No Download Link
Rate this Novel
Episode 55
“آج رات رضوان صدیقی کے پاس موجود اقبال کیانی کے خلاف تمام ثبوت آپ لوگوں تک پہنچ جائیں گے۔۔۔ ہمارے سب سے بڑے مشن کو لے کر میرا کام ختم ہوجائے گا۔۔۔ مگر آپ دونوں کو میری قسم ہے مجھے چاہے کچھ بھی ہو آپ لوگ حمدان صدیقی کو زرا سی خراش تک نہیں پہنچائیں گے۔۔۔ اگر آپ دونوں میں سے کسی نے بھی ایسا کچھ کیا۔۔۔ تو کبھی معاف نہیں کروں گی آپ لوگوں کو۔۔۔۔”
یہ میسیج ٹائپ کرتے مہروسہ کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
اُس کے میسیج سینڈ کرتے ہی فوراً حازم نے اُسے کال کی تھی۔۔۔
تیزی سے بھیگتی آنکھوں کے ساتھ حازم کی کال پک کرتے مہروسہ روم سے نکل آئی تھی۔۔۔
“مہرو یہ کیا بول رہی ہو تم۔۔۔ ؟؟ اگر تمہیں اُس ایس پی سے خطرہ محسوس ہورہا ہے تو فوراً نکل آؤ وہاں سے۔۔۔ ہمیں کوئی ثبوت نہیں چاہییں۔۔۔ ہمارے لیے تم زیادہ امپورٹنٹ ہو۔۔۔۔ میں ابھی آرہا ہوں تم میرے ساتھ چلو گی۔۔۔۔”
حازم اُس کا میسیج پڑھتے ہی تیزی سے بلیک ہاؤس سے نکلا تھا۔۔۔۔
“نہیں میر سر آپ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں یہ ثبوت حاصل کرنے کے لیے میں نے کتنی تکلیف اُٹھائی ہے۔۔۔ میں اپنا کام آدھے میں چھوڑ کر نہیں آؤں گی۔۔ اور نہ ہی حمدان کو۔۔۔۔ ورنہ میری آگے کی زندگی میرے لیے جینا مشکل ہوجائے گی۔۔۔ میں نے اُنہیں دھوکا دیا ہے۔۔ اپنی محبت میں دھوکا کیا ہے۔۔۔۔ جب تک وہ مجھے اِس کی سزا نہ دے دیں۔۔۔ میں اُنہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔۔۔”
مہروسہ کی بات سن کر حازم نے سختی سے اپنی مُٹھیاں بھینچتے خود پر ضبط کیا تھا۔۔۔
اِس ایک محبت نے اُن تینوں کی زندگیوِں میں داخل ہوکر اُنہیں بالکل بے بس کرکے رکھ دیا تھا۔۔۔ کبھی کسی سے نہ دبنے والے۔۔۔ محبت کے آگے اپنا آپ ہار رہے تھے۔۔۔
“تم ہم دونوں کے ساتھ بہت غلط کررہی ہو مہروسہ۔۔ تم بہت اچھے سے جانتی ہو کہ تم ہم دونوں کے لیے کیا ہو۔۔۔ ۔ اگر تمہیں کچھ ہوا تو ہم تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔۔۔۔ “
حازم بول رہا تھا جبکہ مہروسہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ پارہی تھی۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ جبکہ اُس کا رونا نہ سن پاتے دوسری جانب سے حازم فون بند کر گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“تمہیں مجھ پر کچھ بھی ثابت کرنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔ تم کتنے بڑے وحشی اور درندے ہو۔۔۔۔ “
پریسا اُس کی گرفت میں قید بنا خوف کھائے دو بدو بولتی شاہ ویز کو مبہوت کر گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز کو اتنے غصے میں دیکھ کر بھی اُس کے چہرے پر خوف کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔ جیسے وہ جانتی ہو کہ چاہے کچھ ہوجائے شاہ ویز سکندر کبھی اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔
“یہ تو پھر ہم دونوں کے حق میں بہت بہتر ہے۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کے گلابی ہونٹوں کی جانب معنی خیزی سے دیکھتا اُس کی جانب جھکا تھا۔۔۔۔
جبکہ پریسا اُس کے تیور دیکھ کانپ گئی تھی۔۔۔
“شاہ ویز سکندر اپنی حد میں رہو۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے سینے پر دباؤ ڈالتی اُسے دور رکھنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔ جب شاہ ویز اُس پر ایک گہری نگاہ ڈالتا اُس کے اُوپر سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
“تم میری نفرت کے قابل بھی نہیں ہو پریسا آفندی۔۔۔ مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ میں کبھی کوئی غلطی کرسکتا ہوں۔۔۔ مگر اب سمجھا آرہی ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی کتنی بڑی غلطی کر لی ہے۔۔۔ تمہیں اپنے قریب لاکر۔۔۔۔”
شاہ ویز زہر خند لہجے میں بولتا صوفے پر رکھے گلاس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
“یہ تم میرے لیے لائی تھی نا۔۔۔ تو پھر اِسے ایسے کیوں رکھ دیا۔۔۔۔”
شاہ ویز کافی کا مگ ہاتھ میں لیتے اُس کی جانب پلٹا تھا۔۔۔ جبکہ اُسے مگ اپنے ہونٹوں کے قریب لے جاتے دیکھ پریسا کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ تم یہ نہیں پیو گے۔۔۔۔”
پریسا فوراً بیڈ سے اُٹھی تھی۔۔۔
“کیوں۔۔۔؟؟ میری بیوی اتنی محبت سے میرے لیے لائی ہے۔۔۔ تو کیوں نہیں پیؤں گا میں۔۔۔ شاہ ویز سکندر اب اتنا بے مروت بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے پریسا کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی کافی کا مگ ہونٹوں سے لگاتے اُسے ایک ہی سانس میں ختم کردیا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے قریب پہنچتی پریسا بُری طرح لڑکھڑا گئی تھی۔۔۔
وہ منہ کے بل نیچے گرتی جب شاہ ویز نے ہاتھ بڑھا کر اُسے تھام لیا تھا۔۔۔
اُس نے محسوس کیا تھا کہ پریسا کا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی رواں ہوچکی تھی۔۔۔ زرد چہرے اور کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ وہ اُسے دیکھتی جیسے اپنے آپے میں نہیں تھی۔۔۔
شاہ ویز خاموش نگاہوں سے یک ٹک اُسے دیکھے گیا تھا۔۔۔
“تم نے کیوں پی وہ کافی۔۔۔۔ تم سب باتوں پر اختیار رکھتے ہو۔۔۔ تو یہ کیسے نہیں جان پائے کہ میں نے اُس کافی میں زہر ملایا ہے۔۔۔ بولو۔۔۔ کیوں نہیں جان پائے۔۔۔ کیوں پیا زہر تم نے۔۔۔۔؟؟”
پریسا اُس کے سینے پر مکے برساتی اِس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔۔۔ وہ بُری طرح کانپ رہی تھی۔۔۔ اُسے دیکھ کر یہی لگ رہا تھا جیسے اِس لڑکی کی آنکھوں کے سامنے اِس کی زندگی لُٹ گئی ہو۔۔۔۔
شاہ ویز نے اُس کے گرد اپنے دونوں بازو حمائل کر رکھے تھے۔۔۔
“تم نے زہر اِسی لیے ملائی تھی نا۔۔ کہ وہ پی کر میں مرجاؤں۔۔۔ اور تمہارے خاندان والوں کی جان چھوٹ جائے مجھ سے۔۔۔۔ میں نے تو تمہارا کام ہی آسان کیا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے کان میں سرد لہجے میں سرگوشی کرتا اُس کے کان کی لوح پر اپنے لب جماتا پریسا کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔
“نہیں چاہتی میں ایسا کچھ بھی۔۔۔ تم بہت بُرے ہو۔۔۔ میں جانتی ہوں تم میری محبت کا کبھی یقین نہیں کرو گے۔۔۔۔ تم نہ خود محبت کرتے ہو اور نہ کسی کی خود کے لیے محبت برداشت کرسکتے۔۔۔ “
پریسا کی حالت بہت غیر ہوچکی تھی۔۔۔ جبکہ شاہ ویز خاموشی سے کھڑا اپنے لیے اِس لڑکی کی دیوانگی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جو اُس کے زہر پینے کے خیال سے ہی اپنے حواس کھو بیٹھی تھی۔۔۔۔
“میں ڈاکٹر کو بلاتی۔۔۔۔”
پریسا نے اُس کا حصار توڑتے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔۔
مگر شاہ ویز اُس کا ہاتھ تھام کر واپس اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔
“کیوں کرتی ہو مجھ سے اتنی محبت۔۔۔ ؟؟ میں تمہاری محبت کے قابل نہیں ہوں۔۔۔۔ باقی سب کی طرح مجھ سے نفرت کیوں نہیں کرتی تم۔۔۔ اتنے لوگوں کے سامنے تمہیں اغوا کیا میں نے۔۔۔ تمہیں مینٹلی ٹارچر کیا۔۔۔ تمہیں بلیک میل کیا۔۔۔ تمہارے خاندان والوں کے خلاف استعمال کیا۔۔۔ تمہیں خود سے نفرت کروانے کی پوری کوشش کی۔۔۔ تمہیں تو اِس سب کے بعد مجھ سے شدید نفرت ہوجانی چاہییے تھی۔۔۔ پھر کیوں کر محبت ہوئی تمہیں مجھ سے۔۔۔۔ میں واقعی ایک وحشی اور درندہ ہوں۔۔۔ جو تم جیسی لڑکی کی محبت کے قابل نہیں ہوں۔۔۔ تمہارے گھر والے ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔ میں نے استعمال کیا ہے تمہیں۔۔۔ تمہاری جائیداد حاصل کرنے کے لیے کھیل کھیلا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی اپنے لیے یہ دیوانگی بھری محبت دیکھ پاگل ہوچکا تھا۔۔۔ اُسے اِس لڑکی پر کیا اپنا ہر ایک ستم یاد آرہا تھا۔۔۔
پریسا بھیگی آنکھوں کے ساتھ اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔
“تو تم چاہتے ہو میں تم سے نفرت کروں۔۔۔ اور دور چلی جاؤں تم سے۔۔۔۔”
پریسا نے اُس کی جانب دیکھتے سوال کیا تھا۔۔۔
جس کا جواب شاہ ویز نے فوراً سر اثبات میں ہلا کر دیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے کافی کا مگ اُٹھایا تھا۔۔۔ جس میں اُس نے اپنے ہاتھوں سے زہر مکس کی تھی۔۔۔
اُس میں تھوڑی سی کافی ابھی بھی باقی تھی۔۔۔
پریسا اُس زہر ملی کافی کو پی گئی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر کی کہی یہ بات بھی مان گئی تھی وہ۔۔۔۔۔
شاید اُس کا یہ جانِ ستمگر کبھی نہ سمجھ پاتا کہ وہ اُس کی کتنی دیوانی تھی۔۔۔
اُس کی یہ حرکت دیکھ شاہ ویز کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔ اِس لڑکی کی حرکتیں اور قربت اُسے زیادہ دیر اضطراب میں بھلا کہاں رہنے دیتی تھیں۔۔۔
اُس کی مسکراہٹ ہونٹوں پر ایک پل کے لیے آکر معدوم ہوچکی تھی۔۔۔ جبکہ پریسا کے دل پر اُس کی یہ دلکشی ہمیشہ کے لیے نقش ہوگئی تھی۔۔۔
“تم کیا سچ میں اتنی معصوم ہو۔۔۔؟؟؟ تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ مجھ جیسے بلیک بیسٹ کو ختم کرنا اتنا آسان ہے۔۔۔۔ اور اُس سے بھی بڑی بات۔۔۔ میرے سامنے تم یا کوئی اور تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔”
پریسا اُس کے آگے سے ہٹنے لگی تھی۔۔۔ جب شاہ ویز اُس کے سر کے بالوں کو اپنی مُٹھی میں جکڑتا اُسے اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔
پریسا بالوں کے کھنچاؤ پر درد سے بلبلا گئی تھی۔۔۔
“وحشی درندے۔۔۔۔ “
پریسا کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا تھا۔۔۔
“اب ساری زندگی اِس وحشی درندے کو برداشت کرنا پڑے گا۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کا چہرا قریب کرتا اُس پر بکھرے آنسو اپنے ہونٹوں سے چننے لگا تھا۔۔۔ جبکہ پریسا اُس کے اِس جنونی انداز پر گھبرا گئی تھی۔۔۔
“میں نے اپنے ہاتھوں سے کافی میں زہر ملائی تھی۔۔۔”
پریسا لال چہرے اور دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی۔۔۔ بے حد حیرت سے بولی تھی۔۔۔۔
“آفندی مینشن میں کام کرتا ہر فرد شاہ ویز سکندر کا وفادار ہے۔۔۔ وہ زہر نہیں تھی جو تم نے میری کافی میں مکس کی ہے۔۔۔ نیند کی گولیاں تھیں۔۔۔ جو میں اتنی زیادہ مقدار میں استعمال کرچکا ہوں کہ اب اُن کا بھی مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔۔۔۔”
شاہ ویز کی بات پر پریسا اُس شاک کی کیفیت میں اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُس کی آخری بات پریسا کے دل میں کھب سی گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے شاہ ویز کو بہت کم سوتے دیکھا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
اقبال کیانی کی پارٹی نے ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا تھا۔۔۔ جس کے حوالے سے ساری سیکیورٹی حبہ اور اُس کی ٹیم کو سونپی گئی تھی۔۔۔
حبہ پوری طرح سے اِس کام میں مصروف تھی۔۔۔ اُسے نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا۔۔۔ وہ بس اب پوری طرح بلیک سٹارز کو اُن کے ارادوں میں ناکام کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔۔۔۔
وہ دوبارہ حازم سالار کی بلیک میلنگ میں بھی نہیں آنا چاہتی تھی۔۔۔
“میڈم باہر کوئی شخص کھڑا ہے۔۔۔۔ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔۔”
حبہ سیکورٹی روم میں بیٹھی سارے کیمروں کی لوکیشن چیک کررہی تھی۔۔۔ جب اُس کے ماتحت نے آکر اُسے پیغام دیا تھا۔۔۔
“میں بزی ہوں ابھی۔۔۔ کسی سے نہیں مل سکتی۔۔۔۔”
حبہ مصروف سے انداز میں کہتے واپس اپنے کام کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔ وہ اپنی ٹیم میں بھی کسی پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اِس لیے سب کچھ خود ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“ہم سے بھی نہیں ملیں گی ایس پی صاحبہ۔۔۔۔”
حبہ زوم کرکے جلسہ گاہ کے اردگرد موجود بلڈنگز چیک کررہی تھی۔۔۔ جب کانوں میں گونجتی حازم کی آواز پر اُس کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔۔ وہ اُچھل کر اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔۔۔
ریموٹ ہاتھ سے چھوٹ کر زمین بوس ہوتا کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔۔۔
“تم یہاں۔۔۔۔”
حبہ نے حازم کے پیچھے کھڑے اپنے آدمیوں کو آنکھیں نکالتے حازم کو گھورا تھا۔۔۔
“میں نے بولا تھا نا۔۔۔ یہاں کسی کو بھی مت بھیجنا۔۔۔۔”
حبہ پولیس اہلکاروں پر چلائی تھی۔۔۔
جبکہ حازم سن گلاسز لگائے پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا اُسے اِردگرد موجود لوگوں کا خیال کیے بغیر انتہائی دلبرانہ انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“میر حازم سالار کو اپنی بیوی کے پاس آنے سے کوئی مائی کا لال نہیں روک سکتا۔۔۔۔ “
حازم کو روکنے کی جرأت وہاں کسی نے نہیں کی تھی۔۔۔
“کیا چاہتے ہو تم۔۔۔؟؟”
حبہ مُٹھیاں بھینچے اپنا غصہ ضبط کرتے بولی۔۔۔
“میرے ساتھ شاپنگ پر چلو۔۔۔۔ کل شادی ہے ہماری۔۔۔۔ میں تمہیں میری پسند کی شاپنگ کروانا چاہتا ہوں۔۔۔”
حازم اُس کا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔۔ جبکہ حبہ اِردگرد موجود پولیس اہلکاروں کو دیکھ حازم کی اِس حرکت پر شرم سے لال ہوئی تھی۔۔۔
“میں ڈیوٹی پر ہوں اس وقت۔۔۔ “
حبہ نے دانت چباتے ضبط سے جواب دیا تھا۔۔۔
“جس کے خوف سے تم سب کے اتنے ہاتھ پیر پھولے ہوئے ہیں۔۔۔ وہ خود تمہارے ساتھ شاپنگ پر چل رہا ہے۔۔۔۔ تو اتنے گھبرانے کی کیا بات ہے۔۔۔ آج میرا کچھ بھی کرنے کا موڈ نہیں ہے۔۔۔۔ آج آرام سکون سے کر لینے دیتا ہوں اقبال کیانی کو۔۔۔ “
حازم سرگوشی نما آواز میں بولتا اُس کا بازو تھامے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
“میرے ایک اشارے کی دیر ہے حازم سالار۔۔۔ یہاں ہر طرف پولیس اہلکار پھیلے ہوئے ہیں۔۔۔ تمہیں ابھی اُٹھا کر جیل میں ڈال دیں گے۔۔۔۔ “
حبہ نے باہر آکر اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ کھینچتے وارن کیا تھا۔۔۔ جس کے جواب میں حازم نے قہقہ لگاتے اُس کا ہاتھ واپس تھام لیا تھا۔۔۔۔
“تمہیں مکمل اجازت ہے میری زندگی۔۔۔ تم سب کچھ کر سکتی ہو۔۔۔ اگر تمہیں لگتا ہے کہ مجھے پکڑنا اتنا آسان ہے تو۔۔۔۔ کہیں اپنی فورسز کا نقصان ہی نہ کروا بیٹھنا۔۔۔۔”
حازم اُسے لیے گاڑی تک پہنچ چکا تھا۔۔۔
“اقبال کیانی اچھا لیڈر اور اچھا انسان ہے۔۔۔۔ تم لوگ بہت غلط کررہے ہو اُس کے ساتھ۔۔۔۔”
حبہ اُس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔
“اچھا انسان تو میں بھی ہوں۔۔۔ میرے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔ “
حازم اُس کے قریب آتا اُسے بانہوں میں اُٹھا چکا تھا۔۔۔
“تم ایک انتہائی گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔ میں کہیں نہیں آرہی تمہارے ساتھ۔۔۔۔”
حبہ اُس کے بات بدلنے پر تلملا گئی تھی۔۔۔
مگر اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کر پاتی حازم اُسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا چکا تھا۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے اپنے بابا کے قاتل کو ایک شوہر کے روپ میں قبول کروں گی میں۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔ بہت جلد خلع کا کیس دائر کرنے والی ہوں۔۔۔۔۔”
حبہ اپنے مقابل فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے حازم کو دیکھتی زہر خند لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
جب حازم اُس کی کلائی تھام کر اپنے نہایت قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔
“بھول ہے تمہاری کہ حازم سالار کی زندگی میں تم اُس سے جدا ہوسکتی ہو۔۔۔ ہاں میرے مرنے کے بعد تم جو چاہو کر سکتی ہو۔۔۔۔۔”
حازم اُس کے گال پر اپنے لب رکھتا سرد لہجے میں بولتا حبہ کے وجود میں سنسنی سی پھیلا گیا تھا۔۔۔ اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔ حبہ نے فوراً نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ زبان سے کچھ نہیں بولی تھی۔۔۔ مگر اُس کی آنکھوں نے نم گوشے ہی اُس کی اذیت کا پتا دے گئے تھے۔۔۔
“تم نے کبھی سوچا ہے میں واپس سے تمہارے قریب کیوں آیا۔۔۔ تمہارے سامنے اپنی شناخت ظاہر کیوں کی۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم ایک پولیس آفیسر ہو۔۔۔۔ اور میں تمہارے باپ کا قاتل۔۔۔۔ تمہیں اپنی اصلیت بتائی۔۔۔۔ کیونکہ میں اپنے دل پر پڑا بوجھ ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ میں نے جس اذیت میں اپنی زندگی گزاری ہے۔۔۔ میں اُس اذیت سے مرنا نہیں چاہتا۔۔۔۔ میری اب تک کی زندگی بہت مشکل رہی ہے حبہ۔۔۔ میں چند پل اپنی محبت کے ساتھ گزار کر اِس کے کچھ حسین لمحوں کو جینے کی خواہش میں تمہارے قریب آیا ہوں۔۔۔۔ مگر میں جانتا ہوں۔۔۔ بہت بدنصیب انسان ہوں۔۔۔ آج تک میری خواہش اور دلی سکون کے مطابق کچھ نہیں ملا مجھے۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کی یہ چند پل کی خوشیاں کیسے مل سکتی ہیں۔۔۔”
حازم اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھوتا زخمی مسکراہٹ کے ساتھ بولتا۔۔۔۔ حبہ کا دل اُدھیڑ کر رکھ گیا تھا۔۔۔۔ روکنے کی بہت کوشش کے بعد بھی بے اختیار اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
اُس نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔
مگر حازم اُس کی ٹھوڑی پر جھک کر اپنے لبوں کا لمس چھوڑتا اُس کی بولتی بند کروا گیا تھا۔۔۔۔
“مگر میں حازم سالار ہوں۔۔۔ اگر خواہش کے مطابق کچھ نہیں ملتا تو چھین لیتا ہوں۔۔۔ جیسےاب تمہیں چھین لوں گا سب سے۔۔۔۔ “
حازم اُس کا چہرا اپنے مزید قریب کرتا اُسے اپنی گرم سانسوں سے جھلسا گیا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے ایک دم بدلتے انداز پر حبہ خوف سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
