہ جانتے تھے حازم نے یہ قدم اپنے لوگوں کی جان بچانے کے لیے اُٹھایا تھا۔۔۔
مگر وہ اس بات سے بھی واقف تھے کہ قاسم کی غداری کے بعد اقبال کیانی مزید مضبوط ہوچکا تھا۔۔۔ اب اقبال کیانی اور اُس کی ٹیم سے صرف حازم کو ہی نہیں حبہ کو بھی خطرہ تھا۔۔۔
اُنہیں بس اب کسی بھی طرح حازم کو وہاں سے نکالنا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کے زخم ابھی ٹھیک سے بھرے نہیں تھے مگر وہ اُٹھ کر چلنے پھرنے کے قابل ہوچکی تھی۔۔۔
اِس وقت اُن سب پر خطرہ منڈلا رہا تھا۔۔۔ مہروسہ ایسے وقت میں اپنے بلیک سٹارز اور اپنے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔۔۔
اُن کے گینگ کا سب سے بڑا مشن اب اختتام کی منزلیں طے کر رہا تھا۔۔۔ جس کے بعد یا تو اقبال کیانی اور اُس کی پوری پارٹی مٹنے والی تھی۔۔۔ یا پھر بلیک سٹارز کا نام و نشان ہمیشہ کے لیے ختم ہونے والا تھا۔۔۔
مہروسہ جانتی حمدان اب اُن کے ساتھ تھا۔۔۔ حمدان کی جنگ بھی ہمیشہ سے اقبال کیانی کے خلاف رہی تھی۔۔۔ کیونکہ اُس کے بھائی کی بربادی کا زمہ دار اقبال کیانی ہی تھا۔۔۔
اور مریم نے بھی اقبال کیانی کے کہنے پر ہی اُس کی بیوی کی جان لینے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔
اقبال کیانی اور اُس کی پارٹی کو ختم کرنا مشکل ترین کام تھا۔۔۔ مگر وہ سب ایک ہوکر ایک مضبوط چٹان بن کر یہ مشکل بھی پار کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔۔۔
“ایس پی حبہ۔۔۔۔ یہ کیا بے وقوفی کی ہے آپ نے۔۔۔۔ آپ جانتی بھی ہیں کہ آپ نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے شوہر کو کتنی بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔۔۔۔ پلیز وہ غلطی مت کریں جو میں ایک بار کر چکا ہوں۔۔۔ ضروری نہیں ہے ہر ایک کو میری طرح دوسرا موقع ملے۔۔۔ میں ابھی تک اپنے گلٹ سے نہیں نکل پارہا۔۔۔۔ میں نے یہ وردی پہنتے حلف اُٹھایا تھا کہ ہمیشہ ایمانداری اور نیک نیتی سے اپنے ملک کی خدمت کریں گے۔۔۔۔ جس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ ہمیں اپنے کرپٹڈ افسران کی جانب سے دیئے جانے والے ہر اچھے اور بُرے آرڈر کو اندھا دھند فالو کرنا ہے۔۔۔
کمشنر سر اِس وقت جس بھی مجبوری کے تحت ہی سہی مگر اُن لوگوں کے زیرِ سایہ آچکے ہیں۔۔۔
لیکن ہم اب یہ نہیں کرسکتے۔۔۔ چاہے اُس کے لیے ہم سے ہماری وردیاں ہی کیوں نہ چھین لی جائیں۔۔۔ ہمیں آج اپنے محکمے کے خلاف جاکر اپنے ملک کی عوام کی خاطر کھڑا ہونا ہوگا۔۔۔
میں بھی آج تک بلیک سٹارز کو غلط سمجھتا آیا ہوں۔۔ مگر اب مجھے سمجھ آئی ہے کہ وہ بھی ہماری طرح ہی ہماری عوام کے لیے کام کرتے آئے ہیں۔۔۔ اُنہیں ظالم ہونے کا خطاب تو دیا گیا مگر وہ تو مظلوم لوگوں کے خیر خواہ نکلے۔۔۔ وہ بنا وردی کے آج تک وہ کام کرتے آئے ہیں جو ہمارا فرض تھا۔۔۔ مگر ہماری وردی نے ہی ہمارے آگے حد بندیاں قائم کرکے ہمیں پوری طرح سے اپنے لوگوں کے لیے کام نہیں کرنے دیا۔۔۔ “
حمدان حبہ کے آفس آتے اُس پر پھٹ پڑا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا حبہ کتنی بڑی غلطی کر چکی ہے حازم کو جیل میں ڈال کر۔۔۔
جس کا انجام بہت بُرا ہونے والا تھا۔۔۔
حمدان کی باتیں سنتے حبہ کو محسوس ہوا تھا جیسے کسی نے اُس کا دل پیروں تلے مسل دیا ہو۔۔۔۔
اگر واقعی حازم کو کچھ ہوجاتا تو کیا وہ خود کو معاف کر پاتی۔۔۔۔
“حازم قصور وار ہے۔۔۔ اُس نے میرے بابا کو قتل کیا ہے۔۔۔۔ اُنہیں آگ میں زندہ جلایا ہے۔۔۔ آپ بلیک سٹارز کی سائیڈ لے رہے ہیں کیونکہ آپ کی مہروسہ نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ اُس کے ہاتھ بالکل صاف ستھرے ہیں۔۔۔ مگر میرے شوہر نے میرے باپ کو بہت بے دردی سے مارا ہے۔۔۔ پھر میں کیسے اُس کا ساتھ دوں۔۔۔ نجانے وہ اِس کے علاوہ بھی کتنے بے گناہ لوگوں کی جان لے چکا ہوگا۔۔۔۔”
حبہ بہت اذیت سے بولتی حمدان کے سامنے اپنی زندگی کا کڑوا سچ رکھ گئی تھی۔۔۔
“محبت کرتی ہو تم حازم سے۔۔۔”
حمدان کے سوال پر حبہ نے فوراً نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“اگر محبت کرتی ہو تو اعتبار بھی ہونا چاہئے تھا نا۔۔۔ ہم پولیس والے دن رات مجرموں کو پکڑتے اُن پر تشدت کرتے اپنے احساس و جذبات بھی کھو دیتے ہیں۔ بالکل بے حس اور سنگدل بن جاتے ہیں۔۔۔ ہمیں ہر انسان مشکوک ہی لگنے لگتا ہے۔۔۔۔ چاہے وہ ہمیں کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو۔۔۔ اور ہماری زندگی میں سب سے اونچے مقام پر ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔
کیا آپ نے ایک بار بھی یہ سوچا کہ اگر حازم غلط ہوتا تو وہ اپنے منہ سے اپنے جرم کا اقرار کیوں کرتا۔۔۔ وہ تو آپ کو اپنے قریب لانا چاہتا تھا نا۔۔۔ پھر آخر وہ سچ آپ کے سامنے کیوں لاتا جس کے بارے میں آپ کو زرا سا علم بھی نہیں تھا۔۔۔ آپ تو یہی سمجھی بیٹھی تھیں نا کہ آپ کے بابا کی موت ایک حادثے کے تحت ہی ہوئی ہے۔۔۔۔
حازم کے بتانے کے بعد ہی آپ کے سامنے سچائی آئی۔۔۔ وہ غلط ہوتا تو کبھی بھی یہ سچ آپ کے سامنے نہیں لاتا۔۔۔۔ آپ یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ اُس کی نیت بُری نہیں تھی۔۔۔۔ جس انسان کو وہ اپنے سگے باپ کی طرح مانتا تھا آخر اُسے اتنی بے دردی سے مارنے کی نوبت کیوں آئی۔۔۔
میں اِس کی اصل وجہ جانتا ہوں مگر آپ کو نہیں بتاؤں گا۔۔۔ مگر بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ حازم سالار کی دو بڑی بہنیں بھی تھیں۔۔۔ جو آپ کے گھر سے ہی اچانک غائب ہوگئی تھیں۔۔۔
کیا کبھی آپ نے اُن کے حوالے سے کوئی انویسٹی گیشن کی ہے۔۔۔ وہ کہاں گئیں۔۔۔ اور کیا حازم سالار جیسے پاور فل بندے نے اُنہیں ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی ہوگی۔۔۔ کیا پتا اُس کی بہنوں کی گمشدگی کا تعلق آپ کے بابا کی موت کے ساتھ نکلتا ہو۔۔۔۔ ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔ میں اِس سے زیادہ آپ کی مدد نہیں کرسکتا۔۔۔
لیکن آپ حازم سالار کے ساتھ جو کررہی ہیں وہ آپ کی آگے کی پوری زندگی کے لیے پچھتاوا بن سکتا ہے۔۔۔ “
حمدان اپنی بات مکمل کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
جبکہ حبہ نجانے کتنے ہی لمحے اپنی جگہ سن سی کھڑی رہی تھی۔۔۔
اُس کے دل میں درد سا اُٹھا تھا۔۔
کیا وہ واقعی حازم کے ساتھ غلط کرچکی تھی۔۔۔ ؟
“میم ایک بہت بُری خبر ہے۔۔۔ “
اُسی وقت ایک پولیس اہلکار بھاگتا ہوا اندر آیا تھا۔۔۔
“بلیک سٹار کو کھانے میں کسی نے زہر دے دی ہے۔۔۔۔ اُسے فوری طور پر ہاسپٹل لے جانے کی کوشش کی گئی مگر وہ زہر کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا ہے۔۔۔”
یہ الفاظ نہیں تھے پگھلا ہوا سیسہ تھا جو حبہ کے کانوں میں اُنڈیلا گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حازم کی موت کی خبر ہر نیوز چینل، سوشل میڈیا میں گردش کرنے لگی تھی۔۔
جس سے بہت سے لوگ خوش تھے۔۔۔ جبکہ بہت سارے غم میں ڈوب چکے تھے۔۔۔ اُن سب کو ابھی تک یہی کہا گیا تھا کہ مہروسہ کی بھی ڈیتھ ہوچکی ہے۔۔۔
جس کی وجہ سے سب لوگ مزید ٹینشن میں آچکے تھے۔۔۔ اپنے اُوپر بیٹھے ضمیر فروش اقتدار کے بھوکے لیڈرز سے نجات اُنہیں صرف بلیک سٹارز کی صورت میں ہی نظر آرہی تھی۔۔۔
مگر بلیک سٹارز کو ایک ایک کرکے ختم ہوتا دیکھ لوگوں کی اُمیدیں بھی ٹوٹنے لگی تھیں۔۔۔۔
“واہ کیانی صاحب کیا کھیل کھیل رہے ہیں آپ۔۔۔ مان گئے ہم آپ کو۔۔۔۔۔ “
سیٹھ فاروق نے یہ خبر دیکھتے خوشی سے جھومتے اقبال کیانی کو کال ملائی تھی۔۔۔ وہ بھی اقبال کیانی کی جماعت کے لیڈرز میں سے ایک تھا۔۔۔۔
جو اچانک اپنے حق میں ہوتے حالات دیکھ اب کافی حد تک سکون میں آچکا تھا۔۔۔
“میں نے کہا تھا تم سے۔۔۔۔۔ یہ بلیک سٹارز مجھے بھی باقی سب کی طرح آسان مشن سمجھ رہے تھے۔۔ مگر بچارے بہت غلط جگہ آن ٹکرائے ہیں۔۔۔۔ اب میں اُس شاہ ویز سکندر کو میری طاقت کا اندازہ ہو ہی گیا ہوگا۔۔۔ اور بہت جلد دم دبا کر بھاگنے کی کوشش کرے گا۔۔۔
مگر بھول ہے یہ اُس کی کہ میں اُسے بچ کر جانے دوں گا۔۔۔ ابھی تو اُس سے پریسا آفندی کو بھی چھیننا ہے۔۔۔ “
اقبال کیانی کے ہر ہر انداز سے اُس کی خوشی ٹپک رہی تھی۔۔۔ جب اچانک دوسری جانب سے سیٹھ فاروق کی کال کٹ گئی تھی۔۔۔
اقبال کیانی کو عجیب تو لگا تھا۔۔۔ مگر اپنی خوشی میں مست وہ اِس عام سی بات پر زیادہ دھیان نہیں دے پایا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حبہ بہت بُری حالت میں جیل میں پہنچی تھی۔۔۔ جہاں سنگی سیمنٹ کے سرد بینچ پر حازم کی لاش رکھی گئی تھی۔۔۔ اُس کے اُوپر سفید رنگ کی چادر دی گئی تھی۔۔۔
آس پاس بہت سے لوگ موجود تھے۔۔۔
حبہ کو آتے دیکھ جیلر نے اُن سب کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔۔۔
“سر ایس پی حبہ ڈیڈ باڈی کے پاس پہنچ چکی ہے۔۔۔۔”
ایک جانب کھڑے شخص نے نہایت ہی دبی آواز میں دوسری جانب کال پر موجود اقبال کیانی کو اطلاع دی تھی۔۔۔
جو گہرے صدمے میں ہونے کی وجہ سے حبہ نہیں سن پائی تھی۔۔۔ مگر وہ کسی اور کی زیرک سماعتوں تک ضرور پہنچ چکی تھی۔۔۔
حبہ کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نہیں نکلا تھا۔۔۔ وہ گہرے شاک کے زیرِ اثر تھی اِس وقت۔۔۔۔
وہ حازم کے قریب آتی اُس کے چہرے سے چادر ہٹا گئی تھی۔۔۔ جب سامنے آنکھیں موندے پڑے حازم کو دیکھ اُس کے ہونٹوں سے سسکی برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔
“تم نے جان بوجھ کر کیا نا یہ سب۔۔۔ تم جانتے تھے نا کہ یہ لوگ تمہیں مروا دیں گے۔۔۔۔”
حبہ اُس کے قریب جھکی نہایت کمزور آواز میں بولی تھی۔۔۔ جو وہاں کچھ فاصلے پر کھڑا اقبال کیانی کا کارندہ بھی نہیں سمجھ پایا تھا۔۔۔
“میں اب بھی سب جان بوجھ کر ہی کررہا ہوں۔۔۔ تمہیں اب میں جو کہتا ہوں وہ کرو۔۔۔۔”
حازم کی آنکھیں بند تھیں۔۔۔ مگر اُس کے ہلتے ہونٹ اور نہایت باریک آواز سنتے حبہ کا سر چکرا گیا تھا۔۔۔۔
“تم۔۔۔۔”
حبہ ہکلا گئی تھی۔۔۔
“اُسے یقین نہیں آیا تھا کہ یہ شخص اتنی اچھی ایکٹنگ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔
“رونا مت۔۔۔ ہم پر کیانی کی نظر ہے۔۔۔۔ کسی بھی طرح مجھے یہاں سے نکالو۔۔۔ یہ جیلر ہمارا آدمی ہے۔۔۔ اِس کے علاوہ یہاں موجود ہر آدمی کیانی کا کارندہ ہے۔۔۔۔”
حازم کی بات سنتے حبہ کو لگا تھا اُس کے مردہ وجود میں واپس سے روح پھونک دی گی ہو۔۔۔۔
اُس کا حازم زندہ تھا۔۔۔ اُسے اُس کے رب کی جانب سے ازالے کا ایک موقع اور دے دیا گیا تھا۔۔۔۔
حبہ کی جان میں جان واپس لوٹ چکی تھی۔۔۔ مگر شدید صدمے سے گزرنے کی وجہ سے ابھی اُس کا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔۔۔
لیکن وہ اِس وقت اتنی خوش تھی کہ اُس کا خوشی سے جھومنے کو دل چاہا تھا۔۔۔
“ساجد اِس ڈیڈ باڈی کو سر خانے میں لے جاؤ۔۔۔ میری کمشنر صاحب سے میٹنگ ہے۔۔۔ اُس کے بعد اِس کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔۔۔۔”
حبہ کے آرڈر پر وہاں موجود اقبال کیانی کا کارندہ چونکا تھا۔۔۔ یہاں پر ہی تو اقبال کیانی حبہ کی اصلیت جاننا چاہتا تھا۔۔۔
مگر حبہ کو حازم کے لیے ایک آنسو بھی نہ بہاتے دیکھ وہ لوگ بہت زیادہ حیران ہوئے تھے۔۔۔
“تم جاؤ یہاں سے۔۔۔ اور باقی قیدیوں کو دیکھو۔۔۔۔ یہ جو اتنی بڑی کوتاہی ہوئی ہے اِس پر میں بعد میں تم سب کی انویسٹی گیشن کرتی ہوں۔۔۔”
حبہ اپنے رعب دار لہجے میں بولتی اقبال کیانی کے کارندے کو وہاں سے جانے کا بولتی خود بھی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
حبہ حازم کی ہدایت کے مطابق ہی خود تو آفس میں آگئی تھی۔۔۔ مگر اُس کے دل کو ایک عجیب سا دھڑکا لگا ہوا تھا۔۔۔۔
وہاں حازم صرف اُس جیلر کے ساتھ اکیلا تھا۔۔ اور آس پاس دشمنوں کا ڈھیر موجود تھا۔۔۔۔
حبہ آفس میں بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔۔۔ جب اُسے دروازہ پر آہٹ محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
حبہ فوراً الرٹ ہوئی تھی۔۔۔۔
جب سیاہ کپڑوں میں ملبوس چہرے کو سیاہ رومال سے چھپائے حازم اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
حبہ اُسے زندہ سلامت اپنے سامنے دیکھ اپنے آنسو نہیں روک پائی تھی۔۔۔ اور اُس کے زندہ ہونے کا یقین کرتی سیدھی اُس کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔
“تم نے میری جان نکال دی تھی حازم سالار۔۔۔۔ آخر کیا ہو تم۔۔۔۔ کوئی کام سیدھے طریقے سے نہیں کرسکتے کیا۔۔۔ ؟”
حبہ اُس کے سینے سے لگی نم لہجے میں بولتی حازم کے پیچھے جیلر کے روپ میں کھڑے شاہ ویز سکندر کو نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔
حازم حبہ کے گرد اپنے مضبوط بانہوں کا حصار قائم کرتا خود بھی لمحے بھر کو شاہ ویز کی موجودگی فراموش کر گیا تھا۔۔۔
جب شاہ ویز کو ہی گلا کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا پڑا تھا۔۔۔
حبہ ایک جھٹکے سے حازم سے دور ہوئی تھی۔۔۔ اُس نے حیرت سے جیلر بنے شخص کو دیکھا تھا۔۔۔ جس کا چہرا بھی حازم کی طرح سیاہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔
“یہ شاہ ویز ہے۔۔۔۔”
حبہ کی حیرت کو دور کرتے حازم نے شاہ ویز کا تعارف کروایا تھا۔۔۔ جو سن کر اپنی بے اختیار حرکت پر حبہ مزید شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔
“تم تھوڑی دیر صبر نہیں کر سکتے تھے۔۔۔”
اُس کی حقیقت جان لینے کے بعد پہلی بار حبہ خود سے اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔
حازم ڈھٹائی سے بولا تھا۔۔۔ جبکہ حبہ اُس کی بے شرمی پر اُس سے اپنا ہاتھ چھڑوا گئی تھی۔۔۔۔
” گلے شکوے کرنے کے لیے آپ دونوں کو کوئی مناسب جگہ ڈھونڈنی ہوگی۔۔۔۔ ہمارا یہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُسے آنکھیں نکالتا کھڑکی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
اقبال کیانی کو حبہ کے اپنے ساتھ نہ ملے ہونے کی یقین دہانی کروا لینے کے بعد بھی وہ دونوں حبہ کو وہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے۔۔۔۔
وہ تینوں آفس کی کھڑکی کی جالی کو بلیڈ سے کاٹتے وہاں سے نکل آئے تھے۔۔۔
اقبال کیانی نے اپنی ساری فورسز کو اُن کے خلاف متحرکت کر رکھا تھا۔۔۔
جبکہ وہ لوگ اُن کی فورسز کے مقابلے میں کم تھے۔۔۔ اور اب تو اُن کی شناخت بھی اقبال کیانی کے سامنے آچکی تھی۔۔۔
قاسم کی غداری کے بعد وہ اِس نازک وقت میں اپنے باقی آدمیوں پر بھی زیادہ بھروسہ نہیں کرسکتے تھے۔۔۔۔
اِس لیے اُنہوں اپنا ہر قدم بہت پھونک پھونک کر رکھنا تھا۔۔۔ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہوسکتا تھا۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“کیسے ہیں سیٹھ صاحب۔۔۔۔ مجھے پتا چلا کہ آپ بلیک سٹارز کو بہت شدت سے یاد کررہے تھے تو مجھ سے آپ سے دور رہا ہی نہیں گیا۔۔۔ دیکھیں آپ سے ملنے آن پہنچی ہوں۔۔۔۔ “
سیٹھ فاروق جو اقبال کیانی سے بات کررہا تھا۔۔۔ اچانک فون کا کنکشن کٹنے کے ساتھ ساتھ روم کی لائٹس بھی آف ہوئی تھیں۔۔۔۔ دور دور تک تاریکی پھیل گئی تھی۔۔۔
اِس تاریکی میں گونجتی مہروسہ کا سرد برفیلا لہجے سیٹھ فاروق کا پورا وجود پسینے سے بھگو گیا تھا۔۔۔۔
“کک۔۔ کون ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ اور میرے کمرے تک کیسے پہنچی۔۔۔۔ شکیل،،، ساجد۔۔۔ کہا مرگئے ہو سب۔۔۔۔؟؟؟”
سیٹھ فاروق کو اپنے اردگرد موت کے فرشتے منڈلاتے دکھائی دیئے تھے۔۔۔
“مت چلائیں سیٹھ صاحب۔۔۔ مجھ سے بچانے کے لیے کوئی نہیں آنے والا۔۔۔ سوائے موت کے۔۔۔۔”
مہروسہ نے ہاتھ مارنے سیٹھ فاروق کے قریب رکھے لیمپ کو آن کیا تھا۔۔۔
جس کی زرد روشنی میں سیٹھ فاروق اپنے سامنے صوفے پر بیٹھی مہروسہ کو دیکھ حیران ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اِس دھان پان سی لڑکی سے بھلا اتنا خوفزدہ کیوں ہورہا تھا۔۔۔۔
“پہچان نہیں پارہے مجھے۔۔۔۔ اوہ ہو۔۔۔ میں اپنا تعارف کروا دیتی ہوں۔۔۔۔ تمہاری ناجائز اولاد ہوں میں سیٹھ فاروق۔۔۔۔ تمہاری بہت ساری ناجائز اولادوں میں سے ایک۔۔۔۔ اپنا یہ تعارف کرواتے ہوئے بہت گھن محسوس ہورہی ہے مجھے تم سے۔۔۔۔ چلو اپنا اچھے والا تعارف کرواتی ہوں۔۔۔
بلیک سٹار کہتے ہیں مجھے۔۔۔ بلیک سٹار مہروسہ کنول۔۔۔ جو آج تمہاری موت بن کر آئی ہوں یہاں۔۔۔ ساری زندگی تمہیں ڈھونڈنے میں لگا دی۔۔۔۔ کل پتا چلا ہے مجھے۔۔۔ کہ میرے باپ کے عہدے پر فائز وہ معزز انسان تم ہو۔۔۔ جو لوگوں کے سامنے اُن کا سب سے زیادہ ایماندر لیڈر ہے۔۔۔ اور اب تک نجانے کتنی عورتوں کی عزت تار تار کرچکا ہے۔۔۔ میری ماں اور اُس جیسی نجانے کتنی عورتوں کو طوائف بنانے میں تم جیسے بدکردار مردوں کا ہاتھ ہے۔۔۔۔
آج میں تمہارا وہ حال کروں گی کہ اپنے جیسے تمام مردوں کے لیے عبرت کا نشان بن جاؤ گے تم۔۔۔۔”
مہروسہ ہاتھ میں خنجر اُٹھائے اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ میں نہیں جانتا تمہیں اور تمہاری ماں کو۔۔۔ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ معاف کردو مجھے۔۔۔۔”
سیٹھ فاروق اُس کے سامنے ہاتھ جوڑتے گڑگڑایا تھا۔۔۔
“پھر تو تمہیں مارنا میرے لیے اور بھی زیادہ آسان ہوجائے گا کیونکہ میرا تو تم سے کوئی رشتہ ہی نہیں ہے نا۔۔۔۔”
مہروسہ کتنی مشکل سے چل پارہی تھی۔۔۔ اِس کی کی تکلیف اُس کے چہرے سے لگائی جاسکتی تھی۔۔۔
اُس کے زخم ابھی ٹھیک نہیں ہوئے تھے۔۔۔ مگر اِس شخص کو وہ اپنے ہاتھوں ہی ختم کرنا چاہتی تھی۔۔۔ جیسوں کی وجہ سے وہ اور اُس جیسی کئی لڑکیاں حرام موت مرنے کو ترجیح دیتی تھیں۔۔۔
“نہیں معاف کردو مجھے۔۔ خدا کے لیے ۔۔۔”
سیٹھ فاروق کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے۔۔۔
“ٹھیک ہے معاف کردیتی ہوں۔۔۔ مگر اُس کے لیے تمہیں۔۔ اپنے اور اپنے لیڈر اقبال کیانی کے سارے کالے کرتوت تمام ثبوتوں کے ساتھ مجھے بتانے ہونگے۔۔۔۔ “
مہروسہ نے اُس کے آگے شرط رکھی تھی۔۔۔۔
جو سنتے ہی صرف اپنی جان بچانے کی خاطر وہ فوراً حامی بھر گیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کے کیمرہ آن کرتے ہی اُس نے اقبال کیانی کے ساتھ کیے ہر بُرے فعل اور لوٹ مار کی ساری حقیقت اُگل دی تھی۔۔۔ وہ بھی پورے ثبوتوں کے ساتھ۔۔۔
“اب تو تم مجھے نہیں مارو گی نا۔۔۔۔”
مہروسہ کو کیمرہ بند کرکے اپنے بیگ میں رکھتے دیکھ وہ خوف سے ہاتھ باندھے بولا تھا۔۔۔
بلیک سٹارز کی دہشت کا بہت سن رکھا تھا اور آج اِن نازک سی لڑکی کو آگ کا جوالہ بنا دیکھ اُس کے ہاتھ پیر کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔۔۔
اُس نے یہ ساری سچائی بتا کر فل وقت اپنی جان بچائی تھی۔۔۔ وہ بس مہروسہ کہ اس کمرے سے نکلنے کے انتظار میں تھا تاکہ باہر موجود اپنے گارڈز کو الرٹ کرکے مہروسہ کو یہیں مروا دے۔۔۔۔
“میں نے معاف کرنے کا کہا تھا سیٹھ صاحب۔۔۔۔ یہ تو کہا ہی نہیں کہ جان نہیں لوں گی۔۔۔ “
مہروسہ کھڑکی جانب بڑھتے بولی تھی۔۔۔۔
اُسے جاتا دیکھ سیٹھ فاروق کے چہرے پر چمک اُبھری تھی۔۔۔ اُسے یہی لگا تھا کہ یہ بے وقوف لڑکی اُسے زندہ چھوڑ کر جارہی ہے۔۔۔
اُس نے اپنے گارڈز کو اطلاع کرنے کے لیے نیچے گرا اپنا موبائل اُٹھایا تھا۔۔۔ جب اُسی لمحے مہروسہ پلٹی تھی۔۔۔ اور اپنی سلینسر لگی گن میں موجود تمام گولیاں اُس کے وجود میں اُتارتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔
یہ سب کرتے مہروسہ کی آنکھوں میں پنپتا درد ختم ہوگیا تھا۔۔۔ یہ شخص اُس کی زندگی کی اذیت کا باعث تھا۔۔۔
جسے وہ اب اپنے ہاتھوں ختم کرچکی تھی۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی اقبال کیانی کے خلاف ایک اور ثبوت بھی حاصل کر گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم بلیک سٹارز کبھی اِن پولیس والوں سے ہاتھ ملائیں گے۔۔۔۔ “
شاہ ویز حازم اور مہروسہ کے ساتھ تینوں کے مشترکہ روم میں بیٹھے سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔۔
آج تک اُن کے اِس روم میں کسی کو بھی آنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔۔۔ یہاں تک کہ جنید کو بھی نہیں۔۔۔ مگر آج ایس پی حمدان اور حبہ یہاں آرہے تھے۔۔۔
“مگر ہم جانتے تھے۔۔۔۔”
شاہ ویز کی بات پر حازم اور مہروسہ مسکرائے تھے۔۔۔
“تم چاہو تو پریسا بھابھی کو بھی بلوا سکتے ہو یہاں۔۔۔۔”
حازم نے اُسے آفر کی تھی۔۔۔
“تم لوگ کیوں چاہتے ہو میری نازک سی بیوی تم لوگوں کی خطرناک باتیں سن کر بے ہوش ہوجائے۔۔۔”
شاہ ویز کے ہونٹوں پر پریسا کے ذکر پر انتہائی دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔
جو دیکھ حازم اور مہروسہ بے اختیار دل ہی دل میں اُس کی نظر اُتار گئے تھے۔۔۔ آج اتنے سالوں بعد اُنہوں نے اُسے ایسے مسکراتے دیکھا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے حمدان اور حبہ ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
حازم کی نگاہیں سیاہ لباس میں ملبوس اپنی بیوی پر جم کر رہ گئی تھیں۔۔۔ جو بنا اُس سے حقیقت جانے اُس پر یقین کرتی اُس کا ساتھ دینے کو راضی ہوگئی تھی۔۔۔
حازم کے دل میں اُس کے لیے محبت کئی گنا بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
جبکہ مہروسہ نے اندر داخل ہوتے حمدان پر ایک نگاہ غلط تک نہیں ڈالی تھی۔۔۔ اُس کا یہ نظر انداز کیا جانا حمدان بُری طرح کھلا تھا مگر اِس وقت اِس بارے میں استفسار کرنے کا ٹائم نہیں تھا اُن کے پاس۔۔۔
“بلیک ہاؤس میں میں بہت بہت خوش آمدید ہے آپ کو۔۔۔ ویسے تو آپ دونوں ہی یہاں پہلے آچکے ہیں۔۔۔ مگر آفیشلی آج آپ کو یہاں دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز نے حمدان اور حبہ کو ویلکم کرتے حازم اور مہروسہ پر طنز کیا تھا کہ وہ ہر بات سے باخبر تھا۔۔۔
مہروسہ نے اب کی بار بھی سر اُوپر نہیں اُٹھایا تھا جبکہ حازم یہاں بھی ڈھٹائی سے مسکرا دیا تھا۔۔۔
“ہمیں جو بھی کرنا ہے آج ہی کرنا ہوگ۔۔۔۔ سیٹھ فاروق کی موت کی خبر بہت جلد اقبال کیانی تک پہنچ جائے گی۔۔۔ جس کے بعد اقبال کیانی کچھ بھی سنگین قدم اُٹھا سکتا ہے۔۔۔ یا تو وہ پلٹ کر ہم پر حملہ کردے گا۔۔۔ یا پھر ملک سے فرار ہوجائے گا۔۔۔
اِن دونوں میں سے ہم کچھ بھی افورڈ نہیں کرسکتے۔۔۔ اقبال کیانی کی سیکورٹی بہت سخت ہے۔۔۔ اور اُسے آپ دونوں پر شک بھی پورا ہے۔۔۔ وہ آپ لوگوں سے ملنا بھی نہیں چاہے گا۔۔۔
ہمیں سب سے پہلے اُس تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔۔ بے شک اُس کے خلاف اُس کے آدمیوں اور باقی سب لوگوں کے بہت سارے ثبوت موجود ہیں۔۔ مگر ہمارے ملک کے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اُس شخص کی حقیقت پر اُس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک اقبال کیانی کی اپنی زبان سے نہ سن لیں۔۔۔۔ پہلے ہمیں اُسے یرغمال بنانا ہوگا۔۔۔ اُس کے بعد اُس سے سب اگلوا کر اُسے ختم کرنا ہوگا۔۔۔ کیونکہ اگر اُسے زندہ گرفتار کرلیا تو کچھ بیرونی طاقتیں ہیں جو اُسے بچا لیں گی۔۔۔ اور ہماری اتنے سالوں کی محنت ضائع چلی جائے گی۔۔۔ “
شاہ ویز نے تفصیل سے سارا پلان اُن کے سامنے رکھا تھا۔۔۔
“اقبال کیانی تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس فیصل بخشی سیڑھی کا کام کرسکتا ہے۔۔۔ دونوں کے آپس میں گہرے مراسم ہیں۔۔۔ اور فیصل بخشی تک ہمیں لے جائے گی مریم۔۔۔۔۔ جس نے مہروسہ پر فیصل بخشی کے کہنے پر حملہ کیا تھا۔۔۔ اور اب بھی وہ اُسی کے ساتھ ہی ہے۔۔۔۔ میں مریم تک آسانی سے پہنچ سکتا ہوں۔۔۔”
حمدان کی بات پر مہروسہ نے گھبرا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی مریم سے حمدان کا بہت خطرہ تھا۔۔۔ مگر جیسے ہی حمدان نے اُس کی جانب دیکھا مہروسہ نگاہیں پھیر گئی تھی۔۔۔
حمدان کو اُس کا یہ رویہ فکر میں مبتلا کررہا تھا۔۔ کیا وہ پھر کچھ ایسا کرچکا تھا۔۔ جس بات نے اُس کی مہروسہ کو اتنا ہرٹ کیا تھا۔۔۔۔ جو وہ اُس کی جانب دیکھنے سے بھی گریزاں تھی۔۔۔
“فیصل بخشی بھی آسان مہرا بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔ ایک طرح سے اقبال کیانی کا رائٹ ہینڈ ہے۔۔۔ جس کے ختم ہونے کی خبر پر اقبال کیانی کافی حد تک ویسے ہی ڈھے جائے گا۔۔۔۔”
حازم نے بھی اپنی رائے دی تھی۔۔۔
جب اُسی لمحے جنید بنا دستک دیئے دروازے کو کک رسید کرتا اندر داخل ہوا تھا۔۔ اُس کا چہرا پسینے سے شرابور تھا جبکہ اُس کے ہر ہر انداز سے پریشانی ٹپک رہی تھی۔۔۔
“کیا ہوا جنید۔۔۔۔؟؟”
کسی انہونی کے خیال سے شاہ ویز اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔ باقی سب کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔۔۔۔
“اقبال کیانی کی فوج نے بلیک ہاؤس پر حملہ کردیا ہے۔۔۔ وہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ہمارے آدمی اُنہیں روک بھی نہیں پارہے۔۔۔ اُنہوں نے ہمیں چاروں جانب سے گھیر لیا ہے۔۔۔۔ اور۔۔۔ “
جنید کی اور پر اُن سب کی سانسیں اٹکی تھیں۔۔۔۔
“اور پریسا میم بلیک ہاؤس میں موجود نہیں ہیں۔۔۔ اُنہیں ہر جگہ تلاش کرلیا ہے مگر وہ یہاں نہیں ہیں۔۔۔”
جنید نے آخر میں جو بم اُن سب کے سروں پر پھوڑا تھا۔۔ وہ شاہ ویز سمیت اُن سب کو ہلا کر رکھ گیا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز کو لگا تھا کسی نے اُس کا دل سینے سے نوچ پھینکا ہو۔۔۔
وہ بنا کسی بات کا خیال کیے باہر کی جانب بھاگا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا اُس کی پری اِس وقت کا کے قبضے میں تھی۔۔۔
“شاہ سر آپ کو وہاں اکیلا جانا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔۔”
مہروسہ اُسے یوں اکیلے جاتے دیکھ چلائی تھی۔۔۔ مہروسہ کی آنکھوں سے گرتے آنسو دیکھ حمدان اُسے تسلی دیتا شاہ ویز کے پیچھے نکل گیا تھا۔۔۔
“جنید سب آدمیوں میں اعلان کردو کہ فورسز سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ یہ لوگ ہمارے دشمن نہیں ہیں۔۔۔ دونوں طرف گولیاں چلیں گی آخر میں دونوں جانب جانی نقصان ہوگا۔۔۔ جبکہ فائدہ ہوگا اُن حرام خوروں کا۔۔۔ سب لوگوں کو بولو جو جہاں ہے اُسے ویسے ہی چھوڑ کر سرنگوں کے راستے بلیک ہاؤس سے نکل جائیں۔۔۔ مجھے اپنے کسی ایک آدمی کا بھی جانی نقصان نہیں چاہیئے۔۔۔ “
حازم کی ہدایت پر جنید اثبات میں سر ہلاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
“مہرو تمہاری طبیعت ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔”
مہروسہ کو شاہ ویز اور حمدان کے پیچھے جاتے دیکھ حازم نے اُسے روکنا چاہا تھا۔۔۔۔
“میر سر یہ چھوٹے موٹے درد مہروسہ کنول کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔۔۔ اِس وقت میرے ملک کو میری ضرورت ہے۔۔۔ جس کے لیے میں سالوں سے لڑتی آئی ہوں۔۔ آج کیسے پیچھے ہٹ جاؤں۔۔۔۔”
مہروسہ اُسے مسکراتی نم آنکھوں سے جواب دیتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔
جب حبہ فون پر کسی کو ہدایت دیتی حازم کے قریب آئی تھی۔۔۔
“اقبال کیانی کی رات گیارہ بجے کی فلائٹ کی ٹکٹ بک ہوچکی ہیں۔۔۔ اُس نے خود کو بچانے کا سارا بندوبست کرلیا ہے۔۔۔ اگر ہمیں نہ ہرا پایا تو ہم سے بچ کر کہاں دم دبا کر بھاگنا ہے اِس کا فیصلہ کرلیا لے اُس نے۔۔۔۔”
حبہ کی اطلاع پر حازم کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔۔۔
“اقبال کیانی اب ہمارے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا۔۔ پہلے اُسے اُس کی بربادی کا ٹریلر دکھاؤں گا اور پھر اُسے موت کے گھاٹ اُتاروں گا۔۔۔ بہت مظلوموں کا خون چوس چکا ہے مزید نہیں۔۔۔”
حازم حبہ کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆

جاری ہے