Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

“کیا پتا ایسا کرنے میں اُسی لڑکی کی کوئی بھلائی پوشیدہ ہو۔۔۔۔؟؟”
کمرے میں گونجتی مہروسہ کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو ہمیشہ کی طرح سیاہ لباس میں ملبوس سکارف سے اپنا سر اور بال ڈھکے وہ سنجیدہ تاثرات کے ساتھ اندر آئی تھی۔۔۔۔۔
“یہ گینگ لیڈر ہونے کے ساتھ جن بھی ہیں۔۔۔ کبھی بھی کہیں بھی حاضر ہوجاتے ہیں۔۔۔۔”
پریسا مہروسہ کو وہاں آتا دیکھ بدمزا ہوئی تھی۔۔۔۔
“اور ناحق کسی کا قتل کرنے میں بھی کیا مقتول کی بھلائی پوشیدہ ہے۔۔۔۔۔؟؟”
پریسا کو ہر ایک کا اُس شخص کی حمایت کرنا پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔
“جی بالکل۔۔۔ بھلائی ہے اِس میں بھی۔۔۔ مگر ابھی آپ کو اِس کی سمجھ بالکل بھی نہیں آئے گی۔۔۔۔ آپ کا فائدہ اِسی میں ہے کہ شاہ سر جو کہہ رہے ہیں وہ مان جائیں۔۔
اُن کی اِس بات سے انکار کر کے ایسا نہ ہو بعد میں آپ کو بھی پچھتانا پڑے۔۔۔۔”
مہروسہ نے اُسے نرمی سے سمجھانا چاہا تھا۔۔۔۔
“مہرو میم وہ سر کہہ رہے ہیں کہ پریسا جی کو باہر بھیج دیں۔۔۔ کیک بھی بن چکا ہے اور کوئی گل شیر نامی شخص اِن سے ملنا بھی چاہتا ہے۔۔۔۔”
انعم کی اطلاع پر مہروسہ نے اُسے باہر آنے کا کہا تھا۔۔۔ وہ شاہ ویز کی ضد سے کیک تو بالکل بھی نہیں کھانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر گل شیر سے ملنے کا سن کر وہ فوراً باہر کی جانب بھاگی تھی۔۔۔ اُسے لگا تھا کہ گل شیر شاید اُس کی مدد کرپائے۔۔۔۔۔
“گل شیر بھائی آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ آپ کو اِن لوگوں نے کوئی چوٹ تو نہیں پہنچائی نا۔۔۔۔؟؟”
پریسا روم میں داخل ہوتی سیدھی گل شیر کی جانب آئی تھی۔۔۔۔ بیک ہونے کی وجہ سے وہ پیچھے صوفے پر بیٹھے شاہ ویز سکندر کو نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔
“نہیں گڑیا میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ میں یہاں کیک بنانے آیا تھا۔۔۔ مجھے بھلا کوئی کچھ کیوں کہے گا۔۔۔۔”
گل شیر اُس کے متفکر انداز پر نرمی سے بولا تھا۔۔۔
پریسا نے اُس کو مسکراتے دیکھ حیرت بھری نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں خوف یا پریشانی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔۔
“آپ کیک بنانے اپنی مرضی سے تو نہیں آئے نا۔۔۔ وہ جلاد وحشی آپ کو زبردستی گن پوائنٹ پر اُٹھا کر لایا ہوگا نا جیسے مجھے لایا ہے۔۔۔ اور ضرور دھمکی بھی دی ہوگی۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ آپ کو جانے دیں گے اب۔۔۔؟؟ آپ اِن کی اصلیت کسی کو نہ بتا دیں۔۔ اِس لیے آپ کو نقصان تو نہیں پہنچائیں گے نا۔۔۔؟؟”
پریسا کو گل شیر کا اتنا بے فکر انداز چونکائے دے رہا تھا۔۔۔۔
“نہیں گڑیا مجھے یہاں اغوا کرکے نہیں میری مرضی سے لایا گیا ہے۔۔۔۔ اور اِن لوگوں نے مجھے کوئی دھمکی نہیں دی۔۔ میں بس ابھی جانے ہی والا تھا سوچا ایک بار تم سے مل لوں۔۔۔۔”
گل شیر کی بات پر پریسا نے اپنی گول گول آنکھیں گھما کر اُسے گھورا تھا۔۔۔ مگر ابھی اِس سب کا ٹائم نہیں تھا اُس کے پاس۔۔۔۔۔
“آپ میرا ایک کام کریں گے پلیز۔۔۔۔ بابا یا سفیان تک میرا پیغام پہنچا دیں گے۔۔۔۔ اُنہیں بتانا ہے کہ بلیک سٹارز کا سب سے بڑا گینگسٹر شاہ ویز سکندر ہے۔۔۔اور بہت نفرت کرتا ہے اُن دونوں سے۔۔۔۔۔ اُنہیں مارنا چاہتا ہے۔۔۔ آپ پلیز یہ سب اُنہیں بتا دیجیے گا۔۔۔۔۔”
پریسا گل شیر کی جانب ملتجی نگاہوں سے دیکھتی نان سٹاپ بولے جارہی تھی۔۔۔۔
گل شیر اُس سے زیادہ شاہ ویز سکندر کے ہر لمحے بدلتے تاثرات کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ اب اِس بے وقوف لڑکی کی خیر نہیں ہونے والی تھی۔۔۔۔
“گل شیر صاحب باہر آپ کے جانے کی تیاری ہوچکی ہے۔۔۔ اب آپ جاسکتے ہیں۔۔۔۔۔”
پریسا جو گل شیر کو مزید بھی شاہ ویز کے بارے میں بتانا چاہتی تھی اپنے عقب سے بہت ہی قریب سے آتی شاہ ویز سکندر کی آواز پر وہ کرنٹ کی طرح اُچھلتی جیسے ہی پلٹی۔۔۔ اپنے پیچھے بہت قریب کھڑے شاہ ویز سے ٹکرا گئی تھی۔۔۔۔
گل شیر اُنہیں خدا حافظ کرتا خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
پریسا کا خون بالکل خشک ہوچکا تھا۔۔۔۔ سفید چہرے اور لرزتی پلکوں کے ساتھ وہ اپنے ہاتھوں کو بُری طرح مڑورتی اپنے خوف کو کم کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
مگر دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اُسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اب کیا کرے۔۔۔۔ شاہ ویز کے نہایت قریب کھڑے اُس نے ایک ہی قدم بھی پیچھے نہیں بڑھایا تھا۔۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے کہ میرے بارے میں کچھ بھی اپنے اُس سوکولڈ باپ اور منگیتر کو بتاؤ گی تو مجِھے زرا سا بھی فرق پڑے گا۔۔۔۔ وہ لوگ میرا بال بھی بیکار نہیں کرسکتے۔۔۔۔ مگر میرا وعدہ ہے تم سے۔۔ اُن کا جینا حرام کردوں گا۔۔۔۔ کل تمہیں میں یہاں سے آزاد کردوں گا۔۔۔ اور تم واپس آفندی مینشن میں جاکر وہی کرو گی جو میں نے کہا ہے تم سے۔۔۔۔ زرا سی بھی ہوشیاری دیکھانے کی کوشش کی تو آفندی مینشن کے لوگوں کی ایک ایک کرکے لاشیں ملنا شروع ہوجائیں گی۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے زرد پڑتے چہرے پر اپنی تپیش زدہ نگاہیں گاڑھے وارن کررہا تھا۔۔۔۔۔
“میرے ساتھ ایسا کیوں کررہے ہو۔۔۔ میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا آج اُس سے دور نہیں ہوئی تھی۔۔۔ اُس کے عین سامنے کھڑے وہ اُس سے سوال کررہی تھی۔۔۔
وہ دونوں بہت قریب کھڑے تھے۔۔۔ شاہ ویز کی گرم سانسوں سے پریسا کو اپنا چہرا جھلستا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔ مگر اُس کی آنکھوں میں جھانکتی ایسے ہی کھڑی رہی تھی۔۔۔۔
اُس کے وجود سے اُٹھتی بھینی بھینی خوشبو شاہ ویز سکندر کو ایک بار پھر اپنی جانب مائل کررہی تھی۔۔۔ مگر وہ خود کو اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا بہت اچھے سے جانتا تھا۔۔۔۔
“درندہ ، جلاد اور وحشی انسان بھلا کوئی کام کسی مقصد کے لیے کیسے کرسکتا ہے۔۔۔ وہ اپنی درندگی ہی دیکھائے گا نا۔۔۔۔ کیونکہ وہ ایک درندہ جو ہے۔۔۔۔ مجھ جیسے درندے اور وحشی میں نہ تو جذبات ہیں نہ احساسات۔۔۔۔ تو میرے سامنے رو دھو کر اور یوں احتجاج کرکے تم اپنا ہی نقصان کررہی ہو۔۔۔ میرا کچھ نہیں بگڑے گا۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُسے اُس کی باتوں کا بہت گہرائی سے جواب دیتا واپس جانے کو پلٹا تھا۔۔۔
جب اچانک اُس کی نظر ساتھ ٹیبل پر رکھے کیک پر پڑی تھی۔۔۔۔ وہ کیک کی جانب بڑھا تھا اور ہاتھ میں کیک کا چھوٹا سا ٹکرا اُٹھاتے پریسا کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے۔۔۔۔”
شاہ ویز نے پریسا کے سامنے کیک کرنے کے ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے اُس کا منہ بھی خود ہی کھول دیا تھا۔۔۔۔ تھوڑا سا کیک پریسا کے منہ میں گیا تھا۔۔۔ باقی اُس کے ہونٹوں پر سارا لگ چکا تھا۔۔۔۔
پریسا جو پیچھے ہورہی تھی شاہ ویز کی حرکت پر وہیں رُک گئی تھی۔۔۔۔ وہ اُس کا جھوٹا کیک کھا رہا تھا۔۔۔۔
پریسا کی آنکھیں ایک بار پھر کھل چکی تھیں۔۔۔
اقراء نے تو اُسے یہی بتایا تھا کہ شاہ ویز نہ تو کسی کا جھوٹا کھاتا تھا اور میٹھا تو بالکل بھی نہیں کھاتا تھا۔۔۔۔ پھر اُس کی یہ حرکت۔۔۔۔
پریسا کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔۔۔۔ اُسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز بنا مزید کچھ بولے واپسی کے لیے پلٹا تھا۔۔۔۔ جب اچانک چھن کی آواز کے ساتھ اُس کی پاکٹ سے کچھ نکل کر زمین پر گرا تھا۔۔۔
پریسا نے جلدی سے آگے ہوکر دیکھنا چاہا تھا۔۔۔ مگر شاہ ویز اُس سے پہلے ہی اُس اپنی مُٹھی میں قید کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
“یہ تو کوئی جیولری تھی نا اِس کے پاس۔۔۔ کیا یہ کسی لڑکی سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔؟؟؟ کون ہوسکتی ہے وہ۔۔۔؟؟؟ مجھے اقراء سے پوچھنا ہوگا۔۔۔ کیا پتا وہ لڑکی اِن پاگل سنکی کا دماغ جگہ پر لگانے میں کوئی مدد کر سکے۔۔۔”
پریسا ٹشو لے کر اپنے ہونٹوں سے کیک صاف کرتی۔۔۔ شاہ ویز کی یہ حرکت فراموش کرتی اگلے مشن پر لگ چکی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حازم حبہ کو بے ہوش کرکے بیڈ پر لٹا کر روم کو ہر طرف سے اچھی طرح لاکر کرتا باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔
کان میں اُس نے ایک ائیر پیس لگا رکھا تھا۔۔۔ جو اُس تک حبہ کے تکیے کے پاس لگے سپیکر سے اُس کی سانسوں کی آواز اُس تک پہنچا رہا تھا۔۔۔ تاکہ حازم کو پتا چل سکتا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ اور سو رہی ہے۔۔۔
چاروں جانب گارڈز نے ہر راستے کو گھیر رکھا تھا۔۔۔ حازم بہت اچھے سے جانتا تھا کہ حبہ کی ماں اور بہن کو کہاں رکھا گیا ہے۔۔۔۔ وہ سب سے پہلے اُن تک پہنچ کر باحفاظت اُنہیں یہاں سے نکالنا چاہتا تھا۔۔۔۔
حبہ کو ساتھ نہ لانے میں بھی اُس کہ سیکیورٹی تھی۔۔۔ وہ جانتا تھا جس طرف اِس وقت وہ بڑھ رہا ہے وہ جگہ خطرے سے خالی نہیں تھی۔۔۔۔ اُسے تو پھر شمشیر خان بلیک سٹارز کی دہشت کی وجہ سے چھوڑ دیتا۔۔۔ لیکن اگر اُنہیں حبہ کے یہاں ہونے کی زرا سی بھی بھنک پڑ جاتی تو اُنہوں نے حبہ کو نہیں چھوڑنا تھا۔۔۔
حازم کو اُس کے مخبری نے اطلاع دی تھی کہ شمشیر کو حبہ کے حوالے سے شک ہوچکا ہے۔۔۔۔ اس لیے حازم اُس کے حوالے سے اتنی احتیاط برت رہا تھا۔۔۔۔
حازم نے پہلے کوریڈور میں ٹہلتے تہہ خانے کے راستے کا اندازہ لگایا تھا۔۔۔ اور پھر سب سے نظر بچا کر وہ ٹیرس سے اُتر کر پائپوں سے اُتر کر تہہ خانے کے روشن دان تک آن پہنچا تھا۔۔۔۔
اپنی جیب سے اپنا خاص ہتھیار نکالتے اُس نے سب سے پہلے روشن داں کھولا تھا۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے تہہ خانے میں کسی گارڈ کو نہ پاکر وہ اندر اُتر گیا تھا۔۔۔
جہاں سکڑی سمٹی بیٹھی حبہ کی ماما اور چھوٹی بہن کو دیکھ حازم کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔
قدموں کی آواز پر دونوں گھبرا کر مزید ایک دوسرے میں سمٹ گئی تھیں۔۔۔۔
“آپ دونوں گھبرائیں نہیں۔۔۔ میں آپ کو نقصان پہنچانے نہیں۔۔ آپ کی مدد کرنے آیا ہوں۔۔۔۔”
حازم اُن کے قریب آکر بیٹھتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔
مگر اُس کے باوجود اُن کا خوف کم نہیں کر پایا تھا۔۔۔
“آپ لوگ میرے ساتھ چلیں۔۔۔ میں آپ کو یہاں سے باحفاظت باہر نکال دوں گا۔۔۔۔”
حازم نے اُن دونوں کے خوفزدہ چہروں کو دیکھتے ایک بار پھر کہا تھا۔۔۔۔
“لیکن تم اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہماری مدد کرنے کیوں آئے ہو۔۔۔۔؟؟”
نجمہ بیگم نے مشکوک نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔
“کیونکہ جس میں میری جان بستی ہے۔۔۔ اُس کی جان آپ لوگوں میں قید ہے۔۔۔۔”
حازم یہ الفاظ دل میں ہی ادا کرکے رہ گیا تھا۔۔۔
“مجھے ایس پی حبہ نے بھیجا ہے۔۔۔ میں آپ کی مدد کرکے اپنی ڈیوٹی پوری کررہا ہوں۔۔۔ آپ جلدی سے چلیں میرے ساتھ۔۔۔ ایسے نہ ہو یہاں کوئی آجائے۔۔۔۔”
حازم اُنہیں بہت مشکل سے خود پر اعتبار کرواتا اُنہیں ساتھ لیے واپس اُسی راستے سے نکل آیا تھا۔۔۔۔
وہ جیسے ہی لان میں آئے تھے۔۔۔ حازم کے اشارے پر اُس کے آدمی نے پورے بنگلے کی لائٹ کا کنکشن کاٹ دیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہر شے اندھیرے میں ڈوب گئی تھی۔۔۔ حازم اُن دونوں کا ہاتھ پکڑے گیٹ پر کھڑے اپنے آدمی کو اشارے سے گیٹ کا دروازہ کھولنے کا کہتا دونوں کو باہر موجود جنید کے پاس باحفاظت چھوڑتا واپس اندر آگیا تھا۔۔۔۔
شمشیر خان پر اُس کی نظر اُس وقت سے تھی جب اُس نے حبہ پر حملہ کیا تھا۔۔۔ شمشیر خان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُس کے آس پاس کچھ آدمی بلیک سٹارز کے بھی کام کررہے تھے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حمدان اپنی ایک امپورٹنٹ میٹنگ اٹینڈ کرتا اپنے دوسرے گھر جانے کے بجائے واپس صدیقی ولا لوٹ آیا تھا۔۔۔ اُسے اُجالا کی وجہ سے اپنے گھر والوں کی بہت ٹینشن تھی۔۔۔
زین پر پہلے حملہ ہوچکا تھا۔۔۔ وہ اب کسی اور کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔۔
حمدان جس طرح بنا کھانا کھائے چلا گیا تھا۔۔۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ حمدان اب دوبارہ واپس آئے گا۔۔۔ اِس لیے گیسٹ روم سیٹ نہ ہونے کی وجہ سے فرح نے اُجالا کو آج رات کے لیے حمدان کے روم میں بھیج دیا تھا۔۔۔۔ جہاں بہت عرصے سے حمدان نے قدم نہیں رکھا تھا۔۔۔۔ مگر فرح پھر بھی نجانے کس اُمید پر ہر روز اُس کا روم صاف کرتی تھی۔۔۔۔
اُجالا حمدان کے بیڈ پر اُس کے کمفرٹر میں دبکی خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔۔۔۔ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حمدان واپس آجائے گا۔۔۔۔ حمدان روم میں داخل ہوتا زیرو پاور کی روشنی آن دیکھ حیران ہوا تھا۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو اُس کی آمد کی اِس وقت اطلاع ملے۔۔۔ اِس لیے وہ بنا لائٹ آن کیے اپنے بیڈ کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
پولیس اسٹیشن سے آتے وقت وہ چینج کرکے آیا تھا۔۔۔ آج کا دن اُس کے لیے جس قدر بُرا تھا۔۔۔ وہ بُری طرح تھک چکا تھا۔۔۔ اور اِس وقت گہری نیند سونا چاہتا تھا۔۔۔۔
اپنے دھیان میں وہ جہازی سائز بیڈ کے ایک کونے میں لحاف میں لپٹے وجود کو نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔۔
بیڈ پر لیٹتے اُس نے آنکھوں پر بازو رکھتے آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔۔
اُس کی آنکھ لگے ابھی تھوڑا ٹائم ہی گزرا تھا جب کروٹ بدلنے پر اُسے اپنے بہت قریب کوئی نرم گرم شے محسوس ہوئی تھی۔۔۔ حمدان نیند میں اُسے تکیہ سمجھتا اپنی عادت کے مطابق اپنے مزید قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ جو گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔۔۔ اپنے اُوپر محسوس ہوتے بھاری وزن۔۔۔ اور کچھ لمحے بعد کمر میں محسوس ہوتے کھنچاؤ پر اُس نے پٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں۔۔۔
مگر سامنے کا منظر دیکھ اُس کا شرم سے ڈوب مرنے کو دل چاہا تھا۔۔۔۔
وہ اِس وقت ایس پی حمدان صدیقی کے بہت قریب اُس کی بانہوں میں تھی۔۔۔۔
مہروسہ نے حمدان کے سینے پر دونوں ہتھیلیوں کا دباؤ ڈالتے اُسے خود سے دور دھکیلا تھا۔۔۔۔ اُسی لمحے حمدان کی آنکھ بھی کھل چکی تھی۔۔۔۔ مہروسہ کو اپنے بے انتہا قریب۔۔۔ اپنی بانہوں میں دیکھ حمدان کے چہرے پر پہلے ناسمجھی، حیرانی اور پر شدید غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔۔۔
“تم میرے اتنے قریب میرے بیڈ پر کیا کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اتنی زور سے اُس کی کلائی دبوچی تھی کہ مہروسہ کو اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“ارے سر آپ یہاں۔۔۔ وہ شمشیر سر آپ کو بلا رہے ہیں وہاں۔۔۔ محفل بس شروع ہونے ہی والی ہی۔۔۔ بس آپ کو انتظار ہے۔۔۔۔”
حازم روم کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔ جب شمشیر کا خاص آدمی اُس کے قریب آتے بولا تھا۔۔۔۔
حازم روم میں حبہ کے پاس جانا چاہتا تھا۔۔۔۔ مگر اِس وقت وہ انکار نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ اِس لیے مجبوراً اُس محفل میں جانا پڑا تھا۔۔۔ جس سے اُسے اور شاہ ویز کو سخت نفرت تھی۔۔۔۔
حبہ کے سامنے اُس نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا تھا۔۔۔ ورنہ سچ تو یہ تھا کہ اُنہوں نے آج تک ایسی کوئی محفل کبھی نہیں رکھی تھی۔۔۔۔
حازم کے شمشیر خان کے قریب گھاؤ تکیے پر بیٹھتے کی محفل کا آغاز کردیا گیا تھا۔۔۔۔ وہاں آئی رقصائیں۔۔۔ گانے کے ساتھ ہی تھڑکنا شروع کر چکی تھیں۔۔۔۔
مگر حازم نے ایک بار بھی نظر اُٹھا کر اُن کی جانب نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ تو بس خاموشی سے اپنے کانوں میں سنائی دیتی اپنی ّزندگی کی مدھم مدھم سانسیں سن رہا تھا۔۔۔۔
جب اچانک وہ رقصہ اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔ اُس نے جیسے ہی قریب آتے حازم کے گلے میں بانہیں ڈالیں حازم نے نگاہیں اُٹھا کر جس قہر بھرے انداز میں دیکھا تھا۔۔۔۔ فوراً ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر پیچھے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔
اُس عورت کو سمجھنے میں ایک لمحہ لگا تھا کہ یہ کیسے کردار کا کا انسان ہے۔۔۔۔
اچانک حازم کے کانوں میں آتی حبہ کی آواز بند ہوگئی تھی۔۔۔۔ جو بات حازم کو بے چین سا کر گئی تھی۔۔۔ وہ جانتا تھا اگر اُس کی جنگلی بلی ہوش میں آگئی تو اِس بنگلے کو ہلا کر رکھ دے گی۔۔۔ اِس لیے اُسے فوری طور پر حبہ کے پاس پہنچنا تھا۔۔۔۔ شمشیر کو کسی اہم فون کال کا کہتا وہ وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔
وہ ابھی روم سے تھوڑے سے فاصلے پر ہی تھا جب اُسے زونیا اپنی جانب آتی دیکھائی دی تھی۔۔۔۔
حازم اُسے اِس وقت وہاں دیکھ جی بھر کر بدمزا ہوا تھا۔۔۔ جو بڑی نزاکت سے اپنی سیاہ ساڑھی کا پلو لہراتی والہانہ نگاہوں سے اُسے دیکھتی اُس کے قریب آرہی تھی۔۔۔۔
“کل ہی دربار پر جاکر سو لوگوں کو کھانا کھلا کر آپ سے ملاقات کی منت مانگی تھی۔۔۔ دیکھیں میری محبت کی طاقت آج آپ میرے سامنے کھڑے ہیں۔۔۔۔”
زونیا دیوانہ وار نگاہوں سے حازم کے نقاب میں چھپے چہرے کو نہارتے بولی۔۔۔۔ اُس نے حازم کو دیکھ رکھا تھا۔۔۔ یہ چہرا نہ دیکھانے والی احتیاط صرف حبہ کے لیے برتی گئی تھی۔۔۔۔
“تو اتنے سچے دل سے اپنے لیے ہدایت مانگ لیتی۔۔۔ تو تمہاری زندگی ہی سنور جاتی۔۔۔۔”
حازم ہمیشہ کی طرح اُسے سرد اور سپاٹ لہجے میں جواب دیتے بولا۔۔۔۔۔
اُس کا نرم اور محبت بھرا انداز صرف ایس پی حبہ کے لیے ہی ہوتا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔