No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
“وہ لڑکی کون تھی۔۔۔۔؟؟؟ آپ اُس کو اریسٹ کرکے کیوں لے جارہے تھے۔۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان فل یونیفارم میں تیار باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔ جب مریم کی پکار پر وہ اُس کی جانب پلٹا تھا۔۔۔۔ جو اِس وقت خوبصورت پھولوں سے سجے لان میں واک کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے نیچے آنے کا انتظار بھی کررہی تھی۔۔۔۔۔
کل وہ حمدان کو عجلت میں جاتا دیکھ اُس کے پیچھے گئی تھی۔۔۔ جب شاہ ویز اور حازم کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
مگر اُن دونوں نے اُسے زرا بھی نقصان پہنچائے اور خوفزدہ کیے بغیر صرف حمدان کو دھمکی دی تھی۔۔۔۔
حمدان کل بہت زیادہ غصے میں تھا اِس لیے وہ کچھ پوچھ نہیں پائی تھی۔۔۔
“دہشت گرد ہے وہ۔۔۔۔۔ بلیک سٹارز نامی گینگ کی مین لیڈرز میں سے ایک ہے۔۔۔۔ ملک میں شر پھیلانے والے ہر بُرے فعل میں نمبر ون پر آتا ہے یہ گینگ۔۔۔۔۔ ہر بار یہ ایسے ہی چالیں چل کر پولیس والوں سے بچ نکلتے ہیں۔۔۔۔۔”
حمدان آنکھوں میں شدید نفرت لیے بول رہا تھا۔۔۔۔ اگر اُس پر ہوتا تو اب تک مہروسہ کو گولیوں سے بھون چکا ہوتا۔۔۔ اُسے نفرت تھی مہروسہ جیسی لڑکیوں سے۔۔۔۔ جو اپنی ذات کا وقار بھول جاتی تھیں۔۔۔۔۔
“مگر میں نے تو اُس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔۔۔۔ وہ بہت عجیب انداز میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اُس کی آنکھیں بہت معصوم اور پیاری سی تھیں۔۔۔۔۔ مجھے تو کہیں سے نہیں لگا کہ وہ ایک دہشت گرد ہے۔۔۔۔۔ “
مریم کے دماغ سے لڑکے کے گیٹ اپ میں ملبوس مہروسہ کی بھیگی آنکھیں نکل ہی نہیں پارہی تھیں۔۔۔۔ جو خطرے میں ہونے کے باوجود دیوانہ وار نگاہوں سے بس حمدان کو ہی گھور رہی تھی۔۔۔۔
حمدان نے شاید یہ سب نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ یا پھر وہ دیکھ کر بھی اگنور کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ لیکن مریم نے یہ سب دیکھا بھی تھا۔۔۔ اور اُس پر کافی سوچ و بچار بھی کر چکی تھی۔۔۔۔۔
“بس بہت ہوگیا۔۔۔ میں اب مزید اُس لڑکی کا ذکر نہ سنوں۔۔۔ وہ اتنی اہم بالکل بھی نہیں ہے کہ اُس کا ذکر کیا جائے۔۔۔۔۔ اور نہ ہی وہ اِس قابل ہے۔۔۔۔ مگر تم مجھ سے وعدہ کرو۔۔۔ کہ آئندہ کبھی بھی خود کو خطرے میں نہیں ڈالو گی۔۔۔ بنا گارڈز کے گھر سے نہیں نکلو گی۔۔۔ “
حمدان اُس کا ہاتھ تھام کر پرامس لیتے ہوئے بولا۔۔۔۔
مریم نے نگاہیں اُٹھا کر حمدان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ ہینڈسم اور ڈیشنگ بندہ صرف اُس کے لیے فکرمند ہوتا تھا۔۔۔۔۔ اُس کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتا تھا۔۔۔۔ مریم کو اپنی قسمت پر ناز ہوا تھا۔۔۔۔
“پرامس آئندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
مریم دھیرے سے مسکراتی پرامس کر گئی تھی۔۔۔۔
کچھ فاصلے پر کھڑی فرح نے بہت ناگواری سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔۔۔
“حمدان مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔”
فرح حمدان کے ہاتھ میں موجود مریم کا ہاتھ نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھتی اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔
“میں لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔ جو بھی بات کرنی ہے شام میں کر لیجیئے گا۔۔۔۔۔”
حمدان بنا اُن کی جانب دیکھے واپس پلٹا تھا۔۔۔۔
“گھر کے ہر فرد کے پاس تمہارے لیے وقت ہے۔۔۔ سوائے میرے۔۔۔۔ اگر تم پانچ منٹ کے لیے میری بات سن لو گے۔۔۔ تو تمہارے پولیس ڈپارٹمنٹ میں کوئی طوفان پربا نہیں ہوجائے گا۔۔۔۔۔”
فرح کو حمدان کا ایک بار پھر خود کو نظر انداز کرکے یوں مُڑ جانا بہت تکلیف دے گیا تھا۔۔۔۔
مریم خاموش نظروں سے اُن دونوں بہن بھائیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ حمدان کے دل میں اپنی بہن کے لیے جتنی بدگمانیاں بھر چکی تھیں۔۔۔ اُن کا اتنی جلدی ختم ہونا آسان کام نہیں تھا۔۔۔۔
اور حمدان جیسے اُکھڑ مزاج شخص کے لیے تو بالکل بھی نہیں۔۔۔۔
“جس کی میرے نزدیک جو اہمیت ہے۔۔۔ میں اُسے اُسی پر رکھتا ہوں۔۔۔۔ آپ کو جو بات کرنی ہے مجھے میسیج کردیجیئے گا۔۔۔ ٹائم ملا تو پڑھ لوں گا۔۔۔۔ “
حمدان بنا فرح کی جانب دیکھے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ فرح بھیگی آنکھوں سے اپنے بھائی کی بے رخی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ حمدان کے گاڑی میں بیٹھتے ہی گارڈ نے دروازہ بند کردیا تھا۔۔۔۔
تین گاڑیوں کا قافلہ ایک قطار میں بڑے سے سیاہ گیٹ سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
“میرے بھائی کو مجھ سے چھین کر اچھا نہیں کیا تم نے۔۔۔ میری ایک ایک تکلیف اور آنسوؤں کا حساب دینا پڑے گا تمہیں۔۔۔۔”
فرح حمدان کے جانے کے بعد مریم کی جانب پلٹی تھی۔۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے کا گزرا منظر شاید کافی انجوائے کررہی تھی۔۔۔۔
“میں نے کچھ نہیں کیا ہے۔۔۔ آپ کا بھائی آپ کی اپنی وجہ سے نفرت کرتا ہے آپ سے۔۔۔۔ آپ ماضی میں جو کرچکی ہیں۔۔۔ اُسی کا نتیجہ ہے یہ۔۔۔۔ آپ اپنا الزام مجھ پر نہیں ڈال سکتیں۔۔۔۔ ویسے بھی آپ کو بھائی کانوں کا کچا آدمی بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔ کہ کسی کی بھی سن لے۔۔۔ آپ نے جو کیا ہے وہ اُس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔۔۔ یہ شدید نفرت آپ کے بُرے کرموں کا پھل ہے۔۔۔۔”
مریم اُسے ٹکا سا جواب دیتی پلٹی تھی۔۔۔
“حمدان کے سامنے تو بہت معصوم بنتی ہو۔۔۔ کاش کے میرے بھائی کی آنکھوں پر چڑھا پردہ اُتر جائے اور اُسے پتا چل جائے کہ تم کس قدر کالے دل کی لڑکی ہو۔۔۔۔۔ تم میں احساسات اور جذبات نام کو نہیں ہیں۔۔۔ ان شاء اللہ ایک دن وہ وقت ضرور آئے گا۔۔۔ جب حمدان تمہیں ہاتھ پکڑ کر اپنی زندگی سے باہر پھینکے گا۔۔۔۔۔”
فرح کا دل چاہا تھا اِس لڑکی کا گلا اپنے ہاتھوں سے دبا دے جو اُس کے بھائی کی زندگی خراب کر رہی تھی۔۔۔۔ وہ کسی طور اُس کے بھائی کے قابل نہیں تھی نہ صورت میں اور نہ ہی سیرت میں۔۔۔۔۔
“ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔۔۔ محبت کرتے ہیں ہم ایک دوسرے سے۔۔۔۔۔ حمدان پوری دنیا کو چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔ مجھے نہیں۔۔۔۔۔ اپنے ماں باپ اور بہن بھائی کی مثال تو آپ کے سامنے ہی ہے۔۔۔۔ آپ بھی مجھے زیادہ تنگ مت کریں۔۔۔ ایسا نہ ہو آپ کے باقی گھر والوں کی طرح آپ کا داخلہ بھی اِس گھر سے بند کروا دوں۔۔۔۔”
مریم اُس کی جانب استہزایہ مسکراہٹ اُچھالتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
“یا اللہ جی۔۔۔ کوئی تو ایسی لڑکی ہوگی۔۔۔ جو میرے بھائی کا دل بدل دے۔۔۔ جو اُسے اِس چڑیل کے اثر سے نکال لے۔۔۔۔ جو اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لیے اُس کا دل نرم کردے۔۔۔۔ یہ لڑکی محبت نہیں کرتی میرے بھائی سے۔۔۔ اُسے استعمال کررہی ہے۔۔۔۔ ورنہ محبت تو ایسی خودغرض اور مطلبی نہیں ہوتی۔۔۔۔ وہ تو بے لوث ہوتی ہے۔۔۔ بے غرض۔۔۔۔ جس میں آپ محبوب کی خوشی کے سوا کچھ نہیں دیکھتے۔۔۔۔”
فرح بھیگی پلکیں اُٹھا کر اپنے رب سے فریاد کرتی۔۔۔ تھکے تھکے قدموں سے باہر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ وہ ایسے گھر میں بالکل بھی نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔ جو منافقوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“اپنے منیجر کو بلاؤ۔۔۔ اور اِن لوگوں کے اکاونٹس پر جتنی بھی رقم ہے۔۔۔ ابھی اور اِسی وقت ہمارے حوالے کرو۔۔۔۔ ورنہ یہاں کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچے گا۔۔۔۔”
حازم اور مہروسہ پہلے ہی باقی سب کو افراد کو ہاتھ اُوپر کروا کر ایک لائن میں نیچے بیٹھا چکے تھے۔۔۔۔
اُن کے آدمیوں نے باہر سے بینک کو پوری طرح سے گھیر رکھا تھا۔۔۔ شاہ ویز گن نکالتا بینک مینیجر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
جبکہ پریسا آنکھیں پھاڑے اُس حد درجہ وجیہہ انسان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جو قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ لُٹیرا بھی تھا۔۔۔۔
“اِدھر آؤ۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے گن کے اشارے سے دیوار سے لگی کھڑی پریسا کو باقی لوگوں کی طرف بلایا تھا۔۔۔۔
“اِس وہاں الگ صوفے پر بیٹھا دو۔۔۔ ابھی چند منٹوں میں خوف کے مارے بے ہوش ہوجانا ہے اِس نے۔۔۔۔ “
شاہ ویز مہروسہ کے قریب سے گزرتا یہ الفاظ ادا کرتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ مہروسہ نے آنکھیں پھاڑے کچھ فاصلے پر کھڑے حازم کو دیکھا تھا۔۔۔ اُن کے گینگ کا بلیک بیسٹ شاہ ویز سکندر کسی لڑکی کے بارے میں بات کررہا تھا۔۔۔ اُس کے منہ سے آج تک اُنہوں نے کسی لڑکی کا ذکر نہیں سنا تھا۔۔۔۔ یہ پہلی بار تھا۔۔۔ جس پر اُن کا شاک ہونا بنتا تھا۔۔۔۔
دونوں کی ہی پرشوق نگاہیں۔۔۔ دیوار سے چپکی ڈری سہمی پریسا کی جانب اُٹھی تھیں۔۔۔ وہ سہمی کانپتی لرزتی ہرنی اُن کے بلیک بیسٹ کے ساتھ۔۔۔۔۔
مہروسہ کو چند سیکنڈ لگے تھے یہ جوڑی بنانے میں۔۔۔۔
“میر سر۔۔۔ یہ لڑکی۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے سوالیہ نگاہوں سے حازم کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“شہباز آفندی کی بھتیجی پریسا آفندی ہے۔۔۔۔ کنٹرول رکھو۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔۔ رات شاہ نے جو تمہاری کلاس لگائی ہے لگتا ہے وہ بھول چکی ہو۔۔۔۔ اور اگر اِس وقت اُسے پتا چل گیا کہ تم کیا سوچ رہی ہو اُس کے بارے میں۔۔۔۔۔ تو سب سے پہلے اُس نے تمہارا بھیجہ ہی اُڑانا ہے۔۔۔۔۔”
حازم اُسے حقیقت کا رُخ دیکھاتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔ جبکہ مہروسہ جی بھر کر بدمزا ہوئی تھی۔۔۔۔ اگر یہ لڑکی شہباز آفندی کی بھتیجی تھی تو پھر اِس کا اور شاہ ویز کو ایک ساتھ سوچنا بے وقوفی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
“مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنے مطلوبہ اکاؤنٹس سے پیسے نکلوا رہا تھا جب پریسا کی نم آلود آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔۔
“تمہیں مرنے کا بہت شوق ہے کیا۔۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز گن اُس کی جانب موڑتا دبی آواز میں دھاڑا تھا۔۔۔۔ پری کا چہرا بالکل زرد ہوچکا تھا۔۔۔۔
“میں نے آخر آپ کا بگاڑا کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ آپ ہر بار مجھے ہی کیوں ڈراتے ہیں۔۔۔۔؟؟”
پریسا کا سر بُری طرح چکرا رہا تھا۔۔۔ اُسے کھڑا ہو پانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔ سامنے کھڑے شخص کا خوف لمحہ با لمحہ اُس کے دل و دماغ پر قبضہ جما رہا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز سے انتہائی معصومیت سے یہ سوال پوچھتی وہ اِس وقت اُس دیو کے سامنے ایک نازک سی پری معلوم ہورہی تھی۔۔۔۔ جو حراساں سی اُس کی قید سے آزادی چاہتی تھی۔۔۔۔
“بار بار تم میرے راستے میں آرہی ہو۔۔۔۔ اور میں ہر بار معاف نہیں کرتا۔۔۔۔ اور تمہیں تو اب کسی قیمت پر معافی نہیں ملی سکتی۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی نگاہیں اُس کے چہرے سے بار بار ٹکراتی نازک لٹوں پر تھیں۔۔۔۔ شاہ اُسے اپنی آگ اُگلتی نگاہوں سے گھورتا واپس پلٹنے ہی لگا تھا۔۔۔ جب اُن کی تاب نہ لا پاتے۔۔۔۔۔ پریسا شاہ ویز سکندر کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔۔۔۔
اُس کا سر شاہ ویز کے سینے سے آن لگا تھا۔۔۔۔ شاہ ویز نے صرف ایک ہاتھ کا استعمال کرتے اُسے سنبھال رکھا تھا۔۔۔۔
“استغفراللہ یہ کیا منظر دیکھ لیا میں نے۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے آنکھیں ملتے بار بار سامنے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں شاہ ویز اُس لڑکی کو اپنی مضبوط بانہوں میں اُٹھائے ایک جانب بنے منیجر کے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
“یہ میری گنہگار آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں۔۔۔ شاہ سر اُس لڑکی کے ساتھ کیا کرنے۔۔۔۔۔”
جنید آنکھیں اور منہ پھاڑے مہروسہ کے قریب آتے بولا تھا۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔ شاہ سر کچھ غلط کر ہی نہیں سکتے۔۔۔۔ اُن کے سب سے بڑے دشمن کی بھتیجی ہونے کے باوجود وہ اُس کی عزت پر آنچ تک نہیں آنے دیں گے۔۔۔ “
مہروسہ کے لہجے میں شاہ ویز کے لیے عقیدت تھی۔۔۔۔
“میں مذاق کررہا ہوں۔۔۔ جانتا ہوں وہ کتنے اچھے ہیں۔۔۔ آئیڈیل ہیں میرے۔۔۔ ایسے ہی تو ہر وقت اُن کے اور میر سر کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار نہیں رہتا۔۔۔۔”
جنید مسکرا کر کہتا لاؤنٹر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ جہاں اب اُن کے آدمی پیسے بیگز میں ڈال رہے تھے۔۔۔
شاہ ویز پریسا کو بانہوں میں اُٹھائے روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اُسے باہر صوفے پر بھی لیٹا سکتا تھا۔۔۔ مگر نجانے کیوں۔۔۔۔ اتنے لوگوں کے سامنے اِس لڑکی کے بے ہوش وجود کو رکھنا اُسے ناگوار گزرا تھا۔۔۔۔
جو خوبصورتی اور دلکشی میں بے مثال تھی۔۔۔۔ اُس کا یہ قیامت خیز حُسن غیر معمولی تھا۔۔۔ اور یہ لڑکی اکیلی اپنی حفاظت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اتنا اندازہ تو شاہ کو ہو ہی چکا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز اُسے صوفے پر لیٹا کر واپس پلٹا تھا۔۔۔ جب فرش پر گرے اُس کے شیفون کے دوپٹے کو دیکھ شاہ ویز کا دماغ خراب ہوا تھا۔۔۔۔ اِس لڑکی کو ٹھیک سے خود کو ڈھانپنا بھی نہیں آتا تھا۔۔۔۔
اُس کا غصہ اِس لڑکی پر کئی گنا بڑھ گیا تھا۔۔۔۔تمام مرد اُس کی طرح بے حس اور جذبات سے عاری نہیں ہوتے۔۔۔۔ کوئی بھی اِس لاپرواہ حسینہ سے فائدہ اُٹھا سکتا تھا۔۔۔ شاہ نے نیچے سے دوپٹہ اُٹھا کر اُس کے چہرے پر پھینکتے۔۔۔ اپنے کندھوں کے گرد لپٹی شال سے پریسا کے نازک وجود کو پوری طرح ڈھانپ دیا تھا۔۔۔۔ اب اُسے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
شاہ ویز کے دل کے اندر کسی خانے میں اطمینان اُتر گیا تھا۔۔۔ جس سے وہ خود بھی انجان چہرے پر وہی کرخت تاثرات سجائے روم سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
باہر آکر روم کو لاک کرتے کی اپنی پاکٹ میں رکھتا وہ کاؤنٹر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ باہر پولیس کی بھاری نفری پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔ اب اُسے سب سے پہلے اپنے آدمیوں کے ساتھ اِس لوٹے گئے پیسے کو بھی یہاں سے باہر بھیجنا تھا۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“واؤ آپی آپ نے کتنا پیارا لاکٹ پہن رکھا ہے۔۔۔۔ کیا آپ یہ مجھے دے سکتی ہیں۔۔۔۔”
صبا حبہ کے گلے میں سجے نہایت ہی خوبصورت لاکٹ کو دیکھ ستائشی لہجے میں بولی۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔ تم ہر وقت ٹی وی کے سامنے ہی چڑھ کر کیوں بیٹھی رہتی ہو۔۔۔ جاؤ جاکر پڑھ لو کچھ۔۔۔۔”
لاکٹ کو دیکھ حبہ کا موڈ مزید آف ہوچکا تھا۔۔۔۔ جس کا غصہ وہ صبا پر نکالتی اُسے وہاں سے بھیج چکی تھی۔۔۔
“کیا ہوا میری بیٹی کچھ دنوں سے کافی غصے میں رہنے لگی ہے۔۔۔۔؟؟ سب خیریت ہے نا۔۔۔۔”
نجمہ بیگم اُس کے قریب آکر بیٹھتی محبت سے پچکارتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ حبہ کا انداز آج کل اُنہیں کچھ زیادہ ہی چڑچڑا سا لگا تھا۔۔۔
“نہیں ماما ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔”
حبہ اُن کی گود میں سر رکھتی تھکان زدہ لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
“ایس پی عمار کی والدہ آئیں تھیں صبح۔۔۔۔۔”
نجمہ بیگم کا لہجہ دھیما ہوا تھا۔۔۔
“اچھا۔۔۔۔ بہت نائس خاتون ہیں وہ۔۔۔۔ ویسے یوں اچانک آئی کیوں تھیں۔۔۔۔؟؟؟ عمار نے تو ایسا کوئی ذکر نہیں کیا۔۔۔۔۔۔؟؟”
حبہ اُن کی گود میں سر رکھ کر لیٹے لیٹے بولی تھی۔۔۔
“اُنہوں نے پہلے فون پر بات کی تھی۔۔۔ اُس کے بعد ہی آئیں ہیں۔۔۔ عمار کے لیے تمہارا ہاتھ مانگنے۔۔۔۔۔”
نجمہ بیگم کے الفاظ تھے یا کوئی بم جو سیدھا حبہ کے سر پر پھوٹا تھا۔۔۔۔
“ماما کیا جو میں نے سنا ہے۔۔۔ وہ سچ ہے۔۔۔؟؟؟”
حبہ اُٹھ کر بیٹھتی شاکی نگاہوں سے اُنہیں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“حبہ اِس میں غلط کیا ہے۔۔۔ ایسا تو ایک دن ہونا ہی ہے نا۔۔۔۔۔۔ تم کب تک ایسے ہی۔۔۔۔؟؟؟”
نجمہ بیگم اُس کا ہاتھ نرمی سے تھامتے اُسے سمجھانے کی کوشش کرتے بولیں۔۔۔
“ماما پلیز۔۔۔۔ آپ ایسا بول بھی کیسے سکتی ہیں۔۔۔ اگر آپ پر میں اتنی ہی بوجھ بن گئی ہوں تو بتا دیں کہیں اور رہ لوں گی میں۔۔۔ مگر اپنا نام کسی کے بھی ساتھ اِس حوالے سے اُٹھتا نہیں سن سکتی۔۔۔”
حبہ اپنا ہاتھ اُن کی گرفت سے نکالتی ہزیانی لہجے میں بولتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“وہ مر چکا ہے۔۔۔۔ اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔۔۔ خود کو کیوں اس دھوکے کا شکار کرکے اپنی زندگی برباد کررہی ہو۔۔۔۔ وہ مر چکا ہے۔۔۔ اور تمہارا اب اُس سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔ جتنی جلدی ہوسکے اِس بات کو قبول کرلو۔۔”
نجمہ بیگم یہ الفاظ ادا کرتیں حبہ کو اِس وقت دنیا کی سب سے زیادہ سفاک ماں لگی تھیں۔۔۔۔
آج بہت عرصے بعد اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں ہوا تھا۔۔۔ جنہیں بے دردی سے رگڑتی۔۔۔ وہ دھندلائی آنکھوں کے ساتھ روم میں جانے کے بجائے گھر سے ہی نکل گئی تھی۔۔۔۔
محکمے کی جانب سے ملی سپیشل سیکورٹی کو ساتھ لیے بغیر وہ خود ہی گاڑی ڈرائیو کرتی گھر سے نکل گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اِس وقت اِس قدر زہنی خلفشار کا شکار تھی۔۔۔ کہ طاق لگائے بیٹھے اپنے دشمنوں کو بھی فراموش کر گئی تھی۔۔۔۔ جو موقع کی تلاش میں ہی تھے۔۔۔۔ اور آج اتنے ٹائم بعد ایس پی حبہ امتشال کو اکیلا گھر سے نکلتے دیکھ اُنہیں موقع مل چکا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“پولیس والے اِس وقت ہم پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔۔۔ ہمارے پاس ڈیڑھ سو کے قریب لوگ ہیں۔۔۔ جن کی زندگیاں وہ خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔۔ تم اور مہروسہ اپنے تمام آدمیوں کے ساتھ پیسے لے کر نکلو گے۔۔۔ تاکہ اگر وہ لوگ پیچھے آنا بھی چاہیں تو کچھ نہ کرسکیں۔۔۔”
شاہ ویز کی بات سن کر حازم اور مہروسہ دونوں ہی انکاری ہوئے تھے۔۔۔۔
“ہم تمہیں یہاں اکیلا چھوڑ کر کسی قیمت پر نہیں جائیں گے۔۔۔۔۔۔ “
حازم نے اُس کی پوری بات سنیں بغیر ہی انکار کردیا تھا۔۔ وہ کسی بھی قیمت پر کبھی بھی شاہ ویز کو اکیلا چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
“میر مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوگا مجھے۔۔۔۔۔۔ تم لوگوں کے بعد میں نکلوں گا۔۔۔۔ شہباز آفندی کی بھتیجی کو گن پوائنٹ پر لے کر۔۔۔۔ پریسا آفندی کو دیکھ کر شہباز آفندی کسی کو گولی نہیں چلانے دے گا کسی قیمت پر بھی نہیں۔۔۔۔ باہر بھیڑ میں موجود ہمارے آدمیوں سے خبر ملی ہے۔۔۔ کہ شہباز آفندی اور سفیان آفندی دونوں ہی پریسا آفندی اور اپنی دوسری بھتیجی کے اندر ہونے کا سن کر یہاں پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔۔ “
اُن دونوں کے نام لیتے وقت شاہ ویز کی آنکھوں میں شدید نفرت تھی۔۔۔ جسے دیکھ کر ایک پل کے لیے اُن دونوں کو بھی خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“تم پریسا آفندی کو اغوا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔۔۔۔”
حازم اُس کی بات مانتا اُس کا اگلا پلان سننا چاہتا تھا۔۔۔ جس کا جواب اثبات میں سر ہلا کردیتے شاہ ویز وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
