Jaan e Sitamgar By Farwa Khalid Readelle50120 Last Episode Pt.3
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Pt.3
جنید پریسا کی دی گئی ہدایت کے مطابق اُس کے بتائے گئے مال میں داخل ہوچکا تھا۔۔۔ آج زندگی میں دوسری بار وہ لیڈیز شاپنگ کررہا تھا۔۔۔
جب اچانک مُڑتے وہ کسی لڑکی سے بُری طرح ٹکرا گیا تھا۔۔۔۔
“آؤچ۔۔۔ اندھے ہو کیا؟ دکھائی نہیں دیتا تمہیں۔۔۔۔”
صبا کا بازو بہت زور سے جنید کے سینے سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔ وہ درد سے بلبلاتی سامنے کھڑے اُس لمبے چوڑے شخص کو گھورنے کے لیے جیسے ہی پلٹی سامنے کھڑے جنید کو دیکھ اُس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو مزید بڑا کرتے اُسے کھا جانے والی خونخوار نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔
جنید اِس وقت سیاہ سن گلاسز اور نقلی مونچھیں لگائے اُسی دن والے حلیے میں تھا جس میں وہ پہلے بھی ایک بار اِس سر پھری لڑکی سے ٹکرا چکا تھا۔۔۔
“تم وہی ہو نا جس نے پچھلی بار مجھے چھیڑا تھا۔۔۔۔”
صبا بھی شاید ابھی تک اُسے بھول نہیں پائی تھی۔۔۔ اور آج بھی یہی سمجھ رہی تھی کہ جنید نے اُس دن اُسے چھیڑنے کے لیے ہی انگوٹھی کا سائز پوچھا تھا۔۔۔
” جی میں وہی بندہ نا چیز ہوں۔۔۔ کوئی مسئلہ ہے آپ کو۔۔۔۔۔”
جنید اُس کو لڑاکا عورتوں کی طرح آنکھیں نکالتے لڑنے کو تیار کھڑا دیکھ اب کی بار میدان میں آیا تھا۔۔۔
یہ چھوٹی سی لڑکی اُسے بہت ہی دلچسپ لگی تھی۔۔۔ جسے شاید لڑنے کا بہت شوق تھا۔۔۔ اور وہ تو ویسے ہی لڑائی میں ماہر تھا۔۔۔ تو دونوں کی اچھی نبھنے والی تھی۔۔۔
“تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔۔؟؟؟”
صبا نے اُسے گھورتے انتہائی بے تکا سوال کیا تھا۔۔۔
“کرکٹ کھیلنے آیا ہوں۔۔۔ آپ کھیلیں گی میرے ساتھ۔۔۔”
جنید نے سینے پر بازو باندھتے طنزیا لہجے میں جواب دیتے اُسے بھی آفر کی تھی۔۔۔
“میرے کہنے کا مطلب ہے تم یہاں لیڈیز بوتیک میں کیا کررہے ہو۔۔۔؟ کتنی گرل فرینڈز ہیں تمہاری جنہیں گفٹ دیتے نہیں تھکتے تم۔۔۔۔”
صبا بنا شرمندہ ہوتے اگلا سوال کر گئی تھی۔۔۔
“توبہ استغفراللہ کیسی باتیں کررہی ہیں آپ۔۔۔ میں اُس دن اپنی بہنوں جیسی باس کے لیے شاپنگ کرنے آیا تھا اور آج اپنی بھابھی کے لیے۔۔۔۔ ویسے لگتا ہے آپ یہاں لوگوں سے انکوائری کرنے آئی ہیں کہ وہ اِس شاپنگ مال میں کیوں موجود ہیں۔۔۔۔”
جنید نے مشکوک نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھتے کہا تھا۔۔۔۔
اُس کی بات اور گہری نگاہوں پر صبا لمحے بھر کو بوکھلا گئی تھی۔۔۔ اور اِسی لمحے جنید کی چھٹی حس نے کچھ غلط ہونے کا الارم دیا تھا۔۔۔
اُس دن جو لڑکی اُس کے پاس ایک سیکنڈ بھی نہیں رکی تھی۔۔۔ آج وہ اُس کے سامنے روکاوٹ بنی سوال پر سوال داغ رہی تھی۔۔۔
“کون ہو تم۔۔۔۔؟؟”
جنید ایک دم الرٹ ہوتا اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جب اُسی لمحے حمدان جلدی سے صبا کے آگے آکر ڈھال بنتا جنید کے قدم وہیں جکڑ گیا تھا۔۔۔
“میری چھوٹی بہن ہے۔۔۔ میرے کہنے پر ہی تمہیں روک کر رکھا۔۔۔ ویسے اپنے لیڈرز کی طرح تم بھی کافی ذہین ہو۔۔۔ سب آسانی سے سمجھ جاتے ہو۔۔
شکریہ گڑیا۔۔۔۔۔”
حمدان صبا کا شکریہ ادا کرتا اُسے وہاں سے جانے کا بول گیا تھا۔۔۔ جاتے جاتے صبا نے پلٹ کر جنید کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
جو اُسے سُرخ نگاہوں سے دیکھتا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں قتل کر دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
صبا کو ایک دم اُس سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔ وہ جلدی سے چہرا موڑتی وہاں سے پلٹ گئی تھی۔۔۔
“آپ میری مہرو میم کو مار کر اب مجھے مارنا چاہتے ہیں۔۔۔ ہمیں موت سے ڈر نہیں لگتا صاحب۔۔۔ آپ جتنی چاہیئں گولیاں اُتار دیں میرے سینے میں۔۔۔ مگر ایک بات یاد رکھیئے گا کہ آپ جو پہلے کر چکے ہیں اور جو اب کرنے والے ہیں اِس سے آپ کو کبھی سکون نہیں مل پائے گا۔۔۔ کیونکہ آپ نے ایک بے گناہ انسان کو بہت بے دردی سے مارا ہے۔۔۔ اُس کی محبت آپ کو کبھی چین نہیں لینے دے گی۔۔۔۔”
حمدان کو دیکھ جنید کو مہروسہ کی تکلیف کی شدت سے یاد آئی تھی۔۔۔
وہ جسمانی طور پر تو کافی بہتر ہوچکی تھی۔۔۔ مگر زہنی طور پر ابھی تک سکون میں نہیں آ پارہی تھی۔۔۔ وہ ایس پی حمدان صدیقی کو بھلا پانے میں ناکام ہورہی تھی۔۔۔
اکثر نیند میں وہ حمدان کا خود پر گولی چلانے والا منظر یاد کرکے ڈر کر اٹھ جایا کرتی تھی۔۔۔ وہ اپنی زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ بھول ہی نہیں پارہی تھی۔۔۔ جس میں اُس کی زندگی کے عزیز ترین انسان نے اُس پر گولیاں چلائی تھیں۔۔۔
“مجھے میری بیوی سے ملنا ہے۔۔۔”
جنید کی اتنی ساری باتوں کے جواب میں حمدان مختصراً بولا تھا۔۔۔
جو سنتے جنید لمحہ بھر کو ہڑبڑا گیا تھا۔۔۔ اُس کی یہ حرکت حمدان نے باخوبی نوٹ کی تھی۔۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟ جو انسان اِس دنیا میں ہی نہیں ہے آپ کیسے مل سکتے ہیں اُس سے۔۔۔۔”
جنید نے اپنے لہجے ہو پختہ بناتے صفائی سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔
“تم لوگوں کو کیا لگتا ہے۔۔۔ تم بولو گے اور میں مان جاؤں گا۔۔۔ مہروسہ بیوی ہے میری۔۔۔ سب سے زیادہ حق میرا ہے اُس پر۔۔۔۔ اُسے تم لوگ مجھ سے یوں چھپا کر نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔”
حمدان کا چہرا غصے سے لال ہوا تھا۔۔۔
“آپ اپنی اُسی بیوی پر اپنے ہاتھوں گولیاں چلا کر مار چکے ہیں اُسے۔۔۔ “
جنید اُسے کسی قیمت پر مہروسہ کے حوالے سے نہیں بتا سکتا تھا۔۔۔ ورنہ مہروسہ اُس کے سینے میں گولیاں اُتار نے سے ایک پل کے لیے بھی گریز نہ برتتی۔۔۔ مہروسہ نے اتنی سختی سے اُن سب کو دھمکا رکھا تھا۔۔۔
“اور اب اگر تم نے دوبارہ میری بیوی کے بارے میں اپنے منہ سے ایسی بکواس نکالی تو اُس فانوس پر لٹکا کر تمہیں گولیوں سے بھون دونگا۔۔۔۔ “
حمدان اِس سے زیادہ نرمی سے بات نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔ اُسے ایک دم غصے میں آتے دیکھ جنید نے بے چارگی سے اُسے دیکھا۔۔۔
جنید کو آگے حمدان نامی کنواں اور پیچھے مہروسہ نامی کھائی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ اُس کی باس لیڈی کے یہ ایس پی صاحب جھوٹ پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔۔۔ اور سچ بولنے پر مہروسہ نے اُسے بلیک ہاؤس میں گھسنے نہیں دینا تھا۔۔۔
جنید بُری طرح پھنس چکا تھا۔۔۔
مگر اُس نے حمدان کا بدلہ بدلہ انداز بہت اچھے سے نوٹ کیا تھا۔۔۔
اگر حمدان چاہتا تو ابھی اُسے گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن میں ٹارچر کرکے اُس کے لیڈرز کو بلیک میل کرسکتا تھا۔۔۔ وہ اِس ایس پی کی دہشت سے بھی بہت اچھی طرح واقف تھا۔۔۔
“آپ کو تو نفرت تھی نا مہروسہ میم سے۔۔ پھر اب اُن سے ملنے کے لیے اتنا کیوں تڑپ رہے ہیں۔۔۔ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ آپ اپنی سب سے بڑی دشمن کو مات دے چکے ہیں۔۔۔ “
جنید نے اُس کو جانچتی نگاہوں سے دیکھتے پوچھا تھا۔۔۔
جب اُسے اپنے سوال کے جواب میں حمدان کی آنکھوں میں درد لکیریں نمایاں ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
“میں اِس وقت کتنی اذیت میں ہوں اِس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔۔۔ تم میری مدد نہیں کرنا چاہتے مت کرو۔۔۔ جب میں یہ پتا لگوا چکا ہوں کہ میری بیوی زندہ ہے۔۔ تو یہ بھی پتا لگوا لوں گا کہ وہ کہاں ہے۔۔۔۔”
حمدان اُسے قہر بھری نگاہوں سے دیکھتا پلٹا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے جنید اپنے دل میں فیصلہ کر گیا تھا کہ اُسے کیا کرنا چاہیئے۔۔۔
حمدان کو مہروسہ کے لیے یوں تڑپتا دیکھ اُسے بہت خوشی ہوئی تھی۔۔۔ آخر کار اُس کی پیاری سی مہرو میم کی تکلیفیں بھی ختم ہونے والی تھیں۔۔۔۔
“حمدان سر ایک منٹ۔۔۔۔”
جنید اُسے پلٹتا دیکھ جلدی سے اُسکے آگے آیا تھا۔۔۔
“میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں صرف اِس لیے کہ آپ میری مہرو میم کو بہت زیادہ عزیز ہیں۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ نے اپنے ہاتھوں سے اُن پر گولیاں چلائی ہیں۔۔۔ وہ آپ سے نہ تو نفرت کر پائی ہیں اور نہ آپ کو بھول پائی ہیں۔۔۔۔ اور میں اُن کی وہ تڑپ نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ اِس لیے آج زندگی میں پہلی بار میں اپنے گینگ لیڈرز کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اُٹھانے جارہا ہوں۔۔”
جنید کی باتیں سنتے حمدان کی آنکھوں کی چمک واضح ہوئی تھی۔۔۔
اُس کی مہروسہ بالکل ٹھیک تھی۔۔۔ یہ خیال ہی اُس کے مردہ پڑے دل میں زندگی کی نئی روح پھونک گیا تھا۔۔۔
“تمہیں اپنے اِس فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہوگا۔۔۔ اور نہ ہی تمہارا کوئی گینگ لیڈر تمہیں کچھ کہے گا۔۔۔ یہ وعدہ ہے میرا تم سے۔۔۔۔”
حمدان مہروسہ سے ملنے کے لیے بے قرار سا ہوا تھا۔۔۔
وہ اُسے اپنے سینے میں بھینچ اپنی کب سے ساکت دھڑکنوں کا شور سننا چاہتا تھا۔۔۔
اپنے عشق میں پاگل اُس دیوانی لڑکی کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ ایس پی حمدان صدیقی کے لیے کتنی اہم ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
اُس کے بغیر ایس پی حمدان کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
اقبال کیانی کے فارم ہاؤس پر آج بہت اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا۔۔۔ جو بہت زیادہ حساس بھی تھی۔۔۔ جس میں اُن کے دھندے میں ملوث تمام اہم لوگ شامل تھے۔۔۔۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ عوام کے سامنے سفید پوش، پرہیزگار اور معزز بن کر آنے والے اُن کے سیاسی لیڈرز کی اصل حقیقت کیا تھی۔۔۔
ملک کو لوٹ کھسوٹ کر آدھی سے زیادہ عوام کو غربت کی لکیر سے بھی بہت نیچے لے گئے تھے۔۔ مگر اُن کے جھوٹے وعدوں کے آگے عوام لٹ پٹ جانے کے بعد بھی۔۔ آج بھی اُن حرام خوروں سے کچھ اچھا ہوجانے کی اُمید لگائے بیٹھی تھی۔۔۔
کیونکہ اُن کے سامنے ابھی تک اِن لوگوں کے اصلی چہرے نہیں آپائے تھے۔۔۔
جو بہت جلد بلیک سٹارز لانے والے تھے۔۔۔ جس بات کا اندازہ اُن سب کو پہلے سے ہوچکا تھا۔۔۔
اور تب سے وہ سب ہاتھ دھو کر بلیک سٹارز کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔۔۔
“اقبال کیانی دس از ناٹ فیئر۔۔۔ میرا انتظار کیے بغیر ہی میٹنگ کا آغاز کردیا آپ نے۔۔۔”
سب لوگ میٹنگ روم میں موجود تھے۔۔۔ جب وہاں ایک نسوانی آواز گونجی تھی۔۔۔ سب نے گردنیں موڑ کر دروازے میں کھڑی مریم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“ارے آپ کو کیسے بھول سکتے ہیں۔۔۔ آپ تو ہماری پارٹی کی جان ہیں۔۔۔ ہم آپ ہی کا ویٹ کررہے تھے۔۔۔ کیونکہ آج کی یہ میٹنگ آپ ہی کے لیے تو رکھی گئی ہے۔۔۔ جی تو دوستوں آج اِس میٹنگ میں ہمیں ساری بریفنگ اور آگے اختیار کیے جانے والے لائحہ عمل کے بارے میں مریم ہی آگاہ کریں گی۔۔۔ یہ بلیک سٹارز کو بہت قریب سے جان چکی ہیں۔۔۔ اور ایک بلیک سٹار کا خاتمہ بھی اِنہیں نے ہی کیا ہے۔۔۔ اور باقی دو تک بھی یہی ہمیں پہنچائیں گی۔۔۔
آج یہ اُنہیں کا ڈیٹا لے کر آئی ہیں۔۔۔۔”
اقبال کیانی نے نہایت ہی فخریہ انداز میں مریم کا تعارف سب سے کروایا تھا۔۔۔
وہ سب جانتے تھے کہ اقبال کیانی اِس عام سی لڑکی کی اتنی خوشامد کس لیے کررہا ہے۔۔۔ اِس وقت اُسے صرف اقتدار کی کرسی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ جسے پانے کے لیے وہ کسی کے بھی تلوے چاٹنے کو تیار تھا۔۔۔
مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اُس کرسی تک پہنچنے سے پہلے اُس کے سامنے بلیک سٹارز نامی تلوار لٹک رہی تھی۔۔۔۔ جسے ختم کرنے کے بعد ہی وہ آگے بڑھ سکتا تھا۔۔۔اور اُن تینوں کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔
مریم کا کارنامہ دیکھ وہ اُسے اتنی اہمیت دے رہا تھا۔۔۔
“میری ایک بات یاد رکھنا اقبال کیانی تمہیں کرسی چاہیے اور مجھے پریسا آفندی۔۔۔ اُسی کی وجہ سے میں تمہارا ساتھ دے رہا ہوں۔۔۔ پریسا بلیک سٹارز کے پاس ہے۔۔۔ اُن کے ختم ہوتے ہی پریسا کو میرے حوالے کرنا ہوگا۔۔۔ تب ہی تم کرسی تک پہنچ پاؤ گے۔۔۔ “
فیصل بخشی نے کئی بار کی کی بات ایک بار پھر سے اقبال آفندی کو یاد دلوائی تھی۔۔۔
“فکر مت کرو۔۔۔۔ وہ لڑکی بہت جلد تمہارے قبضے میں ہوگی۔۔۔۔۔ “
اقبال کیانی کو پورا یقین تھا۔۔۔ اُس کے مطابق وہ جو گیم کھیلنے والا تھا اُس سے بلیک سٹارز کا بچ پانا ناممکن سی بات تھی۔۔۔۔
اُس کی اِسی بات پر اُس کی پارٹی کا ہر لیڈر یقین کیے ہوئے تھا۔۔۔۔ وہ سب ایک ہی قماش کے تھے۔۔۔ اُن کا مقصد صرف ملک کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھرنا تھا۔۔۔ جس میں دوسرا کیا کررہا تھا۔۔۔ کس برائی میں ملوث تھا اُنہیں کوئی خبر نہیں تھی۔۔۔۔
مریم اُن سب کے بیچ کرسی پر آن بیٹھی تھی۔۔۔ مہروسہ کو مارنے کے اعزاز میں اقبال کیانی نے اُسے اپنی پارٹی کا ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا تھا۔۔۔
جس بات پر وہ بے پناہ خوش تھی۔۔۔ اُسے ابھی بھی کہیں نہ کہیں اُمید تھی کہ حمدان صدیقی کو وہ اب بھی اپنی جانب مائل کرسکتی ہے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“حازم پلیز۔۔۔۔”
حازم کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے حبہ لرز اُٹھی تھی۔۔۔ حازم نے ایک بات نوٹ کی تھی۔۔۔ کہ اُس نے اپنے ہاتھ آزاد کرنے کے سوا اُس کے لمس سے بچنے کے لیے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔ تمہاری نفرت کی وجہ سے میں نے تم سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔۔۔ تو ایسی کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔۔۔ تم حازم سالار کے لیے بہت امپورٹنٹ ہو۔۔۔ اب سے نہیں اُس وقت سے جب تمہیں اپنا ہوش تک نہیں تھا۔۔۔ تمہیں اُس دن سے میں نے اپنی ملکیت مانا ہے جس دن تم گلابی فراک میں دروازے کے ساتھ لگی نازک سی باربی کی طرح کھڑی مجھے روتے دیکھ خود بھی رو رہی تھی۔۔۔۔
اور پھر معاشرے کے ظالم لوگوں کے جانے کے بعد جب میں اپنی بہنوں کی تکلیف میں اکیلا بیٹھا رو رہا تھا۔۔۔ تب بھی اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میرے آنسو صاف کرتی اصل حقیقت سے انجان تم میری باربی ڈول بن کر میرے غم میں شریک تھی۔۔۔۔
اُس دن سے میں نے سوچ لیا تھا۔۔۔ تم پر حق ہوگا تو صرف میرا۔۔۔ میرے آنسو پونچھنے کا اختیار ہوگا تو صرف تمہارے پاس۔۔۔ میرا غم دور کرنے کی وجہ ہوگی تو صرف تمہاری دلکش معصومیت بھری مسکراہٹ۔۔۔ تمہارے دل و دماغ پر حکمرانی ہو گی تو صرف میری۔۔۔ میرے دل کی ملکہ بننے کا حق ہوگا تو صرف تمہارے پاس۔۔۔ “
حازم آج پہلی بار پورے دل سے اپنی محبت کا اظہار کرتا حبہ کی پیشانی پر اپنے لب رکھ گیا تھا۔۔۔
حبہ نے مسمرائز سی اُس کی محبت کے سحر میں جکڑی کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
اُسے محسوس ہورہا تھا جیسے اُس کی زندگی اِن روح افزاء الفاظ پر ہی اٹک کر رہ گئی تھی۔۔۔
اُسے اب مزید اپنی زندگی سے کچھ نہیں چاہیئے تھا۔۔۔
“اگر اتنی ہی محبت کرتے تھے تو اتنا عرصہ دور کیوں رہے مجھ سے۔۔۔۔ “
حبہ کی آنکھوں سے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر نیچے گر رہے تھے۔۔۔ وہ اُس سے لڑنا چاہتی تھی۔۔ اپنے غصے کا اظہار کرنا چاہتی تھی۔۔۔
اُس سے اپنے بابا کی ڈیتھ کی وجہ جاننا چاہتی تھی۔۔۔ مگر یہ شخص ہمیشہ وہیں کرتا تھا جو وہ چاہتا تھا۔۔۔ اِس وقت بھی وہ اُس کے کسی سوال کا بھی جواب دیئے بغیر اُسے اپنی محبت بھری دنیا میں داخل کرتا ہر شے بھولنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں ہی بھول چکے تھے کہ اِس وقت وہ ایک دوسرے کے سامنے ایک دوسرے کے دشمن کے روپ میں کھڑے تھے۔۔۔۔
اُن دونوں کا یاد رہا تھا تو بس اتنا کہ وہ ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔۔۔
“میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی حازم سالار۔۔۔ تم مجھے ایک بار پھر چھوڑ کر چلے جاؤ گے۔۔۔ جیسے آج تک کرتے آئے ہو۔۔ تم نے بار بار میرا دل توڑا ہے۔۔۔ ہر بار اپنی مہربان قربت کی زرا سی جھلک دکھا کر مجھ سے بہت دور چلے جاتے ہو تم۔۔۔ میں اب کی بار اعتبار نہیں کروں گی تم پر۔۔۔۔”
حبہ اُس کے حصار سے نکلتی اُسے خود سے دور دھکیل گئی تھی۔۔۔ حازم نے اُس کے بہتے آنسوؤں کو بچارگی سے دیکھا تھا۔۔۔
وہ اُسے سب سچ بتانا چاہتا تھا۔۔۔
مگر وہ اُسے تکلیف میں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ نہ ہی اُس مقام پر اُسے ٹوٹتا دیکھ سکتا تھا۔۔۔ جب وہ خود اُس کے قریب نہیں تھا۔۔۔ نہ ہی اِس وقت اُس کا سہارا بن سکتا تھا۔۔۔
“میں اپنی ڈیوٹی سے بے دیانتی نہیں کرسکتی۔۔۔ تم اِس طرح مجھے کمزور کرکے اپنا کام نہیں نکلوا سکتے۔۔۔ میں تمہیں بہت اچھے سے سمجھ چکی ہوں حازم سالار۔۔۔ تم ایک بلیک سٹار ہو تمہارا دماغ نارمل لوگوں کے دماغوں کے جیسا بالکل نہیں چلتا۔۔۔۔ تم یہ محبت کا ناٹک کرکے میرے ساتھ پھر کوئی کھیل کھیلنا چاہتے ہو۔۔۔”
حبہ خود کو اُس کے سحر سے نکالنے کی کوشش کرتی مضبوط لہجے میں بولی تھی۔۔
وہ اِس شخص کی چالاکیوں سے بہت اچھی طرح واقف تھی۔۔۔
“میری محبت کھیل نہیں ہے ایس پی حبہ۔۔۔ اور نہ آج تک میں تمہارے ساتھ کوئی کھیل کھیل پایا ہوں۔۔۔ جس دن کھیلا اُس دن تم سمجھ بھی نہیں پاؤ گی مائی لو۔۔۔”
حازم نے اپنی پاکٹ سے ایک نہایت ہی خوبصورت سا باریک بریسلیٹ نکالا تھا۔۔۔
“یہ کس کے لیے ہے۔۔۔؟؟”
حبہ جو وہاں سے نکلنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ اُس کے ہاتھ میں کسی لڑکی کا بریسلیٹ دیکھ وہ ٹھٹھک کر رکتی مزید قدم آگے نہیں بڑھا پائی تھی۔۔۔
“میری گرل فرینڈ کا۔۔۔ “
حازم اُس کے سوال کے جواب ميں جل کر بولا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے طنز کو سچ سمجھتی حبہ غصے سے جل بھن گئی تھی۔۔۔
“ہاں گرل فرینڈ کے جو ڈھیر لگا رکھے ہیں تم نے اپنے بلیک ہاؤس میں۔۔۔ بیوی کی بھلا کہاں ضرورت ہوگی۔۔۔”
اُس نے شدید غصے کے عالم میں پاس رکھی کرسی اُٹھا کر حازم کے پیر پر دے ماری تھی۔۔۔
جو حازم کو بہت زور سے لگی تھی۔۔۔
“پہلے لوگوں کی زبانی سنا تھا کہ اُن کی بیوی سے پٹائی ہوتی ہے۔۔۔ آج تو میرے ساتھ ہی ہوگیا۔۔۔ ایس پی کچھ شرم کر لو بلیک سٹار ہوں میں۔۔۔ ایک دنیا ڈرتی ہے مجھ سے۔۔۔ “
حازم اُس کے تیور دیکھ بریسلٹ واپس اپنی پاکٹ میں ڈال چکا تھا۔۔۔ حبہ کا یہ خونخوار جنگلی بلی جیسا رُوپ اُسے بے پناہ پسند تھا۔۔۔
بریسلٹ کا بتا کر وہ یہ دلفریب منظر ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
“دنیا ڈرتی ہے۔۔۔ مگر ایس پی حبہ اُس دنیا میں شامل نہیں ہے۔۔۔۔”
حبہ نے اپنی پاکٹ سے گن نکالتے اُس پر تانی تھی۔۔۔
“میری پوری فورسز تمہیں پکڑنے کے لیے دن رات کا ہوش بھلائے سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی ہے۔۔۔ اور تم یہاں پولیس اسٹیشن میں بڑی شان و شوکت سے موجود ہو۔۔۔ میں تمہیں اب یہاں سے نہیں جانے دوں گی۔۔۔۔”
حبہ اُس کی راہ میں حائل ہوتی دیوار بنی کھڑی تھی۔۔۔
“میرے لوگوں کو چھوڑ دو۔۔۔۔ پھر تمہارے کہنے پر پھانسی بھی چڑھ جاؤں گا۔۔۔۔”
حازم کی بات پر حبہ کے ہاتھ میں تھامی گن لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“نہیں چھوڑوں گی میں۔۔۔ تم بہت شاطر ہو۔۔۔ تم بھاگ جاؤ گے۔۔۔۔”
حبہ نے سختی سے انکار کیا تھا۔۔۔
“اُن کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔ نہ اُن میں سے کسی پر بھی کوئی جرم ثابت ہوا ہے۔۔۔۔ تمہارا اور تمہاری فورسز کا قصور وار میں ہوں۔۔۔ مجھے گرفتار کرنے پر تمہارے سیاسی لیڈر بھی شاباشی دیں گے تمہیں۔۔۔ میں خود کو پیش کررہا ہوں تمہارے سامنے۔۔۔۔ میرے آدمیوں کو چھوڑ دو۔۔۔۔”
حازم اُس کی نازک کمر میں بازو حمائل کرکے اُسے ایک بار پھر اپنے قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔
“اور اگر تم اپنی بات پر قائم نہ رہے تو؟ “
حبہ مشکوک ہوئی تھی۔۔۔ حازم کے قریب کرنے پر حبہ کے ہاتھ میں موجود گن حازم کے سینے سے آن ٹکرائی تھی۔۔۔
جو دیکھ لمحے بھر کو حبہ کا دل دہل گیا تھا۔۔۔
“آزما کر دیکھ لو۔۔۔۔ کہا بھاگوں گا اور کتنا بھاگوں گا۔۔۔۔ آنا تو ایک دن تمہارے پاس ہی ہے نا۔۔۔۔”
حازم کی نگاہیں اُس کے صبیحہ چہرے سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔۔۔
“میں تمہارے بابا کا قاتل ہوں۔۔۔ مجھے گرفتار کرکے تم اپنا بدلہ بھی پورا کر سکتی ہو۔۔۔۔ “
حازم کی بات پر حبہ کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔۔ یہ شخص آخر کو اتنا ظالم کیوں تھا۔۔۔ کیوں اُس کی اذیت نہیں سمجھتا تھا۔۔۔
اُس کے بابا جو اُس کی زندگی کے آئیڈیل اُس کی پہچان تھے۔۔۔۔ اور یہ سامنے کھڑا شخص جس کا اُس نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں انتظار کیا تھا۔۔۔
جو اُس کی پوری زندگی تھا۔۔۔ جس کے بغیر اُس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں تھا۔۔۔ وہی اُس کے بابا کا قاتل نکلا تھا۔۔۔۔
حبہ اپنے بابا کے قاتل کو سزا نہ دے کر اُن کے ساتھ ناانصافی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ میں تمہارے لوگوں کو آزاد کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ تمہیں مجھے گرفتاری دینی ہوگی۔۔۔۔”
حبہ نے تکلیف سے دو ٹکڑے ہوتے دل کے ساتھ یہ الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔
“تھینکس مائی لو۔۔۔۔ اب تم صحیح مجرم کو گرفتار کرو گی۔۔۔۔”
حازم اُس کی لال ہوتی پھولی ناک پر لب رکھتا حبہ کا چہرا لال کر گیا تھا۔۔۔۔
جب اُسی لمحے حبہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اُس کے گال پر بکھرا تھا۔۔۔ جسے بے مول ہونے سے پہلے ہی حازم نے اپنے ہونٹوں پر چن لیا تھا۔۔۔۔
“اگر زندگی نے مہلت دی تو بہت جلد میں تمہاری ساری تکلیفیں دور کر دوں گا میری زندگی۔۔۔ تمہاری اذیت کی وجہ میں خود ہوں۔۔۔ یہ سوچ کر ہی دل تکلیف سے بھر جاتا ہے۔۔۔۔ “
حازم اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو ہونٹوں سے چھوتا حبہ کی سانسیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔۔ اُس کا یہ شدت بھرا جارحانہ لمس محسوس کرتے حبہ کا پورا وجود لرزنے لگا تھا۔۔۔
مگر اِس وقت وہ بنا کوئی مزاحمت کیے اِس شخص کا لمس محسوس کرتی اپنے تڑپتے دل کو سکون پہنچانے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔۔
حبہ نہیں سمجھ سکی تھی کہ حازم سالار نے اپنی گرفتاری دے کر اپنے لوگوں کو کیوں بچایا تھا۔۔۔ اور وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اُس کا اُٹھایا یہ قدم آگے چل کر اُس کے لیے ہی کتنی تکلیف کا باعث بننے والا تھا۔۔۔
بلیک سٹارز کی سوچ کو آج تک کوئی نہیں پڑھ پایا تھا۔۔۔ ہمیشہ سب لوگ ہی اِس بات پر حیران رہتے تھے کہ اگر بلیک سٹارز ملک دشمن تھے تو وہ کچھ مخصوص لوگوں کو ہی نقصان کیوں پہنچاتے تھے۔۔۔
اُنہوں نے آج تک پولیس والوں پر ہتھیار نہیں اُٹھائے تھے۔۔۔ اکثر وہ خود زخمی ہوجاتے تھے۔۔ مگر کبھی پولیس والوں کو نہیں مارا تھا۔۔۔ اُن کے لیے اپنے آدمیوں کی جانے اتنی قیمتی تھیں کہ اپنے لوگوں پر آنچ بھی نہیں آنے دیتے تھے۔۔۔۔ کئی بار حازم، شاہ ویز اور مہروسہ نے اپنے لوگوں کو بچاتے اپنے وجود پر گولیاں کھائی تھیں۔۔۔۔
اُن کی یہی بات لوگوں کے دلوں میں اُن کے لیے نرم گوشہ پیدا کر چکی تھی۔۔۔ کیونکہ کئی جگہوں پر جہاں پولیس نہیں پہنچ پاتی تھی وہاں بلیک سٹارز پہنچ کر لوگوں کو ظلم و ستم سے بچاتے تھے۔۔۔۔
کئی غریب بیوہ عورتوں کے گھروں کا راشن بلیک سٹارز کی جانب سے ہی جاتا تھا۔۔۔ اُنہوں نے خود جس اذیت میں زندگی گزاری تھی۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتے تھے باقی لوگ بھی ایسے ہی رہیں۔۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ بہت سارے پولیس والے بھی اکثر اُن کا ساتھ دیتے نظر آتے تھے۔۔۔۔
بلیک سٹارز نے بہت سارے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا رکھا تھا۔۔۔۔ بلیک سٹارز صرف اُن لوگوں کے دشمن تھے جو اُن ملک کو تباہی کے دہانے کی جانے دھکیلتے اُسے لوٹ کر کھا رہے تھے۔۔۔
بہت جلد وہ اپنا سب سے بڑا مشن مکمل کرتے۔۔۔ ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کو بے نقاب کرنے والے تھے۔۔۔ جن کے خلاف اُن کے پاس سارے ثبوت موجود تھے۔۔۔
اُن لوگوں کو پہلے سے اِس بارے میں علم ہوچکا تھا۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ تمام فورسز کو بلیک سٹارز کے پیچھے لگا دیا گیا تھا۔۔۔ وہ سب لوگ گھٹ جوڑ کرکے ایک ساتھ بلیک سٹارز پر اٹیک کرچکے تھے۔۔۔
حازم اور شاہ ویز کو بھی کہیں نہ کہیں لگ رہا تھا کہ مہروسہ کو مارنے کے پیچھے حمدان نہیں بلکہ اُنہیں کے دشمنوں کا ہاتھ تھا۔۔۔
یا یہ بھی پاسبل تھا کہ حمدان بھی اُن سب کے ساتھ ملا ہوا ہو۔۔۔ مہروسہ کی وجہ سے وہ حمدان کے خلاف بھی کچھ نہیں کر پارہے تھے۔۔۔
حازم کے بنائے گئے پلان کے مطابق عمل کرتے حبہ نے اُس کے آدمیوں کو دوسری جیل میں لے جانے کے بہانے راستے میں ہی فرار کروا دیا تھا۔۔۔۔
اور ایک دوسری جگہ ریڈ کرتے اُن کے گینگ لیڈر حازم سالار کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔۔۔۔ حازم کا اصل چہرا ابھی بھی سامنے نہیں آسکا تھا۔۔۔۔
حازم نے داڑھی اور مونچوں کی مدد سے اپنے چہرے کی اصل شناخت چھپا لی تھی۔۔۔۔ جس بات پر حبہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔۔۔۔
حازم کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگاتے اُس کا دل کسی انہونی کے خوف سے لرز اُٹھا تھا۔۔۔ اُسے لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ بہت غلط کررہی ہے۔۔۔
حازم نے اُس سے یہی شرط رکھی تھی کہ گرفتاری تب ہی دے گا۔۔۔ جب حبہ اُسے گرفتار کرنے خود آئے گی۔۔۔۔
حازم کو گرفتار کرتے حبہ کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔۔۔۔ جو نوٹ کرتے حازم نے اُس کی جانب مسکرا کر دیکھتے آنکھ دبائی تھی۔۔۔
“تمہارے شوہر کو نقصان پہنچانے والا کوئی مائی کا لال ابھی پیدا نہیں ہوا۔۔۔۔ اِس لیے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ جلد ہی ملاقات ہوگی سویٹ ہارٹ۔۔۔۔”
حازم اُس کے کانوں میں سرگوشیانہ لہجے میں بولتا وہاں سے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
بلیک سٹار کی گرفتاری کا سن کر پورے سوشل میڈیا پر ہلچل مچ چکی تھی۔۔۔۔ لوگ اُس کی شناخت جاننا چاہتے تھے۔۔۔ اُسے دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔ اور کچھ سیاسی پارٹیز کے کارندے یہی چاہتے تھے کہ اِس بلیک سٹار کو سرعام پھانسی لگا دی جائے۔۔۔
یہ سب سنتے حبہ کا دل ہول رہا تھا۔۔۔۔
اُس کا دماغ بالکل ماؤف ہوچکا تھا۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی اُس نے ٹھیک کیا ہے یا غلط۔۔۔۔
مگر اُس کی چھٹی حس اُسے شدید غلط ہونے کا الارم دے رہی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“حمدان سر وہ سامنے کمرہ ہے مہرو میم کا۔۔۔ اب میری زندگی کی ڈور آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ “
جنید حمدان کو بلیک ہاؤس تک لے آیا تھا۔۔۔ اندر سے اُس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔۔۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ حمدان کو یہاں لاکر اُس نے ٹھیک کیا ہے یا نہیں۔۔۔ مگر اُسے حمدان کی آنکھوں میں آج سچائی نظر آئی تھی۔۔۔۔
اور مہروسہ کے لیے محبت بھی دکھی تھی۔۔۔ اِس لیے آج پہلی بار اُس نے اتنا بڑا رسک لیا تھا۔۔۔
حمدان خود کو اِس وقت دنیا کا سب سے زیادہ خوش قسمت انسان تصور کررہا تھا۔۔۔ جس کو اتنی بڑی غلطی کرنے کے بعد بھی ازالہ کرنے کے لیے دوسرا موقع دے دیا گیا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کے پاس شاہ ویز اور حازم نے فل ٹائم کے لیے نرسز کا انتظام کر رکھا تھا۔۔ تاکہ اُسے کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرسکے۔۔۔ مہروسہ کی ول پاور کافی سٹرانگ تھی۔۔۔ وہ جلدی جلدی ریکور کررہی تھی۔۔ اپنے زخموں کو۔۔۔
لیکن اُس کے دل و دماغ پر چھائی پژمردگی ہر گزرتے دن کے ساتھ اُس کی تکلیف میں اضافہ کررہی تھی۔۔۔ وہ جب بھی آنکھیں بند کرتی تھی۔۔۔ اُس سنگدل ایس پی کا تصور اُس کے دل و دماغ پر چھا جاتا تھا۔۔۔
وہ اپنے اُس جانِ ستمگر کو بھول جانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اِس معاملے میں بالکل بے بس ہوچکی تھی۔۔۔
اِس وقت بھی اپنے دماغ کو تھوڑا سا ریلیکس کرنے کے لیے اُس نے بک پڑھنے کا ارادہ کیا تھا۔۔۔
لیکن اِس شے میں بھی وہ پوری طرح سے ناکام ہوچکی تھی۔۔۔
جس کے بعد خود سے ہی زچ ہوتی وہ بک اپنے چہرے پر رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
“آئی ہیٹ یو ایس پی حمدان صدیقی آئی رئیلی ہیٹ یو۔۔۔۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو۔۔۔۔ “
مہروسہ روتے ہوئے با آواز بلند شکوہ کناں لہجے میں بولی تھی۔۔۔
اِس بات سے انجان کے جس سے وہ مخاطب تھی اُس تک یہ الفاظ باآسانی پہنچ چکے تھے۔۔۔
“بٹ آئی لو یو مائی بیوٹی فل گینگسٹر۔۔۔۔۔ “
حمدان کا بھاری لہجہ روم کی خاموش فضا میں گونجتا مہروسہ کے کانوں سے جاٹکرایا تھا۔۔
اُس نے اپنے چہرے سے بک ہٹاتے جھٹکے سے آواز کی سمت دیکھا تھا۔۔۔ اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ سامنے کھڑے ایس پی حمدان کو دیکھ مہروسہ کو روم کی ہر شے اپنی نگاہوں کے سامنے گھومتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
مہروسہ نے ایکدم اپنی جگہ سے اُٹھنا چاہا تھا۔۔۔ جب درد کے مارے اُس کے ہونٹوں سے کراہ نکلی تھی۔۔۔ اور وہ واپس تکیے پر جاگری تھی۔۔۔
تکلیف کے ساتھ ساتھ سامنے کھڑے دشمنِ جاں کو دیکھ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔
حمدان تیزی سے اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“وہیں رک جائیں ایس پی صاحب۔۔۔ میرے قریب آنے کی کوشش مت کیجئے گا۔۔۔ ورنہ خود کو یہ مار کر اپنی جان لے لوں گی۔۔۔۔ “
حمدان کو سامنے دیکھ مہروسہ کو اپنی ایک ایک اذیت یاد آگئی تھی۔۔۔ وہ اذیت اور گریہ زاری سے سوجی لال آنکھوں سے اُسے دیکھتی سائیڈ ٹیبل پر فروٹ کے ساتھ رکھی چھری اُٹھا کر اپنے پیٹ کی جانب لے جاتی اُسے خود سے دور رہنے کی دھمکی دے گئی تھی۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے پھوٹتے شرارے دیکھ حمدان اپنے قدم وہیں روک گیا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا غصے میں آکر یہ جذباتی لڑکی کوئی سنگین قدم اُٹھا سکتی تھی۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے تم یہ سب کرکے مجھے اپنے قریب آنے سے روک لو گی۔۔۔ تم میری ضد سے واقف ہو۔۔۔ اور میری شدت پسندی سے بھی۔۔۔۔”
حمدان اُس کی آنکھوں سے بہتے آنسو بے چینی سے دیکھتا سختی سے مُٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔ میں اب کبھی آپ کو خود کے قریب نہیں آنے دوں گی۔۔۔ اُس دن آپ کی اپنے لیے نفرت دیکھ میں میرے دل میں موجود آپ کی محبت بھی ختم ہوچکی ہے۔۔۔۔ اب میں آپ سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی ۔۔ ٹھیک ہوتے ہی سب سے پہلا کام آپ سے طلاق لینے والا ہی کروں گی۔۔۔۔۔”
مہروسہ آج پہلی بار حمدان کے سامنے یوں بول رہی تھی۔۔۔ جو دیکھ حمدان اندازہ لگا پاریا تھا کہ یہ پیاری سی لڑکی کتنی اذیت میں تھی۔۔۔
حمدان اِس وقت اُسے اپنے سامنے دیکھ اتنا خوش تھا کہ کچھ لمحوں کے لیے یہ فراموش کرگیا تھا کہ اِس لڑکی کو اُس نے اب تک کتنی اذیت دی تھی۔۔۔
لیکن مہروسہ کی آنکھوں سے قطار در قطار بہتے آنسو دیکھ اُسے اپنا ہر ستم یاد آنے لگ تھا۔۔۔۔
“پلاننگ بہت اچھی کی ہے تم نے۔۔۔ مگر افسوس کہ یہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائے گی۔۔۔۔ “
حمدان دھیرے دھیرے اُس کی جانب بڑھنے لگا تھا۔۔۔ مہروسہ اُسے سامنے دیکھ اِس وقت اتنی عجیب کیفیت کا شکار تھی کہ اُس کی یہ پیش قدمی نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔
“آپ پلیز چلیں جائیں یہاں سے مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔ “
حمدان اِس وقت فل سیاہ پینٹ شرٹ میں ملبوس سر پر سیاہ سکارف باندھے بالکل اُن کے گینگ کے حلیے میں کھڑا اُس کا دل آج بھی پوری شدت سے دھڑکائے جارہا تھا۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی حمدان اُس سے دور جائے۔۔
“اوکے تم خود کو مزید تکلیف مت دو۔۔۔ میں جارہا ہوں۔۔۔ اگر میرے سامنے آنے سے تمہیں اذیت ہوتی ہے تو میں اب کبھی تمہارے سامنے نہیں آؤں گا۔۔۔”
حمدان اُسے آنسوؤں میں بھیگتا دیکھ واپس جانے کے لیے پلٹا تھا۔۔۔ جبکہ مہروسہ جو غصے میں اُسے دور جانے کا کہہ رہی تھی۔۔۔ مگر دل سے وہ اُس سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔ اُسے ایک بار پھر سنگدلی کی انتہا کرکے یوں واپس جاتے دیکھ وہ اپنے آنسوؤں کے ریلے پر قابو نہیں رکھ پائی تھی۔۔۔
اور چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ اُسے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تھی۔۔۔ جسے کے ساتھ ہی اُسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
“آپ نہ پہلے کبھی مجھ سمجھ پائے ہیں نہ کبھی سمجھ سکیں گے۔۔۔۔ “
مہروسہ نے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے روتی آنکھوں کے ساتھ خالی کمرے کو دیکھا تھا۔۔۔ کچھ دیر پہلے جس جگہ پر حمدان کھڑا تھا وہ جگہ اپنا ویران پڑی تھی بالکل اُس کے دل کی طرح۔۔۔
“پہلے مجھے بھی یہی لگتا تھا۔۔۔ مگر اب لگتا ہے کہ مجھ سے بہتر تمہیں کوئی نہیں سمجھ سکتا۔۔۔۔”
اپنے کان کے قریب سے سنائی دیتی سرگوشی اور گرم سانسوں کے لمس پر مہروسہ نے فوراً سے گردن موڑ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
حمدان کہیں نہیں گیا تھا۔۔۔ وہ بیڈ پر اُس کے انتہائی قریب بیٹھا اُس کی جھیل سی سیاہ آنکھوں سے گرتے آنسوؤں کو تکے گیا تھا۔۔۔
“آپ۔۔۔”
مہروسہ نے اُسے اپنے اتنے قریب بیٹھے دیکھ دور کھسکنا چاہا تھا۔۔۔
جب حمدان اُس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتا اُسے ایسا کرنے سے روک گیا تھا۔۔۔۔
“پہلی بار ایسی روتی بسورتی گینگسٹر دیکھی ہے۔۔۔ جو بات بعد میں کرتی ہے۔۔۔ آنسو پہلے گرتے ہیں۔۔۔ ویسے یہ روپ لگتا ہے صرف میرے لیے ہی مختص ہے باقی لوگوں کو تو اپنی دہشت سے کافی خوفزدہ کررکھا ہے تم نے۔۔۔۔”
حمدان اُس کے ہاتھ کی پشت پر لب رکھتا مہروسہ کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ مجھ سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔۔۔ کہ بنا مجھ سے کسی بات کی وضاحت مانگے۔۔۔ پورا سچ سنیں مجھے سزا سنا دیں گے۔۔۔”
مہروسہ اُس سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اِس دشمنِ جاں کو سامنے دیکھ شکوے کے ساتھ ساتھ اُس کے ہونٹوں سے سسکی نکلی تھی۔۔۔۔
“اور مجھے بھی نہیں لگا تھا کہ تم مجھ سے اتنی محبت کرتی ہو گی۔۔۔ کہ اپنے لوگوں کو۔۔ اپنے ساتھی بلیک سٹارز کو چھوڑ کر مجھ سے خطرا ہونے کے باوجود میرے پاس رہنے کو ترجیح دو گی۔۔۔ میرے اتنے بُرے رویے کے بعد اتنی محبت کیسے کر لیتی ہو تم مجھ سے۔۔۔ کبھی غصہ نہیں آیا تھا مجھ پر۔۔۔۔ کبھی نفرت محسوس نہیں ہوئی۔۔۔ “
حمدان اُس کے زخموں کا خیال کرتے نہایت ہی نرمی سے اُس کے گرد بانہوں کا حصار قائم کرتے اُسے اپنے قریب کرگیا تھا۔۔۔
مہروسہ میں اتنی ہمت نہیں تھی اِس وقت کے اُس کا حصار توڑ سکتی۔۔۔۔
“اب نہیں کرتی آپ سےمحبت۔۔۔۔ میرے دشمن سے زیادہ کچھ نہیں ہیں آپ میرے۔۔۔ پلیز دور رہے مجھ سے۔۔۔ آپ میری بے بسی کا فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔۔۔”
مہروسہ اُس کی جانب دیکھنے سے گریزاں تھی۔۔ جیسے اِس ستمگر کی جانب دیکھ کر اپنے کمزور پڑ جانے کا خوف ہو۔۔۔۔
“اچھا تمہاری یہ دھڑکنیں تو کچھ اور ہی کہہ رہی ہیں۔۔۔”
حمدان اُس کا چہرا اپنی جانب موڑتے دلفریب لہجے میں بولا تھا۔۔۔
“تم مجھ سے محبت کی دعوے دار تو ہو۔۔۔ مگر مجھے سمجھ نہیں پائی کہ میں کیسا انسان ہوں۔۔۔ مجھے حیرت ہورہی ہی کہ تم نے سوچ بھی کیسے لیا میں تمہیں مارنے کا پلان بنا سکتا ہوں۔۔۔ کیا زرا سا یقین بھی نہیں کرپائی تم مجھ پر۔۔۔۔”
حمدان کی بات پر مہروسہ نے کرنٹ کھاتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“کک کیا مطلب۔۔۔۔۔”
مہروسہ کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں رہا تھا۔۔۔۔ جب سے ہوش میں آئی تھی اُس نے اپنے رب سے صرف ایک ہی دعا مانگی تھی۔۔۔ مگر اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اُس کا پروردگار اُس کی دعا کو یوں قبولیت بخش دے گا۔۔۔ اِس کا مطلب اُس کا دل اِس شخص کے حق میں ٹھیک گواہی دے رہا تھا اُسے۔۔۔۔
حمدان نے اُسے ایسے ہی ساتھ لگائے اُس دن کا سارا احوال کہہ سنایا تھا۔۔ کہ اُس پر گولی چلانے والا وہ نہیں مریم تھی۔۔۔
“آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ کو لگا تھا اُس کے دل سے نجانے کتنا بڑا بوجھ ہٹ گیا ہو۔۔۔۔
اُسے حمدان کے منہ سے نکلی ہر بات پر پورا یقین تھا۔۔۔ وہ اُس کے کہے الفاظ پر فوراً ایمان لے آئی تھی۔۔۔
جبکہ اُس کی اتنی بے لوث محبت دیکھ حمدان کا دل شرمندگی کی مزید اتھا گہرائیوں میں پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔
“تم میری زندگی کی ہر حقیقت سے واقف ہو۔۔۔ میں نے اپنے سگے بھائی سے دھوکا کھایا تھا۔۔۔ جس کے بعد لوگوں پر اعتبار کرنا میرے لیے ہمیشہ سے بہت مشکل رہا تھا۔۔۔ اور جس طرح تم جھوٹ کی بنا پر میری زندگی میں شامل ہوئی۔۔۔ اُس بات نے میرا رہا سہا یقین بھی ختم کردیا تھا۔۔۔ میں جانتا ہوں میرا رویہ ہمیشہ سے تمہارے لیے بہت ہتک آمیز رہا۔۔۔ جس کے لیے میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔۔۔ آج تک زندگی کے کسی موڑ پر نہ میں کبھی ہارا تھا نہ مجھے ہرانے والا کوئی ملا۔۔۔ مگر تم نے پہلی ملاقات میں ہی اپنی زہانت کا استعمال کرتے مجھے بہت بُری طرح شکست دی تھی۔۔۔
جسے میں برداشت نہیں کر پایا۔۔۔ میں تم سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔ تمہیں اور تمہارے گینگ کو ختم کردینا چاہتا تھا۔۔۔ جو کام آسان نہیں تھا۔۔۔ لیکن تم جس طرح اچانک میرے گھر میں داخل ہوئی۔۔۔ اور آہستہ آہستہ میرے گھر کے ساتھ ساتھ میرے دل پر بھی قابض ہونے لگی۔۔۔ میرے پاس کئی مواقعے آئے جس میں، میں تمہیں آرام سے ختم کرسکتا تھا۔۔۔
مگر نجانے ہر بار میرا دل بیچ میں آکر مجھے ایسا کرنے سے کیوں روک دیتا تھا۔۔۔ پہلے پہل تو میں خود پر بہت غصہ ہونے لگا اںس بار پر۔۔۔ مگر پھر جیسے ہی مجھے تمہارے لیے اپنی فیلنگز کا احساس ہوا کتنے ہی دن میں اِس بات پر یقین نہیں کر پایا۔۔۔ اور پھر آہستہ آہستہ تم سے دور ہوتا چلا گیا۔۔۔۔ لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا یہ دوری مجھے اِس قدر تڑپائے گی۔۔۔
پہلے خود دور رہا اور پھر میری قسمت نے مجھے تم سے دور کردیا۔۔۔۔ تمہاری اپنے لیے دیوانگی دیکھ میں خود کو تم سے محبت کرنے سے روک نہیں پایا۔۔۔ اور اب میری دیوانگی تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔ میں اِن گزرے دنوں میں تمہارے لیے کتنا تڑپا ہوں میں بتا نہیں سکتا۔۔۔
یہ خیال ہی میری سانسیں چھین لیتا تھا کہ تم اب میری زندگی میں نہیں رہی۔۔۔ لیکن میرا دل اِس بات پر یقین نہیں کر پایا۔۔۔ اور آج تمہیں اپنے سامنے دیکھ مجھے اپنے یقین کی جیت ہوتی محسوس ہورہی ہے۔۔۔
مریم کو میں نے اُس وقت سہارا دیا جب وہ بالکل بے سہارا اور کمزور تھی۔۔۔ اُس کے پاس کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔۔۔
مگر تمہیں نقصان پہنچا کر اُس نے جو گناہ کیا ہے اُس کا بہت جلد عبرت ناک انجام بھگتے گی وہ میرے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
حمدان اپنی بات مکمل کرتا اُس کی جانب جھکتے اُس کی پیشانی پر عقیدت بھرے انداز میں اپنے لب رکھ گیا تھا۔۔۔
مہروسہ کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔ مگر یہ آنسو تکلیف کے نہیں تشکر کے تھے۔۔۔
اُس کے رب نے اُس کی تمام اذیتوں کا مداوا کرنے کا فیصلہ کردیا تھا۔۔۔۔
“کیا آپ اب بھی بلیک سٹارز کو بُرا اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔۔؟؟”
مہروسہ کا دل یہ سوال پوچھتے بہت زور سے دھڑکا تھا۔۔۔۔ اک انجانا سا خوف محسوس ہوا تھا کہ اگر حمدان اب بھی اُس کے ساتھیوں سے نفرت کرتا ہوا تو۔۔۔
“میں تم لوگوں کو اپنا دشمن کبھی بھی نہیں سمجھتا تھا۔۔۔ میری جنگ ہمیشہ سے اقبال کیانی کے خلاف تھی۔۔۔ مجھے یہی لگتا رہا کہ تم میرے قریب صرف اِس لیے آرہی ہو کیونکہ تم میرے پاس موجود اقبال کیانی کے خلاف ثبوتوں کو ختم کرکے اُسے بچانا چاہتی ہو۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو میں تمہیں وہاں تمہیں کبھی اُن ثبوتوں تک رسائی حاصل نہ کرنے دیتا۔۔۔ اب ہمارا دشمن ایک ہے تو ہم بھی ایک ہوکر کام کرسکتے ہیں۔۔۔”
حمدان اُس کے خوشی سے کھلتے چہرے کو دیکھ مسکرا دیا تھا۔۔۔
اُس کے لیے اب اِس پیاری سی لڑکی کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے دیئے ہر درد کا مداوا کرنے کا عزم رکھتا تھا۔۔۔
حمدان مہروسہ کی دلکش مسکراہٹ دیکھ اُس کی جانب جھکا تھا اور اُس کی مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں سے چن گیا تھا۔۔۔
“میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”
مہروسہ نے اُس کے سینے پر دباؤ ڈالتے گھبرائی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔ کیونکہ حمدان کی بولتی جان لیوا قربت پر مہروسہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
“اُسی کا ہی تو خیال کیا ہوا ہے ابھی تک۔۔۔”
حمدان کی بیچارگی دیکھ مہروسہ اپنی بے ساختہ اُمڈ آنے والی کھلکھلاہٹ نہیں روک پائی تھی۔۔۔ مگر حمدان کے والہانہ محبت بھرے خطرناک تیور دیکھ وہ فوراً ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی تھی۔۔
جبکہ اُس کی یہ معصوم حرکت دیکھ حمدان اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
جاری ہے
