Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

آج اتنے سالوں بعد اُنہیں اپنے گھر دیکھ فرح کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رہا تھا۔۔۔۔
“پھوپھو یہ پیاری سی لڑکی کون ہے۔۔۔۔؟؟؟”
فرح اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی کیوٹ سی لڑکی کو دیکھ پوچھنے لگی تھی۔۔۔
“یہ پیاری سی لڑکی اُجالا ہے۔۔۔۔ نسرین کی سب سے چھوٹی بیٹی۔۔۔۔ اور تمہاری لاڈلی۔۔۔ بھول گئی کیا۔۔۔۔؟؟؟”
سمیہ بیگم بھی اپنی بہن جیسی نند کو اتنے ٹائم بعد دیکھ بے پناہ خوش تھیں۔۔۔۔
“ارے اُجالا کتنی بڑی اور مزید خوبصورت ہوگئی ہے۔۔۔ “
فرح اُجالا سے گلے ملتی خوشی سے چہکی تھی۔۔۔
“آپ بھی بہت حسین ہوگئی ہیں آپی۔۔۔۔”
اُجالا اپنے مخصوص دھیمے مترنم لہجے میں بولتی اُن سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔۔
فرح نے آج اتنے دنوں بعد اپنے گھر میں سب کو مسکراتا دیکھ دل ہی دل میں سب کی نظر اُتاری تھی۔۔۔ ورنہ اُس ایک حادثے کے بعد اُن کا آشیانہ بکھر کر رہ گیا تھا۔۔۔
اُس ایک شاطر لڑکی کی وجہ سے اُس نے اپنے دو بھائیوں کو کھویا تھا۔۔۔۔
نور اور زین کے کھلکھلاتے چہرے دیکھ اُسے اپنی پھوپھو اور اُجالا پر بہت پیار آیا تھا۔۔۔ جن کے آنے سے اُن کے گھر کے بوجھل ماحول میں کچھ کمی آئی تھی۔۔۔۔
“آپ لوگ باتیں کریں میں آج اپنے ہاتھوں سے آپ سب کے لیے کھانا بناؤں گی۔۔۔۔”
فرح اُن سب پر ایک مسکراتی نظر ڈالتی کچن کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ جہاں ملازمین پہلے سے کام میں لگے ہوئے تھے۔۔۔
“آپی کیا میں بھی آپ کی مدد کروا سکتی ہوں۔۔۔۔”
کچھ دیر بعد فرح کو عقب سے اُجالا کی نرم سی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
“ہاں کیوں نہیں گڑیا آجاؤ۔۔۔۔۔”
فرح نے اُسے اشارے سے اندر بلایا تھا۔۔۔
“آپ کا گھر بہت پیارا ہے آپی۔۔۔۔۔ “
اُجالا نے اُن کے ساتھ پیاز کاٹنے میں مدد کرتے ستائشی نگاہوں سے کھڑکی سے باہر نظر آتے لان کو دیکھتے کہا تھا۔۔۔ جہاں سرسبز لان کو بہت ہی خوبصورت پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔
“اور یہ پھول تو بہت ہی پیارے ہیں۔۔۔۔”
اُجالا کو وہ پھول بہت پسند آئے تھے۔۔۔۔
“ہاں یہ حمدان بھائی نے لگائے تھے۔۔۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے فرح کے ہاتھ ایک پل کے رکے تھے۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ خود کو نارمل کرتی واپس مصروف ہوگئی تھی۔۔۔
“وہ کہاں ہیں۔۔۔ ؟؟ گھر کے سب لوگوں سے ملاقات ہوگئی۔۔۔ صرف اُن کو نہیں دیکھا ابھی۔۔۔۔”
اُجالا نے فرح کا انداز بہت غور سے نوٹ کیا تھا۔۔
“وہ ہمارے ساتھ نہیں رہتے۔۔۔۔ “
فرح کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔۔۔ جس کا ریزن اُس نے پیاز کی کرواہٹ ہی ظاہر کرنا چاہتی تھی۔۔ مگر اُجالا کو ایسا بالکل بھی نہیں لگا تھا۔۔۔۔
“کیوں۔۔۔؟؟؟ کیوں نہیں رہتے۔۔۔۔؟؟؟ اِس گھر کے بڑے بیٹے ہیں وہ۔۔۔۔ اور اُن کی تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی نا۔۔۔ تو وہ علیحدہ کیوں رہتے ہیں۔۔۔؟؟”
اُجالا کو فرح کی بات سن کر شدید حیرت ہوئی تھی۔۔۔
“لمبی کہانی ہے پھر کسی فارغ وقت پر سناؤں گی۔۔۔ ابھی جلدی سے بریانی چڑھا لیتے ہیں۔۔۔ ایسا نہ ہو بھوک کی وجہ سے سب کچن میں ہی دھاوا بول دیں۔۔۔۔”
فرح اُس کی بات کو صفائی سے ٹالتی پر مزاح انداز میں کہتی اُٹھ گئی تھی۔۔۔
اُجالا نے نوٹ کیا تھا کہ حمدان کے ذکر پر گھر کے باقی افراد کا ری ایکشن بھی فرح جیسا ہی تھا۔۔۔ یہ سب لوگ اُس ایک شخص کو نجانے کتنا مس کرتے تھے۔۔۔ جو بے پرواہ اور سنگدل بنا اپنے اتنے پیارے لوگوں کو دکھ دے رہا تھا۔۔۔۔
اُجالا فرح کی بات پر مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتی اُس کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

زور دار دھماکے کے ساتھ کسی نے روم کا دروازہ بند کیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے اِس افتاد پر لرزتے وجود کے ساتھ پلٹ کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں بند دروازے کے آگے کھڑے شاہ ویز سکندر نے دیکھ پریسا کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
پریسا کو لگا تھا اب وہ نہیں بچ پائے گی۔۔۔ یہ شخص اتنی بڑی گستاخی پر اُسے ایک پل کے لیے بھی زندہ نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔
“وووو ہہہ۔۔۔ وہ میں۔۔۔۔۔۔ “
پریسا بولنے کی کوشش میں ہکلا گئی تھی۔۔۔ اُس سے الفاظ ادا نہیں ہوپائے تھے۔۔۔
“کیا کررہی ہو میرے کمرے میں۔۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کی جانب قہر برساتی نظروں سے دیکھتا وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ پریسا کو کمرے کے در و دیوار ہلتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔۔
“کل رات تم آئی تھی یہاں۔۔۔۔؟؟؟”
ایک ایک قدم اُس کی جانب بڑھاتا وہ اُس کے نازک سراپے پر اپنی خونخوار نگاہیں گاڑھے ہوئے تھا۔۔۔۔
بار بار چہرے پر آگرتی سیاہ زلفوں کو پیچھے ہٹاتی وہ بالکل سفید پڑ چکی تھی۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔۔۔ وہ اِس وقت کریم کلر کے جوڑے میں نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔ اُس کے گلابی لرزتے ہونٹ کسی کا بھی ایمان ڈگمگانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔۔۔ مگر اُس کے قریب آتے شخص کے لیے جیسے یہ حُسن کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔
“مم میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔”
شاہ ویز کو ایک دم اپنے سر پر آن پہنچتے دیکھ پریسا بمشکل اپنی صفائی میں کچھ بول پائی تھی۔۔۔۔
“خبردار جو اِس وقت تم بے ہوش ہوئی تو۔۔۔۔ یہیں گاڑھ دوں گا۔۔۔۔”
پریسا کو لڑکھڑاتا دیکھ شاہ ویز اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے دیوار کی جانب دھکیلتا کرختگی سے بولا تھا۔۔۔۔
اُس کی بات پر پریسا نے اُسے ایسے گھورا تھا جیسے اُس کی دماغی حالت پر شبہ ہو۔۔۔ وہ کونسا اپنی مرضی سے بے ہوش ہوتی تھی۔۔۔۔ اُس کا بہت دل چاہا تھا جواب دینے کو مگر اس شخص کی دہشت کے آگے اِس وقت اُس کی زبان کھل نہیں پائی تھی۔۔۔
وہ اُس کے بے حد قریب آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ اُس کے وجود سے اُٹھتی دلفریب خوشبو پریسا کو اپنے حواسوں پر سوار ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس نے بے اختیار اپنی سانس روک لی تھی۔۔۔۔۔
“کیا کررہی تھی یہاں۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز کی نگاہیں بار بار اُس کے چہرے کو چھوتی اُس کی حسین زلفوں میں اُلجھی تھیں۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے خود کو بھرپور سرزنش کرتا وہ فوراً نگاہیں چرا گیا تھا۔۔۔
یہ لڑکی سراپا حُسن تھی۔۔۔ اور وہ بلیک بیسٹ تھا۔۔۔ جو اِس محبت اور حُسن کے فریب میں پھنسنا سب سے احمقانہ عمل سمجھتا تھا۔۔۔۔
“کک کچھ نہیں۔۔۔۔ مم میں۔۔۔ وہ۔۔۔۔”
اُس کے سوشل سرکل میں ہر کوئی اُس کے کانفیڈنس کا دلداہ تھا۔۔۔ سب کو اُس کا کھل کر اور نڈر ہوکر بولنا بہت پسند تھا۔۔۔۔ وہ اپنی کالج لائف تک نیشنل لیول پر ڈیبیٹس کی چیمئین رہ چکی تھی۔۔۔۔
مگر اِس شخص کے سامنے اُس کے سارے میڈلز اور تعریفیں دھڑی کی دھڑی رہ جاتی تھیں۔۔۔ جس کے نڈر ہوکر بولنا تو دور۔۔۔ وہ ہکلا کر رہ جاتی تھی۔۔۔۔
“کیا وہ۔۔۔۔۔؟؟؟؟ “
شاہ ویز نے بھنویں اُٹھاتے اپنی سیاہ آنکھوں سے اُسے گھورا تھا۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے اُس کی دونوں کلائیاں اپنی آہنی گرفت میں قید کرتا اُس کی کمر پر موڑ گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے ایسا کرنے پر پریسا اُس کے مزید قریب آچکی تھی۔۔۔۔ جس کا ایک غصے میں اور دوسری ڈر کے مارے احساس نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
“میرے اِس بات کا جواب بالکل سچ سچ دینا۔۔۔ رات کو تم میرے کمرے میں آئی تھی۔۔۔ یا نہیں۔۔۔۔ ورنہ آج رات تم یہیں بندھی رہوں گی اِس اندھیرے کمرے میں۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی گول گول آنکھوں میں جھانکتے دھمکی آمیز لہجے میِں بولا تھا۔۔۔۔
پریسا نے ایک نظر اُس کے پتھریلے تاثرات سے سجے مغرور نقوش کو دیکھا تھا۔۔۔ جہاں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے خود کو بہادر ظاہر کرتی وہ نفی میں سر ہلا گئی تھی۔۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ میں یہاں کیوں آؤں گی۔۔۔۔۔ مجھے تو پتا بھی نہیں کہ یہ تمہارا کمرہ ہے۔۔۔۔ میں تو ابھی اقراء کو تلاش کرتی آئی تھی۔۔۔۔”
پریسا نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے انتہائی صفائی کے ساتھ جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔۔ اندر سے اُس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔۔۔۔ وہ جانتی تھی اگر سچ بول دیتی تو اِس انا کے مارے شخص نے اُسے گولی مارنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگانا تھا۔۔۔ شاید جس حالت میں پریسا اُسے دیکھ چکی تھی ویسی حالت میں وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں آیا تھا۔۔۔۔
اِسی وجہ سے وہ اب ایسے بپھرا شیر بنا پھر رہا تھا۔۔۔۔
“میں تمہاری بات پر یقین کررہا ہوں۔۔۔ لیکن اگر یہ جھوٹ ہوا تو تمہارے یہ حسین ہاتھ پیر توڑ کر اپنے کتوں کو کھلا دوں گا۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کی کلائیاں جھٹکے سے آزاد کرتے اُسے خود سے دور دھکیل دیا تھا۔۔۔۔
“اِس نے ابھی میری تعریف کی۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا اپنی دودھیا ملائم کلائیوں کو ایک دم لال ہوا دیکھ درد سے بلبلاتی اُس کی بات پکڑنے دے باز نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔ اُس کی بڑبڑاہٹ پر شاہ ویز نے اُسے گھورا کر دیکھا تھا۔۔۔ جس پر نفی میں سر ہلاتے اُس نے اُس کے قریب سے نکل جانا چاہا تھا۔۔۔۔
وہ جان بچ جانے پر اپنے رب کا شکر ادا کرتی تیز تیز قدموں سے چلتی دروازے تک پہنچی ہی تھی۔۔ جب دروازے کے بیچ و بیچ کھڑے بہت بڑی جسامت کے مالک کتے کو دیکھ اُس کے منہ سے دلخراش چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔
بنا کچھ سوچے سمجھے وہ خوف کے عالم میں واپس بھاگتی موبائل پر مصروف ہوتے شاہ ویز سکندر کے سینے میں جا سمائی تھی۔۔۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ شاہ ویز کچھ سمجھ ہی نہیں پایا تھا۔۔۔۔ اُس کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر زمین بوس ہوا تھا۔۔۔
اُس نے آگ اُگلتی نگاہوں سے پریسا کو گھورنا چاہا تھا۔۔۔ مگر وہ جس طرح اُس کے سینے سے شرٹ کو مُٹھی میں دبوچے دوسرا بازو اُس کی کمر کے گرد حمائل کیے وہ اُس کے ساتھ کسی مقناطیس کی طرح چمٹی شاہ ویز سکندر کی دھڑکنیں وہیں منجمند کر گئی تھی۔۔۔۔
پریسا کے پیچھے آتے کتے کی بھونکنے کی آوازیں اُس کی دھڑکنوں کے پیچھے دب گئی تھیں۔۔۔۔ اُسے خیال رہا تھا تو بس اپنے سینے سے لگے اُس لرزتے کانپتے نازک وجود کا۔۔۔۔
آج بہت عرصے بعد اُس کے سینے میں موجود پتھر میں اُسے کچھ ہلچل محسوس ہوئی تھی۔۔۔
لیکن اِس سے پہلے کہ اُس کا دل اِن دھڑکنوں کا عادی ہوتا۔۔۔۔ اور سینے پر محسوس ہوتا پریسا کی ہتھیلی کا نرم گرم لمس اپنا جادو پوری طرح چلا پاتا اندر داخل ہوتے جنید کی آواز نے سارا فسوں توڑ دیا تھا۔۔۔۔
“آئم سوری سر۔۔۔۔ یہ پتا نہیں کیوں رسی چھڑا کر سیدھا آپ سے ملنے بھاگ۔۔۔۔۔۔”
اپنے دھیان میں کتے کے پیچھے اندر آتا جنید سامنے کا منظر دیکھ اپنی جگہ سن ہوا تھا۔۔۔۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اِس وقت پریسا آفندی شدید خوف کے عالم میں جس شخص کے گلے لگی کھڑی تھی۔۔۔۔ وہ شاہ ویز سکندر ہی تھا۔۔۔ یا اُس کا وہم۔۔۔۔۔ اور اگر پریسا اُس بلیک بیسٹ کے قریب گئی بھی تھی تو اُسے باقی تمام لڑکیوں کی طرح بلیک بیسٹ نے خود سے دور کیوں نہیں جھٹکا تھا۔۔۔۔۔ مگر جنید اِس وقت بنا کچھ بولے کتے کی رسی تھام کر وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

بھیگی آنکھیں صاف کرتے اُس نے گردن اُس جانب گھمائی تھی۔۔۔ جہاں کھڑے شخص کو دیکھ اُس کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔
“تم۔۔۔؟؟؟”
حبہ زہر خند لہجے میں بولتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔
“تم میرے گھر میں کیا کررہے ہو؟؟؟؟”
حبہ اِس وقت اندر سے بہت کمزور پڑ چکی تھی۔۔۔ اُس میں کم از کم اِس وقت اِس شخص سے لڑنے کی ہمت بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
“ایس پی صاحبہ میری سوچ سے زیادہ بے مروت نکلی تم۔۔۔۔ گھر آئے مہمانوں کی خاطر مدارت کی جاتی ہے۔۔۔۔ ایسے منہ پھاڑ کر نہیں پوچھا جاتا۔۔۔۔”
سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس سلیوز کو کہنیوں تک فولڈ کیے۔۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح اِس وقت بھی چہرے کو سیاہ نقاب میں چھپایا ہوئے تھا۔۔۔ مگر اب حبہ اُسے ایسے ہی پہچاننے کی عادی ہوچکی تھی۔۔۔۔
اِس لباس میں اُس کے کسرتی چوڑے کندھے اور سینہ نمایاں تھے۔۔۔۔ جسے دیکھ کر اُس کی ٹیم کے ہر فرد کو اُس کے ساتھ ہوتے تحفظ کا بھرپور احساس ہوتا تھا۔۔۔۔۔
مگر اِس وقت حبہ نے اُسے اُتنی ہی نفرت سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ بنا حبہ کے کہے اُس کے برابر صوفے پر آن بیٹھا تھا۔۔۔
حبہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔
اِس شخص کی اِس بے باکی پر اُس کا دل چاہتا تھا اِس کی یہ نقاب سے جھانکتی دلکش نگاہیں نوچ لے۔۔۔۔
“دیکھو میں اِس وقت بہت زیادہ زہنی ٹینشن کا شکار ہوں۔۔۔۔ تمہاری جانب سے مزید کوئی بُری خبر افورڈ نہیں کرسکتی۔۔۔۔ پلیز مجھ پر رحم کھاؤ۔۔۔ اور چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔”
حبہ نم آنکھوں سے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑتی میر حازم سالار کا دل چیر گئی تھی۔۔۔۔ جو اپنے سینے پر گولی تو آرام سے کھا سکتا تھا مگر اِن بھوری آنکھوں کو بھیگتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
حازم نے ہاتھ بڑھاتے اُس کے جڑے ہاتوں کو اپنی مُٹھی میں قید کرتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
حبہ اُس سے اِس حملے کی توقع نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔ سیدھی اُس کے چوڑے سینے پر آن گری تھی۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے وہ اِس افتاد پر سنبھل کر اُس سے دور ہوپاتی حازم اُسے اپنے مضبوط حصار میں قید کرچکا تھا۔۔۔۔۔۔
“چھوڑے مجھے۔۔۔۔ یہ کیا بے ہودگی ہے۔۔۔۔۔؟؟؟؟ “
حبہ اُس سے دور ہونے کی کوشش کرتی چلا اُٹھی تھی۔۔۔۔
“آئی وہ کل یو۔۔۔ باسٹرڈ۔۔۔۔”
حبہ اُس کے سینے پر مکے برساتی مسلسل مزاحمت کررہی تھی۔۔۔ جبکہ حازم اُس کے بالوں سے اُٹھتی دلفریب مہک اپنی سانسوں میں اُتارتا اِس وقت اپنی زندگی کے سب سے پرسکون اور خوبصورت لمحوں کو انجوائے کررہا تھا۔۔۔
وہیں اُس کی گرفت میں قید اُس کی جنگلی بلی اُس کی گردن کو اپنے ناخنوں سے لہولہان کرچکی تھی۔۔۔
“یار ایس پی تم تو میری سوچ سے زیادہ ظالم ہو۔۔۔۔ باقی لڑکیاں میرے قریب آنے کے لیے مرتی ہیں اور ایک تم ہو کہ۔۔۔۔۔”
حازم اُس کے بالوں کی لٹ کھینچتا بات ادھوری چھوڑتا آنکھ دبا گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اُس کی بات پر حبہ نے پہلے سے بھی کہیں زیادہ ناگواریت سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔
“وہ سب لڑکیاں تمہاری طرح بے غیرت ہونگی۔۔۔۔”
حبہ کے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔ جب حازم نے اپنی بھاری ہتھیلی اُس کے ہونٹوں پر دباتے اُس کا چہرا اپنے قریب کیا تھا۔۔۔۔
“اتنی گستاخیاں مت کرو یار۔۔۔ بعد میں تمہارے لیے ہی مشکل ہوجائے گی۔۔۔۔ میں اتنا اچھا بھی نہیں ہوں۔۔۔۔ “
حازم کی آنکھوں میں اُس کے الفاظ پر غصہ تھا۔۔۔ مگر گرفت اور لفظوں میں ویسی ہی نرمی موجود تھی۔۔۔ جو حبہ کے قریب آتے حازم کے لمس میں در آتی تھی۔۔۔
اگر حبہ ایک بار بھی اِس شخص کا درندوں بھرا رُوپ دیکھ لیتی تو ایک پولیس آفیسر ہونے کے باوجود اُس سے خوف کھاتی۔۔۔۔۔
“تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ کیوں ہر وقت میرے سائے کی طرح میرے اردگرد منڈلاتے رہتے ہو۔۔۔۔ یہ سب بہت غلط ہے۔۔۔۔ تم لوگوں کے لیے یہ سب جائز ہوگا۔۔۔ مگر میرے لیے نہیں۔۔۔۔ میں کسی کی منکوحہ ہوں۔۔۔ تم یوں میرے قریب نہیں آسکتے۔۔۔۔”
حبہ نے آخر کار زچ ہوتے اپنے لہجے کو بہت مشکل سے نرم کرتے اُسے سمجھانا چاہا تھا۔۔۔ کیا پتا کوئی بات اِس شخص کی اُلٹی کھونپڑی میں بیٹھ جائے۔۔۔۔
“میری معلومات کے مطابق تمہارا شوہر مر چکا ہے۔۔۔ اور اگر نہیں بھی مرا تو اُس کے سامنے آنے پر میں اپنے ہاتھوں سے اُسے مار دوں گا۔۔۔ “
حازم اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ایسے بولا تھا جیسے معمول کی کوئی بات کررہا ہو۔۔۔۔
“تم۔۔۔۔۔”
حبہ نے اُس کے چہرے کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔۔ مگر اُس سے پہلے ہی حازم اُسے تھام گیا تھا۔۔۔۔
“میں یہاں تم سے لڑنے نہیں۔۔۔ تمہاری مدد کرنے آیا ہوں۔۔۔ مگر مجال ہے جو تم میری کوئی بات آرام سے سن لو۔۔۔۔”
حازم اُس کے ہاتھ کی نرماہٹیں محسوس کرتا اب کی بار نرمی سے بولا تھا۔۔۔۔ وہ اب مزید ٹائم ویسٹ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
“کیسی مدد۔۔۔۔؟؟؟ اور تم میری مدد کیوں کرو گے۔۔۔ تم تو خود میرے دشمن ہو۔۔۔۔”
حبہ کی مزاحمت ابھی بھی جاری تھی۔۔۔۔ اُس کی بڑی بڑی جھیل سے آنکھیں جب آنکھوں میں مشکوکیت لیے اُسے دیکھتی تھیں۔۔۔ حازم کو اپنا دل اُن میں ڈوبتا محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔
“باقی لوگ دوستی کے ناطے مدد کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ مگر میں دشمنی کے ناطے۔۔۔۔ بے شک اِسے اُدھار سمجھ کر آگے کسی موقع پر تم بِھی اُتار دینا۔۔۔۔”
حازم اُس کے سامنے خود کو اُس کا ہمدرر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اِس لیے سودا بازی کرتے بولا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“کیا ہوا خیریت۔۔۔۔؟؟؟ آپ نے مجھے اِس طرح اچانک یہاں کیوں بلایا۔۔۔۔۔؟؟؟”
جنید گھبرایا پریشان سا مہروسہ کے بلاوے پر پارک میں پہنچا تھا۔۔۔ دونوں نے ہی اپنے حلیے تبدیل کر رکھے تھے۔۔۔
“ایک بہت ضروری کام کے لیے۔۔۔۔۔ ایس پی حمدان اور باقی اداروں کی نظر میں بلیک سٹارز کی تیسری گینگ لیڈر جل کر مر چکی ہے۔۔۔۔ جو کہ اُنہیں کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔ تو اتنے بڑے نقصان کے بعد بلیک سٹارز اور اُن کی ٹائیگر فورس خاموشی سے تو بیٹھے گی نہیں۔۔۔۔ایس پی حمدان کو اِس بات کا حساب تو دینا ہی پڑے گا نا۔۔۔”
مہروسہ کی آنکھوں میں اک عجیب سی پراسرایت تھی۔۔۔۔
“تو آپ چاہتی ہیں میں ایس پی حمدان کو اِس غلطی پر اُوپر پہنچا دوں۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ کی بات پر جنید نے سوالیہ نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔۔ دوبارہ ایسا سوچا بھی تو پہلے تمہیں اُوپر پہنچاؤں گی۔۔۔۔۔ “
جنید کی بات مہروسہ کے دل میں خنجر کی طرح پیوست ہوئی تھی۔۔۔ جنید اُس کے انداز پر مسکرائے بنا نہیں رہ سکا تھا۔۔۔۔
“کیا ہی بات ہے میرے تینوں گینگ لیڈرز کی۔۔۔ نفرت بھی شدت سے کرتے ہیں اور محبت بھی۔۔۔”
جنید شاہ ویز کے روم کا منظر تصور میں لاتا معنی خیزی سے بولو۔۔۔
“میرا اور میر سر کا تو ٹھیک ہے۔۔۔ یہ تینوں سے کیا مراد ہے تمہاری۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ نے حیرت سے اُسے دیکھا تھا۔
“کچھ بھی نہیں مذاق کررہا تھا۔۔۔۔ مجھے شاہ سر کے ہاتھوں پٹنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔”
جنید نے آخری بات دل میں ہی بولی تھی۔۔۔۔
“آپ یہ بتائیں ایس پی ہمدان کے ساتھ کرنا کیا ہے۔۔۔۔”
جنید کو یہاں زیادہ دیر رکنا خطرے سے خالی نہیں لگا تھا۔۔۔۔
“اُنہیں کال کرکے۔۔۔۔ اُن کے بھائی اور بہن کو قتل کرنے کی دھمکی دینی ہے۔۔۔۔ اور پھر اُن کے چھوٹے بھائی زین پر قاتلانہ حملہ بھی کروانا ہے۔۔۔۔”.
مہروسہ اپنے مخصوص کھردرے لہجے میں بولتی جنید کے سر پر بم پھوڑ گئی تھی۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔