Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

حمدان نے ابھی پہلا قدم اندر بڑھایا ہی تھا۔۔۔ جب اچانک تالیوں کے شور کے ساتھ لائٹ آن ہوئی تھی۔۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر حمدان۔۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔۔”
گھر کے سب لوگ ڈرائینگ روم میں اکٹھے ہوئے۔۔۔ ڈرائینگ روم کو غباروں اور پھولوں سے ڈیکوریٹ کیے خوشی سے جگمگاتے چہروں کے ساتھ اُسے وش کررہے تھے۔۔۔۔
اور اُن سب میں سب سے آگے تھی مریم۔۔۔۔۔ جس نے حمدان کے خراب موڈ کو ٹھیک کرنے کے لیے یہ سارا پلان کیا تھا۔۔۔۔
حمدان کے چہرے پر چھاتی مسکراہٹ کو دیکھ وہ اس میں کامیاب ہوتی دیکھائی بھی دے رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھا تھا۔۔۔ جہاں اُس کی لائف کے سب سے خوبصورت لوگ اُس کے منتظر تھے۔۔۔۔
سب سے پہلے وہ اپنی ماما کشور بیگم سے ملتا اُن کی پیشانی چوم گیا تھا۔۔۔۔ باری باری سب سے وشز لیتے مریم کے مقابل آیا تھا۔۔۔ جو آنکھوں میں دنیا جہاں کی محبت لیے اُسے تکے جارہی تھی۔۔۔۔
“دنیا کے سب سے خوبصورت مرد کو دل کی اتھا گہرائیوں سے سالگرہ مبارک۔۔۔۔۔”
گلاب کی آدھ کھلی کلی حمدان کی جانب بڑھاتے مریم کی نظریں اُس کے خوبرو چہرے کا طواف کررہی تھیں۔۔۔۔
جنہیں محسوس کرتے وہ دھیرے سے مسکرا دیا تھا۔۔۔۔
“تم نہیں سدھرو گی۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی۔۔۔۔۔ “
حمدان اُس کے ہاتھ سے پھول تھامتا باقی گھر والوں کے قریب آیا تھا۔۔۔۔ جو اب اُس کے کیک کاٹنے کے منتظر تھے۔۔۔۔۔
حمدان کو یہ سب بالکل بھی پسند نہیں تھا۔۔۔۔ مگر اپنے گھر والوں کی خوشی کی خاطر اُس نے انکار نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کیک کاٹتے وہ سب کو کھلا کر فارغ ہوا ہے تھا۔۔۔۔ جب اُس کا پاکٹ میں موجود موبائل زور سے بج اُٹھا تھا۔۔۔۔ حمدان انجان نمبر دیکھ سائیڈ پر ہوتے کال ریسیو کر گیا تھا۔۔۔۔
“ایس پی حمدان سپیکنگ۔۔۔۔!”
حمدان کی گھمبیر بھاری آواز پر دوسری جانب موجود مہروسہ نے دلربانہ انداز میں آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔۔
“سالگرہ مبارک ہو۔۔۔۔ ایس پی صاحب۔۔۔۔۔ “
مہروسہ کی مترنم دھیمی انتہائی خوبصورت آواز پر حمدان کو کچھ ہی سیکنڈز لگے تھے پہچاننے میں۔۔۔۔۔
اُس نے دور کھڑے فہد کو اشارہ کرکے اپنے قریب بلایا تھا۔۔۔۔۔
“جی۔۔۔۔”
فہد نے کچھ بولنا چاہا تھا جب حمدان نے اُسے موبائل چپ رہنے کا اشارہ کرتے۔۔۔ اُس سے موبائل لے کر اُسے واپس بھیج دیا تھا۔۔۔۔
“بہت ظالم ہو ایس پی صاحب۔۔۔۔ دل کے معاملے میں اتنی سختی برتنا کہاں کا انصاف ہے بھلا۔۔۔۔۔”
مہروسہ اچھے سے سمجھ رہی تھی کہ حمدان اُس کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔۔۔
“جتنے دن میری پہنچ سے دور ہو۔۔۔ اپنی خیر مناؤ۔۔۔ ورنہ جس دن میرے ہاتھ لگ گئی۔۔۔ اُس دن اپنی موت کے علاوہ کوئی لفظ تمہاری زبان پر نہیں آسکے گا۔۔۔۔۔ میری زندگی کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ انسان ہو تم۔۔۔۔۔ جس سے شدید نفرت اور گھن سے زیادہ کچھ محسوس نہیں ہوتا مجھے۔۔۔۔۔۔۔ اور تم جیسی ضمیر فروش بے شرم لڑکیوں پر حمدان صدیقی تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔۔۔۔ جو لڑکی ہر وقت غیر مردوں کے بیچ اُٹھتی بیٹھتی ہے۔۔۔ اُس کا بھلا کیا کردار اور کیا پاکیزگی ہوگی۔۔۔۔”
حمدان اپنے ایک ماتحت کو مہروسہ کا ایریا ٹریس کرنے کا میسیج کر چکا تھا۔۔۔۔ اِس لیے بات بڑھاتے اپنے اندر کا زہر اُس معصوم لڑکی پر برساتے وہ مہروسہ کنول کا دل کئی ٹکڑوں میں توڑ گیا تھا۔۔۔
“بنا کسی ہتھیار کے بھی بہت بُری طرح چھلنی کردیا ہے اِس دل کو صاحب۔۔۔۔ مگر کیا ہے نا۔۔۔ بہت محبت کرتا ہے یہ زخمی دل آپ سے۔۔۔ آپ کو تو میں اپنی باکرداری اور پاکیزگی کا ثبوت دینے کو بھی تیار ہوں۔۔۔۔۔ آپ ایک بار اپنے دل میں تھوڑی سی جگہ بنانے کی کوشش تو کریں۔۔۔۔”
اپنی گالوں پر بہہ آنے والے آنسو صاف کرتے مہروسہ بھرپور دیوانگی بھرے انداز میں بولتی حمدان کو مزید طیش دلا گئی تھی۔۔۔۔
وہ سمجھ چکا تھا اِس لڑکی نے ڈھٹائی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔۔۔۔ جو اُس کی سخت ترین باتوں میں صرف اپنی مرضی کے الفاظ چن لیتی تھی۔۔۔
مہروسہ کی لوکیشن ٹریس ہوچکی تھی۔۔۔۔ وہ اِس وقت زیادہ دور نہیں بلکہ اُس کے گھر سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر لوکیشن شو ہورہی تھی۔۔۔
حمدان گھر والوں سے معذرت کرتا جلدی سے وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔ اُس نے مہروسہ کی کال ابھی بھی نہیں کاٹی تھی۔۔۔۔ آج وہ اِس لڑکی کا کام تمام کرنے کا پورا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

صبا کی بات پر حبہ نے سر سے پیر تک اپنی قاتلانہ نگاہوں سے اُس پلمبر کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔۔۔۔۔ جو اُسے بچارہ تو کہیں سے نہیں لگا تھا۔۔۔۔ گھنگھریالے بالوں اور سانولی سی رنگت والا وہ ہٹا کٹا انسان۔۔۔۔ ایک معمولی پلمبر کی صورت میں اُس سے ہضم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
وہ پسٹل نیچے رکھتی جلدی سے بیڈ پر پڑا اپنا دوپٹہ اوڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اُس کی اِس احتیاط پر پلمبر کا رُوپ دھاڑے کھڑے میر حازم سالار کی آنکھیں مسکرا اُٹھی تھیں۔۔۔۔۔
جو انجانے میں بھی اُس کی آنکھوں کی تپیش با آسانی پہچان چکی تھی۔۔۔
“نل ٹھیک ہوگیا پھر۔۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے سینے پر بازو باندھے تفتیشی نگاہوں سے اُسے گھورا تھا۔۔۔۔ وہ اب اِس مشکوک پلمبر کو ٹھیک سے جانچے بغیر جانے دینے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔ اِس فیلڈ میں آنے اور بڑے لوگوں سے جان پہچان ہونے کی وجہ سے اُس کے گرد دشمنیوں کے جال بھی اچھے خاصے بنے گئے تھے۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی ماں اور بہن کو کسی قسم کے رسک میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔۔۔
“جی بی بی جی ہوگیا۔۔۔۔ “
حازم پوری طرح پلمبر کے کریکٹر میں تھا۔۔۔۔
“اچھا۔۔۔۔ صبا گیسٹ روم کے بھی نل اور شاور کا ایشو ہے نا۔۔۔۔ وہ ٹھیک نہیں کروایا تم نے۔۔۔۔”
حبہ نے سوالیہ نگاہوں سے صبا کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“نن نہیں آپی۔۔۔۔ وہ تو بہت لمبا کام ہے۔۔۔ اور وہ شاور کھولنا ایک پلمبر کے بس کا کام تو کے بھی نہیں۔۔۔ لاسٹ ٹائم بھی اُسے چار لوگوں نے مل کے۔۔۔۔۔”
صبا ابھی مزید بھی بول رہی تھی۔۔۔۔ جب حبہ نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے خاموش کروا دیا تھا۔۔۔۔
“میں تم سے بہتر جانتی ہوں صبا۔۔۔ جاؤ جاکر کھانا لگواؤ۔۔۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔ “
حبہ ہمیشہ کی طرح چھوٹی بہن پر رعب جماتی پلمبر بنے حازم کو اپنے پیچھے آنے کا کہتی گیسٹ روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
حازم ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے خاموشی سے اُس کے پیچھے چل دیا تھا۔۔۔۔ وہ تو ویسے بھی اِس لڑکی کے ساتھ ٹائم گزارنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
“اِس کا شاور اور نل دونوں خراب ہیں۔۔۔۔ جاؤ ٹھیک کرو دونوں۔۔۔۔”
حبہ نے اّسے گھورتی نگاہوں سے دیکھتے آرڈر دیا تھا۔۔۔ جس پر بہت ہی مودبانہ انداز میں سر ہلاتا وہ اندر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ پہلے نہایت ہی پروفیشنل انداز میں اُس نے نل کھول کر ٹھیک کیا تھا۔۔۔۔ حبہ دروازے میں کھڑی اُس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔۔۔
نل کے وہ شاور کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔
“نل تو ہر کوئی ٹھیک کر لیتا ہے۔۔۔ اب دیکھتی ہوں تم کتنے بڑے پلمبر ہو۔۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ دل ہی دل میں سوچتی چہرے پر استہزایہ مسکراہٹ لیے کھڑی اُسے گھور رہی تھی۔۔ جو اب یہ کام بھی بن کوئی گڑبڑ کیا نہایت ہی مہارت سے کررہا تھا۔۔۔۔ جسے دیکھ حبہ بدمزا سی ہوئی تھی۔۔۔ مطلب اِس پلمبر میں کوئی گڑبڑ نہیں تھی۔۔۔ وہ ایسے ہی اِس پر شک کرکے اپنا اتنا سارا وقت برباد کرچکی تھی۔۔۔
“بی بی جی۔۔۔۔ زرا یہ پیچ پکڑا دیجئے گا۔۔۔ نیچے گر گیا ہے۔۔۔۔ اگر میں نیچے جھکا تو شاور کھل جائے گا۔۔۔۔”
حبہ کو واپس پلٹتا دیکھ حازم کو شرارت سوجھی تھی۔۔۔جبکہ اُس کی بات اور پوزیشن کو دیکھتے حبہ بنا اُس کی چالاکی سمجھے اندر آتے جھک کر ایک جانب پڑا پیچ اُٹھانے لگی تھی۔۔۔۔
وہ جیسے ہی پیچ اُٹھا کر سیدھی ہوئی حازم نے شاور کے اُوپر سے ہاتھ ہٹا دیا تھا۔۔۔ جس کے ساتھ ہی پانی فل سپیڈ سے اُن دونوں کے اُوپر گرتا دونوں کو ہی بھیگا گیا تھا۔۔۔ حبہ جو اِس افتاد کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔۔ اُس نے پیچھے ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر تب تک حازم اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔
لائٹ پرپل ڈریس میں ملبوس حبہ پوری طرح گیلی ہوچکی تھی۔۔۔ اُس کا بھیگا بھیگا دلنشین سراپا میر حازم سالار کو مزید اُس کا دیوانہ کرگیا تھا۔۔۔۔
وہیں اُس کی اِن حرکتوں پر حبہ نے سیخ پا ہوتے اُس پر حملہ آور ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر حازم اُس کا ارادہ بھانپتے اُس کی دنوں کلائیاں گرفت میں لیتے اُس کی کمر کے پیچھے باندھ گیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا ایس پی صاحبہ پہچان نہیں پائیں مجھے۔۔۔۔ مجھے تو لگا تھا کچھ دن تک آپ کے خوابوں اور خیالوں میں میں ہی چھایا رہوں گا۔۔۔۔ مگر آپ تو کچھ زیادہ ہی بے وفا نکلیں۔۔۔۔”
حازم اُس کے بالوں کی گیلی لٹوں کو اپنی اُنگلی پر لپیٹتا اُن کی مہک اپنی سانسوں میں اُتارتے ہوئے بولا۔۔۔
حبہ نے جھٹکے سے نگاہیں اٹھا کر اُسے گھورا تھا۔۔۔۔ اُسے یہ پلمبر مشکوک تو لگا تھا مگر اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بلیک سٹارز کا لیڈر اُس کے گھر تک پہنچ سکتا ہے۔۔۔۔
“بہت بڑی غلطی کردی ہے تم نے میرے گھر آکر۔۔۔۔ اب یہاں سے تم زندہ سلامت نہیں لوٹ پاؤ گے۔۔۔۔ “
حبہ اُس کی گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتی اُسے وارن کرتے بولی۔۔۔۔
جس کے جواب میں حازم مسکرائے بنا نہیں رہ سکا تھا۔۔۔۔
“اگر اتنی ہی یاد آرہی ہے میری تو کیا خیال ہے۔۔۔ ساتھ نہ لے جاؤں تمہیں اپنے۔۔۔ ویسے بھی تمہاری یہ خوشبو میرا نشہ بن چکی ہے۔۔۔ اِس کے بغیر سکون ہی نہیں مل رہا۔۔۔۔”
حازم سچے دل سے اِس بات کا اقرار کرتا۔۔۔ حبہ کی جانب جھکتا اُس کے کان کی لوح چوم گیا تھا۔۔۔۔
حبہ اُس کے لمس پر کرنٹ کھا کر دور اُچھلی تھی۔۔۔۔
اُس نے ایک زور دار کک حازم کے پیٹ میں رسید کرنی چاہی تھی مگر اُس کا ارادہ بھانپتے حازم اُس کی پشت اپنے سینے کے ساتھ ٹکاتے اُس کا رُخ دوسری جانب موڑ گیا تھا۔۔۔
“تم گھٹیا شخص۔۔۔۔ زندہ نہیں چھوڑوں گی میں تمہیں۔۔۔۔ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔۔۔۔ “
حبہ اُس کے مضبوط حصار میں پھڑپھڑانے کے سوا کچھ نہیں کر پارہی تھی۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا میر حازم سالار ایس پی حبہ امتشال کو قابو کرنے کی پوری ٹریننگ لے کر آیا ہے۔۔۔۔۔
“ہمت تو اِس سے زیادہ بھی بہت کچھ کرنے کی ہے۔۔۔۔ مگر فلحال کروں گا نہیں۔۔۔۔ ویسے تمہاری گردن کافی خوبصورت ہے۔۔۔۔ مزید خوبصورت بھی ہوسکتی ہے۔۔۔ اگر اِس پر سے تم یہ چین اُتار کر میرے نام کی پہن لو۔۔۔۔”
حازم ایک ہاتھ سے اُس کی چین کی ہک کھول چکا تھا۔۔۔ حبہ تو اُس کے اِس استحقاق بھرے انداز پر غصے سے پاگل ہو اُٹھی تھی۔۔۔۔ وہ خود کو آزاد کروانے کے لیے مسلسل ہاتھ پیر چلا رہی تھی۔۔۔ مگر حازم نے اُسے اِس قدر نرمی اور مہارت سے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا کہ وہ کچھ کر ہی نہیں پارہی تھی۔۔۔۔
حازم کے ہک کھولنے پر حبہ کی چین زمین پر جا گری تھی۔۔۔۔۔
“بہت غلط کررہے ہو تم۔۔۔۔ بہت بُرا انجام ہوگا تمہارا۔۔۔۔”
حبہ اُس کی انگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتی چلائی تھی۔۔۔۔
“میں اُس ہر انجام کے لیے تیار ہوں۔۔۔ جو تمہارے ہاتھوں میرے لیے لکھا ہے۔۔۔۔ بشرط یہ کہ میرے آخری وقت میں بھی تم میرے پاس ہونی چاہیے ہو۔۔۔۔۔”
اُس کی گردن سے بال ہٹا کر حازم اُسے اپنی چین پہنانے لگا تھا۔۔۔ اُس کے جھکے ہونے کی وجہ سے اپنی گردن پر اُس کی سانسیں محسوس کرتی حبہ جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“میری شناخت جاننا چاہتی ہو تو اِس لاکٹ کو کھول کر دیکھ لینا۔۔۔ میرا نام لکھا ہے اِس میں۔۔۔ اور میری زندگی بھی اِسی میں قید ہے۔۔۔۔”
حازم اُس کا رُخ اپنی جانب موڑتا۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔ اور جھک کر اُس کے سُرخ دہکتے گال پر چمکتے سیاہ تل پر اپنے ہونٹ رکھتا اُسے دیوار کے ساتھ لگا گیا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں اِس وقت پوری طرح بھیگ چکے تھے۔۔۔۔ حبہ اپنے حلیے کو دیکھتی شرم ، خفت اور غصے سے مرنے کے قریب ہوئی تھی۔۔۔۔
“ڈونٹ وری۔۔۔۔ میرے سامنے تم اِس طرح آسکتی ہو۔۔۔۔”
حازم اُس کے لال چہرے کو دیکھ کر آنکھ دباتا اُس کے دونوں اپنے رومال کی مدد سے وہاں لگے نل سے باندھ گیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے لفظوں میں اُلجھی حبہ اِس سے پہلے کے کچھ کر پاتی حازم جھک کر نیچے گری اُس کی چین اُٹھا کر اپنی پاکٹ میں رکھتا۔۔۔۔ واش روم کا دروازہ بند کرتا کمرے کے ساتھ ساتھ حبہ کے گھر سے بھی نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
کون تھا یہ شخص۔۔۔۔۔؟؟؟
حبہ کی چھٹی حس اُسے کچھ بہت غلط ہونے کا الارم دے رہی تھی۔۔۔۔ جلدی جلدی اپنی پاور استعمال کرتے۔۔۔ کچھ دیر کی تگ و دو کے بعد وہ اپنی کلائیاں آزاد کرواتی باہر کی جانب بھاگی تھی۔۔۔ مگر تب تک وہ وہاں سے بہت دور نکل چکا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“سفیان۔۔۔۔ بڑی ماں۔۔۔۔ بابا بچا لیں پلیز۔۔۔ مدد کریں میری۔۔۔۔”
پریسا بُرے خواب کے زیرِ اثر نیند میں بڑبڑاتے گھبرا کر اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔
“پری کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔ کوئی برا خواب دیکھ لیا کیا۔۔۔۔؟؟”
اُس کے روم میں داخل ہوتی انعم پریشان ہوتی اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
پریسا نہیں حیرت بھری نگاہوں سے کمرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ تو اُس سنسان جگہ پر، اُس بے رحم قاتل شخص کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔ پھر وہ یہاں۔۔۔ اپنے کمرے کیسے پہنچی تھی۔۔۔ کیا وہ واقعی ہی خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔
“نن نہیں یہ خواب کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ مم میں خود تو گئی تھی یہاں سے۔۔۔۔۔۔ بھابھی میں یہاں۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے انعم کو کیسے پوچھے اُس سے۔۔۔۔
“میں تمہیں ہی دیکھنے آئی تھی۔۔۔ شام سے خود کو کمرے میں بند کر رکھا ہے۔۔۔۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ بڑی ماما کہہ رہی ہیں آکر کھانا کھا لو۔۔۔۔ “
انعم تشویش بھرے انداز ميں اُس کے قریب بیٹھتے بولی۔۔۔۔
جس پر پری کا چہرا مزید خوف اور شرمندگی کے مارے لال ہوا تھا۔۔۔۔ تو اِس کا مطلب وہ اُسے یہاں اُس کے روم تک۔۔۔ بیڈ پر چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔ اور باہر اتنی سیکیورٹی ہونے کے باوجود کسی پتا بھی نہیں چل پایا تھا۔۔۔۔ پریسا کا خوف کئی گنا بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اُس انسانی شکل کے درندے کے کہے الفاظ پریسا کو بھلائے نہیں بھول رہے تھے۔۔۔۔
” سوچ لو جو انسان چار قتل کر سکتا ہے۔۔۔۔ اُس کے لیے پانچواں قتل کرنا کونسا مشکل ہوگا۔۔۔۔۔ میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔ تم آنے والے وقت کے لیے میرا بہت اہم مہرا ہو۔۔۔۔ اگر تم نے کسی کے آگے بھی منہ کھولنے کی کوشش کی تو تمہیں تمہاری دنیا سے اُٹھا کر اپنی دنیا میں لے جاؤں گا۔۔۔۔ جہاں اندھیروں میں سر پٹخنے کے سوا کچھ نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔۔”
پریسا نے جھڑجھڑی سی لی تھی۔۔۔۔ اُسے اُس شخص کی وحشت ناک آنکھوں سے شدید خوف محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔ وہ دوبارہ اُس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
“جی بھابھی میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ آنکھ کب لگی پتا ہی نہیں چلا۔۔۔ اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔۔ آپ چلیں میں بس ابھی فریش ہوکر آتی ہوں۔۔۔۔”
پریسا کی مسکرا کر کہنے پر انعم سر ہلاتی اُسے جلدی آنے کا کہتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔
پریسا نے جلدی سے سفیان کا نمبر ملایا تھا۔۔۔ جو دوسری بیل پر ہی اُٹھا لیا گیا تھا۔۔۔۔
“سفیان آپ کہاں ہیں اِس وقت۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا۔۔۔۔
“آفس سے گھر کے لیے نکل رہا ہوں۔۔۔۔ خیریت آج پرستان کی اِس پری نے ہمیں کیسے یاد کرلیا۔۔۔۔”
سفیان گاڑی میں بیٹھتا شوخ لہجے میں بولا۔۔۔
“مجھے ابھی بہت امپورٹنٹ بات کرنی ہے۔۔۔۔”
پری کے سیریس انداز پر سفیان پریشان ہوا تھا۔۔۔۔ کم ہی ایسا موقع ہوتا تھا کہ پریسا آفندی سیریس ہوتی تھی۔۔۔
“کیا ہوا پری سب ٹھیک ہے۔۔۔۔؟؟؟”
سفیان ڈرائیور کو گاڑی تیز چلانے کا کہتے فکرمندی سے بولا۔۔۔۔
“آپ بابا سے کہیں ہمارا نکاح کردیں۔۔۔۔۔ اِسی ویک۔۔۔۔”
پریسا کی بات پر سفیان کتنی ہی دیر شاک میں رہا تھا۔۔۔۔ اُسے یقین نہیں آرہا تھا یہ الفاظ پری نے ادا کیے تھے۔۔۔۔ وہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست تھے۔۔۔۔ مگر پری نے آج تک اُس کے سامنے اپنی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔۔۔۔
آج اُس کا خود سے نکاح کے لیے کہنا سفیان کو ساتویں آسمان تک پہنچا گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“تم اب میرے ہاتھوں نہیں بچ پاؤ گی۔۔۔۔ بہت جلد تمہارا کھیل ختم کردوں گا میں۔۔۔۔”
حمدان گاڑی سے نیچے اُترتا اُس شاپ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جہاں اب بھی مہروسہ کی لوکیشن شو ہورہی تھی۔۔۔۔
“ایک بار محبت سے پکار کے تو دیکھو ایس پی۔۔۔ آپ کی یہ دیوانی سر کے بل چل کر آپ کے قدموں میں حاضر ہوجائے گی۔۔۔۔۔ “
مہروسہ دیوانگی بھری نگاہوں سے شاپ کے اندر کھڑی گلاس وال سے گاڑی سے اُتر کر قریب آتے حمدان صدیقی کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ کہ کبھی وہ کسی انسان کو اتنی شدت سے چاہ سکتی ہے۔۔۔۔۔ کہ جسے ایک نظر دیکھ کر ہی دل کے سارے درد ماند پڑنے لگتے تھے۔۔۔۔ جس کے کشادہ سینے پر سر رکھ کر اپنی اذیتیں اُن مضبوط بانہوں میں اُتارنے کو دل چاہتا تھا۔۔۔۔ مگر وہ بہت اچھے سے جانتی تھی۔۔۔ کہ اُس کی یہ خواہشیں لاحاصل ہی رہنے والی تھیں۔۔۔۔ ایس پی حمدان صدیقی نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔۔۔۔ وہ اُس پر ٹھوکنا بھی پسند نہ کرتا۔۔۔۔ قریب لانا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔
حمدان کو اندر داخل ہوتا دیکھ وہ الرٹ ہوتی کال کاٹ کر اپنی پاکٹ میں رکھ گئی تھی۔۔۔۔ شاپ میں اِس وقت کسٹمرز کے علاوہ شاپ کا مالک اور وہاں کے ایک میل ورکر کا حلیے بنائے مہروسہ کھڑی تھی۔۔۔
جس کے داڑھی اور مونچھوں والے سکنی ماسک سے کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ لڑکا نہیں لڑکی ہے۔۔۔۔ حمدان کو شاپ کے اندر داخل ہوتا دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔
جس نے اندر آتے ہی شاپ کا دروازہ بند کردیا تھا۔۔۔۔
“چیک کرو اِس کے علاوہ اِس شاپ سے باہر نکلنے کا کوئی اور راستہ تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
حمدان کے اشارے پر پولیس اہلکار چاروں طرف پھیل چکے تھے۔۔۔۔ شاپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا تھا۔۔۔۔ حمدان نے پوری شاپ پر نگاہ دوڑائی تھی۔۔۔ جہاں سہمے کھڑے لوگوں میں خواتین اور مرد موجود تھے۔۔۔ لڑکی اُن میں کوئی نہیں تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔