No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
حمیرا بیگم یہاں بھی شوکت آفندی پر اعتبار کرتیِں سکندر شاہ کو بنا بتائے بیا اور شاہ ویز کو لیے وہاں جا پہنچی تھیں۔۔۔۔
مگر آگے سے اپنے منہ بولے بھائی کے ہاتھوں ایک اور دھوکا اُن کا منتظر تھا۔۔۔۔۔ وہاں صرف شوکت آفندی نہیں بلکہ شہباز اور ظفر آفندی بھی موجود تھے۔۔۔۔ اور اُن کے ارادے نیک بالکل بھی نہیں تھے۔۔۔ اُنہوں نے حمیرا بیگم کو سکندر شاہ کو بھی کال کرکے بلوانے کو کہا تھا۔۔۔
مگر حمیرا بیگم نے سختی سے انکار کردیا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے بچوں کی زندگیاں تو خطرے میں ڈال چکی تھیں۔۔۔۔ مگر اپنے شوہر کو کچھ نہیں ہونے دینا چاہتی تھیں۔۔۔ لیکن یہاں بھی اُن کی آہ و پکار نہیں سنی گئی تھی۔۔۔ ظفر آفندی نے اُنہیں حمیرا بیگم اور بچوں کو جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر اکیلے وہاں آنے کا کہا تھا۔۔۔۔۔۔
سکندر شاہ بنا ایک سیکنڈ بھی دیر کیے وہاں جا پہنچے تھے۔۔۔۔ مگر آگے کا منظر اُن کی ہستی کو فنا کر گیا تھا۔ جس گھر سے چھ سال پہلے وہ اپنی بیوی کو رخصت کروا کر گئے تھے۔۔۔ اُسی گھر کو آگ کے ظالم شعلوں کی لپیٹ میں دیکھ وہ پاگل ہو اُٹھے تھے۔۔۔۔
آگ کے شعلے لمحہ با لمحہ بھڑک رہے تھے۔۔۔۔ سکندر شاہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اندر کود گئے تھے۔۔۔۔ اُنہوں نے ایک طرف پڑے حواس کھوتے شاہ ویز کو تو بچا کر باہر نکال لیا تھا۔۔۔۔ مگر حمیرا بیگم اور بیا تک پہنچتے دیوار گرنے کی وجہ سے وہ اپنی جان بھی گنوا بیٹھے تھے۔۔۔۔
شاہ ویز کے زندہ ہونے کا علم ظفر آفندی سمیت کسی کو بھی نہیں تھا۔۔۔ وہ لوگ یہی سمجھے تھے کہ وہ چاروں مر چکے ہیں۔۔۔۔
شاہ ویز دو دن تک اُس گند کے ڈھیر پر پڑا سوئی جاگی کیفیت میں رہا تھا۔۔۔۔
کتے اُس کے سر پر آکر بھونکتے تھے۔۔۔۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے وہ ہلنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ زندگی ہار جاتا۔۔۔۔۔ اللہ نے ایک ادھیڑ عمر بزرگ کو فرشتہ بنا کر اُس کی مدد کو بھیج دیا تھا۔۔۔۔
جو واقعی اُس کے لیے فرشتے سے کم ثابت نہیں ہوئے تھے۔۔۔۔ اُنہوں نے اُس کے ٹھیک ہونے تک پوری طرح اُس کی دیکھ بھال کی تھی۔۔۔ نواز محمد خود بہت غریب انسان تھے۔۔۔ مگر دل کے حد درجہ امیر۔۔۔۔۔ اُن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔۔۔۔ بیوی کی ڈیتھ ہوچکی تھی۔۔۔ ایک کمرے کے چھوٹے سے گھر میں وہ اکیلے رہتے تھے۔۔۔
مگر شاہ ویز کو اُنہوں نے بالکل اپنی سگی اولاد کی طرح رکھا تھا۔۔ اُس کی خواہش دیکھتے ہوئے اُنہوں نے اُسے ایک ًقریبی گورنمنٹ سکول میں داخلہ دلوا دیا تھا۔۔۔۔۔ اعلٰی تعلیمی اداروں میں پڑھنے والا پرائمری سکول میں زمین پر بیٹھ کر پڑھنے لگا تھا۔۔
شاہ ویز اتنی کم عمری کے باوجود اپنے ماں باپ کے ساتھ ہوئے دھوکے سے بہت حد تک آگاہ تھا۔۔۔ وہ اکثر سکول سے چھٹی کے بعد میلوں کا فاصلہ پیدل طے کرتا۔۔۔۔ اپنے گھر کی عالی شان عمارت کے سامنے جابیٹھتا تھا۔۔۔۔
جہاں سے اب شاہ مینشن کی تختی ہٹا کر آفندی مینشن لکھ دیا گیا تھا۔۔۔۔ وہ چھوٹا سا بچہ نہ تو اپنے گھر کا راستہ بھول پایا تھا۔۔۔۔ اور نہ ہی اپنے ماں باپ کے زندہ جلنے والا منظر۔۔۔۔
اِن لوگوں کی درندگی کا منظر ہر رات سونے سے پہلے یاد کرتا تھا وہ۔۔۔۔ جس چیز نے آہستہ آہستہ اُس کے اندر سے انسانیت ختم کرکے درندگی بھر دی تھی۔۔۔۔
سکول میں ٹیچر کے فیوچر کے حوالے سے سوال کرنے پر وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ اُسے بڑے ہوکر ایک اچھا انسان بننا ہے۔۔۔ وہ ہمیشہ بنا کسی سے ڈرے یہی کہتا تھا کہ وہ درندہ بن کر بُرے اور دھوکے باز لوگوں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس بات کو ہمیشہ مذاق میں ہی اُڑا دیا جاتا تھا۔۔۔ مگر کبھی کوئی اُس کے پختہ ارادوں سے واقفیت حاصل نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
نواز محمد نے اُس کی خواہش کے مطابق اُسے تعلیم دلوائی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز نے آٹھویں کلاس کے بعد سے ہی مزدوری کرنا شروع کر دی تھی۔۔۔۔ ہوٹلوں پر برتن دھونا، نالیاں صاف کرنا، یہاں تک کے اکثر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے جھوٹے برتنوں میں کھانا بھی کھایا تھا۔۔۔۔
وہ رئیس زادہ اتنی بڑی وراثت کا مالک ہونے کے باوجود فقیری کی زندگی گزار رہا تھا۔۔۔۔
دوسری جانب دولت کی لالچ نے بھائیوں کو بھی ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا تھا۔۔۔۔ ظفر آفندی نے سکندر شاہ کی ساری جائیداد فراڈ سے اپنے نام کروا لی تھی۔۔۔۔
اور اب وہ شہباز آفندی سمیت اپنے کسی بھائی کو اِس میں حصہ دینے کے حق میں نہیں تھے۔۔۔
وہ ان سب کو اپنے ساتھ رکھنے کو تو تیار تھے۔۔۔ مگر سب پر حکمرانی خود کرنا چاہتے تھے۔۔۔ جو شہباز آفندی اور شوکت آفندی برداشت نہیں کر پائے تھے۔۔۔
جس دولت کو حاصل کرنے کے لیے اُنہوں نے ایک پورا خاندان اُجاڑا تھا اُس کے لیے وہ دوسرا خاندان بھی اُجاڑ سکتے تھے۔۔۔۔۔
ظفر آفندی نے نگہت بیگم کے ساتھ شہر سے باہر جانا تھا۔۔۔۔۔ اُس سے ایک دن پہلے اُن کا اپنے بھائیوں سے بہت بُرا جھگڑا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ بہت اچھے سے جانتے تھے کہ اُن کے بھائی پیسوں کی لالچ میں اُنہیں بھی نہیں بخشیں گے۔۔۔۔ اِس لیے وہ اپنی بیٹی کی زندگی محفوظ کرنے کے لیے اپنی وصیت میں ساری جائیداد پریسا آفندی کے نام کر چکے تھے۔۔۔ جو اُسے کچھ ہوجانے کی صورت میں چیرٹی میں چلی جانی تھی۔۔ ورنہ اُس کے پچیس سال کے ہوجانے تک یہ جائیداد کسی اور کے نام شفٹ نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔۔۔
ظفر آفندی نہیں جانتے تھے کہ اُن کا اٹھایا یہ قدم آگے چل کر واقعی اُن کی بیٹی کی ڈھال بنے گا۔۔۔۔ جو شخص کل تک کسی اور کا گھر اُجاڑنے کا پلان بنا رہا تھا۔۔۔ آج وہ خود اپنے بھائیوں کا شکار بن چکا تھا۔۔۔۔
ظفر آفندی نگہت بیگم کے ساتھ کراچی جانے کے لیے نکلے تھے۔۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اُن کے بُرے کاموں کا انجام اُنہیں اتنی جلدی ملنے والا ہے۔۔۔۔
شہباز آفندی اور شوکت آفندی پہلے ہی پوری پلاننگ کرچکے تھے۔۔۔۔
ظفر آفندی کی گاڑی اُن کے ہائر کیے گئے ٹرالے سے ٹکراتی اُن دونوں میاں بیوی کو ہمیشہ کے لیے سلا گئی تھی۔۔۔ پریسا معجزانہ طور پر بچ گئی تھی۔۔۔ شہباز آفندی اُسے بھی ختم کردیتے۔۔۔ جب عین موقع پر وکیل نے ظفر آفندی کی وصیت بتاتے اُنہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔۔۔
کیونکہ پریسا کو مارنے کے بعد اُن کے ہاتھ کچھ نہیں بچنا تھا۔۔۔۔
اُس دن کے بعد سے شہباز آفندی سمیت باقی سب بھی پریسا سے محبت سے پیش آنے پر مجبور تھے۔۔۔۔ بڑوں کے علاوہ صرف سفیان ہی اِس سب حقیقت سے واقف تھا۔۔۔۔۔۔۔ مگر اتنے سالوں تک پریسا یہ نہیں جان پائی تھی کہ جن اپنوں پر وہ جان دیتی ہے۔۔۔ اُنہیں اُس سے نہیں اُس کی دولت سے محبت ہے۔۔۔۔
ایک یاسمین بیگم ہی تھیں جو بغیر کسی غرض اور مفاد کے پریسا سے محبت کرتی تھیں۔۔۔ اُنہوں نے بہت بار کوشش کی تھی کہ وہ پریسا کو سب بتا دیں۔۔۔ مگر وہ جانتی تھیں یہ سب جان کر پریسا کی جانب خطرے میں پڑ جائے گی۔۔۔ اِس لیے اب تک وہ ایسا کچھ نہیں کر پائی تھیں۔۔۔ مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ پریسا کی شادی سفیان سے ہو۔۔۔
وہ پریسا کے لیے کوئی ایسا انسان چاہتی تھیں جو اُن کے بیٹے کی طرح اُس کے نام پر موجود جائیداد سے نہیں بلکہ اُس سے محبت کرے۔۔۔۔
اُسے بے لوث چاہے۔۔۔ جو اُس کی جان کا دشمن نہ ہو بلکہ اُس کو محافظ ہو۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“اپنا چہرا دیکھاؤ۔۔۔ میں اِنہیں روک دوں گی۔۔۔ تمہارے پاس بھی صرف پانچ منٹ ہیں۔۔۔ اپنی شناخت بتاؤ مجھے ورنہ میں خود کو ختم کرلوں گی۔۔۔۔”
حبہ عجیب جنونی انداز میں بولتی اپنی کنپٹی پر گن رکھ گئی تھی۔۔۔ اُس نے حازم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جس طرح یہ الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔۔ صاف نظر آرہا تھا کہ ااگر حازم نے اُس کی بات نہ مانی تو اُس نے ایسا کر بھی گزرنا تھا۔۔۔۔
“تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔۔۔۔ نیچے کرو اِسے۔۔۔۔”
حازم نے مُٹھیاں بھینچتے اُسے سختی سے کہا تھا۔۔۔
“میرے قریب مت آنا۔۔۔ میں پانچ منٹ ختم ہونے کا انتظار نہیں کروں گی۔۔۔۔۔”
حبہ اُس کے قدموں کو اپنے قریب آتے دیکھ ہٹ دھرمی سے بولی تھی۔۔۔
“یہ سب کرکے تم اپنی تکلیف بڑھا دو گی۔۔۔ لاعلمی میں جینا اتنا تکلیف دہ نہیں ہوگا تمہارے لیے۔۔۔ جتنا میری سچائی جان کر ہوگا۔۔۔۔”
حازم اُسے وارن کررہا تھا۔۔۔
“میں ابھی کس تکلیف میں جی رہی ہوں۔۔۔ تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔۔۔۔ اگر میری تکلیف کا اتنا اندازہ ہوتا تو اب تک مجھے اپنی سچائی بتا چکے ہوتے تم۔۔۔۔ مگر تمہیں مجھ سے محبت ہے ہی نہیں میر حازم سالار۔۔۔۔۔”
حبہ کی باقی کی بات ہونٹوں میں ہی دبی رہ گئی تھی۔۔۔ جب حازم نے اُس کے منہ سے اپنا نام سنتے ہی اپنے چہرے سے وہ سیاہ رومال ہٹاتے اُس کی نازک جان پر قیامت برپا کردی تھی۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں جو ہمیشہ سیاہ رومال سے جھانک رہی ہوتی تھیں۔۔۔ وہ اِس وقت بنا کسی پردے کے اُس کے سامنے تھیں۔۔۔۔ وہی دلکش نقوش، اعنابی لبوں پر سجی گھنی مونچیں اُس کے چہرے کو مزید رعب دار بنا گئی تھیں۔۔۔۔
حبہ کا چہرا پوری طرح آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا۔۔۔۔ وہ آج دس سال بعد بھی ایک نظر دیکھ کر ہی اُسے پہچان گئی تھی کہ وہ وہی تھا جس کے نام دس سال پہلے اُس نے اپنا آپ لکھوا دیا تھا۔۔۔
مگر وہ اپنے وعدے پورے کیے بغیر اُسے اکیلا چھوڑ کر چلا گی تھا۔۔۔ سامنے کھڑا شخص اُس کا چچا زاد اور اُس کا شوہر تھا۔۔۔ میر حازم سالار۔۔۔۔۔
جو اُس کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ دنیا والوں کے لیے بھی دس سال پہلے مر چکا تھا۔۔۔ مگر حبہ آج تک اِس بات پر یقین نہیں کرپائی تھی۔۔۔ اور آج اُس کا یقین جیت چکا تھا۔۔۔ وہ زندہ سلامت اُس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
حبہ اِس وقت باقی سب کچھ فراموش کر چکی تھی۔۔۔ سوائے اِس بات کے۔۔۔۔ کہ سامنے کھڑا شخص اُس کی زندگی تھا۔۔۔ اُس کی خوشیاں۔۔۔ اُس کا سب کچھ تھا۔۔۔ جس کا بنا کسی اُمید کے اُس نے دس سال انتظار کیا تھا۔۔۔۔۔۔
اور آج اُس کا وہ انتظار اُس کا انعام بن کر اُس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ اُن پر ہوتی فائرنگ اچانک روک دی گئی تھی۔۔۔
حبہ بے خود سی اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ حازم اپنی جگہ کھڑا خاموش نگاہوں سے اُس کا یہ دیوانہ پن دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جو صرف اُس کے لیے تھا۔۔۔۔ وہ پہلے دن سے بہت اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اِس لڑکی اور اِس کے دل و دماغ پر صرف اُس کی حکمرانی تھی۔۔۔۔
حبہ نے ہاتھ بڑھاتے اُس کے چہرے کو چھوا تھا۔۔۔ جیسے اپنے بے یقین دل کو آخری بار یقین دلانا چاہتی ہو۔۔۔۔
“تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔۔ بہت ظالم ہو تم۔۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گی تمہیں۔۔۔۔”
حبہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اُس کے سینے پر مکوں کی برسات کرتی اپنے اندر کی اذیت کو اُسی کے چوڑے سینے پر نکالنے لگی تھی۔۔۔
جب حازم نے اُس کے گرد اپنی بانہوں کا مضبوط حصار قائم کرتے اُسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔۔۔
“میری اصلیت جان کر تم مجھے معاف کر بھی نہیں پاؤ گی۔۔۔۔ “
حازم دل ہی دل میں اُس سے مخاطب ہوتا اُسے قیمتی متاع کی طرح اپنے آپ میں جذب کر گیا تھا۔۔۔۔ اتنا کے حبہ کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ مگر وہ بنا اُس سے دور ہوئے ایسے ہی اُس کے ساتھ لگی کھڑی رہی تھی۔۔۔۔۔
“ایس پی صاحبہ۔۔۔۔ آپ پوری دنیا کے سامنے ایک گینگسٹر کو گلے لگا رہی ہیں۔۔۔ دیکھ لیں کہیں ایسا نہ ہو۔۔۔ یہ ظالم سماج آپ کی وردی کا دشمن بن جائے۔۔۔ میں تو ویسے ہی بدنام ہوں میرا کچھ نہیں جائے گا۔۔ ہاں یہ دلفریب قربت حاصل کرکے فائدہ ضرور ہوگا۔۔۔۔۔”
حازم چہرا جھکا کر اُس کے کان کے قریب سرگوشیانہ لہجے میں بولتا۔۔۔۔ حبہ کا سارا سحر توڑ گیا تھا۔۔۔۔
وہ حازم کے یوں زندہ سلامت سامنے آنے کی خوشی میں اُس کا پچھلا سارا ریکارڈ تو پل بھر میں فراموش کر گئی تھی۔۔۔
وہ بھلا یہ کیسے بھول سکتی تھی کہ وہ دونوں اب بہت الگ دنیاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔۔۔۔
وہ بلیک سٹار تھا۔۔۔۔ سب سے بڑے گینگ کا لیڈر۔۔۔۔
حبہ ایک جھٹکے سے اُس سے دور ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کی اِس حرکت پر حازم کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔۔۔۔
جو حبہ سے پوشیدہ نہیں رہ پائی تھی۔۔
“تمہیں میرے ساتھ گھر چلنا ہوگا۔۔۔۔”
حبہ نے اُس کا ہاتھ تھامے گاڑی کی جانب بڑھنا چاہا تھا۔۔۔
مگر حازم اپنی جگہ سے ٹس سے مس بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
“تم نے میرے حازم سالار ہونے پر کیسے یقین کرلیا۔۔۔ میں نے تو منہ سے اِس بات کا اقرار بھی نہیں کیا۔۔۔ اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت دیا ہے۔۔۔ چہرے تو کسی بھی انسان کا کسی سے بھی میل کھا سکتا ہے۔۔۔۔ تم شاید بھول رہی ہو میں کون ہوں۔۔۔ ایک انتہائی خطرناک انسان کو اپنا شوہر مان کر گھر لے جارہی ہو ایس پی۔۔۔ ایسے نہ ہو نقصان اُٹھانا پڑے۔۔۔”
حازم نے اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑواتے اُسے وارن کیا تھا۔۔۔ اُس کا انداز طنز لیے ہوئے تھا۔۔۔
“بہت بار دھوکا کھا چکی ہوں۔۔۔ اتنے قریب ہونے کے بعد بھی آپ کو نہ پہچان کر۔۔۔ مگر اب کی بار میرا دل و دماغ دونوں ہی اِس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔۔۔۔ اب یہ دل دن نادانی نہیں کرسکتا۔۔۔۔ اور نہ یہ ہاتھ چھوڑے گا۔۔۔۔ “
حبہ نے واپس سے اُس کا ہاتھ تھامتے مضبوط لہجے میں کہا تھا۔۔۔ اُس کی نظریں حازم کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔ دس سالوں کی پیاس تھی۔۔۔ بھلا اتنی آسانی سے کیسے بجھ سکتی تھی۔۔۔۔
وہ کچھ لمحوں کے لیے حازم کی تلخ حقیقت بالکل فراموش کردینا چاہتی تھی۔۔
“اتنے بڑے بول مت بولیں ایس پی صاحبہ۔۔۔ جن پر بعد میں پورا نہ اُتر سکیں۔۔۔۔”
حازم کا ایک بار پھر کیا جانے والا طنز حبہ کو شدید غصہ دلا گیا تھا۔۔۔۔
وہ حازم کی شرٹ سینے سے دبوچتی اُس کے قریب آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
“تم میرے ساتھ نہیں آنا چاہتے۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ کی آنکھیں غصے کی وجہ سے لال ہونے کے ساتھ ساتھ نمی سے بھر گئی تھیں۔۔۔۔
وہ بتا نہیں سکتی تھی حازم کو سامنے پاکر وہ کس قدر خوش تھی۔۔۔۔ وہ ابھی اُن جان لیوا حقیقتوں میں نہیں اُلجھنا چاہتی تھی۔۔۔۔ مگر حازم کا رویہ اور انداز اُس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم پہلے جاکر ایک بار ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔۔۔۔ کیا تم مجھ جیسے انسان کی بیوی بن کر اب بھی رہنا چاہتی ہو جو بلیک سٹار یعنی لوگوں کی زندگیاں نگلنے والا ایک درندہ ہے۔۔۔۔ “
حازم فخریہ انداز میں اُسے اپنی خوبیاں گنواتا جھک کر اُس کا گال چومتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ حبہ شاکی نگاہوں سے اُسے دور جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“مجھ سے شادی کرو گی۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان آنکھوں میں محبت کے دیپ جلائے مہروسہ کے سیدھا دل پر بہت کاری وار کر گیا تھا۔۔۔۔
وہ یک ٹک سی اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ یہ شخص پھر سے کونسا نیا ستم ڈھانے والا تھا اُس کے دل پر۔۔۔۔
مہروسہ بت بنی کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اگر وہ اُس کی اصلیت جانتا تھا تو اُس سے شادی کیونکر کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
تو پھر کیا حازم کا کہا سچ ہونے والا تھا۔۔۔۔ وہ اُسے جان سے مارنے والا تھا۔۔۔۔۔
“کیا ہوا؟؟؟؟ کیا تمہیں میری بات بُری لگی۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اُس کا چہرا تھامتے اپنی جانب کیا تھا۔۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ وہ میں۔۔۔۔ “
مہروسہ پوری طرح ہکلا گئی تھی۔۔۔ اُس نے کبھی تصور میں بھی نہیں سوچا تھا کہ حمدان اُسے ایسا بھی کچھ بول سکتا ہے۔۔۔۔
اُس کی بوکھلاہٹ دیکھ حمدان مسکرایا تھا۔۔۔ اور مہروسہ کو لگا تھا وہ اِس مسکراہٹ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ڈوب جائے گی۔۔۔
“تم سوچ کر۔۔۔۔ فرح یا پھوپھو کو جواب دے سکتی ہو۔۔۔۔”
حمدان اُس کی گھبراہٹ دیکھ اُس کی مشکل آسان کرگیا تھا۔۔۔
اُس کے دور ہونے پر مہروسہ نے اپنی رکی ہوئی سانس بحال کی تھی۔۔۔ جب وہ واپس جاتے جاتے پلٹا تھا۔۔۔
“جواب ہاں میں ہونا چاہیے ڈئیر کزن۔۔۔ ورنہ یہ ایس پی لاشیں گرا دے گا۔۔۔۔”
مہروسہ کی آنکھوں میں دیکھ کر اُسے بہت گہری بات کہتا وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ اُس کا لہجہ جتنا محبت بھرا اور نرم تھا۔۔۔۔ آنکھوں کا تاثر اُتنا ہی پُر اصرار سا تھا۔۔۔۔۔
مہروسہ نے اپنے روم میں جاتے جلدی سے شاہ ویز کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
