No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
“آپ یہ کیوں پوچھ رہیں ؟”
پریسا نے کپکپاتی اُنگلیوں کو مڑورتے سرسری سا سوال کیا تھا۔۔۔
“نہیں وہ سر کے روم میں جانے کی ہم میں سے کسی کو اجازت نہیں ہے۔۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا اُن کا روم الگ ایریا میں سب سے الگ تھلگ ہے۔۔۔۔ رات کے وقت کوئی وہاں نہیں جاتا۔۔۔۔ سر کو لگ رہا ہے کہ کل رات کوئی اُن کے روم میں اُن کے پاس آیا ہے۔۔۔ مگر اُنہیں یاد نہیں وہ کون تھی۔۔۔۔۔ اگر اُنہیں یاد آگیا تو خیر نہیں اُس لڑکی کی۔۔”
اقراء نے آج پہلی بار اُس سے اتنی تفصیل سے بات کی تھی۔۔۔۔
اُس کی بات سن کر پریسا کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔۔۔
“واہ کافی حیرت کی بات ہے۔۔۔۔ یہاں کا بلیک بیسٹ بھی کسی سے دھوکا کھا گیا۔۔۔۔ ویسے تو وہ بہت بڑا بنا پھرتا ہے۔۔۔ ایسی بھی کیا نیند تھی اُس کی کے کوئی اُس کے روم میں آکر چلا گیا اور اُسے پتا بھی نہیں چلا کہ وہ کون تھا۔۔۔۔ “
پریسا اقراء کے منہ سے اصل بات اُگلوانا چاہتی تھی۔۔۔ رات کو شاہ ویز جس کیفیت کے زیرِ اثر تھا اُس کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
“رات کو کیا ہوا اِس بارے میں تو میں کچھ نہیں جانتی ہاں اتنا جانتی ہوں کہ شاہ سر جیسا مضبوط اور باکردار انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا۔۔۔۔ اُنہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو اُس وقت سہارا دیا جب ہمارے اپنے بھی ہمیں دھتکار چکے تھے۔۔۔۔۔ شاہ سر کو نہ کبھی کوئی ہرا سکتا ہے۔۔۔ نہ توڑ سکتا ہے۔۔۔۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی قائم و دائم رہیں گے۔۔۔۔ جیسے آسمان پر سورج تن تنہا چمکتا ہے۔۔۔ ویسے ہی وہ ہم سب کے لیے زمین کا سورج ہیں۔۔۔۔ جو ہم سب کو اپنی روشنی مہیا کرکے ہماری زندگیوں میں اُجالے بخش رہے ہیں۔۔۔۔ “
اقراء کے لہجے میں شاہ ویز کے لیے عقیدت، محبت اور نجانے کیا کچھ تھا۔۔۔ پریسا نے نوٹ کیا تھا کہ شاہ ویز کے لوگ جب بھی اُس کا ذکر کرتے تھے۔۔۔ اُن سب کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آجاتی تھی۔۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟ ایسا کیا کیا ہے اُس شاہ سکندر نے تم لوگوں کے لیے۔۔۔۔ دوسروں کا مار کر ان سے اُن کی زندگیاں چھیننے والا۔۔۔ بھلا کسی کی زندگی میں روشنیاں کیسے بھر سکتا ہے۔۔۔۔۔ “
پریسا کو اقراء کی باتیں بہت عجیب لگی تھیں۔۔۔ وہ رات سے شاہ ویز کی حالت دیکھ پہلے ہی کشمکش کا شکار تھی۔۔۔۔ اب اُس کی الجھنیں مزید بڑھ گئی تھیں۔۔۔۔
“آپ اور آپ کی دنیا کے لوگ کبھی نہیں سمجھ سکو گے کہ بلیک بیسٹ آخر کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ مجھے آج کسی ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔ آپ یہ کھانا کھا لینا۔۔۔۔ شاہ سر کو ایسے نخروں سے سخت چڑ ہے۔۔۔۔ ایسے نہ ہو کوئی بڑی پنشمنٹ مل جائے آپ کو۔۔۔۔ ویسے آپ جتنی نازک سی ہیں۔۔۔ مجھے تو اب یہی لگتا ہے کہ شاہ سر بھی آپ کو کوئی پنشمنٹس دینے سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔ “
اقراء آخر میں اُس کا مذاق بناتی روم سے نکل گئی تھی۔۔۔
جبکہ جاتے جاتے پریسا کو ایک نیا آئیڈیا دے گئی تھی۔۔۔۔
“تھینکیو اقراء۔۔۔۔۔ اب تو میں تمہارے اُس شاہ سر کو اتنا ستاؤں گی کہ خود ہی مجھے واپس میرے گھر چھوڑ آئے گا۔۔۔۔۔”
پریسا سامنے رکھی کھانے کی ٹرے کو سائیڈ پر کرتی باہر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
ایک روم میں بند رکھنے سے اُس کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے اب اُسے آزادی سے باہر گھومنے پھرنے کی اجازت تھی۔۔۔۔
“بات سنو۔۔۔۔۔ وہ بلیک بیسٹ کدھر ہے۔۔۔۔ مجھے بات کرنی ہے اُس سے۔۔۔۔۔”
پریسا سامنے گن اُٹھائے کھڑے گارڈ کے پاس آتے بولی۔۔۔
وہاں سب کے چہرے اتنے پتھریلے اور احساس سے عاری ہوتے تھے کہ پریسا کو اُن سے بات پوچھتے ہوئے بھی خوف آتا تھا۔۔۔
“ابھی باہر گئے ہیں کسی کام سے۔۔۔۔ رات تک واپس آئیں گے۔۔۔۔”
گارڈ اُسے جواب دیتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
“اب رات کو پتا نہیں کس ٹائم واپس آئے۔۔۔۔ رات تک کیسے بھوکی رہوں گی۔۔۔۔”
پریسا بُرا سا منہ بناتی وہیں لان میں پرے سنگی بینچ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔ اقراء نے کل ہی اُسے اُس کی پسند کا کریم کلر کا نہایت خوبصورت ڈریس لاکر دیا تھا۔۔۔ جس کے اُوپر گولڈن ایمبرائیڈری کی گئی تھی۔۔۔۔
شاور لینے کے بعد اُس نے بالوں کو خشک ہونے کے لیے کمر پر کھلا چھوڑ رکھا تھا۔۔۔۔
سیاہ پھولوں کے بیچ و بیچ بیٹھی وہ ایسے دکھ رہی تھی جیسے اِس وقت بلیک ہاؤس میں کوئی پری پرستان کا راستہ بھول کر آن نکلی ہو۔۔۔۔
اپنے گلابی ہونٹوں کو دانتوں سے کچلتی وہ سامنے سیاہ گلابوں کے بیچ گھرے نظر آتے شاہ ویز کے کمرے کو گھور رہی تھی۔۔۔۔
“آخر اِس انسان کا سچ ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟ اگر یہ اتنا بُرا ہوتا تو مجھے پوری دنیا کے سامنے اغوا کرکے لانے کے بعد ایسے شاہانہ طریقے سے بالکل بھی نہ رکھتا۔۔۔۔ مگر جو انسان دوسروں کو اتنی بے دردی سے مارتا ہے وہ بھلا ایک اچھا انسان کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔ کہیں یہ لوگ میرے ساتھ یہ اچھا برتاؤ کرنے کا صرف ناٹک کررہے ہیں۔۔۔ تاکہ میں سفیان اور بڑے پاپا کے خلاف کام کرکے اِن کی مدد کرسکوں۔۔۔۔ ہاں ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔ وہ اقراء بھی تو اُسی کی ساتھی ہے۔۔۔ جان بوجھ کر اُسی کے کہنے ہر میرے سامنے اُس کی تعریفیں کررہی تھی۔۔۔۔ نہیں مجھے اِن لوگوں کے جال میں نہیں پھنسنا۔۔۔۔ دوسروں کی زندگیاں چھین کر ان کے گھر اُجاڑنے والے ، بینک پر ڈاکا ڈال کر لوگوں کی حق حلال کی کمائی لوٹنے والے اور یوں مجھ جیسی لڑکیوں کو اغوا کرکے بدنام کرنے والے اچھے انسان نہیں ہوسکتے۔۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ مجھے اب یہاں سے صرف نکلنا نہیں ہے۔۔۔ بلکہ کوئی ایسے ثبوت اکٹھے کرکے لے جانے ہیں جس سے اِن لوگوں کو پکڑوا سکوں۔۔۔۔”
پریسا دل ہی دل میں خود سے عہد کرتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز کے روم کے آس پاس اِس وقت بھی کوئی موجود نہیں تھا۔۔۔ وہ وہاں جاکر آرام سے اُس کے خلاف کوئی بھی ثبوت ڈھونڈ سکتی تھی۔۔۔۔ اُس نے تو ویسے بھی رات کو لوٹنا تھا۔۔۔
پریسا نے وہاں پھولوں کے قریب جاکر خوشبو سونگتے کن اکھیوں سے اردگرد دیکھا تھا۔۔۔ وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔ وہ ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر اندر گھس گئی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی نگاہیں سب سے پہلے بیڈ کی جانب گئی تھیں۔۔۔ جس کی سیاہ بیڈ شیٹ اور سیاہ کمفرٹر نفاست سے سمیٹ کر رکھا گیا تھا۔۔۔ ہر شے اپنی جگہ پر ترتیب سے رکھی گئی تھی۔۔۔
اِس روم میں گزرا رات کا منظر یاد کرتے پریسا کا دل نجانے کس احساس کے ساتھ زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔
وہ رات کو کچھ لمحے کے لیے ہی سہی مگر اُس وحشی کی بانہوں میں تھی۔۔۔ اور پہلی بار اُس شخص کے لمس میں سختی نہیں حد درجہ نرمی تھی۔۔۔۔ جو رات سے پریسا کا دل بے چین کیے دے رہی تھی۔۔۔ مگر وہ اِس بے چینی کی وجہ ٹھیک سے سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔۔
دبے قدموں چلتی وہ ابھی بیڈ کے قریب پہنچی ہی تھی۔۔۔ جب زور دار دھماکے کے ساتھ کسی نے روم کا دروازہ بند کیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے اِس افتاد پر لرزتے وجود کے ساتھ پلٹ کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں بند دروازے کے آگے کھڑے شاہ ویز سکندر نے دیکھ پریسا کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حمدان مہروسہ کو لے کر پولیس اسٹیشن نہیں گیا تھا۔۔۔ وہ پچھلی بار کی طرح اُس کے گینگ کا کوئی ہنگامہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اُس نے مہروسہ کو ایک نہایت ہی خفیہ جگہ پر رکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ مہروسہ کو وہاں باندھ کر ابھی اُسے اُس کے اصلی حلیے میں لانے ہی والا تھا۔۔۔ جب گھر سے آنے والی کال نے اُس کے پیروں تلے سے زمین کھسکا دی تھی۔۔۔۔
مریم چھت سے گر گئی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے اُس کی حالت کافی سیریس تھی۔۔۔۔ حمدان اپنے مقابلے اعتبار پولیس اہلکاروں کو مہروسہ کی نگرانی کرنے کا کہتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔ اُس نے راستے میں حبہ کو بھی مہروسہ کے پاس پہنچنے کی اطلاع کردی تھی۔۔۔۔
اُس کے لیے اِس وقت سب سے اہم مریم کے پاس پہنچنا تھا۔۔۔ مگر جیسے ہی وہ ہاسپٹل پہنچا۔۔ مریم کے سر پر چھوٹی سی پٹی بندھی دیکھ اور اُسے صحیح سلامت بیٹھ کر سوپ پیتے دیکھ حمدان کا پارہ ساتویں آسمان تک پہنچ گیا تھا۔۔۔۔
“تم تو بالکل ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟”
مریم جو حمدان کو اتنی پریشانی کی حالت میں وہاں آتا دیکھ پھولے نہیں سماں رہی تھی۔۔۔۔ اُس کے کرخت لہجے میں دھاڑنے پر اُس کے ہاتھ سے سوپ کا پیالہ چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔۔۔۔
“ہاں وہ معمولی سی چوٹ آئی تھی۔۔۔۔ مگر میں آپ کو بہت مس کررہی تھی۔۔۔ اِس وجہ سے میں۔۔۔۔”
مریم مزید بول نہیں پائی تھی کیونکہ حمدان اُس کی فضول ترین بات بیچ میں ہی کاٹ چکا تھا۔۔۔۔
“واٹ ربش۔۔۔۔ تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔۔۔۔ میں وہاں اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔ صرف تمہاری اِس فضولیات کے پیچھے۔۔۔۔ تمہاری اِس بے وقوفی کا تو میں تمہیں واپس آکر اچھے سے جواب دیتا ہوں۔۔۔۔”
حمدان سب گھر والوں کے سامنے اُس کی عقل ٹھکانے لگاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
فرح کی مسکراتی صورت دیکھ مریم کا رنگ بےعزتی کے مارے لال ہوا تھا۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے میرا بھائی تم سے محبت کرتا ہے۔۔۔ اور تمہارے ایک بار کہنے سے تمہاری چارپائی کے ساتھ لگ کر بیٹھ جائے گا۔۔۔۔ بھول ہے تمہاری کہ یہ چال بازیاں حمدان کے آگے چل پائیں گی۔۔۔۔ اُس کے لیے تم محبت نہیں ایک زمہ داری ہو۔۔۔ جسے وہ اپنے گلے میں طوق کی طرح صرف باندھنے پر مجبور ہے۔۔۔۔۔”
فرح مریم اور اُس کے گھر والوں پر ایک استہزایہ نگاہ ڈالتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔ آج حمدان کا مریم کے ساتھ برتاؤ دیکھ وہ بہت زیادہ خوش تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“سر ایک بہت بُری خبر ہے۔۔۔۔”
حمدان نے گاڑی میں بیٹھ کر انسپکٹر کو کال ملائی تھی۔۔۔ جنہیں وہ وہاں مہروسہ کے پاس چھوڑ کر آیا تھا۔۔۔۔۔
“سر جس جگہ پر اُس لڑکی کو ہم نے بے ہوش کرکے باندھ رکھا تھا وہاں آگ لگ گئی ہے۔۔۔۔ کوئی شے نہیں بچی۔۔ سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا ہے۔۔۔۔ اور وہ لڑکی بھی۔۔۔۔”
انسپکٹر کی بات سن کر حمدان نے گاڑی کو زور دار بریک لگائی تھی۔۔۔۔
“کیا بکواس کررہے ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ وہاں آگ کیسے لگ سکتی ہے۔۔۔۔ یہ اُن بلیک سٹارز کا ہی کیا دھڑا ہے۔۔۔۔ اُس لڑکی کو وہاں سے نکال کر انہوں نے یہ سب صرف ہمیں گمراہ کرنے کے لیے کیا ہے۔۔۔۔”
حمدان کسی طور اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔
“سر میں اپنی پوری ٹیم کے ساتھ فل ٹائم یہاں موجود رہا ہوں۔۔۔ آگ لگنے سے پانچ منٹ پہلے میں اُس روم سے باہر آیا تھا۔۔۔ تب تک نہ تو کوئی وہاں آیا تھا نہ اُس لڑکی کو ہوش آیا تھا۔۔۔۔ پانچ منٹ کے اندر شاٹ سرکٹ ہونے کی وجہ سے ایسی آگ بھڑکی کے ہم اُس لڑکی کو بچا نہیں پائے۔۔۔ ابھی ریسکیو ٹیم کو وہاں سے ایک لڑکی کی جلی ہوئی لاش ملی ہے۔۔۔ جس کے چہرے کی شناخت نہیں رہی۔۔۔۔۔”
انسپکٹر کی بات سن کر حمدان کا دل چاہا تھا یہ گاڑی کہیں دے مارے یا پھر جاکر مریم کا گلا دبا دے۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ بلیک سٹارز کے نہایت قریب پہنچ کر واپس اُسی مقام پر آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ فوراً وہاں پہنچا تھا مگر انسپکٹر نے اُسے جو بھی بتایا تھا وہ بالکل سچ تھا۔۔۔۔ وہ آگ کسی کی سازش نہیں بلکہ حادثاتی طور پر لگی تھی۔۔۔
“لگتا ہے قدرت بھی اِن بلیک سٹارز کے ساتھ ہے۔۔۔۔ ہر بار اِنہیں کی جیت کیسے ہوجاتی ہے۔۔۔۔؟؟؟”.
حبہ حمدان کے پاس آن کھڑی ہوتی تھکے تھکے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔۔
“جیت نہیں آج ہمارے ساتھ ساتھ اُن کی بھی ہار ہوئی ہے۔۔۔۔ اُن کی تیسری گینگ لیڈر مر چکی ہے۔۔۔۔”
حمدان کی نگاہوں کے سامنے مہروسہ کا معصومیت بھرا چہرا جگمگاتا اُس کے اندر کہیں ایک چھوٹی سے پھانس چبھو گیا تھا۔۔۔۔
وہ لڑکی زندگی جلی تھی۔۔۔۔ کتنی بری گناہگار سہی مگر حمدان کسی پر بھی اُس کا جرم ثابت ہوئے بغیر اُسے اتنی بری سزا نہیں دیتا تھا۔۔۔۔ جو اُس لڑکی کو مل چکی تھی۔۔۔۔۔۔
“اگر ایسا واقعی ہے تو وہ لوگ اب ملک میں مزید تباہی مچائیں گے۔۔۔۔ اور اگر اِس سب کی خبر اُوپر تک پہنچ گئی تو ہم دونوں کی الگ انکوائری بیٹھ جانی ہے۔۔۔۔”
حبہ خود بھی عجیب سے احساسات کا شکار ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔ حمدان اُسے تسلی دیتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حبہ بہت خراب موڈ کے ساتھ گھر لوٹی تھی۔۔۔۔ نجمہ بیگم اور صبا کے ساتھ اُس کی بات چیت بحال ہوچکی تھی۔۔۔
“ماما۔۔۔ صبا کہاں ہو آپ لوگ؟؟؟ “
گھر میں غیر معمولی خاموشی چھائی دیکھ حبہ کا دل بے چین ہوا تھا۔۔۔ وہ پورا گھر دیکھ آئی تھی مگر نہ کوئی ملازمین کہیں نظر آئے تھے۔۔۔ اور نہ ہی وہ دونوں۔۔۔۔
“کہاں ہیں یہ دونوں۔۔۔۔؟؟؟ اِس طرح گھر کھلا چھوڑ کر تو ماما کبھی کہیں نہیں گئیں۔۔۔۔”
حبہ کا جان حلق میں اٹک چکی تھی۔۔۔۔ وہ اُن دونوں کے نمبر ٹرائے کر چکی تھی۔۔۔ مگر مسلسل نمبر آف ہی جارہے تھے۔۔۔۔ حبہ کی تشویش مزید بڑھ چکی تھی۔۔۔۔
اُس کا شک سیدھا بلیک سٹارز کی جانب گیا تھا۔۔۔
“اگر یہ گھٹیا حرکت تمہاری ہے تو چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں۔۔۔۔”
حبہ تصور میں حازم سے مخاطب ہوتی نفرت آمیز لہجے میں بولی تھی۔۔۔ جب اُسی لمحے ڈرائینگ روم میں پڑا لینڈ لائن بج اُٹھا تھا۔۔۔۔ حبہ نے ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے جلدی سے ریسور اُٹھا کر کان سے لگایا تھا۔۔۔۔
“کیسا لگا ہمارا سرپرائز ایس پی صاحبہ۔۔۔۔؟؟؟ “
دوسری جانب سے انتہائی بھونڈے انداز میں سوال کیا گیا تھا۔۔۔
“کون ہو تم اور کیا بکواس کررہے ہو۔۔۔؟؟”
حبہ اپنے غصے پر قابو رکھتی بمشکل بول پائی تھی۔۔۔
“بکواس نہیں۔۔۔۔ بتا رہے ہیں کہ تمہاری ماں اور بہن اِس وقت ہماری مہمان ہیں۔۔۔۔ بہت پیار سے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اُنہیں۔۔۔۔”
دوسری جانب سے جو الفاظ ادا کیے گئے تھے حبہ کو لگا تھا کسی نے اُس کا دل مُٹھی میں جکڑ کر مسل دیا ہو۔۔۔ اُس ماما اور صبا ہی تو اُس کی زندگی تھیں۔۔۔ اِن دونوں کے بغیر بھلا کون تھا اُس کا۔۔۔۔
“کون ہو تم لوگ۔۔۔ اور تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ایسا کرنے کی۔۔۔ تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کتنا عبرت ناک انجام ہونے والا ہے اب تم لوگوں کا۔۔۔۔ “
حبہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی جاکر اُن لوگوں کو گولیوں سے بھون دے۔۔۔۔
“شمشیر خان کو کیسے بھول سکتی ہو ایس پی۔۔۔۔ ؟؟؟ وہ دونوں اِس وقت شمشیر خان کے قبضے میں ہیں۔۔۔ اگر اُن کو صحیح سلامت اپنے پاس دیکھنا چاہتی ہو تو جاکر اُس لڑکی کے کیس سے شمشیر خان کو باعزت بری کروا دو۔۔۔۔ ورنہ چند دنوں کے اندر اِن دونوں کی لاشیں تمہارے گھر پہنچا دی جائیں گی۔۔۔۔ اور اپنے جن آفیسرز پر بھروسہ کرکے تم نے اپنے گھر کی سیکورٹی کروا رکھی تھی۔۔۔ وہ ہمارا نمک کھاتے ہیں۔۔۔۔ تو وفاداری بھی ہمارے ساتھ کریں گے۔۔۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی تمہارے محکمے کا کون کون سا بندہ ہمارے ساتھ ملا ہوا ہے۔۔۔۔ اگر تم نے اپنے کمشنر کو اِس سب میں شامل کرکے کوئی مدد لینی چاہی تو یہ خبر ہم تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگائے گی۔۔۔۔۔۔ بس اتنا یاد رکھنا کے اُس کے بعد تم کبھی بھی اپنی ماں اور بہن کو زندہ نہیں دیکھ پاؤ گی۔۔۔۔”
اپنی بات ختم کرتے دوسری جانب سے کال کاٹ دی گئی تھی۔۔۔۔ حبہ سن سی اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔۔ اُس کے ہاتھ سے ریسور چھوٹ کر نیچے جاگرا تھا۔۔۔۔
“نن نہیں اُن دونوں کو کچھ نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔۔ مگر میں اُس بچاری لڑکی کا کیس واپس لے کر اُس کے ساتھ اتنی بری زیادتی کیسے کرسکتی ہوں۔۔۔۔ وہ تو میری اُمید پر ہی جی رہی ہے۔۔۔ اگر ایسا کچھ ہوا تو وہ لڑکی خود کو ختم کردے گی۔۔۔۔ میں کیا کروں میرے رب۔۔۔۔ مجھے کوئی راستہ دیکھائیں۔۔۔ میں کسی کے ساتھ بھی کچھ غلط نہیں ہونے دے سکتی۔۔۔ لیکن اگر میں نے اُن لوگوں کی بات نہ مانی تو وہ ماما اور صبا کو نقصان پہنچائیں گے۔۔۔ “
حبہ اُن لوگوں کے بچھائے جال میں بُری طرح پھنس چکی تھی۔۔۔۔ اُسے کچھ دکھائی اور سجھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے اُس کے کانوں میں کسی کے بھاری قدموں کی چاپ گونجی تھی۔۔۔
بھیگی آنکھیں صاف کرتے اُس نے گردن اُس جانب گھمائی تھی۔۔۔ جہاں کھڑے شخص کو دیکھ اُس کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔
“تم۔۔۔؟؟؟”
حبہ زہر خند لہجے میں بولتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
فرح آج بہت خوشگوار موڈ کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ حمدان کے ہاتھوں مریم کو بے عزت ہوتا دیکھ اُسے بہت مزا آیا تھا۔۔۔۔
مگر گھر میں پہلے سے ہی رونق لگی دیکھ وہ خوشگواریت بھرے انداز میں ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
“پھوپھو آپ۔۔۔۔۔”
فرح سامنے بیٹھی اپنی پھوپھو کو دیکھ خوشی سے چلا اُٹھی تھی۔۔۔۔ نسرین بیگم کے بازو واں کرتے ہی وہ اُن کے سینے میں جا سمائی تھی۔۔۔۔
نسرین بیگم اُن کی اکلوتی پھوپھو تھیں۔۔۔ اور بہت سال پہلے کچھ اختلافات کی وجہ سے وہ اُن سب سے لڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سارے تعلقات ختم کرتیں اپنے گاؤں میں جا بسی تھیں۔۔۔۔ یہاں اُن کا سسرال تھا۔۔۔۔
صدیقی صاحب نے اُنہیں منانے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ مگر وہ نہیں مانی تھیں۔۔۔۔ وہ اپنے بھائی اور اُن کے بچوں سے بہت پیار کرتی تھیں۔۔۔ مگر اُس وقت اُن کا دل ایسا دکھا تھا کہ اتنے لمبے عرصے تک کوئی اُنہیں منا نہیں پایا تھا۔۔۔۔۔
آج اتنے سالوں بعد اُنہیں اپنے گھر دیکھ فرح کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رہا تھا۔۔۔۔
“پھوپھو یہ پیاری سی لڑکی کون ہے۔۔۔۔؟؟؟”
فرح اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی کیوٹ سی لڑکی کو دیکھ پوچھنے لگی تھی۔۔۔
“یہ پیاری سی لڑکی اُجالا ہے۔۔۔۔ نسرین کی سب سے چھوٹی بیٹی۔۔۔۔ اور تمہاری لاڈلی۔۔۔ بھول گئی کیا۔۔۔۔؟؟؟”
سمیہ بیگم بھی اپنی بہن جیسی نند کو اتنے ٹائم بعد دیکھ بے پناہ خوش تھیں۔۔۔۔
“ارے اُجالا کتنی بڑی اور مزید خوبصورت ہوگئی ہے۔۔۔ “
فرح اُجالا سے گلے ملتی خوشی سے چہکی تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
