Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

“اے میرے پروردگار اُس کی حفاظت کرنا۔۔۔۔ میں جانتی ہوں وہ دنیا والوں کے سامنے خود کو ظالم درندہ ظاہر کرتا ہے۔۔۔ مگر میرا دل کہتا ہے وہ بُرا انسان نہیں ہے۔۔۔ نہ ہی کوئی بُرے کام کرتا ہے۔۔۔۔ میں جانتی ہوں وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے۔۔۔ میں آپ سے اُس کا ساتھ نہیں مانگ رہی۔۔۔ مگر بس اُس کی سلامتی مانگتی ہوں۔۔۔ میرے مولا اُس کی حفاظت کرنا۔۔۔ اُسے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔”
پریسا بھیگی آواز میں اپنے رب کا پکارتی سجدہ ریز ہوتی رو دی تھی۔۔۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اُس کی یہ آہیں اور سسکیاں عرش تک پہنچتی اُس کی جھولی میں اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ڈالنے والی تھیں۔۔۔۔
پریسا کو کسی طور سکون نہیں مل رہا تھا۔۔۔
وہ جائے نماز سے اُٹھتی۔۔۔ اپنے گرد شال اوڑھے گاڑی کی چابیاں اُٹھاتی روم سے نکل آئی تھی۔۔۔
اُسے گھر میں عجیب سی گھٹن محسوس ہورہی تھی۔۔۔
اپنے دل و دماغ کو ریلیکس کرنے کے لیے وہ گاڑی میں بیٹھتی آفندی مینشن سے نکل آئی تھی۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

مہروسہ نے بھیگتی آنکھوں کے ساتھ نکاح کے بول ادا کرتے نکاح نامے پر سائن کر دیئے تھے۔۔۔۔
اُس کا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔۔ یہ فیصلہ کر کے وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا رسک لے چکی تھی۔۔۔ جس میں اُس کی جان بھی جاسکتی تھی۔۔۔۔
اُسے نکاح کے آخری سیکنڈ تک یہی لگا تھا کہ حمدان اُس سے شاید یہ نکاح نہ کرے۔۔۔ مگر حمدان کی زبان سے نکلتے قبول ہے کہ الفاظ مہروسہ کے دل کا بوجھ بڑھا گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
وہ یہ تو جانتا تھا کہ مہروسہ کنول بلیک سٹار ہے۔۔۔ مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک طوائف زادی ہے۔۔۔۔ جس کا علم ہونے کے بعد وہ شاید اُس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہ کرتا۔۔۔۔
مہروسہ کی آنکھوں سے اپنے محبوب ترین انسان کے اپنے نام لگ جانے کی خوشی کے ساتھ ساتھ بہت ساری اذیتوں کی وجہ سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔
نسرین بیگم اُس کی کیفیت سمجھتیں اُسے اپنے سینے سے لگا گئی تھیں۔۔۔
حمدان ایک سرد و سپاٹ نگاہ اُس کے سُرخ آنچل میں چھپے لرزتے کانپتے نازک وجود پر ڈالتا سب سے مبارک باد وصول کرتا سائیڈ پر چلا گیا تھا۔۔۔
“بولو خضر کیا خبر ہے۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان پوری طرح اپنی جیت کا مزا لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
“سر جنید بے ہوش ہوچکا ہے۔۔۔ مگر اُس کے بزدل لیڈرز بلیک سٹارز ابھی تک یہاں نہیں پہنچے۔۔۔ یا شاید یہیں آس پاس کہیں چھپے ہوئے ہیں اور سامنے آنے کی جرأت نہیں کر پارہے۔۔۔”
دوسری جانب سے حمدان کو جو خبر ملی تھی۔۔۔ وہ سن کر وہ غصے سے مُٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔۔
اُسے جنید کے ساتھ ساتھ اُن کے ایک لیڈر کی لاش چاہیئے تھی۔۔۔۔
“چاہے پوری رات گزر جائے تم سب لوگ وہاں سے ہلنے نہیں چاہیے۔۔۔ جیسے ہی اُن میں سے کوئی بھی سامنے آئے گولیوں سے بھون دینا۔۔۔۔۔”
حمدان کا لہجہ بہت بے رحم تھا۔۔۔
“سر اُن کے ساتھی جنید کا بہت زیادہ خون بہہ گیا ہے۔۔۔ وہ مرجائے گا۔۔۔۔”
خضر اپنے ایس پی کی سفاکی سے واقف تھا۔۔۔ مگر پھر بھی نجانے کس احساس کے تحت بول گیا تھا۔۔۔
“وہ دشمن ہے ہمارا۔۔۔۔ نجانے کتنے مظلوم لوگوں کا خون ایسے ہی بہایا ہے اِنہوں نے۔۔۔۔ آج اِنہیں بھی تو خبر لو۔۔۔ تکلیف اور اذیت کسے کہتے ہیں۔۔۔ فکر مت کرو زیادہ دیر نہیں پڑے رہنے دیں گے وہ اپنے ساتھی کو۔۔۔ سنا یے بلیک سٹارز کے لیے اپنے ساتھی بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
حمدان اُسے ہدایت دیتا فون کاٹ گیا تھا۔۔۔
اُس کا رُخ اپنے روم کی جانب تھا۔۔۔ جہاں کچھ سیکنڈ پہلے مہروسہ کو لے جایا گیا تھا۔۔۔
وہ اپنی نئی نویلی دلہن کو زیادہ دیر اکیلے چھوڑنے کا ارادہ بالکل بھی نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔ وہ جانتا تھا اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے وہ یہاں سے فرار ہونے سے بھی باز نہیں آئے گی۔۔۔۔
حمدان موبائل جیب میں رکھتے اپنے پھولوں سے سجے سجائے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
پھولوں کی دلفریب خوشبو میں اب اُس عروسی لباس میں سجے سجائے وجود کی مہک کا اضافہ بھی ہوچکا تھا۔۔۔
حمدان دروازہ لاک کرتا لال گلابوِں سے سجائی گئی اپنی سیج کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جس کے بیچوں بیچ بیٹھی مہروسہ کنول اُس کے لیے پور پور سجی اُسی کی منتظر تھی۔۔۔
لیکن اِس سے پہلے کے وہ بیڈ پر بیٹھتا اُس کی نظر دائیں جانب کھڑکی کے گرے پردوں کے پیچھے سے جھانکتے سُرخ آنچل پر پڑی تھی۔۔۔۔
اگر اُس کی دلہن بیڈ پر بیٹھی تھی تو وہاں کون تھا۔۔۔
حمدان نے وہیں کھڑے کھڑے بیڈ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ ایک نظر دیکھ کر ہی پہچان گیا تھا کہ اِس سُرخ دوپٹے کے گھونگھٹ کے پیچھے مہروسہ نہیں تھی۔۔۔
حمدان کا موڈ اِس وقت سخت آف تھا وہ ایسے مذاق برداشت کرنے کے موڈ میں بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔
اُس نے آگے بڑھتے بیڈ پر بیٹھے وجود کے اُوپر سے سُرخ دوپٹہ کھینچ لیا تھا۔۔۔
“کیا کررہے ہو تم یہاں پر۔۔۔۔؟؟ “
اُس کی سوچ کے عین مطابق وہاں سے مہروسہ نہیں اُس کا خالہ زاد نکلا تھا۔۔۔۔
“کیا حمدان بھائی۔۔۔ تھوڑا سا بے وقوف تو بن ہی جاتے۔۔۔”
حمزہ منہ بسورتا بیڈ سے اُٹھا تھا۔۔۔
ایک جانب سے فرح اور اُجالا کی بڑی بہن مسکراتیں باہر آئی تھیں۔۔۔
“یہ کیا بے ہودہ مذاق ہے۔۔۔۔ ایوری باڈی گیٹ لاسٹ۔۔۔۔”
حمدان اُن سب پر اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ پردے کے پیچھے کھڑی مہروسہ بھی لمحے بھر کو کانپ گئی تھی۔۔۔
یہ شخص ہر وقت چنے ہی چباتا نظر آیا تھا اُسے۔۔۔
“بھائی ہم تو مذاق۔۔۔۔”
فرح نے وضاحت دینی چاہی تھی۔۔۔
“آئی سیڈ گیٹ لاسٹ۔۔۔۔۔”
حمدان ایک بار پھر دھاڑا تھا۔۔۔ جس پر وہ خاموشی سے سر جھکائے باہر نکل گئے تھے۔۔۔ جبکہ مہروسہ اُسے اتنے خراب موڈ میں دیکھ۔۔۔ زرد ہوئی تھی۔۔۔ یہ بپھرا شخص نجانے اب اُس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا تھا۔۔۔
وہ بنا اپنی جگہ سے ہلی وہیں کھڑی رہی تھی۔۔۔
حمدان اُس کی جانب بڑھا تھا اور پردے کے پیچھے سے اُس کی مہندی، چوڑیوں اور گجرے سے سجی کلائی اپنی گرفت میں جکڑتا اُسے باہر کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اُسے ڈھونڈ چکا ہے۔۔۔
مہروسہ سیدھی اُس کے چوڑے سینے سے جاٹکرائی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس کے ماتھے پر پڑا نیٹ کا گھونگھٹ جھٹکے کی وجہ سے اُس کے چہرے پر پھسلا تھا۔۔۔
حمدان نے اُس کی خوشبو کی دلفریب مہک کے حصار سے خود کو بچانے کی کوشش کرتے اُس کے چہرے سے گھونگھٹ ہٹایا تھا۔۔۔۔
جس کے ساتھ ہی مہروسہ کے حسین سجے سجائے چہرے اور دلکش سراپے پر نظر پڑتے ہی حمدان صدیقی کتنے ہی لمحے اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پایا تھا۔۔۔
وہ اِس قدر حسین لگ رہی تھی کہ حمدان صدیقی کو اپنے دل پر سے اختیار ہٹتے محسوس ہوا تھا۔۔۔
اُس کی گرفت مہروسہ کی کلائی پر اتنی سخت تھی کہ مہروسہ کی چوڑیاں ٹوٹ کر اُس کی کلائی میں پیوست ہوچکی تھیں۔۔۔۔
لیکن مہروسہ اُس تکلیف سے زیادہ ایس پی حمدان صدیقی کے اِس بے خود انداز سے گھبرا چکی تھی۔۔۔ وہ اُس کے نہایت قریب تھی… حمدان کی گرم سانسوں سے اُسے اپنا چہرا جھلستا ہوا تھا۔۔۔ اُس کا پورا وجود ہولے ہولے کپکپا رہا تھا۔۔۔۔
اُس سے اپنی دھڑکنوں پر قابو پانا مشکل ہوا تھا۔۔۔
بے خوف و خطر دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُن کو موت کے گھاٹ اُتارنے والی اِس وقت حمدان صدیقی کی گرفت میں اپنی حیا کے بوجھ سے بھاری ہوتیں پلکیں تک نہیں اُٹھا پائی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

شاہ ویز اور حازم خبر ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ چکے تھے۔۔۔ جہاں حمدان صدیقی نے پولیس کی بھاری نفری کھڑی کر رکھی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں آگے جاتے ہی پکڑے جاتے۔۔۔۔
“میر رک جاؤ۔۔۔ آگے جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔۔۔ “
شاہ ویز نے جنید کو خون میں لت پت دیکھ اذیت سے آنکھیں میچتے حازم کا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔۔۔
“وہ مر جائے گا شاہ۔۔۔۔ ہم یوں بیچ راستے میں اُسے تڑپتا کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔۔”
حازم نے بے یقینی سے شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو ہمیشہ اپنی جان پر کھیل کر اپنے ساتھیوں کو بچاتا آیا تھا۔۔۔ مگر آج اُسے بھی جانے سے روک رہا تھا۔۔۔
وہ لوگ اِس وقت ایک جانب موجود لوگوں کی بھیڑ کے بیچ کھڑے تھے۔۔۔ جبکہ جنید کے آس پاس پولیس کی بھاری نفری موجود تھے۔۔۔
“اگر وہاں ہم اپنی جان خطرے میں ڈال کر جنید کو بچا سکتے تو ہم ضرور جاتے۔۔۔ لیکن ہمارے اِس جذباتی عمل سے جنید تو نہیں بچ پائے گا۔۔۔ بلکہ ہم بھی خود کو پولیس والوں کے حوالے کرکے اپنا پورا گینگ خطرے میں ڈال دیں گے۔۔۔ ہمیں پکڑنے کے بعد وہ ایس پی مہروسہ کو بھی نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی بات سن حازم کے قدم بھی رک گئے تھے۔۔۔
“یہ ایس پی بھول گیا ہے کیا کہ یہ بلیک سٹارز کے ساتھ اُلجھ کر اپنی بربادی کو آواز دے رہا ہے۔۔۔۔”
حازم نے شدید غصے کے عالم میں مُٹھیاں بھینچتے جنید کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔ اور اب اِس ایس پی کو بتانا ہوگا کہ بلیک سٹارز کی درندگی اور سفاکیت کیسی ہوتی ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز حازم کو اشارہ کرتا اپنے چہرے کو اچھی طرح رومال سے ڈھکنے کے بعد اپنی گن نکال کر اُس کا رُخ آسمان کی جانب کرتا۔۔۔ اندھا دھند فائر کھول چکا تھا۔۔۔۔۔
حازم نے اپنی جیب سے اسموک گرنیڈ نکالتے یکے بعد دیگر فضا میں اُچھالنے شروع کردیئے تھے۔۔۔
جس کے ساتھ ہی وہاں ہلچل مچ گئی تھی۔۔۔۔
وہاں موجود عام لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے تھے۔۔۔
جبکہ پولیس والے اِس افراتفری میں اُن پر فائر نہیں کرسکے تھے۔۔۔۔
وہ لوگوں کے بیچ تھے۔۔۔ اُن پر گولی چلانے کے نتیجے میں لوگوں کو لگ سکتی تھی۔۔۔
جس کا فائدہ اُٹھاتے شاہ ویز نے جنید کے اردگرد کھڑے پولیس والوں کے بازو اور ٹانگوں پر فائر کھول دیئے تھے۔۔۔ وہ اُنہیں جان سے مارنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
پولیس والوں کو ہمیشہ یہی پتا چلا تھا کہ بلیک سٹارز کبھی پولیس والوں پر ہتھیار نہیں اُٹھاتے۔۔۔۔
مگر آج بلیک سٹارز اپنے آدمی کے بہے خون کا بدلہ لینے اپنی درندگی کی نئی مثال رقم کررہے تھے۔۔۔
حازم اور شاہ ویز ایک ساتھ گولیوں کی برسات کرتے جنید کو اپنے گھیرے میں لے چکے تھے۔۔۔۔
شاہ ویز جیسے ہی جنید کو اُٹھانے کے لیے جھکا تھا۔۔۔ نجانے کس جانب سے آتی آندھی گولی شاہ ویز کا بازو چیرتی نکل گئی تھی۔۔۔۔
مگر اپنی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر شاہ ویز جنید کو دوسرے کندھے پر ڈالتا وہاں سے ہٹا تھا۔۔۔
حازم وہیں کھڑا اُن سب کو اپنی جانب متوجہ کرتا شاہ ویز کی جانب سے اُن کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔۔
شاہ ویز جنید کو وہاں آئے اپنے ساتھیوں کے حوالے کرتا فوراً وہاں سے نکل جانے کا حکم دے گیا تھا۔۔۔۔ وہ دونوں اپنے آدمیوں کے نکل جانے تک یہیں اِن لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔۔۔تاکہ وہ اُن کے ساتھیوں کا پیچھا نہ کر سکیں۔۔۔
“میر۔۔۔۔۔”
شاہ ویز جیسے ہی پلٹ کر حازم کی جانب آیا۔۔۔۔ ایک پولیس والے کو حازم کے سر پر نشانہ باندھتا دیکھ وہ چلایا تھا۔۔۔۔ جب اُسی لمحے کسی نے حازم کا بازو پکڑتے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
حازم شاہ ویز کی پکار پر اُس کی جانب متوجہ ہورہا تھا۔۔۔ پیچھے سے کسی کے پوری قوت سے کھینچنے پر وہ لڑکھڑاتا اُس وجود کے ساتھ پیچھے موجود ڈھلوانی سطح پر لڑھک گیا تھا۔۔۔۔
اپنے بازو پر محسوس ہوتی گرفت سے ہی وہ سمجھ گیا ہے کہ یہ ہستی کون ہے جو اپنی جان اور نوکری خطرے میں ڈال کر صرف اُسے بچانے وہاں آن پہنچی ہے۔۔۔
وہ دونوں ایک ساتھ زمین پر گرے تھے۔۔۔
مگر حازم نے حبہ کی کمر اور سر کے نیچے اپنی بانہیں حمائل کرتے اُسے چوٹ لگنے سے بچایا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں ڈھلوانی سطح پر پھسلتے بل کھاتے کافی نیچے آگرے تھے۔۔۔۔
“تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔ کیوں آئی یہاں؟؟؟ اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو۔۔۔۔”
حازم اپنے اُوپر پڑی حبہ کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے اُس پر چلایا تھا۔۔۔۔
“بکواس مت کرو میر حازم سالار۔۔۔۔ میرا دل چاہ رہا ہے۔۔۔ میں اِس وقت اپنے ہاتھوں سے تمہارا قتل کر دوں۔۔۔۔ کیوں کررہے ہو ایسا۔۔۔ کیوں اذیت دے رہے ہو مجھے۔۔۔ چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ سب۔۔۔ بہت غلط ہے یہ۔۔۔ اپنی زندگی برباد مت کرو۔۔۔۔ خدا کے لیے۔۔۔ اِس حرام کام کو چھوڑ دو۔۔۔۔”
اُس کا گریبان مُٹھیوں میں دبوچتی وہ اُس کے سینے پر سر ٹکائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ اُس کا دل ابھی بھی خوف کے مارے اِس بُری طرح سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آن دھکمے گا۔۔۔۔
اگر وہ بروقت پہنچ کر حازم کو نہ کھینچتی تو نجانے کیا انہونی ہوجاتی۔۔۔ اِس خیال کے آتے ہی اُسے اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
حازم اُس کی کیفیت سمجھتا اُس کے وجود کو اپنے سینے میں بھینچے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ اُس کے سینے سے لگی حبہ گڑیا کے سے نازک وجود کی طرح ایسے ہی اُس کے حصار میں مقید بلکتی رہی تھی۔۔۔۔
جبکہ حازم حبہ کا اپنے پیچھے یہاں آنا برداشت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔ وہ کبھی بھی نہیں چاہتا تھا اُس کی وجہ سے حبہ مشکل میں پڑے۔۔۔۔
اُس کا دماغ تیزی سے کچھ سوچنے لگا تھا۔۔۔ کچھ ایسا جو حبہ کو اذیت سے نکلنے کے لیے دوہری اذیت دینے والا تھا۔۔۔۔
کیونکہ یہ بات تو طے تھی کہ وہ تینوں مرتے دم تک اپنے مشن کو پورا کیے بغیر اِس کام کو چھوڑنے والے تو نہیں تھے۔۔۔۔ بہت ساری قربانیاں دینے کے بعد حازم سالار اب ایک اور قربانی دینے والا تھا۔۔۔
اپنی محبت کو خود سے دور کرنے کی قربانی۔۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

شاہ ویز حازم کے وہاں سے ہٹتے ہی خود بھی وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔ مگر اُس پر اُن سب پولیس والوں کی نظر تھی۔۔۔ وہ سب اندھا دھند فائرنگ کرتے اپنے آفیسر کے دیئے آرڈر کے مطابق کسی بھی طرح اُسے زندہ یا مردہ پکڑنے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔۔
شاہ ویز کے دائیں بازو میں گولی لگی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ نہ تو گاڑی ڈرائیو کرسکتا تھا اور نہ فائرنگ کرکے اُن کا مقابلہ۔۔۔۔
اُس کے بازو سے خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا۔۔۔۔
وہ دو تین سنسنان گلیوں سے ہوتا پولیس والوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوتا دوسرے روڈ پر آن نکلا تھا۔۔۔ مگر اُس ایریے میں چاروں جانب پولیس کی گاڑیوں کے سائرن سنائی دے رہے تھے۔۔
پولیس فورس کی پوری نفری اِس وقت کے سب سے بڑے گینگسٹر شاہ ویز سکندر کو پکڑنے کے لیے پوری طرح الرٹ ہوچکی تھی۔۔۔۔
ہر جگہ پر ناکا بندی کی گئی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز کا زخمی ہونے کے ساتھ اِس جگہ سے نکل پانا مشکل تھا۔۔۔ مگر وہ ہمیشہ سے خطروں کا کھلاڑی رہا تھا۔۔۔ ہمیشہ اپنی جان کو ہتھیلی پر لیے پھرتا تھا۔۔۔ اِس وقت بھی اُس کے چہرے پر گھبراہٹ اور خوف کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔
وہ ایک سنسان تاریکی میں ڈوبی گلی کے سرے پر کھڑا کچھ فاصلے پر لگے پولیس ناکے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب اُس کی نظر اُس ناکے سے پراپر چیکنگ کے ساتھ گزرتی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی پر پڑتی واپس پلٹنا بھول گئی تھی۔۔۔
وہ گاڑی کسی اور کی نہیں پریسا آفندی کی تھی۔۔۔ جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی وہ پریشان اور بے زار سی اپنی باری کا انتظار کررہی تھی۔۔۔۔
مگر پریسا کی گاڑی سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑے پولیس والے اُسے جن نگاہوں سے گھور رہے تھے۔۔۔ وہ شاہ ویز کا خون جلا کر رکھ گئے تھے۔۔۔۔ وہ غصے سے مُٹھیاں بھینچتا اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔۔
“میں جب بھی تمہیں اپنے دل و دماغ سے نکالنا چاہتا ہوں۔۔۔ تم ایسے ہی میرے راستے میں آکر مجھ سے ٹکرا جاتی ہو۔۔۔۔ تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی پریسا آفندی تم میری منزل نہیں صرف میرا ایک مہرا ہو۔۔۔۔ پھر کیوں ہر بار ایک نئی تکلیف سہنے کی خاطر کیوں آتی ہو میرے راستے میں۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی گن نکالتا پریسا کی ناکے سے گزرتی گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ جس کے پیچھے وہ دونوں پولیس والے بھی بائیک پر جا رہے تھے۔۔۔۔ اُن دونوں کو ہی اندازہ نہیں تھا کہ وہ پریسا آفندی پر غلط نظر ڈال کر شاہ ویز سکندر کے قہر کو آواز دے چکے ہیں۔۔۔۔
جس سے اب بچ پانا اُن کے لیے ممکن نہی تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

پریسا نے جیسے ہی پولیس چیک پوسٹ سے گاڑی آگے نکالی اُسے دو پولیس والے بائیک پر اپنے پیچھے آتے دکھائی دیئے تھے۔۔۔
جو دیکھ وہ ایک دم گھبراتی گاڑی روک گئی تھی۔۔۔۔
“باہر نکلیں میڈم۔۔۔۔۔”
اُس کی گاڑی کے آگے بائیک روکتے وہ اُس کی کھڑی کو بجاتے پریسا کو خوفزدہ کر گئے تھے۔۔۔۔
اُسے اِن دونوں کی نظریں پہلے ہی کافی عجیب سی لگی تھیں۔۔۔۔
وہ باہر نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔
“باہر نکو حسین بلبل۔۔۔ ورنہ ہم کھڑکی توڑ کر تمہیں باہر نکال لیں گے۔۔۔۔”
وہ اُس کا شیشہ زور سے بجاتے اُسے دھمکی دے گئے تھے۔۔۔ پریسا کو اِس وقت وہ پولیس کی وردی میں چھپے درندے معلوم ہوئے تھے۔۔۔۔ اُسے رات کے اِس پہر گھر سے نکل کر کی جانے والی کوتاہی ہر جی بھر کر پچھتاوا ہوا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔