Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

مہروسہ چینج کرکے سیاہ شفیون کا سادہ سا سوٹ زیب تن کرکے خود کو اُس بھاری بھرکم لہنگے سے آزاد کر گئی تھی۔۔۔ حمدان صدیقی کا کچھ دیر پہلے والا رُوپ دیکھ اُس کا دل چاہا تھا یہیں اِس کشادہ واش روم کے ایک کونے میں رات گزار دے۔۔۔
وہ حمدان صدیقی کا جلاد والا روپ تو برداشت کرسکتی تھی۔۔ مگر اُس کا یہ مہربان انداز نہیں۔۔۔ جو اُس کے لیے جان لیوا تھا۔۔۔۔
وہ جانتی تھی اُس کا دل کیسے پاگل تھا حمدان صدیقی کے لیے۔۔۔ اگر وہ اُس کے نرم رویے کے آگے اپنا سب کچھ وار کر کچھ اُلٹا سیدھا بول جاتی۔۔۔ تو بہت سارا نقصان اُٹھانے کے ساتھ ساتھ خود کو کبھی معاف نہ کر پاتی۔۔۔۔
جنید کے ساتھ جو ہوچکا تھا۔۔۔ ایسا وہ حازم اور شاہ ویز کے لیے سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق مہروسہ باہر نکلی تھی۔۔۔
پورے روم پر نظر ڈالتے اُس نے سکون کی سانس خارج کی تھی۔۔۔ کیونکہ حمدان وہاں کہیں بھی نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن چند قدم آگے بڑھاتے ہی اُس کی دھاڑ پر مہروسہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ٹیرس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جس کے پردے گرے ہوئے تھے۔۔۔ مگر اُس حمدان کی کسی پر غصے سے برسنے کی آوازیں یہاں تک آرہی تھیں۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اِس غصے کی وجہ کیا تھی۔۔۔
اِس لیے حمدان صدیقی اُس پر بھی اپنا غصہ نکال سکتا تھا۔۔ کیونکہ اُسی کے فیلو لیڈرز نے جاکر اُس کے کھڑوس پولیس والے کا پلان خراب کردیا تھا۔۔۔
مہروسہ جلدی سے بیڈ کی جانب بڑھتی،، کمبل کھول کر اپنے اُوپر لپیٹتی بیڈ کے ایک کونے پر دراز ہوچکی تھی۔۔۔۔ اُس نے کمبل سر سے پیر تک اوڑھ رکھا تھا۔۔۔ اُس کا ایک بال تک دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
جب کچھ لمحوں بعد اُسے حمدان کے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔۔۔ کمبل کے اندر وہ آنکھوں اور مُٹھیوں کو سختی سے بھینچے ہوئے تھی۔۔۔
اُسے حمدان بیڈ کی دوسری سائیڈ پر بیٹھتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
مہروسہ زندگی میں آج تک کبھی اتنی نہیں گھبرائی تھی جو حالت اُس کی اِس وقت ہورہی تھی۔۔۔۔ اُس نے شدت سے دعا کی تھی کہ حمدان صدیقی اِس وقت اُسے یاد نہ ہی کرے تو ٹھیک تھا۔۔۔
مگر شاید یہ وقت قبولیت کا نہیں تھا۔۔۔ مہروسہ کی نہیں سنی گئی تھی۔۔۔ اور حمدان صدیقی اگلے ہی لمحے اُسے کمبل کے اُوپر سے ہی تھام کر اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔
مہروسہ نے ہونٹوں کو سختی سے میچتے منہ سے برآمد ہوتی بے ساختہ چیخ کا گلا گھونٹا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کے ایک بار کھینچنے پر ہی مہروسہ سیدھی اُس کے سینے پر آن گری تھی۔۔۔۔
مہروسہ اُس کی سخت گرفت سے ہی اُس کا غصہ سمجھ پارہی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا اتنی جلدی نیند آگئی تمہیں۔۔۔۔؟؟؟ مجھے تو ابِھی بہت ساری باتیں کرنی تھیں تم سے۔۔۔”
حمدان کروٹ بدلتے اُسے اپنے بازو پر لٹاتے خود زرا سا اُوپر ہوتا اُس کا کمبل میں چھپا چہرا دیکھنے لگا تھا۔۔۔ بنا میک اپ کے صاف شفاف دودھیا چہرا اور بے پناہ دلکشی بھرے نقوش۔۔۔ بلاشبہ وہ بے حد حسین تھی۔۔۔ حمدان اس بات سے انکار نہیں کر پایا تھا۔۔۔
مگر اس وقت اندر سے وہ جس قدر غصے سے بھڑک رہا تھا۔۔۔۔ اُسے مہروسہ کی یہ خوبصورتی بھی بہت زیادہ بُری لگی تھی۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں سے پھوٹتے شرارے۔۔ مہروسہ کو اُس سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔ وہ اِس شخص کو ہارتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر ہر بار وہ ہی اُس کی ہار کا باعث بن رہی تھی۔۔۔
“جج جی مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔”
مہروسہ اُس کی جھلساتی گرم سانسوں کی تپیش اپنے چہرے پر برداشت کرتی بمشکل بول پائی تھی۔۔۔ اُسے خود پر حیرت ہوتی تھی کہ آخر حمدان صدیقی کے سامنے اُسے ہو کیا جاتا تھا۔۔۔
اُس کی محبت اُسے اتنا کمزور کیوں کردیتی تھی۔۔۔
“لیکن اب تم میری دسترس میں آچکی ہو۔۔۔ اب تم وہی کرو گی جو میں کہوں گا۔۔۔ تم اب صرف میری ہو۔۔۔ تمہارے ایک ایک عمل پر تم سے زیادہ میری مرضی چلے گی۔۔۔۔ یہ ہی حمدان صدیقی کی محبت ہے۔۔۔ جسے اب برداشت کرنا پڑے گا تمہیں۔۔۔۔”
حمدان اُس کی آنکھوں میں جھانکتا معنی خیزی سے بولتا اُس کے ہونٹوں کے اُوپری حصے پر چمکتے سیاہ تل پر اپنے دہکتے لب رکھ گیا تھا۔۔ جبکہ مہروسہ اُس کے اِس جارحانہ لمس پر بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔ اُس نے سختی سے آنکھیں میچتے اپنی منتشر ہوتی سانسوں اور بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو اعتدال پر لانا چاہا تھا۔۔۔
اُس کا چہرا خطرناک حد تک لال ہوچکا تھا۔۔۔
حمدان جس نے عمل کسی بھی محبت بھرے جذبے کے تحت نہیں بلکہ مہروسہ کو صرف خود سے خوفزدہ کرنے کے لیے کی تھی۔۔۔ تاکہ وہ اُس کے انداز سے گھبرا کر اپنا سچ خود ہی اپنے منہ سے اُگل دے۔۔۔
مگر مہروسہ کے اِس قدر قریب آجانے پر اُس کے اپنے دل کی دھڑکنوں کا ساز بدلنے لگا تھا۔۔۔
وہ اُس کی فیلنگز کو استعمال کرکے اُسے ہی گھیرنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر مہروسہ کا خوشبوؤں میں مہکتا نازک وجود ایس پی حمدان صدیقی کا گہرا امتحان لے گیا تھا۔۔۔
حمدان نے نگاہیں جھکا کر مہروسہ کی جانب دیکھا تھا۔۔ جو آنکھیں میچے،، لرزتی پلکوں، کپکپاتے ہونٹوں اور دہکتے گالوں کے ساتھ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ حمدان صدیقی کو اپنا دل اپنے ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً مہروسہ کو خود سے آزاد کرتا بیڈ سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔
مہروسہ نے سکھ کا سانس لیتے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔
“تم سو جاؤ۔۔۔ مجھے تھوڑا کام ہے۔۔”
حمدان سائیڈ ٹیبل سے لیپ ٹاپ اور موبائل اُٹھاتا ٹیرس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ اُس نے پلٹ کر ایک بار بھی مہروسہ کی جانب نہیں دیکھا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ اُس کا لال چہرا اور ضبط سے بھینچے ہونٹ دیکھ اپنے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ آنے سے نہیں روک پائی تھی۔۔۔
“ایس پی صاحب۔۔۔ کب تک اپنے دل پر ایسے ہی نفرت کے پہرے بٹھائے رکھیں گے۔۔۔ جیسے باقی سب مشنز میں آپ ہار رہے ہیں۔۔ ویسے ہی آپ کو مہروسہ کنول کی محبت کے آگے بھی گھٹنے ٹیکنے ہونگے۔۔۔۔”
مہروسہ اُس کی کیفیت سمجھتی سر تکیے پر ٹکاتی کھل کر مسکرا دی تھی۔۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی۔۔۔اُس کی قسمت آگے اس کے ساتھ کیا کیا کھیل کھیلنے والی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“میم آپ کا شک بالکل ٹھیک نکلا۔۔۔۔ آپ کے فادر کے ساتھ جو واقعی پیش آیا وہ حادثہ نہیں بلکہ سازش کے تحت اُن کی گاڑی کو جلایا گیا تھا۔۔۔۔۔ اور اُس ٹائم اُن کے موبائل کا جو ریکارڈ نکالا گیا تھا۔۔۔ اُس کے تحت آخری بار اُن کے موبائل سے اُن کے بھتیجے حازم سالار سے کے نمبر پر کال کی گئی تھی۔۔ اب تک اِس کیس میں یہی کہا گیا ہے کہ حازم سالار بھی اُن کے ساتھ تھا۔۔۔ مگر مجھے نہیں لگتا ایسا کچھ ہے۔۔۔ کیونکہ گاڑی سے صرف ایک شخص کی ہی جلی ہوئی لاش ملی ہے۔۔۔ اور پورسٹ مارٹم ميں وہ انسان آپ کے فادر تھے۔۔۔۔۔”
انسپکٹر غفور نے اُس کے کہے پر اے ٹو ذی اپنے کی گئی ساری انویسٹی گیشن سے آگاہ کردیا تھا۔۔۔۔
جو سنتے حبہ کو اپنی آخری اُمید بھی ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اُسے حازم کا کہا سچ ثابت ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
جو وہ کبھی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
“نہیں ایسا نہیں ہوسکتا،،،،، کچھ مسنگ ہے،،، “
حبہ انسپکٹر کو وہاں سے جانے کا اشارہ کرتی پرسوچ انداز میں بولی تھی۔۔۔
اُس کا دل حازم کی کہی بات ماننے کو کسی قیمت پر تیار نہیں تھا۔۔۔
وہ اُس کی محبت تھا۔۔۔ جس پر وہ خود سے بھی زیادہ اعتبار کرتا تھا۔۔۔ اُس کا دل کہہ رہا تھا کہ اُس کا شوہر اتنا بے رحم اور بے حس نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔
بے شک وہ برے لوگوں کے ساتھ مل کر بُرے کاموں میں پڑ چکا تھا۔۔ مگر وہ اِتنا بے ضمیر بالکل بھی نہیں تھا کہ اپنے باپ جیسے چچا کو مار دیتا۔۔۔
حبہ کچھ دیر بیٹھی سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے رہی تھی۔۔۔ جب کچھ دیر کی سوچ بچار کے بعد ایک نتیجے پر پہنچتی وہ اپنی کرسی سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
“تشریف لائیں ایس پی حبہ۔۔۔۔ “
وہ سیدھی کمشنر سر کے آفس میں پہنچی تھی۔۔۔ جن تک اُس کے واپس لوٹ آنے کی اطلاع تو پہنچ چکی تھی۔۔۔ مگر اُنہوں نے اُس سے کوئی استفسار نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ اُس کیس کو سالو کرنا ناممکنات میں سے تھے۔۔۔ وہاں کے وڈیرے کسی کو اپنے علاقے میں گھسنے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے۔۔۔
اُنہیں تو اِس بات کا یقین نہیں آرہا تھا کہ حبہ زندہ بچ کر کیسے واپس لوٹ آئی تھی۔۔۔
“سر میں بنا مشن پورا کیے واپس لوٹ آئی اُس کے لیے بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ میں اس وقت خود کو مینٹلی سٹیبل نہیں رکھ پارہی۔۔۔۔ مجھے کچھ وقت کے لیے چھٹیاں چاہییں۔۔۔۔ “
حبہ کی بات پر کمشنر صاحب نے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ اُن کے ادارے کی سب سے قابل آفیسرز میں سے تھی۔۔۔ اُس کا تھکا تھکا سا اُداس چہرا دیکھ وہ اُس کی بات سے انکار نہیں کرپائے تھے۔۔۔
“ٹھیک ہے ایس پی حبہ۔۔۔ آپ ایپلی کیشن دے دیں۔۔۔ آپ نے جب سے یہ فیلڈ جوائن کی ہے۔۔ ایک بار بھی چھٹیاں نہیں لیں۔۔۔ بلکہ اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر کام کیا ہے۔۔۔ آپ آرام سے ریسٹ کریں۔۔۔۔”
کمشنر صاحب کا رویہ ہمیشہ حبہ کے ساتھ بہت اچھا رہا تھا۔۔۔ اُنہیں اپنی یہ قابل آفیسر بہت عزیز تھی۔۔۔۔
حبہ اُن کی بات پر مروتاً مسکراتی وہاں سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔۔
پہلے وہ بھی خود کو بہت قابل آفیسر ہی سمجھتی تھی۔۔۔ مگر حازم والے واقع کے بعد اُسے اپنا آپ اِس پوسٹ کے لیے بالکل نا اہل لگنے لگا تھا۔۔۔ وہ یہی سمجھتی تھی کہ جو لڑکی اتنے سالوں تک اپنے شوہر کے زندہ ہوتے ہوئے بھی اُسے مرا ہوا تصور کرتی رہی تھی۔۔۔ جو اتنے سال اپنی مدد نہیں کر پائی تھی۔۔ وہ بھلا دوسروں کی کیسے کرتی۔۔۔
حبہ بہت ہی خراب موڈ کے ساتھ گھر آئی تھی۔۔۔ جہاں اُس کی ماما اور صبا اُسی کی منتظر تھیں۔۔۔
“حبہ تم نے اِس طرح اچانک پیکنگ کرنے کو کیوں بولا۔۔۔؟؟ ہم کہاں جارہی ہیں۔۔۔؟؟”
نجمہ بیگم حیرت کا اظہار کرتے اُس کے قریب آئی تھیں۔۔۔
“میں جانتی ہوں آپ دونوں نے پیکنگ نہیں کی ہوگی۔۔۔”
حبہ ٹیبل پر پڑا نجمہ بیگم کا اور صبا کے ہاتھ سے اُس کا موبائل لیتی اُن دونوں کی جانب سے مُڑی تھی۔۔۔
“حبہ میں کچھ پوچھ رہی ہوں تم سے۔۔۔ اور یہ موبائل کیوں لیے تم نے۔۔۔۔؟؟”
نجمہ بیگم اپنی سر پھری بیٹی کو یہ سب کرتا دیکھ پریشان ہوئی تھیں۔۔۔
“سوری ماما میں ابھی آپ کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دے سکتی۔۔ پلیز اگر آپ لوگوں کو میری زرا سی بھی فکر ہے تو جو میں کہہ رہی ہوں وہ کریں۔۔۔ اور یہ موبائلز لینے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ اپنے چہیتے بیٹے سے رابطہ نہ کرسکیں۔۔۔۔ “
حبہ کی بات سن کر نجمہ بیگم مزید پریشان ہوئی تھیں۔۔۔ مگر اُس کے دو ٹوک انداز پر وہ بنا کچھ بولے صبا کو بھی اُوپر جانے کا اشارہ کرتیں وہاں سے نکل گئی تھیں۔۔۔
صبا حبہ کا جلالی روپ دیکھتی خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔
صبا حازم کو آگاہ کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
مگر نہ تو لینڈ لائن سے رابطہ کر پائی نہ کسی اور طریقے سے۔۔۔ اور ناچار اُنہیں حبہ کی بات مان کر گھر سے نکلنا پڑا تھا۔۔۔
وہ دونوں ہی نہیں جانتی تھیں کہ حبا کو اچانک ہوا کیا ہے۔۔۔ وہ اس طرح اچانک اُنہیں کہاں لے کر جارہی تھی۔۔۔ اور کس ریزن سے اُن کے موبائل بھی اپنے قبضے میں لے گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

مہروسہ نے کمبل سے سر نکال کر دیکھا تھا۔۔۔ حمدان روم میں نہیں تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

سفیان پر رات کو ہوئے حملے پر آفندی ولا میں ایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی۔۔۔ سب لوگ بہت زیادہ پریشان تھے۔۔۔ شہباز آفندی اپنے مخالفین کا نام لیتے اُن پر شک کررہے تھے۔۔۔
مگر وہ اِس وقت اُن کے خلاف ایکشن لے کر کوئی سکینڈل نہیں بننے دینا چاہتے تھے۔۔۔ اُن کے لیے اِس وقت سب سے اہم پریسا اور سفیان کی شادی تھی۔۔۔جس کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے پر ہوئے اِس حملے پر بھی خاموشی اختیار کر گئے تھے۔۔۔ وہ اب پریسا کی ساری جائیداد اپنے نام ہونے کا مزید انتظار نہیں کرسکتے تھے۔۔۔
دوسری جانب کل کے واقع کے بعد پریسا عجیب سی کیفیت کا شکار تھی۔۔۔ ایک طرف شاہ ویز سکندر کی اتنی نفرت اور دوسری جانب اُس کا ہر مشکل وقت میں محافظ بن کر پہنچ جانا۔۔۔
اور سب سے بڑی بات کل جو اُس نے سفیان کے ہاتھ پکڑنے پر شاہ ویز کی آنکھوں میں جلتی آگ دیکھی تھی۔۔۔ وہ کوشش کے باوجود اُس لمحے سے نہیں نکل پارہی تھی۔۔۔ وہ سفیان کو صرف اُس کا ہاتھ پکڑنے پر گولی مار گیا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔ اُس وحشی انسان غصے میں پاگل ہوکر کسی کو بھی گولی مار سکتا ہے۔۔۔ اُسے کسی بھی قسم کے ریزن کی ضرورت ہے بھی نہیں۔۔۔۔”
پریسا اپنے دل کو تسلی دیتی بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ ابھی کچھ گھنٹوں بعد اُس کا نکاح اور رخصتی تھی۔۔۔ جو سوچ سوچ کر ہی اُس کا دل بے چین ہورہا تھا۔۔۔۔ صبح سے نجانے کتنی بار اُس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔۔۔
ابھی بھی آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔ وہ اُس سنگلدل کو دل و دماغ سے نکالنے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔ مگر ہر بار ناکام ٹھہر رہی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی حالت اِس وقت بہت زیادہ قابلے رحم تھی۔۔۔
جب اُسی لمحے دروازے پر دستک دینے کے ساتھ ہی اُس کی ساری کزنز نے ایک ساتھ اُس پر دھاوا بول دیا تھا۔۔۔
بڑے بڑے تھال اُٹھائے وہ سب ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ اندر داخل ہورہی تھیں۔۔۔
آفندی مینشن کا ہر فرد ایسے ہی خوش تھا۔۔۔ سوائے پریسا آفندی کے۔۔۔ جس کی جان سولی پر اٹکی ہوئی تھی۔۔۔ اُس کا دل چاہ رہا تھا ابھی اِس نکاح سے انکار کرکے۔۔ چیخ چیخ کر پوری دنیا کو بتا دے کہ وہ شاہ ویز سکندر سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔۔۔ اور صرف اُسی کے نام کی دلہن بننا چاہتی ہے۔۔۔
مگر ایسا کرکے بھی اُسے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا تھا۔۔ کیونکہ شاہ ویز سکندر اُس کی صورت سے بھی نفرت کرتا تھا۔۔۔۔
“ارے پاگل لڑکی اتنا کیوں رو رہی ہو؟؟ تم کونسا رخصت ہوکر کسی دوسری دنیا میں جارہی ہو۔۔۔ تم نے تو صرف ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں شفٹ ہونا ہے۔۔۔”
فضہ اُس کے قریب آن بیٹھتی اُسے چھیڑتے ہوئے بولی۔۔۔
“تم تنگ مت کرو میری پری کو۔۔۔ یہ موومنٹ ہی ایسا ہوتا۔۔۔۔ “
اریبہ بھابھی اُسے گلے سے لگاتے اُس کے آنسو پونچھتیں فضہ کو ڈپٹتے ہوئے بولیں۔۔۔
وہ سب ہلکی پھلکی مستی اور نوک جھوک کرتیں پریسا کو تیار کرنے لگی تھیں۔۔ پریسا جو ہر وقت چہکتی اور ہنستی کھلکھلاتی رہتی تھی آج اُس کی یہ خاموشی اور اُداسی اُن سب کو حیران کر رہی تھی۔۔۔
مگر یہی سمجھ کر خاموش ہوگئی تھیں۔۔۔ کہ شاید وہ اپنے پیرنٹس کو مس کررہی ہے۔۔۔
“ماشاء اللہ کتنی حسین لگ رہی ہو۔۔۔ بالکل نازک سی گڑیا جیسی۔۔۔۔”
بیوٹیشن نے مہارت کے ساتھ اُس کے دو آتشہ حُسن کو مزید نکھار دیا تھا۔۔۔
وہ بہت کم ہی میک اپ کرتی تھی۔۔۔ اِس لیے اُس پر آج ٹوٹ کر رُوپ آیا تھا۔۔۔ وہ لال عروسی جوڑے میں پور پور سجی۔۔۔ نظر لگ جانے کے حد تک دلکش لگ رہی تھی۔۔۔ اُس کے بالوں میں موتیے کے پھول ڈال کر ڈھیلی سی چٹیا میں مقید کرکے آگے کی جانب ڈال رکھے تھے۔۔۔
وہ اِس وقت اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ اُن سب سے نگاہیں ہٹا پانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔۔
جبکہ پریسا کی سوجی دلفریب آنکھیں اور سوگواریت اُس کے حسین روپ کو مزید چار چاند لگا رہی تھی۔۔۔ ابھی کچھ دیر بعد اُسے نکاح کے لیے نیچے لے جایا جانا تھا۔۔۔ پریسا کو اپنی دھڑکنیں آہستہ آہستہ مدھم ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اُسے لگ رہا تھا وہ کسی بھی لمحے حواس کھو دے گی۔۔۔۔ جیسے جیسے نکاح کا وقت قریب آرہا تھا۔۔۔ اُس کا پورا وجود ہولے ہولے لرزنا شروع ہوچکا تھا۔۔۔۔
گول گول خوبصورت آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو جاری ہوچکے تھے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ پچھلے پانچ گھنٹوں سے تم اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی یہاں آفندی مینشن کے باہر کھڑا کیے ہوئے ہو۔۔۔ اور اب تک پچاس سے اُوپر سیگریٹ بھی پی چکے ہو۔۔۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آرہی میرا دوست آخر کیا چاہتا ہے۔۔۔ میں جانتا تھا تم بہت زیادہ انا پرست اور پتھر دل ہو۔۔۔ مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ اپنی محبت کے معاملے اِن دونوں چیزوں کی انتہا کر دو گے۔۔۔۔ مان کیوں نہیں لیتے کہ انتقام لینے کے چکر میں اپنے دل کی بازی ہار چکے ہو۔۔۔۔ محبت کرنے لگے ہو پریسا آفندی سے۔۔۔اور آج اُسے کسی اور کا ہوتا دیکھ برداشت نہیں ہو پارہا تم سے۔۔۔ کیوں خود پر اتنا ظلم کررہے ہو۔۔۔ اور اُس پر بھی۔۔۔۔ ابھی بھی اُسے بنا سکتے ہو۔۔۔ پچھلے پانچ گھنٹوں سے تمہاری نگاہیں پریسا آفندی کے کمرے کی کھڑکی سے ہٹ نہیں رہیں۔۔۔ اور تم کہتے ہو نفرت ہے تمہیں اُس لڑکی سے۔۔۔۔”
حازم کا بس نہیں چل رہا تھا خود کو کب سے اذیت میں مبتلا کیے شاہ ویز سکندر کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔۔۔۔
جو نہ تو آفندی مینشن کے آگے سے ہٹ رہا تھا۔۔۔ اور نہ ہی اندر جاکر پریسا آفندی سے نکاح کرکے اپنی ہار تسلیم کرنے کا ارادہ کر پارہا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔