Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

حمدان کو اندر داخل ہوتا دیکھ وہ الرٹ ہوتی کال کاٹ کر اپنی پاکٹ میں رکھ گئی تھی۔۔۔۔ شاپ میں اِس وقت کسٹمرز کے علاوہ شاپ کا مالک اور وہاں کے ایک میل ورکر کا حلیے بنائے مہروسہ کھڑی تھی۔۔۔
جس کے داڑھی اور مونچھوں والے سکنی ماسک سے کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ لڑکا نہیں لڑکی ہے۔۔۔۔ حمدان کو شاپ کے اندر داخل ہوتا دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔
جس نے اندر آتے ہی شاپ کا دروازہ بند کردیا تھا۔۔۔۔
“چیک کرو اِس کے علاوہ اِس شاپ سے باہر نکلنے کا کوئی اور راستہ تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
حمدان کے اشارے پر پولیس اہلکار چاروں طرف پھیل چکے تھے۔۔۔۔ شاپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا تھا۔۔۔۔ حمدان نے پوری شاپ پر نگاہ دوڑائی تھی۔۔۔ جہاں سہمے کھڑے لوگوں میں خواتین اور مرد موجود تھے۔۔۔ لڑکی اُن میں کوئی نہیں تھی۔۔۔۔
“سب لوگ اپنے موبائل نکال کر یہاں رکھ دیں۔۔۔ “
حمدان کے اشارے پر سب نے ہی جلدی جلدی موبائل نکال کر ٹیبل پر رکھ دیئے تھے۔۔۔۔
مہروسہ نے بھی بٹنوں والا موبائل نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔ حمدان کی گہری نگاہیں لڑکے کے حلیے میں کھڑی مہروسہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔ مہروسہ کو شدید گڑبڑ کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔۔ اُس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ ایس پی حمدان کو چکما دینا اُس کے لیے بہت مشکل ہونے والا تھا۔۔۔۔
“کون ہے یہ۔۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے شاپ کے مالک کو اپنے قریب بلاتے مہروسہ کی جانب اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“سر یہ چھوٹو ہے۔۔۔ پچھلے پانچ سالوں سے میرے ساتھ اِس دوکان پر کام کررہا ہے۔۔۔۔۔”
شاپ کیپر نے مہروسہ کے سیکھائے الفاظ بولے تھے۔۔۔۔
“اِدھر آؤ۔۔۔۔۔۔”
حمدان نے اشارے سے اُسے اپنے پاس بلایا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کی دھڑکنیں بے قابو ہوئی جارہی تھیں۔۔۔ اگر حمدان کو اُس پر شک ہوچکا تھا تو اُس نے بہت ہی جلد پکڑے جانا تھا۔۔۔۔ وہ ایسے نجانے کتنے گیٹ اپ بدل چکی تھی۔۔۔ مگر اُس کا کانفیڈنس ہی ایسا ہوتا تھا کہ آج تک کسی کو زرا سا بھی شک نہیں ہو پایا تھا۔۔۔
مگر اِس وقت حمدان کے سامنے اُس کی حالت خراب ہوچکی تھی۔۔۔۔ وہ اپنی کیفیت سمجھ ہی نہیں پارہی تھی۔۔۔۔ جس طرح اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔ اُس نے فوراً پکڑے جانا تھا۔۔۔۔۔
وہ دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔
“یہاں کسی لڑکی کو دیکھا تم نے۔۔۔۔۔ دوکان کے آس پاس فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے۔۔۔۔۔”
حمدان کی ایکسرے کرتی نگاہیں اُس کا سر سے پیر تک جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔۔
مہروسہ نے اب کی بار بھی بنا کچھ بولے نفی میں گردن ہلا دی تھی۔۔۔
“سر یہ بول نہیں سکتا۔۔۔ پیدائشی معذور ہے۔۔۔۔۔”
شاپ کیپر کی بات پر حمدان نے اُسے واپس جانے کا بول دیا تھا۔۔ مہروسہ کانپتی ٹانگوں کے ساتھ واپس اپنے کاؤنٹر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
مگر حمدان کے تاثرات اُسے اتنا تو سمجھا گئے تھے۔۔۔ کہ حمدان کو اُس پر شک ہوچکا ہے۔۔۔۔۔
اب اُسے یہاں سے نکلنے کے لیے کچھ تو کرنا تھا۔۔۔۔ حمدان ایک ایک کرکے باقی افراد کو باہر بھیج رہا تھا۔۔۔۔ وہ مہروسہ کو اُس دن کی طرح کسی کو یرغمال بنانے کا موقع نہیں دینے والا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کا دماغ بالکل ہی کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔۔۔ اُس کی نگاہیں حمدان صدیقی سے ہٹنے کو تیار ہی نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔ وہ یہاں سے نکلنے کے بارے میں کچھ سوچ کی نہیں پارہی تھی۔۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگا تم بھیس بدل کر مجھے بے وقوف بنا لو گی۔۔۔۔ ؟؟؟”
حمدان باقی پولیس اہلکاروں کو لوگوں کو وہاں سے لے جانے پر لگاتے خود مہروسہ کی جانب بڑھ تھا۔۔۔۔۔
“جب تک میں نہ چاہوں آپ مجھے نہیں پکڑ سکتے۔۔۔ نہ ہی آپ کا محکمہ آپ کو اِس کی اجازت دے گا۔۔۔۔”
اُس کے قریب آنے پر مہروسہ اُلٹے قدموں پیچھے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ اُس کے پاس گن تھی۔۔۔ مگر وہ حمدان پر گن تاننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔
“تمہاری یہ غلط فہمی میں آج ہی دور کر دوں گا۔۔۔۔”
حمدان اُس کی کلائی مڑورتا اپنی جانب کھینچتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
اُس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ مہروسہ کو اپنی کلائی ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
“آپ پلیز چھوڑ دیں مجھے۔۔۔ آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔ میرے لوگ یہاں آس پاس ڈھیروں کی تعداد میں موجود ہیں۔۔۔ وہ میرے ساتھ یہ سلوک کرنے پر آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔”
مہروسہ نے اردگرد سے نکلتے اپنے آدمیوں کی جانب اُس کا دھیان دلوانا چاہا تھا۔۔۔۔ جو شاید پولیس یہاں پہنچ جانے کی اطلاع اب تک شاہ ویز اور حازم تک پہنچا چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اپنی جان کی زرا سی بھی پرواہ نہ کرنے والی مہروسہ کنول کا دل حمدان کی فکر میِں پاگل ہورہا تھا۔۔۔۔ حازم تو پھر اُس کی حمدان کے لیے پسندیدگی سے واقف تھا۔۔۔ لیکن اگر شاہ ویز یہاں پہنچ کر حمدان کا اُس کے ساتھ یہ سلوک دیکھ لیتا تو نجانے وہ کیا کر گزرتا۔۔۔۔ وہ اپنی نگاہوں کے سامنے حازم اور مہروسہ کو زرا سی چوٹ پہنچتے بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کسی قیمت پر شاہ ویز اور حمدان کا ٹکراؤ نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔ اُسے خود پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا کہ وہ حمدان کے آنے سے پہلے شاپ سے نکلی کیوں نہیں تھی۔۔۔۔ حمدان کو ایک نظر قریب سے دیکھنے کی اب نجانے اُسے کتنی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی۔۔۔۔
“تم کسے اور کس کی دھمکی دے رہی ہو۔۔۔۔۔ چاہے یہاں پر تمہارے سارے آدمی پہنچ جائیں۔۔۔۔ تمہارا ہاتھ میں کسی قیمت پر نہیں چھوڑنے والا۔۔۔۔۔”
حمدان اُس کی کلائی تھام کر اُسے زبردستی اپنے ساتھ گھسیٹتے شاپ سے نکلتے بولا۔۔۔۔ اُس کی سرد نگاہیں اور پتھریلے تاثرات دیکھ مہروسہ کو وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت لگا تھا۔۔۔۔ اِس شخص کا ہر انداز ہی اُس کا دل لوٹ لیتا تھا۔۔۔۔
“کاش یہ الفاظ نفرت میں نہیں محبت میں ادا کیے ہوتے۔۔۔۔ تو اپنے آدمیوں کو یہی روکتے آپ کے ساتھ چل پڑتی۔۔۔۔”
مہروسہ دلربائی سے بولتی حمدان کو مزید طیش دلا گئی تھی۔۔۔۔ اُس کے چہرے پر ابھی بھی ماسک تھا۔۔۔ جو اتارنے کر اُس کے چہرا دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا اِس وقت حمدان کے پاس۔۔۔۔
وہ اُسے جلد از جلد گاڑی میں ڈال کر وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ بلیک سٹارز کی پاور سے کسی صورت انکاری نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔۔ اردگرد بھاری تعداد میں پولیس نفری موجود تھی۔۔۔۔ مہروسہ کے بچ نکلنے کے کوئی چونسز نہیں تھے۔۔۔ اِس سے پہلے کے حمدان اُسے گاڑی میں ڈالتا۔۔۔ وہاں گونجتی شاہ ویز کی آواز پر حمدان کے ساتھ ساتھ مہروسہ بھی جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔۔۔
“ایس پی حمدان صدیقی۔۔۔ ہماری ساتھی کو چھوڑ دو۔۔۔ ورنہ تمہاری اِس منگیتر کو اُوپر پہنچانے میں ہمیں زیادہ ٹائم نہیں لگے گا۔۔۔۔ “
شاہ ویز مریم کی کنپٹی پر گن رکھے حمدان کے پیروں تلے سے زمین کھینچ گیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ منگیتر کے نام پر گم صم سی کھڑی حمدان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جو مریم پر نگاہیں ٹکائے اُس کی کلائی چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کی نظریں عام سی شکل و صورت والی مریم پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ جو حمدان کے لیے اِس قدر اہم تھی کہ نفرت میں بھی تھاما گیا اُس کا ہاتھ چھوڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگا تھا اُسے۔۔۔
“خبردار! اگر اُسے زرا سی بھی خراش آئی تو میں تم لوگوں کی نسلیں برباد کردوں گا۔۔۔۔”
حمدان مریم کو گن پوائنٹ پر دیکھ بپھرے شیر کی طرح دھاڑا تھا۔۔۔۔
اُس کے تمام پولیس اہلکار گن پہلے ہی نیچے کرچکے تھے۔۔۔ مہروسہ خاموش نگاہوں سے یک ٹک حمدان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جس کی نگاہیں مریم سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔۔۔۔۔
“مہر کم ہئیر۔۔۔۔۔ “
حازم مہروسہ کی کیفیت سمجھتا نرم لہجے میں اُسے مخاطب کرتے بولا تھا۔۔۔۔
“میرے اپنوں کو بیچ میں لاکر بہت غلط کیا ہے تم لوگوں نے۔۔۔۔ اگلے ساتھ دنوں کے اندر اندر تمہیں اپنی قید میں نہ لیا تو میرا نام بھی حمدان صدیقی نہیں۔۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔۔۔”
حمدان مہروسہ کو قریب آتے حازم کی جانب دھکیل گیا تھا۔۔۔۔ مہروسہ جو اِس وقت اپنے آپے میں نہیں تھی۔۔۔۔ لڑکھڑا کر زمین بوس ہوجاتی اگر حازم جلدی سے آگے آتے بروقت اُسے تھام نہ لیتا۔۔۔۔
حازم اور مہروسہ کے قریب پہنچتے اور گاڑی میں بیٹھتے ہی شاہ ویز بھی مریم کو آزاد کرتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مہروسہ نے مُڑ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔ جہاں اُس کے ایس پی کی بانہوں میں وہ لڑکی سماتی مہروسہ کو جی جان سے جھلسا گئی تھی۔۔۔۔۔ مہروسہ نے سختی سے اپنی مُٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔۔۔
حازم اُس کے برابر والی سیٹ پر۔۔۔ جبکہ شاہ ویز جنید کے ساتھ فرنٹ پر بیٹھا تھا۔۔۔۔ مہروسہ نے حازم سے اشاروں میں شاہ ویز کے موڈ کے بارے میں پوچھا تھا۔۔۔۔
“موصوف یہاں آنے سے پہلے آگ اُگل رہے تھے۔۔۔ جس محبت کی بھٹی میں جلنے سے وہ مجھے بچانا چاہتا تھا۔۔۔ اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ تم بھی اُسی کا شکار ہوجاؤ گی۔۔۔۔ بہت زیادہ غصے میں ہے۔۔۔۔ “
حازم کی بات پر مہروسہ نے ترچھی نگاہوں سے شاہ ویز کی پشت کو گھورا تھا۔۔۔ حمدان کی اپنے لیے اتنی نفرت دیکھ وہ پہلے ہی عجیب سی کیفیت کا شکار تھی۔۔۔ اور شاہ ویز کو بھی ناراض ہوتا دیکھ اُس کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“ایس پی صاحب آپ کو خود سے محبت کروانے پر مجبور نہ کردیا تو میرا نام بھی مہروسہ کنول نہیں۔۔۔۔ آپ کے دل و دماغ میں خیال ہوگا تو صرف میرا۔۔۔ چاہے آپ کی یہ منگیتر ہو یا کوئی اور کسی کو آپ کے نزدیک بھٹکنے بھی نہیں دوں گی۔۔۔۔۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ جتنی شدید نفرت کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔ اُس سے کہیں زیادہ محبت کریں گے آپ۔…”
مہروسہ دل ہی دل میں حمدان سے مخاطب ہوتی اپنے آپ سے عہد کر گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“ماشاء اللہ میری گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہے۔۔۔ ہر رنگ ہی ہماری پری کو بہت سوٹ کرتا ہے۔۔۔ مگر سُرخ رنگ تو جیسے پری کے لیے ہی بنایا گیا ہے۔۔۔۔ میں پہلے اپنی بچی کی نظر اُتار لوں۔۔۔۔ “
یاسمیب بیگم کے ساتھ ساتھ ڈرائینگ میں بیٹھی تمام خواتین نے محبت اور ستائش بھری نگاہوں سے لال سوٹ میں ملبوس پری کو دیکھا تھا۔۔۔۔ جو نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔
لمبے سیاہ بالوں کو کیچر میں مقید کرکے کمر پر کھلا چھوڑے، پنک لپ گلاس، گول مٹول بلی جیسی آنکھوں کو کاجل سے سجا کر مزید دوآتشہ کیے۔۔۔۔ وہ دیکھنے والوں کے دل اپنے پیروں تلے روندنے کو بالکل تیار تھی۔۔۔۔
چہرے پر آئی شریر لٹ کو بار بار نزاکت سے کانوں کے پیچھے اڑستے، دودھیا گداز پیروں میں سرخ رنگ کے کھسے پہنے وہ دھیمی چال چلتی یاسمین بیگم کے قریب آئی تھی۔۔۔۔۔
“شہباز آپ کے اور سفیان کے نکاح کی اناؤنسمنٹ کر چکے ہیں۔۔ ٹھیک دس دنوں بعد۔۔۔۔ نہایت ہی شاندار تقریب منعقد کی جائے گی۔۔۔ جو آج سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی ہوگی۔۔۔۔ وقت بہت کم ہے۔۔۔ آج سے ہی اعلٰی پیمانے پر تیاریوں کا آغاز شروع کیا جارہا ہے۔۔۔ آپ بھی آج دو ہفتے کے لیے چھٹیاں لے لیں۔۔۔ تاکہ اچھے سے اپنی تیاریاں پوری کرسکیں۔۔۔۔”
یاسمین بیگم اُس کی نظر اُتارتے محبت پاش لہجے میں بولی تھیں۔۔۔
“اوکے بڑی ماما۔۔۔ ابھی تو ہمیں نکلنا ہوگا۔۔۔ ہم لیٹ ہورہی ہیں۔۔۔۔”
پری اُن کی گال کا بوسہ لیتی باقی سب کو بھی خدا حافظ کرتی فضہ کے ساتھ باہر نکل آئی تھی۔۔۔
“ڈرائیور بھائی گاڑی زرا بینک کی طرح موڑیے گا مجھے کام ہے وہاں۔۔۔۔۔”
فضہ کی بات پر پری نے اُسے گھورا تھا۔۔۔۔
“فضہ یونی سے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔ واپسی پر بینک چلے جائیں گے نا۔۔۔۔”
پری آگے چھٹیاں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔ اِس لیے وہ نہیں چاہتی تھی کہ اُس کی آج کی کلاسز بھی ضائع ہوجائیں۔۔۔۔۔
“واپسی پر بینک بند ہوجائے گا۔۔۔ تیس منٹ سے زیادہ ٹائم نہیں لگے گا۔۔۔ آئی پرامس۔۔۔۔”
فضہ کے ملتجی لہجے سے کہنے پر پریسا کو مانتے ہی بنی تھی۔۔۔۔
“جلدی کرو تم اب۔۔۔۔۔ تیس منٹ سے ایک منٹ بھی۔۔۔۔۔”
پری فضہ کے ساتھ ساتھ چلتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ جب وہ پاس سے گزرتے کسی شخص سے بہت زور دار انداز میں ٹکرا گئی تھی۔۔۔ اگر فضہ اُسے سہارا نہ دیتی تو اُس نے بہت بُری طرح گرنا تھا۔۔۔۔
پری نے پلٹ کر اُس شخص کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُسی وقت وہ بھی پیچھے مُڑا تھا۔۔۔۔ بلیک قیمض شلوار میں ملبوس اُس شخص نے بلیک ماسک لگا رکھا تھا۔۔۔ مگر اُس کی ماسک سے جھانکتی دلکش آنکھیں دیکھ پری اپنی جگہ پتھر کی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ وہی تھا۔۔۔۔
“پری کیا ہوا ہے۔۔۔ ایسی پتلا کیوں بن گئی ہو۔۔۔۔ تم وہاں بیٹھو میں آتی ہوں۔۔۔۔”
فضہ اُس کا کندھا ہلا کر اپنی جانب متوجہ کرتی آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔
پری نے فضہ کی بات سن کر جیسے ہی پلٹ کر اُس جانب دیکھا تو وہاں شاہ ویز سکندر کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔
پری فوراً اُس کے پیچھے گئی تھی مگر وہاں کہیں بھی اُس کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔۔۔۔
“ایکسکیوزمی۔۔۔ ابھی دو منٹ پہلے یہاں آپ نے ایک بلیک قیمض شلوار والے شخص کو باہر جاتے دیکھا ہے کیا۔۔۔۔؟”
پریسا چاروں جانب نگاہیں دوڑانے کے بعد بینک کی انٹرنس پر کھڑے گارڈ کے پاس آئی تھی۔۔۔ یہ بینک کی مین برانچ تھی۔۔۔ جو کافی بڑی تھی اور ہر وقت یہاں لوگوں کا رش لگا رہتا تھا۔۔۔۔
اِس لیے اتنے لوگوں میں پری اُسے ڈھونڈ نہیں پائی تھی۔۔۔۔
“نہیں میڈم جی۔۔۔ پچھلے دس منٹ سے لوگ داخل ہی ہورہے ہیں۔۔۔ یہاں سے نکلا تو کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
گارڈ کی بات پر پری واپس اندر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“مجھے ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی پکار پر پریسا جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔۔۔۔ خوف کے مارے اُس کی چیخ نکلتے نکلتے بچی تھی۔۔۔۔
یہ آگ اُگلتا لب و لہجہ وہ بھلا کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔ سامنے کھڑا لال آنکھوں سے گھورتا شخص وہی تھا۔۔۔۔
پریسا آس پاس چلتے پھرتے گارڈز کے باوجود اُسے سامنے دیکھ خوف سے کانپ اُٹھی تھی۔۔۔
“مم میں ابھی گارڈز کو سب بتا دوں گی۔۔۔ وہ آپ کو۔۔۔۔”
پریسا کی باقی بات منہ میں ہی رہ گئی تھی۔۔۔ جب بینک میں اسلحہ اُٹھائے اندر داخل ہوتے نقاب پوش افراد کے دیوار پر فائر کرنے پر وہ سہم کر شاہ ویز کے قریب ہو آئی تھی۔۔۔
انتہائی قریب سے آتی گولی کی آواز پر پریسا کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔
“بندوقیں نیچے پھینک دو۔۔۔ خبردار جو کسی نے ہلنے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔۔۔ “
حازم کے اشارے پر سب گارڈز نے اپنی گنز زمین پر ڈال دی تھیں۔۔۔ بینک میں بہت زیادہ رش تھا۔۔۔ وہ کوئی بھی حرکت کرکے اپنی اور وہاں موجود افراد کی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔۔۔
پریسا کو پتا بھی نہیں چلا تھا۔۔۔ اُن لوگوں سے خوفزدہ ہوتی۔۔۔۔ وہ محفوظ پناہ حاصل کرنے کے لیے سامنے کھڑے شاہ ویز کے انتہائی قریب آچکی تھی۔۔۔۔
اُس کے وجود سے اُٹھتی دلفریب مہک نے پل بھر کے لیے ہی سہی مگر شاہ ویز سکندر کو بہت بُری طرح ڈسٹرب کردیا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز نے اُسے کلائی سے تھام کر خود سے دور کیا تھا۔۔۔۔
“اِنہیں گارڈز کی دھمکی دے رہی تھی تم مجھے۔۔۔۔ ؟؟؟ پہلے اپنے ملک کا نظام تو ٹھیک کر لو تم لوگ۔۔۔ پھر اِن لوگوں پر اندھا اعتبار کرنا۔۔۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ دوبارہ اگر میرے خلاف کچھ بھی اُلٹی سیدھی حرکت کی تو میرے ساتھ میری دنیا میں آنے کے لیے تیار رہنا۔۔۔۔ میں اپنے کہے سے مکرتا نہیں ہوں۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُسے اُس کی غلطی باور کرواتا اپنی پاکٹ سے گن نکال چکا تھا۔۔۔۔ جسے دیکھ پریسا کی گول گول آنکھوں کی پتلیاں پھیل کر مزید حسین ہوگئی تھیں۔۔۔۔
“اپنے منیجر کو بلاؤ۔۔۔ اور اِن لوگوں کے اکاونٹس پر جتنی بھی رقم ہے۔۔۔ ابھی اور اِسی وقت ہمارے حوالے کرو۔۔۔۔ ورنہ یہاں کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچے گا۔۔۔۔”
حازم اور مہروسہ پہلے ہی باقی سب کو افراد کو ہاتھ اُوپر کروا کر ایک لائن میں نیچے بیٹھا چکے تھے۔۔۔۔
اُن کے آدمیوں نے باہر سے بینک کو پوری طرح سے گھیر رکھا تھا۔۔۔ شاہ ویز گن نکالتا بینک مینیجر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
جبکہ پریسا آنکھیں پھاڑے اُس حد درجہ وجیہہ انسان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جو قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ لُٹیرا بھی تھا۔۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“حبہ میں نے ایک جیولر سے بات کی ہے۔۔۔۔ اُسے ہر طرح کی جیولری کا بہت اچھے سے علم ہے۔۔۔۔ وہ تمہاری چین لاک کھولنے کے ساتھ ساتھ اُسے تمہارے گلے سے بھی اُتار دے گا۔۔۔۔۔”
اپنی بہت اچھی دوست حرا کی بات سن کر حبہ کا دل چاہا تھا ریسور اُس کے منہ پر پٹخ دے۔۔۔
“اچھا تو کیا اُس جیولر کے آگے میں اپنی گردن پیش کروں گی۔۔۔ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا۔۔۔۔ کوئی لیڈی جیولر ہے تو اُسے بھیجو ورنہ اپنے یہ نیک خیالات اپنے پاس محفوظ رکھو۔۔۔۔۔ “
حبہ تپ کر بولی تھی۔۔۔۔
“اوکے اوکے غصہ تو مت کرو۔۔۔۔ میں کرتی ہوں کچھ۔۔۔۔ ویسے یہ چین تمہاری گردن میں آئی کیسے۔۔۔۔ اگر تم نے خود بنوائی ہے تو پھر تمہیں اُس کا لاک کیسے نہیں پتا۔۔۔۔۔”
حرا کے سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔ جس کو دیکھتے حبہ نے بنا کوئی جواب دیئے فون کریڈل پر پٹخ دیا تھا۔۔۔
وہ کسی کو اِس بارے میں کچھ بھی بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔۔۔ اِس چین کو اگر توڑ دیا جاتا تو اُس کے اندر موجود نام اور معلومات نے ضائع ہوجانا تھا۔۔۔ جو کہ وہ کسی قیمت پر نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اس لاکٹ پر لگے پاسورڈ پر تیسری بار غلط ٹرائے کرنے سے بھی سارا ڈیٹا ضائع ہوجانا تھا۔۔۔ اِس لیے حبہ اِس چین کو اپنی گردن سے آزاد نہ کر پانے پر مجبور تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔