Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

آج موسم صبح سے کافی ابر آلود تھا۔۔۔۔ کالی گھٹاؤں نے آسمان کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔۔۔۔ تیز ہوا کے جھونکے سے ہر شے اپنے مدار میں جھوم رہی تھی۔۔۔۔تین بجے کا وقت تھا مگر سورج کے رُخِ روشن کے آگے اُٹھکلیاں کرتے بادلوں نے ہر سو اندھیرا پھیلا رکھا تھا۔۔۔۔ اردگرد دیکھ کر یہی معلوم ہورہا تھا جیسے رات کا منظر ہو۔۔۔۔۔۔
کسی بھی وقت یہ حسین بادل بارش کی صورت زمین پر زور و شور سے برس پڑنے کو تیار تھے۔۔۔ سب لوگ ہی موسم کے یہ خطرناک تیور دیکھ کر جلدی جلدی اپنا کام نبٹانے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔۔ تاکہ ہر طرف ہوتے جل تھل اور ٹریفک میں پھنسنے سے پہلے ہی گھر پہنچ سکیں۔۔۔۔
مگر اُن سب میں ایک سر پھری لڑکی پریسا زینب بھی تھی۔۔۔۔۔ جو نہ صرف اِس موسم کی دیوانی تھی بلکہ اِس وقت بھی کام نبٹانے کے بجائے مزید بڑھانے کی پلاننگ کرچکی تھی۔۔۔۔
“پری رک جاؤ۔۔۔۔ پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔۔ دیکھو موسم کتنا خراب ہورہا ہے۔۔۔۔ چپ کرکے گھر چلو۔۔۔۔۔ “
فضہ تیز ہوا کے ساتھ اُڑ کر جاتے اپنے دوپٹے کو سنبھالنے میں ہلکان ہوتے ہوا کے دوش پر سوار پریسا زینب کے پیچھے جاتے بولی۔۔۔۔
“کیا یار۔۔۔ اتنے پیارے موسم کو بھلا خراب موسم کون کہتا ہے۔۔۔۔ اور میں کوئی لوفریاں مارنے نہیں جارہی۔۔۔۔ سفیان کا کل برتھ ڈے ہے۔۔۔۔ میں اُنہیں رات بارہ بجے سب سے پہلے وش کرکے ہمیشہ کی طرح سرپرائز دینا چاہتی ہوں۔۔۔۔ جس کے لیے مجھے کیک چاہیئے۔۔۔۔ ابھی وہی لینے جارہی ہوں۔۔۔۔ اِس لیے اب بنا کوئی فضول بات بولے چپ کرکے میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔”
پریسا پلٹ کر اپنی گول گول آنکھیں گھما کر اُسے گھورتی اُس کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچ کر لے جانے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
“لیکن پری جس بیکری سے تم کیک لینے کا کہہ رہی ہو۔۔۔ وہ تو شہر کے دوسرے کونے پر ہے۔۔۔ وہاں تک جاتے جاتے تو رات ہوجانی ہے۔۔۔۔ موسم خراب ہونے کی وجہ سے ویسے ہی ٹریفک جام ہوگا۔۔۔۔ تم کسی اور بیکری سے لے لو نا کیک۔۔۔۔ کیک تو کیک ہی ہوتا ہے نا۔۔۔ “
صدا کی ڈرپوک فضہ نے اُسے روکنا چاہا تھا۔۔۔۔ پریسا جس قدر بارش کی دیوانی تھی فضہ کی اُتنی ہی اِس موسم سے جان جاتی تھی۔۔۔۔۔۔
“نہیں بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ گل بہار بیکرز کے کیک جیسا کوئی کیک نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔ اور چاہے جتنی بارش بھی آجائے۔۔۔ میں ہر حال میں اپنا فیورٹ چاکلیٹ کیک تو لے کر ہی جاؤں گی۔۔۔۔۔ “
پریسا اُس کا انکار خاطر میں لائے بغیر اُسے ساتھ کھینچتی یونی کے مین گیٹ کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ وہ بچپن سے لے کر اب تک گل بہار بیکرز کا کیک ہی کھاتی آئی تھی۔۔۔ وہاں کے آنر کے بیٹے گل شیر بھائی کے ہاتھ کا بنا چاکلیٹ کیک اُس کا موسٹ فیورٹ کیک تھا۔۔۔۔ اِس کیک کے علاوہ وہ کوئی دوسرا کیک نہیں کھاتی تھی۔۔۔۔
ایک بار گل شیر کے بیمار ہوجانے پر اُس نے پورا مہینہ کیک نہیں کھایا تھا۔۔۔۔ اُس کی زندگی کا واحد ایسا مہینہ جس میں اُس نے چاکلیٹ کیک نہ کھایا ہو۔۔۔ ورنہ وہ مہینے میں چار پانچ بار تو کیک ضرور کھاتی تھی۔۔۔۔
اُن کے یونی سے قدم باہر رکھتے ہی ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔۔ فضہ تو بھاگ کر گاڑی میں گھس گئی تھی۔۔۔۔ مگر پریسا باہر ہی کھڑی اپنا چہرا آسمان کی جانب کیے۔۔۔۔۔ بارش کے قطروں سے اپنا دودھیا چہرا مزید ترو تازہ کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔
اردگرد کے لوگ۔۔۔ بارش شروع ہوتی دیکھ جلدی جلدی اپنے ٹھیکانوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔۔ اور ساتھ ہی حیرانی اور کچھ دلچسپی سے اُس پاگل سر پھری لڑکی کو بھی گھور رہے تھے۔۔۔۔ جو کریم کلر کے شارٹ فراک ٹراؤذر میں ملبوس، سوٹ کے ساتھ کے دوپٹے کو گلے میں لپیٹے، پیروں میں وائٹ کھسے پہنے، بے حد سیاہ سٹریٹ بالوں میں کیچر لگا کر کمر پر کھلا چھوڑے وہ ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے بارش میں بھیگتی کوئی آسمان سے اُتری پری معلوم ہوئی تھی۔۔۔ جس آس پاس کی دنیا کا کوئی ہوش تھا ہی نہیں۔۔۔۔ جس کے لیے اُس کی اپنی ذات ہی بہت اہم اور اُس کے لیے کافی تھی۔۔۔۔۔
زمین سے اُٹھتی گیلی مٹی کی مہک نے اُس کے تاثرات میں مزید خوشگواریت بھر دی تھی۔۔۔
“پری کی بچی۔۔۔۔ آنا نہیں ہے تم نے کیا؟؟؟”
فضہ کی آواز نے اُس کا سارا طلسم توڑ دیا تھا۔۔۔۔ پری نے اپنی گول گول دلنشین آنکھیں گھما کر اُسے گھورا تھا۔۔۔ مگر پھر دیر ہوجانے کا سوچ کر نا چاہتے ہوئے بھی اُسے اپنا پسندیدہ شغل ختم کرنا پڑا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

بڑے بڑے درختوں سے سجے گھنے جنگل کے عین بیچ بنائے گئے اُس وسیع و عریض بنگلے کے بلیک ٹائیگرز پوری طرح چاقو چوبند کھڑے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔۔۔۔
اِس بنگلے کی سیکیورٹی اتنی سخت تھی کہ جنگل میں اگر بنگلے سے تیس کلو میٹر دور بھی کوئی انجان شخص داخل ہوتا تو فوراً بنگلے کے اندر ریڈ الرٹ جاری ہوجاتا تھا۔۔۔۔۔ اور نہ ہی کوئی فضائی طور پر اِس بنگلے کا دورہ کرسکتا تھا۔۔۔۔ بلیک ٹائیگرز میں موجود شاپ شوٹرز فورسز سے کی جانے والی ایسی کئی کوششوں کو ناکام بنا چکے تھے۔۔۔۔
جس کے بعد سے کسی نے بلیک بیسٹ کے ایریا میں قدم رکھنے کی جرأت نہیں کی تھی۔۔۔۔
“ابھی کچھ ہی دیر میں بلیک بیسٹ پہنچنے والے ہیں۔۔۔۔ “
بلیک ٹائیگر فورس کے کیپٹن جنید کی بات ابھی پوری ہی نہیں ہوئی تھی جب بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ ہی پہلے سے چلتی ہوا میں ہیلی کاپٹر کے پروں نے مزید طوفان مچا دیا تھا۔۔۔۔۔
بنگلے کے وسیع و عریض میدان میں ہیلی کاپٹر آن اُتر۔۔۔ جس کے کچھ سیکنڈز بعد ہی وہاں سے سیاہ ماسک پہنے سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس بلیک بیسٹ اپنے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ باہر نکلا تھا۔۔۔۔
اُن تینوں نے ہی اپنے چہروں کو سیاہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا۔۔۔۔ وہ تینوں ہی سیاہ لباس میں ملبوس تھے۔۔۔۔ اُن تینوں کو دیکھ کر وہاں چاک و چوبند کھڑے اُن کی بلیک ٹائیگر فورس نے سر اُٹھا کر اُنہیں سلام کیا تھا۔۔۔
چوڑے سینے اور مضبوط کسرتی وجود کا مالک شاہ ویز سکندر ماتھے پر اُن گنت سلوٹیں ڈالے مُٹھیاں سختی سے بھینچے تیز قدموں سے چلتا بلیک ٹائیلوں سے سجی روش کے اُوپر چلتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔ جس کے دونوں اطراف سیاہ گلاب کے پھول لگائے گئے تھے۔۔۔۔ صرف وہاں نہیں بنگلے میں ہر طرف صرف سیاہ گلاب کا ہی راج تھا۔۔۔۔ اِس کے علاوہ کسی کو بھی وہاں کوئی دوسرے کلر کا پھول لانے اور لگانے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔۔
شاہ ویز کے دائیں جانب اُس کے جیسی ہی شاندار پرسنیلٹی کا مالک میر حازم اپنی مقناطیسی آنکھوں میں گہری سنجیدگی طاری کیے اُس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ شاہ ویز سکندر کے بائیں جانب نزاکت اور دلکشی کی چلتی پھرتی مورت مہروسہ کنول موجود تھی۔۔۔۔ جس کی ماسک سے جھانکتی کاجل سے لبریز سیاہ آنکھیں دیکھنے والوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں قتل کردینے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔۔ آنکھوں کے ساتھ ساتھ آج تک اُس کا ہتھیار سے کیا بھی کوئی وار خالی نہیں گیا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے نشانے میں بہت ماہر تھی۔۔۔ آج تک اُس کا کوئی نشانہ کبھی مس نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
وہ تینوں تیز رفتاری سے چلتے بنگلے کی لمبی راہداری عبور کر کے سیڑھیاں چڑھتے اپنے بلیک روم میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔ جس میں داخل ہونے کے لیے اُن تینوں کے فنگر پرنٹس یوز ہوتے تھے۔۔۔۔ یا اُن کے الگ الگ پاسورڈز۔۔۔جو اُن میں ایک دوسرے کو بھی پتا نہیں تھے۔۔۔۔
اُن تینوں کے علاوہ کوئی اِس حساس کمرے میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ اور نہ ہی اُن کا سیکورٹی لاک توڑ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
“شبیر چوہان کے کالے کرتوتوں میں ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔ اب اُسے چین کی نیند سلانے کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز سکندر نے دلکش مغرور نقوش سے سجے اپنے خوبرو چہرے سے ماسک اُتارتے ٹیبل پر پھینکتے لیپ ٹاپ آن کیا تھا۔۔۔۔ جہاں شبیر چوہان کے گھر کا پورا نقشہ موجود تھا۔۔۔۔ شبیر چوہان ایک بہت بڑا سیاست دان تھا۔۔۔۔۔۔ مگر اُس کی سب سے بڑی بدقسمتی تھی کہ وہ اُن تین بلیک سٹارز کی نگاہوں میں آچکا تھا۔۔۔۔۔
“مگر شبیر چوہان نے پچھلے ایک ہفتے سے گھر سے باہر قدم نہیں رکھا۔۔۔۔ اور اس کے گھر میں داخل ہونے کا مطلب ہے۔۔۔ خود کو پولیس کسٹڈی میں دے دینا۔۔۔۔۔”
مہروسہ ہمیشہ کی طرح لیٹسٹ اپڈیٹس سے آگاہ کیا تھا اُنہیں۔۔۔۔۔
“ہماری دھمکی بھجوانے کے بعد سے وہ اتنا خوفزدہ ہے۔۔۔۔ شبیر چوہان نے امریکہ سے سپیشل سیکیورٹی فورس بلائی ہے جس کے تحت وہ ہم سے بچنے کے لیے ملک سے باہر بھاگ جانا چاہتا ہے۔۔۔۔ مگر ہم نے اُس پر حملہ کرکے اُس کی امریکی سیکیورٹی ٹیم کی جو دھجیاں اُڑائی ہیں۔۔۔۔ اُس کے بعد سے وہ اپنے گھر میں قید ہوکر رہ گیا کے۔۔۔۔ مگر اب اُس کے مرنے کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔ اب ہم ماریں گے اُسے وہ بھی اُس کے گھر میں گھس کر۔۔۔”
حازم نے کرسی پر براجمان ہوتے مہروسہ کی پریشانی کم کی تھی۔۔۔
“لیکن میر سر شبیر چوہان کے گھر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔۔۔۔ وہاں سے بچ کر نکلنا ناممکن سی بات ہے۔۔۔۔”
مہروسہ اگر اِس پوری دنیا میں کسی کے لیے پریشان ہوتی تھی تو وہ دونوں تھے۔۔۔ جن کے لیے وہ اپنی جان بھی دینے کو تیار رہتی تھی۔۔۔۔۔ ورنہ اُن دونوں کے علاوہ تو وہ پوری دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتی تھی۔۔۔۔
“بالکل ممکن نہیں ہے۔۔۔۔ مگر شبیر چوہان کو مارنا بھی ان ناگزیر ہوچکا ہے۔۔۔۔ ہم ماریں گے تو ضرور اُسے۔۔۔۔ میں اور حازم جائیں گے۔۔۔ تم یہیں رہو گی۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی بات پر جہاں حازم پرسکون رہا تھا۔۔۔ وہیں مہروسہ جھٹکے سے شاہ ویز کی جانب پلٹی تھی۔۔۔۔
“مگر شاہ سر میں کیوں نہیں آسکتی۔۔۔۔۔ ہم نے ہمیشہ ہر مشن ایک ساتھ کیا ہے۔۔۔ “
مہروسہ کو کسی طور برداشت نہیں تھا کہ وہ خطرے میں رہیں۔۔۔ اور مہروسہ سکون سے یہاں بیٹھے۔۔۔ وہ تینوں ہی اچھے سے جانتے تھے کہ ملک کے تمام فورسز کے ادارے اُنہیں پکڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے بیٹھے تھے۔۔۔۔
“میں نے ایسا کب کہا کہ تم اِس مشن کا حصہ نہیں ہوگی۔۔۔۔ تمہارا کام اِس مشن میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔۔۔۔ ہمارے پکڑے جانے کے بعد۔۔۔ ہمیں رہاع تمہی نے کروانا ہے۔۔۔۔۔ اگر تینوں اریسٹ ہوگئے تو بچانے کون آئے گا۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی بات پر مہروسہ نے اپنی رکی سانس بحال کرتے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ اور حازم کا مزاج ایک جیسا تھا۔۔۔ وہ اگر مشن کے ٹائم پر بہت سنجیدہ اور کام میں فوکس رہتے تھے۔۔۔۔ تو بعد میں لائف کو انجوائے بھی کرتے تھے۔۔۔ مگر شاہ ویز سکندر نے تو جیسے اپنا آپ پوری طرح اِس کام میں وقف کردیا تھا۔۔۔۔۔ وہ نہ تو کبھی اُن کے ساتھ کسی لنچ ڈنر میں شامل ہوتا تھا نہ کسی مشن کی کامیابی کی سلیبریشن پارٹی میں۔۔۔۔۔ سالوں بیت گئے تھے کسی نے اُسے ہنستا تو دور اُس کے چہرے پر مسکراہٹ تک نہیں دیکھی تھی۔۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“اے ایس پی حبہ امتشال ایم این اے شبیر چوہان کی سیکورٹی پر کسی قسم کے کمپرومائز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔۔۔ آپ پانچ آفیسرز کی ٹیم اِسی لیے تیار کی ہے میں نے تاکہ کسی قسم کے خطرے کا نام و نشان نہ رہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی فوراً آپ لوگ جاکر ایک بار اپنے طور پر سیکورٹی کے انتظامات چیک کرلیں۔۔۔۔ “
آئی جی صاحب اپنے مقابل کھڑے حبہ امتشال سمیت باقی پولیس آفیسرز کو بریفنگ دے رہے تھے۔۔۔ جب اُسی لمحے ٹیبل پر رکھا اُن کا فون زور و شور سے بج اُٹھا تھا۔۔۔۔۔
“کیا۔۔۔ جی سر میں ابھی اپنی ایک اور ٹیم بھیج رہا ہوں۔۔۔۔ ہم دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔۔۔۔۔”
فون پر دی جانے والی خبر سن کر آئی جی صاحب کے چہرے پر موجود پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔
“ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ شبیر چوہان کو ابھی کچھ دیر پہلے آج رات مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔۔۔ پچھلی بار اُن لوگوں نے حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔۔۔۔ اور وہ اُس میں کامیاب رہے۔۔۔۔ مگر آج اُنہیں کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دینا۔۔۔۔۔”
آئی جی صاحب کی بات سن کر حوصلہ افزا جواب دے کر وہ سب سلوٹ کرتے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔۔
“جیسے اُس خبیث انسان کے کرتوت ہیں۔۔۔ اُس کا یوں کتے کی موت مرنا ہی بنتا ہے۔۔۔۔۔ میرا تو دل کررہا ہے سیکیورٹی کرنے کے بجائے گھر جاکر اپنی دو راتوں کے جگراتے کی نیند ہی پوری کر لوں۔۔۔ زرا جو اندازہ ہوتا کہ اِس فیلڈ میں آکر ایسے لوگوں کی حفاظت کرنی پڑے گی تو کبھی نہ آتا۔۔۔۔۔”
آفس سے باہر نکلتے ہی ایس پی عمار نے اُکتائے ہوئے لہجے میں اپنی بیزاری کا جواب دیا تھا۔۔۔
جس پر اُس کے ساتھ چلتی حبہ نے اُسے سخت نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔۔
“وہ ہمارے ایک بہت ہی معزز سیاست دان ہیں۔۔۔ ہم ایسے کیسے کسی بھی خبر پر یقین کرکے اُنہیں غلط کہہ سکتے ہیں۔۔۔ ہوسکتا ہے وہ ایک نیک انسان ہوں۔۔۔۔؟؟ یہ ڈیوٹی جوائن کرتے ہم نے اِسے ایمانداری سے کرنے کا حلف اُٹھایا تھا۔۔۔۔ اگر آپ کو یاد ہوتو۔۔۔۔۔ “
حبہ اُسے کھڑی کھڑی سناتی اپنے سر پر کیپ درست کرتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
“اتنا بھی اندھا دھند ڈیوٹی کے پیچھے پاگل نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔ “
عمار ادارے کی سب سے قابل آفیسر حبہ امتشال کی یہ ایمانداری دیکھ بڑبڑاتے آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“تھینکیو گل بھائی۔۔۔۔ ہمیشہ اتنے شارٹ نوٹس پر مجھے کیک بنا کر دینے کے لیے۔۔۔۔۔”
پریسا گل بہار بیکرز سے کیک لے کر نکلتی وہاں کے آنر گل شیر کا شکریہ ادا کرتے بولی۔۔۔۔ جنہوں نے چاہے کتنی بھی مصروفیت ہو۔۔۔۔ اُنہیں کیک بنا کر دینے سے انکار نہیں کیا تھا۔۔۔۔
“آلویز ویلکم گڑیا۔۔۔۔۔۔ “
گل شیر کو یہ چھوٹی سی لڑکی بہت اچھی لگتی تھی۔۔۔ جو ہمیشہ اتنے دور سے پورے لاہور کی بیکریز چھوڑ کر صرف اُس کے پاس آتی تھی۔۔۔۔۔
“اُف اللہ جی کتنی تیز بارش شروع ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ اتنی تیز بارش میں بھلا گاڑی تک کیسے پہنچیں گے۔۔۔۔ تم یہ کیک تو ڈرائیور کو پکڑا دیتی۔۔۔۔ نہیں ہوتا تمہارے کیک کو کچھ۔۔۔۔۔۔۔”
فضہ بارش کی ٹھنڈی ٹھنڈی بوندیں خود پر پڑتے ہی اُسے کوسنا شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔۔ بیکری کے قریب قریب کہیں بھی پارکنگ کے لیے جگہ نہیں تھی۔۔۔۔ اِس لیے اُن کی گاڑی قدرے فاصلے پر کھڑی تھی۔۔۔۔
“فضہ تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ یہ ننھے منھے قطرے تمہارا بھلا کیا بگاڑیں گے۔۔۔۔۔ چپ کرکے چلو نہیں پگھلتی تم۔۔۔۔۔ “
پریسا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا جب بارش اچانک سے بہت تیز ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ اِس سے پہلے کے وہ چند قدم بھی آگے بڑھاتی جب دائیں جانب سے کوئی شخص بہت تیزی سے آتا اُسے سے بُری طرح ٹکرا گیا تھا۔۔۔۔۔
پریسا کے ہاتھ سے کیک چھوٹ کر زمین بوس ہوا تھا۔۔۔۔ کیک کی حالت دیکھ بے ساختہ پریسا کے ہونٹوں سے چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔ اِس سے پہلے کے وہ خود بھی توازن برقرار نہ رکھ پاتے سر کے بل ماربل کے جاگرتی مقابل نے اُس پر احسانِ عظیم کرتے اُس کا نازک ملائم ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے اُسے گرنے سے بچایا تھا۔۔۔۔۔
“تم پاگل، اندھے تمہیں۔۔۔۔۔۔”
پریسا ابھی اتنا ہی بول پائی تھی۔۔۔ جب اُس شخص نے پلٹ کر قہر برساتی نگاہوں سے پریسا کو دیکھا تھا۔۔۔ اُس سیاہ لباس میں ملبوس نقاب پوش کی خود پر گڑھی سیاہ آنکھیں دیکھ پریسا خوف سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
اور رہی سہی کسر اُس کے اگلے عمل نے پوری کردی تھی۔۔۔۔ جب اُس نے پلٹ کر اپنے پیچھے آتے افراد پر اندھا دھند فائرنگ کھولتے اُنہیں وہیں ڈھیر کردیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے خون میں لت پت زمین پر گرتی لاشوں کو دیکھا تھا۔۔۔۔ تیز بارش کی وجہ سے روڈ پر اکٹھا ہوتا پانی لال ہوچکا تھا۔۔۔۔
پریسا نے پہلی بار اپنی آنکھوں کے سامنے ایسا کوئی خوفناک منظر دیکھا تھا۔۔۔۔ جسے برادشت نہ کر پاتے وہ اپنے حواس کھوتی بے ہوش ہوتے نیچے جاگری تھی۔۔۔۔
مگر اِس بار سامنے کھڑے شاہ ویز سکندر نے اُسے تھامنے کی غلطی بالکل بھی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
وہ اِس لڑکی کی اِس قدر نزاکت پر اُسے شعلہ بار نگاہوں سے گھورتا اُسی تیز رفتاری سے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“جلدی جلدی ساری تیاری کر لو۔۔۔۔ ایس پی سر کسی بھی وقت پہنچ سکتے ہیں۔۔۔۔ “
انسپکٹر عاصم بینچ پر سست سے انداز میں بیٹھے اہلکاروں کو آگاہ کرتا اپنے کیبن کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
“کوئی نہیں ایس پی صاحب کونسا کوئی دوسرے سیارے سے آرہے ہیں۔۔۔۔ ہمارے جیسے ہی ہونگے نا۔۔۔۔ “
عاصم کو وہاں سے ہٹتے دیکھ وہ اہلکار واپس کرسیوں پر ڈھے گئے تھے۔۔۔ جب اُسی لمحے ایک درمیانی عمر کی عورت ایک چھوٹے سے بچے کو ساتھ لگائے۔۔۔ روتے ہوئے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
“یہ لو۔۔۔۔ پھر نازل ہوگئی نئی مصیبت۔۔۔۔۔”
اُن میں سے ایک اُکتائے ہوئے لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔۔
“صاحب جی۔۔۔۔۔ میری مدد کریں۔۔۔۔ میں بہت مجبور عورت ہوں۔۔۔ پہلے بھی دو بار آچکی ہوں۔۔۔۔ مگر میری رپورٹ درج نہیں کی گئی۔۔۔ پہلے ملک افضل کے آدمی صرف دھمکیاں دے رہے تھے۔۔۔ مگر اب تو اُنہوں نے ہماری دکان پر قبضہ جما کر ہمارا سارا سامان باہر پھینک دیا ہے۔۔۔۔۔ خدا کے لیے ہماری مدد کریں۔۔۔۔ میں اکیلی بیوہ عورت اُن لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔ “
وہ عورت ہاتھ جوڑے اُن کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔
“دیکھو مائی ہم تمہارا مسئلہ سمجھتے ہیں۔۔۔ مگر ملک افضل کی پہنچ سے تم اچھی طرح واقف ہو۔۔۔ اُس کے خلاف ایف آئی آر کٹوا کر تم اپنے لیے تو مزید مصیبت کھڑی کرو گی ہی سہی۔۔۔ اور ساتھ ہماری وردی بھی اُتروا دو گی۔۔۔۔۔ ہمیں تم سے ہمددری ہے مگر ہم اِس معاملے میں بہت مجبور ہیں۔۔۔۔ ہم تمہاری مدد کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔”
اُن میں سے ایک نے ویسے ہی بیٹھے بیٹھے اُس عورت کو دو ٹوک جواب دیا تھا۔۔۔۔
“اگر مدد نہیں کرسکتے۔۔۔ اور اتنے ہی مجبور ہو تو پولیس اسٹیشن میں کیا کررہے ہو۔۔۔۔ وردی اُتار کر گھر چوڑیاں پہن کر بیٹھ جاؤ۔۔۔۔۔”
پولیس اسٹیشن میں گونجتی گھمبیر بھاری غصے سے لبریز آواز پر وہ جھٹکے سے سیدھے ہوئے تھے۔۔۔۔ اُسی لمحے انسپکٹر عاصم بھی اپنے کیبن سے باہر آیا تھا۔۔۔۔
فل یونیفارم میں ملبوس کندھے اور سینے پر اپنی قابلیت کے بیجز سجائے ایس پی حمدان صدیقی اُن کے پیروں تمے سے زمین کھسکا گیا تھا۔۔۔۔
“سر وہ۔۔۔۔۔۔ “
اُن میں سے ایک نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر حمدان نے اب اُنہیں ایسا کوئی بھی موقع نہیں دیا تھا۔۔۔۔
“دو مہینوں کے کیے معطل کرتا ہوں میں تم لوگوں کو۔۔۔۔ تاکہ گھر میں سکون سے بیٹھ کر سوچو کہ تم لوگوں کو یہ وردی عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے دی گئی ہیں۔۔۔ اُن کے سروں پر اپنی مجبوریوں کا بوجھ لادنے کے لیے نہیں۔۔۔۔۔”
حمدان نے اُنہیں زرا سی بھی مہلت دیئے بغیر سزا سنا دی تھی۔۔۔۔۔
“سر ہمیں۔۔۔۔ ایک موقع۔۔۔۔۔”
اِس نئے آفیسر نے ایک پل کے اندر اُن کی ساری سستی اور کاہلی دور کردی تھی۔۔۔۔
“دو مہینے بعد موقع ملے گا۔۔۔۔ اپنی وردی جمع کروا کر جاسکتے ہو تم لوگ یہاں سے۔۔۔۔۔ بی بی آپ آئیں میرے ساتھ۔۔۔۔”
حمدان اُنہیں سخت لہجے میں وارن کرنے کے ساتھ ساتھ اُس خاتون کو نہایت ہی احترام سے اپنے ساتھ آنے کا کہتا اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔