Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

اے آئی جی صاحب شہر کی خراب ہوتے حالات کو دیکھ شدید پریشانی کا شکار تھے۔۔۔ سیاسی شخصیت کا انوالو ہونے کی وجہ سے اُن پر پریشر مزید بڑھ چکا تھا۔۔۔۔
جس کا اُنہوں نے ایک ہی حل یہ نکالا تھا کہ اپنا سارا بوجھ ایس پی حمدان کے کندھوں پر ڈال دیا تھا۔۔۔ اِس بات پر یقین ہوتے ہوئے کہ ایس پی حمدان صدیقی ہر بار کی طرح اِس معاملے کو بھی سنبھال لے گا۔۔۔۔
“سر آپ فکر مت کریں۔۔۔۔ میں اِس معاملے کو دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔ سر جہاں تک میری انفارمیشن ہے بلیک سٹارز کے مین. لیڈرز تین افراد ہیں۔۔۔۔ جن میں دو اِس وقت گرفتار ہوچکے ہیں۔۔۔ اور تیسری کو کہ ایک لیڈی ہے۔۔۔ وہ اپنے ساتھیوں کو رہاع کروانے کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ یہ سب کررہی ہے۔۔۔۔ اگر یہ لڑکی ہمارے ہاتھ لگ جاتی ہے۔۔۔ تو بلیک سٹارز گینگ کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔۔۔۔ کافی پاور میں آچکے ہیں یہ لوگ۔۔۔۔ آئے دن اِن کا کوئی نہ کوئی گھناؤنا فعل سامنے آرہا ہے۔۔۔۔۔ اتنی بڑی سیاسی شخصیت کو پہلے دھمکانا اور پھر اتنی سخت سیکورٹی کے بیچ اُس کے گھر میں گھس کر اُسے جان سے مارنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔۔۔ اِن لوگوں کی پہنچ بہت زیادہ ہے۔۔۔ ملک کے بڑے بڑے علاقوں میں اِن کا نیٹ ورک پھیل چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو آگے آنے والے وقتوں میں ہم پر بہت بھاری پڑ سکتا ہے۔۔۔۔
سر اگر اُن کی اُس تیسری گینگ لیڈر کو جان سے مارنے کا وارنٹ مل جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔ ورنہ یہ لوگ اِسی بات کا فائدہ اُٹھا کر ہر بار بہت قریب پہنچ کر ہمارے ہاتھوں سے بچ نکلتے ہیں۔۔۔۔۔”
حمدان کو اُس دن مظلوم فقیرنی بنی اُس لڑکی کا خیال آیا تھا۔۔۔ جس نے عورت ہونے کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے نہایت ہی ہوشیاری کے ساتھ عورت کارڈ پلے کرتے اُس کے پولیس اہلکاروں کا لوگوں سے پٹوا دیا تھا۔۔۔ جسے وہ لوگ پکڑنے ہی والے تھے۔۔۔ مگر ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی وہ بلیک سٹارز گینگ کی لیڈر نہایت قریب آکر بچ نکلی تھی۔۔۔۔۔
“میں نے ابھی آئی جی صاحب سے بات کی ہے۔۔۔۔ مگر اُن کے مطابق بلیک سٹارز کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ملک میں پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔ جسے ختم کرنے کے لیے اُن کے تینوں لیڈرز کا زندہ پکڑا جانا انتہائی ضروری ہے۔۔۔۔ تبھ ہی ہم پورے نیٹ ورک کو ختم کرسکتے ہیں۔۔۔۔ شبیر چوہان کو مارنے کے بعد وہ پولیس فورس پر حملہ کرکے آرام سے بچ نکل سکتے تھے۔۔۔ مگر اُنہوں نے خود کو پولیس کسٹڈی میں دے دیا۔۔۔۔ اُس کے بعد اُنہیں سنٹرل جیل کے جاتے ہوئے راستے میں جو کچھ ہوا وہ آرام سے فرار ہو سکتے تھے اُنہوں نے تب بھی ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔ وہ عوام اور پولیس والوں کے اتنے خیر خواہ تو ہیں نہیں کہ وہاں پھیلتی بدنظمی اور زخمی ہوتے لوگوں کو دیکھ اُنہوں نے اپنے فرار ہونے کا ارادہ ختم کردیا ہو۔۔۔۔
اُن کا کوئی تو بہت بڑا پلان ہے اِس سب کے پیچھے۔۔۔۔ جو ہمیں اُن کی تیسری گینگ لیڈر کی گرفتاری کے بعد ہی پتا چل سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ آپ اپنی فورس کو تیار کریں۔۔۔ اور پورے ایریا پر ایمرجنسی نافذ کردیں۔۔۔ بنا چیکنگ کے کوئی گاڑی بھی اِس شہر سے نکل نہ پائے۔۔۔۔ “
اے آئی جی کی بات پر خاموشی سے سر ہلا کر اُنہیں سیلوٹ کرتا وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“اب ساری زندگی اِسی جیل میں سڑو گے تم گھٹیا انسان۔۔۔ دوسروں کی جان لینے کا بہت شوق ہے نا تمہیں۔۔
اب تمہیں پتا چلے گا پل پل اذیت کی موت مرنا کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔”
حبہ اُسے جیل میں ڈال کر لاک لگاتی اُس کی جانب نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھتی زہر خند لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔۔
حازم کے ہاتھ سے ابھی تک خون بہہ رہا تھا۔۔۔ جو ہاتھ اُس نے صرف اِس حد درجہ کھڑوس پولیس والی کو بچانے کے لیے زخمی کیا تھا۔۔۔۔
اُسے اور شاہ ویز کو الگ الگ جگہوں پر لے جایا گیا تھا۔۔۔ تاکہ اُن کے آدمیوں کی مزید تخریب کاریوں سے بچا جا سکے۔۔۔۔
“بہت ظالم لڑکی ہو ویسے۔۔۔۔ احسان مند ہونا تو دور کی بات انسانی ہمدردی جتاتے زخم پر مرہم تو لگا ہی سکتی تھی نا۔۔۔۔”
حازم نے اُس کے سخت لفظوں کا اثر لیے بغیر اپنے زخمی ہاتھ کو دیکھتے اُس سے ایسے شکوہ کیا تھا۔۔۔ جیسے وہ واقعی اُس کی محبوبہ ہو۔۔۔
حبہ اُس کے اِس دلبرانہ انداز پر جل بھن کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
“کاش میں اِس زخم پر نمک چھڑک کر تم جیسے ضمیر فروش لوگوں کو تکلیف اور اذیت کا مزا چھکا سکتی۔۔۔۔”
حبہ نے ایک نظر اُس کے خون آلود ہاتھ پر ڈال کر نفرت سے نظریں پھیری تھیں۔۔۔ جو جیل کی سلاخوں سے لگا بے باک نگاہوں سے اُسے سر سے پیر تک گھورے جارہا تھا۔۔۔
حبہ کا دل چاہا تھا۔۔۔ اُس کی آنکھیں نوچ لے۔۔۔
“نمک چھڑک تو رہی ہیں۔۔۔ میرے اِس زخمی دل پر۔۔۔ اور کتنا چھڑکیں گی۔۔۔۔۔ ویسے اگر ساری زندگی تم ایسے ہی یہاں کھڑا رہنے کا وعدہ کرو تو قسم سے میں پوری زندگی کے لیے اِس جیل میں سڑنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔”
حازم کی نگاہیں اُس کے گلابی گال پر چمکتے سیاہ تل پر ٹک گئی تھیں۔۔۔۔
“تم گھٹیا انسان۔۔۔۔ بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ یہ سب بول کر اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کررہے ہو۔۔۔ چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں۔۔۔۔۔”
حبہ غصے سے چلاتی اُنگلی اُٹھا کر اُسے وارن کرتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
“اِس چیختی چلاتی پولیس والی کو اب اپنے ساتھ بنگلے پر لے جانا ہی پڑے گا۔۔۔۔ اِس کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لیے۔۔۔۔۔۔”
حازم اُسے دور جاتے دیکھتا شوخی سے مسکرا کر رہ گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے چہرے پر کسی قسم کے خوف کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا۔۔۔۔ اُس نے ایک بہت باری سیاسی شخصیت کو مارا تھا۔۔۔۔ جس کی سزا پھانسی سے کم نہیں ہونے والی تھی۔۔۔۔۔
مگر اُسے مہروسہ اور اپنی فورس کے زورِ بازو پر پورا بھروسہ تھا۔۔۔۔ جو اُن دونوں کو چوبیس گھنٹے سے زیادہ اِس جیل میں نہیں رہنے دینے والے تھے۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“آخر کس کی نظر لگ گئی ہے میری پھول سی بچی کو۔۔۔۔۔ ہر بار کوئی نہ کوئی تکلیف آئے جارہی ہے۔۔۔۔ فضہ تم پری سے الگ کیوں ہوئی۔۔۔ اگر خدانخواستہ میری بچی کو کچھ ہوجاتا تو۔۔۔۔۔”
یاسمین بیگم ڈری سہمی پری کو گلے سے لگائے فضہ کو جھاڑتے ہوئے بولیں۔۔۔۔
جنید نے شاہ ویز کے حکم کے مطابق پریسا کو باحفاظت اُس ہجوم سے نکال کر اُس کی مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا تھا۔۔۔۔ جبکہ گھر والے سب پریسا کی حالت دیکھ شدید پریشانی کا شکار ہوئے تھے۔۔۔۔ ابھی وہ بچاری کل والے حادثے سے نہیں سنبھلی تھی۔۔۔ کہ آج پھر یہ سب ہوگیا تھا۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ڈاکٹر اُس کے زخم کی بینڈیج کرکے گیا تھا۔۔۔ پری نے یاسمین بیگم کو منہ کردیا تھا کہ سفیان یا کسی اور کو اِس بارے میں بتا کر پریشان کرنے کی ضرروت نہیں ہے۔۔۔۔ وہ اب بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔
“سب مجھے ہی ڈانٹے جارہے ہیں۔۔۔ کسی کو اندازہ ہے میں بھی اُسی بھیڑ سے اپنی جان بچا کر نکلی ہوں۔۔۔”
فضہ ہر جانے سے ملنے والی لتاڑ پر منہ پھلاتے خفگی کا اظہار کرتے بولی تھی۔۔۔۔
“آپ لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا ہے۔۔۔۔ ملک می کتنا وبال مچا ہوا ہے۔۔۔۔۔ “
طلحہ اپنے روم سے باہر نکلتا ڈرائنگ روم کا ٹی وی آن کرتے بولا۔۔۔ جس پر وہ سب بھی ٹی وی کی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔۔۔۔
مگر ٹی وی سکرین پر چلتی فوٹیج دیکھ پریسا کا خون خشک ہوا تھا۔۔۔۔۔
جو دو افراد شبیر چوہان کے قاتل کے رُوپ میں دیکھائے جارہے تھے۔۔۔۔۔ اُن میں سے ایک کو دیکھ پریسا کو ہوا میں آکسیجن کم ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ خوف سے اُس کا چہرا پسینے سے بھر گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ شخص کوئی اور نہیں وہی تھا جس کے سینے سے لگی وہ اتنی دیر کھڑی رہی تھی۔۔۔۔۔
“ییی یہ کک کون ہے۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا کے منہ سے بمشکل یہ الفاظ ادا ہوئے تھے۔۔۔۔۔
“یہ بلیک سٹارز گینگ کا مین لیڈر ہے۔۔۔ جسے بلیک بیسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔۔۔ نجانے کتنے لوگوں کو اب تک انتہائی بے دردی سے مار چکا ہے۔۔۔۔۔”
طلحہ نے سکرین پر نگاہیں گاڑے جواب دیا تھا۔۔۔ سب ٹی وی کی جانب متوجہ ہونے کی وجہ سے اُس کی خوف سے فق ہوتی رنگت نہیں دیکھ پائے تھے۔۔۔۔
ٹی وی سکرین پر بار بار اُنہیں لوگوں کو دیکھایا جارہا تھا۔۔۔۔ جب اچانک پریسا کی نظر اُس شخص کے دائیں ہاتھ کی پشت پر بنے نشان پر پڑی تھی۔۔۔۔ جس کے ساتھ ہی اُسے بہت کچھ یاد آگیا تھا۔۔۔۔
کل کا واقعہ اتنا پرانا نہیں تھا کہ وہ اِس ظالم شخص کو نہ بھول پاتی۔۔۔۔ اِسی ہاتھ سے اِس شخص نے اُسے تھام کر گرنے سے بچایا تھا۔۔۔۔ تو اِس کا مطلب وہ کل جس شخص سے ٹکرائی تھی وہ یہی تھا۔۔۔۔ مگر اُس کی آنکھیں تو بہت پیاری تھیں۔۔۔ اور آج جس شخص سے وہ ٹکرائی تھی وہ تو بہت بدصورت سا تھا۔۔۔۔۔۔
پریسا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
جب اچانک اُس کے زہن میں جھماکا سا ہوا تھا۔۔۔۔
“تو اِس کا مطلب اِس نے پولیس کو دھوکا دینے کے لیے اپنا حلیہ تبدیل کررکھا ہے۔۔۔۔۔”
پریسا نے شاکی نگاہوں سے ٹی وی سکرین کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ کچھ بولنا چاہتی تھی۔۔۔۔ مگر اُس کے ہونٹوں سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہو پایا تھا۔۔۔۔
اُس ٹی وی سکرین ميں قید شخص کے خوف نے اُسے بُری طرح جکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
شہر میں آنے جانے والے ہر راستے پر ایس پی حمدان نے ناکہ بندی کروا دی تھی۔۔۔۔ کوئی بھی گاڑی بغیر چیکنگ کے نہیں آ جا سکتی تھی۔۔۔۔
“میم اب ہم اِن بچوں کو لے کر کیسے نکلیں گے یہاں سے۔۔۔۔ یہاں پر تو ہر راستے پر پولیس کی اسلحے سے لیس بھاری نفری موجود ہے۔۔۔۔۔ “
کیپٹن جنید روم میں داخل ہوتا پریشانی سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔ جہاں مہروسہ باقی بچوں کے ساتھ ابھی کچھ دیر پہلے ہیلتھ منسٹر کے پانچ سال کے بیٹے کو اغوا کرکے لے آئی تھی۔۔۔۔ مگر اُس کمرے کا منظر دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ اِن شاہانہ انداز میں بیٹھ کر چپس کھاتے اور کارٹون دیکھتے بچوں کو یہاں اغوا کرکے لایا گیا ہے۔۔۔۔۔
“آپی آپ بھی آئیں نا ہمارے ساتھ بیٹھ کر کارٹون دیکھیں۔۔۔۔۔”
مہروسہ جنید کی بات سننے اُٹھ کر اُس کے پاس جانے لگی تھی۔۔۔ جب منسٹر کے بیٹے حمزہ نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔۔۔۔ جبکہ جنید یہ منظر دیکھ اتنی ٹینشن میں بھی مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کنول جیسی لڑکی اُس نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔۔۔ جو چٹکیوں میں دوسروں کے دلوں میں بنانا جانتی تھی۔۔۔ نجانے کیا جادو تھا اُس میں۔۔۔ کہ جس سے ملتی تھی۔۔۔ اُسے اپنا گرویدہ بنا لیتی تھی۔۔۔۔۔
“ضرور میں دیکھوں گی آپ کے ساتھ۔۔۔ مگر ابھی ہم نے جو پلان بنایا ہے اُس کو بھی تو پورا کرنا ہے نا۔۔۔ ہم آپ کے ماما بابا کے ساتھ چور پولیس والا جو کھیل کھیل رہے ہیں۔۔۔۔ اُس کے لیے باہر تو جانا پڑے گا۔۔۔۔ آپ لوگ یہیں بیٹھیں میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔”
مہروسہ اُنہیں پیار کرتی جنید کے پاس آئی تھی۔۔۔
“جس طرح آپ اِن پر پیار جتا رہی ہیں۔۔۔ مجھے تو یہی ڈر ہے اِن بچوں نے اپنے ماں باپ کو پہچاننے سے ہی انکار کردینا ہے۔۔۔ پھر ایک نیا کیس بن جائے گا بلیک سٹارز گینگ پر ۔۔۔۔”
جنید کی بات پر مہروسہ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔
“بہت پیارے بچے ہیں۔۔۔ میں نہیں چاہتی اِن کے دماغوں پر اِس بات کا زرا سا بھی اثر ہو کہ اِنہیں اغوا کیا گیا ہے۔۔۔ ہر معصوم کچا زہن یہ اذیت برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔”
ماضی میں گزری اذیتیں کسی فلم کی طرح اُس کے دماغ زہن کے پردے پر اُبھر کر معدوم ہوئی تھیں۔۔۔۔
جنید کو اُس کی آنکھوں میں تیرتی اذیت دیکھ دکھ ہوا تھا۔۔۔۔
“کیا خبر ہے باہر کی۔۔۔۔۔ لگتا ہے اب ہمیں اپنا اگلا قدم اُٹھانا پڑے گا۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے فوراً خود کو نارمل کرتے پوچھا تھا۔۔۔
“ایس پی حمدان صدیقی اِس وقت پوری طرح ایکشن میں آچکے ہیں۔۔۔ پورے شہر کے ہر آنے جانے والے راستوں پر پولیس کا راج ہے۔۔۔۔۔ کوئی بلی کا بچہ بھی اُن کی اجازت کے بغیر شہر سے نہیں نکل سکتا۔۔۔۔۔”
جنید کی بات پر مہروسہ کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔
“ویری نائس۔۔۔۔ تو مطلب اُس سٹریل مگر بے حد ہینڈسم پولیس والے سے پھر ملاقات ہونے والی ہے۔۔۔۔ اب تو مشن پورا کرنے میں اور بھی مزا آئے گا۔۔۔ مقابلہ تو ٹکر کا ہے۔۔۔۔”
چند لمحوں کے لیے مہروسہ کی نگاہوں میں اُس شخص کا تیکھے نقوش سے سجا خوبرو چہرا آن ٹھہرا تھا۔۔۔۔
“اگر پکڑے گئے تو۔۔۔۔ سنا ہے ایس پی حمدان صدیقی کو آج تک کبھی کسی کیس میں ناکامی حاصل نہیں ہوئی۔۔۔”
جنید نے اُسے متوقع خطرے سے آگاہ کرنا چاہا تھا۔۔۔۔
“وہ اِس لیے کیونکہ ایس پی حمدان صدیقی کی ہار صرف مہروسہ کنول کے ہاتھوں ہی لکھی ہوئی ہے۔۔۔۔”
مہروسہ کا کانفیڈنس لاجواب تھا۔۔۔۔ وہ آگے بڑھ کر منسٹر کے بیٹے حمزہ کو نہایت ہی پیار سے اپنا پلان سمجھاتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔
“واؤ۔۔۔۔۔ ہم بالکل ٹھیک وقت پر ٹھیک جگہ پہنچے ہیں۔۔۔ فیصل کو کہو اپنی ٹیم کے ساتھ پچھلی طرف بالکل تیار رہیں۔۔۔ میرے ساتھ چھوٹا بچا ہوگا غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔۔۔۔”
مہروسہ جنید کو گاڑی ناکے سے زرا فاصلے پر روکنے کا کہتی پوری ہدایت دیتے باہر نکلی تھی۔۔۔ اُسے اطلاع ملی تھی کہ ایس پی حمدان اِس وقت اسی ناکے کے دورے پر ہے۔۔۔ اِس لیے وہ سیدھا اِدھر ہی آئی تھی۔۔۔۔
سامنے فل یونیفارم میں کھڑے ایس پی حمدان صدیقی کو دیکھ مہروسہ کی آنکھوں جگمگا اُٹھی تھیں۔۔۔۔
گاڑی فاصلے پر رکتی دیکھ حمدان کے پاس دور کھڑے کچھ پولیس والے اُن کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔ جیسے ہی مہروسہ گاڑی سے نکل کر حمزہ کو اُٹھائے بھاگی تھی۔۔۔۔ حمدان سمیت وہ سب بھی پسٹل اُٹھائے اُس کے پیچھے بھاگے تھے۔۔۔
“دیکھو لڑکی میں کہہ رہا ہوں رک جاؤ۔۔۔ ورنہ میں گولی چلا دوں گا۔۔۔۔۔”
ایس پی حمدان قریشی تیز قدموں سے چلتا اپنی ٹیم کے ساتھ مہروسہ کے پیچھے فوراً پہنچا تھا۔۔۔حمزہ کو وہ دیکھ چکے تھے۔۔۔ مگر مہروسہ جس طرح وہاں پہاڑی کے قریب پہنچتی کنارے پر جارکی تھی۔۔۔ احتیاط کے پیشِ نظر حمدان نے اپنے ساتھ ساتھ باقی ٹیم کو بھی آگے جانے سے منع کردیا تھا۔۔۔۔
“ایس پی صاحب کافی بھولا ہے توں۔۔۔ تجھے ابھی بھی لگتا ہے کہ مہروسہ کو اپنی زندگی کی پرواہ ہوگی۔۔۔ توں مجھے گولی سے اُڑانے کی دھمکی دے یا آگ سے جھلسانے کی میں تیرے اِس منسٹر کے بیٹے کو تب تک آزاد نہیں کروں گی جب تک تم لوگ ہماری مانگیں پوری نہیں کردیتے۔۔۔۔ ہمارے لیڈر کو رہاع کردو۔۔۔ ہم بھی منسٹر کے بیٹے سمیت باقی سب بچوں کو بنا کوئی نقصان پہنچائے رہاع کردیں گے۔۔۔”
اُس اونچی چوٹی کے آخری سرے پر کھڑی مہروسہ پانچ سال کے بچے کو اپنے آگے کھڑا کیے اُس کی کنپٹی پر بندوق تانے ہوئے تھی۔۔۔
سیاہ بالوں کو جوڑے میں باندھ کر کس کر سیاہ سکارف میں لپیٹے، سیاہ نیوی بلو ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس، باریک سی نوز پن اور کاجل سے بھری سیاہ آنکھیں۔۔۔ یہ لڑکی اِس وقت پوری طرح ایک اغوا کار کا رُوپ اختیار کیے کسی قاتل حسینہ سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ جس نے صرف اپنے ساتھی کو چھڑوانے کے لیے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ملک کی بڑی بڑی سیاسی شخصیت کے بچوں کو اپنے قبضے میں لے کر۔۔۔ اُن تک یہ بات پھیلا دی تھی کہ اگر اُس کے ساتھی کو نہ چھوڑا گیا تو وہ اِن بچوں کو مار دے گی۔۔۔
سوشل میڈیا پر اِس خبر نے ہلچل مچا کر رکھ دی تھی۔۔۔ ہمیشہ کی طرح یہ مشکل ترین کیس ایس پی حمدان قریشی کو سونپا گیا تھا۔۔۔ جو اپنی زہانت استعمال کرتا چند گھنٹوں میں ہی مہروسہ تک پہنچ تو گیا تھا۔۔۔
مگر مہروسہ کی لال آنکھیں اُسے بتا رہی تھیں کہ اِس لڑکی سے نبٹنا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔ جس کی آنکھوں میں مرنے کا زرا بھی ڈر نہیں تھا۔۔۔
وہ اپنی سیاہ آنکھیں اُس کی آنکھوں میں ڈالے اُسے چیلنجنگ انداز میں بولی۔۔۔
“بچے کا اِس سب میں کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔ اُسے چھوڑ دو۔۔۔”
حمدان مہروسہ کو باتوں میں الجھانے کی کوشش کرتا آگے بڑھا تھا۔۔۔ مگر مہروسہ اُس کی وردی میں ملبوس رعب دار شخصیت پر فدا ہوتی اُس کی سمارٹنس پر ہولے سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔
“کافی اچھے سے اپنی ڈیوٹی کرنا جانتے ہو ایس پی۔۔۔ مگر وہ کیا ہے نا۔۔۔ میں اپنے لیڈر سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔ اُن کی خاطر اپنی جان بھی دے سکتی ہوں۔۔۔۔ اگر اِن بچوں کی سلامتی چاہتے ہو تو اگلے دو گھنٹوں کے اندر میرے دونوں لیڈرز کو چھوڑ دو۔۔۔ ورنہ دو گھنٹوں کے بعد ایک ایک کرکے اِن بچوں کی لاشیں ملنا شروع ہوجائیں گی۔۔۔۔ شروعات میں یہیں سے کررہی ہوں۔۔۔ اور ہاں زندگی رہی تو دوبارہ تم سے ملنے ضرور آؤ گی ایس پی۔۔۔۔ اِس دل کو بہت بھا گئے ہو تم۔۔۔۔”
مہروسہ ایس پی حمدان اور اُس کی ٹیم کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر آنکھ دبا کر حمدان کی جانب شوخی بھری آخری نگاہ ڈالتی بچے سمیت کھائی میں کود گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆

شاہ ویز سکندر کو حازم سے الگ دوسرے جگہ جیل میں قید کیا گیا تھا۔۔۔
جہاں اُس کی جیل کے باہر تین افراد اُس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔۔۔۔ بلیک سٹارز کتنی صفائی سے اپنا کام کر گزرتے تھے۔۔۔۔ کسی کو سمجھ تک نہیں لگتی تھی۔۔۔۔
اِس لیے اِس بار اُن پر پیرا سخت تھا۔۔۔۔
شاہ ویز کی سرد نگاہیں اپنے ہاتھ پر لگے سُرخ خون پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ جس رنگ سے اُسے شدید نفرت تھی۔۔۔ وہ اِس رنگ کو اپنے آس پاس برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔۔۔ اُس نے شدید غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ کو زمین پر زور سے رگڑتے وہ سُرخ داغ ہٹانے چاہے تھے۔۔۔۔ مگر وہ داغ خشک ہوجانے کی وجہ سے ایسا کرنے سے نہیں ہٹے تھے۔۔۔۔
اُس نے جیل میں اردگرد پانی کی تلاش میں نگاہیں دوڑائی تھیں۔۔۔۔ مگر ایک جانب خالی گھڑا اُلٹا پڑا ہونے کے سوا وہاں کچھ بھی موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔
شاہ ویز کی کشادہ پیشانی پر سلوٹوں کا جال نمایاں ہوا تھا۔۔۔۔
“پانی لاکر دو مجھے۔۔۔۔۔”
وہ اِس وقت جیل کی سلاخوں کے ساتھ کمر ٹکائے بیٹھا تھا۔۔۔۔ سرد آواز میں اُس نے باہر کھڑے جیلر کو مخاطب کیا تھا۔۔۔۔ انداز ایسا تھا جیسے اپنے ملازم کو آرڈر دے رہا ہو۔۔۔۔۔
“تم لوگوں نے سنا نہیں میں نے کیا بولا ابھی۔۔۔۔”
اب کی بار وہ بھاری لہجے میں چبا چبا کر لفظ ادا کرتے بولا تھا۔۔۔۔
“ہمیں کوئی بھی چیز اندر دینے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔ چاہے وہ کھانے پینے کی چیز ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔”
اُس کے پیچھے کھڑے جیلر نے اُسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔۔۔۔
جسے سنتے شاہ ویز سکندر نے سختی سے مُٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔۔۔ انکار سننا تو اُس نے آج تک سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔
آگے بڑھ کر اُس نے کچھ فاصلے پر پڑے پتھر کے چھوٹے سے ٹکڑے کو اُٹھاتے زور سے دیوار پر مارا تھا۔۔۔۔ جہاں پر لگ کر وہ سیدھا باہر کھڑے جیلر کے ماتھے سے جاٹکرایا تھا۔۔۔۔ بنا دیکھے شاہ ویز سکندر نے ایک دم نشانے پر وار کیا تھا۔۔۔۔۔
“ابھی اور اِسی وقت پانی لاکر دو۔۔۔ ورنہ تم لوگوں کے ساتھ بہت بُرا ہوگا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر اُن کی جانب مُڑتا لال آنکھوں سے اُنہیں گھورتا بے حد خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔۔ بلیک بیسٹ کی دہشت سے یہاں کا آئی جی بھی کانپ اُٹھتا تھا۔۔ وہ تو پھر صرف ایک جیلر تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔