Jaan e Sitamgar By Farwa Khalid Readelle50120 Last Episode Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Pt.1
“بھائی آپ نے مہرو کے ساتھ ٹھیک نہیں کیا۔۔۔ میں آپ سے اب کبھی بات نہیں کروں گی۔۔۔ آپ نے میری بہت اچھی اور پیاری دوست کو چھینا ہے مجھ سے۔۔۔ وہ بہت اچھی تھی بھائی اور آپ سے بہت پیار بھی کرتی تھی۔۔۔ آپ نے اُس کی زندگی تو اُس سے چھینی ہی ہے آپ نے اپنا بھی بہت نقصان کیا ہے۔۔۔ اب آپ اپنی ساری زندگی بھی لگا دیں نا تب بھی اُس جیسی محبت نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔۔۔۔”
حمدان ٹوٹا بکھرا سا گھر پہنچا تھا۔۔۔ جہاں سامنے ہی فرح روتی بلکتی کھڑی اُس کے ضمیر کو مزید کچوکے لگا گئی تھی۔۔۔۔
اپنے سامنے کسی کو ایک لفظ تک نہ بولنے دینے والا ایس پی حمدان صدیقی۔۔۔ اِس وقت گم صم سا کھڑا بس اُسے ہی دیکھے گیا تھا۔۔۔۔
اُس نے ایک نگاہ ڈرائینگ روم پر ڈالی تھی۔۔ جہاں چاروں جانب سوگواریت سی چھائی ہوئی تھی۔۔۔
نسرین بیگم کو جب سے مہروسہ کے بارے ميں پتا چلا تھا وہ اُس وقت سے بے ہوش تھیں۔۔۔
اُنہوں نے مہروسہ کو اپنی سگی بیٹیوں سے زیادہ چاہا تھا۔۔۔ حمدان سمیت اُن سب تک مہروسہ کے مرنے کی خبر ہی پہنچائی گئی تھی۔۔۔
جس خبر نے صدیقی ولا کے ہر فرد کی روح فنا کردی تھی۔۔۔ مہروسہ کچھ ہی وقت میں اُن سب کے دلوں میں اپنی بہت گہری جگہ بنا چکی تھی۔۔۔ بس ایک اُسی سنگدل کا دل نہیں جیت پائی تھی۔۔۔
جس کی خاطر اُس نے اتنا وقت تکلیف کاٹی تھی۔۔۔ اُس کی کٹیلی باتیں اور نفرت بھرے نشتر برداشت کیے تھے۔۔۔
جس سے مہروسہ کی روح لہولہان ہوچکی تھی۔۔۔ مگر وہ جاتے جاتے بھی اپنی زبان پر ایک شکوہ تک نہیں لائی تھی حمدان کے لیے۔۔۔
یہی تھی اُس دیوانی لڑکی کی حمدان صدیقی کے لیے محبت۔۔۔ جو مہروسہ کنول کے سوا کوئی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
ہمیشہ اُس کے قریب ہوتے اُس کے وجود کو نظر انداز کرنے والا اِس وقت گھر کے ہر کونے میں اُسے ہی تلاش کررہا تھا۔۔۔ وہ اُسے ہر جگہ دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
کہیں اُس سے شرماتی۔۔ کہیں گھبراتی اور کہیں اُس کے قہر برساتے غصے سے خوف کھاتے ہوئے۔۔۔۔
حمدان صدیقی کو اپنا دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔ اُس کا دل اذیت اور تکلیف سے چور چور تھا۔۔۔ کوئی اِس وقت اُس کے دل سے پوچھتا کہ وہ کتنے درد میں تھا۔۔۔
“آپ جانتے ہیں حمدان بھائی وہ کتنے پیارے دل کی لڑکی تھی۔۔۔ آپ اور ساری دنیا والے اُسے ایک گینگسٹر اور دنیا کی بُری ترین انسان سمجھتے تھے نا۔۔۔
مگر میں آپ کو بتاؤں اُس کے جیسی پیاری اور نیک نیت والی لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔۔۔ وہ لوگوں کی جانیں لیتی تھی۔۔۔ مگر صرف اُن کی جو ظالم اور جابر تھے۔۔۔۔ وہ اُن لوگوں کا خاتمہ کرتی تھی۔۔۔ جن اُونچی شان والوں پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت آپ کا محکمہ نہیں دیتا آپ کو۔۔۔۔
اُس نے نجانے کتنی لڑکیوں کی عزتیں اور زندگیاں بچائی ہیں۔۔۔ اُس نے آپ سے جھوٹ بولا کیونکہ جانتی تھی آپ اُس سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ اُس کا نام سنتے ہی اُسے اپنی زندگی سے بے دخل کردیں گے۔۔۔ اُس نے مجھے کہا تھا کہ میں جانتی ہوں بہت جلد میری زندگی کا سفر ختم ہونے والا ہے۔۔۔ مگر میں جاتے جاتے صرف اتنا چاہتی ہوں کہ حمدان کی بیوی بن کر رخصت ہوں۔۔۔ لیکن مجھے علم ہے حمدان مجھے طلاق دے دیں گے۔۔۔ وہ مجھ جیسی لڑکی کو اپنی بیوی کی صورت کبھی قبول نہیں کریں گے۔۔۔ میں اتنی بُری اور ناپاک ہوں اُن کی نظر میں۔۔۔ مگر میں قسم کھا کر کہتی ہوں۔۔۔ میں نے اتنے سال شاہ سر اور میر سر کے ساتھ گزارے ہیں مگر ہمیشہ اُنہوں نے مجھے سگی بہنوں سے بڑھ کر چاہا ہے۔۔۔ میرے سر کے ایک بال تک حمدان کے سوا کسی مرد کی نگاہوں نہیں پڑی۔۔۔ میں کبھی کسی مرد کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
مگر حمدان کو دیکھ مجھ جیسی احساس سے عاری اور بے رنگ زندگی گزارنے والی بدل گئی۔۔۔ میں ہمیشہ سے جانتی تھی۔۔۔ جو کام میں کررہی ہوں بہت جلد موت کی بھینٹ چڑھ جاؤں گی۔۔۔ پہلے کبھی مرنے سے ڈر نہیں لگا۔۔۔ مگر جب سے حمدان میری زندگی میں شامل ہوئے ہیں مجھے موت سے ڈر لگنے لگا ہے۔۔۔ میں اب اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتی۔۔۔ میں جینا چاہتی ہوں حمدان کا ہاتھ تھام کر اُن کے سینے سے لگ کر اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔ لیکن میں جانتی ہوں بہت بدقسمت ہوں۔۔۔ آج تک دل کی کوئی بھی مراد کبھی بر نہیں آئی۔۔۔
اور یہ تو میں پھر اس سے بھی بہت بڑا مانگ رہی ہوں۔۔۔ یہ کیسے پورا ہوسکتا ہے۔۔۔ “
اُجالا کہ چھوٹی بہن حمنہ بات ختم کرتے ہچکیوں سے رو دی تھی۔۔۔ جبکہ حمدان کو لگا تھا جیسے اُس کی روح کو نہایت ہی بے دردی سے چیر دیا گیا ہو۔۔۔ اور دل میں نوکیلا ُخنجر پیوست کردیا ہو۔۔۔ جس کی اذیت ناک تکلیف سے بلبلا اُٹھنے کے بعد بھی وہ کچھ نہیں کر پارہا تھا۔۔۔
حمدان وہاں مزید ایک سیکنڈ بھی نہیں رک پایا تھا۔۔۔ اپنے روم میں داخل ہوتے اُس نے روم کا دروازہ اتنی زور سے بند کیا تھا۔۔۔ کہ گھر کی در و دیوار لرز اُٹھی تھیں۔۔۔
“تم مجھے یوں چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔۔۔ نہیں تمہیں کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔ تم پر تم سے بھی زیادہ میرا حق تھا۔۔۔ پھر تم اپنی مرضی سے خود کو مجھ سے دور کیسے لے جاسکتی ہو۔۔۔ میں جانتا ہوں تم سمیت ہر انسان یہی سمجھ رہا ہے کہ میں نے تمہاری جان لی ہے۔۔۔۔
میں کسی کو وضاحت نہیں دوں گا۔۔۔ صرف تمہیں دوں گا۔۔۔ پلیز ایک بار میرے سامنے آجاؤ۔۔۔ واپس آجاؤ۔۔ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ کتنی محبت کے مجھے تم سے۔۔۔ نفرت کرتا تھا تم سے۔۔۔ مگر تم نے کیسے میری نفرت کو اپنی محبت میں بولا میں سمجھ ہی نہیں پایا۔۔۔ مجھے اپنا اسیر بنا کر مجھ سے دور کیسے جاسکتی ہو تم۔۔۔
تم تو دیوانی تھی نا میری۔۔۔ میری زرا سی تکلیف پر ساری ساری رات جاگ کر گزار دیتی تھی۔۔۔
پھر اب کیوں نہیں آرہی میرے پاس۔۔۔ دیکھ نہیں رہی میں کتنی اذیت میں ہوں۔۔۔۔”
حمدان نے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر مکا جڑتے ہاتھ کو پوری طرح سے لہولہان کردیا تھا۔۔۔۔ چھناکے کی آواز کے ساتھ وہ شیشہ کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔۔۔
اِس کے بعد بھی وہ رُکا نہیں تھا۔۔۔
ایک کے بعد دوسری شے کو اُٹھا اُٹھا کر پھینکتے وہ خود کو بُری طرح سے زخمی کر رہا تھا۔۔۔
مگر اُسے ہوش نہیں تھا۔۔۔
ہزیانی انداز میں مہروسہ کو پکارتا آج پہلی بار حمدان صدیقی اتنی قابلے رحم حالت میں لگا تھا۔۔۔
وہ خود کو بیرونی چوٹیں پہنچا کر اپنے اندر کی اذیت کم کرنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن دل کی تکلیف تو کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔
اُسے اپنا وہ ایک ایک ستم یاد آیا تھا۔۔۔ جو سنگدلی اور ظلم کی انتہا کرتے اُس نے اپنی محبت میں دیوانی اُس معصوم لڑکی پر ڈھائے تھے۔۔۔
“کیوں کیا میں نے وہ سب۔۔۔ ایک بار اُس کی زبانی کیوں نہیں پوچھی اُس کہ اصل حقیقت۔۔۔ کیونکہ اُسے اذیتوں کی مار مارتا رہا۔۔۔ “
حمدان نے پوری قوت سے اپنا دوسرا ہاتھ کانچ کے ٹیبل پر مارتے اُسے بھی بُری طرح زخمی کردیا تھا۔۔۔
کانچ کے کئی ٹکڑے حمدان کے ہاتھ میں چبھ گئے تھے۔۔۔ مگر اُسے پرواہ ہی کہا تھی۔۔۔
وہ تو بس اِس وقت صرف اور صرف مہروسہ کو اپنے سامنے چاہتا تھا۔۔۔۔
“میں نے بہت غلط کیا تھا نا تمہارے ساتھ۔۔۔ مجھ سے خود کو چھین کر اُسی کی سزا دی ہے نا تم نے مجھے۔۔ میں نہیں برداشت کرسکتا یہ دردناک سزا۔۔۔۔ نہیں جی پاؤں گا تمہارے بغیر۔۔۔ پلیز واپس لوٹ آؤ۔۔۔ پلیز۔۔۔ میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔ مجھے اپنا عادی بنا کر تم یوں منہ نہیں موڑ سکتی مجھ سے۔۔۔۔ مہروسہ کنول تم اپنے ایس پی کی رگ رگ میں خون بن کر دوڑنے لگی ہو۔۔ میرے دل کی دھڑکن بن کر دھڑکنیں لگی ہو۔۔ تو تم اتنی آسانی سے مجھے چھوڑ کر کیسے جاسکتی ہو۔۔۔”
حمدان بیڈ پر سر کے بل چت گرتا چھت کو گھورتے ہوئے بولا تھا۔۔۔ جب اُس کی نظر تکیے کے قریب پڑے مہروسہ کے بلیک کلر کے دوپٹے پر پڑی تھی۔۔۔۔
جس کے کناروں پر سیاہ نگوں کی کناری بنائی گئی تھی۔۔۔ حمدان والہانہ چاہت سے اُسے دوپٹے کو اپنے چہرے پر رکھتا اُس کی خوشبو اپنی سانسوں میں اُترتی محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔
“تم کہتی تھی میں بہت ضدی ہوں۔۔۔ اب میری یہی ضد تمہیں میرے پاس لائے گی۔۔۔ تمہیں واپس اپنے ایس پی کے پاس لوٹنا ہی ہوگا۔۔۔”
حمدان اُس کے دوپٹے پر لب رکھتا اُسے سینے سے لگا گیا تھا۔۔۔۔
اگر مہروسہ اپنے ایس پی کی اپنے لیے یہ دیوانگی دیکھ لیتی تو شاید اپنے حواس قائم نہ رکھ پاتی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“تمہیں تو جو سزا میں دوں گا تم آئندہ کبھی بھی مجھ سے دور جانے سے پہلے ہزار بار سوچو گی۔۔۔ میں تمہیں بتاؤں گا کہ شاہ ویز سکندر کو دھوکا دینے کی سزا کتنی درد ناک ہوتی ہے۔۔۔۔ “
شاہ ویز خون آشام نگاہوں سے اُسے دیکھتے بولتا پریسا کے ساتھ ساتھ وہاں موجود ہر شخص کا خون خشک کر گیا تھا۔۔۔
اُن سب کے ہاتھوں میں گنز تھیں مگر بہت کوشش کے بعد بھی کسی سے ایک گولی بھی نہیں چل پائی تھی۔۔۔
“مجھے سفیان آفندی کو مارتے دیکھ تم اُس کی جان بچانے میرے سامنے آن کھڑی ہوئی ہو۔۔۔ اور وہ سات کے قریب لوگ مجھے مارنے کے ارادے سے مجھ پر گن تانے کھڑے ہیں۔۔۔ اور تم اُنہیں میں شریک ہوکر اُن کی آٹھویں ساتھی بنی ہوئی ہو۔۔۔ جو بات ثابت کررہی ہے کہ تمہارے لیے کس کی کتنی اہمیت ہے۔۔۔۔ آج تک بہت لوگوں نے دھوکا دیا ہے مجھے۔۔۔ مگر کسی کے دھوکے سے اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنی تم نے آج دی ہے۔۔۔ تمہارا یہ دھوکا کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کا چہرا اُس کے بے پناہ قریب تھا۔۔ پریسا کا دل اُس کی بے اعتباری کو دیکھ لرز اُٹھا تھا۔۔ اُس کی وحشت ناک آنکھیں اور کنپٹی کی اُبھری رگیں بتا رہی تھیں کہ اِس وقت وہ کیسے خود پر کنٹرول کیے ہوئے ہے۔۔۔
“تم ایک بات نہیں جانتی اور نہ تمہارے یہ گھر والے۔۔۔ اِن کے پاس موجود ہتھیاروں میں بلٹس نہیں ہیں۔۔۔ بلٹس صرف تمہاری گن میں تھیں۔۔۔۔ میں مرتا تو صرف تمہاری ماری جانے والی گولی سے۔۔۔ یہی میری دردناک سزا ہوتی تم سے محبت کرنے کی سزا۔۔۔ اُس لڑکی سے محبت کرنے کی سزا جو میری محبت ڈیزرو ہی نہیں کرتی۔۔۔ “
شاہ ویز زہر خند سرد لہجے میں بولتا پریسا کی ہستی فنا کر گیا تھا۔۔۔۔
سفیان پریسا کو شاہ ویز کی بانہوں میں دیکھ پیچ و تاب کھانے کے سوا کچھ نہیں کر پایا تھا۔
پریسا شاک کی کیفیت میں اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جس نے اُس سے اپنی محبت کا اظہار کیا بھی تھا تو کس ٹائم پر۔۔۔
اُسی لمحے باہر پولیس کی گاڑیوں کا سائرن بجا تھا۔۔
پریسا نے گھبرا کر شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُسے یہی لگا تھا پولیس شاہ ویز کو گرفتار کرلے گی۔۔۔
اور قانون کی نظر میں وہ جتنا بڑا مجرم تھا اُس کی سزا پھانسی کے سوا کوئی نہیں ہونے والی تھی۔۔۔
وہیں پولیس کو اندر آتا دیکھ آفندی مینشن کا ہر فرد خوش تھا۔۔۔۔ اُن کی جان شاہ ویز سکندر نامی افریت سے چھوٹنے والی تھی۔۔۔۔
مگر سب لوگ حیران اُس وقت ہوئے تھے جب پولیس انسپکٹر شاہ ویز کے پاس جانے کے بجائے سیدھے شہباز آفندی کی جانب بڑھے تھے۔۔۔۔
پریسا کو خود سے دور کرتا شاہ ویز سیڑھیوں سے نیچے اُترا تھا۔۔۔
“مسٹر شہباز آفندی یور آر انڈر اریسٹ۔۔۔ “
شہباز آفندی ،شوکت آفندی اور سفیان کے سامنے ہتھکڑیاں لہراتے وہ لوگ وہاں موجود تمام افراد کو ساکت کر گئے تھے۔۔۔
پریسا نے اُلجھی نگاہوں سے شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اب بڑے ہی ریلیکس موڈ میں ایک جانب صوفے پر اپنے مخصوص انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا سیگریٹ سلگھا گیا تھا۔۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں انسپکٹر صاحب۔۔۔ میں اِس ملک کا بہت ہی معزز شہری ہوِں۔۔۔ اور ایک بہت نامور بزنس مین ہوں۔۔۔ آپ کس جرم میں مجھے اور میرے گھر والوں کو اریسٹ کرسکتے ہیں۔۔۔۔ “
شہباز آفندی بپھرے انداز میں بولتا اُن پولیس والوں پر چلا اُٹھا تھا۔۔۔
“پولیس والوں پر کیوں چلا رہے ہیں آفندی صاحب۔۔۔ مجھ سے پوچھیں میں بتاتا ہوں۔۔ میرے باپ کی کمپنی میں فراڈ کرکے اُن کی ساری جائیداد دھوکے سے اپنے نام لگوائی تم نے۔۔۔ یہ تھا تم لوگوں کا پہلا جرم۔۔۔ میری فیملی کو دھوکے سے بلا کر اُنہیں زندہ جلا کر مار دینا تھا تم لوگوں کا دوسرا جرم۔۔۔ میرے پورے خاندان کو تباہ کرکے میری ہی دولت جائیداد پر قبضہ کرکے ساری زندگی عیش اور سکون کی زندگی گزارنا تھا تم لوگوں کا تیسرا جرم۔۔۔۔ اور اپنے بڑے بھائی کو لالچ میں آکر اُس کے نام لگی میرے باپ کی دولت جائیداد حاصل کرنا تھا تمہارا چوتھا جرم۔۔۔ لیکن یہ جرم اتنا بڑا نہیں ہے۔۔۔ کیونکہ اگر ظفر آفندی آج زندہ ہوتا تو سب سے زیادہ دردناک موت اُسی کی ہوتی۔۔۔ کیونکہ اُس کی سزا اتنی آسان موت بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔ میری پریسا آفندی کو ساری زندگی استعمال کرنا تھا تمہارا پانچواں جرم۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تمہارے دوست نما دشمنوں سے اُس کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔ اُسے سیکیورٹی نہ دے کر ہر بار اُسے اُن لوگوں کے آگے مرنے کے لیے چھوڑنا ہے تمہارا چھٹا اور تمہارا آخری جرم جس کی سزا تم اب ساری زندگی بھگتو گے۔۔۔ میری بیوی کا فیصل بخشی کے آگے سودہ کرنے کا جرم۔۔۔ تمہیں کیا لگا تھا مجھے مار کر میری بیوی کو اُن حرام خور کتوں کے آگے ڈال کر تم لوگ واپس سے اپنی عیش کی زندگی کی جانب لوٹ جاؤ گے۔۔۔؟ میں وہ درندہ ہوں جسے ختم کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔ میں آگ ہوں جو ہر پل خود بھی جلتا ہوں اور اپنے دشمنوں کو بھی اِس بھٹی میں جلاتا ہوں۔۔۔۔ “
شاہ ویز سکندر جلا ہوا سیگریٹ نیچے پھینک کر اپنے پیر سے مسلتا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کے بولے جانے والے الفاظ کے بعد پورے آفندی مینشن میں سکوت چھا گیا تھا۔۔۔
پریسا کو لگا تھا وہ اب کبھی اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائے گی۔۔۔
جن لوگوں کو اُس نے اپنا سب کچھ مانا تھا وہ اُسے پہلے دن سے صرف استعمال کر رہے تھے۔۔۔ اُس نے اپنی پوری زندگی اپنے ماں باپ کے قاتلوں میں رہ کر گزاری تھی۔۔۔
اور اُس کے بابا۔۔۔ جن کے بارے میں ہمیشہ سوچ کر اُسے فخر محسوس ہوتا تھا۔۔۔
آج اُن کی اصلیت جان کر پریسا کا سر شرم سے جھک گیا تھا۔۔۔۔ پولیس والوں کے پیچھے پیچھے اب میڈیا کے افراد بھی بڑی تعداد میں داخل ہوتے شہباز آفندی اور اُن کی فیملی کے ہر فرد کو کیپچر کر رہا تھا۔۔۔
وہ سب شرمندگی سے منہ چھپا رہ تھے۔۔۔ مگر کیمرے کی پڑتی فلیش لائٹس اُن کے سیاہ کار چہرے پوری دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب ہورہے تھے۔۔۔
شاہ ویز کی جانب کسی نے بھی کیمرہ نہیں موڑا تھا۔۔۔ شاید وہ اُنہیں پہلے ہی منع کر چکا تھا۔۔۔ کیونکہ جس معلوم کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئے تھے اُس کا یہی مطلب تھا کہ شاہ ویز پہلے ہی اُنہیں ہر بات سے آگاہ کرچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
شاہ ویز نے پلٹ کر سیڑھیوں کی ریلنگ تھام کر بمشکل خود کو سہارا دینے کی کوشش میں ہلکان ہوتی پریسا کو دیکھا تھا۔۔ جو بھیگے چہرے کے ساتھ اِس وقت بہت بُری کنڈیشن میں تھی۔۔۔۔
شاہ ویز دور سے ہی سمجھ گیا تھا کہ اب اُس کی نازک سی بیوی ایک بار پھر سے بے ہوش ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔۔۔
وہ پریسا کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ اُسے اپنے قریب آتے دیکھ پریسا کے خوف کے عالم میں رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے تھے۔۔۔ پریسا لڑکھڑائی تھی اور اگلے ہی لمحے اپنے حواس کھوتی شاہ ویز سکندر کی مضبوط بانہوں میں جھول گئی تھی۔۔۔
آنکھیں موندے بھی اُس کے چہرے پر خوف کے تاثرات تھے۔۔۔ جن پر ایک سرد نگاہ ڈالتا وہ نہایت ہی احتیاط سے اُسے بانہوں میں اُٹھائے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میر مہرو کیسی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹرز نے کچھ بتایا۔۔۔؟؟ اُسے ہوش آیا کہ نہیں۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز حازم کے قریب آتا ایک کی سانس میں نجانے کتنے سوال پوچھ گیا تھا۔۔۔
مگر حازم کے چہرے پر چھائی نا اُمیدی شاہ ویز کی تکلیف میں مزید اضافہ کر گئی تھی۔۔۔۔
“ہماری مہرو بہت سٹرانگ ہے شاہ اُسے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ وہ ہم پر جان دیتی ہے۔۔۔ ہمیں ناراض چھوڑ کر کبھی نہیں جائے گی۔۔۔ وہ جانتی ہے بلیک سٹارز اُس کے بغیر ادھورے ہیں۔۔۔ اُس نے آج تک کبھی ہماری کوئی بات نہیں ٹالی۔۔۔ نہ کبھی اُس کا کوئی عمل تکلیف کا باعث بنا ہے ہمارے لیے۔۔۔ تو اب بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔ “
حازم کو اپنی مہرو پر پورا بھروسہ تھا۔۔ اور شاہ ویز بھی اِسی یقین کے ساتھ پلر کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوتا آنکھیں موند گیا تھا۔۔۔۔
جب کچھ لمحوں بعد ڈاکٹرز ای سی یو کا دروازہ کھولتے باہر نکلے تھے۔۔۔ شاہ ویز اور حازم فوراً اُن کے قریب گئے تھے۔۔۔۔
اُن کے دل خوف سے سکڑ گئے تھے۔۔۔ وہ مہروسہ کے حوالے سے کوئی بھی بُری خبر سننے کا حوصلہ نہیں کر پارہے تھے۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر صاحب ہماری مہرو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ ؟؟”
شاہ ویز اپنی مُٹھیاں جکڑے بے چینی سے بولا تھا۔۔۔
“پلیز ڈاکٹر صاحب جلدی بولیں۔۔۔۔”
حازم کو ڈاکٹر کی خاموشی خوفزدہ کر رہی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر نے ایک نظر اُن دونوں پر ڈالی تھی۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے دھیرے سے مسکرا دیئے تھے۔۔۔
“جس لڑکی کے پاس آپ جیسے پیار کرنے والے لوگ ہوں اُسے بھلا کیسے کچھ ہوسکتا ہے۔۔۔ بروقت ہاسپٹل لے آنے اور آپ کی دعاؤں نے مہرو میم کو بچا لیا ہے۔۔۔۔ وہ کافی سٹرانگ وول پاور کی مالک ہیں۔۔ جس کا آج اُن کی اِس ریکوری میں بہت بڑا ہاتھ تھا۔۔۔ اُنہیں تین گولیاں لگی تھیں۔۔۔ اور خون بھی کافی بہا ہے۔۔۔ آپریشن سے پہلے اُن کے بچنے کے چانسز صرف ٹین پرسنٹ تھے۔۔۔ لیکن میرا رب ہے نا جو بڑے سے بڑے معجزے کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔۔۔۔ اُس نے آپ کی مہرو واپس آپ لوگوں کو سونپ دی۔۔۔۔”
ڈاکٹر کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ اُن دونوں میں جیسے زندگی کی نئی روح پھونک گئے تھے۔۔
“میں نے کہا تھا مہرو ہمیں ناراض کرکے کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔۔”
حازم اور شاہ ویز ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے بے پناہ خوش تھے۔۔ وہ جانتے تھے آنے والے وقت میں اُن کے سروں پر کتنے بڑے خطرے کا سایہ منڈلا رہا ہے۔۔۔ مگر اب اُنہیں کسی کی پرواہ نہیں رہی تھی۔۔۔
اُن کی تیسری پارٹنز لوٹ آئی تھی۔۔۔۔ وہ تینوں ایک ساتھ اتنے سٹرانگ تھے کہ آج تک بڑی بڑی مصیبت اور سازش اُن کا کچھ نہیں بگاڑ پائی تھی۔۔۔ اور نہ اب بگاڑ سکتی تھی۔۔۔
“بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب۔۔۔ بے شک یہ آپ کی ڈیوٹی ہے۔۔ مگر ہماری مہروسہ کی زندگی بچا کر آپ نے ہمیں اپنا مقروض بنا لیا ہے۔۔۔ آپ جب چاہے جو چاہیے مانگ سکتے ہیں ہم سے۔۔۔۔”
شاہ ویز نے ڈاکٹر شفیق سے مصافحہ کرتے اُن کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔
“آپ کی وجہ سے ہی میں اِس قابل بنا ہوں شاہ سر۔۔۔ آپ پلیز شکریہ ادا کرکے مجھے شرمندہ نہ کریں۔۔۔ ہم آپ کے ساری زندگی کے لیے احسان مند ہیں۔۔۔ اور چاہے جیسی بھی سچویشن ہو بلیک سٹارز کے ہمیشہ ساتھ کھڑے ہیں ہم سب۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر شفیق عقیدت بھرے لہجے میں بولتے اُن دونوں کو لاجواب کر گئے تھے۔۔۔
“کیا ہم مہرو سے مل سکتے ہیں۔۔۔؟”
حازم بے چینی سے بولا تھا۔۔۔ جب تک مہروسہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے نہ دیکھ لیتے اُنہیں سکون نہیں ملنے والا تھا۔۔۔
“جی۔۔۔ آپ اندر جاسکتے ہیں۔۔۔ کچھ دیر میں مہرو میم کو ہوش آجائے گا۔۔۔۔”
ڈاکٹر کا جواب سنتے وہ دونوں اندر کی جانب بڑھ گئے تھے۔۔۔
جہاں سامنے ہی مہروسہ مشینوں میں جکڑی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ اُس کا دودھیا چھلکاتا چہرا بالکل زرد پڑ چکا تھا۔۔۔ غنودگی میں بھی اُس کے چہرے پر اذیت کے تاثرات نمایاں تھے۔۔۔
جو دیکھ شاہ ویز اور حازم بھی شدید تکلیف کا شکار ہوئے تھے۔۔۔ وہ مہروسہ کی اِس اذیت کی وجہ جانتے تھے۔۔۔۔
“یہ محبت کتنا خوار کرتی ہے نا انسان ہوں۔۔۔ رئیس سے فقیر بنا کر رکھ دیتی ہے۔۔۔ جس میں ساری زندگی انسان محبت کی بھیگ مانگتے اپنی زندگی بھکاریوں سے بھی بدتر کر دیتا ہے۔۔۔ مگر آخر میں ملتا کیا ہے اذیت ، درد، تکلیف اور اکیلا پن۔۔۔”
حازم کے لہجے سے اُس کی دلی کیفیت کا اندازہ با آسانی لگایا چاسکتا تھا۔۔۔
شاہ ویز نے نگاہیں گھما کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔ اُسے سیگریٹ کی شدید طلب ہورہی تھی۔۔ مگر مہروسہ کے خیال سے وہ خود پر ضبط کیے کھڑا رہا تھا۔۔۔
محبت کے نام پر اُس کے زخم بھی اُدھیڑ گئے تھے۔۔۔
“اپنے دل کو ہی پتھر کر لو۔۔۔ اِس اذیت سے بچ جاؤ گے۔۔۔”
شاہ ویز نے لاپرواہ بنتے اُسے مفید مشورے سے نوازا تھا۔۔۔
“تم کر پائے ہو اپنے دل کو پتھر۔۔۔ “
حازم کو جنید سے ساری خبر مل چکی تھی۔۔۔ جو پریسا نے شاہ ویز کے ساتھ کیا تھا۔۔۔ اور جواباً شاہ ویز جو اُس کے خاندان والوں کے ساتھ کرکے آیا تھا۔۔۔
شاہ ویز نے اُن سے اپنا سب کچھ چھین لیا تھا۔۔۔ آفندی مینشن کے تمام افرار سڑک پر آچکے تھے۔۔۔
جبکہ شہباز آفندی، شوکت آفندی اور سفیان آفندی کو اُس نے جیل میں ڈلوا دیا تھا۔۔۔ اُن کے پورے خاندان کی اصلیت جان کر لوگ اُنہیں گالیاں دے رہے تھے۔۔۔ ان پر تھوک رہے تھے۔۔۔۔
جنہوں نے سکندر شاہ جیسے معزز انسان کا خاندان برباد کردیا تھا۔۔۔ شاہ ویز کے بابا کے پرانے دوست اُس سے ملنے کے خواہاں تھے۔۔۔ مگر شاہ ویز ابھی کسی سے بھی نہیں ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اُس کا ارادہ پہلے شہباز آفندی اور شوکت آفندی کو دردناک سزا دلوانے کا تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ بہت جلد شہباز آفندی کے ساتھ ملے سیاسی اُسے جیل سے باہر نکلوا لیں گے۔۔۔ اِسی لیے اُس نے اِس خبر کو اُچھالنے کے لیے میڈیا کو بلوایا تھا۔۔۔
اور اب بہت جلد اُس کا ارادہ اُن لوگوں کو جیل سے نکلوا لینے کا تھا۔۔
دنیا والوں کے سامنے یہی جانا تھا کہ وہ لوگ جیل توڑ کر خود بھاگے ہیں۔۔۔ جبکہ شاہ ویز اُنہیں اپنی قید میں رکھ کر اپنی طرح کی سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
جس کے خیال سے لوگ خودکشی کرنا پسند کرتے تھے۔۔۔
“میرا دل شروع سے پتھر ہی ہے میر۔۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی سرد آواز پر حازم اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
“تمہیں دھوکے باز لوگوں سے نفرت ہے،۔۔۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اِس وقت تم خود کو سب سے زیادہ دھوکا دے رہے ہو۔۔۔ تم کیوں نہیں مان لیتے کہ تمہارا دل صرف اور صرف پریسا آفندی کے لیے دھڑکتا ہے۔۔۔۔
کوئی ایک دن ایسا نہیں رہا جس میں تم نے اُسے پریسا آفندی نہیں بلکہ ظفر آفندی کی بیٹی مان کر نفرت سے ٹریٹ کیا ہو۔۔۔ اگر تم واقعی اُس لڑکی سے نفرت کرتے ہوتے۔۔۔۔ تو کبھی اُس کی جان نہ بچاتے۔۔۔ کبھی اُس کے محافظ نہ بنتے۔۔۔۔ تم شدید محبت کرتے ہو پریسا آفندی سے۔۔۔ مان جاؤ اِس بات کو۔۔۔۔ “
حازم نے اپنے سب سے زیادہ انا پرست دوست کو اُس کی محبت کا احساس دلایا تھا۔۔۔
“اُس نے دھوکا دیا ہے مجھے۔۔۔”
شاہ ویز نے اپنی جلتی آنکھیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“اِس میں بھی تمہاری غلطی ہے۔۔۔ اگر تم اُسے حقیقت سے آگاہ کردیتے اُس کے بعد وہ تمہیں دھوکا دیتی پھر اُسے دھوکے باز کہہ سکتے تھے تم۔۔۔ لیکن یہاں تم اُس کے برابر کے قصور وار ہو۔۔۔۔”
حازم ہی تھا جو شاہ ویز کو آئینہ دکھا سکتا تھا۔۔۔ اِس سے پہلے کہ شاہ ویز کچھ بولتا مہروسہ کو ہوش میں آتے دیکھ وہ دونوں اُس کے قریب آئے تھے۔
“مہرو۔۔۔۔”
حازم نے اُسے پکارا تھا۔۔۔
“سر۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں اُن دونوں کو اپنے سامنے دیکھ وہ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔
اُس کی مسکراہٹ میں بھی اذیت کی جھلک نمایاں تھی۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں سر۔۔۔۔ باقی سب ٹھیک ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ کو بستر پر پڑے بھی اپنے لوگوں کی ٹینشن تھی۔۔۔۔۔
“سب بالکل ٹھیک ہیں مہرو اور شدت سے تمہارے صحت یاب ہونے کے منتظر ہیں۔۔۔۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں تم نے ہم سب کو جس اذیت کی جس سولی پر لٹکائے رکھا ہے ہم بتا نہیں سکتے کتنی تکلیف میں رہا ہے گینگ کا ہر بندہ۔۔۔۔۔”
حازم بول رہا تھا جبکہ شاہ ویز مہروسہ کی آنکھوں میں پنپتا سوال پڑھ رہا تھا۔۔۔
جو وہ اُن دونوں سے پوچھنے میں جھجھک رہی تھی۔۔۔
جبکہ شاہ ویز کو اِس لڑکی کی محبت نے جیسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
“ایس پی حمدان بالکل ٹھیک ہے مہرو۔۔۔ ہم میں سے کسی نے تمہاری قسم میں جکڑے ہونے کی وجہ سے اُسے ایک خراش تک نہیں پہنچائی۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی بات پر مہروسہ نے تشکر آمیز نگاہوں سے اُن دونوں کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
اُسے بس اِسی بات کا ڈر تھا کہ کہیں غصے میں آکر اِن میں سے کسی نے حمدان کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔۔۔۔
“مہرو مجھے سچ سچ بتانا۔۔۔ تم پر گولی حمدان نے چلائی ہے۔۔۔”
حازم کی بات پر مہروسہ کو وہ منظر یاد آیا تھا جب حمدان نے اُس کی جانب بندوق تانی تھی۔۔۔
اِس سے آگے اُسے کچھ بھی یاد نہیں تھا۔۔۔ لیکن جتنی نفرت حمدان اُس سے کرتا تھا وہ اِس بات پر آرام سے یقین کرگئی تھی کہ اُس پر گولی حمدان نے ہی چلائی ہے۔۔۔
“میں نہیں جانتی۔۔۔ میں نے جب آنکھیں کھولیں تو وہ ہی میرے سامنے گن اُٹھائے ہوئے تھے۔۔۔ اُن کے علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔ لیکن پلیز آپ لوگ حمدان کو کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔ میں اُنہیں اُسی لمحے معاف کر گئی تھی۔۔۔۔ آپ لوگ بھی بھول جائیں اِس بات کو۔۔۔ میں بھی بھول جانا چاہتی ہوں کہ کبھی حمدان صدیقی نامی کوئی انسان میری زندگی میں آیا تھا۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے مہروسہ کو اپنی روح جس سے نکلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ کئی آنسو اُس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر اُس کے تکیے میں جذب ہوئے تھے۔۔۔۔
“محبت سے دستبردار ہونا اتنا آسان ہے۔۔۔۔۔؟”
شاہ ویز نے سوال کیا تھا۔۔۔
جس کے جواب میں مہروسہ پھیکا سا مسکرا دی تھی۔۔۔
“یکطرفہ محبت میں یہی سب سے آسان حل ہے۔۔۔ “
مہروسہ کی سانسیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔
“مہرو ریلیکس۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے اُس کے منہ پر آکسیجن ماسک لگاتے پریشانی سے کہا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کی حالت اِس وقت ایسی نہیں تھی کہ وہ زرا سی بھی ٹینشن لیتی۔۔۔ مگر وہ اِس وقت ایک شخص کی چاہت میں خود کو ریلیکس نہیں رکھ سکتی تھی۔۔۔
اُسے یہ احساس ہی کھائے جارہا تھا کہ اب وہ ساری زندگی اِس جدائی کی اذیت میں کیسے کاٹے گی۔۔۔۔
لیکن وہ اب خود سے اِس بات کا عہد بھی کر چکی تھی کہ اب کبھی پلٹ کر حمدان کو اپنی صورت تک نہیں دکھائے گی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“سر ہمارے دس کے قریب آدمی پولیس والوں نے اریسٹ کر لیے ہیں۔۔۔ جن میں اقراء، انعم اور باقی بھی تمام اہم لوگ شامل ہیں۔۔۔۔ اور سننے میں یہی آرہا ہے کہ یہ سب ایس پی حبہ کی پراپر پلاننگ سے ہوا ہے۔۔۔
یہ لوگ ابھی تک پولیس اسٹیشن میں ہی ہیں۔۔۔ جس کے باہر سخت سیکیورٹی تعینات ہے۔۔۔ اگر ہم میں سے بھی کوئی اندر گیا تو وہاں سے نکل نہیں پائے گا۔۔۔ اور ابھی تازہ ترین خبر کے مطابق ایس پی حبہ اِن سب کو کسی خفیہ ٹھکانے پر منتقل کرنے کی تیاری کررہی ہیں۔۔۔ “
جنید کی بات پر اب کی بار حازم کے حواس جھنجھنا اُٹھا تھا۔۔۔ اُن کے دشمنوں نے ایک ساتھ اُن پر حملہ کرکے اُنہیں کمزور کرنا چاہا تھا۔۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بلیک سٹارز آج تک ہمیشہ چوٹیں لگنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہوکر سامنے آئے تھے۔۔۔۔ اُنہیں توڑ پانا یا گرا پانا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔۔
“وہ میرے ہوتے ہوئے میرے کسی بھی گینگ ممبر کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔۔۔ “
حازم پتھریلے لہجے میں بولتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
گاڑی تیز رفتار پر دوڑاتے وہ پولیس اسٹیشن کے ایریے سے کچھ فاصلے پر آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔
پورے پولیس اسٹیشن کے اردگرد بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔۔۔۔
“بہت فاصلے لے آئی ہو تم ہم دونوں کے بیچ۔۔۔ جو لگتا ہے مجھے ہی پار کرنے ہونگے۔۔۔”
حازم ہم کلامی کرتا چاروں جانب نگاہیں گھماتا تیزی سے سوچنے لگا تھا۔۔۔ جب اُس کی نظر وہاں سیکیورٹی کی ایک اور گاڑی آتی دکھائی دی تھی۔۔۔
سیاہ کپڑوں میں سیاہ رومال سے چہروں کو ڈھکے وہ سپیشل فورسز کے اہلکار معلوم ہورہے تھے۔۔۔۔
جس کا یہی مطلب تھا کہ حبہ اُس کے لوگوں کو کچھ ہی دیر میں وہاں سے نکلوانے لگی تھی۔۔۔
حازم نے کسی خیال کے تحت زونیا کو نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔ جو ہمیشہ کی طرح پہلی بیل پر ہی اُٹھا لیا گیا تھا۔۔۔
“زونیا اِس وقت مجھے تمہاری مدد کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔”
حازم اُسے کوئی بھی فضول بات کرنے کا موقع دییے بغیر جلدی سے بولا تھا۔۔۔
“حکم کریں سرکار۔۔۔ آپ کے لیے تو آپ کی یہ باندی اپنی گردن بھی کٹوا سکتی ہے۔۔۔۔ “
زونیا اپنے مخصوص دلربانہ انداز میں بولتی حازم کو تپ تو بہت چڑھا گئی تھی۔۔۔ مگر اِس وقت وہ اُسے ڈانٹ کر اپنا ٹائم ویسٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
“میں ایڈریس بھیج رہا ہوں۔۔۔ فوراً پہنچو یہاں۔۔۔ میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے۔۔۔۔ “
حازم اُسے حکم دیتا آنے کے لیے صرف دس منٹ کا ٹائم دے گیا تھا۔۔۔۔
جس کو فالو کرتی زونیا دس منٹ کے اندر وہاں آن پہنچی تھی۔۔۔
“ہم دونوں کو میاں بیوی کے روپ میں پولیس اسٹیشن کے اندر جانا ہے۔۔۔۔ وہ لوگ ہمیں روکنے کی پوری کوشش کریں گے تو تم نے واویلا کرکے میڈیا والوں اور وہاں باہر موجود سیکیورٹی اہلکار کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔۔۔ اِسی دوران میں کھڑکی کے راستے اندر داخل ہونگا۔۔۔۔”
حازم کی ہدایت سنتی زونیا خوش ہوتی مسکرا دی تھی۔۔۔۔۔
“اس میں اتنی خوشی ہونے والی کونسی بات کہی میں نے۔۔۔۔”
حازم اُس کے اکسائیٹڈ انداز کو دیکھ اُسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔
“کچھ سیکنڈز کے لیے ہی سہی مگر مجھے تمہاری بیوی کے عہدے پر فائز ہونے کا موقع مل رہا ہے میں خوش کیسے نہ ہوں۔۔۔۔”
زونیا اُسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے بولی تھی۔۔۔
جس بات کا حازم کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔۔ کیونکہ اُس کی چاہت اور محبت صرف ایک انسان کے لیے ہی مختص تھی۔۔۔۔۔
دو دن گزر جانے کے باوجود پریسا کا شاہ ویز سے سامنا نہیں ہو پایا تھا۔۔۔ وہ ایک بار بھی روم میں نہیں آیا تھا۔۔۔ اور نہ ہی اُس کے سامنے۔۔۔۔
پریسا دو دن سے شاک میں تھی اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اُس کے سگے چچا جنہیں وہ اپنے باپ کا درجہ دیتی تھی۔۔ وہ اُس کے سگے باپ کا قاتل نکلا تھا۔۔۔
اور اپنے بابا کے بارے میں سوچتے اُس کی نگاہیں شرم سے جھک جاتی تھیں۔۔۔
شاہ ویز کے سب کے سامنے پیش کیے گئے ثبوتوں کے بعد اب اُس کے پاس شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی۔۔
وہ اِس وقت بہت بُری کنڈیشن میں تھی۔ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔ اُسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا کہ اُسے شاہ ویز کے ساتھ یہ اتنا بڑا دھوکا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔۔۔
اگر اُس دن واقعی وہ لوگ شاہ ویز کو مار دیتے تو وہ کیا کرتی۔۔۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ شہباز آفندی اور سفیان نے اُس کا سودہ کر رکھا تھا۔۔۔
اُسے یہ بات رُلا رہی تھی کہ اُس نے ہر انسان پر یقین کیا تھا سوائے شاہ ویز کے۔۔۔۔
لیکن قصور وار وہ اکیلی نہیں تھی۔۔۔۔ شاہ ویز بھی اِس قصور میں برابر کا شریک تھا۔۔۔ وہ اُسے ساری سچائی پہلے ہی بتا سکتا تھا۔۔
پریسا کو اب شاہ ویز کی اُس ساری تکلیف اور نفرت کا مطلب سمجھ آرہا تھا۔۔۔۔ اتنے سال اُس انسان نے تن تنہا اذیت کاٹتے اتنی مشکل میں گزارے تھے۔۔۔ صرف اُس کے خاندان کی وجہ سے وہ اربوں کی جائیداد کا مالک سڑکوں پر زندگی گزار کر بڑا ہوا تھا۔۔۔
اور وہ اُسی کے پیسے پر عیش کرتے رہے تھے۔۔۔
پریسا شاہ ویز کی ناراضگی کے ساتھ ساتھ اُس کی اذیت کے بارے میں بھی سوچتی تڑپ رہی تھی۔۔۔
اُسے شاہ ویز کا وہ نارواں سلوک اور وہ نفرت اُس کی اذیت کے آگے بہت کم لگنے لگی تھی۔۔۔
کیونکہ اُس کی زندگی کی تلخ حقیقت نے اُسے اتنا تلخ بنا دیا تھا۔۔۔
لیکن اب وہ اپنے اِس وحشی درندے کی زندگی کو واپس سے حسین بنانے کا عہد خود سے کر چکی تھی۔۔۔
شاہ ویز سکندر اُس کی محبت تھا جس نے نجانے کتنی بار اپنی جان پر کھیل کر اُس کی جان بچائی تھی۔۔۔ اُس کی خاطر آگ تک میں کود گیا تھا۔۔۔
شاہ ویز نے بالکل ٹھیک کہا تھا وہ بے وقوف ہی تھی جو اُس کی محبت نہیں سمجھ پائی تھی۔۔۔۔ وہ اپنے ہر عمل سے اُس کے سامنے اپنی دیوانگی کا اظہار کرتا آیا تھا۔۔۔ مگر وہ پاگل سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔
وہ آخری لمحے تک اس بات پر ہی ڈاؤٹ فل تھی کہ شاہ ویز اُس سے محبت نہیں کرتا۔۔۔ اِسی لیے وہ اُن سب کی باتوں میں آگئی تھی۔۔۔
مگر شاہ ویز نے اُس دن اُس کے سب گھر والوں کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کرتے اُس کا یہ ڈاؤٹ بھی کلیئر کردیا تھا۔۔۔
لوگ خوشگوار ماحول میں انتہائی رومانوی انداز میں اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے۔۔۔
جبکہ شاہ ویز سکندر نے یہ کام بھی سب سے منفرد کرتے بندوقوں کی چھاؤں کے نیچے کھڑے ہوتے انتہائی غصے بھرے انداز میں اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔۔۔
لیکن پریسا کے لیے تو وہ اقرار ہی بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔۔۔
شاہ ویز کی تکلیف کا سوچ کر اُس کا دل درد سے بھر جاتا تھا۔۔۔ وہ کتنی اذیت میں تھا اور وہ اتنی شدید محبت ہونے کے باوجود اُس کا درد نہیں سمجھ پائی تھی۔۔۔۔
لیکن اب اُس کی زندگی کا ہر مقصد اُس کے سامنے کلیئر ہوچکا تھا۔۔۔ اُس کی زندگی کا مرکز اب شاہ ویز سکندر ہی تھا۔۔۔۔
اُس کی آج صبح یاسمین بیگم سے بات ہوئی تھی۔۔۔ جنہوں نے اُس دن اُس کے سامنے بولے جانے والے جھوٹ کی معافی مانگتے اُسے ایک بار پھر ساری بات کلیئر کر دی تھی۔۔۔ کہ شاہ ویز نے کبھی اُس کے بارے میں غلط نہیں سوچا تھا۔۔۔ بلکہ اُس کے خاندان والے ہمیشہ سے اُسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے آئے تھے۔۔
پریسا اُن کے منہ سے سارا سچ جاننے کے بعد مزید شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔
یاسمین بیگم کی زبانی ہی اُسے پتا چلا تھا کہ اُنہیں شاہ ویز نے اغوا نہیں کیا تھا بلکہ شہباز آفندی نے ہی اُنہیں نگاہوں اوجھل کیا تھا۔۔۔
یہ سن کر تو پریسا کو اپنی بے وقوفی پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں بہت جلد میں تمہیں منا لوں گی شاہ ویز سکندر۔۔۔ تم اتنے وحشی بالکل بھی نہیں ہو۔۔۔ جتنا تم خود کو سب کے سامنے پوٹرے کرتے ہو۔۔۔۔ تم پوری دنیا کو اپنے خوف کے زیرِ اثر رکھنا چاہتے ہو۔۔۔ پوری دنیا کو بے شک رکھو۔۔۔ مگر میں تمہارے رعب میں اب نہیں آنے والی۔۔۔”
پریسا اپنے آنسو خشک کرتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔
الماری میں لائٹ کلر کے ڈریسز دیکھ پریسا نے پوری قوت سے الماری کا پٹ بند کردیا تھا۔۔۔
“یہ ہلکے رنگ کے کپڑے ایسے جمع کر رکھے ہیں جیسے میں نئی نویلی دلہن نہیں۔۔۔ کوئی ستر اسی سال کی بوڑھی ہوں۔۔۔ جو یہ پہنوں گی۔۔۔۔ خیر اب تو بوڑھیاں بھی ایسے کلرز نہیں پہنتیں۔۔۔۔”
پریسا خود سے ہی ہمکلام ہوتی باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔ اقراء اُسے کہیں دکھائی نہیں دی تھی۔۔۔
جب اُسے جنید تیز قدموں سے گیٹ کی جانب جاتا دکھائی دیا تھا۔۔۔۔
“بات سنو جنید۔۔۔۔”
پریسا کو اچانک سے اُس کا نام یاد آیا تھا۔۔۔ جبکہ پریسا کی پکار پر جنید کے قدم وہیں تھم گئے تھے۔۔۔
“جی میم آپ نے بلایا مجھے۔۔۔۔”
جنید چہرا جھکائے انتہائی مودبانہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔۔۔۔
“مجھے یہ سب چاہییں۔۔۔ خود جاؤ یا کسی کو بھیجو مگر مجھے یہ سب ایک گھنٹے میں چاہییں۔۔۔۔”
پریسا نے شاہ ویز سکندر کی بیوی ہونے کا رعب جماتے اُسی کے انداز میں جنید کو حکم جاری کیا تھا۔۔۔
جسے سنتے جنید گھبرا گیا تھا۔۔۔
اگر اُسے دس بندوں کو جگہ پر ہی اُڑانے کا حکم ملتا تو وہ ایک سیکنڈ کی بھی دیری نہ لگاتا۔۔۔ مگر شاپنگ جیسا مشکل ترین کام تو اُس نے آج تک نہیں کیا تھا۔۔۔
“میم میں یہ۔۔۔۔۔”
وہ ہڑبڑاہٹ میں کچھ بول ہی نہیں پایا تھا۔۔۔
“کیا تمہیں شاپنگ کرنی نہیں آتی کیا۔۔۔ یہ تمہارے باس نے خود سمیت تم سب کو بھی بس گولیاں چلانا ہی سکھایا ہے۔۔۔۔ جاؤ وہاں کسی لڑکی سے مدد لے لینا۔۔۔۔”
جنید کو کنفیوز دیکھ پریسا نے مشورے سے نوازتے اُس پر احسان کیا تھا۔۔۔۔
“نہیں میم میں کسی لڑکی سے کچھ نہیں پوچھ سکتا۔۔۔ ایک دن مہرو میم کو گفٹ دینے کی خاطر میں نے ایک لڑکی کو شاپ پر کھڑے ہوکر صرف اتنا ہی کہا تھا کہ زرا یہ رنگ پہن کر سائز دیکھ پر بتا دیں۔۔۔ مہرو میم کے ہاتھ جیتنا سمارٹ ہی اُس کا ہاتھ تھا۔۔۔۔
مگر وہ سمارٹ ہونے کے ساتھ کتنا بھاری تھا اس کا اندازہ مجھے اُس لڑکی کے ہاتھ سے تھپڑ کھانے کے بعد ہوا تھا۔۔۔
کیونکہ وہ لڑکی یہ سجھی تھی کہ شاید میں اُسے چھیڑ رہا ہوں اور غصے میں آکر اُس نے تھپڑ مار دیا مجھے۔۔۔۔ اُس کے بعد سے آج تک ایسے کسی انجان لڑکی سے بات نہیں کی۔۔۔”
جنید نے انتہائی بچارگی سے اپنی دکھ بھری داستان سناتے پریسا کو بے ساختہ ہنسنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
پریسا اپنی ہنسی پر کنٹرول نہ رکھ پاتی ہنستی چلی گئی تھی۔۔۔ اُس کی کھلکھلاہٹیں لان میں کھڑے ہوکر فون سنتے شاہ ویز کے کانوں سے ٹکراتیں اُسے اپنی جانب متوجہ کر گئی تھیں۔۔۔
شاہ ویز نے فون کان سے ہٹاتے اُس کی جانب دیکھا تھا اور پھر جیسے واپس پلٹنا بھول چکا تھا۔۔۔۔
وہ ہنس ہنس کر لال ہوتی بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔ اُس کے چہرے کا بھول پن اور معصویت دیکھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑنے کے لیے کافی تھی۔۔۔
شاہ ویز سکندر بھی خود کو اِس سحر سے نہیں بچا پایا تھا۔۔
جب نگاہوِں کی تپیش پر اچانک پریسا کی ہنسی کو بریک لگی تھی۔۔۔ اُس نے پلٹ کر شاہ ویز کی سمت دیکھا جو سیاہ ٹراؤزر اور بنیان میں ملبوس مبہوت سا اُسے ہی تکے جارہا تھا۔۔۔
پریسا اُس کو یوں اچانک سامنے دیکھ گڑبڑائی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل اُچھل کر پیٹ میں جاگرا تھا۔۔۔
“جنید یہاں آؤ۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی سرد آواز پر جنید فوراً الرٹ ہوتا شاہ ویز کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ جو وہاِں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔
“اکڑو کہیں کا۔۔۔۔ آرام سے بھی تو بلا سکتا تھا نا۔۔۔ “
پریسا اُس کا یہ اکڑ بھرا انداز ملاحظہ کرتی منہ بسورتے بولی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
