Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“آپ یہ بتائیں ایس پی ہمدان کے ساتھ کرنا کیا ہے۔۔۔۔”
جنید کو یہاں زیادہ دیر رکنا خطرے سے خالی نہیں لگا تھا۔۔۔۔
“اُنہیں کال کرکے۔۔۔۔ اُن کے بھائی اور بہن کو قتل کرنے کی دھمکی دینی ہے۔۔۔۔ اور پھر اُن کے چھوٹے بھائی زین پر قاتلانہ حملہ بھی کروانا ہے۔۔۔۔”.
مہروسہ اپنے مخصوص کھردرے لہجے میں بولتی جنید کے سر پر بم پھوڑ گئی تھی۔۔۔
“کیا۔۔۔۔۔؟؟؟؟ آپ ایس پی حمدان کے بھائی کو مروانا چاہتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
جنید کو گہرا شاک لگا تھا۔۔۔ اُسے کبھی اپنے لیڈرز کے دماغوں کی سمجھ نہیں آ پائی تھی۔۔۔۔ جو ہمیشہ کچھ الگ ہی سوچتے اور کرتے تھے۔۔۔۔
“قتل کرنے اور صرف ایک قاتلانہ حملہ کروانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اُسے قتل نہیں کرنا۔۔۔ صرف ایس پی حمدان کو دھمکانے کے لیے ایک چھوٹا سا حملہ کروانا ہے۔۔۔۔ وہ بھی اُن کے گھر کے باہر۔۔۔۔۔ اور یہ کام کرو گے تم۔۔۔۔۔ اب جلدی سے کال کرو۔۔۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔۔۔۔”
مہروسہ اُسے ساری بات سمجھاتی ہاتھ میں پکڑے موبائل کی جناب اشارہ کر گئی تھی۔۔۔۔
جنید اُلجھن بھرے دماغ کے ساتھ اُس کے کہنے پر کال ملا چکا تھا۔۔۔۔
“ہیلو ایس پی صاحب بلیک سٹار بات کررہا ہوں۔۔۔۔ ہماری گینگ لیڈر کو مروا کر تم نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔۔۔۔ اب تم ہمارے بدلے کے لیے تیار رہنا۔۔۔ بہت جلد تمہیں تمہارے بہت پیاروں کی لاشیں ہماری طرف سے تحفے میں ملنے والی ہیں۔۔۔ بلیک سٹارز سے اُلجھنے والے کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑتے ہم۔۔۔۔ نسلیں برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔۔۔ جیسے اب تمہاری ہونے والی ہیں۔۔۔۔ اپنے بھائی کا جنازہ اُٹھانے کے لیے تیار رہنا۔۔۔۔۔ “
جنید اپنے مخصوص کھردرے لہجے میں مہروسہ کا کہا لفظ با لفظ فالو کرتا حمدان کا جواب سننے سے پہلے ہی کال کاٹ چکا تھا۔۔۔۔
“ویلڈن۔۔۔۔۔ ایس پی صاحب نہ صرف کال کے ذریعے ہماری لوکیشن ٹریک کروا رہیں ہونگے۔۔۔ بلکہ بہت جلد یہاں پہنچ بھی سکتے ہیں۔۔۔۔ اِس سم کو یہیں دفن کرو۔۔۔ اور جلدی سے نکلو یہاں سے۔۔۔”
مہروسہ اُسے جلدی سے ہدایت دیتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔ جنید بھی اُس کی بات پر عمل کرتے اپنا کام پورا کرتا اگلے پانچ منٹ کے اندر اُس پارک سے نکل آیا تھا۔۔۔۔
یہ پارک حمدان کے اُس گھر سے پانچ منٹ کی مسافت پر تھا جہاں اُس کے پیرنٹس اور بہن بھائی رہتے تھے۔۔۔۔
حمدان کی جان بستی تھی اپنے بھائی میں۔۔۔۔ اُس کے حوالے سے دھمکی دینے والے کو سبق سیکھانے حمدان اُسی وقت پولیس سٹیشن سے نکل آیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ ایس پی حمدان کو بہت اچھی طرح سے پہنچان گئی تھی۔۔۔۔ اِس لیے اب اُس سے چند قدم آگے ہی رہنے لگی تھی۔۔۔۔۔
اُس کے کہے کے مطابق حمدان اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچا تھا۔۔۔ مگر کر کچھ نہیں پایا تھا۔۔۔ کیونکہ اتنے بڑے پارک میں ایسے انسان کو ڈھونڈنا ناممکن سی بات تھی۔۔۔ جہاں ہر وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ پائے جاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
“اگر میرے بھائی کو زرا سی خراش بھی آئی تو تم لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔۔”
حمدان پارک سے نکلتا مُٹھیاں بھینچے بڑبڑایا تھا۔۔۔۔
اُس کے بابا نے اُس کے سامنے ایک ہی شرط رکھی ہوئی تھی کہ وہ اُس کی دی ہوئی سیکورٹی اِسی صورت لیں گے جب وہ اُن کے ساتھ اُن کے گھر میں رہے گا۔۔۔۔ مگر حمدان اُن لوگوں سے بات تک نہیں کرتا تھا۔۔۔
ساتھ رہنا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔۔۔
پہلے تو اُسے اُن کی سیکورٹی نہ لینے سے زیادہ فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔
مگر اب وہ اپنے گھر والوں کو ایسے خطرے میں نہیں رہنے دے سکتا تھا۔۔۔۔
اُس نے اپنے ماتحت کا اپنے گھر کے باہر سخت سیکورٹی کا انتظام کرنے کو کہا تھا۔۔۔۔۔ ابھی وہ ہدایت دیتا ہٹا ہی تھا۔۔۔۔ جب اُس کے کانوں میں فائرنگ کی آواز گونجتی اُس کے پیروں تلے سے زمین کھسکا گئی تھی۔۔۔۔۔
کیونکہ یہ فائرنگ کی آواز اُسی ایریا سے سنائی دی گئی تھی۔۔۔۔ جہاں اُس کا گھر تھا۔۔۔۔
حمدان ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بنا گاڑی میں بیٹھتا فوراً اُس جانب نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
اگر پریسا اُس بلیک بیسٹ کے قریب گئی بھی تھی تو اُسے باقی تمام لڑکیوں کی طرح بلیک بیسٹ نے خود سے دور کیوں نہیں جھٹکا تھا۔۔۔۔۔ مگر جنید اِس وقت بنا کچھ بولے کتے کی رسی تھام کر وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
جنید کے جاتے ہی شاہ ویز پریسا کے دونوں بازوؤں کو اپنی سخت گرفت میں جکڑتا خود سے دور دھکیل گیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ پریسا کو اُس کی اُنگلیاں اپنی جلد میں کھبتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
“دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔ اگر دوبارہ میرے اتنے قریب آنے کی کوشش کی تو گلا دبا دوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے قہر برساتی نگاہوں سے دیکھتے اپنا موبائل اُٹھاتا وہاں سے جانے ہی لگا تھا کہ پریسا غصے سے اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
اُس کی نسوانی عزتِ نفس پر یہ وار بہت کاری ثابت ہوا تھا۔۔۔۔
“ایکسکیوزمی مسٹر وحشی۔۔۔۔۔۔ تم میں ایسے کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں جو میں تمہارے قریب آنے کی کوشش کروں گی۔۔۔۔۔ تمہارے جیسے اُس جنگلی کتے کی وجہ سے اچانک ہوا یہ سب۔۔۔۔۔”
پریسا غصے میں مزید بھی بولنا چاہتی تھی مگر شاہ ویز کی لال آنکھیں دیکھ وہ بمشکل اپنی زبان کو دانتوں تلے دے پائی تھی۔۔۔۔
“اپنی زبان کو لگام دو۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی بات ادھوری چھوڑتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔ اِس لڑکی کے سامنے زیادہ دیر کھڑے رہنا اُسے خطرے سے خالی نہیں لگا تھا۔۔۔۔ جو اِس وقت اپنے بکھرے حلیے اور حُسن سے لاپرواہ۔۔۔۔ بلیک بیسٹ کے لیے آفت بنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ بلیک بیسٹ مجھ سے گھبرا رہا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا کو اپنی اتنی بدتمیزی کے جواب میں اُس کا ایسے چلے جانا حیرت میں مبتلا کرگیا تھا۔۔۔۔
جس طرح وہ اُس سے نظریں چرا کر گیا تھا پریسا کے لیے یہ کوئی عام نہیں تھی۔۔۔۔ کیونکہ آج تک اُس نے اِن سیاہ آنکھوں سے صرف اُسے خوفزدہ ہی کیا تھا۔۔۔۔
یوں کترایا نہیں تھا۔۔۔۔
“اتنی آسانی سے تو میں بھی اپنا شکار نہیں چھوڑتی۔۔۔مسٹر بیسٹ۔۔۔۔”
پریسا آنکھوں میں شرارت بھرے جلدی سے اُس کے پیچھے لپکی تھی۔۔۔۔
“بات سنوں۔۔۔۔۔”
وہ غصے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا بہت دور نکل گیا تھا۔۔۔ پریسا کو تقریباً بھاگ کر اُس تک پہنچنا پڑا تھا۔۔۔۔
اُس نے پھولے سانس کے ساتھ اُسے پکارا تھا۔۔۔۔ شاہ ویز کا دل چاہا تھا اِس لڑکی کو اُٹھا کر کہیں بہت دور پھینک آئے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات اَن سنی کرتا رُکا نہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ اُسی تیزی سے چل رہا تھا پریسا بھاگ کر اُس کے سامنے آتے اُس کا راستہ روک گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز نے خونخوار نگاہوں سے اُس سفید بلی کو اپنا راستہ کاٹتے دیکھا تھا۔۔۔۔ جو کب کیا بن جاتی تھی اُسے خود بھی سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔۔۔
“تم یہ سب کرکے مجھے خود سے سختی کرنے پر محبور کررہی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ ویز مُٹھیاں بھینچتے بمشکل خود پر ضبط کر پایا تھا۔۔۔۔ وہ جانتا تھا یہ لڑکی اُس کا غضب ناک رُوپ برداشت نہیں کرپائی گی۔۔۔۔ اِس لیے وہ اِس کے سامنے ناچاہتے ہوئے بھی اپنا یہ نرم رویہ رکھنے پر مجبور تھا۔۔۔۔۔۔
اگر پریسا کو پتا چل جاتا کہ یہ اِس شخص کا ابھی نرم رویہ ہے تو اُس نے غش کھا کر یہیں گر پڑنا تھا۔۔۔۔
“دیکھو۔۔۔۔ تم نے بلا وجہ مجھے یہاں قید کررکھا ہے۔۔۔۔ مگر پلیز میری ایک بات تو مان ہی سکتے ہو نا۔۔۔۔ آج میرا برتھ ڈے ہے۔۔۔۔ تم رات کو واپس آتے میرے لیے میرا فیورٹ کیک لاسکتے ہو۔۔۔۔ بہت معمولی سی خواہش ہے۔۔۔ پلیز پوری کردو۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے سامنے اپنی گول گول آنکھیں پٹپٹاتی معصومیت کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
پہلی بار کسی نے بلیک بیسٹ سے ایسی کوئی فرمائش کی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز کو اُس کی فضول بات سن پر مزید آگ لگی تھی۔۔۔ یہ لڑکی بلاوجہ اُس کا ٹائم ویسٹ کررہی تھی۔۔۔۔
“جنید لے آئے گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز مُٹھیاں بھینچتا اُس کی جانب دیکھنے سے پوری طرح گریز برتتا وہاں سے جانے لگا تھا۔۔۔ جب پریسا ایک بار پھر اُس کے سامنے آگئی تھی۔۔۔۔۔ شاہ ویز کے ایک دم رک جانے کی وجہ سے دونوں ٹکراتے بچے تھے۔۔۔۔۔
“میں تم سے کہہ رہی ہوں تو تم ہی لاؤ گے۔۔۔۔ اور وہ بھی گل بہار بیکرز سے گل شیر بھائی کے ہاتھوں کا بنا ہوا۔۔۔۔ اور اُن سے یہ کیک اُن کے سر پر کھڑے ہوکر بنوانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ “
پریسا کمر پر دونوں ہاتھ رکھتے بالکل لڑاکا عورتوں کی طرح بولی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز کا نظریں چرانا اُسے بہت مزا دے رہا تھا۔۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی یہ چیز آگے چل کر اُس پر کتنی بھاری پڑنے والی تھی۔۔۔۔۔
شاہ ویز کا غصہ اب حد پار کرچکا تھا۔۔۔۔
وہ آگے بڑھا تھا۔۔۔۔ اور پریسا کے کمر پر رکھے دونوں ہاتھوں کو مڑور کر لاک کرتا اُسے اپنے بہت قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
“تم۔۔۔ تمہاری یہ فضول سی ڈیمانڈز میرے نزدیک زرا سی اہمیت بھی نہیں رکھتے۔۔۔۔۔ تم جو کرنا چاہ رہی ہو اُس میں سب سے زیادہ نقصان تمہارا ہی ہوگا۔۔۔ اِس لیے اپنی یہ اوچھی حرکتیں بند کرو۔۔۔۔۔ اور دوبارہ میرے سامنے مت آنا۔۔۔۔ ورنہ نتائج کی زمہ دار تم ہوگی۔۔۔۔۔۔ تمہارے پاس دو دن کا وقت ہے۔۔۔۔ میں نے جو تمہیں آزاد کرنے کی شرط رکھی تھی اُس پر حامی بھرتی ہوتو ٹھیک۔۔۔۔ ورنہ تمہاری لاش کو آفندی مینشن بھجوانا میرے لیے مشکل کام بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کے وحشیانہ لمس سے پریسا کی کلائیاں بالکل لال ہوچکی تھیں۔۔۔۔۔ درد کے مارے اُس کی آنکھوں سے کئی آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔۔ کل اِس شخص کو اُس قابلے رحم حالت میں دیکھ کر پریسا کے دل میں جو نرمی پیدا ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ سب اب ختم ہوچکی تھی۔۔۔۔ اُس کے دل میں بلیک بیسٹ کا خوف ایک بار پھر پوری طرح سے چھا گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ کچھ نہیں بولی تھی۔۔۔۔۔ وہ ایک دم شاہ ویز سکندر سے بلیک بیسٹ کے رُوپ میں آتے شخص کی جانب دیکھنے سے بھی گریزاں تھی۔۔۔۔۔
“اقراء۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے خود سے دور جھٹکتا زور سے دھاڑا تھا۔۔۔۔ پریسا اُس کے دھتکارنے پر لڑکھڑا کر زمین پر جاگری تھی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے اُس کی کہنی بُری طرح چھل گئی تھی۔۔۔۔
“جی سر۔۔۔۔۔۔”
اقراء فوراً حاضر ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“لے جاؤ اِسے۔۔۔۔ اور کال کوٹھڑی میں باندھ دو۔۔۔ مجھے اب یہ یہاں آزار پھرتی نظر نہ آئے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز بنا نیچے گری پریسا پر ایک بھی نگاہِ غلط ڈالے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
اقراء نے بنا کچھ بولے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔۔ مگر اُسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ اچانک اتنا وحشی بنا کیوں تھا۔۔۔۔ پریسا کے صرف ایک کیک کی ڈیمانڈ پر تو وہ اتنے غصے میں نہیں آسکتا تھا۔۔۔۔
آخر ریزن کیا تھا اتنا غصہ کرنے کا۔۔۔۔ وہ بلا وجہ کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا۔۔۔۔ صرف قصور وار کو ہی اُس کی سزا سناتا تھا۔۔۔ تو پھر پریسا کس بات کی قصور وار تھی۔۔۔۔ کیا گناہ سرزد ہوا تھا اُس سے۔۔۔۔؟؟؟
“تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔؟؟؟”
اقراء نے آگے بڑھ کر پریسا کو تھاما تھا۔۔۔ جو ابھی تک وہیں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔ اُس کا پورا وجود شاہ ویز کے خوف سے کانپ رہا تھا۔۔۔۔
“بہت بُرا ہے یہ شخص۔۔۔۔ شدید نفرت کرتی ہوں میں اِس سے۔۔۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گی اِسے۔۔۔۔ وحشی، غنڈہ، موالی کہیں کا۔۔۔۔”
پریسا ہاتھ سے اپنے آنسو پونچھتی روتے ہوئے شاہ ویز کو جن القابات سے نواز رہی تھی۔۔۔ وہ سنتے اقراء بمشکل اپنی مسکراہٹ پوشیدہ رکھ پائی تھی۔۔۔
اُس کا زرا بھی دل نہیں چاہا تھا اِس پیاری سی لڑکی کو ایسی سخت سزا دینے کو۔۔۔۔ مگر اِس وقت اُسے صرف شاہ ویز کا آرڈر ہی فالو کرنا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“باقی لوگ دوستی کے ناطے مدد کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ مگر میں دشمنی کے ناطے۔۔۔۔ بے شک اِسے اُدھار سمجھ کر آگے کسی موقع پر تم بِھی اُتار دینا۔۔۔۔”
حازم اُس کے سامنے خود کو اُس کا ہمدرر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اِس لیے سودا بازی کرتے بولا تھا۔۔۔۔
“تم کیا مدد کرسکتے ہو میری۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ لوگ چاہتے ہیں میں کیس واپس لے لوں۔۔۔ جو میں مر کر بھی نہیں کروں گی۔۔۔ لیکن اُن کو پرابلم مجھ سے ہے مارنا ہے تو مجھے ماریں۔۔۔ میری ماما اور بہن کو اُنہوں نے خراش بھی پہنچائی تو چھوڑوں گی نہیں میں اُنہیں۔۔۔۔”
حبہ کو اِس وقت کسی مضبوط ساتھ کی ضرورت تھی۔۔۔ جو حازم کے رُوپ میں اُسے ملا تھا۔۔۔۔ وہ اِس وقت کوشش کے باوجود اُس سے بے رُخی نہیں برت پائی تھی۔۔۔۔۔ نجانے کیوں دل اس شخص پر یقین کرنے کا خواہاں تھا۔۔۔۔
“شمشیر خان کو بہت اچھے سے جانتا ہوں میں۔۔۔ میری برادری کا آدمی ہے جانتا کیسے نہیں ہونگا میں۔۔۔۔ شریف وہ دنیا والوں کے لیے ہے۔۔۔ مگر ہم اُس کی اصلیت سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔۔۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اُس نے تمہاری ماں اور بہن ہو کہاں رکھا ہوا ہے۔۔۔۔۔ میں وہاں تک پہنچنے میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔۔۔۔”
حازم کو اُس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اپنے دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔۔
“تم کیوں کرنا چاہتے ہو میری مدد۔۔۔ وہ بھی اپنے سر دشمنی مول لے کر۔۔۔۔ ؟؟؟”
حبہ کو یہ بات بہت عجیب لگی تھی۔۔۔
“میں تمہاری مدد نہیں کررہا ہے۔۔۔ اپنی دشمنی نکال رہا ہوں اُس شخص سے۔۔۔ بہت پُرانا حساب رہتا ہے اُس سے۔۔۔ جو اب پورا ہوگا۔۔۔۔۔ اگر تم اپنی بہن اور ماں کو بچانے کے لیے اِس کیس سے پیچھے ہٹ گئی تو میرا حساب بھی ادھورا رہ جائے گا۔۔۔۔ اِس لیے میں یہ سب کررہا ہوں۔۔۔۔”
حازم نے جھوٹ کا سہارا لیتے اُس کے سامنے اپنی اچھائی نہیں آنے دی تھی۔۔۔۔۔
حبہ کچھ پل کھوجتی نگاہوں سے اُسے دیکھتی رہی تھی۔۔۔۔ اپنے دشمن پر یوں یقین کرنا اُس کے لیے مشکل تھا۔۔۔ مگر اِس وقت اُس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ تو کیا کرنا ہوگا ہمیں۔۔۔۔”
حبہ اُس کی مدد لینے پر راضی ہوچکی تھی۔۔۔ حازم اُس کی آنکھوں میں پر اسرار سی چمک دیکھ مسکرا دیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کی یہ جنگلی بلی کیا سوچتی تھی۔۔۔ اور اُس کے حوالے سے کیا ارادے رکھتی تھی حازم سے بہتر شاید اُسے کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
حازم اُسے پندرہ منٹ میں تیار ہوکر مطلوبہ جگہ پر پہنچنے کا کہتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“یا خدا۔۔۔۔ یہ فائرنگ کی آواز تو گھر کے باہر سے آرہی ہے۔۔۔۔ اور ابھی زین ہی باہر نکلا ہے۔۔۔۔۔”
فرح کی بات پر ڈرائنگ میں بیٹھے تمام افراد کے دل دہل اُٹھے تھے۔۔۔۔
سب فوراً باہر کی جانب بڑھے تھے۔۔۔ سب سے پہلے صدیقی صاحب ہی باہر پہنچے تھے۔۔۔۔۔ زین کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تھی۔۔۔ مگر وہ بالکل محفوظ تھا۔۔۔۔
اور کافی خوفزدہ بھی۔۔۔۔۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟”
سمیعہ بیگم نے فوراً اُسے سینے سے لگاتے اُس کے صحیح سلامت ہونے کا یقین کیا تھا۔۔۔۔ لوگوں کو اُکٹھا ہوتے دیکھ حملہ آور بھاگ گئے تھے۔۔۔۔
جب پانچ منٹ بعد پولیس کی تین گاڑیاں سائرن بجاتی اُن کے پاس آن رکی تھیں۔۔۔۔جس میں سے بھاگ کر نکلتے حمدان کو دیکھ صدیقی ولا کا ہر فرد ساکت ہوا تھا۔۔۔ کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ حمدان آج اتنے عرصے بعد واپس اِس چوکھٹ پر لوٹا تھا۔۔۔۔
“زین تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟ آپ سب لوگ ٹھیک ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
ہمیشہ اُن سب کے سامنے سرد پن اور بے جسی برتنے والا ایس پی حمدان صدیقی اپنے گھر والوں پر آئی زرا سی آفت تڑپ اُٹھا تھا۔۔۔۔
اُس کا لال چہرا اور آنکھیں بتا رہی تھیں۔۔۔ کہ پارک سے گھر تک کا یہ پانچ منٹ کا راستہ اُس نے کس طرح طے کیا تھا۔۔۔۔
“ہمیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ہم بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔۔ اور اپنا خیال رکھنا بہت اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔۔ تم اپنی یہ سیکورٹی لے کر جاسکتے ہو۔۔۔ ہمیں اِس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
صدیقی صاحب زین کو حمدان سے دور کرتے باقی سب کو اندر جانے کا اشارہ کرتے گیٹ کی جانب بڑھے تھے۔۔۔۔
“بابا۔۔۔۔ آپ لوگوں کو اِس سیکورٹی کی ضرورت ہے۔۔۔۔”
حمدان جیسا اکڑو شخص اپنے باپ کے آگے نرم پڑتا بمشکل یہ الفاظ ادا کر پایا تھا۔۔۔۔
“ہمیں کسی سیکورٹی کی ضرورت نہیں ہے ایس پی صاحب۔۔۔۔ ہمیں اپنے بیٹے کی ضرورت ہے۔۔۔ جو اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ رہنا بھی پسند نہیں کرتا۔۔۔۔ “
صدیقی صاحب اُسے نروٹھے لہجے میں جواب دیتے اندر کی جانب بڑھ گئے تھے۔۔۔۔ گیٹ بند کرتے اُجالا نے نگاہیں اُٹھا کر حمدان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جس شخص کے لیے اپنے گھر کی دہلیز پار کرنا بھی بہت مشکل امر ثابت ہورہا تھا۔۔۔۔
اُس نے جان بوجھ کر دروازہ بند کرنے کے بجائے آدھ کھلا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ جب اُسی لمحے حمدان کی نظر اُس پر پڑتی اُسے زلزلوں کی نذر کر گئی تھی۔۔۔۔۔
حمدان تیر کی تیزی سے گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔ جس دہلیز کو کبھی نہ پار کرنے کی قدم کھا رکھی تھی اُس نے۔۔۔۔ اُجالا کو دیکھ وہ سب ٹوٹ چکی تھی۔۔۔۔
“تم۔۔۔ تم یہاں میرے گھر میں کیا کررہی ہو۔۔۔۔ تم زندہ۔۔۔ تم تو جل کر مر گئی تھی نا۔۔۔۔”
حمدان سب کے ساتھ اندر بڑھتی اُجالا کی کلائی دبوچ کر اُسے وہیں روکتا۔۔۔۔ اُجالا سمیت وہاں موجود تمام افراد کو ساکت کر گیا تھا۔۔۔۔
کسی کو اُمید نہیں تھی حمدان اندر آئے گا۔۔۔ مگر اندر آکر اُس نے جو الفاظ ادا کیے تھے اُس نے اُنہیں خوش ہونے کے ساتھ ساتھ مزید شاک کردیا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔