No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
“آپ نے ہماری بیٹی کو بچا کر ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔۔۔۔ جسے ہم زندگی بھر نہیں بھول پائیں گے۔۔۔۔”
شہباز آفندی تشکر بھرے لہجے میں بولے تھے۔۔۔
“میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔۔۔۔ بس آپ اپنے بیٹے کو تھوڑی غیرت سیکھا دیں۔۔۔۔ اپنی عزت کو دوسروں کے ہاتھ چھوڑ کر اپنی جان بچا کر بھاگ نکلنا مردانگی کے زمرے میں نہیں آتا۔۔۔۔”
شاہ ویز نے ایک قہر برساتی نظر پریسا کی جانب بڑھتے سفیان پر ڈالتے اُس کے قدم وہیں روک دیئے تھے۔۔۔۔
اُس کی بات سن کر سفیان کو غصہ تو بہت آیا تھا،،، مگر سب گھر والوں کی ملامتی نظروں پر وہ شرمندہ ہوتا چہرا وہیں جھکا گیا تھا۔۔۔۔
“بیٹا آپ۔۔۔۔۔”
یاسمین بیگم نے آگے آتے اُسے روکنا چاہا تھا۔۔۔ مگر وہ اُن کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
“اتنا ایروگینٹ سا بندہ تھا یہ۔۔۔۔ “
اُس کے باہر نکلتے ہی فضہ نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔۔۔
“جیسا بھی ہے مگر ہم سب پر بہت بڑا احسان کرکے گیا،، ہماری پری کی جان بچا کر۔۔۔۔”
حرا بھی وال کلاک سے باہر جاتے شاہ ویز سکندر کی پشت کو گھورتے بولی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“تم تو واقعی جادوگرنی نکلی۔۔۔ ہم سب گھر والوں کو تو اپنا دیوانہ بنا ہی رکھا تھا۔۔۔ ان حمدان بھائی کو بھی اپنا فین بنا لیا۔۔۔ “
مہروسہ آنکھوں پر بازو رکھے اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ جب فرح زومعنیت سے مسکراتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
“کیا مطلب؟؟؟ “
حمدان کے ذکر پر مہروسہ فوراً اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔
“صبح سے دو بار تمہارا پوچھ چکے ہیں کہ تمہارا درد کیسا ہے۔۔۔ جلن تو نہیں ہورہی زیادہ۔۔۔۔ اور یہ کہ تمہارے ساتھ رہوں۔۔۔ تمہیں کسی شے کی ضرورت نہ ہو۔۔۔”
فرح نے حمدان کی فکرمندی اُسے کہہ سنائی تھی۔۔۔
“ایس پی حمدان صدیقی آپ اتنی جلدی بے وقوف بننے والوں میں سے بالکل بھی نہیں ہیں۔۔ آپ کی زہانت کا اندازہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں لگا سکتا۔۔ آپ کیا کرنا چاہ رہے ہیں میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔ چلیں ناٹک ہی سہی مگر یہ احساس ہی بہت خوبصورت ہے کہ آپ میری فکر کررہے ہیں۔۔۔ اِس فریب پر ہی اتنی خوشی ہورہی ہے۔۔۔ اگر یہ حقیقت ہوتی تو آپ کی اِس دیوانی نے تو پاگل ہی ہوجانا تھا۔۔۔۔ “
مہروسہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوتی زیرِ لب مسکرا دی تھی۔۔۔
“ایک منٹ۔۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ یہ آپ ہی آپ کس بات پر مسکرایا جارہا ہے۔۔۔ کہیں تمہیں حمدان بھائی سے۔۔۔؟؟؟”
فرح نے اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھتے مشکوک نظروں سے اُسے گھورا تھا۔۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ آپ کے بھائی بہت زیادہ کھڑوس ہیں۔۔۔ اُن سے دل لگانے والی پاگل لڑکی ہی ہوگی۔۔۔”
مہروسہ اپنا ہی مذاق اُڑاتے فرح کو جواب دے گئی تھی۔
جبکہ فرح بھی ایک دم خاموش سی ہوئی تھی۔۔۔
“کیا ہوا آپی آپ کو میری بات بُری لگی۔۔۔۔؟؟”
مہروسہ نے فرح کی پھیکی پڑتی صورت دیکھ فکرمندی سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔ نہیں اُجالا تمہاری بات کا بُرا کیوں مناؤں گی۔۔۔ بس اچانک ایک بہت تلخ حقیقت یاد آگئی تھی۔۔۔۔ “
فرح نے جھکا کر پلکیں جھپکتے اپنی آنکھوں کی نمی کو اندر اُتارا تھا۔۔۔ مگر وہ نمی مہروسہ سے پوشیدہ نہیں رہ پائی تھی۔۔۔
تم آرام کرو میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔۔۔”
اِس سے پہلے کے وہ کچھ پوچھتی فرح جلدی سے روم سے نکل گئی تھی۔۔۔
“یہ زرا سی اُنگلیاں کیا جل گئی اِن لوگوں نے تو مجھے مریضہ ہی بنا دیا ہے۔۔۔ اِنہیں کیا پتا یہ وجود گولیوں کے وار بھی سہہ چکا ہے۔۔۔ دہکتے کوئلے کی جلن بھی۔۔۔۔ “
مہروسہ بیڈ سے اُٹھتی باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
جب اُس کی نظر اُوپر کی جانب جاتی سیڑھیوں کی طرف گئی تھی۔۔۔ اُسے بس کسی بھی طرح اِن سیڑھیوں کو عبور کرکے اُوپر موجود کمرے تک رسائی حاصل کرنی تھی۔۔۔ جس کے لیے وہ یہاں موجود تھی۔۔۔۔
مگر وہ جانتی تھی اُس کا ہٹلر ایس پی یہ کام اتنا آسان نہیں ہونے دینے والا تھا۔۔۔
اُس دن جب حمدان نے اُسے قید کرکے رکھا ہوا تھا۔۔۔ تو حازم اور شاہ ویز نے ہی نہ صرف اُسے بچایا تھا۔۔۔ بلکہ وہاں آگ لگا کر ایک پہلے سے جلی ڈیڈ باڈی رکھ دی تھی۔۔۔۔ تاکہ حمدان صدیقی کے پاس یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ بچے۔۔۔۔
صدیقی ولا میں آنے کے پیچھے اُس کا کیا مقصد ہوسکتا تھا۔۔۔ یہ شاید حمدان صدیقی کبھی نہ جان پاتا ۔۔۔
سوائے مہروسہ کے اپنی زبان سے بتانے کے۔۔۔۔
وہ بلیک سٹارز بہت اچھے سے جانتے تھے کہ اُسے اپنے گھر میں دیکھ کر حمدان سمجھ جائے گا کہ وہ مری نہیں ہے۔۔۔۔ مگر آج تک اُن کا کوئی بھی مشن بغیر کسی رسک کے مکمل نہیں ہوا تھا۔۔۔ اِس میں بھی اُنہیں رسک لینا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور مہروسہ اب تک وہی رسک لیتی آرہی تھی۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اِس رسک میں اُس کی جان جانے کے اسی پرسنٹ چانسز تھے۔۔۔ مگر وہ یہ چانس لینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب تک لے رہی تھی۔۔۔
اُسے کہیں نہ کہیں اُمید تھی ایک یقین تھا کہ ایس پی حمدان صدیقی اُسے گولی نہیں مار سکتا۔۔۔
مگر وہ خود اِس بات سے انجان تھی کہ آگے قسمت اُس کے ساتھ کیا چال چلنے والی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
نجمہ بیگم اور صبا کے سونے کے بعد وہ اُن دونوں کی جانب سے مطمئین ہوتی ٹیرس پر رکھے جھولے پر آن بیٹھی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل آج بہت زیادہ اُداس تھا۔۔۔ اِس وقت رات کے پونے بارہ کا ٹائم تھا۔۔۔ پندرہ منٹ بعد اگلا دن شروع ہونے والا تھا۔۔۔ وہ دن جو دس سال پہلے اُس کی زندگی میں بہت بڑی سیاہی بھر گیا تھا۔۔۔ جس سیاہی سے وہ آج تک نہیں نکل پائی تھی۔۔۔ نہ ہی دوبارہ ویسے ہی کھل کر جی پائی تھی۔۔۔ جیسے دس سال پہلے وہ رہتی تھی۔۔۔
وہ بہت ہی زیادہ ہنسنے مسکرانے اور خوش رہنے والی ایک زندہ دل لڑکی تھی۔۔۔۔
جس کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ مسکرائے بغیر نہیں گزرتا تھا۔۔۔ کیونکہ اُسے خوش رکھنے والا اُس کا بہت پیارا دوست اُس کے ساتھ تھا۔۔۔ جسے اُس کے بابا نے اُن دونوں کی محبت اور دوستی کو دیکھ اُس کا جیون ساتھی بھی بنا دیا تھا۔۔۔۔
مگر اُس ایک دن نے اُس سے سب کچھ چھین لیا تھا۔۔۔ اُس کے جان نچھاور کرنے والے بابا کو بھی اور اُس کے زندگی کے سب سے پیارے ساتھی کو بھی۔۔۔۔
حبہ کی آنکھوں سے آنسو لڑی کی صورت گر رہے تھے۔۔۔ اُس نے ہاتھ میں اپنی نکاح کی تصویر اُٹھا رکھی تھی۔۔۔ جہاں وہ پندرہ سال کی بچی تھی اور اپنے ساتھ بیٹھے اٹھارہ سالہ اپنے پارٹنر سے یہاں بھی نخرے اُٹھوا رہی تھی۔۔۔۔
وہ اُس کے قدموں میں بیٹھا اُسے سینڈل پہنا رہا تھا۔۔ اور وہ اُوپر بیٹھی اُس کے نفاست سے بنے بال کھینچ رہی تھی۔۔۔۔ جس پر وہ ہمیشہ کی طرح غصہ بھی ہورہا تھا۔۔۔ اِس ایک تصویر میں بہت کچھ قید کیا گیا تھا۔۔۔
“تم نے وعدہ کیا تھا نا کبھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑو گے۔۔۔۔ تم تو ہمیشہ سے اپنا پرامس نبھاتے تھے نا۔۔۔ تو اب کیوں توڑ دیا اِس وعدے کو۔۔۔ دس سال سے اکیلی ہوں میں کیوں نہیں رحم آرہا تمہیں مجھ پر۔۔۔ کیوں نہیں لوٹ رہے تم واپس۔۔۔۔ سب یہی کہتے ہیں تم نہیں رہے اب اس دنیا میں۔۔۔ مگر میں جانتی ہوں سب غلط کہتے ہیں۔۔۔ تم اتنی بڑی وعدہ خلافی نہیں کرسکتے میرے ساتھ۔۔۔ تم مجھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔”
حبہ کو آج پھر اپنے دل کے سب سے قریبی انسان کی شدت سے یاد آرہی تھی۔۔۔
دس سال پہلے اِسی دن ایک کار حادثے میں آگ لگ جانے کی وجہ سے اُس کے بابا اور اُس کا سب سے پیارا دوست اُسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔۔۔
اُس کے بابا کی شناخت تو ہوچکی تھی ۔۔۔ مگر دوسری ڈیڈ باڈی اِس بُری طرح جھلس گئی تھی کہ شناخت تو نہیں ہوپائی تھی۔۔ مگر ڈی این اے کی ریورٹ سے تصدیق کردی گئی تھی کہ وہ ڈیڈ باڈیز اُسی کی ہیں۔۔۔ لیکن حبہ آج تک یقین نہیں کر پائی تھی کہ وہ اُسے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ نجمہ بیگم کے اتنے اصرار، ناراضگی اور جھڑک کے باوجود وہ خود کو کسی اور سے شادی کے لیے راضی نہیں کر پائی تھی۔۔۔
اُسے بس وہی انسان چاہییے تھا۔۔۔
“پلیز لوٹ آؤ۔۔۔۔ “
حبہ اُس کی تصویر ہونٹوں سے لگاتی بھیگی آواز میں بولی تھی۔۔۔۔
جب اُسی لمحے کوئی شے اُس کی پیشانی سے آن ٹکراتی حبہ کو ہڑبڑانے کے ساتھ الرٹ کر گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے اپنی گود میں گری اُس نرم گرم شے کو دیکھا تھا۔۔۔
وہ گلاب کی پتیوں سے سجا گیند نما بنا گولا سا تھا۔۔۔ جسے نیچے سے پھینکا گیا تھا۔۔۔۔
حبہ جلدی سے اُٹھتی ریلنگ کی جانب جھکی تھی۔۔۔ مگر وہاں نیچے کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔
حبہ نے نیچے چھائی تاریکی میں چاروں جانب نظریں دوڑائی تھیں۔۔۔۔ جب اُسے دیوار پھلانگ کر روڈ کے دوسرے پار جاتا ایک سایہ سا نظر آیا تھا۔۔
“یہ۔۔۔ یہ۔۔۔تو۔۔۔۔ بلیک سٹار۔۔۔۔”
حبہ پہلی نظر میں ہی پہچان گئی تھی کہ یہ سایہ حازم کا تھا۔۔۔۔
مگر یہ ایک سایہ اُس کے اندر بہت کچھ ہلا گیا تھا۔۔۔۔
وہ جلدی سے جھولے کی جانب بڑھی وہ گیند اُٹھا کر اُسے کھولنا شروع کر چکی تھی۔۔۔۔
جس پر پتیوں کی تہہ در تہہ چڑھائی گئی تھی۔۔۔۔
“تم نہیں جانتی تم یوں رو کر کس کا کتنا نقصان کررہی ہو۔۔۔ تمہارے پور پور پر میرا حق ہے۔۔۔ آخری بار چھوٹ دے رہا ہوں۔۔۔ اگر دوبارہ تم روئی تو میں جو کروں گا تم اُسے سہہ نہیں پاؤ گی۔۔۔۔۔ “
اُس بال کے اندر سے نکلی چٹ پڑھ کر حبہ کتنے ہی لمحے اپنی جگہ ساکت سی بیٹھی رہ گئی تھی۔۔۔۔
حازم سے پہلی ملاقات سے لے کر اب تک کا ایک ایک لمحہ کسی فلم کی طرح اُس کی نظروں کے سامنے سے گزر گیا تھا۔۔۔
حبہ کا دل بہت زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔ اُس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے چٹ کو گھورا تھا۔۔۔ جس پر لکھی ہینڈ رائٹنگ اُسے شدت سے کسی کی یاد دلا گئی تھی۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ ییی یہ۔۔۔ ای ایسا کک کیسے۔۔۔۔”
حبہ کا دل جو کہہ رہا تھا اُس کا دماغ وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔
اُس شخص کا استحقاق بھرا لمس۔۔۔ بات بہ بات اپنا حق جتانا۔۔۔ وہ کیسے نہیں دھیان دے پائی تھی اُس سب پر۔۔۔۔۔۔۔
“یہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔ ایسا بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔ وہ تو ایک بُرا انسان ہے۔۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ قاتل ہے۔۔ وہ میرا۔۔۔۔ نن نہیں۔۔۔ ایسا نہیں۔۔۔۔ اوہ میرے خدا یہ کیسا انکشاف ہے۔۔۔۔ میرا دماغ پھٹ جائے گا۔۔۔۔ “
حبہ کا چہرا آنسو سے تر تھا۔۔۔۔
جب اُس چٹ پر تحریر دھمکی کا خیال آتے ہی اُس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔۔
جب حبہ کی نظر بے اختیار گلے میں جگمگاتے لاکٹ پر پڑی تھی۔۔۔۔
“مجھے ہر حال میں اِس لاکٹ کو کھولنا ہوگا۔۔۔ مگر آخر کیا پاسورڈ ہوگا اِس کا۔۔۔۔۔”
حبہ جھولے کی پشت سے سر ٹکاتی تھک کر آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔ پچھلے دس سالوں سے اپنی زندگی کی ساری لڑائیاں اکیلے لڑتے لڑتے وہ تھک گئی تھی۔۔۔۔
اب اُسے اُس سہارے کی ضرورت تھی جس کے ساتھ اُس کی زندگی کی ہر خوشی موجود تھی۔
آنکھیں موندے کب وہ نیند کی وادیوں میں اُترتی چلی گئی تھی اُسے پتا بھی نہیں چلا تھا۔۔۔
اُس کے پاس کوئی گرم شے موجود نہیں تھی۔۔۔ وہ ٹھنڈ سے کپکپاتی خود میں ہی سمٹ رہی تھی جب دو مہربان بانہوں نے اُسے نرمی اور احتیاط سے اُٹھا لیا تھا۔۔۔
مقابل جیسے اُس کی گہری نیند سے بہت اچھی طرح واقف تھا۔۔۔ اِس لیے ٹیرس کا دروازہ بند کرتا اُسے لیے بیڈ روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
اُسے بیڈ پر لیٹا کر اچھی طرح کمفرٹر سے کور کرتے وہ اُس کے قریب ہی نیم دراز ہوتا اُس کے چہرے کو دیوانہ وار نگاہوں سے تکے گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ حبہ نیند میں اُس کے مزید قریب کھسکتی اُس کے سینے پر اپنا چہرا ٹکاتی مسکائی تھی۔۔۔
اُس کو نیند میں مسکراتا دیکھ مقابل کے چہرے پر بھی دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔
“تم سے اچھی تو تمہاری نیند ہے۔۔۔ کم از کم نیند میں میری بیوی میری تو ہوتی ہے۔۔۔۔ ورنہ جاگتے ہوئے تو جنگلی بلی بن کر پنجے ہی مارتی رہتی ہو۔۔۔ لیکن یہ بلیک سٹار تمہارے ہر ہر رُوپ کا دیوانہ ہے۔۔۔۔”
اُس کے گال پر شدت بھرا لمس چھوڑتا وہ پیچھے ہٹا تھا۔۔۔نیند میں بھی اُس کی شدت محسوس کرتے حبہ کسمسائی تھی۔۔۔
وہ جلدی سے اُس کے قریب سے اُٹھتا ٹیرس کے راستے واپس نکل گیا تھا۔۔۔ اِس لڑکی کی قریب رہ کر شرافت کا مظاہرہ کرنا اُس کے لیے ممکن نہیں تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“سر یہ آپ سب کی کافی۔۔۔”
وہ تینوں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھے تھے جب جنید نے اُن کے سامنے کافی کے مگ لا کر رکھے تھے۔۔۔
اُن تینوں کو ہی کڑوی کافی پینے کی عادت تھی۔۔۔
“جنید اِن باقی دو مگ میں کچھ میٹھا گھول دو۔۔۔ یہ دونوں محبت کی مٹھاس چکھ کر آئے ہیں۔۔۔ اِنہیں یہ کڑوی کافی آج پسند نہیں آئے گی۔۔۔”
شاہ ویز کافی کا مگ ہونٹوں سے لگاتا اُن دونوں کے گم صم انداز پر چوٹ کرتے بولا۔۔
“تم ہمارا مذاق بنا رہے ہو۔۔۔؟؟”
حازم نے جنید کو جانے کا اشارہ کرتے شاہ ویز کو گھورا تھا۔۔۔۔
“نہیں تو۔۔۔ مجھے تو بس تم لوگوں کی فکر ہورہی ہے۔۔۔ کیا نہیں ہونی چاہیئے۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز اب بھی سیریس نہیں تھا۔۔۔
“تو تمہیں لگتا ہے۔۔۔ ہمیں یہ محبت برباد کردے گی۔۔۔؟؟”
حازم نے بھی اُسی کا انداز اپنایا تھا۔۔۔
“کر دے گی نہیں کر چکی ہے۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز آج کافی موڈ میں تھا۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ نے مگ ہونٹوں سے ہٹاتے سوالیہ نگاہوں سے شاہ ویز کو دیکھا تھا۔۔۔
“تم دونوں چاکلیٹ ملی کافی پی رہے ہو۔۔۔ آدھے مگ خالی ہوچکے ہیں اور تم لوگوں کو علم ہی نہیں ہے۔۔۔”
شاہ ویز نے مزے سے انکشاف کرتے کافی کا گہرا سپ لیا تھا۔۔۔۔
“کیا۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔”
وہ دونوں ہی چہرے کا میٹھا ٹیسٹ محسوس کرتے شرمندہ شرمندہ سے کافی کے مگ ٹیبل پر پٹخ چکے تھے۔۔۔۔۔۔
“دھیان سے کہیں ایسے نہ ہو۔۔۔۔ وہ پولیس آفیسر تم لوگوں کے ساتھ ایسا میٹھا کھیل نہ کھیل جائیں۔۔۔ محبت کے یہ کھیل جتنے چاشنی بھرے ہوتے ہیں۔۔۔ جاتے جاتے زندگی میں اُس سے کہیں زیادہ کڑواہٹ بھی گھول جاتے ہیں۔۔۔ اور وہ کڑواہٹ برداشت کرنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔۔۔۔”
شاہ ویز سکندر اُن دونوں کی رگ رگ سے واقف تھا وہ بہت اچھے سے سمجھ رہا تھا کہ دونوں کس رُخ پر جارہے ہیں۔۔۔ لیکن اُسے اُن دونوں پر پورا بھروسہ بھی تھا۔۔۔ وہ کبھی بھی کچھ ایسا نہیں کرسکتے تھے جس سے اُن کے گینگ کو نقصان پہنچے۔۔۔
“تمہیں صرف دو کپس میں میٹھا نہیں گھولنا چاہیئے تھا۔۔۔ ہم تینوں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔۔۔ کیوں مہرو ٹھیک کہا نا میں نے۔۔۔؟؟”
حازم نے اپنی آدھی کافی شاہ ویز کے مگ میں اُنڈیل دی تھی۔۔۔ جبکہ مہروسہ خاموش بیٹھی اُن دونوں کی نوک جھوک انجوائے کررہی تھی۔۔۔ آج کل اُنہیں ایک ساتھ بیٹھنے کا ٹائم بہت کم مل رہا تھا۔۔ مگر جب ملتا تھا تو وہ ایسے ہی ریلیکس ہوکر باتیں کرتے تھے۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”
شاہ ویز نے فوراً اُس کی بات کی نفی کی تھی۔۔۔
“مہرو تمہارا اِس بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔؟؟؟”
حازم نے خاموش بیٹھی مہروسہ کو بھی اپنی گفتگو میں شامل کرتے اُس کی رائے لینی چاہی تھی۔۔۔
“مجھے بھی یہی لگتا ہے۔۔۔ کہ ایک سفید پری نے بلیک بیسٹ کو کافی ڈسٹرب کر رکھا ہے۔۔۔۔ اور شاید بلیک بیسٹ بھی اپنی پری کو بہت مس کررہا ہے۔۔۔؟؟ “
مہروسہ کو بھی حازم کے ساتھ مل کر شاہ ویز کو تنگ کرنے میں بہت مزا آیا تھا۔۔۔
“سٹاپ دس نان سینس۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ مجھے اُس لڑکی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔ اور بلیک بیسٹ کے لیے وہ پری ایک مہرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔”
شاہ ویز کو اپنے نام کے ساتھ پریسا آفندی کا نام جڑنا بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔۔۔
جبکہ وہ دونوں اُس کے بھڑکنے پر دھیرے سے مسکرا دیئے تھے۔۔ کیونکہ وہ بھی اپنے بلیک بیسٹ کو بہت اچھے سے جانتے تھے۔۔۔ اگر ایسا کچھ نہ ہوتا تو شاہ ویز کی جانب سے اُنہیں نارمل جواب ملتا۔۔۔ مگر پری کے ذکر پر اُس کی یہ بیزاری اور جھنجھلاہٹ بتارہی تھی کہ وہ واقعی اُس کی وجہ سے کتنا ڈسٹرب ہے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“پری کی بچی میں پورے گھر میں ڈھونڈ چکی ہوں اور تم یہاں بیٹھی ہو۔۔۔۔”
فضہ پھولے سانس کے ساتھ اُس کے سامنے کرسی پر ڈھیر ہوتی اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔
“کیوں۔۔۔ تم صبح صبح مجھے کیوں ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔”
پریسا کا موڈ بہت سخت آف تھا۔۔۔
کل شام جو کچھ ہوا تھا۔۔۔ اُسے وہ چاہنے کے باوجود بھول نہیں پارہی تھی۔۔۔ جو شخص اُس سے محبت کا دعویدار تھا۔۔۔ وہ مشکل پڑنے پر اُسے خطرے میں چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ نکلا تھا اور جو اُس سے اپنی شدید نفرت کا اظہار کرتا آیا تھا۔۔۔
وہ کسی مضبوط چٹان کی طرح اُس کی ڈھال بن کر آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔
اُسے شاہ ویز سکندر کی وہ لال آنکھیں نہیں بھول رہی تھیں۔۔۔ جو اُس غنڈے کے ہاتھ میں اُس کی کلائی دیکھ کر مزید لہولہان ہوئی تھیں۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
