No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
“تم بے فکر ہوکر جاؤ میں سب سنبھال لیتی ہوں۔۔۔”
نسرین بیگم اُسے سیاہ شال نکال کر تھمائی تھی۔۔۔
جب اُسی لمحے دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ ہی حمدان اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
اُسے وہاں آتا دیکھ مہروسہ کا رنگ فق ہوا تھا۔۔۔ اُسے جنید کی بہت فکر ہوئی تھی۔۔۔ اُس نے جلدی سے شال اپنے پیچھے کرتے حمدان سے چھپائی تھی۔۔۔
مگر حمدان کی نظر اندر داخل ہوتے ہی شال پر پڑ چکی تھی۔۔۔۔
“ارے حمدان بیٹا آپ۔۔۔۔”
نسرین بیگم مہروسہ کے آگے کھڑے ہوتے بولیں۔۔۔
“جی۔۔۔ لیکن اُجالا کہیں جارہی ہے کیا۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اُس کے ہاتھ میں موجود شال کی جانب اشارہ کیا تھا،،،
“نہیں تو۔۔۔۔ “
مہروسہ نے نسرین بیگم کو بازو سے ہلکا سا ٹہوکا دیتے ایکشن میں آنے کا کہا تھا۔۔۔ ورنہ یہ ایس پی یوں کھڑے کھڑے نظروں سے ہی اُس کا پوسٹ مارٹم کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
“حمدان بیٹا آپ یوں دلہن کے کمرے میں نہیں آسکتے۔۔۔۔ آپ ک باہر جانا ہوگا۔۔۔ ہمارے ہاں رسم ہے یہ۔۔۔ مہروسہ کو ہم نے مایوں بٹھایا ہوا ہے۔۔۔ اور مایوں میں دلہا دلہن کو نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ کیوں فرزانہ آپا۔۔۔”
دروازے میں کھڑی مہروسہ کے اشارے پر باقی خواتین کو بھی اندر لے آئی تھی۔۔۔
جو سب اب مہروسہ کے آگے آن کھڑی ہوئی۔۔۔ اُسے اُس کھڑوس ایس پی کی کڑی نگاہوں سے بچا گئی تھیں۔۔۔
“میں ایسی کسی رسم کو نہیں مانتا۔۔ پلیز آپ لوگ جائیں یہاِں سے مجھے بات کرنی ہے اُجالا سے۔۔۔”
حمدان کو اُن سب کے یوں بیچ میں آجانے پر بہت غصہ آیا تھا۔۔۔ اُس نے مہروسہ کو زچ کرنے کے لیے اِن سب کو بلایا تھا۔۔۔ مگر اب وہ خود ہی شدید کوفت کا شکار ہورہا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے تاثرات دیکھ مہروسہ ٹینشن کے باوجود اپنی مسکراہٹ نہیں روک پائی تھی۔۔۔
وہ اس شخص کی رگ رگ سے واقف ہوچکی تھی۔۔۔ کہ اُسے کب، کہاں، کیا برا یا کیا اچھا لگتا تھا۔۔۔
“لیکن ہم مانتے ہیں بیٹا جی۔۔۔ اور آپ کو بھی ماننا پڑے گا۔۔۔ سمیعہ سمجھاؤ اپنے بیٹے کو۔۔۔ اپنی ہونے والی دلہن سے ملنے کو اُتاولا ہورہا ہے۔۔۔ اب ہماری اُجالا تمہارے پاس رخصتی کے بعد ہی آئے گی۔۔۔۔”
حمدان کی رشتے کی خالہ حمدان کے سامنے کھڑیں اُسے شدید غصہ دلانے کے ساتھ ساتھ مہروسہ کا دل خوش کر گئی تھیں۔۔۔
مہروسہ کو اُن پر بہت پیار آیا تھا۔۔۔۔
حمدان ایک قہر برساتی نگاہ مہروسہ پر ڈالتا وہاں سے پلٹ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ ایک جانب کھڑی مریم نے بغور اُن دونوں کے تاثرات دیکھے تھے۔۔۔ دونوں کو دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اس شادی سے خوش ہیں۔۔۔۔
“کچھ تو گڑبڑ ہے۔۔۔۔ میرے حمدان کو مجھ سے چھینا ہے۔۔۔ تمہیں تو میں کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔ “
نسرین بیگم کے ساتھ مسکرا کر باتیں کرتی مہروسہ کو زہریلی نگاہوں سے دیکھتے مریم وہاں سے پلٹ گئی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حبہ نے اُسے پیچھے سے جاتے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے ایک کک رسید کرتے اُسے نیچے گرانا چاہا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے حازم واپس پلٹا تھا۔۔۔
اور گرتے گرتے اُسے بھی اپنے ساتھ کھینچ گیا تھا۔۔۔
دونوں ایک ساتھ پیچھے رکھے پلنگ پر جاگرے تھے۔۔۔
اُن کے پورے وزن سے گرتے ہی زور دار آواز کے ساتھ پلنگ ٹوٹتا پورے کمرے میں شور پیدا کر گیا تھا۔۔۔
حبہ نے آنکھیں پھاڑے حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو ایک پولیس آفیسر سے کہیں زیادہ ٹرینڈ تھا۔۔۔
وہ بنا قدموں کی چاپ پیدا کیے اُس تک گئی تھی۔۔ مگر پھر بھی وہ بنا دیکھے اُس کی موومنٹ کا تعین کرتا اُس کا وار خالی کرگیا۔۔۔
“حازم سالار تم۔۔۔ تم میری مرضی کے بغیر یہاں سے نہیں جاسکتے۔۔۔ ورنہ میں تم پر گولی چلا دوں گی۔۔۔”
حبہ اُس کے اُوپر سے اُٹھتی اپنی گن نکالتے بولی تھی۔۔
“مجھے یہاں روک کر تم اپنے لیے مشکل پیدا کررہی ہو۔۔۔ جب تک میں تمہارے یہاں سے نکلنے کے اقدامات نہیں کر لیتا تم یہیں پر قید رہو گی۔۔۔۔”
حازم اُس کی دونوں کلائیاں جکڑتا کروٹ بدلتے اُسے بیڈ سے لگا گیا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں اِس وقت ٹوٹے ہوئے بیڈ پر ہی پڑے تھے۔۔۔ مگر آپسی لڑائی میں دونوں کو ہوش نہیں تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے حازم کا فون بجا تھا۔۔۔
حبہ اُس کی گرفت سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرتی اُسے کال اٹینڈ کرنے سے روک رہی تھی۔۔۔
“میں کال اٹینڈ کرنے لگا ہوں۔۔۔ خبردار جو کچھ بولی تو۔۔۔۔۔۔”
حازم اُس کے ارادے جان کر اُسے وارن کرتے بولا۔۔۔ اُس نے ایک ہاتھ سے حبہ کی دونوں کلائیاں تھام رکھی تھیں۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔ میں تمہاری بات مانوں گی۔۔۔”
حبہ نے آنکھیں نچاتے صاف انکار کیا تھا۔۔۔
“انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی پھر۔۔۔”
حازم اچھے سے واقف تھا اُس سے۔۔۔۔ اِس لیے اُس نے حبہ کی کلائیاں آزاد کرتے اُس کے ہونٹوں پر ہتھیلی جماتے شاہ ویز کی کال اٹینڈ کی تھی۔۔۔ جنید بھی ساتھ ہی لائن پر تھا۔۔۔
“ہاں بولو شاہ۔۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔۔”
حبہ اپنے ہونٹوں سے اُس کا ہاتھ ہٹانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔ مگر وہ اپنا پورا زور لگانے کے بعد بھی اُس کی ہتھیلی زرا سی سرکا بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
“مہرو کی کل سے ہوئی خیر خبر نہیں ہے۔۔ ایس پی حمدان اتنے آرام سے بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہے۔۔۔ وہ ضرور کچھ کرنے والا ہے۔۔۔۔ اِسی لیے مہرو کے ساتھ ایک ہفتے بعد کے بجائے آج نکاح کررہا ہے۔۔۔ ہمیں کسی بھی طرح مہرو کے پاس پہنچنا ہوگا۔۔۔۔ وہ نکاح کے ٹائم کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔ مہرو پر زرا سی آنچ بھی نہیں آنی چاہیے۔۔۔”
شاہ ویز کی بات سن کر حازم کو گہرا شاک لگا تھا۔۔۔
“مہرو کا آج نکاح ہے۔۔۔ اور مجھے ابھی پتا چل رہا ہے۔۔۔ میں بس ابھی نکلتا۔۔۔۔”
حازم ابھی اتنا ہی بول پایا تھا۔۔۔ جب حبہ کی رنگت خطرناک حد تک سُرخ پڑتی دیکھ۔۔۔ حازم نے اپنی ہتھیلی زرا سی اُوپر کی تھی۔۔۔
جس کا فائدہ اُٹھاتے حبہ چلائی تھی۔۔۔ جو چیخ دوسری جانب موجود جنید اور شاہ ویز تک با آسانی جا پہنچی تھی۔۔۔
“میر سر آپ کسی لڑکی کے ساتھ ہیں اِس وقت۔۔۔۔ ؟؟”
جنید نے بے حد حیرت کے زیرِ اثر پوچھا تھا۔۔۔
“حازم سالار چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
حبہ ایک بار پھر بول پانے کے قابل ہوتے چلائی تھی۔۔۔ جو دوسری جانب با آسانی پہنچ چکی تِھی۔۔۔
“حازم۔۔۔۔؟؟ تم کس کے ساتھ ہو اِس وقت۔۔۔”
شاہ ویز بھی نسوانی چیخیں سن کر حیران ہوا تھا۔۔۔
“تم لوگ بھول رہے ہو۔۔۔ میری ایک عدد بیوی بھی ہے۔۔۔ اور جو پولیس والی ہونے کے ساتھ ساتھ ساتھ انتہائی جنگلی بھی ہے۔۔۔۔”
حازم حبہ کے لال پڑتے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹاتا۔۔۔۔ ایک آنکھ دباتے اُس کی شان میں قصیدہ گوئی کر گیا تھا۔۔۔
“اوہ اچھا اچھا۔۔۔ آپ اِس وقت بھابھی جی کے ساتھ ہیں۔۔۔۔۔”
جنید نے اُسے چھیڑا تھا۔۔۔ جبکہ شاہ ویز اُسے آنے کی یادہانی کرواتا فون بند کر گیا تھا۔۔۔
وہ ایک نازک دل توڑ کر جس کیفیت کے زیرِ اثر تھا۔۔۔
اُس کے دل کو ہر شے انتہائی بُری لگ رہی تھی۔۔۔
حازم اُس کی خاموشی سے ہی بہت کچھ اخذ کر گیا تھا۔۔۔ وہ بہت اچھے سے جانتا تھا کہ شاہ ویز کی یہ خاموشی نارمل خاموشی بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔
“ہمیں اِسی وقت شہر کے لیے نکلنا ہوگا۔۔۔۔ “
حازم نے اُٹھنا چاہا تھا۔۔۔
جب حبہ اُس کا کالر دونوں مُٹھیوں میں جکڑتی اُسے واپس اپنے قریب کر گئی تھی۔۔۔
“میں یہاں سے۔۔۔ اِس وڈیرے کو ختم کیے بغیر نہیں جاؤں گی۔۔۔ تم لوگوں کی طرح بے رحم نہیں ہوں میں۔۔ اُن معصوم لڑکیوں اور اُن کے مظلوم گھرانوں کو اُس ظالم وڈیرے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔”
حبہ پھولی سانسوں کے ساتھ ایک عزم سے بولتی حازم کو بہت پیاری لگی تھی۔۔۔
وہ جھکا تھا۔۔۔ اور اُس کے ہونٹوں کو نرمی سے چھوتا اُس کی دھڑکنوں کی رفتار کئی گنا بڑھا گیا تھا۔۔۔
حبہ نے اُس کی اِس گستاخی پر اُسے دور دھکیلنا چاہا تھا۔۔۔ جس کے جواب میں حازم اُسے بانہوں میں اُٹھاتا وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
حبہ چلائی تھی۔۔۔
“میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔ دو دنوں کے اندر وڈیرا قربان عالم اپنے ظلم و جبر کی داستان اپنے ساتھ لے کر دفن ہوچکا ہوگا۔۔۔۔ اور میں اُن تمام لڑکیوں کو بھی اُن کے گھر واپس پہنچانے کا وعدہ کرتا ہوں۔۔۔ جنہیں وہ ملک سے باہر سمگل کرچکا ہے۔۔۔”
حازم اُس کے پھولے گالوں پر لب رکھتے نرمی سے بولتا اُسے شدید حیرت اور بے یقینی میں غوطہ زن کر گیا تھا۔۔۔۔۔
“مگر کیسے۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ کے لب پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
حازم اُسے کرسی پر بیٹھاتا اُس کے سامنے ٹیبل پر آن بیٹھا تھا۔۔۔
“آئم سوری مائی لو۔۔۔ یہ کرنا میری مجبوری ہے۔۔۔۔”
حازم اُس کی کان کی لوح پر لب رکھتا اُسے حیران کر گیا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے وہ کچھ پوچھ پاتی۔۔۔۔ حازم نے کلوروفارم سے بھرا موبائل اُس کے ناک پر رکھتے اُسے بے ہوش کر گیا تھا۔۔۔ حبہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی حازم ایسا کچھ کرے گا۔۔۔
اِس لیے وہ اپنے بچاؤ کی زرا سی کوشش بھی نہیں کر پائی تھی۔۔۔
اور حواس کھوتی حازم کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔
حازم قیمتی متاع کی طرح اُسے اپنی بانہوں میں بھرتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
آفندی مینشن کے تمام افراد جو یہی سمجھ چکے تھے کہ پریسا واقعی آگ میں جل کر مر چکی ہے۔۔۔۔ اُسے زندہ سلامت واپس آتا دیکھ سر پکڑے شہباز اور شوکت آفندی خوشی سے جھوم اُٹھے تھے۔۔۔
ورنہ اُنہیں یہی لگ رہا تھا کہ اُن کی اتنی ساری محنت اتنے آگے آکر ضائع جانے والی تھی۔۔۔ اگر آج پریسا کو کچھ ہوجاتا تو وہ وصیت کے مطابق ساری دولت جائیداد کھو دیتے۔۔۔۔
اِس لیے پریسا کو زندہ واپس لوٹتا دیکھ وہ سب بے پناہ خوش تھے۔۔۔ مگر پریسا کا دھیان نہ تو اُن کی خوشی کی جانب تھا۔۔۔ نہ اپنے صحیح سلامت بچ جانے پر۔۔۔
اُس کے دل و دماغ میں بس شاہ ویز سکندر کی نفرت آمیز دھاڑ گھوم رہی تھی۔۔۔ جس طرح اُس بے رحم شخص نے اُسے خود سے دور دھتکارا تھا۔۔۔
یہ ٹھکرایا جانا اُس کا حساس دل ساری زندگی نہیں بھولنے والا تھا۔۔۔
اُس نے کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔ اُس کے اِس گم صم انداز کو سب اُس کا خوف ہی سمجھے تھے۔۔۔
اِس لیے کسی نے زیادہ اُسے تنگ نہیں کیا تھا۔۔۔ سفیان تو اِس قدر شرمندہ تھا کہ اُس کے سامنے بھی نہیں آیا تھا۔۔۔
اُسے یہی لگ رہا تھا کہ شدید غصے میں کہیں پریسا شادی سے ہی انکار نہ کردے۔۔۔
پریسا اِس وقت خود کو دنیا کا سب سے زیادہ تنہا انسان محسوس کررہی تھی۔۔۔ جس کا اِس دنیا میں کوئی بھی نہ ہو۔۔۔۔
یاسمین بیگم نے اُس کے روم میں قدم رکھا تھا۔۔۔
پریسا کو اُسی طرح گم صم عجیب سی لٹی پٹی سی حالت میں بیٹھا دیکھ یاسمین بیگم کا کلیجہ منہ کو آیا تھا۔۔۔
اِس لڑکی کو اُنہوں نے اپنی سگی اولاد کی طرح پال پوس کر بڑا کیا تھا۔۔۔ اُس کی ہر چھوٹی بڑی تکلیف کا خیال رکھا تھا۔۔۔
مگر اب اُسے یوں مفاد پرست لوگوں میں گھرا دیکھ اُنہیں اُس کے لیے خوف محسوس ہورہا تھا۔۔۔ وہ اپنے شوہر کی نیت بہت اچھے سے جانتے تھے۔۔۔
جو پریسا کی ساری جائیداد اپنے نام لگوانے کے بعد اُسے ختم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔۔ اُنہوں نے اپنے بیٹے کو اِس لالچ میں نہ پڑنے دینے کی بہت کوشش کی تھی۔۔ مگر کامیاب نہیں ہو پائی تھیں۔۔۔
اپنے بیٹے کو بھی باپ جیسا بنتا دیکھ اب وہ کسی قیمت پر بھی پریسا کی شادی سفیان سے نہیں ہونے دینا چاہتی تھیں۔۔۔
“پری میری جان تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟”
یاسمین بیگم اُس کے قریب آتے تشویش زدہ سی بولی تھیں۔۔۔
پریسا نے بھیگتی آنکھیں اُٹھا کر اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جو اُس کا ہاتھ تھامتی اُس کے پاس آن بیٹھی تھیں۔۔
“نہیں ماما میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔ “
پریسا اُن کی آغوش میں چہرا چھپاتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
“وہ بہت ظالم ہے ماما۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گی میں اُسے۔۔۔ اگر اتنی ہی نفرت کرتا تھا مجھ سے۔۔ تو کیوں بچایا مجھے۔۔۔ آگ میں جل کر مرنے دیتا۔۔۔ ایک بار کی اذیت سہہ کر ہی مر جاتی نا۔۔۔ یوں پل پل اِس اذیت کی مار نہ مرتا مجھے۔۔۔۔ “
پریسا ہچکیوں اور سسکیوں کے بیچ بولتی یاسمین بیگم کو منجمند کر گئی تھیں۔۔۔ اُن کا دل کسی انجانے احساس سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔
“کس کی بات کررہی ہو پری۔۔۔ کس نے بچایا تمہیں۔۔۔؟؟ کون اتنی نفرت کرتا ہے تم سے۔۔۔۔؟”
یاسمین بیگم نے اُس کی پشت سہلاتے نرمی سے پوچھا تھا۔۔۔
“شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ ہر بار مصیبت سے بچاتا ہے مجھے۔۔۔ اور اب کہتا ہے کہ نفرت ہے اُسے مجھ سے۔۔۔ کیا میں اتنی بُری ہوں ماما کہ کسی کو مجھ سے محبت نہیں ہوسکتی۔۔۔۔ آپ کیوں محبت کرتی ہیں مجھ سے۔۔ آپ بھی چکی جائیں مجھ سے دور۔۔۔۔ میں بہت بُری ہوں۔۔۔ کسی کی محبت کے قابل نہیں ہوں۔۔۔”
پریسا کے رونے میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اضافہ ہورہا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی بات سن کر یاسمین بیگم کو لگا تھا جیسے کمرے کی چھت اُن کے سر پر آن گری تھی۔۔۔
“شاہ ویز سکندر زندہ ہے۔۔۔۔۔”
اُن کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا تھا۔۔۔
پریسا اُن کے چہرے کا بدلتا رنگ نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔
جبکہ یاسمین بیگم بالکل ساکت سی بیٹھی تھیں…
“شاہ ویز سکندر سے ملی ہو آپ۔۔۔۔۔؟؟؟”
یاسمین بیگم نے اُس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے بمشکل پوچھا تھا۔۔۔
“جی ماما۔۔۔۔ مجھے بینک سے اغوا کرکے لے جانے والا بھی وہی تھا۔۔۔ اُس دن غنڈے سے بچا کر یہاں چھوڑ کے جانے والا بھی وہی تھا۔۔۔ اور میری خاطر اُس جلتی آگ میں کودنے والا بھی وہی تھا۔۔۔۔ میں بہت محبت کرنے لگی ہوں اُس سے ماما۔۔۔۔ میں نہیں جانتی ایسا کب اور کیسے ہوا۔۔۔ مگر اُس کی تکلیف پر میرا دل تڑپ اُٹھتا ہے۔۔۔ اُس کے قریب رہنا اچھا لگتا ہے۔۔۔ لیکن آپ جانتی ہیں اُس نے کیا کہا مجھ سے۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ اُسے شدید نفرت ہے مجھ سے۔۔۔ وہ مجھے صرف اپنا ایک مہرا سمجھتا ہے۔۔۔ سفیان اور بابا سے بدلہ لینے کا مہرا۔۔۔۔ وہ ایسا کیوں کہتا ہے ماما۔۔۔۔ میں نے تو اُس کا کچھ نہیں بگاڑا نا ماما۔۔ پھر وہ مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتا ہے۔۔۔ کیا میں واقعی اتنی بُری ہوں کہ کسی کی اولین ترجیح نہیں بن سکتی۔۔۔۔”
پریسا پھوٹ پھوٹ کر روتی یاسمین بیگم کا دل چھلنی کر گئی تھیں۔۔۔
اُن کے چہرے پر پریسا کو لے کر ایک عجیب سا خوف پھیل گیا تھا۔۔۔۔
اُنہیں جس بات کا خوف تھا وہ ہوچکا تھا۔۔۔۔ اُن کے شوہر اور باقی خاندان والوں کے عروج کا وقت زوال کی جانب گامزن ہوچکا تھا۔۔۔۔ اب اُن سب کو اپنے کیے کا جواب دینا تھا۔۔۔۔
“تمہارا کسی چیز میں کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔ تمہارے کچھ بُرا نہیں ہوگا۔۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔۔”
یاسمین بیگم اُسے اپنے سینے میں بھینچتی پوری دنیا سمیت اُسے شاہ ویز سکندر کے انتقام سے بھی بچا لینا چاہتی تھیں۔۔۔
اُن کا پورا وجود سرد پڑ چکا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ شخص دل کا زخم دے کر اُن کی معصوم پری سے اپنا انتقام تو لے ہی چکا تھا۔۔۔۔ ابھی مزید وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“پریسا آفندی کا نکاح ہے کل سفیان آفندی سے۔۔۔ مجھے تو لگا تھا وہ اُس بزدل گدھے سے شادی سے انکار کر دے گی۔۔۔ مگر لگتا ہے تمہارے انکار نے گہرا صدمہ دیا ہے اُسے ۔۔”
حازم اور شاہ ویز اپنا حلیہ تبدیل کرکے ایس پی حمدان کے گھر کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔
جب حازم اُس کی آنکھوں کی بڑھی وحشت ناکی دیکھ خود کو بولنے سے نہیں رو پایا تھا۔۔۔
“کچھ بھی مت بولو۔۔۔ میں نے کوئی انکار نہیں کیا۔۔۔ اور نہ ہی وہ لڑکی مجھ سے اتنی محبت کرتی تھی۔۔۔۔ “
پریسا کے نکاح کا سن کر اسٹیئرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ وہ غصے میں گاڑی کی اسپیڈ بھی فل کر چکا تھا۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔ نہیں کرتی ہوگی وہ تم سے محبت۔۔۔ مگر تم جس طرح اُس کے نکاح کا سن کر پاگل ہورہے ہو۔۔۔ مجھے لگتا ہے آگ اِس طرف سے زیادہ بھڑکی ہوئی ہے۔۔۔۔ ڈرائیونگ تو زرا نارمل کرو۔۔۔ میرے پاس تو ایک عدد بیوی ہے۔۔۔ مجھے مرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔۔۔۔”
حازم نے اُس پر چوٹ کرتے آخر میں دہائی دی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ گاڑی کی اسپیڈ بلکل فل کرتا اتنی ٹریفک میں بھی رش ڈرائیونگ کرنے لگا تھا۔۔۔
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ ورنہ گاڑی سے باہر پھینک دوں گا میں تمہیں۔۔۔ میرے نام کے ساتھ اُس کا نام جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ محبت تو بہت دور کی بات زرا سی اہمیت بھی نہیںں رکھتی وہ میری زندگی میں۔۔۔۔”
شاہ ویز نے حازم دے زیادہ اِس بات کا یقین خود کو دلایا تھا۔۔۔
جبکہ حازم اُس کی لال پڑتی آنکھیں دیکھ مسکرا دیا تھا۔۔۔۔
“یہ تو کل پتا چلے گا میرے یار۔۔۔ کہ وہ اہمیت رکھتی ہے یا نہیں۔۔۔ جب وہ اپنا سب کچھ کسی اور کے نام لکھوا دے گی۔۔۔۔۔”
حازم بولنے سے اب بھی باز نہیں آیا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
