No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
“سر یہ کس کی ہے۔۔۔۔؟؟”
اقرا کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔۔ مگر شاہ ویز کے غصے کے ڈر سے فوراً ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی تھی۔۔۔۔
“میری ہے۔۔۔۔۔۔؟؟”
حازم کی نظر پڑنے سے پہلے ہی شاہ ویز جھک کر پائل اُٹھاتا اُن تینوں کو سوالیہ نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔ جس پر وہ تینوں ہی گڑبڑا گئے تھے۔۔ جبکہ حازم ناسمجھی سے اُن کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔ شاہ ویز کی مُٹھی میں دبی پائل وہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔
“سر آپ یہ پہنتے ہیں۔۔۔؟؟”
شاہ ویز نے آج تک اُن سے کبھی کوئی مذاق نہیں کیا تھا اِس لیے وہ سب منہ اور آنکھیں پھاڑے شاہ ویز کو گھور رہے تھے۔۔۔۔
“ہاں میں پہنتا ہوں۔۔۔ کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز کی بات پر اُن سب نے ایک ساتھ نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔ جس پر شاہ ویز اُن سب کو آنکھیں دیکھاتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
وہ تیز قدموں سے اپنے روم کی جانب بڑھ رہا تھا جب اُس کے کانوں میں نسوانی سسکیوں کی آواز گونجی تھی۔۔۔
قدم وہیں منجمند ہوتے چہرے پر کرختگی بکھیر گئے تھے۔۔۔۔۔ شاہ ویز مُٹھیاں بھینچتا اُس روم کی جانب پلٹا تھا۔۔۔۔ جہاں وہ محترمہ زور و شور سے رونے میں مصروف تھیں۔۔۔۔
اُسے رونے والے لوگوں سے سخت چڑ تھی۔۔۔ آنسو بہاتے لوگ اُسے بہت بُرے لگتے تھے۔۔۔ اور اِس لڑکی کی تو ویسے بھی اُسے کوئی بات پسند نہیں تھی۔۔۔۔
شاہ ویز کے بھاری بوٹوں کی چاپ پر پری نے سہم کر چہرا اُوپر اُٹھایا تھا۔۔۔۔ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے شاہ ویز سکندر کو دیکھ اُس کی سسکیوں کو خود بخود ہی بریک لگ گئی تھی۔۔۔
مگر کوشش کے باوجود آنکھوں سے وافر مقدار میں اُمڈ آنے والا سیلاب نہیں روک پائی تھی وہ۔۔۔۔
“کس بات کا ماتم منا رہی ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ ابھی مرا نہیں ہے تمہارا وہ فیانسی۔۔۔۔ ابھی میں نے اُسے کچھ وقت کی مہلت دی ہے۔۔۔۔ یہ رونے دھونے کا ڈرامہ تب کرنا جب میری چلائی گولی اُس کے سینے کے آڑ پار ہوگی۔۔۔۔ “
شاہ ویز کے دھمکی آمیز انداز پر دیوار کے سہارے اُس سے سہمی کھڑی پریسا نے اپنی گول گول آنکھیں مزید چھوٹی کرتے اُسے گھورنے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔۔
“اُنہوں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا۔۔۔۔ کیوں ایسے ہی بے قصور لوگوں کی جان لیتے پھرتے ہیں آپ۔۔۔ خدا کا زرا خوف نہیں ہے آپ کو۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا اُس کی یہ اکڑ اور مغرورانہ انداز میں دی جانے والی دھمکی برداشت نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔ سفیان اور باقی گھر والوں نے بچپن سے لے کر اب تک اُسے بہت پیار دیا تھا۔۔۔ وہ بھلا پھر کیسے اُن کے بارے میں کچھ غلط سن پاتی۔۔۔ جو اُس کے لیے سب کچھ تھے۔۔۔۔
مگر وہیں شاہ ویز سکندر کو اُس کے یہ الفاظ اور انداز ہضم نہیں ہوپایا تھا۔۔۔۔ اُس نے لال ہوتی وحشت ناک آنکھوں سے پریسا کو گھورتے اُس کی جانب قدم بڑھائے تھے۔۔۔۔ اُسے اپنے قریب آتا دیکھ پریسا کی خوف کے مارے جان آدھی ہوئی تھی۔۔۔۔
“آج تک کسی میں اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ شاہ ویز سکندر کا کچھ بگاڑ سکے۔۔۔۔ اور نہ ہی میرے سامنے کوئی یہ الفاظ ادا کرنے کی ہمت کر پایا ہے۔۔۔۔۔ میں تمہیں لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں۔۔۔ آئندہ میرے سامنے ایسی بکواس کی تو دوبارہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے قریب آتا اُنگلی اُٹھا کر اُسے وارن کرتے بولا۔۔۔۔
پریسا نے ہرنی سی خوفزدہ آنکھیں اُس کے چہرے پر گاڑھ رکھی تھیں۔۔ یہ شخص جتنی خوفناک آنکھیں نکال کر دیکھنے والوں کی جان نکال دیتا تھا۔۔۔۔ بظاہر اُس سے کہیں زیادہ بہترین پرسنیلٹی کا مالک تھا۔۔۔۔ پریسا نے ہر وقت اُسے سیاہ لباس میں ہی دیکھا تھا۔۔۔
اِس وقت بھی وہ سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس سلیوز کو کہنیوں تک فولڈ کیے اپنی رعب دار پرسنیلٹی کے ساتھ اِس وقت ماحول پر پوری طرح چھایا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔ کسرتی مضبوط شانے، چوڑا سینہ، کشادہ پیشانی پر چھائی رہنے والی اَن گنت سلوٹیں، بھینچے جبڑے اور کنپٹی کی اُبھری رگیں۔۔۔۔
پریسا نے اِس شخص کو ہر وقت غصے سے دھاڑتے ہی دیکھا تھا۔۔۔ شاید اِس شخص کو نرمی سے بات کرنا یا ہنسنا مسکرانا آتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
“مجھے اغوا کیوں کیا؟؟؟”
پریسا کو بے اختیار اُس کی گھورتی آنکھوں سے گھبراہٹ ہوئی تھی۔۔۔۔
“کسی کو سبق سکھانے کے لیے۔۔۔۔”
شاہ ویز سگریٹ سلگھاتے پلٹا تھا۔۔۔۔
“تو اُنہیں اغوا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔ جو ایک کمزور لڑکی پر ہاتھ ڈالا۔۔۔۔۔”
پریسا اُس سے جتنا خوف کھاتی تھی زبان بھی اُسی سے چلاتی تھی۔۔۔۔
“کمزور۔۔۔ تو تم خود کو کمزور سمجھتی ہو۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کا مذاق بناتے طنز کیا تھا۔۔۔۔
“اُن لوگوں کو بھی اُن کے انجام تک بہت جلد پہنچاؤں گا۔۔۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی جانب آگ اُگلتی نگاہوں سے دیکھتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“مجھے کھانا کھانا ہے۔۔۔۔۔”
پریسا جس سے بھوک برداشت کرنا ناممکن سی بات تھی۔۔۔۔ شاہ ویز کو باہر جاتا دیکھ جلدی سے بول اُٹھی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی اِس فرمائش پر شاہ ویز نے پلٹ کر اُسے جن نگاہوں سے گھورا تھا وہ سہم کر نگاہیں جھکا گئی تھی۔۔۔۔۔۔
پنک کلر کے خوبصورت سے ڈریس کا دوپٹہ شانوں پر پھیلائے، کیچر سے جھانکتے گلابی گالوں سے ٹکراتے بالوں کو بار بار کان کے پیچھے اڑستی وہ نازک سی دوشیزہ بلیک بیسٹ کا ضبط بُری طرح آزما رہی تھی۔۔۔۔
جو اپنے مزاج کے خلاف کسی کی بات سننا تک پسند نہیں کرتا تھا. وہ نجانے کیوں اِس لڑکی کے اوٹ پٹانگ سوالوں کے جواب دیئے جارہا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز کو اپنے اِس بنگلے میں بلیک کلر کے علاوہ کوئی کلر برداشت نہیں تھا۔۔۔۔ مگر یہ لڑکی بڑے دھڑلے سے یہ لباس پہنے ہوئے تھی۔۔۔۔
“وہ سامنے پڑا تو ہے۔۔۔ کھا لو۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کہتے واپس جانے لگا تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ یہ بہت سپائسی ہے۔۔۔ ایک نوالے سے ہی میرا منہ جلنے لگ گیا تھا۔۔۔۔ مجھے یہ کھانا نہیں کھانا۔۔۔۔ کوئی اور بنوا کر دیں۔۔۔۔”
پریسا کی اِس فرمائش پر شاہ ویز کا خون کھول اُٹھا تھا۔۔۔
یہ شخص جتنا اُسے خود سے ڈرانے، خود سے بدظن کرنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔ وہ اتنا اُس کے ساتھ کمفرٹیبل ہورہی تھی۔۔۔۔
“دیکھو لڑکی یہ نہ تو تمہارا آفندی مینشن ہے اور نہ ہی کوئی فائیو سٹار ہوٹل۔۔۔۔ اِس لیے جو دیا ہے وہ چپ کرکے کھا کو یا پھر ایسے ہی رہو۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اپنے مخصوص سرد اور بے لچک انداز میں کہتے اُسے خاموش کروا دیا تھا۔۔۔۔ مگر ابھی اُس کی بات ختم ہوئی ہی تھی۔۔۔۔ کہ پریسا آنسو بہاتی وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز نے غصے سے مُٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔۔۔ آخر کیا تھی یہ لڑکی۔۔۔۔
“اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز اُس کے سر پر پہنچتا دھاڑا تھا۔۔۔ جو گود میں سر رکھے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے رونے کو تیار بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
“مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ اگر یہ اتنا سپائسی کھانا کھایا تو بے ہوش ہونا میں نے اور اگر نہ کھایا تا بھوک کی وجہ سے۔۔۔۔”
پریسا نے موٹے موٹے آنسو گراتے شاہ ویز سکندر کو زچ کرکے رکھ دیا تھا۔۔۔ اُسے آنسو جتنے بُرے لگتے تھے یہ لڑکی اُتنا ہی آنسو بہانے کی شوقین تھی۔۔۔
“خیر بے ہوش تو تم بغیر کسی ریزن کے ہوسکتی ہو، یہ بتانے والی کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔۔”
وہ اُس پر ایک خونخوار نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اُس کے جاتے ہی پریسا کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔ اُس جیسی زہین لڑکی چند ہی ملاقاتوں میں اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ یہ شخص اُسے مارنا تو نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اور یہ اگر کسی چیز سے ڈرتا تھا تو وہ ایموشنز تھے۔۔۔۔ اُسے اگر کسی بات سے کمزور کیا جا سکتا تھا تو وہ تھے جذبات اور احساسات۔۔۔۔ غصہ کرنے سے یہ شخص ڈبل غصہ کرتا تھا۔۔۔ مگر رونے دھونے سے وہ اور زیادہ چڑھتا تھا۔۔۔ اور یہی بات پریسا کو مزا دے گئی تھی۔۔۔۔
وہ اب اِسے اتنا زچ کرنے والی تھی کہ وہ خود ہی اُس سے جان چھڑوانے کے لیے اُسے واپس چھوڑ آتا۔۔
شاہ ویز کے جاتے ہی وہ آنسو صاف کرتی صوفے پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ جس شاہانہ انداز میں اُسے وہاں رکھا گیا تھا۔۔۔۔ کسی اغوا شدہ انسان کو ایسا کبھی نہیں رکھا گیا تھا۔۔۔۔
“غنڈہ موالی کہیں کا۔۔۔۔ بڑا آیا دھمکانے والا۔۔۔ اب تگنی کا ناچ نہ نچا دیا تو میرا نام بھی پریسا آفندی نہیں۔۔۔ “
پریسا شاہ ویز سکندر کا لال چہرا یاد کرتی مزے سے بولی تھی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
مہروسہ نے دکھتے سر کے ساتھ بمشکل آنکھیں کھولتے نیم تاریک کمرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ دمیانے سائز کا کمرہ جہاں صرف ضرورت کا سامان ہی موجود تھا کہ بیچوں بیچ رکھے بیڈ پر وہ کمبل میں لپٹی سو رہی تھی۔۔۔
اُس کے علاوہ کمرے میں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔ وہ اپنے اُوپر سے کمبل ہٹاتی ایک جھٹکے سے بیڈ سے اُترتی دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
اُس کا حلیہ ابھی بھی بالکل ویسا ہی تھا جیسا بے ہوش ہونے سے پہلے تھا۔۔۔۔ مگر نیم تاریک کمرے میں وہ یہ اندازہ نہیں لگا پائی تھی کہ باہر اِس وقت کیا ٹائم ہے۔۔۔۔
مگر روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلتے اُس کے چودہ طبق روشن ہوچکے تھے۔۔۔
وہ اتنی ٹائم تک بے ہوش رہی تھی۔۔۔ باہر دن پوری طرح سے نکل آیا تھا۔۔۔۔
“میں اتنا ٹائم کیسے سوتی رہی۔۔۔۔ اور کل رات اچانک مجھے کیا ہوا تھا۔۔۔۔ میں کہاں ہوں اِس وقت۔۔۔۔؟؟”
مہروسہ کا دماغ بالکل ماؤف ہوچکا تھا۔۔۔۔ کل وہ حمدان کے ساتھ تھی۔۔۔۔ اور اب یہاں۔۔۔ اِس طرح۔۔۔۔
“کہیں اُنہیں مجھ پر شک تو نہیں ہوگیا۔۔۔۔ رات کو ہوا کیا تھا۔۔۔ مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آرہا۔۔۔۔؟؟؟ لیکن اگر ایس پی صاحب کو مجھ پر زرا سا بھی شک پڑتا تو میں اِس وقت اِس شاہانہ فلیٹ میں نہیں اُن کے لاک اپ میں کھڑی ہوتی۔۔۔۔”
مہروسہ اردگرد کا جائزہ لیتی وہاں کسی زی روح کی متلاشی تھی۔۔۔ جب اچانک اُس کی سماعتوں میں کسی کی قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی۔۔۔
وہ جھٹکے سے پیچھے پلٹی تھی۔۔۔ جہاں ایک پولیس یونیفارم میں ملبوس لیڈی نظر آئی تھی اُسے۔۔۔۔
“میڈم آپ اُس گئیں۔۔۔ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے اب۔۔۔۔ آپ کل رات اچانک بے ہوش ہوگئی تھیں۔۔۔ آپ کا کوئی ایڈریس وغیرہ بھی نہیں تھا ہمارے پاس تو سر آپ کو یہاں لے آئے۔۔۔ آپ کی تنہائی کے خیال سے اُنہوں نے مجھے بھی بلوا لیا تھا۔۔۔ میں کل رات سے یہاں موجود ہوں۔۔۔۔”
حمدان کے ساتھ پوری رات اکیلے ہونے کے خیال سے مہروسہ کا رنگ فق پڑا تھا۔۔۔۔ جسے دیکھتے اُس پولیس لیڈی نے فوراً وضاحت دی تھی۔۔۔۔
“بہت شکریہ مگر اب مجھے جانا ہے۔۔۔ میرے گھر والے پریشان ہورہے ہونگے۔۔۔۔”
مہروسہ فوراً پلٹی تھی۔۔۔۔
“آئم سوری میم۔۔۔ مگر سر کی اجازت کے بغیر آپ نہیں جاسکتیں۔۔۔ وہ جیسے ہی اُٹھتے ہیں آپ اُن سے پوچھ کر چلی جائیئے گا۔۔۔۔۔”
وہ پولیس والی نہایت دھیمے لہجے میں بولتی مہروسہ کے قدم وہیں روک گئی تھی۔۔۔
“ایس پی صاحب کب اُٹھیں گے۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ دانت پیس کر بولی۔۔۔۔
“وہ چار بجے سوئے ہیں۔۔۔۔ ایک دو گھنٹوں تک اُٹھ جائیں گے۔۔۔۔ اتنی دیر میں میں آپ کے لیے ناشتہ بنوا دیتی ہوں۔۔۔۔”
وہ مہروسہ کو اپنے مخصوص نرم انداز میں جواب دیتی وہ اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“میں کیا کروں کیسے نکلوں یہاں سے۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ کو اپنے اردگرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہورہی تھیں۔۔۔۔
وہ جلدی سے آس پاس دیکھتی باہر والے دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ جس لاک دیکھ وہ مزید کوفت کا شکار ہوئی تھی۔۔۔
“اب یہ کیز کہاں ہونگی۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ واپس پلٹتی جلدی سے ڈرائینگ روم میں دیکھنے لگی تھی۔۔۔ ڈرائینگ کے ساتھ ساتھ اُس نے اردگرد کے سارے کمرے چھان مارے تھے۔۔۔۔ مگر کیز کہیں نہیں ملی تھیں۔۔۔۔ اب صرف ایک حمدان کا روم بچا تھا جہاں اُس پولیس والی نے اُس کے سوئے ہونے کا بتایا تھا۔۔۔۔
مہروسہ وہاں کسی قیمت پر نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اُس کے پاس۔۔۔۔
گہری سانس ہوا میں خارج کرتے وہ دھیرے سے دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ زیرو پاور بلب کی روشنی پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
بیڈ پر سوئے حمدان کو دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔
اگر وہ جاگ جاتا تو۔۔۔۔؟؟؟
یہ سوچ کر ہی مہروسہ نے جھڑجھڑی سی لی تھی۔۔۔
اِس وقت یہاں سے نکلنا اُس کے لیے سب سے زیادہ ضروری تھا۔۔۔۔
وہ دبے پیر چلتی حمدان کے بیڈ کے قریب آئی تھی۔۔۔۔ وہ بنا شرٹ کے اوندھے منہ سویا تکیہ سینے سے لپیٹے گہری نیند میں تھا۔۔۔۔ اُس کی جانب ایک نظر دیکھ کر ہی مہروسہ لال ہوئی تھی۔۔۔۔
فون پر اُس کے سامنے وہ جتنی دلیری اور بے باکی کا مظاہرہ کرتی تھی۔۔۔ اِس وقت اُس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں تنہائی کے خیال سے ہی اُس کے پورے وجود میں لرزش شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔
دور دور تک اُسے کہیں بھی ٹیبل پر اور آس پاس کیز کا نام و نشان تک نظر نہیں آیا تھا۔۔۔
“اب میں کیا کروں گی۔۔۔ یا اللہ جی پلیز مدد کر دیں۔۔۔”
مہروسہ دل ہی دل میں اپنے رب کو یاد کرتی واپس پلٹ ہی رہی تھی۔۔
جب اُس کی نظر حمدان کے تکیے کے نیچے سے زرا سی دکھائی دیتی چابی پر پڑی تھی۔۔۔۔ اُس کا چہرا لمحے بھر کے لیے کھل اُٹھا تھا۔۔۔۔
مگر ایس پی حمدان کے قریب جانا مہروسہ کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں تھا۔۔۔۔ اِس شخص کی خوشبو اُس کی کمزوری تھی۔۔۔
وہ خود میں ہمت مجتعم کرتی۔۔۔ دانتوں کو دانتوں پر چڑھائے خود کو مضبوط ظاہر کرتی اُس کے قریب گئی تھی۔۔۔۔ اور بیڈ کے ساتھ نیچے بیٹھتے اُس نے اپنا کپکپاتا ہاتھ بڑھا کر اُس کے تکیے کے نیچے پڑی چابی کو چھوا تھا۔۔۔۔ جو بنا کسی مزاحمت کے ایک ہلکے سے جھٹکے میں باہر آگئی تھی۔۔۔۔
مہروسہ کا چہرا اِس وقت حمدان کے بہت قریب تھا۔۔۔۔ مہروسہ نے لرزتی پلکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ اور پھر جیسے نگاہیں پلٹنا بھول گئی تھیں۔۔۔۔
مغرور نقوش سوتے ہوئے بھی ایسے تنے ہوئے تھے جیسے خواب میں بھی وہ اُسے ہی دیکھ رہا ہو۔۔۔۔ کھڑی مغرور ناک پر غصہ نیند میں بھی سوار تھا۔۔۔۔
احمری لب سختی سے بھینچ رکھے تھے۔۔۔۔۔ اوندھے منہ سونے کی وجہ سے سیاہ بال کشادہ پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔ مہروسہ کتنے ہی لمحے سانسیں روکے اُسے دیکھتی رہی تھی۔۔۔۔
یہاں سے اُٹھنے کا اُس کا بالکل بھی دل نہیں چاہا تھا۔۔۔۔ مگر اِس شخص کے قریب اُس کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔ آنکھوں میں اُمڈ آتی نمی کو پیچھے دھکیلتی وہ جلدی سے اُس کے قریب سے اُٹھتی روم سے نکلتی چلی گئی تھی۔۔۔۔
اُس کے جاتے ہی حمدان نے آنکھیں کھولتے زہر خند نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جہاں سے وہ ابھی کچھ دیر پہلے نکلی تھی۔۔۔
اِس بات سے انجان کے یہ کیز اُس نے خود نہیں ڈھونڈیں تھیں۔۔۔ بلکہ ایس پی حمدان نے جان بوجھ کر اُس کے سامنے پیش کی تھیں۔۔۔
“بہت شاطر بنتے ہو نا تم لوگ۔۔۔۔ اب میں تم لوگوں کے ساتھ تمہارے انداز میں ہی کھیل کھیلوں گا۔۔۔۔ اِس بار میرے وار سے بچ نکلنا ناممکن ہوگا تم لوگوں کے لیے۔۔۔۔ محبت کرتی ہونا تم مجھ سے۔۔۔ اِسی محبت کو تمہاری زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا بنا دوں گا میں۔۔۔ “
حمدان بیڈ سے اُٹھتا کھڑکی میں آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔ جہاں وہ اُسے تیز تیز قدموں سے روڈ کی جانب جاتی نظر آئی تھی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حبہ بہت خراب موڈ کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ کل سے وہ ایسے ہی چڑچڑی ہوئی پڑی تھی۔۔۔ اُس بلیک سٹار کو پکڑنے میں ناکامی اور اُس سے ہونے والے ٹکراؤ نے اُسے اچھا خاصہ تپایا ہوا تھا۔۔۔۔
مگر آج وہ اپنی ایک خفیہ ٹیم تیار کرچکی تھی۔۔۔ جو اب حازم کے اُس کے قریب آتے ہی۔۔۔ اُسے گرفتار کرنے کے لیے فل ٹائم تیار تھی۔۔۔
اِس ٹیم نے پوری طرح اُس کے گھر کے اندر اور باہر پہرہ دینا تھا۔۔۔۔ اب کی بار وہ اُس شاطر انسان کو کسی قیمت پر بچ کر نکلنے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔
گھر کے ڈرائینگ روم میں قدم رکھتے ہی اتنی ساری خواتین کو وہاں بیٹھا دیکھ وہ ٹھٹھکی تھی۔۔۔۔ اُس نے اپنی ماما کو عورتوں میں مصروف دیکھ صبا کو اشارے سے قریب بلایا تھا۔۔۔
“یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔۔ یہ اتنی ساری عورتیں ہمارے گھر کیوں آئی ہوئی ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے سوالیہ نگاہوں سے صبا کو گھورا تھا۔۔۔
“وہ آج بھائی کی برسی ہے تو۔۔۔۔۔”
صبا کے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جب حبہ اُسے دور دھکیلتی غصے سے پاگل ہوتی نجمہ بیگم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“ماما کیا ہے یہ سب۔۔۔۔؟؟؟ آپ ایک زندہ شخص کی برسی کیسے کرسکتی ہیں۔۔۔۔ ؟؟؟ “
حبہ بُری طرح روتی بنا وہاں بیٹھی عورتوں کا لحاظ کیے چلائی تھی۔۔۔
نجمہ بیگم کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آج وہ جلدی گھر واپس آجائے گی۔۔۔۔۔
“حبہ میری جان۔۔۔۔ آپ روم میں جاؤ میں آپ سے۔۔۔۔”
نجمہ بیگم نے اُسے سنبھالنا چاہا تھا۔۔۔۔ جس کے دل پر گہری چوٹ آئی تھی یہ سب دیکھ کر۔۔۔۔
“میرا شوہر زندہ ہے ماما۔۔۔۔ کسی کے بھی کہہ دینے پر آپ بھلا کیسے یقین کرسکتی ہیں کہ وہ مرگئے ہیں۔۔۔ آپ لوگوں کو زرا سا بھی خوف محسوس نہیں ہوتا۔۔ ایک زندہ انسان کے بارے میں یہ سب کہتے اور کرتے ہوئے۔۔۔۔؟؟؟ میں اِس سب کے لیے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔”
حبہ بُری طرح روتی اُن سے اپنا آپ چھڑواتی اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
