Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

“باہر نکلو حسین بلبل۔۔۔ ورنہ ہم کھڑکی توڑ کر تمہیں باہر نکال لیں گے۔۔۔۔”
وہ اُس کا شیشہ زور سے بجاتے اُسے دھمکی دے گئے تھے۔۔۔ پریسا کو اِس وقت وہ پولیس کی وردی میں چھپے درندے معلوم ہوئے تھے۔۔۔۔ اُسے رات کے اِس پہر گھر سے نکل کر کی جانے والی کوتاہی ہر جی بھر کر پچھتاوا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ خوف سے سیٹ کے ساتھ چپکی بیٹھی کانپ رہی تھی۔۔۔۔ اُس نے سختی سے آنکھیں میچتے پورے دل سے اپنے رب کو پکارتے مدد مانگی تھی۔۔۔
وہ مرنا چاہتی تھی مگر ایسی موت بالکل بھی نہیں۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو گررہے تھے۔۔۔۔ جن کے بیچ نظر آتی شاہ ویز سکندر کی پرچھائی دھندلا گئی تھی۔۔۔۔
جب باہر سے آتی زور دار آواز پر پریسا نے گھبرا کر آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔۔
جب سامنے کا منظر دیکھ وہ اپنی سماعتوں پر یقین نہیں کر پائی تھی۔۔۔
ابھی تو اُس نے اپنے رب کو پکارا تھا اور اُسی وقت اُس کے پیارے پروردگار نے شاہ ویز سکندر کو ہمیشہ کی طرح حافظ بنا کر اُس کی مدد کے لیے بھیج دیا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز زخمی بازو کے باوجود اُن پولیس والوں کو بُری طرح پیٹ رہا تھا۔۔۔
نجانے اُسے کس بات کا غصہ تھا کہ وہ جنونی کیفیت میں اُن پولیس والوں کے بے جان ہوتے وجود کا خیال کیے بغیر اندھا دھند اُن دونوں کو پیٹے جارہا تھا۔۔۔
پریسا گھبرا کر گاڑی سے باہر نکلی تھی۔۔۔ وہ شاہ ویز کے اِس خوفناک روپ کو دیکھ اُس کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔
مگر اُن پولیس والوں کی حالت دیکھ نجانے کیوں پریسا کو اُن پر رحم آیا تھا۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر مر چکے ہیں شاید وہ۔۔۔۔ چھوڑ دو اُنہیں۔۔۔۔”
پریسا اُس کے پاس آتے چلائی تھی۔۔۔۔
مگر شاہ ویز سکندر کے کان پر تو جوں تک نہیں رینگی تھی۔۔۔ اُسے تو بس اتنا یاد تھا کہ اِن دونوں نے پریسا آفندی پر بُری نظر ڈال کر گناہِ کبیرہ سرزد کیا تھا۔۔۔
پریسا کی آواز اُس کے کانوں تک نہیں پہنچ پائی تھی۔۔۔۔
جب پریسا اُس کے قریب آتی اُس کا بازو تھام کر اُسے اپنی پوری قوت لگاتے اپنی جانب کھینچ گئی تھی۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر تم پاگل ہوگئے ہو کیا۔۔۔ ہر وقت ہر جگہ اپنی درندگی دکھانا ضروری نہیں ہوتا۔۔۔ وہ مر چکے ہیں۔۔۔۔ کیوں مارا تم نے اِنہیں۔۔۔۔؟؟ کیوں آئے ہو تم یہاں میرے پیچھے۔۔۔ ؟؟؟ تم تو شدید نفرت کرتے ہو نا مجھ سے۔۔۔۔ تو پھر کیوں ہر بار پہنچ جاتے ہو مجھے بچانے۔۔۔ بولو؟؟؟ سمجھتے کیا ہو تم خود کو۔۔۔ “
پریسا اُس کے سینے پر مکے برساتی اِس شخص کے لیے اپنے دل و دماغ میں موجود ساری فرسٹیشن اور غصہ نکالتی چلی گئی تھی۔۔۔
وہ شدید غصے کے عالم میں نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔
کہ جس جگہ سے اُس نے شاہ ویز کا بازو سختی سے دبوچ رکھا تھا۔۔۔ وہیں شاہ ویز کو گولی لگی تھی۔۔۔۔
وہ اِس وقت شاہ ویز سکندر کو اپنے سامنے دیکھ اِس قدر غصے میں تھی۔۔۔ کہ اُسے شاہ ویز کے بازو پر نمی کا احساس بھی نہیں ہوپایا تھا۔۔۔
مگر شاہ ویز سکندر اُس کے منہ سے نکلے الفاظ برداشت نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
پریسا کی کمر میں سختی سے بازو حمائل کرتا وہ جارحانہ انداز میں اُسے اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔
پریسا اِس حملے کے لیے قطعاً تیار نہیں تھی۔۔۔ سیدھی اُس کے سینے سے جاٹکرائی تھی۔۔۔
“کیونکہ تم سے نفرت کرنے کا۔۔۔ تمہیں تکلیف پہنچانے کا حق صرف اور صرف شاہ ویز سکندر کے پاس ہے۔۔۔ جو بھی تم پر بُری نگاہ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔۔۔ اُس کا ایسا ہی عبرت ناک انجام ہوگا۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کی آنکھوں میں اپنی لال انگارہ وحشت میں ڈوبی نظریں گاڑھے بولا پریسا کو ساکت کر گیا تھا۔۔۔
یہ کیسا اقرار تھا اِس شخص کا۔۔۔۔
یہ شخص خود تو پاگل تھا ہی مگر آہستہ آستہ اُسے بھی پاگل کررہا تھا۔۔۔۔
“تمہارا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے شاہ ویز سکندر۔۔۔ نہ ہی تم جیسے انسان کو میں خود پر کوئی حق دیتی ہوں۔۔۔۔ تم جیسے وحشی درندے ساری زندگی اکیلے ہی رہتے ہیں۔۔۔ تم نے دل توڑا ہے میرا۔۔۔ تم بھی اب ساری زندگی تڑپو گے۔۔۔ تب تمہیں احساس ہوگا دل ٹوٹنے کی تکلیف کیسے ہوتی ہے۔۔۔۔”
پریسا کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے کھڑے ظالم اور احساس سے عاری بے پرواہ شخص کا یہ خوبرو مغرور چہرا نوچ لے۔۔۔ جس نے اپنا جلاد صفت انداز اپناتے اُس کا دل مسل کر رکھ دیا تھا۔۔۔
شاہ ویز اِس سے پہلے کے اُس کی اتنی سنگین دل چیرتی باتوں کا کوئی جواب دیتا۔۔۔۔ اُسے دور سے پولیس کی گاڑی اِسی جانب آتی دکھائی تھی۔۔۔۔۔
“اگر زرا بھی چلائی تو میری اصل درندگی تم تب دیکھو گی۔۔۔ اور یقین کرو اگر شاہ ویز سکندر اپنی کرنے پر آگیا تو تمہیں تمہارا پورا آفندی خاندان بھی مجھ سے نہیں بچا پائے۔۔۔ اِس لیے آواز مت نکالنا۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے اُٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالتا جنگل کی جانب نکل گیا تھا۔۔۔۔
پریسا جو گھبرا کر واقعی اُس کی اِس حرکت پر جی جان سے کانپ اُٹھتی چلانا چاہتی تھی۔۔۔ اُس کی ابھی دی گئی دھمکیوں کا خیال آتے ہی اُس کی آواز حلق کے اندر ہی کہیں گم ہوچکی تھی۔۔۔۔
پریسا مسلسل خود کا آزاد کروانے کے لیے اُس کی کمر پر مکے برساتی اُس پر بار بار حملہ آور ہورہی تھی۔۔۔۔
مگر شاہ ویز سکندر کی رفتار میں زرا برابر بھی کمی نہیں آئی تھی۔۔۔۔
جنگل میں بہت آگے آکر رکتے اُس نے پریسا کو نیچے اُتار دیا تھا۔۔۔۔
اُس کا خون بازو سے بہت زیادہ بہہ چکا تھا۔۔۔ تکلیف تو اُس نے ہمیشہ کی طرح ضبط کر رکھی تھی۔۔۔ مگر خون بہہ جانے کی وجہ سے اُسے کمزوری محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔
وہ پریسا کے پاس سے ہوتا ایک درخت کے تنے کے ساتھ سر ٹکا کر بیٹھتا آنکھیں موند گیا تھا۔۔۔۔
جنگل میں چاروں جانب اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔ چاند کی روشنی گھنے درختوں کے بیچ بہت مشکل سے بہت تھوڑی مقدار میں پہنچ رہی تھی۔۔۔
پریسا نے موبائل کی ٹارچ آن کرتے شاہ ویز کو دیکھا تھا۔۔۔
مگر جیسے ہی پریسا کی نظر اُس کی کہنیوں تک فولڈ کیے بازو سے نکلتے خون پر پڑی وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی بمشکل اپنی چیخ روک پائی تھی۔۔۔۔
یہ خون ابھی نہیں نجانے کس وقت کا ایسے کی بہہ رہا تھا۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر کا سفید چہرے میں گھلتی زردیاں دیکھ ہی پریسا کا دل خوف اور تکلیف کے مارے کانپ گیا تھا۔۔۔
اپنے محبوب ترین انسان کی اِس تکلیف پر اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی ایک بار پھر سے جاری ہوچکی تھی۔۔۔۔
جب اُسی لمحے شاہ ویز نے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
اور پھر جیسے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔
ٹارچ کی روشنی میں سیاہ شال کے ہالے میں مقید دودھیا چہرا آنسوؤں سے معطر ہوتا مزید نکھر گیا تھا۔۔۔ مسلسل رونے کی وجہ سے آنکھوں کے سوجے پپوٹے اِس لڑکی کی دلکشی میں مزید اضافہ کررہے تھے۔۔۔۔
اِس ایک لمحے نے شاہ ویز سکندر کے دل کی دنیا تہہ و بالا کرکے رکھ دی تھی۔۔۔
“یہاں آؤ اور میرے زخم کی بینڈیج کرو۔۔۔۔”
ہر شے سے بے خوف رہنے والا بلیک بیسٹ شاہ ویز سکندر اِس وقت پریسا آفندی کی قربت سے شدید خوفزدہ ہوچکا تھا۔۔۔
مگر دل کی فریاد پر ہمیشہ کی طرح آج وہ اُسے خود سے دھتکار نہیں پایا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے پورے استحقاق سے دیئے جانے والے حکم پر پریسا کپکپا کررہ گئی تھی۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حبہ حازم کے سینے سے لگی کھڑی تھی جب حازم نے اُس کی کلائی دبوچتے اُسے خود سے جدا کردیا تھا۔۔۔۔
حبہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے حازم کا یہ جارحانہ انداز دیکھا تھا۔۔۔
“ایس پی حبہ امتثال۔۔۔ جس شے کو پانے کے لیے ميں نے اپنے سگے چچا کو نہیں چھوڑا تمہیں لگتا ہے تمہارے کہنے پر میں یہ سب چھوڑ دوں گا۔۔۔ تم اتنی بے وقوف لگتی تو نہیں تھی مجھے۔۔۔۔ تمہیں کیا لگا۔۔۔ تم سے محبت کی خاطر لوٹا ہوں میں تمہارے پاس۔۔۔ اتنا مرا جارہا تھا تمہاری محبت میں۔۔۔ اگر مجھے تمہاری محبت میں لوٹنا ہوتا تو اُس وقت لوٹتا جب تم میری موت کی خبر سے ڈپریشن میں جا چکی تھی۔۔۔ لیکن آج میں تمہاری یہ غلط فہمی دور کر ہی دیتا ہوں کہ مجھے تم سے محبت کبھی تھی ہے نہیں۔۔۔ میں تمہیں صرف استعمال کر رہا تھا۔۔۔ اپنے مقصد کے لیے۔۔۔ کیونکہ تم میرے مشن کی کامیابی تک پہنچنے کی ایک بہت اہم کڑی ہو میرے لیے۔۔۔۔ “
حازم آنکھوں میں نفرت کے رنگ بھرے چہرے پر تضحیک اور طنز بھرے تاثرات لیے بولتا حبہ کی دنیا ہلا کر رکھ گیا تھا۔۔۔۔
حبہ کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔
وہ ساکت سی کھڑی اُسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
حازم کے الفاظ اُس کے پیروں تلے سے زمین اور سر سے آسمان کھینچ چکے تھے۔۔۔۔
وہ کتنے ہی لمحے کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
“تت تم۔۔۔ تم نے بِابا کو قتل کیا۔۔۔۔ نن نہیں تم ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔ تم اتنی سفاک نہیں ہو سکتے۔۔۔ تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔ تم تو اُنہیں اپنے سگے باپ کی طرح چاہتے تھے نا۔۔۔۔”
حبہ بمشکل خود کو بول پانے کے قابل کرتی نفی میں سر ہلاتے بولی۔۔۔۔
“باپ کہتا تھا۔۔۔ مگر وہ میرے باپ تھے نہیں۔۔۔۔ میری راہ کا کانٹا بن گئے تھے۔۔۔ اِسی لیے اپنے ہاتھوں سے مار دیا اُنہیں۔۔۔۔ اور اُن کی گاڑی کو آگ لگا کر جلا دیا۔۔۔ “
حازم بے رحمی سے بولتا حبہ کے دل کے دل کے کئی ٹکڑے کر گیا تھا۔۔۔۔
اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حازم ایسا کچھ کرسکتا ہے۔۔۔ مگر اُس کی آنکھوں کی وحشت اور چہرے کی سفاکی بتا رہی تھی کہ وہ ایسا کر چکا ہے۔۔۔۔
وہ اُس کے قریب آتی اُس کی گردن اپنی مُٹھیوں میں دبوچ گئی تھی۔۔ حازم بنا کوئی مزاحمت کیے ساکت کھڑا رہا تھا۔۔۔۔
وہ بس اِن آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھنا چاہتا تھا۔۔ جو اُس کے اِس ظالمانہ انکشاف کے بعد اُسے واضح طور پر نظر آگئی تھی۔۔۔
“مجھے شدید نفرت محسوس ہورہی ہے تم سے حازم سالار۔۔۔۔ اگر تم واقعی میرے بابا کے قاتل ہو تو میں قسم کھا کر کہتی ہوں اپنے ہاتھوں سے جان لوں گی تمہاری۔۔۔ مگر میرا دل اب بھی گواہی دے رہا ہے۔۔۔ تم اتنے سفاک نہیں ہوسکتے۔۔۔ میں اتنے بُرے انسان سے محبت کیسے کر سکتی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔ کسی ریزن کی وجہ سے تمہیں ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔ لیکن اگر یہ سچ ہوا نا تو اب تک تم نے ایس پی حبہ امتثال کی محبت دیکھی ہے۔۔۔ اب آگے تم میری نفرت دیکھو گے۔۔۔ تمہارے پورے گینگ کو نیست و نابود کرکے رکھ دوں گی میر حازم سالار۔۔۔۔۔ “
حبہ اُسے لال بھیگی اذیت بِھری آنکھوں سے وارن کرتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
جبکہ حازم کی نگاہوں نے دور تک اُس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔
حبہ کے نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی وہ تھکن سے چور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتا مُٹھیاں سختی سے بھینچتا اپنا اضطراب دور کرنے لگا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

بے خوف و خطر دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُن کو موت کے گھاٹ اُتارنے والی اِس وقت حمدان صدیقی کی گرفت میں اپنی حیا کے بوجھ سے بھاری ہوتیں پلکیں تک نہیں اُٹھا پائی تھی۔۔۔
اُس کے ہاتھ کی بے رحم گرفت سے اب مہروسہ کو شدید تکلیف ہونے لگی تھی۔۔۔ شاید چوڑیوں کے کچھ ٹکڑے اُس کی شہہ رگ کو زخمی کر گئے تھے۔۔۔
مگر حمدان صدیقی تو اُس کے ہوش رُبا حُسن کی رعنائیوں میں اس قدر کھویا ہوا تھا کہ اُس کے بانہوں میں مقید لڑکی اُس کی محبوبہ نہیں بلکہ سب سے بڑی دشمن تھی۔۔۔۔
“مجھے درد ہورہا ہے۔۔۔۔”
مہروسہ دھیرے سے کسمسائی تھی۔۔۔ وہ مزید حمدان صدیقی کی یہ جان لیوا قربت اور چہرے کو جھلساتی گرم سانسوں کی تپیش برداشت نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
اُس کی کراہ پر حمدان کا فسوں ٹوٹا تھا۔۔۔ وہ جلدی سے ہوش میں آیا تھا۔۔۔ اُس نے جھٹکے سے مہروسہ کو کسی اچھوت شے کی طرح خود سے دور جھٹکنا چاہا تھا۔۔۔
جس پر مہروسہ بُری طرح لڑکھڑائی تھی۔۔۔ اور اگلے ہی پل ہیلز پر اپنا توازن برقرار نہ رکھ پاتے وہ زمین بوس ہوتی حمدان اُسے گرتا دیکھ ایک بار پھر بے اختیاری کے عالم میں اُسے اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔
“آئم سوری۔۔۔۔۔”
اُس کی کلائی کا زخم دیکھ حمدان کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ نے بے یقینی میں غوطہ زن ہوتے حمدان صدیقی کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ اُس سے جتنا خوف زدہ تھی۔۔۔ حمدان کا رویہ اُتنا ہی نارمل اور نرمی بھرا تھا۔۔۔
مہروسہ کی حالت زیادہ خراب اِسی بات پر ہورہی تھی۔۔۔۔
“بہت حسین لگ رہی ہو تم۔۔۔ “
حمدان اُسے بانہوں میں اُٹھاتا بیڈ کی جانب بڑھتا مہروسہ کو نئے عذاب میں ڈال گیا تھا۔۔۔۔
اُسے اپنے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔ اُسے تو لگا تھا کہ حمدان اُس کے آگے آج اُس کی اصلیت کھول کر اُسے کوئی نئی سزا دے گا۔۔۔۔
مگر اِس وقت حمدان صدیقی تو الگ ہی انداز اپنائے ہوئے اُس کی جان نکالنے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔۔۔
“اللہ جی یہ اِس کھڑوس کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟ یہ اتنا عجیب بی ہیو کیوں کررہا ہے۔۔۔ میں جانتی ہوں میں اِسے کسی بھی روپ میں اچھی نہیں لگ سکتی۔۔۔۔ پھر یہ۔۔۔۔۔ یہ ایسا کیوں کررہا ہے۔۔۔؟؟ کیا اِس میں بھی اِس ایس پی کی کوئی چال ہے۔۔ کہیں یہ ابھی ہی تو مجھے مارنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔۔۔۔”
حمدان کا اتنا اچھا انداز مہروسہ سے ہضم ہوپانا مشکل تھا۔۔۔۔
وہ اُسے بیڈ پر بیٹھاتا خود سائیڈ دراز سے فرسٹ ایڈ باکس نکالتا اُس کے سامنے جا بیٹھا تھا۔۔۔
مہروسہ کی دھڑکنیں اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ چکی تھیں۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
حمدان نے جیسے ہی اُس کے ہاتھ کو تھاما مہروسہ نے گھبرا کر اپنا ہاتھ کھینچا تھا۔۔۔ وہ مہروسہ کے روپ میں جس بے باکی کا اظہار کرتی آئی تھی اُس کا کھڑوس ایس پی شاید آج اُن سب باتوں کا بدلہ لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
اُس کی یہ حرکت حمدان کو بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی۔۔۔ حمدان اُس کے میک اپ سے سجے دلکش چہرے پر نگاہیں گاڑھتے درمیانی فاصلہ طے کرتے اُس کے قریب ہوا تھا۔۔۔۔
پریسا کو لگا تھا ابھی اُس کی سانسیں رک جائیں گی۔۔۔ یا اُس کا دل بند ہوجائے گا۔۔۔۔ حمدان صدیقی کی سحر انگیز شخصیت کا سحر اُسے آہستہ آہستہ اپنے حصار میں جکڑ رہا تھا۔۔۔
“مسز حمدان صدیقی اب آپ پر آپ سے زیادہ ہمارا حق ہے۔۔۔ اِس لیے دوبارہ ایسی کوئی حد بندی بنانے کی کوشش مت کیجیے گا۔۔ اُس ایک حرکت کے سنگین نتائج کی زمہ دار آپ خود ہونگی۔۔۔۔”
حمدان ہاتھ بڑھا کر اُس کے ناک میں پڑی نتھ کھول چکا تھا۔۔۔۔ جو اُس کے ہونٹوں سے ٹچ ہوتی حمدان کو بُری طرح ڈسٹرب کر رہی تھی۔۔۔
اُس کے لمس پر مہروسہ کی سانسیں منتشر ہوئی تھیں۔۔۔ وہ خود کو اس سب کے لیے بالکل بھی تیار نہیں کرکے آئی تھی۔۔۔۔
اپنے سامنے بیٹھے بے رحم اور بے حس دشمنِ جاں کی اِن عنایتوں کا اندازہ بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔ ہمیشہ عین موقع پر دشمنوں کی چال پلٹ کر رکھ دینے والی اِس وقت بُری طرح گھبراہٹ کا شکار تھی۔۔۔۔
حمدان پورے انہماک کے ساتھ اُس کی دودھیا کلائی کو تھامے اُس پر دوا لگا کر اب بینڈیج کررہا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ بے خود سی یک ٹک اُسے تکے گئی تھی۔۔۔ کھڑے دلکش نقوش۔۔۔ ہر وقت غصے سے لبریز بھوری آنکھیں اور سلوٹوں بھری کشادہ پیشانی پر بکھرے سیاہ بال۔۔۔ وہ آج اُس کے گینگ کے سب سے پسندیدہ رنگ۔۔۔ سیاہ رنگ کے کرتے میں ملبوس مہروسہ کے پہلے سے گھائل دل پر بجلیاں گرا گیا تھا۔۔۔
اُوپر سے اُس کی یہ عنایت رہی سہی کسر بھی پوری کر گئی تھی۔۔۔۔ وہ تو اِس شخص کے ہر انداز کی اسیر تھی۔۔۔
لیکن آج حمدان صدیقی کا یہ انداز اُس کی جان لینے کے در پر تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔