Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

جو شخص اُس سے محبت کا دعویدار تھا۔۔۔ وہ مشکل پڑنے پر اُسے خطرے میں چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ نکلا تھا اور جو اُس سے اپنی شدید نفرت کا اظہار کرتا آیا تھا۔۔۔
وہ کسی مضبوط چٹان کی طرح اُس کی ڈھال بن کر آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔
اُسے شاہ ویز سکندر کی وہ لال آنکھیں نہیں بھول رہی تھیں۔۔۔ جو اُس غنڈے کے ہاتھ میں اُس کی کلائی دیکھ کر مزید لہولہان ہوئی تھیں۔۔۔۔ وہ شخص نفرت میں بھی اِس قدر شدت پسند تھا۔۔۔ کہ اُس پر کسی اود کا سایہ پڑتے بھی نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ اُس سے برداشت نہیں ہوپایا تھا کہ اُس کے سوا کوئی پریسا آفندی کو کسی بھی نظر سے دیکھے۔۔۔
آخر حقیقت کیا تھی اُس شخص کی۔۔۔ کیوں وہ اُس کا سایہ سا بن کر اُس کے آس پاس رہنے لگا تھا۔۔۔۔۔
کیا اِس سب کی وجہ اُس کا آفندی مینشن والوں سے اپنا بدلہ پورا کرنا ہی تھا۔۔۔ پریسا کوشش کے باوجود کل رات سے اُسے اپنے دماغ سے نکال ہی نہیں پارہی تھی۔۔۔۔
پہلے وہ صرف اُس کے خوابوں میں آتا تو اور اب تو وہ پوری طرح اُس کے دل و دماغ پر اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔
“جانا تو کہیں نہیں ہے۔۔۔۔ مگر تمہیں نہ پاکر مجھے لگا شاید کہیں پھر وہ نقاب پوش تمہیں اپنی بانہوں میں اُٹھا کر نہ لے گیا ہو۔۔۔۔”
فضہ اُس کے سامنے رکھا جوس اُٹھا کر مزے سے بولتی پریسا کو گہرے جھٹکے سے دوچار کر گئی تھی۔۔۔
“کک کیا مطلب۔۔۔؟؟ تم کیا کہنا چاہتی ہو۔۔۔؟؟؟”
پریسا کا چہرا ذرد پڑا تھا۔۔۔ فضہ بھلا شاہ ویز سکندر کے بارے میں کیا اور کیسے جانتی تھی۔۔۔
“اوہ ہو۔۔۔ اتنی پریشان کیوں ہوگئی ہو۔۔۔ میں تو بس مذاق کررہی تھی۔۔۔۔ تم شاید بھول رہی ہو کہ اُس دن بینک میں میں بھی تمہارے ساتھ تھی۔۔۔ تمہارے بے ہوش ہونے پر جس نرمی سے وہ نقاب پوش تمہیں اُٹھا کر روم میں لے کر گیا تھا۔۔۔۔ وہ چیز مجھے کافی عجیب لگی تھی۔۔۔ مطلب لمحے بھر کو بھی نہیں لگا تھا کہ وہ بلیک سٹارز کا لیڈر بلیک بیسٹ ہے۔۔۔ “
فضہ کی بات سن کر پریسا کچھ حد تک ریلیکس ہوئی تھی۔۔۔ مگر وہ جو شاہ ویز سکندر کی سوچوں سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی۔۔۔ شاہ ویز کی جانب سے بتائے جانے والے ایک اور پلس پوائنٹ کو سنتے۔۔۔ ایک بار پھر اُس شخص کی پرچھائی اُس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئی تھی۔۔۔۔
“ویسے لُک وائز تو وہ بلیک سٹارز بڑے ہینڈسم اور ڈیشنگ لگ رہے تھے۔۔۔ کیا تم نے اُن کے چہرے دیکھے تھے۔۔۔ بائے فیس بھی وہ کیا بہت پیارے ہیں۔۔۔۔”
فضہ کی بات پر پریسا کو شاہ ویز سکندر کا مغرور نقوش سے سجا خوبصورت چہرا یاد آیا تھا۔۔۔ وہ واقعی بہت خوبصورت تھا۔۔۔ یونانی دیوتاؤں کے جیسا حُسن رکھنے والا ایک سحر انگیز مرد۔۔۔ جس کی ایک جھلک سے کئی دل گھائل ہوسکتے تھے۔۔۔۔
وہ شخص آخر خود کو اتنا برباد کیوں کررہا تھا۔۔۔۔
پریسا پھر اُسی مقام پر آکر رُک جاتی تھی۔۔۔ اُس کے دل و دماغ پر عجیب سی بے چینی چھا جاتی تھی۔۔۔ اُسے شاہ ویز سکندر کی وہ دلکش آنکھیں یاد آئی تھیں۔۔۔ جن میں سرد پن اور وحشت ناکی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔
اُسے وہ شخص ہر بار احساس سے عاری ہی نظر آیا تھا۔۔۔
جس کے چہرے پر کچھ کھونے یا پانے کی کوئی خواہشں موجود نہیں تھی۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ اُس نے وہاں رہتے ہوئے بھی ایک بار بھی شاہ ویز سکندر کو مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔
اور اقراء نے بھی اِس بات کی تصدیق کی تھی کہ اُس نے اتنے سالوں میں شاہ ویز سکندر کو ہنسنا تو دور زرا سا مسکراتے بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
“او میڈم کہاں کھو گئی؟؟ میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔۔؟؟؟”
فضہ نے اُس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہراتے پوچھا تھا۔۔۔
“پاگل ہو کیسے سوال پوچھ رہی ہو؟؟؟ بتایا تو تھا وہاں میرے سامنے کوئی نہیں آیا۔۔۔ تو میں کہاں سے اُن کے فیس دیکھتی۔۔۔ ویسے بھی مجھے کہیں سے بھی وہ ڈیشنگ اور ہینڈسم نہیں لگے۔۔۔۔”
پریسا اُسے منہ چڑھاتی وہاں سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔۔
مگر جیسے ہی وہ آگے بڑھی دائیں جانب لگے پودوں کے پاس اُسے کوئی سایہ دکھائی دیا تھا۔۔۔۔
پچھلےکچھ دنوں سے وہ جلاد جس طرح اُس کے سر پر سوار ہورہا تھا۔۔۔ اُسے ایک سیکنڈ لگا تھا اِس سائے کو پہنچانے میں۔۔۔۔
خوفزدہ ہوکر اندر بھاگ کر سب کو بتانے کے بجائے وہ بے اختیاری میں آنکھوں میں ایک چمک لیے اُس سائے کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔۔
“کہاں ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ تم مجھ سے نہیں چھپ سکتے۔۔۔ میں نے ابھی دیکھا ہے تمہیں۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے وہ تم ہی تھے۔۔۔ اگر اتنے ہی بلیک سٹار بنے پھرتے ہو تو اب سامنے آؤ۔۔۔۔”
پریسا آفندی کے ہر ہر انداز سے اُسے دیکھنے کی بے چینی واضح تھی۔۔۔۔
مگر جب کافی دیر بعد بھی اُسے وہاں کہیں بھی کوئی بھی دکھائی نہ دیا تو وہ وہاں سے واپس جانے کے لیے پلٹی تھی۔۔۔۔
جہاں پہلے وہ بیٹھی تھی وہاں سے اب اُسے سفیان کی آواز بھی آرہی تھی۔۔۔ جو فضہ سے اُسی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ یہ آفندی مینشن کا پچھلا حصہ تھا۔۔۔ جہاں پریسا کی فرمائش پر پورا باغیچہ بنایا گیا تھا۔۔۔ اُسے مختلف کلر کے پھول بہت پسند تھے۔۔۔ وہ جب بھی اُداس ہوتی تھی یہاں آکر ہی بیٹھتی تھی۔۔۔
اُس کے علاوہ یہاں کم ہی لوگ آتے تھے۔۔۔ یا اکثر اُسے ڈھونڈتے ہوئے آ نکلتے تھے۔۔۔ جیسے اِس وقت سفیان اُسے ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔
پریسا نے اُس کی آواز سنتے اُس کی جانب قدم بڑھانے ہی چاہے تھے۔۔۔ جب اچانک کسی نے ایک ہاتھ اُس کے ہونٹوں پر جماتے دوسرا بازو اُس کے پیٹ سے گزار کر کمر تک لاتے اُسے ایک ہی جھٹکے میں اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔
پریسا کی کمر اُس کے سینے سے جاٹکرائی تھی۔۔۔
پریسا نے خود کو آزاد کروانا چاہا تھا مگر نتھنوں سے ٹکراتی اُس مخصوص خوشبو نے اُس کی مزاحمت وہی منجمند کر دی تھی۔۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ جس کے بارے میں سوچ سوچ کر صبح سے وہ پاگل ہورہی تھی۔۔۔ وہ اس وقت یہاں اُس کے گھر میں موجود ہوگا۔۔۔ جس گھر میں ہر طرف گارڈز ہی گارڈز تعینات کیے گئے تھے۔۔۔۔
اُسے ساکت ہوتا دیکھ شاہ ویز نے اُس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا دیا تھا۔۔۔۔
سفیان اُسے پکارتا اِسی جانب آرہا تھا۔۔۔
“سفیان ہمیں دیکھ۔۔۔۔”
پریسا نے ابھی اتنا ہی بولا تھا۔۔۔ جب شاہ ویز نے اُس کا رُخ اپنی جانب موڑتے اُسے جن تیز نگاہوں سے گھورا تھا پریسا کی بولتی وہیں بند ہوئی تھی۔۔۔
وہ اِس وقت ہمیشہ کی طرح سیاہ لباس میں ملبوس تھا۔۔۔ سیاہ ٹی شرٹ اور پینٹ میں اُس کا دراز سراپا مزید نمایاں ہورہا تھا۔۔۔ پریسا کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔۔
اُس نے فوراً نظریں جھکائی تھیں۔۔۔
“کیا اِس ڈرپوک اُلو کو ابھی بھی فیانسی رکھا ہوا ہے تم نے۔۔۔؟”
شاہ ویز نے بہت قریب آتے سفیان کو دیکھ پریسا کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔ اُس کی گرم سانسیں اپنے کان کی لوح پر محسوس کرتے پریسا کا پورا چہرا لال ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ دونوں اِس وقت وہاں لگے بڑے بڑے اور بیل کے پیچھے کھڑے تھے۔۔۔ جہاں سے سفیان اُنہیں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ مگر پریسا کو اپنی پسندیدہ بیل شاہ ویز سکندر کے دراز قد کی وجہ سے ٹوٹتی نظر آرہی تھی۔۔۔۔
“اپنی جان بچانے کا حق ہر انسان کے پاس ہے۔۔۔۔ ہر کوئی تمہاری طرح سرپھرا نہیں ہوتا۔۔۔ تم تو دوسروں کی جانیں چھیننے کے عادی ہونا۔۔۔ تو پھر تم نے کیوں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مجھے بچایا۔۔۔ وہ اتنے سارے لوگ تھے آسانی سے تمہیں مار سکتے تھے۔۔۔؟؟”
سفیان اُسے ڈھونڈتے آگے نکل گیا تھا۔۔۔۔ جب پریسا نے اُس سے فاصلہ برقرار رکھتے اپنی حالت نارمل رکھنے کی کوشش کرتے یہ سوال کیا تھا۔۔۔ اُسے اب نجانے کیوں اِس شخص سے خوف محسوس نہیں ہورہا تھا۔۔۔ جو اُس کی خاطر اپنی جان مشکل میں ڈال سکتا تھا۔۔۔ وہ بھلا اُسے کیسے نقصان پہنچا سکتا تھا۔۔۔
“اپنی جان ہی کو بچایا ہے۔۔۔۔”
اُس کی آنکھوں میں جھانکتے شاہ ویز سرگوشیانہ لہجے میں بوجھل پن سے بولتا پریسا کو کچھ پل کے لیے اپنے آس پاس کی دنیا بھلا گیا تھا۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے یک ٹک اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حبہ نے ایک بھرپور انگڑائی لیتے آنکھیں کھول دی تھیں۔۔۔۔ مگر کمرے میں چھایا ملگجا سا اندھیرا دیکھ وہ جھٹکے سے اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔
“میں بیڈ پر کیا کررہی ہوں؟؟؟ کیا میں اندر آئی تھی؟؟؟ نہیں میں تو وہیں سو گئی تھی نا رات کو۔۔۔ ہاں میں ٹیرس پر ہی سو گئی تھی۔۔ پھر یہاں کیسے۔۔۔؟؟”
حبہ نے اپنے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے جھٹکتے اچانک اپنی رائٹ سائیڈ پر دیکھا تھا۔۔۔۔ جہاں کی سلوٹ زدہ بیڈ شیٹ اُس کا چہرا فق کر گئی تھی۔۔۔۔
اُس کی بچپن سے عادت تھی وہ جس کروٹ پر سوتی تھی۔۔۔ صبح اُسی پر اُٹھتی تھی۔۔۔ بیڈ شیٹ کا وہ حصہ صاف بتا رہا تھا کہ یہاں اُس کے علاوہ بھی کوئی انسان موجود تھا۔۔۔۔
حبہ کا چہرا اب بالکل لال ہوچکا تھا۔۔۔ اُسے اپنی یہ گہری نیند ہمیشہ شدید غصہ دلاتی تھی۔۔۔ وہ اِس حوالے سے کئی میڈیسن بھی ٹرائے کر چکی تھی۔۔۔ مگر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔
“وہ چٹ۔۔۔ وہ چٹ قدر ہے۔۔۔۔”
حبہ ایک جھٹکے سے اپنے اُوپر سے کمفرٹر ہٹاتی بیڈ سے اُٹھی تھی۔۔۔۔
جب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے گزرتے اُس کی ایک غیر ارادی نظر مرر پر پڑتی اُسے وہیں ساکت کر گئی تھی۔۔۔ اُس کا جوڑا کھلا ہوا تھا۔۔۔ اور بال اُس کے کندھوں اور کمر کے گرد پھیلے ہوئے تھے۔۔۔
حبہ غصے سے مُٹھیاں بھینچتی ٹیرس کی جانب گئی تھی۔۔۔۔ اور وہاں موجود ہر شے چھان مارنے کے بعد بھی اُسے وہ چٹ کہیں بھی نہیں ملی تھی۔۔۔
شاید جس نے وہ اُسے بھیجی تھی وہ اپنی مرضی سے اُسے لے بھی گیا تھا۔۔۔
حبہ نے تھک ہار کر وہیں جھولے پر گرتے ایک کونے پر رکھی تصویر اُٹھائی تھی۔۔۔
“کیا یہ سب تم کررہے ہو۔۔۔؟؟ اگر تم ہی ہو تو سامنے کیوں نہیں آرہے۔۔۔ ؟؟ کیوں تڑپا رہے ہو اتنا؟؟ کیا قصور ہے میرا۔۔۔۔۔ ؟؟ اگر غصہ ہو ناراض ہو تو ریزن تو بتاؤ۔۔۔ میں منا لوں گی نا تمہیں۔۔۔۔ ریزن بھی نہیں بتانا تو ایک بار سامنے ہی آجاؤ۔۔۔۔ میں خود ہی سب ٹھیک کرلوں گی۔۔۔ مگر اب مزید دور مت رہو۔۔۔۔”
حبہ کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر تصویر پر گرے تھے۔۔۔ جب رات کو ملی دھمکی یاد آتے اُس نے فوراً آنسو پونچھ بھی لیے تھے۔۔۔
تصویر کو سینے سے لگاتے اچانک اُس کی نظر تصویر کے دوسرے جانب لکھی تحریر پر پڑی تھی۔۔۔۔
“Always Together”
حبہ جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی تھی۔۔۔۔
“تم نہیں آنا چاہتے نا سامنے۔۔۔ تو اب میں خود تمہیں ڈھونڈوں گی۔۔۔۔ اب تمہیں میرے سامنے آنا ہی ہوگا۔۔۔۔۔”
یہ دو لفظ ہی حبہ کو چٹانوں جیسا حوصلہ دے گئے تھے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی بھیگی آنکھیں صاف کرتی اُٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

مہروسہ کا ہاتھ اب ٹھیک تھے۔۔۔ مگر گھر والے پھر بھی اُس سے احتیاط ہی کروا رہے تھے۔۔۔
آج فرح کی ڈیٹ فکس کرنے اُس کے سسرال والے آرہے تھے۔۔۔۔ فرح کی منگنی اپنے چچا زاد دانش سے ہو رکھی تھی۔۔۔۔ اب دونوں گھرانے اُن کی شادی کے خواہش مند تھے۔۔۔۔ صدیقی صاحب حمدان کے الگ رہنے کی وجہ سے ہی اب تک اُنہیں ٹالتے آئے تھے۔۔۔ مگر اب وہ حمدان کے ہوتے فرح کو رخصت کرنا چاہتے تھے۔۔۔
مہروسہ نے صبح سے فرح کو کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیا تھا۔۔۔ وہ ملازمہ کے ساتھ مل کر سارے کام خود ہی کررہی تھی۔۔۔ شاہ ویز اور حازم کے کھانے میں نخروں نے اُسے بہت اچھی کوکنگ سیکھا دی تھی۔۔۔
وہ دونوں بالکل سگے بھائیوں کی طرح اُس سے اپنے نخرے بھی اُٹھواتے تھے۔۔۔ شاہ ویز کو جہاں اُس کے ہاتھوں کی بنی سپائسی سی بریانی پسند تھی۔۔۔ وہیں حازم کو اُس سے بھی زیادہ مرچوں والی حلیم پسند تھی۔۔۔
مہروسہ نے اُن کی خاطر سب کچھ سیکھا تھا۔۔۔ کیونکہ ہر کام میں مہارت رکھنے والے وہ دونوں کوکنگ کے معاملے میں بالکل صفر تھے۔۔۔۔ مگر کھانے کے ایکسٹرا شوقین تھے۔۔۔۔۔
اِس وقت بھی مہروسہ اپنی مہارتیں آزماتی کھانا بنانے میں پوری طرح جتی ہوئی تھی۔۔۔ ملازمہ کو اُس نے ابھی کوئی شے لینے باہر بھیجا تھا۔۔۔ وہ پوری توجہ سے آٹا گوندھنے میں مصروف تھی جب اچانک اُسے اپنے پیروں کے پاس کاکروچ دکھائی دیا تھا۔۔۔ اور اُس کے ساتھ ہی مہروسہ کی دلخراش چیخوں نے پورے گھر کو سر پر اُٹھا لیا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر اور حازم سالار کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک ہی وار میں سانپ جیسے خطرناک جانور کو مار گرانے والی، پانچ چھ چھ ہتھیاروں سے لیس دشمنوں کو مار گرانے والی کاکروچ سے کس قدر ڈرتی تھی۔۔۔۔
مہروسہ کی جان جاتی تھی کاکروچ سے۔۔۔ اُسے بچپن سے ہی کاکروچ سے بہت زیادہ ڈر لگتا تھا۔۔۔
پورے بلیک ہاؤس میں کاکروچ کو مارنے کے لیے ہر مہینے سپرے کروایا جاتا تھا۔۔۔۔
اپنے دھیان میں کام کرتی مہروسہ کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اُس کا سب سے بڑے جانی دشمن ایس پی حمدان صدیقی کے گھر اُس سے بھی زیادہ بڑا اُس کا جانی دشمن کاکروچ پہنچ جائے گا۔۔۔۔
مہروسہ بنا دوپٹے کی پرواہ کیے چلاتی ہوئی کچن سے باہر بھاگی تھی۔۔۔ سامنے سے آتے حمدان صدیقی کے سینے سے جاٹکرائی تھی۔۔۔
حمدان کسی بہت ضروری کام کی وجہ سے فل یونیفارم میں ملبوس باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔ اُس نے ایک گھنٹے میں لوٹ آنا تھا۔۔۔ ابھی وہ صدیقی صاحب کو یہی بتا رہا تھا جب مہروسہ کی دلدوز چیخوں پر باقی سب سے پہلے وہی بھاگتا ہوا اِس جانب آیا تھا۔۔۔۔
مگر جیسے ہی مہروسہ اُس کے سینے سے ٹکراتی اُس کے گرد بازو کا حصار بناتی بُری طرح کانپتی اُس کے ساتھ آن لگی تو حمدان صدیقی کو ایک لمحے کے لیے جیسے کرنٹ سا چھو گیا تھا۔۔۔۔
اُس کا نازک لرزتا کانپتا وجود۔۔۔ حمدان نے اپنی غیر ہوتی حالت پر قابو پاتے اُسے پیچھے ہٹانا چاہا تھا۔۔۔ مگر مہروسہ تو اِس وقت آپے میں ہی نہیں تھی۔۔۔
“اُجالا کام ڈاؤن۔۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟ “
حمدان نے اُسے کندھوں سے تھامتے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا۔۔۔۔ زرا دیر رونے اور خوف سے اُس کا چہرا بالکل لال ہوچکا تھا۔۔۔ سیاہ آنکھیں خوف سے مزید بڑی ہوچکی تھیں۔۔۔ یہ لڑکی مجسمہ حُسن تھی۔۔۔ اِس کی کشش حمدان صدیقی کو کچھ پل کے لیے ہی سہی مگر اپنے حصار میں پوری طرح جکڑ گئی تھی۔۔۔
“اُجالا۔۔۔۔ کیا ہوا گڑیا۔۔؟؟”
وہ پتھر کا ہوجاتا جب فرح کی پکار نے اُسے ہوش کی دنیا میں لا پٹخا تھا۔۔۔
“وہہہ۔۔۔وہ کچن میں کاکروچ تھا۔۔۔۔”
سمیعہ بیگم اور نسرین بیگم کے بھی قریب آنے پر حمدان اُس سے مزید دور ہوا تھا۔۔۔۔
کچھ فاصلے پر کھڑا وہ اُن سب کے بیچ آنسو بہاتی کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جس کے نجانے کتنے رُوپ تھے۔۔۔ آخر کیا تھی یہ لڑکی۔۔۔۔ کیا وہ اب بھی اِس پر شک کرکے غلط کررہا تھا۔۔۔۔
پورے شہر کو اپنی اُنگلیوں پر نچا کر رکھ دینے والی لڑکی ایک کاکروچ سے ڈر گئی تھی۔۔۔
کیا یہ اِس کا ناٹک تھا۔۔۔۔؟؟؟
حمدان نے ایک بار پھر اُس کو دیکھا تھا۔۔۔ نہیں یہ اُس کا ناٹک نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔
حمدان اُس قاتل حسینہ کے دلفریب رُوپ سے نظریں چراتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جب فرح کی آواز پر اُس کے قدم رُکے تھے۔۔۔
“بھائی آپ کہاں جارہے ہیں۔۔۔؟؟”
فرح کے سوال پر حمدان نے پلٹ کر اُسے گھورا تھا۔۔۔
“پولیس اسٹیشن اور کہاں جانا ہے مجھے۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے ابھی جواب دیا ہی تھا جب وہاں موجود گھر کے تمام افراد اپنی مسکراہٹ نہیں روک پائے تھے۔۔۔ جبکہ مہروسہ شرمندگی سے سر جھکا گئی تھی۔۔۔
“ایسے جائیں گے آپ۔۔۔۔”
فرح نے اُس کے یونیفارم کی جانب اشارہ کیا تھا۔۔۔ حمدان نے اُن سب کی مسکراہٹ دیکھ جیسے ہی سامنے لگے شیشے کی جانب دیکھا اُس کا منہ بھی کھل چکا تھا۔۔۔۔
اُس کی پوری شرٹ آگے اور پیچھے سے آٹے کے نشانوں سے سجی ہوئی ہوئی تھی۔۔۔
اور اب وہ قاتل حسینہ یہ کارنامہ سرانجام دے کر معصوم بنی سب کے درمیان سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔