Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

سامنے کا منظر دیکھ ایک لمحے کے لیے شاہ ویز سکندر کے چہرے پر بھی پریشانی نمایاں ہوئی تھی۔۔۔۔
پریسا کرسی پر رسیوں میں بندھی بے ہوش پڑی تھی۔۔۔۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں شاہ ویز کو اپنی سنگدلی پر افسوس ہوا تھا۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے یہ احساس زائل بھی ہوچکا تھا۔۔۔۔
کیونکہ غلطی اِس لڑکی کی ہی تھی۔۔۔۔ جو بلیک بیسٹ سے ٹکرانے کی بے وقوفی کررہی تھی۔۔۔۔۔ وہ معاف نہیں کرتا تھا سزا دیتا تھا۔۔۔۔ جس کے زیرِ اثر اِس وقت پریسا آفندی تھی۔۔۔۔
جلدی سے رسیاں کھولتے شاہ ویز اُس کے برف کی طرح ٹھنڈے پڑتے وجود کو بانہوں میں اُٹھائے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اُسے اُس کے روم میں لاکر بیڈ پر لٹاتے شاہ ویز نے کمفرٹر سے اُس کے ٹھنڈ سے سرد پڑتے وجود کو ڈھانپا تھا۔۔۔۔
پریسا کے ہونٹ بالکل نیلے پڑ چکے تھے۔۔۔ شاہ ویز نے ہیٹر آن کرتے روم کا ٹمپریچر بڑھایا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹرز کی پوری ٹیم فل ٹائم بلیک ہاؤس میں بنائے گئے ہاسپٹل میں موجود رہتی تھی۔۔۔ شاہ ویز کی ایک کال پر فی میل ڈاکٹر فوراً پہنچ گئی تھی۔۔۔۔
“سر یہ بہت زیادہ بھوک،خوف اور ٹھنڈ کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہیں۔۔۔۔ کچھ دیر میں ہوش آجائے گا۔۔۔ یہ بہت نازک ہیں۔۔۔ اِس طرح کی سختیاں برداشت نہیں کرسکتیں۔۔۔ اگر زیادہ دیر یہ اُسی کنڈیشن میں رہتی تو اِن کی طبیعت زیادہ بگڑ سکتی تھی۔۔۔ “
ڈاکٹر آخر میں ڈرتے ڈرتے شاہ ویز کو اُس کا خیال رکھنے کا کہتی سامان لیتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔
شاہ ویز نے مُٹھیاں بھینچے آنکھیں موندے تکیے پر سر رکِے لیٹی پریسا کو دیکھا تھا۔۔۔ جس پر وہ زرا سی سختی بھی نہیں کرپارہا تھا۔۔۔۔۔
“اقراء کو بھیجو۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے سیگریٹ کی ڈبی دینے آئے ملازم کو کہا تھا۔۔۔ وہ اقراء کو یہاں بھیج کر خود اِس لڑکی سے دور جانا چاہتا تھا۔۔۔
“سر وہ تو جنید سر کے ساتھ باہر چلی گئی ہیں۔۔۔ کسی ضروری کام سے جانا تھا اُنہیں۔۔۔۔۔”
ملازم کے بتانے پر شاہ ویز کے نقوش مزید تن گئے تھے۔۔۔۔
“انعم کو بھیج دو۔۔۔۔”
شاہ ویز نے سیگریٹ سلگھاتے ایک بار پھر باہر کی جانب بڑھتے ملازم کو آواز دی تھی۔۔۔
“سر وہ بھی نہیں ہیں اِس وقت۔۔ اُنہیں صبح آپ نے خود بھیجا تھا شاید۔۔۔”
ملازم نے شاہ ویز کا لال پڑتا چہرا دیکھ ڈرتے ڈرتے کہا تھا۔۔۔ کہ کہیں شاہ ویز کا یہ شدید غصہ اُسی پر نہ نکل جائے۔۔۔۔
“واٹ دا ہیل۔۔۔۔ کہاں مر گئے ہیں سب ایک ساتھ۔۔۔ “
شاہ ویز نے ایک زور دار ٹھوکر ٹیبل پر رسید کرتے زچ ہوتے کہا تھا۔۔۔۔
وہ اِس جادوگرنی کے پاس زیادہ دیر رکنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔ جو اُسے اپنے سحر میں جکڑنا چاہتی تھی۔۔۔ جس کے قریب آتے شاہ ویز سکندر کا دل اُس سے بغاوت کرنے لگتا تھا۔۔۔
یہاں کسی مرد کو پریسا کا خیال رکھنے کے لیے چھوڑنا اُسے گوارہ نہیں تھا۔۔۔۔ اکیلا اِس حالت میِں چھوڑنا ممکن نہیں تھا۔۔۔۔۔ اُس کا دماغ بالکل خراب ہوچکا تھا۔۔۔۔
ملازم اجازت ملتے ہی خاموشی سے نکل گیا تھا۔۔۔
مگر شاہ ویز کے زور دار ٹھوکر مارنے پر پریسا کسمسائی تھی۔۔۔۔ اُسے حرکت کرتا دیکھ شاہ ویز سکندر اپنا سیگریٹ ملازم کی لائی ایش ٹرے میں مسلتا بے اختیاری میں اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔۔
آج تک کبھی اُس نے کسی کے لیے اپنا سیگریٹ یوں آدھا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ چاہے وہ بندہ مر ہی کیوں نہ رہا ہو۔۔۔۔ مگر اِس وقت جو حرکت بے دھیانی میں وہ کرگیا تھا۔۔۔ اِس پر اِس وقت وہ خود بھی دھیان نہیں دے پایا تھا۔
“آر یو اوکے۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے سر پر کھڑا ہوتا بلب کی روشنی میں دمکتے اُس کے حسین نقوش کو گھورتے اپنے مخصوص روڈ انداز میں پوچھنے لگا تھا۔۔۔۔
پریسا نے آنکھیں کھولتے اجنبی نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔ جو اُس سے کچھ فاصلے پر ہی آنکھوں میں شاید فکر کی ہلکی سی جھلک لیے اُس پر جھکا ہوا تھا۔۔۔
شاہ ویز نے بہت غور سے نوٹ کیا کہ پریسا کی آنکھوں میں اجنبیت ناراضگی اور پھر غصے کے رنگ آن ٹھہرے تھے۔۔۔۔ شاہ ویز نے اُس کے ساتھ جو سلوک کیا تھا۔۔۔ اُس کے بعد وہ اِس شخص کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
پریسا نے بنا اُسے کوئی جواب دیئے اُس کی جانب سے اپنا چہرا پھیر دیا تھا۔۔۔۔
“میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز کو اُس کا انداز سخت بُرا لگا تھا۔۔۔۔
“نہیں دے رہی جواب۔۔۔ کیا کرلو گے تم۔۔۔؟؟؟ دوبارہ قید کردو گے مجھے وہاں۔۔۔ کردو۔۔۔۔ نہیں ڈرتی میں تم سے۔۔۔”
پریسا کی طبیعت اب کافی بہتر ہوچکی تھی۔۔۔ ہیٹر لگا ہونے کی وجہ سے روم میں ٹھنڈ کا نام و نشان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمفرٹر ہٹاتی بیڈ سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز خاموشی سے مُٹھیاں بھینچے اُس کے بکھرے حلیے کو دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔ اِس لڑکی کو خود کو ڈھانپنا بالکل بھی نہیں آتا تھا۔۔۔ شاہ ویز نے فوراً اُس کی جانب سے نظریں چراتے اپنے غصے پر قابو پایا تھا۔۔۔۔
یہ لڑکی جب بھی اُس کے قریب ہوتی تھی۔۔۔ اُس کا غصہ ایسے ہی سوا نیزے پر پہنچا ہوتا تھا۔۔۔۔
“میں کھانا بھجوا رہا ہوں۔۔۔ اگر اب بھی نہ کھایا تو مجھ دے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ کیونکہ میں تمہیں اتنی آسانی سے بالکل بھی مرنے نہیں دوں گا۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنا دوسرا سیگریٹ سلگھاتا باہر کی جانب جاتے بولا تھا۔۔۔۔ اگر اُسے اِس وقت پریسا نے نخرہ دکھایا تھا تو اُس نے بھی فوراً بتا دیا تھا کہ اُس میں بھی ایٹی ٹیوڈ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔۔۔۔
“تم سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔۔۔ تم اپنا یہ درندگی بھرا روپ دکھا کر مجھے ڈرا لو گے۔۔۔؟؟؟ میں اب نہیں ڈرنے والی تم سے۔۔۔۔ اور جب تک میری پسند کا بنا ہوا کیک میرے پاس نہیں آجاتا میں پانی تک کا گھونٹ بھی اپنے حلق سے نہیں نکالوں گی۔۔۔۔”
پریسا غصے سے اُس کے مقابل آتے چلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
اُس نے پچھلے کچھ گھنٹے کس قدر اذیت میں گزارے تھے یہ وہی جانتی تھی۔۔۔ اُسے اندھیروں سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔ اور یہاں بھی اُس کے بے ہوش ہونے کی وجہ بھوک اور ٹھنڈ سے زیادہ اندھیرے کا خوف تھا۔۔۔۔
پریسا کا انداز اُسے قطعی پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں سرد پن لیے اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“تو تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز کی پتھریلی نگاہوں اور ٹھنڈے ٹھار لہجے پر وہ خوف سے کانپ گئی تھی۔۔۔ مگر اُس نے شاہ ویز کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔
اِس شخص سے اُسے کتنا ڈر لگتا تھا یہ وہ بیان نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ جو کبھی بھی کہیں بھی کچھ بھی کرسکتا تھا۔۔۔۔
“تم نے ابھی میرا درندگی بھرا رُوپ دیکھا ہی کہاں ہے۔۔۔ جس دن دیکھو گی۔۔۔ تو سہہ نہیں پاؤ گی۔۔۔۔ اور یہ ساری بکواس کرکے تم اپنے لیے مشکلات کھڑی کررہی ہو۔۔۔۔ اب مزید اگر میرے بارے میں زرا سی بکواس بھی کی تو میں تمہاری زندگی مزید تنگ کردوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے بات کے اختتام پر اُلٹے قدموں پیچھے جاتی پریسا کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
پریسا اپنی بچاؤ کی کوشش کرنے کے باوجود اُس کے سینے سے آن ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔
“تم جانتی ہو اب تک کتنے قتل کرچکا ہوں میں۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کا جبڑا مُٹھی میں دبوچے اُس کا چہرا اپنے چہرے کے قریب کرتے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے کہا تھا۔۔۔۔
پریسا کو لگا تھا اِس انسان سے اُلجھ کر اُس نے بہت بڑی غلطی کردی ہے۔۔۔۔
“ننانوے۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے خود ہی جواب دیتے پریسا کے چودہ طبق روشن کردیئے تھے۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کی پتلیاں ناقابلے یقین حد تک واں ہوتیں شاہ ویز سکندر کو پل بھر کے لیے مبہوت کر دیا تھا۔۔۔۔۔
یہ لڑکی حُسن کا مجسمہ تھی۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر اِس بات سے ہرگز انکار نہیں کر پایا تھا۔۔۔
“تو سوچو میں کتنا خطرناک انسان ہوں۔۔۔ اور کیا کچھ کرسکتا ہوں۔۔۔۔ “
شاہ ویز پریسا کی بولتی بند کروا چکا تھا۔۔۔
“جنید اگلے آدھے گھنٹے کے اندر گل بہار بیکرز سے گل شیر نامی شخص کو اُٹھا کر یہاں پہنچو۔۔۔۔”
شاہ ویز کی بات سن کر پریسا نے اپنی گول گول آنکھیں گھما کر اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔
“مجھے کیک نہیں کھانا۔۔۔۔ آپ پلیز گل بھائی کو کچھ مت کریں۔۔۔۔”
پریسا بمشکل بول پائی تھی۔۔۔۔۔ آفندی مینشن میں ہمیشہ اُس کی ہر فرمائش اور ضد مان لی جاتی تھی۔۔۔ مگر اُس نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی کیک کی فرمائش اُسے اتنی مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔۔۔۔
شاہ ویز اُسے اپنی سخت گرفت سے آزاد کرتا خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“آآآپپ۔۔۔۔ آپ کک کیا۔۔۔۔بب بول۔۔۔ ررر رہے ہی۔۔ ہیں۔۔۔ ؟؟؟ میں کیوں کروں گی ایسا کچھ۔۔۔ میں تو آپ کو جج۔۔۔ جانتی بھی ن نہیں ہوں۔۔۔ آج پہلی بار دیکھا آپ کو۔۔۔ میں تو یہاں آنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ ایگزیمز ختم ہونے کے بعد کچھ کورسز کرنے تھے۔۔۔ مگر مما نے وہ بھی نہیں کرنے دیئے۔۔۔۔ وہ یہاں لانا چاہتی تھیں۔۔۔ لیکن مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔۔۔ میں مما کو کہوں گی۔۔۔۔”
سسکیوں کے بیچ کمزور سی آواز میں بولتی وہ حمدان کو اُس کی کلائیاں آزاد کرنے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔۔ بڑی بڑی جھیل سی دلکش آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔۔۔۔ لمبی خمدار گیلی پلکیں شبنم کے قطروں سے سجیں اِس وقت بہت دلکش منظر پیش کررہی تھیں۔۔۔۔ حمدان بے اختیار اِس حسین بلا سے دور ہوا تھا۔۔۔
جو بہت بری طرح چپک گئی تھی اُس سے۔۔۔۔ ہر بار ایک نئے روپ میں اُس کے سامنے آکر اُسے مزید اُلجھا دیتی تھی۔۔۔۔
“تم یہ جو کررہی ہو۔۔۔ اِس کا انجام بہت بُرا ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں اب اِسی گھر میں رہوں گا۔۔۔ اور چوبیس گھنٹے تم پر نظر رکھی جائے گی۔۔۔ اگر میرے گھر والوں کو زرا سا بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو تمہارے اُس گینگ کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دوں گا۔۔۔۔۔”
حمدان اُس سے دور ہوتا وارن کرنا نہیں بھولا تھا۔۔۔۔ اُجالا کی آنکھوں سے بہتے آنسو اُسے عجیب سے احساس سے دوچار کر گئے تھے۔۔۔۔
یہ ثابت کرنے کے لیے اُس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا کہ یہ لڑکی اُجالا نہیں بلکہ بلیک سٹار مہروسہ کنول ہے۔۔۔۔۔ جبکہ اِس لڑکی کے پاس اپنے اُجالا ہونے کے بہت سارے ثبوت تھے۔۔۔۔۔ جنہیں وہ جھٹلا نہیں پایا تھا۔۔۔۔
اُس کے اپنے گھر والے اُس کی کوئی بات سننے اور یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔۔۔
وہیں اُس کا دل ایک منٹ کے لیے بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا یہ لڑکی مہروسہ نہیں اُجالا ہے۔۔۔۔ اُسے اِس لڑکی نے اپنے کھیل میں بُری طرح اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔ اب مجبوراً اُسے اِسی گھر میں رہنا تھا۔۔۔ جہاں وہ آنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔
حمدان بنا کچھ کھائے گھر سے ہی نکل گیا تھا۔۔۔۔
گھر کے سب لوگ اُجالا اور نسرین بیگم سے حمدان کے بدترین رویے کی وجہ سے شرمندہ شرمندہ سے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ مگر اُجالا کی خوش مزاجی نے زیادہ دیر ایسا ماحول نہیں رہنے دیا تھا۔۔
“ویسے آپ کے یہ بھائی پیدائشی ایسے تھے۔۔۔ یا کسی وجہ سے اتنے سٹریل ہوئے ہیں۔۔۔۔ فرح کے ساتھ چائے پیتے اُجالا نے حمدان کی طرح منہ بنانے کی ایکٹنگ کرتے پوچھا۔۔۔
“شروع سے ہی کافی سیریس مزاج کے ہیں۔۔۔ اور پولیس فورس جوائن کرنے کے بعد تو مزید سٹرکٹ ہوگئے ہیں۔۔۔۔ لیکن دل کے بہت اچھے ہیں۔۔۔ اپنوں کو زرا سا بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔ ابھی بس ناراض ہیں ہم سے اِسی لیے دور ہیں۔۔۔ مگر میں جانتی ہوں۔۔۔ بہت جلد اُن کے دل سے یہ ناراضگی بھی ختم ہوجائے گی۔۔۔۔ بس اُس چڑیل کا سایہ ہٹ جائے اُن کے اُوپر سے۔۔۔۔۔”
بات کے اختتام پر مریم کے ذکر پر فرح کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔۔۔
“کون۔۔۔۔ کس کی بات کررہی ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
اُجالا اُس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی متجسس ہوئی تھی۔۔۔۔
“ایک منٹ ماما بلارہی ہیں میں آتی ہوں ابھی۔۔۔۔۔”
فرح سمیعہ بیگم کے بلاوے پر فوراً اُس جانب بھاگی تھی۔۔۔۔ جبکہ اُجالا ایک بار پھر بات ادھوری رہ جانے پر بدمزہ سی ہوئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“تم نے مجھ سے جھوٹ بولا نا۔۔۔ یہ۔لوگ کس محفل کی بات کررہے ہیں۔۔۔ یہاں کونسی محفل سجنے والی ہے۔۔۔ اور یہ زونیا کون ہے۔۔۔۔ کتنی لڑکیوں کے ساتھ افیئرز ہیں تمہارے۔۔۔۔”
حبہ کے انداز سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ بھڑکتی آگ میں جھلس رہی ہے۔۔۔۔ یہ آگ کس چیز کی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔
جبکہ حازم آنکھوں میں شوخی بھری چمک سجائے اُس کی کمر کے گرد دونوں بازو باندھے اُسے اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔۔
“تم جیلس ہورہی ہو کیا۔۔۔۔؟؟؟”
حازم اُس کی جانب شوخی سے دیکھتے بولا۔۔۔
جبکہ اُس کی ایک بار پھر کی جانے والی بے باک حرکت اور الفاظ حبہ کا غصہ مزید بڑھا گئے تھے۔۔۔۔
اُس کی گرفت حازم کے گریبان پر مزید سخت ہوئی تھی۔۔۔
“میری جوتی کو بھی پرواہ نہیں ہے۔۔۔ تمہارا وہ ایک لڑکی پوچھے یا ہزاروں پوچھیں۔۔۔۔ مگر مجھے صرف یہ بتاؤ۔۔۔ یہ لوگ کس محفل کی بات کررہے تھے۔۔۔۔۔”
حبہ نے فوراً بات تبدیل کی تھی۔۔۔۔ اُسے کیا یہ شخص چاہے جتنی مرضی لڑکیوں سے افیئر رکھے۔۔۔۔
“کس کو کتنی پرواہ ہے وہ تو صاف نظر آرہا ہے ایس پی صاحبہ۔۔۔۔ ویسے آپ پولیس والی ہوکر ہم لوگوں کی محفلوں کے بارے میں نہیں جانتیں۔۔۔ حیرت کی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔”
حازم کے معنی خیز انداز پر حبہ مزید مشکوک ہوئی تھی۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟ “
حبہ نے اُس کے گریبان کو اتنی سختی سے کھینچ رکھا تھا کہ حازم کی گردن بالکل لال ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
“مطلب پولیس والی ہوکر ہماری شراب و شباب کی محفلوں سے انجان ہیں آپ۔۔۔۔ شمشیر خان اِسی محفل کی بات کررہا تھا۔۔۔ میرے یہاں آنے کی خوشی میں اُس نے یہ محفل رکھی ہے۔۔۔ “
حازم اپنی بات کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے حبہ کے تاثرات دیکھ بہت مشکل سے اپنا قہقہ روک پایا تھا۔۔۔
“کیا مطلب تو اب مجھے وہ محفل بھی اٹینڈ کرنی پڑے گی۔۔۔۔ تم۔۔۔ تم یہ سب بھی کرتے ہو۔۔۔۔ دنیا کی ایسی کونسی بُری حصلت نہیں ہے جو تم نہیں رکھتے۔۔۔۔ تمہیں زرا شرم نہیں آتی یہ حرام کام کرتے ہوئے۔۔۔۔؟؟”
حبہ اُس سے دور ہوتی تیز نگاہوں سے اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔۔ جبکہ حازم اپنے کالر درست کرتا چہرے پر محظوظ کن مسکراہٹ سجائے کھڑکی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
“میں ایسی کوئی محفل نہ ہونے دوں گی اور نہ اٹینڈ کروں گی۔۔۔۔ “
حبہ کا ایس پی موڈ آن ہوچکا تھا۔۔۔۔ مگر حازم اِس وقت اُسے جواب دینے سے زیادہ باہر دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔۔۔
“میں تم سے بات کررہی ہوں۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ کو اپنا یوں اگنور کیا جانا بہت بُرا لگا تھا۔۔۔ وہ حازم کے قریب آتے کچھ بولنے ہی والی تھی۔۔۔ جب حازم ایک دم پلٹتا اُس کے منہ پر کلوروفارم بھرا رومال رکھ چکا تھا۔۔۔۔
حبہ نے بے یقینی بھری نظروں سے اُسے دیکھتے مزاحمت کرنی چاہی تھی۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ حواس کھوتی حازم کی بانہوں میں لہرا گئی تھی۔۔۔۔
حازم اُسے بہت ہی نرمی اور احتیاط سے اپنی بانہوں میں اُٹھاتا بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“اقراء پلیز مجھے اِس شخص کی حقیقت جاننی ہے۔۔۔ یہ بابا اور سفیان کا دشمن کیوں ہے۔۔۔ میں نے تو آج تک کبھی اُن کے منہ سے شاہ ویز سکندر کا نام تک نہیں سنا۔۔۔ اور جتنا پاور فل اور جلاد وہ ہے۔۔۔ اگر وہ بابا کو مارنے کا ارادہ رکھتا ہوتا تو کب کا اُنہیں ختم کرچکا۔۔۔۔ مگر وہ مجھے یوز کرکے بابا اور سفیان کے ساتھ بُرا کیوں کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے سچ جاننا ہے۔۔۔۔ اصل حقیقت ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟؟؟ اُس کا ایسا کرنے کے پیچھے کیا ریزن ہے۔۔۔۔؟؟”
پریسا نے آج پورا ارادہ کرلیا تھا اقراء سے سب کچھ اگلوانے کا۔۔۔۔ اقراء کے علاوہ اُسے یہاں کوئی پسند نہیں تھا۔۔۔ باقی سب ہی اُسے احساس سے عاری چلتی پھرتی روبوٹ معلوم ہوتے تھے۔۔۔۔
“شاہ ویز سر کی حقیقت یہ ہے کہ وہ دنیا کے سب سے اچھے انسان ہیں۔۔۔۔ اُن جیسا پیار شخص میں نے آج تک نہیں دیکھا۔۔۔۔ تم نے دیکھا ہے یہاں مجھ سمیت کتنے سارے لوگ موجود ہیں۔۔۔ جو سب شاہ سر اور میر سر کے انڈر کام کررہے ہیں۔۔۔ اور مجھ سمیت ہر فرد اُن کے لیے کسی بھی وقت اُن کی خاطر قربان ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں۔۔۔۔ ہمیشہ ہر جگہ دیکھا جاتا ہے کہ عورتوں کے لیے مردوں کے ساتھ کام کرن اتنا آسان نہیں رہتا۔ اور ایسا کام تو بالکل بھی نہیں۔۔۔ ۔ مگر یہاں ہمیں بہت ہی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔ کسی کی کبھی جرأت نہیں ہوئی کوئی غلط نگاہ ڈالنے کی۔۔۔ کیونکہ ہمارے لیڈرز بہت اچھے ہیں۔۔۔۔۔ ہم سب حق اور سچ کی راہ پر چل رہے ہیں۔۔۔ اِسی لیے ہمیشہ کامیابی نے ہمارے قدم چومے ہیں۔۔۔ اور آگے بھی ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔ انشاء اللہ۔۔۔۔”
اقراء نے اپنے مخصوص نرم لہجے میں جواب دیتے پریسا کو مزید اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
“نہیں جو شخص کسی لڑکی کو بلاوجہ اغوا کرکے یوں قید کیے ہوئے ہے۔۔۔ وہ بھلا اچھا انسان کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
پریسا شاہ ویز سکندر کی زرا سی بھی اچھائی ماننے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔۔۔
“کیا پتا ایسا کرنے میں اُسی لڑکی کی کوئی بھلائی پوشیدہ ہو۔۔۔۔؟؟”
کمرے میں گونجتی مہروسہ کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو ہمیشہ کی طرح سیاہ لباس میں ملبوس سکارف سے اپنا سر اور بال ڈھکے وہ سنجیدہ تاثرات کے ساتھ اندر آئی تھی۔۔۔۔۔
“یہ گینگ لیڈر ہونے کے ساتھ جن بھی ہیں۔۔۔ کبھی بھی کہیں بھی حاضر ہوجاتے ہیں۔۔۔۔”
پریسا مہروسہ کو وہاں آتا دیکھ بدمزا ہوئی تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔