Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“میر مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوگا مجھے۔۔۔۔۔۔ تم لوگوں کے بعد میں نکلوں گا۔۔۔۔ شہباز آفندی کی بھتیجی کو گن پوائنٹ پر لے کر۔۔۔۔ پریسا آفندی کو دیکھ کر شہباز آفندی کسی کو گولی نہیں چلانے دے گا کسی قیمت پر بھی نہیں۔۔۔۔ باہر بھیڑ میں موجود ہمارے آدمیوں سے خبر ملی ہے۔۔۔ کہ شہباز آفندی اور سفیان آفندی دونوں ہی پریسا آفندی اور اپنی دوسری بھتیجی کے اندر ہونے کا سن کر یہاں پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔۔ “
اُن دونوں کے نام لیتے وقت شاہ ویز کی آنکھوں میں شدید نفرت تھی۔۔۔ جسے دیکھ کر ایک پل کے لیے اُن دونوں کو بھی خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“تم پریسا آفندی کو اغوا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔۔۔۔”
حازم اُس کی بات مانتا اُس کا اگلا پلان سننا چاہتا تھا۔۔۔ جس کا جواب اثبات میں سر ہلا کردیتے شاہ ویز وہاں سے کٹ گیا تھا۔۔۔۔
“سر آپ مانیں یا نہ مانیں۔۔۔ مگر مجھے لگتا ہے۔۔۔۔ کہ اُس معصوم سی لڑکی نے شاہ سر کے دل میں تھوڑی بہت جگہ تو بنا ہی لی ہے۔۔۔۔ اُن کا اُسے اُٹھا کر کے کر جانا۔۔۔۔ اُس کے بے ہوش ہونے کی فکر۔۔۔ ورنہ آج سے پہلے تو وہ کبھی کسی مشن میں کسی لڑکی کے قریب بھی نہیں بھٹکے۔۔۔۔”
مہروسہ خوشگوار حیرت کے ساتھ یہ الفاظ بولتی حازم کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔۔
مگر اِس وقت اُسے زیادہ فکر شاہ ویز کی تھی۔۔۔ جس نے بعد میں پولیس والوں کے سامنے سے اکیلے آنا تھا۔۔۔ اُس کے لیے اپنے گینگ کے ہر فرد کی لائف بہت اہم تھی۔۔۔ اِس لیے وہ کسی ایک بھی آدمی کو آخر میں اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد اُن کے سارے آدمی ایک ایک کرتے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔ جنید پہلے ہی اپنی ٹیم کے ساتھ ساری رقم لے کر نکل چکا تھا۔۔۔۔
“نکلو تم لوگ بھی اب۔۔۔۔ اور یہاں قریب کہیں بھی رکنا مت۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُن دونوں کے قریب آتے بولا تھا۔۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔۔۔ تم اِن سب کے باس ہوسکتے ہو میرے نہیں۔۔۔۔ جب تک تم یہاں سے سیفلی نہیں نکل جاتے میں یہیں آس پاس ہی رہوں گا۔۔۔۔۔ میر حازم سالار جب تک زندہ ہے شاہ ویز سکندر کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔”
حازم اُس سے بغل گیر ہوتا فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔۔
“اچھا اور میں بھی اِس گینگ کی لیڈر ہوں۔۔۔ مجھ پر ہمیشہ رعب جمائی رکھتے ہیں آپ لوگ۔۔۔۔۔ “
مہروسہ نے اپنی چھوٹی سی ناک بسورتے کہا تھا۔۔۔۔
“کیونکہ تم اِس گینگ کی جان ہو۔۔۔ ہمیں کچھ ہوجائے پھر بھی چلے گا۔۔۔ مگر تمہیں زرا سی خراش بھی آئی تو ہم دونوں ہر شے تہس نہس کردیں گے۔۔۔ تمہیں ہر معاملے میں سیف رکھنے کی یہی وجہ ہے۔۔۔۔۔ اب جاؤ تم لوگ۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کے سر پر ہلکی سی چپت رسید کرتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔
“ہائے۔۔۔۔ شاہ سر کبھی کبھی تعریف کرتے ہیں۔۔۔ مگر جب کرتے ہیں تو کتنا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔۔”
مہروسہ کا چہرا کھل اُٹھا تھا۔۔۔ وہ چہکتے ہوئے بولتی حازم کو کسی کی شدت سے یاد دلا گئی تھی۔۔۔۔ وہ اپنی لال ہوتی آنکھوں کو سختی سے میچ کر اُن کی نمی کو اندر دھکیلتا مہروسہ کو ساتھ آنے کا کہتا۔۔۔۔ پچھلی طرف سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
ابھی بینک کا عملہ اور باقی تمام لوگ وہیں موجود تھے۔۔۔۔۔۔ جن سب پر شاہ ویز کے اکیلے رہ جانے کے باوجود دہشت طاری تھی۔۔۔۔ اُنہیں سب سے زیادہ ڈر اسی شخص سے لگ رہا تھا۔۔۔ جو ابھی بھی اُن کے سر پر سوار تھا۔۔۔۔ اُس کی وحشت ناک آنکھیں بتاتی تھیں۔۔۔۔ کہ وہ کسی کو بھی زرا سی مہلت دینے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔
اُن لوگوں کے نکلتے ہی وہ واپس اُسی روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جہاں اُس نے پریسا کو لاک کررکھا تھا۔۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اُس کے تاثرات مزید تن گئے تھے۔۔۔ اُس لڑکی کو ابھی تک ویسے ہی بے ہوش پڑا دیکھ شاہ ویز مُٹھیاں بھینچتا آگے بڑھا تھا۔۔۔
سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اُٹھاتے اُس نے پریسا کے ڈھکے چہرے سے اپنی شال اُتاری تھی۔۔۔۔ لمحے بھر کو شاہ ویز کا ہاتھ وہیں ساکت ہوا تھا۔۔۔۔
پریسا آفندی کے حُسن کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔۔۔ مگر سوتے ہوئے اُس کے چہرے پر جو معصومیت چھائی ہوئی تھی۔۔۔ اُس نے شاہ ویز سکندر جیسے پتھر دل اور بے حس انسان کو بھی کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی مگر ٹھٹھکنے پر مجبور ضرور کردیا تھا۔۔۔۔
آرزوں پر سایہ فگن گھنیری پلکیں، ایک دوسرے میں نرمی سے پیوست گلابی ہونٹ، سُرخی مائل پھولے پھولے صحت مند گال۔۔۔۔ اور ستوان گلابی ناک میں چمکتی نوز پن۔۔۔۔ سیاہ زلفوں نے اُس کے چہرے کے گرد پردہ بنا کر اُس کے نازک وجود کو بھی ڈھانپ رکھا تھا۔۔۔۔
اگر یہاں کوئی اور شخص ہوتا تو وہ اس پری پیکر سے ایسا سلوک کرنے کے بارے میں سوچتا بھی نہیں جو شاہ ویز سکندر کرنے جارہا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر کو نہ کبھی حُسن و دلکشی میں کوئی انٹرسٹ رہا تھا۔۔۔ اور نہ ہی اب تھا۔۔۔۔
اُس بنا زرا سا بھی لحاظ رکھے ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس پریسا کے منہ کے اُوپر اُنڈیل دیا تھا۔۔۔۔۔۔
پریسا جو پہلے ہی اُس سے کافی خوفزدہ ہوکر بے ہوش ہوئی تھی۔۔۔۔ پانی کے زور دار تمانچے پر وہ ہڑبڑا کر چیخ مارتی اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔
جب عین سامنے بہت قریب کھڑے شاہ ویز سکندر کو دیکھ وہ بے دھیانی میں اُسی کی شال اپنے گرد مضبوطی سے پکڑے صوفے کی بیک سے چپک گئی تھی۔۔۔۔
“کک۔۔۔ کک کیوں۔۔۔۔ کیوں۔۔۔ لائے ہیں۔۔۔ مجھے۔۔۔ یہاں۔۔۔؟؟؟ کک کیا۔۔۔۔ کک کرنےےے۔۔۔ ووالے۔۔۔ ہیں آپ۔۔۔ میرے ساتھ۔۔۔۔۔”
صوفے کے بالکل قریب زمین پر گرا اپنا دوپٹہ اور اپنے گرد لپٹی اُس کی خوشبو سے لبریز شال دیکھ پریسا کو اپنی دھڑکنیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
گول گول آنکھوں سے آنسوؤں کی جھری رواں ہوچکی تھی۔۔۔۔
جبکہ اُس کی شکی نگاہوں اور بات کا مطلب جان کر شاہ ویز کو تو جیسے پتنگے لگ گئے تھے۔۔۔۔
“سٹوپڈ گرل۔۔۔۔۔”
اِس سے پہلے کے وہ خوف سے دوبارہ بے ہوش ہوجاتی۔۔۔۔ شاہ نے اُسے کلائی سے تھام کر اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔ وہ بے جان گڑیا کی طرح اُس کی جانب کھینچی چلی گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز کی چادر وہیں نیچے گر چکی تھی۔۔۔۔۔ وہ لرزتی کانپتی اِس وقت بالکل اُس کے مقابل کھڑی تھی۔۔۔۔
“میرے بارے میں آئندہ ایسی فضول بات اپنے دماغ میں بھی مت لانا۔۔۔۔ مجھے تم میں یا دنیا کی کسی بھی عورت میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔۔۔۔۔ تم اِس وقت پوری طرح سے میرے رحم و کرم پر ہو۔۔۔۔۔ تمہاری بہتری اِسی میں ہوگی۔۔۔ کہ جو میں کہوں وہ کرو۔۔۔۔ اگر زرا سی بھی اونچ نیچ کی۔۔۔ یا میری بات نہ مانی تو انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی۔۔۔۔۔ انڈرسٹینڈ۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اپنی سرخ وحشت ناک آنکھیں اُس کی ہرنی سی خوفزدہ آنکھوں میں گاڑھتے پوچھا تھا۔۔۔۔
اُس ظالم دیو کی قید میں کھڑی معصوم پری نے ٹرانس کی کیفیت میں سر ہلاتے اُس کی بات مان لی تھی۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حازم اور مہروسہ اپنا حلیہ بدل کر عام لوگوں کے روپ میں آچکے تھے۔۔۔۔ وہ رُوپ جو اُن کا اصلی رُوپ تھا۔۔۔ جس کے ساتھ وہ اکثر لوگوں کے بیچ موجود رہتے تھے۔۔۔۔ مگر کبھی کوئی انہیں پہچان نہیں پایا تھا۔۔۔۔
حازم مہروسہ کو وہیں بینک سے کچھ میٹر دور روڈ پر رکنے کا کہتا خود جنید لوگوں کے پیچھے گیا تھا۔۔۔ یہ تسلی کرنے کے وہ پیسے لے کر با حفاظت اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں یا کسی پولیس چوکی کا شکار ہوگئے ہیں۔۔۔۔ فون ٹریک ہونے کی وجہ سے وہ یا تو وائرلیس فون یوز کرتے تھے۔۔۔ یا پھر آپس میں رابطہ رکھتے ہی نہیں تھے۔۔۔۔ اُن کے ہر کام میں بہت زیادہ احتیاط برتی جاتی تھی۔۔۔۔
مہروسہ وہاں ٹائم پاس کرنے کے لیے ایک ریڑھی والے سے آئس کریم لے کر بینچ پر بیٹھی کھا کم رہی تھی۔۔۔ اور کھیل زیادہ رہی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل بہت زیادہ بے چین تھا۔۔۔ شاہ ویز ، حازم اور اپنی ٹیم کے لیے۔۔۔ جو تینوں ہی اِس وقت رسک پر تھے۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح اِس وقت بھی اُس نے سیاہ لباس ہی پہن رکھا تھا۔۔۔ بلیک ہاؤس میں وہ سب سیاہ لباس ہی پہنتے تھے۔۔۔۔ رنگوں سے اُن سب کا ناطہ ٹوٹا ہوا تھا۔۔۔ اُن میں سے کسی کو بھی بلیک کے علاوہ کوئی رنگ پسند نہیں تھا۔۔۔۔۔
اُس کی بڑی بڑی جھیل سی آنکھیں چاروں جانب گھوم رہی تھیں۔۔۔۔ کٹاؤ دار گلابی پنکھڑیاں مسلسل دانتوں کا ستم برداشت کرتے لال ہوچکے تھے۔۔۔۔ وہ جب بھی ٹینشن میں ہوتی تھی۔۔۔ ایسے ہی اپنے ہونٹوں کا حشر بگاڑ دیتی تھی۔۔۔۔
دونوں ہاتھوں کی مخروطی اُنگلیاں بھی الگ تشدد کے زیرِ اثر تھیں۔۔۔۔
سیاہ سکارف سے حجاب لیے نگاہیں چاروں اور گھماتی وہ بہت ہی منفرد اور پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
“اوہ شٹ۔۔۔۔”
اچانک اُس کی نظر روڈ پر بھاگ کر آتے ایک پانچ سال کے بچے پر پڑی تھی۔۔۔۔ جو بلی سے کھیلتے کھیلتے شاید روڈ پر نکل آیا تھا۔۔۔۔۔ مہروسہ نے فل سپیڈ میں اُس بچے کی جانب بڑھتی گاڑی کو دیکھا تھا۔۔۔ اور بنا اپنی جان کی پرواہ کیے۔۔۔۔ وہ راستے میں آئی ہر شے ہوا میں اُچھالتی فل سپیڈ میں اُس بچے کی جانب بھاگی تھی۔۔۔
جان بستی تھی اُس کی بچوں میں۔۔۔۔ پھر وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ایسی انہونی ہوتے کیسے دیکھ سکتی تھی۔۔۔
گاڑی کچھ فاصلے پر ہی تھی۔۔۔ جب مہروسہ نے بچے کے پاس پہنچ کر اُسے اُٹھاتے اپنی گود میں لیا تھا۔۔۔۔
گاڑی اُس کے بے حد قریب پہنچ چکی تھی۔۔
اِس سے پہلے کے وہ بچے کو دوسری جانب کھڑے لوگوں کی جانب اُچھال کر اُسے محفوظ کرتی کسی نے اُسے کندھے سے تھام کر اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔
خوشبو کے خوبصورت سے جھونکے کے ساتھ وہ بچے کے ساتھ سیدھی اُس مہربان شخص کے سینے میں آن سمائی تھی۔۔۔۔
جس نے اپنی لائف خطرے میں ڈال کر اُس کی جان بچائی تھی۔۔۔۔
نتھنوں سے ٹکراتی خوشبو کو محسوس کرتے مہروسہ جھٹکے سے اُس سے دور ہوئی تھی۔۔۔۔
مگر نگاہوں کے عین سامنے اپنے دل کے مکین کو کھڑا دیکھ مہروسہ کی آنکھوں کے دیپ جل اُٹھے تھے۔۔۔
بچہ اُس کی گرفت میں خوف کے مارے رو رہا تھا۔۔۔۔۔ جب اُس کی ماں بھاگتے ہوئے آتی اُسے اپنی آغوش میں لے گئی تھی۔۔۔۔
“آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ آپ نے میرے بچے کی جان بچا کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔۔۔ اللہ آپ کے دل کی ہر جائز مراد پوری کرے۔۔۔ آپ دونوں کی زندگیوں میں خوشیاں اور محبتوں کی روشنیاں بھر دے۔۔۔۔ “
وہ عورت اُنہیں دعائیں دیتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔
“اُس گاڑی والے کو گرفتار کر لو۔۔۔۔”
حمدان وہاں پہنچتے پولیس والوں کو اشارہ کرتا مہروسہ کی جانب مُڑا تھا۔۔۔۔ جس کا بازو راستے میں کسی شے سے ٹکرانے کی وجہ سے بُری طرح لہولہان ہوچکا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ تو ہر درد بھلائے۔۔۔۔ فل یونیفارم میں ملبوس ایس پی حمدان کو دیوانہ وار نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“آپ کو چوٹ لگی ہے۔۔۔۔ آئیں میں آپ کی بینڈیج کروا دوں۔۔۔۔”
حمدان اپنے مخصوص بے لچک انداز میں اُسے کہتے پلٹا تھا۔۔۔۔
مہروسہ تو اس شخص کی اِس مغرورانہ ادا پر ہی فدا ہوئی تھی۔۔۔۔
“نو سر تھینکیو۔۔۔۔ میں خود چلی جاؤں گی ڈاکٹر کے پاس۔۔۔۔”
مہروسہ کی نرم سی پرسوز آواز پر حمدان پلٹا تھا۔۔۔
اُسے لگا تھا کہ شاید یہ آواز پہلے اُس نے کہیں سنی ہے۔۔۔۔ مگر کہاں اِس وقت یہ سوچنے کا ٹائم نہیں تھا اُس کے پاس۔۔۔۔
“ہم آپ کو اِس وقت ایسے نہیں جانے دے سکتے۔۔۔۔ اُس بچے پر کسی گروہ کی جانب سے قاتلانہ حملہ کیا جارہا تھا۔۔۔ جس میں دخل اندازی دے کر۔۔۔ آپ اپنی جان خطرے میں ڈال چکی ہیں۔۔۔۔ اِس وقت آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔۔۔ تاکہ ہم آپ کی پروٹیکشن کا بندوبست کرسکیں۔۔۔۔”
حمدان اُسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُسے اپنے پیچھے آنے کا کہتا دروازے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“تم ایسے ہی آؤ گی۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کو اپنا چھوٹا سا دوپٹہ گلے میں ڈال کر پیچھے آتا دیکھ شاہ ویز کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔
“میں نے دوپٹہ کیا ہے۔۔؟”
پریسا کو یہ شخص سائیکو معلوم ہوا تھا۔۔۔۔ اُس کا دل تو چاہ رہا تھا اِس کی اُلٹی کھونپڑی پکڑ کر دیوار سے دے مارے۔۔۔ مگر وہ ایسا صرف سوچ ہی سکتی تھی۔۔۔۔
“باہر سینکڑوں کی تعداد میں کیمرے تم پر فوکس ہونگے۔۔۔ خود کو ڈھانپنا سیکھو۔۔۔ اپنی نمائش کروانا نہیں۔۔۔۔ وہ چادر اُٹھاؤ اور اچھے سے اوڑھو اُسے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سد دروازے میں جما کھڑا اُس پر اپنا اگلا حکم صادر کرتے بولا۔۔۔۔
“میں کسی کی جھوٹی شے نہیں لیتی۔۔۔۔”
پریسا کو بچپن سے اب تک جتنا لاڈلا رکھا گیا تھا۔۔۔ اُس سے شاہ ویز سکندر کا رویہ برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔ آفندی ولا میں ہر کوئی چھوٹا بڑا اُس کے نخرے اُٹھاتا تھا۔۔۔۔ سب کو ہر وقت اِسی بات کا خیال رہتا تھا کہ کہیں کسی وجہ سے اُن کی لاڈلی گڑیا کا موڈ آف نہ ہو۔۔۔۔
اِس وقت بھی وہ منہ چڑھا کر کہتی یہ فراموش کر گئی تھی کہ سامنے آفندی ولا کا کوئی فرد نہیں بلکہ بلیک بیسٹ شاہ ویز سکندر کھڑا ہے۔۔۔۔
شاہ ویز ماتھے پر لاتعداد بل سجائے واپس پلٹا تھا۔۔۔ صوفے سے اپنی چادر اُٹھا کر پریسا کے گرد اوڑھتے اُس نے اُس کے چہرے اور ہاتھوں کے سوا پورے جسم کو ڈھانپ دیا تھا۔۔۔۔ پریسا کا ایک بال تک بھی باہر نہیں تھا۔۔۔
“جب تک میرے ساتھ ہو۔۔۔ ایسے ہی رہنا پڑے گا۔۔۔۔”
دھونس بھرے انداز میں کہہ کر اُس کا ہاتھ تھامتا وہ باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ پری کو اُس کی گرفت میں اپنی اُنگلیاں چٹختی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
شاہ ویز نے شال اتنی سختی سے اُس کے گرد اوڑھی تھی کہ اُسے سانس لینے میں بھی دشواری پیش آرہی تھی۔۔۔
“جاہل ، ایڈیٹ، گنوار، غنڈہ کہیں گا۔۔۔۔۔ ایسا بھی کیا پردہ کہ سانس ہی نہ آئے۔۔۔۔ بچاری دنیا کی سب سے مسکین اور مظلوم لڑکی ہوگی۔۔۔ جو اِس پاگل سنکی قاتل اور لُٹیرے کی قسمت میں لکھی ہوگی۔۔۔۔”
پریسا منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی اُس انتہائی سفاک شخص کو کوسنت لگی تھی۔۔۔۔
“میں یہاں کاؤنٹر پر یہ بیگ رکھ رہا ہوں۔ وہ کیمرہ لگا کر گئے ہیں میرے آدمی۔۔۔۔۔ اگر تم لوگوں میں سے کسی نے زرا سی بھی ہلنے کی کوشش کی تو وہ بم پھٹ جائے گا۔۔۔ “
شاہ ویز ایک سیاہ بیگ کاؤنٹر پر رکھتا۔۔۔۔ اُن سب کو اچھا خاصہ خوفزدہ کرتا پری کا ہاتھ کھینچتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ اب اِن میں سے کوئی ہلے کا بھی نہیں۔۔۔۔
“میں باہر نکلنے لگا ہوں۔۔۔ اگر زرا سی بھی ہوشیاری دیکھانے کی کوشش کی تو جان سے جاؤ گی یاد رکھنا۔۔۔۔”
شاہ ویز کی شرائط پر اُس کے لیے بینک کے دروازے سے گاڑی تک کا راستہ صاف کردیا گیا تھا۔۔۔۔
پریسا کو اپنے آگے کھڑا کرکے اُس کی کنپٹی پر پسٹل رکھتے وہ اللہ کا نام لیتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
باہر ڈھیروں کی تعداد میں موجود پولیس نفری، عام آدمی اور رپورٹرز کو دیکھ پریسا کی آنکھیں حیرت کے مارے پوری طرح سے کھل گئی تھیں۔۔
اِس ایک انسان نے اکیلے اتنے سارے لوگوں کو قابو کررکھا تھا۔۔۔۔
اتنے سارے لوگوں میں اُسے پولیس والوں کے بیچ کھڑے سفیان اور شہباز آفندی دیکھائے دیئے تھے۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حبہ کو پتا ہی نہیں چلا تھا بھیگتی آنکھوں کے ساتھ وہ اپنے درد ناک ماضی کی تکلیف دہ حقیقتوں میں اُلجھتی گھر سے بہت دور نکل آئی تھی۔۔۔۔
کتنی بار اُس کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا۔۔۔
بار بار نجمہ بیگم کے الفاظ اُس کے کانوں میں گونجتے اُس کا دل ٹکڑوں میں بانٹ دیتے تھے۔۔۔۔
اُس کا دل تو یہی چاہا تھا اپنے اندر کی تکلیف اور اضطراب کم کرنے کے لیے گاڑی کہیں ٹھوک کر خود کو ہی ختم کردے۔۔۔۔
وہ آبادی سے باہر سنسان جگہ پر پہنچ گئی تھی۔۔۔۔ جب اچانک اُسے احساس ہوا تھا کہ دو گاڑیاں مسلسل اُس کا پیچھا کررہی ہیں۔۔۔۔
“اوہ نو۔۔۔۔ میں اتنی بڑی بے وقوفی کیسے کرسکتی ہوں۔۔ یہ تو اُس کمینے شمشیر کے پالتو کتے ہیں۔۔۔۔”
حبہ سمجھ گئی تھی کہ اُسے اکیلا دیکھ کر یہ لوگ اُسے نقصان پہنچانے پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔
مگر حبہ کے چہرے پر خوف کا زرا سا بھی شائبہ تک نہیں تھا۔۔۔۔ اُسے ایسے لوگوں کو اُن کی اوقات بتانا بہت اچھے سے آتا تھا۔۔ مگر اِس وقت اُس کی جو مینٹل کنڈیشن تھی وہ شاید اُسے کمزور کرسکتی تھی۔۔۔۔
شمشیر خان یہاں کے جانے مانے شرفاء میں سے ایک تھا۔۔۔۔ بہت بڑی جاگیردار کا اکلوتا مالک۔۔۔۔ اکثر اُس کے بنگلے پر مختلف لڑکیاں پائی جاتی تھیں۔۔۔ جنہیں وہ پیسے دے کر اپنے بیڈ کی زینت بناتا تھا۔۔۔۔
جس پر کبھی کوئی روک تھام نہیں کرسکا تھا۔۔۔
مگر اِس بار اُس کا کیا جانے والا جرم بہت بڑا تھا۔۔۔ اُس نے ایک غریب گھرانے کی شریف لڑکی کو زبردستی اپنے گھر بنگلے پر لے جاکر اُس کی عزت کو داغدار کیا تھا۔۔۔۔
ویسے تو اُس کی اِس درندگی پر بھی پردہ ڈال دیا جاتا۔۔۔ مگر وہ لڑکی جہاں رہتی تھی وہ ایریا ایس پی حبہ کے انڈر آتا تھا۔۔۔۔۔ جس کا منہ نہ تو رشوت دے کر بند کیا جاسکتا تھا۔۔۔ اور نہ اُسے ڈرا دھمکا کر اپنے عزم سے پیچھے ہٹایا جاسکتا تھا۔۔۔۔
اُس نے اُس لڑکی کے گھر والوں کو پوری پروٹیکشن دینے کے بعد نہ صرف شمشیر خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔۔۔۔ بلکہ یہ کیس کورٹ تک بھی پہنچا دیا تھا۔۔۔ شمشیر خان کی جانب سے مسلسل ملنے والی دھمکیوں کا اُس پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔۔۔
اِسی لیے آج موقع ملتے ہی شمشیر خان کے آدمی اُس تک آن پہنچے تھے۔۔۔۔
اُن کی گاڑیوں نے حبہ کی گاڑی کو آگے پیچھے سے گھیر لیا تھا۔۔۔ حبہ کے باہر نکلتے ہی وہ بھی باہر نکل آئے تھے۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔