No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
“سر آپ کا شک ٹھیک نکلا یہ لڑکی وہی ہے۔۔۔۔”
دوسری جانب سے بولے جانے والے الفاظ پر مہروسہ پر ٹکی حمدان کی آنکھوں میں وحشت اُتر آئی تھی۔۔۔۔
“مجھے شک کی بنیاد پر نہیں۔۔۔۔ پکے ثبوت چاہیں تاکہ میں اِس لڑکی کو اِس کی اصل جگہ پر پہنچا سکوں۔۔۔۔”
حمدان کے دبے دبے لہجے میں شعلوں کی سی لپک تھی۔۔۔
“سر اب تک جتنی بھی معلومات حاصل ہوئی ہے۔۔۔ اُس کے مطابق یہی وہ لڑکی ہے جو بلیک گینگ کی تیسری لیڈر اور حمدان سے بار بار آکر ٹکراتی تھی۔۔۔۔
مگر حمدان بنا ٹھوس ثبوت کے کوئی ایکشن نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔۔
“سر ہم سے جتنی جلدی ہو پارہا ہے۔۔۔۔ ہم کوشش کررہے ہیں۔۔۔۔ مگر یہ لڑکی وہی ہے۔۔۔ آپ اِسے جانے مت دیجیے گا۔۔۔۔”
دوسری جانب بیٹھا ثاقب جانتا تھا کہ ایک ہار کے بعد اب بلیک سٹارز کو ہرانا حمدان صدیقی کے لیے کتنا ضروری ہوگیا تھا۔۔۔۔
“ہمم۔۔۔ وہ تو میں اب اِسے کبھی کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔۔۔ مگر فلحال ہمیں صرف اِس لڑکی تک نہیں اِس کے پورے گینگ تک پہنچنا ہے۔۔۔ جس میں اب ہماری مدد کرے گی یہ لڑکی۔۔۔”
حمدان زہرخند لہجے میں بولتا فون رکھ چکا تھا۔۔۔۔
“تھینکیو سو مچ سر۔۔۔۔ آپ نے میری اتنی مدد کی۔۔۔ مگر اب مجھے جانا ہوگا۔۔۔۔۔۔ “
مہروسہ شاہ ویز کی جانب سے ملتے میسیجز پر جلدی سے اُٹھی تھی۔۔۔۔
“آپ کہیں نہیں جاسکتی محترمہ۔۔۔۔”
مہروسہ جلدی جلدی بولتی دروازے کی جانب بڑھی ہی تھی۔۔۔۔ جب حمدان کی سرد آواز میں کہے جانے والے الفاظ پر اُس کے قدم زمین پر ہی جکڑے گئے تھے۔۔۔۔
“کک کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔۔۔ حمدان کے لہجے میں کچھ تو ایسا تھا جو مہروسہ کو چونکا گیا تھا۔۔۔ اُس کا چہرا بالکل زرد پڑا تھا۔۔۔ کہیں وہ اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے اپنے گینگ کو تو مصیبت میں نہیں جھونکنے والی تھی۔۔۔۔
“آپ اکیلے نہیں جاسکتیں۔۔۔۔ اُس بچے کی مدد کرکے آپ نے اپنی جان خطرے میں ڈال دی ہے۔۔۔۔ آپ کو پولیس پروٹیکشن لینی ہوگی۔۔۔۔۔”
حمدان فوراً اپنا انداز بدلتا نرم لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کا دماغ اُس کے پل پل بدلتے رویے پر بالکل گھوم چکا تھا۔۔۔
“نن نہیں سر۔۔۔ مجھے کسی پروٹیکشن کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ اگر کہیں بھی کوئی پرابلم ہوئی تو میں آپ سے مدد مانگ لوں گی۔۔۔۔ “
مہروسہ نے بہت مشکل سے بات بنائی تھی۔۔۔۔ حمدان چلتا ہوا اُس کے قریب آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
“آریو شیور۔۔۔۔۔”
حمدان کی نگاہیں اُس کے گلابی معصوم چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔ سینے پر بازو باندھے کھڑا اُسے گھورتا مہروسہ کو اچھا خاصہ پزل کر گیا تھا۔۔۔۔
حمدان کو اِس وقت مہروسہ کو دیکھ کر بالکل بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو اُس سے اتنی بے باکی سے بات کرتی تھی۔۔۔۔
“جی سر۔۔۔ تھینکس۔۔۔۔”
مہروسہ پلٹی تھی جب اچانک زور کا چکر آجانے پر وہ لڑکھڑائی تھی۔۔۔۔
حمدان نے فوراً قریب ہوتے اُس کے نازک وجود کو اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اچانک اُسے ہوا کیا ہے۔۔۔۔ وہ اتنی کمزور تو کبھی نہیں تھی۔۔۔۔
حمدان کے مضبوط حصار کو پاکر وہ کچھ دیر کے لیے اپنے گھومتے سر کو تھامتی اُس کے سینے پر سر ٹکا گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
حمدان نے ایک نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے انجکشن کی جانب دیکھا تھا اور سینے سے لگی مہروسہ کا سر اُٹھاتے اُس کی بند ہوتی آنکھوں میں جھانکا تھا۔۔۔۔
“کیا نام ہے تمہارا۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
حمدان اُس کا چہرا تھامے اُس کی آنکھوں میں جھانکتا اُسے ہپنوٹائز کر گیا تھا۔۔۔ اُس کے انجکشن میں نشہ آور دوا ملائی تھی۔۔۔ جس نے اُس کے حواس سلب کرلیے تھے۔۔۔۔ اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اُس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔۔
“مہروسہ کنول۔۔۔۔۔”
حمدان کے سوال پر مہروسہ کے لب آپ ہی آپ ہلے تھے۔۔۔
“بلیک سٹارز سے کیا تعلق ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اُس کے بے جان ہوتے وجود کو پوری طرح اپنے کسرتی بازوؤں میں جکڑ رکھا تھا۔۔۔ وہ پوری طرح اُسی کے سہارے پر کھڑی تھی۔۔۔
“بہت گہرا۔۔۔۔”
ایک بار پھر اُس کے ہونٹ ہلے تھے۔۔۔
“بلیک سٹارز کے باقی دو گینگ لیڈرز کا کیا نام ہے۔۔۔۔”
حمدان کی نگاہیں بار بار اُس کے گلابی ناک میں پینی نتھلی سے ٹکراتیں اُس کے دل کے کسی گم نام کونے میں طوفان برپا کررہی تھی۔۔۔۔
مہروسہ کی ول پاور بہت سٹرانگ تھی۔۔۔۔ وہ حمدان کو کچھ بھی نہ بتانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔ لیکن الفاظ خود بخود ہی اُس کے ہونٹوں سے پھسل رہے تھے۔۔۔۔
لیکن جتنی محبت اور عقیدت اُس کے دل میں شاہ ویز سکندر اور حازم سالار کے لیے تھی۔۔۔ وہ مر سکتی تھی مگر اُن کے خلاف لاشعوری میں بھی نہیں جاسکتی تھی۔۔۔۔۔
حمدان کے اِس سوال کا جواب نہ دے پانے پر اُس کی آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کر بکھرے تھے۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتی حمدان کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔۔۔
“ڈیمٹ۔۔۔۔”
حمدان کا دل چاہا تھا اِس لڑکی کو اُٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دے۔۔۔ جو اُس کی سوچ سے زیادہ شاطر نکلی تھی۔۔۔۔ مگر ابھی وہ اُسے پھینک نہیں سکتا تھا۔۔۔۔ یہ کام وہ اپنا مقصد پورا ہوجانے کے بعد کرنے والا تھا۔۔۔۔
اُسے یوں ہی بانہوں میں اُٹھاتا وہ اپنے آفس کے اندرونی روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“اگر میں وقت پر نہ پہنچتا تو یہ جن لوگوں کے لیے تمہارے دل میں اتنی ہمدردی جاگ رہی ہے نا۔۔۔ یہ اب تک تمہارا کام تمام کرچکے ہوتے۔۔۔۔۔ مگر تمہیں تو مجھ پر الزام لگانے اور مجھ سے لڑنے کے بہانے چاہیئے نا صرف۔۔۔ اگر اتنا کی شوق ہے نا تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ آج کا پورا دن دیتا ہوں میں تمہیں۔۔۔ جتنا مرضی لڑنا ہے مجھ سے لڑو۔۔۔ الزام لگاؤ۔۔۔۔ کیونکہ آج کی رات ہم دونوں اِس جنگل میں ہی گزارنے والے ہیں۔۔۔۔ ایک پولیس والی اور ایک گینگسٹر۔۔۔۔۔”
حازم اُس کی گردن میں پہنی چین کو چھوتا اپنی حرکت اور الفاظ سے اُسے لال کرگیا تھا۔۔۔۔ اِس شخص کی دھمکی خالی خولی دھمکی نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔
حبہ نے اُس کے سینے پر دباؤ ڈالتے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر حازم اُس کی کوشش ناکام بناتا اُسے اپنے مزید قریب کر گیا تھا۔۔۔
“تم میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔ اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو۔۔۔۔ دور رہو مجھ سے۔۔۔ اور یہاں سے جانے دو مجھے۔۔۔ ورنہ بہت بُرا ہوگا تمہارے لیے۔۔۔۔”
حبہ اُس کے سینے پر مکوں کی برسات کرنے کے بعد آخر میں زچ ہوتے چلائی تھی۔۔۔
“اب تک زندگی جتنا بُرا کرچکی ہے۔۔۔۔ اُس سے زیادہ بُرا کچھ نہیں ہوسکتا میرے لیے۔۔۔۔”
حازم اُس کے رخساروں کی نرماہٹوں کو اُنگلی کی پوروں سے چھوتا حبہ کا دل بُری طرح لرزا گیا تھا۔۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے اُس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔۔
“میں مطلب نہیں سمجھاتا۔۔۔ یہ کام تمہیں خود ہی کرنا پڑے گا۔۔۔۔ تمہارے پاؤں زخمی ہیں۔۔۔ اِن کانٹوں بھرے پتھریلے راستے پر چلنا بہت مشکل ہوگا۔۔۔۔”
حازم اُسے خود سے دور کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔
“جسٹ سٹے اوے۔۔۔۔ تم سمجھتے کیا ہو۔۔۔ میری جان بچا کر یہ سب حرکتیں کرو گے۔۔۔ اور میں تمہاری بات مان جاؤں گی۔۔۔۔۔ میں اِنہیں پتھریلی راستوں پر چل کر یہاں تک آئی ہوں۔۔۔۔ اور آگے بھی پہنچنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔۔۔۔۔ تم جیسے قاتل اور گناہوں میں دھنسے شخص پر تھوکنا بھی پسند نہ کروں میں۔۔۔۔۔”
حبہ کا ضبط جواب دے چکا تھا۔۔۔
وہ اُسے خود سے دور دھکیلتی نفرت آمیز لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
اِس بات سے انجان کے اُس کے الفاظ نوکیلے خنجر کی طرح کس بے دردی سے مقابل کے سینے میں پیوست ہوئے تھے۔۔۔۔
حازم وہیں کھڑا اُسے خود سے دور جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ ضبط کی شدت سے اُس کا آنکھیں لال انگارہ ہوچکی تھیں۔۔۔۔ اِس لڑکی کے قریب آنے کے لیے اپنے دل کو منانے میں اُسے نجانے کتنے سال لگ گئے تھے۔۔۔۔ مگر اِسی جگہ پر آکر وہ کمزور پڑ جاتا تھا۔۔۔
وہ اپنے سینے پر گولیاں کھانے کا حوصلہ تو رکھتا تھا مگر ایس پی حبہ امتشال کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ یہ نفرت اُس کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری تھی۔۔۔۔ جس سے لڑنے کی ہمت نہیں تھی اُس میں۔۔۔۔۔
حازم اُس کے پیچھے جانے کے بجائے وہیں کچھ فاصلے پر لگے گھاس پر پتھر سے ٹیک لگاتا نیم دراز ہوچکا تھا۔۔۔۔ اُس کی بھینچی مُٹھیاں بتا رہی تھیں کہ اِس وقت وہ کس قدر اذیت میں ہے۔۔۔۔۔
کنپٹی کی رگیں باہر کو نکل آئی تھیں۔۔۔ دانتوں پر دانت چڑھائے وہ اضطراب کی کیفیت میں مسلسل ٹانگ ہلا رہا تھا۔۔۔ جب قریب آتی قدموں کی چاپ پر وہ اپنی جگہ ساکت ہوا تھا۔۔۔۔
حبہ اردگرد کا سارا ایریا چھان آئی تھی۔۔۔۔ مگر اُسے کہیں سے بھی باہر نکلنے کا راستہ دیکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔۔ وہ اگر پوری رات بھی کوشش کرتی رہتی تو یہاں سے نہ نکل پاتی۔۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ یہ شخص ہی اُسے یہاں سے باہر نکال سکتا تھا۔۔۔۔ اس لیے ناچار اُسے واپس آنا پڑا تھا۔۔۔
مگر حازم کے پاس پہنچتے اُس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔۔۔۔
حازم بے سدھ پڑا ہوا تھا جبکہ اُس کے دائیں جانب سر کے پاس ایک سیاہ رنگ کا چوڑا سا سانپ اپنے پھنک پھیلائے کھڑا دیکھ۔۔۔۔ جسے دیکھ کر وہ نہیں سمجھ پائی تھی کہ سانپ اُسے کاٹ چکا ہے یا نہیں۔۔۔۔
مگر وہ اِس شخص کو کسی قیمت پر مرنے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔ ورنہ یہاں سے نکل پانا اُس کے لیے ناممکن ہوجاتا۔۔۔۔ حبہ آگے بڑھی تھی اور حازم کے قریب آتے اُس کی داہنی پاکٹ سے پسٹل نکالتے اُس سانپ کے عین سر پر نشانہ باندھتے اُسے ایک ہی وار میں مار گرایا تھا۔۔۔۔
درختوں کے قریب سے ایک موٹی سی سٹک نکال کر سانپ کو دور پھینکتے وہ واپس حازم کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
“یہ تو گولی کی آواز پر بھی ایسے ہی پڑا رہا ہے۔۔۔ کہیں اِس سانپ کے کاٹنے پر یہ مر تو نہیں گیا۔۔۔ اگر ایسا ہوگیا تو میں کیا کروں گی۔۔۔ واپس کیسے جاؤں گی۔۔۔۔”
حبہ پریشانی کے عالم میں اُس کے قریب بیٹھ کر بڑبڑاتی حازم کے ہونٹوں پر اُبھر کر معدوم ہوتی تلخی بھری مسکراہٹ نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔
“سانپ نے پتا نہیں کہاں کاٹا ہوگا۔۔۔۔ اگر زہر پوری باڈی میں پھیل گیا تو۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے مزید قریب ہوتے اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر دیکھتے اُس کے ٹراؤذر کے بازو کو پیچھے کیا تھا۔۔۔ مگر اُس کے بازو پر ایسا کوئی نشان نہیں تھا۔۔۔۔
“دیکھو آنکھیں کھولو۔۔۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟ پلیز آنکھیں کھولو۔۔۔۔”
حبہ اُسے مسلسل ہلا رہی تھی۔۔۔۔ نجانے کیوں اُس کا دل بُری طرح بے چین ہو اُٹھا تھا۔۔۔ اُس نے یہ فیلڈ جوائن کرنے کے بعد اب تک بہت سے لوگوں کو مرتے دیکھا تھا۔۔۔ مگر اس ہٹے کٹے صحت مند انسان کو یوں بے سدھ پڑے دیکھنا اُس سے برداشت نہیں ہوپایا تھا۔۔۔۔
اُس کی نبض چل رہی تھی۔۔۔ مگر وہ اُٹھ نہیں رہا تھا۔۔۔
اچانک کسی خیال کے تحت حبہ نے اُس کے نقاب سے ڈھکے چہرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
اتنی ملاقاتوں کے باوجود اُس نے اِس شخص کا چہرا نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ اُس کے مزید قریب ہوتی اُس کے چہرے پر لپٹا سیاہ سکارف ہٹانے کے لیے ہاتھ بڑھا چکی تھی۔۔۔ مگر اِس سے پہلے کہ وہ ایسا کر پاتی۔۔۔ حازم اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے اپنے اُوپر کھینچ چکا تھا۔۔۔۔ حبہ جو تقریباً اُس کے اُوپر ہی جھکی ہوئی تھی۔۔۔ سیدھی اُس کے کسرتی سینے پر آن گری تھی۔۔۔۔
“واٹ دا ہیل۔۔۔۔؟؟ یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے اُس کے سینے سے اُٹھنا چاہا تھا۔۔۔۔
مگر حازم اُس بن پانی کی طرح تڑپتی مچھلی کو پوری طاقت لگا کر قابو کرتا مسکراتی نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگا تھا۔۔
“تم تو مجھ سے بھی زیادہ سنگدل اور بے رحم نکلی۔۔۔ میرے مرنے کی پرواہ نہیں ہے۔۔۔ مگر میرا چہرا دیکھنا زیادہ ضروری ہے۔۔۔۔”
حازم اپنے سینے سے لگی اُس خونخوار جنگلی بلی کو دیکھتا مسکراتی آواز میں بولا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ اندھیرا چاروں اوور پھیل رہا تھا۔۔۔ جسے دیکھ حازم جتنا ریلیکس تھا۔۔۔ حبہ کی اُتنی ہی جان نکلی جارہی تھی۔۔۔۔۔
اُسے خود پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔۔۔ بھلا وہ ایسے ہی بنا کسی ہتھیار کے گھر سے کیوں نکل آئی تھی۔۔۔۔
“تم جیسے لوگوں کے لیے یہ عام بات ہوگی۔۔۔ مگر میرے لیے نہیں۔۔۔ دور رہو مجھ سے۔۔۔۔ تم جیسے بد کردار مردوں کو بہت اچھے سے سمجھتی ہوں میں۔۔۔۔ جو اِنہیں موقعوں کی تلاش۔۔۔۔۔”
حبہ کے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔ جب حازم نے کروٹ بدلتے اُسے کی دونوں کلائیاں اپنی مضبوط گرفت میں جکڑتے اُس کی کمر گھاس سے ٹکاتے اُسے پوری طرح بے بس کیا تھا۔۔۔۔
حبہ کا نازک وجود اُس کے چوڑے وجود کے پیچھے چھپ سا گیا تھا۔۔۔۔
“مجھے موقع تلاش کرنے کی ضرورت کبھی نہیں ملی۔۔۔۔ اور تمہیں یہ بد کردار مرد جتنی مہلت دے چکا ہے۔۔۔ اُسی پر شکر ادا کرو۔۔۔۔ اگر میں اپنے دل کی سننے پر آگیا تو تمہارے لیے بہت مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔۔”
حازم یہ الفاظ ادا کرتا جھکا تھا اور اُس کے گال کو لال کرتا اُس کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر گیا تھا۔۔ اُس کے اِس شدت بھرے لمس پر حبہ نے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ شخص اُس کے ساتھ یہ حرکت کرگیا ہے۔۔۔۔
حازم اپنے دل کی منانی کرتا اب کافی پرسکون ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
“تم گھٹیا شخص تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔۔۔۔۔”
حبہ اپنی جگہ سے اُٹھتی جھپٹنے کے انداز میں حازم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ اُسے ابھی تک اپنا دائیاں گال جلتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
حبہ نے اُس کے منہ پر تھپڑ مارنا چاہا تھا۔۔۔ جسے حازم ہوا میں ہی تھام چکا تھا۔۔۔۔ حبہ نے مزید آگ بھگولا ہوتے دوسرا ہاتھ اُٹھایا تھا۔۔۔ جو اگلے ہی لمحے حازم کی گرفت میں آچکا تھا۔۔۔
“تم آخر چاہتے کیا ہو۔۔۔۔ کیوں پیچھے پڑے ہو میرے۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ اُس کی گرفت میں بے بس محسوس کرتی چلائی تھی۔۔۔۔ اور حازم سالار تو اُس کے غصے سے لال پڑتے چہرے اور پھولے نتھنوں پر ہی فدا ہوا تھا۔۔۔۔ اِس سے پہلے کہ وہ دوبارہ بہک کر مزید کوئی گستاخی سرزد کرکے اِس جنگلی بلی کو مزید خونخوار بناتا۔۔۔۔ بہت مشکل سے اپنے منہ زور جذبوں پر بندھ باندھتا اُسے کی لال پڑتی کلائیوں کو اپنی گرفت سے آزاد کرگیا تھا۔۔۔
“میں جو چاہتا ہوں وہ شاید مجھے کبھی نہ مل پائے۔۔۔ مگر ابھی وہ کرتے ہیں جو تم چاہتی ہو۔۔۔ مجھے فالو کرتے میرے پیچھے پیچھے آجاؤ۔۔۔ اگر رات زیادہ گہری ہوگئی تو یہاں سے نکلنا مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔۔”
حازم کے ایک دم بدلتے اجنبی رویے پر حبہ اُلجھی نگاہوں سے اُسے دیکھتی دل ہی دل میں اُس کے مان جانے پر اللہ کا شکر ادا کرتی اُس کے پیچھے چل دی تھی۔۔۔
آج جو حرکت اِس شخص نے اُس کے ساتھ کی تھی۔۔۔ وہ اب بہت جلد اس شخص کو اِس کے انجام تک پہنچانے کا عہد کرچکی تھی خود سے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
سیاہ گیٹ سے اندر کھڑے سیاہ وردیوں میں ملبوس گارڈز شاہ ویز سکندر کی بانہوں میں بے ہوش پڑی لڑکی کو دیکھ شدید دھچکے کا شکار ہوئے تھے۔۔۔ کیونکہ ایک تو اُس لڑکی نے پنک لباس پہن رکھا تھا۔۔۔ دوسرا وہ شاہ ویز سکندر کی پناہوں میں تھی۔۔۔۔ جہاں آج تک اُنہوں نے کسی لڑکی کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔
شاہ ویز اُسے اُٹھائے ایک روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی اغوا شدہ انسان کو اتنے اچھے روم میں لایا گیا تھا۔۔۔ جس کی وجہ اُس کا آفندی خاندان سے تعلق ہونا تو بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
شاہ ویز اُسے بیڈ پر لٹا کر واپس پلٹا تھا۔۔۔ جب اُس کی نظر اپنی چادر سے نکلے پریسا کے سیاہ بالوں پر پڑی تھی۔۔۔۔ پورے بلیک ہاؤس کی طرح اس کمرے کی ہر شے بھی سیاہی لیے ہوئے تھی۔۔۔ جس کے بیچوں بیچ پڑے سیاہ بیڈ لیٹی وہ پنک لباس میں ملبوس دوشیزہ اِس وقت نظر انداز کیے جانے کے قابل بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ اُس کا یہ بے پناہ حُسن اِس ماحول کے لیے بالکل بھی ٹھیک نہیں تھا۔۔۔۔
شاہ ویز ہونٹ بھینچتا بیڈ پر رکھا کمبل اُس اُوپر ڈالتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔ پریسا کے کمرے کے باہر اُس نے گارڈز نہیں بلکہ اپنی بلیک ٹائیگر فورس کی دو لیڈیز کو کھڑا کیا تھا۔۔۔ جن کی ڈیوٹی فل ٹائم پریسا آفندی کے اردگرد رہنے کی تھی۔۔۔
کیونکہ اِس کے بعد شاہ ویز سکندر اِس لڑکی کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اُسے مہروسہ اور حازم کی ٹینشن بھی تھی جو اب تک نہیں پہنچے تھے۔۔۔
باہر لان میں آکر بیٹھتے وہ اپنی عادت کے مطابق سیگریٹ پر سیگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔ چیئر پر بیٹھا وہ دونوں ٹانگیں سامنے پڑے ٹیبل پر رکھے ہوئے تھا۔۔۔ جب اچانک اُس کی نظر سامنے بنی سیاہ پتھروں کی روش پر کوئی شے چمکتی نظر آئی تھی۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں سرد تاثرات لیے اُس جانب بڑھا تھا۔۔۔ پریسا کو وہ اِسی راستے سے لایا تھا۔۔۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر کیا چیز ہے یہ۔۔۔۔ کیونکہ اُس کے بلیک ہاؤس میں اتنی چمکتی ہوئی کوئی شے موجود نہیں تھی۔۔۔
قریب پہنچتے شاہ ویز سکندر کی آنکھوں میں مزید وحشت دوڑ گئی تھی۔۔۔۔ وہ کچھ اور نہیں پریسا کے پیر سے گری پائل تھی۔۔۔ جو وہ پہلے بھی اُس کے پیر میں دیکھ چکا تھا۔۔۔۔
ایک لمحے کے لیے تو اُس کا دل چاہا تھا اِس پائل کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے یہاں سے باہر پھینک دے۔۔۔ مگر پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کوئی بات وہ سوچ پایا تھا مگر کر نہیں پایا تھا۔۔۔۔
اُس پائل کو مُٹھی میں دبوچتے وہ اُٹھا تھا جب سامنے سے اُسے حازم آتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔
“کہاں تھے تم۔۔۔۔ اور مہرو کہاں ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ “
شاہ ویز نے بہت غور سے حازم کی لال ہوتی آنکھوں کو دیکھا تھا۔۔۔ اُسے سمجھنے میں ایک پل بھی نہیں لگا تھا کہ حازم کہاں سے آرہا ہے۔۔۔۔
“کیوں دے رہے ہو خود کو تکلیف۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز اُسے بے چین دیکھ خود بھی اذیت کا شکار ہوا تھا۔۔۔۔ مہروسہ اور حازم کی زرا سی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا وہ۔۔۔۔
“میں ہارنا نہیں چاہتا۔۔۔ مگر مجھے لگ رہا ہے کہ میں ہار رہا ہوں۔۔۔ اُس کی نفرت برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔۔ “
حازم شاہ ویز کے ساتھ چلتا لان میں رکھی چیئرز پر آن بیٹھا تھا۔۔۔۔
“تو واپس لوٹ جاؤ اُس کی دنیا میں۔۔۔ “
شاہ ویز نے دل پر پتھر رکھتے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔ جس کے جواب میں حازم اذیت سے مسکرا دیا تھا۔۔۔۔ اُس کی یہ ہنسی شاہ ویز سکندر کا دل چیر گئی تھی۔۔۔
“مہرو نظر نہیں آرہی۔۔۔۔۔”
حازم نے بات بدلی تھی۔۔۔۔ جب اُسی لمحےجنید اُن کے قریب آیا تھا۔۔۔
“سر مہروسہ میم کا شام میں میسج ملا تھا۔۔۔ وہ اِس وقت ایس پی حمدان کے ساتھ ہیں۔۔۔۔۔”
جنید کے سارا واقع کہہ سنانے پر اُن دونوں کی مُٹھیاں بھینچ گئی تھیں۔۔۔۔
“وہ ایس پی بہت شاطر ہے۔۔۔۔ مہروسہ کو لے کر ہمیں بلیک میل کرے گا۔۔۔۔”
جنید نے اپنی پریشانی ظاہر کی تھی۔۔۔
“وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا۔۔۔۔ اور نہ ہی ہماری مہرو اتنی کمزور ہے کہ اُس کے چنگل میں پھنسے گی۔۔۔”
شاہ ویز کے ساتھ ساتھ حازم بھی مہروسہ کے حوالے سے مطمئین تھے۔۔۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بلیک سٹارز کے کسی بھی گینگ لیڈر کو نقصان پہنچانے سے پہلے پولیس والوں کو ہزار ہار سوچنا پڑتا۔۔۔۔
“سر وہ لڑکی اُٹھ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔ “
اقرا بھاگتے ہوئے اُن کے قریب آتی قدرے گھبرائے ہوئے انداز میں بولی تھی۔۔۔
“کسی سوئے ہوئے انسان کا جاگ جانا میرے خیال میں نارمل سی بات ہے۔۔۔۔”
حازم اُس کے گھبرائے بوکھلائے انداز پر طنز کرتے کہا تھا۔۔۔۔
“نہیں وہ بہت رو رہی ہیں۔۔۔ اور سر کو بلا رہی ہیں۔۔۔ اور ساتھ ہی اپنے فیانسی کو بھی بہت یاد کررہی ہیں۔۔ جسے شاید سر نے گولی ماری ہے۔۔۔۔”
اقرا کے الفاظ پر شاہ ویز بنا کوئی ردعمل دیئے سکون سے بیٹھا رہا تھا۔۔۔ بس فیانسی کو یاد کرنے والی بات پر مُٹھیاں بھینچ گئی تھیں۔۔۔
“اُسے کہو مرگیا ہے اُس کا فیانسی۔۔۔۔ آج رات بیٹھ کر سوگ منا لے۔۔۔۔ اور آج کی تاریخ میں میرا مزید اُسے جھیلنے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنے مخصوص اُکھڑ لہجے میں بولتے اگلا سیگریٹ سلگھا گیا تھا۔۔۔
“ویسے سفیان آفندی کو گولی مارنے کی کوئی خاص وجہ۔۔۔۔”
حازم نے اُس کی جانب کھوجتی نگاہوں سے دیکھتے سیگریٹ کا گہرا کش لیتے پوچھا تھا۔۔۔۔
“سب وجوہات سے واقف ہو تم۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔ جب پریسا کی پائل اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری تھی۔۔۔۔ وہاں کھڑی اقرا اور اُس کے پیچھے آتی ہما اور جنید نے آنکھیں پھاڑے پائل کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“سر یہ کس کی ہے۔۔۔۔؟؟”
اقرا کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔۔ مگر شاہ ویز کے غصے کے ڈر سے فوراً ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی تھی۔۔۔۔
“میری ہے۔۔۔۔۔۔؟؟”
حازم کی نظر پڑنے سے پہلے ہی شاہ ویز جھک کر پائل اُٹھاتا اُن تینوں کو سوالیہ نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔ جس پر وہ دونوں ہی گڑبڑا گئی تھیں۔۔۔ جبکہ حازم ناسمجھی سے اُن کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔ شاہ ویز کی مُٹھی میں دبی پائل وہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔
“سر آپ یہ پہنتے ہیں۔۔۔؟؟”
شاہ ویز نے آج تک اُن سے کبھی کوئی مذاق نہیں کیا تھا اِس لیے وہ سب منہ اور آنکھیں پھاڑے شاہ ویز کو گھور رہے تھے۔۔۔۔
“ہاں میں پہنتا ہوں۔۔۔ کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز کی بات پر اُن سب نے ایک ساتھ نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔ جس پر شاہ ویز اُن سب کو آنکھیں دیکھاتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
