Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47

پریسا نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں اُس نے خود کو شاہ ویز کے کمرے میں پایا تھا۔۔۔ وہ شاہ ویز کے بیڈ پر لیٹی تھی۔۔۔ جبکہ ہمیشہ کی طرح روم میں مدھم سی روشنی کے ساتھ ہر جانب اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز کہیں نہیں تھا۔۔۔۔
پریسا خود پر سے کمبل ہٹاتی بیڈ سے نیچے اُتری تھی۔۔۔
اُس کا دل بُری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔ پورے روم سے اُسے اپنے جانِ ستمبگر کی خوشبو آرہی تھی۔۔۔ وہ دھیرے سے مسکرائی تھی۔۔۔
اُس کی دھڑکنیں جگہ پر آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔ دل و دماغ پر عجیب سا سرور چھایا محسوس ہوا تھا۔۔۔
اُس کا دل چاہا تھا کہ وہ خوشی سے جھومے، کھلکھلائے۔۔۔ پوری دنیا کو بتائے کہ وہ آج کتنی خوش ہے۔۔۔ اُس کے رب نے اُس کی محبت۔۔ اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی کو اُس کی جھولی میں ڈال دیا تھا۔۔۔
پریسا سیاہ رنگ سے سجے پورے کمرے پر ایک مسکراتی نگاہ ڈالتے جیسے ہی پلٹی اپنے عین پیچھے کھڑے شاہ ویز سے ٹکرا گئی تھی۔۔
اُس کے فولادی سینے سے ٹکراتے وہ لڑکھڑا گئی تھی۔۔ جب شاہ ویز نے اُس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے اُسے گرنے سے بچایا تھا۔۔ شاہ ویز کے تاثرات اب بھی ویسے ہی تھے سرد و سپاٹ۔۔۔
مگر پریسا کو اب وہ ایسے ہی بہت پیارا لگتا تھا۔۔۔ اب اُس کا صرف ایک ہی مشن تھا۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر کے منہ سے اپنی محبت کا اقرار کروانا۔۔۔۔ وہ جانتی تھی شاہ ویز اُس سے محبت کرتا ہے۔۔۔ اور ساتھ میں یہ بھی بہت اچھے سے جانتی تھی کہ وہ اُس سے اقرار کبھی نہیں کرے گا۔۔۔
لیکن وہ بھی پریسا آفندی تھی۔۔۔ جو اپنے سامنے چاروں شانے چت گرانا جانتی تھی۔۔۔۔
“اتنی خوشی کس بات کی ہورہی ہے پریسا آفندی۔۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے یہ شادی تمہیں کتنے بڑی مصیبت میں ڈال سکتی ہے۔۔۔۔ میں کوئی عام انسان نہیں ہوں۔۔۔۔ ملک کا سب سے برا گینگسٹر ہوں۔۔۔ جو اتنی بے دردی سے تڑپا تڑپا کر جان نکالتا ہے۔۔۔ کہ انسان خود اپنی موت کی دعائیں مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ میرے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی تم۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کے چہرے کی دلکش مسکراہٹ پر چوٹ کرتے اُسے وارن کرتے واپس پلٹنا چاہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اِس وقت وہ بنا دوپٹے کے سیاہ لہنگے میں قیامت لگ رہی تھی۔۔۔۔
“میں جانتی ہوں۔۔۔ تم کیا ہو۔۔۔؟؟ یہ سب جانتے ہوئے محبت کی ہے تم سے۔۔۔ تم بار بار مجھے یہ سب بول کر ڈرا نہیں سکتے۔۔۔۔ اور نہ ہی میں اب تم سے ڈرنے والی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں تم ایک بہت اچھے انسان ہو۔۔۔۔ تم خود پر یہ جو خول چڑھایا ہوا ہے دیکھنا میں بہت جلد اِسے اُتار پھینکوں گی۔۔۔۔”
پریسا اُس کے راستے میں آتی اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے خوفی سے بول کر چیلنج کرتی واپس پلٹنے لگی تھی۔۔۔ جب شاہ ویز نے اُس کی چٹیا اپنی گرفت میں لیتے اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
اُس کے اِس جارحانہ عمل پر پریسا کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔۔۔
“تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔؟؟ رئیلی۔۔۔؟؟ مگر میں تو تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے خوف دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کے بالوں میں اُنگلیاں پھنسائے اُس کے چہرے کو اپنے چہرے کے انتہائی قریب کیے بولتا پریسا کی سانسیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔
دونوں کے چہرے اتنے قریب تھے کہ پریسا کو اُس کے بولنے پر اُس کے ہونٹ اپنے چہرے سے ٹچ ہوتے محسوس ہورہے تھے۔۔۔۔ دوسرا ہاتھ وہ اُس کی کمر میں حمائل کرتا اُسے اُوپر اُٹھائے ہوئے تھا۔۔۔۔
پریسا کی بولتی وہ ایک سیکنڈ کے اندر بند کرچکا تھا۔۔۔
“تم بہت خوبصورت ہو۔۔۔ مگر مجھے تم اور تمہاری خوبصورتی میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز شہادت کی اُنگلی اس کے ماتھے سے گزار کر ٹھوڑی تک لاتا۔۔۔۔ اُس کو کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔
“تممم۔۔۔ تم اِس طرح۔۔۔۔ مجھے۔۔۔ خوفزدہ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔ کرسکتے۔۔۔۔”
اُس کی جان لیوا قربت پر پریسا سے بولنا محال ہوا تھا۔۔۔
“کیا ہوا تم کانپ کیوں رہی ہو۔۔۔؟؟ تم تو نہیں ڈرتی نا مجھ سے۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز اُس کے لرزتے وجود پر چوٹ کرتے بولا تھا۔۔۔
جبکہ حقیقت یہی تھی کہ وہ خود پریسا آفندی کی یہ قربت برداشت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔ آج بہت سالوں بعد اُس کے دل میں عجیب سی ہلچل ہورہی تھی۔۔۔۔
وہ ایسا کبھی نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔۔۔ مگر وہ اِس بات کو کبھی بھی نہیں جھٹلا پایا تھا کہ پریسا کے سامنے آتے وہ اپنی نفرت میں کمزور پڑنے لگ جاتا تھا۔۔۔
وہ وحشی درندہ اپنی درندگی بھولنے لگتا تھا۔۔۔
اِس وقت بھی پریسا کی مدھم سانسیں۔۔۔ اور سینے سے لگے اُس کے لرزتے وجود کی نرماہٹیں شاہ ویز کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ گئی تھیں۔۔۔۔ وہ فوراً اُسے دور دھکیلتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
جبکہ اُس کے یوں دور جھٹکنے پر پریسا لڑکھڑا کر منہ کے بل زمین پر جا گری تھی۔۔۔۔ اُس کے منہ سے نکلتی کراہ پر شاہ ویز نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔
جو زمین پر بیٹھی اپنے پیر کو تھامے درد سے دوہری ہورہی تھی۔۔۔
شاہ ویز حیران ہوا تھا۔۔۔ اُس نے اُسے اتنے زور سے تو نہیں دھکیلا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز پنجوں کے بل اُس کے قریب آن بیٹھتا مشکوک نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھنے لگا تھا۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ جائیں آپ یہاں سے۔۔۔ میں اکیلے اپنا درد برداشت کرنے کی ہمت رکھتی ہوں۔۔۔۔”
پریسا اپنا لال ہوتا نازک پیر دونوں ہاتھوں میں تھامتی شاہ ویز کی جانب سے رُخ موڑ گئی تھی۔۔۔ تکلیف کے احساس سے اُس کی آنکھوں سے آنسو قطار در قطار بہہ رہے تھے۔۔۔۔
“بات بے بات آنسو نکالنے ضروری ہیں کیا۔۔۔۔؟؟؟ “
شاہ ویز اُسے بانہوں میں اُٹھاتے اُس کے بھیگے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
یہ لڑکی آج واقعی اُسے زیر کرنے کے مشن سے ہی آئی تھی۔۔۔۔
“مجھے درد ہورہا ہے۔۔۔۔ آپ جیسے وحشی انسان کو کیا پتا درد کیا ہوتا ہے۔۔۔”
پریسا اُس کا سنجیدہ چہرا دیکھ تپ کر بولی تھی۔۔۔۔
“تمہیں میری خوبیوں کا بہت اندازہ ہے۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز اُسے سخت نگاہوں سے گھورتے اُسے بیڈ پر بیٹھاتے واپس پلٹا تھا۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔ آپ جیسا اِس قدر جذبات سے عاری اور اَن رومینٹک بندہ میں نے آج تک دیکھا کہاں ہے۔۔۔۔ “
پریسا اپنی جانب بہت آہستہ آواز میں بولی تھی۔۔۔ مگر اُس کی بات شاہ ویز کی زیرک سماعتوں سے نہیں بچ پائی تھی۔۔۔۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔۔؟؟؟”
وہ واپس پلٹا تھا۔۔۔
“کچھ نہیں۔۔۔۔۔ “
پریسا نے گھبرا کر فوراً انکار کیا تھا۔۔۔
“میں اَن رومینٹک ہوں۔۔ یہی کہا ہے نا تم نے۔۔۔؟؟”
شاہ ویز سوالی نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھتے بیڈ پر اُس کے قریب آن بیٹھا تھا۔۔۔
“نن نہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔۔”
پریسا اُس کے خطرناک تاثرات دیکھ نفی میں سر ہلاتی پیچھے کو کھسکی تھی۔۔۔۔
جبکہ شاہ ویز اُس کے گرد تکیے پر اپنی ہتھیلی جمائے اُس کے اُوپر نہایت قریب جھکا تھا۔۔۔ پریسا کی دھڑکنیں ساتویں آسمان پر پہنچ چکی تھیں۔۔۔
“شاہ ویز سکندر دور رہو مجھ سے۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے سینے پر اپنی کپکپاتی نازک ہتھیلیاں جماتی اُسے دور دھکیلنے کی ناکام کوشش کر گئی تھی۔۔۔
“پریسا آفندی۔۔۔ وہ الفاظ ادا ہی مت کرو۔۔۔ جو برداشت نہ کر پاؤ۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی دونوں کلائیاں دبوچ کر تکیے سے لگا چکا تھا۔۔۔ پریسا نے خوفزدہ نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔
“میرے پاؤں میں درد ہورہا ہے۔۔۔۔”
پریسا نے اُسے پیر کی چوٹ یاد دلانی چاہی تھی۔۔۔
“اور مجھے دل میں درد ہورہا ہے پریسا آفندی۔۔۔ تمہارے درد کا علاج تو ہر ڈاکٹر کے پاس موجود ہے۔۔۔ مگر میرے درد کا علاج ایک انسان کے سوا کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔۔۔۔تو سوچ لو۔۔۔ زیادہ بڑا درد کس کا ہوگا۔۔۔ مجھے اپنی جانب متوجہ کرنے کی جو یہ کوشش کررہی ہو۔۔۔ ترک کردو اِنہیں۔۔۔ کیونکہ جب میں قریب آیا تو تم اپنے ہوش بھول جاؤ گی ۔۔”
شاہ ویز ضبط سے سُرخ آنکھوں سے بولتا اُس پر جھکا تھا۔۔۔ اور اُس کے کپکپاتے نازک ہونٹوں پر اپنی وحشت کی داستان رقم کرتا اُس کی جان نکال گیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے اُس کا کالر سختی سے دبوچ لیا تھا۔۔۔ اُسے شاہ ویز سے ایسے کسی عمل کی موقع نہیں تھی۔۔۔ اُس کی گول گول آنکھوں کی پتلیاں ناقابلے یقین حد تک سکڑ گئی تھیں۔۔۔
“اب مجھ سے دور رہنا۔۔۔ پریسا آفندی۔۔۔۔ “
اُس کے لال پڑتے گال پر اپنے دہکتے لب رکھتا وہ اُس کی غیر ہوتی حالت پر ایک بھرپور نگاہ ڈالتا اُس کے پاس سے اُٹھتا روم سے نکل گیا تھا۔۔۔
جبکہ پریسا کتنے ہی لمحے اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔ اُس کا پورا وجود ابھی تک کانپ رہا تھا۔۔۔ دل کی دھڑکنیں جگہ پر آنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔۔۔
وہ گہرے گہرے سانس لیتی اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد کسی خیال کے تحت اُس کے کانپتے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔
ہمیشہ اُسے سختی سے اپنے قریب کرنے والے اُس کے وحشی کے آج کے لمس میں بے اختیاری کے ساتھ ساتھ بے خودی اور ایک نرمی بھی تھی.۔۔۔
“شاہ ویز سکندر۔۔۔ تم بلیک بیسٹ نہیں ہو۔۔ تم جو بھی ہو بہت اچھے ہو۔۔۔ اور اب صرف میرے ہو۔۔۔ تمہارے اِس نکاح لے بدلے میں تمہاری دی ہر تکلیف بھول چکی ہوں۔۔۔ تمہارے ٹھکرانے کی اذیت بھی اور تمہاری بناوٹی نفرت بھی۔۔۔۔ تمہیں اب پوری طرح میرا تو ہونا ہی ہوگا۔۔۔ “
پریسا بیڈ سے اُٹھتےنارمل انداز میں چلتی واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
اُس نے شاہ ویز کے سامنے گرنے کا صرف ناٹک کیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ صرف اپنے ستمگر کی توجہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔۔۔
اب آگے بھی وہ یہی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
پریسا ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ وارٹ روب سے ایک نیوی بلو کلر کا سادہ سا جوڑا نکال گئی تھی۔۔
شاہ ویز کے نکاح کی خبر ملتے ہی اُس کی وارڈ روب سیٹ کر دی گئی تھی۔۔۔۔ جس میں شاہ ویز کی چوائس کے ڈارک کلرز ہی موجود تھے۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

مہروسہ کافی لیے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ جہاں سامنے ہی حمدان اُسے اپنی پیشانی مسلتا بے چین سا دکھائی دیا تھا۔۔۔
مہروسہ کی نگاہ فوراً گھڑی کی جانب گئی تھی۔۔۔ جہاں گھڑی سوا بارہ کا ٹائم بتا رہی تھی۔۔۔ مہروسہ نے بے اختیار اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔ وہ بھلا کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔ یہ نیا شروع ہونے والا دن حمدان کے لیے کتنا اذیت ناک تھا۔۔۔
آج کے دن اُس نے اپنے بھائی کو کھویا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کو بے اختیار حمدان کی لال آنکھیں اور مرجھایا چہرا دیکھ تکلیف محسوس ہوئی تھی۔۔۔ حمدان صدیقی اُس کی تکلیف نہیں سمجھ سکتا تھا کیونکہ وہ اُس سے محبت نہیں کرتا تھا۔۔۔
مگر مہروسہ اُس کی تکلیف اور درد سمجھتی بھی تھی اور اُس کی خاطر کتنی اذیت برداشت کرچکی تھی حمدان کو زرا سا علم بھی نہیں تھا۔۔۔
“آپ کی کافی۔۔۔”
مہروسہ اُس کے قریب جاتی اُس کی جانب کافی کا مگ بڑھا گئی تھی۔۔۔
“وہاں رکھ دو۔۔۔۔”
حمدان بنا اُس کی جانب دیکھے ٹیبل پر رکھنے کا اشارہ کر گیا تھا۔۔۔
“آپ کے سر میں درد ہے۔۔۔ میں سر دبا دوں آپ کا۔۔۔۔”
مہروسہ اُس کے غصے کے خیال سے دھیمے لہجے میں بولی تھی۔۔۔ جو اِس وقت سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس اپنی وجاہت سے بھرپور شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ مہروسہ کا دل دھڑکائے جا رہا تھا۔۔۔
اُس کی بات پر شاہ ویز نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو فکرمند نگاہوں سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اتنی محبت کیوں کرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔؟؟”
حمدان اُس کی جانب قدم بڑھاتا قریب آیا تھا۔۔۔
“میں محبت نہیں کرتی آپ سے۔۔۔۔”
مہروسہ فوراً انکاری ہوئی تھی۔۔۔ جبکہ اُس کے چہرے نے اِس جھوٹ میں اُس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔۔۔۔
“اچھی بات ہے۔۔۔ کرنا بھی مت۔۔۔ بہت خوار کرے گی یہ محبت۔۔۔۔”
حمدان اُسے نصیحت کرتا بیڈ کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ وہیں کھڑی اُسے تکتی رہی تھی۔۔۔
جو کافی کا مگ اُٹھاتا ایک ہی سانس میں گرم کافی کا مگ اپنے اندر اُنڈیلتا اپنے اندر کی جلن کم کرنے کی ناکام کوشش کر گیا تھا۔۔۔
مہروسہ حیرت سے منہ کھولے اُسے تکتی رہی تھی۔۔۔ جو اُسے صاف اگنور کرتا بیڈ پر لیٹتا کمبل اوڑھتے آنکھیں موند گیا تھا۔۔۔
مہروسہ چلتی ہوئی بیڈ کے دوسرے کنارے پر آتی خاموشی سے ٹک گئی تھی۔۔۔ روم کی لائٹ آف تھی۔۔۔ سائیڈ لیمپ کی روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
مہروسہ خاموشی سے بیٹھی اُسے بے چین سا کروٹ پر کروٹ بدلتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
جب اُس سے رہا نہ گیا تو بیڈ پر کمبل ہٹا کر اُس کی جانب سرکتی وہ اُس کے نہایت قریب آن بیٹھی تھی۔۔۔
“حمدان صدیقی محبت نہیں عشق ہو چکا ہے مجھے آپ سے۔۔۔ آپ کو زرا سی تکلیف میں بھی نہیں دیکھ سکتی میں۔۔۔۔”
مہروسہ اُس کی تپتی پیشانی پر اپنی گداز ہتھیلی رکھتے دھیرے سے بولی تھی۔۔۔
حمدان نے آنکھیں نہیں کھولی تھیں۔۔۔
مگر بند آنکھوں سے ہی وہ انتہائی قریب موجود اُس کے وجود کی دلفریب مہک اور ہاتھ کا نرم گداز لمس محسوس کرتا اپنے تڑپتے بھڑکتے دل میں سکون اُترتا محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔۔ پچھلے دو سالوں سے اُس کی یہ رات ہمیشہ جاگتے تکلیف میں ہی گزری تھی۔۔۔ آج تک ایسا مرہم کبھی کسی نے اُس کے زخم پر نہیں رکھا تھا۔۔۔
وہ اُس کی سرگوشی سننے کے باوجود بنا آنکھیں کھولے اُس کا لمس محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔ جو انتہائی محبت اور عقیدت سے اُس کا سر دبا رہی تھی۔۔۔۔
کئی بار اُسے یہی لگتا تھا کہ جو وہ اُسے سمجھ رہا ہے مہروسہ کنول ویسی نہیں ہے۔۔ مگر ہمیشہ یہ اُس کی سوچ ہی رہی تھی۔۔۔ کبھی حقیقت کا رُوپ نہیں دھار سکی تھی۔۔۔
مہروسہ اُس کے خوبرو تیکھے نقوش کو پرسکون ہوتا دیکھ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔
جب اُسی لمحے حمدان سے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا تھا۔۔۔ جو اُسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتی مسکرا رہی تھی۔۔۔
اگلے ہی لمحے وہ اُس کی گود میں سر رکھتا مہروسہ کی جان حلق میں اٹکا گیا تھا۔۔۔ اُسے حمدان سے ایسے کسی عمل کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔ اُس کے ہاتھ کی موومنٹ ایک تم رک چکی تھی۔۔۔۔
جب حمدان نے آنکھیں کھول کر اُس کے لال چہرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
اور اُس کی گردن میں بازو حمائل کرتا وہ اُسے اپنی جانب جھکا گیا تھا۔۔ مہروسہ کا دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہورہا تھا۔۔۔ حمدان نے اُسے اپنے اتنے قریب کرلیا تھا کہ کہ مہروسہ کے گداز ہونٹ اُس کے چہرے سے ٹچ ہورہے تھے۔۔۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تمہارا لمس مجھے سکون پہنچائے گا۔۔۔۔ میں تمہیں اپنے قریب نہیں لانا چاہتا۔۔۔ مگر تم یہاں بھی اپنا کھیل انتہائی ماہرانہ انداز میں کھیلتی مجھے اپنا عادی بنانے کی کوشش کررہی ہو۔۔۔۔ تم ایک ساحرہ ہو جس کے سحر میں حمدان صدیقی کبھی قید نہیں ہونا چاہتا۔۔۔۔ مگر آج میں کوشش کے باوجود تمہیں خود سے دور نہیں کر پارہا۔۔۔ سکون چاہتا ہوں میں۔۔۔ اور آج مجھے وہ سکون تم سے مل رہا ہے۔۔۔ مجھ سے دور مت جانا۔۔۔ اگر میں دور کرنا چاہوں تب بھی نہیں۔۔۔ میں کمزور نہیں۔۔ اور نہ کبھی کمزور پڑا ہوں۔۔۔ مگر آج میں اپنی ساری تکلیفیں بھول کر سکون چاہتا ہوں۔۔۔ ایسے ہی میرے ساتھ رہو۔۔۔ “
حمدان اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتا مہروسہ کے ہوش گم کر گیا تھا۔۔۔ وہ جو سمجھ رہی تھی کہ اُس کے اتنے والہانہ رویے کے بعد بھی حمدان نے خود کو پتھر کر رکھا ہے ایسا نہیں تھا۔۔۔
حمدان صدیقی کے سینے میں قید پتھر اُس کی محبت سے قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا۔۔۔
“میں کبھی آپ سے دور جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ مگر میں جانتی ہوں۔۔۔ آپ میری حقیقت جاننے کے بعد مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے بے دخل کردیں گے۔۔۔۔”
مہروسہ یہ بات صرف دل میں سوچ پائی تھی۔۔۔ حمدان کو کہنے کی جرأت نہیں تھی اُس کے پاس۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔