Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

“یہ چڑیا تو میری سوچ سے بھی زیادہ حسین ہے۔۔۔ اِس کے ساتھ تو اور مزا آئے۔۔۔۔”
ابھی اُس شخص کی بات پوری نہیں ہوئی تھی۔۔ جب دائیں جانب سے پڑنے والا تھپڑ اُس کا جبڑا ہلا گیا تھا۔۔۔۔
پریسا سمیت اُن سب نے پلٹ کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جہاں سیاہ لباس میں ملبوس،نقاب سے چہرا ڈھکے لال آنکھوں میں آگ کے شعلے برساتے اُن کو بھسم کردینے کی نگاہ سے دیکھتے بلیک بیسٹ کو کھڑا دیکھ کئی آنسو ٹوٹ کر پریسا کی آنکھوں سے گرے تھے۔۔۔۔
“کون ہو تم۔۔۔۔؟؟”
پریسا کو تھامے کھڑے شخص نے شاہ ویز کی جانب دیکھتے حیرت زدہ سا سوال کیا تھا۔۔۔
“تمہاری موت۔۔۔۔۔”
آگے بڑھ کر پریسا کا زمین پر گرا دوپٹہ اُٹھاتے اُس نے آگ اُگلتے لہجے میں جواب دیا تھا۔۔۔۔
“تمہاری بہتری اِسی میں ہے کہ ہمارے معاملے میں مت پڑو۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کو پریسا کا دوپٹہ اُٹھا اپنی جانب بڑھتے دیکھ اُس شخص نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا۔۔۔ اُس کے باقی سارے آدمی شاہ ویز پر گنز تان چکے تھے۔۔۔ جس کی شاہ ویز سکندر کو رتی بھر پرواہ نہیں تھی۔۔۔
وہ دس کے قریب لوگ تھے۔۔۔ جبکہ شاہ ویز بالکل اکیلا تھا۔۔۔۔۔ مگر وہ اکیلا بھی سب پر بھاری تھا۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں خوف کی رمق تک نہیں تھی۔۔۔
بس منجمند کردیتا سرد پن موجود تھا۔۔۔ جس سے پریسا کو اپنی ریڑھ کی ہڈی سنسناتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
“ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔۔ شاہ ویز کی خون آشام نگاہیں اُس شخص کی گرفت میں قید پریسا کی دودھیا کلائی پر تھی۔۔۔۔ جو اُس کی سخت گرفت کی وجہ سے بالکل لال ہوچکی تھی۔۔۔۔
“نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ نہ اِس لڑکی کو۔۔۔ اور نہ ہی اب تمہیں۔۔۔ آہہہہہ۔”
وہ شخص اپنے آدمیوں کو شاہ ویز پر حملہ آور ہونے کا اشارہ کرنے ہی لگا تھا۔۔۔ جب شاہ ویز نے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جیب سے خنجر نکالتے اُس شخص کا بازو ہی کاٹ دیا تھا۔۔۔۔۔
یہ خوفناک منظر دیکھتے پریسا کے منہ سے بے اختیار دلخراش چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ حواس کھوتی قریب آکر اُسے تھامتے شاہ ویز سکندر کی بانہوں میں لہرا گئی تھی۔۔۔۔۔
شاہ ویز نے ہونٹ بھینچتے غصے سے پریسا کو دیکھا تھا۔۔۔۔ جو ہمیشہ غلط ٹائم پر بے ہوش ہوجاتی تھی۔۔۔۔
اُسے اپنے ساتھ کھڑا کیے اُس کا سر نرمی کے ساتھ کندھے سے لگاتا وہ اُن لوگوں کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔ جو اب اُس پر فائرنگ کرنے سے بھی خوفزدہ ہوچکے تھے۔۔۔۔
“کون ہو تم۔۔۔۔ تم کوئی عام آدمی نہیں ہوسکتے۔۔ کیونکہ کوئی عام آدمی شفیق بھا کے آدمیوں پر ہتھیار اُٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔۔۔۔۔”
وہ شخص درد سے بلبلاتا فوارے کی طرح بہتے اپنے خون کو دیکھتا اپنے آدمیوں کو وہیں رکنے کا اشارہ کرتا شاہ ویز سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔ وہ ایک وار میں ہی سمجھ گیا تھا کہ یہ شخص بہت پاور فل ہے۔۔۔ اُن کے پچاس آدمی مزید بھی آگے تو اِس سے مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔۔۔ اُس کا کسرتی مضبوط وجود، روشن پیشانی اور سیاہ آنکھوں میں ہلکورے لیتی بے خوفی اور آگ اُن سب کو جلا کر بھسم کرنے کا جذبہ رکھتی تھی۔۔۔۔
” اپنے شفیق بھا سے پوچھنا کون ہوں میں۔۔۔۔ اُس نے ایک بار پھر بہت غلط جگہ وار کیا ہے۔۔۔۔ یہ لڑکی صرف میرس شکار ہے۔۔۔۔ اور اپنے شکار پر نظر رکھنے والوں کا میں وہیں حال کرتا ہوں جو چار سال پہلے تمہارے شفیق بھا کا کیا تھا۔۔۔۔ آج کے میرے وار کے بعد تم بھی ایک بازو کے ساتھ اپنے شفیق بھا کی طرح بن چکے ہو۔۔۔۔ میری طاقت کا اندازہ یہیں سے لگا لو۔۔۔ اور جاکر بتا دو اپنے بھا کو۔۔۔ اِس لڑکی پر بلیک بیسٹ کا سایہ ہے۔۔۔۔ اِس پر بُری نگاہ ڈالنے کا حق بھی میرا ہے اور اچھی بھی۔۔۔۔ اگر دوبارہ اِسے زرا سا بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو چار سال پہلے صرف ایک بازو کاٹا تھا۔۔۔۔ اب کی بار گردن گنوا بیٹھو گے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اپنی بات مکمل کرتے سفیان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں اب وہ موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر کی آنکھوں میں استہزاء پھیل گیا تھا۔۔۔۔
اُس نے چہرا جھکا کر اپنے سینے سے چمٹی کھڑی پریسا آفندی کو دیکھا تھا۔۔۔ جس کا وجود بالکل سرد پڑ چکا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز اپنی جیکٹ اُتار کر اُس کے کپکپاتے وجود کے گرد لپیٹتے اُسے بانہوں میں اُٹھائے اُن لوگوں کو وہیں ہونق چھوڑتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
“اُستاد ہم نے اِسے اتنی آسانی سے جانے کیسے دیا۔۔۔۔ ہم تو آسانی سے اِس کا کام تمام کر سکتے تھے۔۔۔۔ یہ اکیلا اور ہم اتنے سارے۔۔۔ آس پاس جنگل میں بھی ہمارے ہی آدمی پھیلے ہوئے ہیں۔۔۔۔”
اُس شخص کے آدمی بے یقینی سے اپنے اُستاد کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ جو اپنے درد سے تڑپتا شاہ ویز سکندر کو دور جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“یہ کوئی عام آدمی نہیں ہے۔۔۔ بلیک بیسٹ ہے۔۔۔ شفیق بھا اِس کے آگے سر جھکاتا ہے۔۔۔۔ یہ اتنا طاقت ور ہے۔۔۔ ایک ہی لمحے میں شفیق بھا جیسے لوگوں کے اڈے برباد کردے۔۔۔ ہم تو پھر اِس کے آگے کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔۔۔ بہت بڑی قسمت والی نکلی یہ لڑکی۔۔۔ کہ اِس پر شاہ ویز سکندر کا سایہ ہے۔۔ ورنہ جتنے خطرے اِس لڑکی کے گرد منڈلا رہے ہیں۔۔۔ اب تک کچھ نہ بچا ہوتا اِس کے پاس۔۔۔۔۔”
وہ شخص لمحہ با لمحہ دور ہوتے شاہ ویز سکندر کی چوڑی پشت کو گھورتا اپنے آدمیوں کے سہارے گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“فرح آپی آپ کو مامی بلا رہی ہیں۔۔۔ آپ جائیں میں کر لیتی ہوں یہ۔۔۔۔۔”
مہروسہ کچن میں قورمہ بناتی فرح کو سمیعہ بیگم کا پیغام دیتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
“اُجالا تمہارے آنے سے تو میری کچن کی طرف سے چھٹی ہی ہوگئی ہے۔۔۔ تم مجھے کوئی کام کرنے ہی نہیں دیتی۔۔۔۔ یہ سب اگر اتنا اچھا کھانے کے عادی ہوگئے نا تو بعد میں اِنہوں نے میرے ہاتھ کا بنا کچھ کھانا ہی نہیں ہے ۔۔۔”
فرح اُسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتی کچن سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
مہروسہ اُس کی بات پر مسکراتی چمچہ ہلا کر فریج کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ پانی گلاس میں نکال کر ابھی اُس نے منہ سے لگایا ہی تھا جب اچانک اُسے کچن کے دروازے پر وہی مخصوص قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔۔۔
جسے وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔۔
“اُجالا مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔۔ بلکہ معافی مانگنی ہے۔۔۔ اپنے رات والے رویے کی۔۔۔۔ آئم سوری۔۔۔۔۔”
مہروسہ جو حمدان کی آواز سن کر آنکھیں پھاڑے گلاس ہونٹوں سے لگائے کھڑی تھی۔۔۔۔۔ اُس کی پوری بات سنتے اُسے اتنی زور کا اچھو لگا تھا کہ زرا سی دیر میں وہ کھانس کھانس کر خطرناک حد تک لال ہوگئی تھی۔۔۔۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان اُس کی غیر ہوتی حالت پر فکرمند ہوتا اُس کے قریب آتے بولا۔۔۔۔
مہروسہ نے بمشکل اپنی سانسیں بحال کرتے خود کو جی بھر کر کوسا تھا۔۔۔۔ زندگی میں پہلی بار تو وہ اُس سے اُجالا سمجھ کر ہی سہی مگر نرمی سے بات کرنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔
اپنے گلے کی تکلیف پر قابو پاتے وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ حمدان کی جانب پلٹی تھی۔۔۔۔
“نن نہیں آپ سوری کیوں کررہے ہیں۔۔۔؟؟؟ میں نے آپ کی کبھی کسی بات کا بُرا نہیں مانا۔۔۔۔۔ “
مہروسہ نے اُجالا ہونے کا بھرپور ناٹک کرتے چہرا جھکا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔
“نہیں میں واقعی بہت شرمسار ہوں۔۔۔ غلط فہمی کی بنیاد پر تم سے بہت بُرا سلوک کیا۔۔۔۔ مگر اب سب غلط فہمی دور ہوچکی ہے۔۔۔۔ اب ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ اگین آئم سوری۔۔۔۔”
حمدان اُس کی جانب گہری نگاہوں سے دیکھتا یہ نرم الفاظ ادا کرتا مہروسہ پر ایک بار پھر سکتہ طاری کر گیا تھا۔۔۔۔
“نو اٹس اوکے۔۔۔۔ آپ کی غلط فہمی کلیئر ہوگئی۔۔ میرے لیے یہی بہت ہے۔۔۔۔”
مہروسہ حمدان کے سوری بولنے اور اتنے نرم لہجے پر اتنا کھو گئی تھی کہ چولہے پر رکھا قورمہ بالکل فراموش کر گئی تھی۔۔۔
“کچھ جل رہا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے کمرے میں پھیلتی جلنے کی بو پر اردگرد نگاہیں دوڑائی تھیں۔۔۔
“اوہ شٹ۔۔۔۔۔ اِسے تو میں بھول ہی گئی۔۔۔”
مہروسہ سر پر ہاتھ مارتی چولہے کی جانب بھاگی تھی۔۔۔ جہاں قورمہ پوری طرح جل چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ فرح کی ساری محنت برباد ہوتے دیکھ بے دھیانی میں چولہا بند کرنے کے بجائے آگ پر تپتا گرم کڑاہی دونوں ہاتھوں سے تھامتے نیچے اُتارنے لگی تھی۔۔۔۔
مگر کڑاہی کی گرمائش نے اُس کے ہاتھوں کو بُری طرح جلا دیا تھا۔۔۔ کڑاہی اُس کے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی۔۔۔ اِس سے پہلے کے وہ اُس کے پیروں اور ٹانگوں کو جلا دیتی۔۔۔۔۔
حمدان نے جلدی سے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔
مہروسہ ہر شے فراموش کرتی سیدھی اُس کے چوڑے سینے سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔ اُس کے دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں بُری طرح جل چکی تھیں۔۔۔ جنہیں اِس وقت حمدان کے سینے پر رکھے اُن کی پشت پر اپنا ماتھا ٹکائے وہ اپنے ہاتھوں سے زیادہ سینے کی جلن کم کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔
جو اِسی سنگدل سے ہر بار ملی تھی اُسے۔۔۔۔
“آر یو اوکے۔۔۔۔۔”
حمدان نے نگاہیں جھکا کر اُس کے لرزتے وجود کو دیکھا تھا۔۔۔۔ جو خوف کی وجہ سے کانپ رہا تھا یا اُس کی قربت کی وجہ سے وہ اندازہ نہیں لگا پایا تھا۔۔۔۔
“بہت جلن ہورہی ہے۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے اپنی بھیگی پلکیں اُٹھا کر کمزور سی آواز میں اُسے اپنی تکلیف بتائی تھی۔۔۔۔
اُس کے لرزتے ہونٹ، گھنیری بھیگی پلکیں اِس وقت حمدان صدیقی کے بہت قریب تھے۔۔۔۔ اور اُن کی دلکشی کہیں نہ کہیں حمدان صدیقی کے دل پر اثر انداز بھی ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“یہاں بیٹھو۔۔۔۔ “
حمدان کے دل میں اِس لڑکی کے لیے چاہے جو کچھ بھی تھا۔۔ مگر اِس وقت وہ اِن سیاہ جھیل سی آنکھوں میں نجانے کیوں آنسو نہیں برداشت کر پایا تھا۔۔۔۔۔
وہ مہروسہ کو کرسی پر بیٹھا کر باہر سے فرسٹ ایڈ باکس لاتا اُس کے مقابل آن بیٹھا تھا۔۔۔۔
مہروسہ تو بس اپنا درد بھلائے اِس سنگدل انسان کا یہ مہربان رُوپ دیکھ رہی تھی۔۔۔ اُسے جو حمدان کے معافی مانگنے پر وہ اُس کا کوئی نیا پلان اور دھوکا لگا تھا۔۔۔ اِس وقت وہ ساری سوچ زہن سے جھٹکتی وہ حمدان صدیقی کے واقعی بدلنے پر یقین کر چکی تھی۔۔۔
وہ اُسے مہروسہ نہیں اُجالا مان چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کے ہاتھوں کی تکلیف تو کب سے ختم ہوچکی تھی۔۔۔۔ وہ یک ٹک دیوانہ وار نگاہوں سے حمدان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو بہت ہی احتیاط سے اُس کی بینڈیج کررہا تھا۔۔۔
حمدان نے جیسے ہی اپنے کام سے فارغ ہوتے سر اُوپر اُٹھایا تھا۔۔۔۔ نگاہوں کے تصادم پر مہروسہ نے گڑبڑاتے جلدی سے نگاہیں پھیر لی تھیں۔۔۔ اُس کا دل بہت زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔
جبکہ حمدان صدیقی سامنے بیٹھی لڑکی کی کیفیت نوٹ کرتا دل ہی دل میں ہنس دیا تھا۔۔۔۔ وہ ہر شے سے دھوکا کھا سکتا تھا۔۔۔ مگر مہروسہ کنول جن دیوانگی اور حسرت بھری نگاہوں سے اُسے دیکھتی تھی اُس سے وہ کیسے دھوکا کھاتا۔۔۔۔ ہر بار یہ لڑکی اُس کے ساتھ کھیل کھیلتی آئی تھی۔۔۔
مگر اب وہ اِسے اپنے کھیل میں اُلجھا کر اِسے اِس کے انجام تک لانے والا تھا۔۔۔۔
لیکن شاید وہ خود بھی اِس بات سے واقف نہیں تھا کہ یہ کھیل کس کی زندگی میں بربادی لکھنے والا تھا اور کسے سرخرو کرنے والا تھا۔۔۔۔۔
“کیا اب بھی جلن ہورہی ہے۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اُس کے دونوں ہاتھوں پر دوا لگا دی تھی۔۔۔۔ اُس کے سوال مہروسہ نے سر اثبات میں ہلانے پر ہی اکتفا کیا تھا۔۔۔۔
“اب کچھ دن ریسٹ کرنا۔۔۔ آؤ میں تمہیں تمہارے روم میں چھوڑ دوں۔۔۔۔”
حمدان مہروسہ کے قریب آتا اُسے سہارا دیتے بولا۔۔۔۔
مہروسہ کو لگا تھا کہ اِس شخص کی کیئر پر کسی بھی لمحے اُس کا ہرٹ فیل ہوجائے گا۔۔۔۔
“اللہ جی۔۔۔ یہ سب کیا ہورہا ہے میرے ساتھ۔۔۔ آخر اِس شخص کو ہوا کیا ہے۔۔۔۔ آج تک بڑے بڑے خطرناک مشن کیے ہیں۔۔۔ مگر اِس مشن سے خطرناک کبھی کوئی نہیں لگا۔۔۔۔”
مہروسہ کو اپنا دائیاں پہلو سلگھتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ یہ شخص اُس کے ساتھ جو بھی کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔ وہ بہت ہی جان لیوا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“ماما آپ دونوں ٹھیک ہیں نا۔۔۔۔؟؟ اُنہوں نے آپ لوگوں کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا نا۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نجانے کتنی بار نجمہ بیگم اور صبا کو گلے سے لگا کر اُن کے صحیح سلامت ہونے کا یقین کرچکی تھی۔۔۔۔
“ہم بالکل ٹھیک ہیں میری جان۔۔۔۔ اللہ بس اُس بچے کو سلامت رکھے۔۔۔ جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہمیں وہاں سے نکلا۔۔۔۔ “
نجمہ بیگم جب سے آئی تھیں۔۔۔۔ حازم کی تعریفیں کرتے نہیں تھک رہی تھیں۔۔۔۔ جبکہ حبہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
اُس کا بس نہیں چل رہا اُنہیں اُس اچھے بچے کی ساری اصلیت بتا دے۔۔۔ مگر اُن دونوں کی کنڈیشن کے پیشِ نظر وہ اُنہیں مزید خوفزدہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
“ویسے آپی آپ نے اُس آفیسر کا کبھی ذکر نہیں کیا۔۔۔۔ اتنا ڈیشنگ اور ہینڈسم بندہ ہے۔۔۔۔ دیکھنے میں تو آپ کا سینئر لگ رہا تھا۔۔۔”
صبا نے بھی اپنی رائے دی تھی۔۔۔۔ جس پر حبہ کا دماغ مزید کھول اُٹھا تھا۔۔۔
“فضول باتیں چھوڑو۔۔۔۔ اور جاؤ جاکر فریش ہوکر آؤ۔۔۔ میں کھانا لگواتی ہوں۔۔۔۔”
حبہ دانت پیستے بولی۔۔۔
“حبہ تم کسی دن اُس بچے کو ڈنر پر بلانا نا۔۔۔ مجھے اُس کا شکریہ ادا کرنا ہے۔۔۔۔”
حبہ بہت کوشش کے باوجود اُن دونوں کو اُس شخص کے سحر سے نہیں نکال پائی تھی۔۔۔
“اوکے ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں پوری کوشش کروں گی۔۔۔ اب پلیز اُس کا ذکر چھوڑیں اور فریش ہوکر کھانا کھا لیں۔۔۔”
حبہ آخر میں زچ ہوتے بولی۔۔۔۔
اُن دونوں کو روم میں بھیج کر وہ بھی اپنے روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ جب اُس کے ہاتھ میں موجود موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“سفیان تم ایسا کیسے کرسکتے ہو۔۔۔ تم پری کو کیسے وہاں غنڈوں کے بیچ چھوڑ کر آسکتے ہو۔۔۔۔ ؟؟” یاسمین بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا اپنے بیٹے کو منہ تھپڑوں سے لال کردے۔۔۔۔
باقی سب کا حال بھی کچھ ایسا تھا۔۔۔ ایک شہباز آفندی ہی تھے جنہوں نے سفیان کو کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔
پولیس اُس جگہ پہنچ چکی تھی۔۔۔ مگر پریسا کو وہاں کوئی اتا پتا نہیں تھا۔۔۔ نہ ہی اُس شخص کا جس نے پریسا کو غنڈوں سے بچایا تھا۔۔۔۔
“سر وہ باہر۔۔۔ باہر۔۔۔۔ پریسا میڈم۔۔۔”
وہ سب لوگ ڈرائینگ روم میں جمع تھے۔۔۔ جب گیٹ پر تعینات ملازم اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
پریسا کے نام پر سب اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ اُس کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی جب شاہ ویز سکندر پریسا کو بانہوں میں اُٹھائے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
اُس کا حلیہ بالکل تبدیل ہوچکا تھا۔۔۔
بڑی بڑی مونچھوں اور داڑھی کے نیچے اُس کا چہرا بالکل بھی پہنچانا نہیں جارہا تھا۔۔۔ جس پر اُس نے الگ سے سکنی ماسک چڑھا کر۔۔ اُوپر یہ داڑھی مونچھیں لگائی تھیں۔۔۔۔
جنہوں نے اُسے دیکھ رکھا تھا وہ بھی اُسے نہیں پہچان سکتے تھے۔۔۔۔ اور یہ لوگ تو ویسے بھی اُس کی صورت سے ناواقف تھے۔۔۔۔
“پری۔۔۔ پری میری جان۔۔۔۔”
یاسمین بیگم تڑپ کر آگے بڑھی تھیں۔۔۔۔
شاہ ویز نے آگ اُگلتی نگاہوں سے سفیان کو دیکھتے آگے بڑھ کر پریسا کو صوفے پر لٹا دیا تھا۔۔۔۔ پریسا کو اُس نے پوری طرح سے اُس کے دوپٹے اور اپنی جیکٹ سے کور کر رکھا تھا۔۔۔۔
سب گھر والوں کی نظریں شاہ ویز سکندر پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔
“بیٹا آپ ہی وہ۔۔۔۔”
شہباز آفندی فوراً واپس پلٹتے شاہ ویز کے قریب آئے تھے۔۔۔۔۔۔
“جی۔۔۔ میں وہاں سے گزر رہا تھا۔۔۔ اِن کو مشکل میں دیکھا تو مدد کے لیے آگیا۔۔۔۔ “
شاہ ویز کا انداز ہنوز سرد و سپاٹ تھا۔۔۔۔
“آپ نے ہماری بیٹی کو بچا کر ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔۔۔۔ جسے ہم زندگی بھر نہیں بھول پائیں گے۔۔۔۔”
شہباز آفندی تشکر بھرے لہجے میں بولے تھے۔۔۔
“میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔۔۔۔ بس آپ اپنے بیٹے کو تھوڑی غیرت سیکھا دیں۔۔۔۔ اپنی عزت کو دوسروں کے ہاتھ چھوڑ کر اپنی جان بچا کر بھاگ نکلنا مردانگی کے زمرے میں نہیں آتا۔۔۔۔”
شاہ ویز نے ایک قہر برساتی نظر پریسا کی جانب بڑھتے سفیان پر ڈالتے اُس کے قدم وہیں روک دیئے تھے۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔