No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
“وحشی درندہ کہیں کا۔۔۔ پانچ منٹ میں کونسی دلہن تیار ہوتی ہے بھلا۔۔۔”
پریسا کو محسوس ہورہا تھا جیسے شاہ ویز کے آنے کے بعد بہت بھاری بوجھ اُس کے سر سے سرک گیا تھا۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر جیسے بلیک بیسٹ سے نکاح کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔۔۔
مگر اِس وقت پریسا آفندی کا دل جیسے خوشی سے جھومنے کو چاہ رہا تھا۔۔۔ اُس نے شاہ ویز سکندر سے سچے دل سے محبت کی تھی۔۔۔ جو اُس کے رب نے اُس کی جھولی میں ڈال دی تھی۔۔۔
اُس کی آنکھیں بار بار نم ہورہی تھیں۔۔۔ وہ اپنی کیفیت سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اُس کی یہ کپکپاہٹ خوشی کی وجہ سے تھی یا گھبراہٹ اور باہر کھڑے شاہ ویز سکندر کے خوف کی وجہ سے۔۔۔۔
اُس دن کے شاہ ویز کے انکار کے بعد اُس نے اِس بات پر یقین کرلیا تھا کہ شاہ ویز اُس سے محبت نہیں کرتا۔۔ مگر آج کے بولے گئے اُس کے الفاظ پریسا کو بہت کچھ سمجھا گئے تھے۔۔۔
وہ اُس سے محبت کرتا تھا مگر اُس کی محبت بھی اپنے بلیک بیسٹ والے انداز کی تھی۔۔۔ بے حسی اور ظالم۔۔۔۔ پریسا بہت اچھے سے جانتی تھی کہ شاہ ویز سکندر کے ساتھ رہنا آسان بالکل بھی نہیں ہونے والا تھا اُس کے لیے۔۔۔۔
مگر اُسے تو شاہ ویز سکندر ہی چاہیے تھا۔۔ جس کے اتنے بُری طرح ٹھکرانے کے باوجود بھی وہ اُس سے نفرت نہیں کر پائی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
پریسا جیسے ہی ڈریسنگ روم سے نکلی سامنے شاہ ویز کے بجائے انعم اور مہروسہ کو بیٹھا دیکھ اُس نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔
اُس کا دل شاہ ویز سے سامنے کا سوچتے بہت بُری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔ مگر اُن دونوں کو مسکراتے خوشی سے بھرپور چہروں کے ساتھ سامنے پاکر پریسا بھی بہت خوشی ہوئی تھی۔۔
“دیکھ لوگ پیاری لڑکی۔۔ سب سے انوکھی بارات ہے تمہاری۔۔۔ جو دیوار پھلانگ کر آئی ہے۔۔۔”
وہ دونوں اُس کے حسین روپ کے واری صدقے جاتیں اُس کے قریب آئی تھیں۔۔۔ جو سفیان کے نام کا سُرخ عروسی لباس تبدیل کرکے اپنے بلیک بیسٹ کی پسند کا سیاہ لہنگا پہن چکی تھی۔۔۔
جو فل نیٹ کا تھا۔۔ جس پر بلیک کلر کی بہت ہی خوبصورت ایمبرائیڈری کی گئی تھی۔۔۔ بلیک بلاؤزر کے نیچے بلیک زمین کو چھوتا لہنگا پہنے وہ اپنی چمکتی دھمکتی دودھیا رنگت میں مومی گڑیا لگ رہی تھی۔۔۔
جسے چھونے سے میلے ہوجانے کا ڈر لگ رہا تھا۔۔
مہروسہ نے اُسے سیاہ رنگ کا بہت قیمتی سٹونز کا بنا سیٹ پہنایا تھا۔۔
“ماشاء اللہ بہت حسین لگ رہی ہو۔۔۔۔ اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔ پوری دنیا کے ہوش اُڑا کر رکھنے والے شخص کے ہوش ٹھکانے لگانے والی ہو تم۔۔۔ بیسٹ آف لک۔۔۔ شاہ ویز سکندر سے ڈیل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔”
مہروسہ اُس کا بھاری دوپٹہ سیٹ کرتی بے اختیار اُس کی نظر اُتار گئی تھی۔۔۔
“صحیح بات ہے۔۔م ورنہ ہم سب لوگ تو اُن سے بات کرتے ہوئے کانپ جاتے ہیں۔۔۔۔”
انعم شاپر سے فریش گجرے نکالتے اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
“یہ سفید رنگ کے ہیں۔۔۔ “
انعم کو گجرے آگے کرتے دیکھ پریسا ہونٹوں سے بے اختیار نکلا تھا۔۔۔ وہ سب ہی جانتے تھے شاہ ویز کو سفید رنگ بہت بُرا لگتا تھا۔۔۔ دیکھ کر ہی غصہ آجاتا تھا۔۔۔
“ابھی سے اپنے شوہر کی پسند نا پسند کا اتنا خیال ہے۔۔۔ یہ کیا۔۔۔؟؟ تم نے مہندی کیوں نہیں لگائی۔۔۔”
انعم اُسے چھیرتے اُس کے قریب آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کے خالی ہاتھ دیکھتے بولی۔۔
“مجھے مہندی نہیں پسند۔۔۔۔ “
پریسا نے فوراً منہ بسورا تھا۔۔۔
“مگر تمہارے اُن کو بہت پسند ہے۔۔۔ لگوا لو۔۔۔۔ “
مہروسہ نے انعم کو اشارہ کیا تھا مہندی لگانے کا۔۔۔۔
“نہیں مجھے نہیں لگوانی۔۔۔ اور آپ لوگ جانتی ہو۔۔۔ آپ کا باس مجھ سے زبردستی نکاح کررہا ہے۔۔۔ گن پوائنٹ پر۔۔۔ میں اُس کی خاطر مہندی کیوں لگواؤں۔۔۔۔”
پریسا اُن کو منہ بسور کر جواب دیتی جیسے ہی پلٹی۔۔۔ اپنے عین پیچھے کھڑے شاہ ویز سکندر کو دیکھ اُس کے ہونٹوں سے چیخ نکلتے نکلتے بچی تھی۔۔۔
وہ سرد نگاہوں سے اُسے گھورتا اُس کے حسین سراہے پر ایک زرا سی نگاہ ڈالتا مہروسہ لوگوں کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔
مہروسہ شاہ ویز کی ہدایت پر دھیما سا مسکراتی ایک جانب پڑی شال اُٹھا کر پریسا کے گرد اوڑھ گئی تھی۔۔۔
“شاہ سر نہیں چاہتے تمہیں اِس روپ میں کوئی اور دیتے۔۔۔ دیکھو اِس لیے مجھے سختی سے تمہیں پوری طرح ڈھکنے کا اشارہ کرکے گئے ہیں۔۔۔۔”
مہروسہ کو پریسا کا لال گلابی پڑتا چہرا بہت مزے دے رہا تھا۔۔۔۔ اِس لیے وہ اُسے چھیڑنے سے باز نہیں آرہی تھی۔۔۔
شاہ ویز کے ساتھ گواہان کے طور پر باقی سب بھی اندر آچکے تھے۔۔۔
شاہ ویز کا نکاح حازم خود پڑھوا رہا تھا۔۔۔۔ شاہ ویز سے زیادہ خوشی مہروسہ اور حازم کے چہروں سے ٹپک رہی تھی۔۔۔ اُن تینوں کا ماضی ہی انتہائی درد ناک تھا۔۔۔ مگر اُن سب میں۔۔۔ سب سے زیادہ تکلیف شاہ ویز نے ہی اُٹھائی تھی۔۔۔ اور بچپن سے لے کر اب تک خود پر ہر خوشی حرام کر دی تھی۔۔۔۔
یہاں تک کہ وہ مسکرانا بھول گیا تھا۔۔۔ اُنہوں نے آج تک شاہ ویز کو ایک بار بھی مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
جو بات اندر سے اُن کا دل زخمی کیے ہوئے تھی۔۔ مگر آج شاہ ویز کو اپنی زندگی میں یوں اپنی پہلی خوشی شامل کرتے دیکھ اُن کا یوں خوشی سے پاگل ہونا تو بنتا تھا۔۔۔
پریسا کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔
آفندی مینشن کے ہر فرد نے اُسے محبت دی تھی۔۔۔ چاہے جس ریزن سے بھی مگر اُنہوں نے ہمیشہ اُسے بہت محبت دی تھی۔۔۔ جن میں سب سے بے رعیاں اور پرخلوص محبت یاسمین بیگم کی تھی۔۔۔
آج اُن کے بغیر نکاح کرنا پریسا کی آنکھیں بھیگو رہا تھا۔۔حازم نکاح پڑھوانا شروع کرنے ہی لگا تھا۔۔۔ جب اچانک دروازے پر ہوتی دستک نے پریسا کو خوفزدہ کر دیا تھا۔۔۔ باقی سب نے بھی پریشانی سے شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جو اپنے مخصوص سرد و سپاٹ تاثرات کے ساتھ اپنی جگہ سے اُٹھتا دروازے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“شاہ سر یہ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔؟؟”
مہروسہ اُسے بنا کوئی ہتھیار اُٹھائے ایسے ہی دروازہ کھولتے دیکھ فکرمندی سے کھڑے ہوتے بولی تھی۔۔۔ مگر تب تک شاہ ویز دروازہ کھول چکا تھا۔۔۔
دروازے کھلتے ہی اندر داخل ہونے والی ہستی کو دیکھ پریسا بے اختیار اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“ماما۔۔۔”
اُس کے لب پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
شاہ ویز دروازہ واپس لاک کرچکا تھا۔۔۔
“تمہیں کیا لگا گڑیا۔۔۔ تمہاری ماں تمہیں تمہاری زندگی کے اتنے اہم موقع پر اکیلا چھوڑ دے گی۔۔۔۔”
یاسمین بیگم اُس کے قریب آتیں اُس کی پیشانی چومتے اُسے سینے سے لگا گئی تھیں۔۔۔
“آئم سوری ماما۔۔۔۔”
پریسا نم آواز میں بولتی اُن کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔۔
“میں تمہارے اِس فیصلے سے بہت خوش ہوں۔۔۔ شاہ ویز سکندر جیسا شخص تمہارے لیے سب سے بہترین ہے۔۔۔ اللہ نصیب اچھے کرے تمہارے۔۔۔”
یاسمین بیگم اُس کے کپکپاتے وجود کے گرد بازو کا گھیرا بناتے ممتا سے چور لہجے میں بولتیں پریسا کو حیران کر گئی تھیں۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ کیسے جانتی تھیں شاہ ویز کو۔۔۔
مگر اِس وقت وہ کچھ بھی پوچھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔ اِس لیے خاموش ہوگئی تھی۔۔۔
اور ہی لمحوں بعد اُسے پریسا آفندی سے پریسا شاہ ویز سکندر بنا دیا گیا تھا۔۔۔
نکاح نامے پر سائن کرنے کے بعد سے پریسا کی دھڑکنیں معمول پر آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔۔۔
اُس کے ہاتھ پیر بالکل ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔۔۔ اُسے کسی کی کہی کوئی بات بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔
نکاح ہوتے ہی سب لوگ رخصت ہوگئے تھے۔۔۔ یاسمین بیگم بھی باہر کے حالات سنبھالنے اُسے دعائیں دیتی باہر نکل گئی تھیں۔۔۔ شاہ ویز نے اُن سے بات نہیں کی تھی۔۔۔ مگر وہ شاہ ویز سے مل کر گئی تھیں۔۔۔
پریسا کے کمرے کے سوا پورے آفندی مینشن میں اِس وقت سوگ کا سماں تھا۔۔۔ کیونکہ اتنے سارے مہمانوں کے بیچ سے پولیس سفیان کو گرفتار کرکے لے گئی تھی۔۔۔
اُنہیں کل رات پولیس ناکے کے قریب آفندی ہاؤس کی گاڑی کے ساتھ سفیان کی چیزیں ملی تھیں۔۔۔
جن شواہد سے ہی ظاہر ہورہا تھا کہ اُن دو پولیس والوں کو سفیان نے ہی مارا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے شہباز آفندی کے بہت زیادہ شور مچانے کے بعد بھی سفیان کو وہ گرفتار ہونے سے نہیں بچا پائے تھے۔۔۔
کیونکہ یہاں قتل پولیس والوں کا ہوا تھا۔۔۔
اُن کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ شاہ ویز سکندر نے یہ اُنہیں اپنے نکاح کی خوشی میں تحفہ دیا تھا۔۔۔
سب لوگ روم سے نکل گئے تھے۔۔۔ اب وہاں صرف پریسا اور شاہ ویز موجود تھے۔۔۔
پریسا کی حالت اِس وقت بہت غیر ہوچکی تھی۔۔۔ دل جس بُری طرح سے دھڑک رہا تھا۔۔ اُسے یہی محسوس ہورہا تھا کہ اُس کا ہارٹ فیل ہوجائے گا۔۔۔
“نکاح مبارک ہو پریسا شاہ ویز سکندر۔۔۔۔”
شاہ ویز کی بھاری گھمبیر دلکش آواز اُس کے کانوں سے ٹکراتی اُس کی سانسں منتشر کر گئی تھی۔۔۔۔
اُسے قریب آتا دیکھ وہ ایک دم سے گھبرا کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
مہروسہ جاتے ہوئے اُس کے اُوپر سے شال ہٹا گئی تھی۔۔ وہ اس وقت اپنے سہانے رُوپ کے ساتھ شاہ ویز سکندر کے سامنے کھڑی چہرا جھکائے ہوئے تھی۔۔۔
شاہ ویز فاصلے سے ہی اُس کا لرزتا کانپتا وجود محسوس کر پارہا تھا۔۔۔
“کیا ہوا تم تو نکاح سے پہلے کچھ دھمکیاں دے رہی تھی مجھے۔۔۔ اب اچانک کیا ہوا۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز اُس کی حالت پر چوٹ کرتا اُس کی کلائی تھام کر اسے اپنے قریب کرتا سر سے پیر تک اپنے لیے سجا اُس کا دلفریب رُوپ دیکھنے لگا تھا۔۔۔ اُس کا نازک سراپا بلیک ڈریس میں مزید قیامت ڈھا رہا تھا۔۔ اور شاید شاہ ویز سکندر کے دل پر بھی۔۔۔۔
پریسا اب بھی کچھ نہیں بولی تھی۔۔۔
جب شاہ ویز نے اُس کا چہرا ٹھوڑی سے تھام کر اُوپر اُٹھایا تھا۔۔۔ پریسا کی آنکھوں سے ایک ساتھ کئی آنسو ٹوٹ کر اُس کے گداز گالوں کا بھیگو گئے تھے۔۔۔
“کیا ہوا پریسا شاہ ویز سکندر۔۔۔ ابھی سے یہ حال ہورہا ہے تمہارا۔۔۔ “
شاہ ویز کی انگلی کی پوروں نے اب اُس کے ہونٹوں کو چھوتے اُسے بولنے پر اُکسایا تھا۔۔۔۔
“میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے تم سے۔۔۔ تم نے سب کو یہاں سے کیوں بھیج دیا۔۔ تم خود کیوں نہیں گئے۔۔۔ ؟؟”
پریسا خوف سے ذرد پڑتی اُس کی گہری نگاہوں سے پزل ہوتی اُلٹے سیدھے سوال کرتی اگلے ہی لمحے حواس کھوتے شاہ ویز کی بانہوں میں لہرا گئی تھی۔۔۔ جبکہ حواس کھونے سے پہلے اُس نے اپنی باتوں کے جواب ميں شاہ ویز سکندر کو مسکراتے پایا تھا۔۔۔۔
“پاگل لڑکی۔۔۔۔ میرے سخت رویے کو سچ میں میری نفرت سمجھ رہی ہے۔۔۔ تم نہیں جانتی پریسا آفندی تم شاہ ویز سکندر کی نفرت کی ایک جھلک بھی برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے نازک وجود کو بانہوں میں اُٹھاتا ٹیرس کے راستے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ وہ واقعی بلیک بیسٹ نکلا تھا۔۔۔ جس نے آفندی مینشن کے اتنے سخت سیکورٹی سسٹم میں داخل ہوکر۔۔ نہ صرف اپنے طریقے سے پریسا سے نکاح کیا تھا۔۔۔ بلکہ اب رخصتی بھی اُسی انداز میں ہورہی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“حبہ ہم یوں مجرموں کی طرح اپنے ملک سے کیوں فرار ہورہے ہیں۔۔۔ تم نے حازم کو بھی کچھ نہیں بتانے دیا۔۔۔ کیوں کررہی ہو تم یہ سب۔۔۔”
نجمہ بیگم اُسے ائیر پورٹ میں داخل ہوتے دیکھ اُس کا بازو پکڑتے اُسے سختی استفسار کرتے بولی تھیں۔۔
“کیوں بتائیں اُسے۔۔۔ کچھ نہیں لگتا وہ ہمارا۔۔۔ آپ دونوں میری یہ بات پہلی اور آخری بار سن لیں۔۔۔ اگر آپ لوگ حازم سالار سے رشتہ رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ تو آپ کو یہ بھولنا پڑے گا کہ حبہ نام کی آپ کی کوئی بیٹی ہے۔۔۔ کیونکہ اُس کے بعد میں آپ دونوں سے کوئی رشتہ نہیں رکھوں گی۔۔۔ اتنی نفرت ہے مجھے اُس شخص سے۔۔۔”
حبہ بھیگی آنکھوں اور نفرت آمیز لہجے میں بولتی نجمہ بیگم کے ساتھ ساتھ صبا کو بھی پریشان کر گئی تھی۔۔۔
“آپی یہ کیا بول رہی ہیں آپ۔۔۔؟؟؟ حازم بھائی تو اتنے اچھے۔۔۔”
نجمہ بیگم کو ساکت ہوتا دیکھ صبا نے بولنا چاہا تھا۔۔۔
“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔۔۔ اب اگر دوبارہ تم نے اُس شخص کا نام لیا تو منہ توڑ دوں گی تمہارا ۔۔۔ “
حبہ صبا کو بہت بُری طرح جھڑکتی وہیں پر خاموشی کروا گئی تھی۔۔۔ صبا نے نم آنکھوں سے نجمہ بیگم کو دیکھا تھا۔۔ جو خود پریشان اور بے بس سی کھڑیں یہ سب دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“کیا آپ لوگ نہیں آنا چاہتیں میرے ساتھ۔۔۔”
حبہ نے اُن دونوں کو وہیں ائیر پورٹ سے باہر جما کھڑا دیکھ سوالیہ نگاہوں سے اُنہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
“نہیں اور نہ ہی میں تمہیں جانے دوں گی کہیں بھی۔۔۔ مجھے موبائل دو۔۔۔ میں حازم کو کال کرتی ہوں۔۔ وہ آجائے تو جو لڑائی ہوئی ہے دونوں کے بیچ اُسے سلجھا لو۔۔ مگر یوں گھر اور ملک چھوڑ کر جانا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔۔۔۔”
نجمہ بیگم اُس کا بازو تھامتے اُسے بھی روک گئی تھیں۔۔۔
“ٹھیک ہے آپ دونوں کا فیصلہ مجھے منظور ہے۔۔۔ مت آئیں آپ میرے ساتھ۔۔۔ مگر مجھے رکونے کی کوشش بھی مت کریں۔۔۔ آپ جانتی ہیں میں کتنی ضدی ہوں۔۔ یہ سب کرکے آپ صرف ٹائم ویسٹ کریں گی۔۔۔ یہ گاڑی کی چابیاں۔۔۔ باہر گاڑی کھڑی ہے۔۔۔ آپ لوگ جاسکتی ہیں۔۔۔”
حبہ اُن کی بنا مزید کچھ سنے اپنا بازو چھڑوا کر ائیر پورٹ کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
جبکہ نجمہ بیگم نے جلدی سے پاس سے گزرتی عورت کق روک کر اُن سے موبائل لے کر حازم کو کال کی تھی۔۔۔
مگر کئی بار کی ٹرائے کے بغیر اُس کا نمبر نہیں مل پایا تھا۔۔۔ نجمہ بیگم کو یہی لگا تھا وہ حازم کو وہاں بلا کر حبہ کو روک لیں گی۔۔۔ مگر نہ تو حازم سے بات ہو پائی تھی۔۔۔ اور حبہ بھی لوگوں کے رش میں غائب ہوچکی تھی۔۔۔۔
اُنہوں نے صبا کو ساتھ لے جاکر حبہ کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ جب اُسی لمحے اُن کے کانوں میں فلائٹ کے فلائی کرجانے کی اناؤنسمنٹ ہوئی تھی۔۔۔
“ماما آپی سچ میں چلی گئیں۔۔۔ مجھے لگا تھا وہ ہمیشہ چھوڑ کر نہیں جا پائیں گی۔۔۔”
صبا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
جبکہ نجمہ بیگم کہ حالت اُس سے بھی زیادہ خراب تھی۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
مہروسہ مکلاوے کی رسم کرکے واپس گھر آچکی تھی۔۔۔ مگر نہ تو اُس کے شوہر محترم باقی سب کے ساتھ اُسے لینے آئے تھے اور نہ ہی ابھی تک آفس سے لوٹے تھے۔۔۔
مہروسہ اِس وقت اپنے کھڑوس ایس پی کو بہت مس کررہی تھی۔۔۔۔
وہ صدیقی صاحب اور سمیعہ بیگم کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں ابھی کچھ دیر پہلے ہی اُٹھ کر گئے تھے۔۔۔۔ مہروسہ شدید بوریت کا شکار ہورہی تھی۔۔۔اُس نے اپنی پوری زندگی میں اتنا آرام نہیں کیا تھا جتنا شادی کے بعد کررہی تھی۔۔۔
آج ہوئے شاہ ویز کے نکاح کی وجہ سے اُس کا موڈ بہت زیادہ خوشگوار تھا۔۔۔۔
اسی لیے نجانے کس احساس کے تحت اُس نے لینڈ لائن سے حمدان کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔ جو تیسری بیل پر اُٹھا لیا گیا تھا۔۔
مگر آگے سے سنائی دیتی نسوانی آواز مہروسہ کے ہوش اُڑا گئی تھی۔۔۔ اُس کا شوہر رات کے اِس پہر کس کے ساتھ تھا۔۔۔۔
“جی بولیں کس سے بات کرنی ہے آپ کو۔۔۔؟؟”
اُس لڑکی کی عجیب سی مدہوش آواز مہروسہ کے تن بدن میں آگ بھڑکا گئی تھی۔۔۔۔
“تم کون بول رہی ہو۔۔۔ یہ میرے شوہر کا نمبر ہے۔۔۔ اُنہیں سے بات کرنے کے لیے ہی کال کی ہوگی نا۔۔۔ “
مہروسہ اتنے غصے میں آچکی تھی کہ اُس سے بولنا محال ہوا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
