No Download Link
Rate this Novel
Episode 54
“میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ دوبارہ ایسی بکواس بھی کی تو۔۔۔۔”
شاہ ویز کی کنپٹی کی رگیں تن گئی تھیں۔۔۔
“شاہ سر۔۔۔ یہ پریسا آفندی کی چاہت ہی ہے کہ آپ کے بارے میں بنا کچھ جانے وہ آپ سے نکاح کرچکی ہے۔۔۔ اُس کی نظر میں آپ ایک گینگسٹر ہی ہیں۔۔۔ وہ بہت معصوم ہے۔۔۔ جیسا سچا دل خود رکھتی ہے ویسا ہی دوسروں کو سمجھتی ہے۔۔۔۔ “
مہروسہ نے ہمیشہ کی طرح تحمل کے ساتھ اُسے سمجھانا چاہا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی شاہ ویز کا غصہ کتنا بُرا تھا۔۔
“معصوم نہیں بے پاگل ہے وہ۔۔۔۔ سب نظر اور سمجھ آتا ہے اُسے۔۔۔ جان بوجھ کر کررہی ہے سب۔۔۔ صرف مجھے اپنے آگے جھکانے کے لیے۔۔۔۔ وہ جانتی ہے میں اُس سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ اقرار سننے کی خاطر کررہی ہے یہ سب۔۔۔۔”
شاہ ویز خود بھی سمجھ نہیں پایا تھا کہ غصے میں وہ کیا بات اپنے منہ سے نکال گیا ہے۔۔۔
جس محبت کا اقرار وہ اپنے سامنے نہیں کر پایا تھا۔۔۔ وہ اِس وقت اُن دونوں کے سامنے کر چکا تھا۔۔۔
وہ دونوں کھل کر مسکرا دیئے تھے۔۔۔ وہ خود بھی یہی چاہتے تھے کوئی ایسی لڑکیاں شاہ ویز کی زندگی میں آئے جو اُس کے اندر کی وحشت نکال کر اُسے جینا سکھا دے۔۔۔ اور پریسا کی وجہ سے وہ سب ہورہا تھا۔۔۔
کبھی بھی اپنی فیلنگز شیئر نہ کرنے والا اب اپنی جھنجھلاہٹ بیان کررہا تھا۔۔۔
“بس اِسی بات کا اقرار پریسا کے سامنے کردو۔۔۔ کہ محبت کرتے ہو اُس سے۔۔۔ جو لڑکی تمہاری نفرت کے باوجود تم سے دور نہیں جا پارہی۔۔۔ تمہاری محبت کی جھلک دیکھ تو وہ مزید دیوانی ہوجائے گی۔۔۔ خود کو مزید سزا مت دو۔۔۔۔ تمہارا بھی زندگی کی دلکشی کو جینے کا حق ہے۔۔۔”
حازم اور مہروسہ اُسے اپنی طرف سے بہت ساری نصحیتیں کرتے فون بند کر گئے تھے۔۔۔
جبکہ شاہ ویز موبائل بیڈ پر اُچھالتا سیگریٹ سلگھاتے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا تھا۔۔۔
اُس کا دماغ شدید غصے سے کھول رہا تھا۔۔ وہ پریسا کو روم سے باہر نہ نکلنے کا کہہ کر گیا تھا۔۔۔ مگر وہ محترمہ نہ صرف باہر گئی تھیں۔۔۔ بلکہ اپنے پیارے خاندان والوں کے ساتھ مل کر اُس کے قتل کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔۔۔
یہ لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ شاہ ویز نے صرف اُنہیں نذر بند کیا ہے۔۔۔۔
مگر وہ ابھی تک شاہ ویز سکندر کی پہنچ اور دہشت سے واقف نہیں تھے۔۔۔
شاہ ویز اِسی طرح سگریٹ پیتا آنکھیں موندے بیٹھا تھا جب دروازہ ہلکی سی دستک کے بعد کھلا تھا۔۔۔ وہ پہلی آہٹ سے ہی پہچان گیا تھا کہ یہ پریسا نہیں ہے۔۔۔
جو سوچ اُس کی رگیں مزید تن گئی تھیں۔۔۔ وہ اِس وقت شدید غصے میں تھا۔۔۔ جس نے بھی یوں اُس کے پاس آنے کی گستاخی کی تھی۔۔۔ اُس کی خیر نہیں ہونے والی تھی۔۔۔۔۔۔
“سر مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ پریسا کے حوالے سے۔۔۔۔”
فضہ نے اُنگلیاں مڑورتے اُس کی شخصیت کی دہشت دیکھ خوف سے کپکپاتے بمشکل الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔
شاہ ویز نے ابھی تک آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔۔۔۔
“بولو۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کے گھمبیر وحشت ناک لہجے پر وہ سہم کر مزید چند قدم پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔
“سر وہ پریسا آپ کے ساتھ سنسیئر نہیں ہے۔۔۔۔ وہ باہر اپنے گھر والوں کے ساتھ آپ کو مارنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔۔۔۔ ابھی کافی میں زہر مکس کرکے وہ آپ کے پاس لانے والی ہے۔۔۔۔ اُس نے آپ سے نجانے کس وجہ سے نکاح کیا ہے۔۔۔ ورنہ وہ محبت صرف سفیان سے کرتی ہے۔۔۔۔ وہ بہت بڑی دھوکے باز لڑکی۔۔۔۔۔”
فضہ اُس کی وجیہہ صورت پر نگاہیں گاڑھے ایک ہی سانس میں بولی جارہی تھی۔۔۔ جب پریسا کے لیے غلط الفاظ استعمال کیے جانے پر شاہ ویز نے بنا آنکھیں کھولے گن اُٹھا کر فضہ کے سر سے زرا اونچا فائر کیا تھا۔۔۔
جو دیکھ فضہ کی سانسیں حلق میں ہی اٹک چکی تھیں۔۔۔ اُس کی بولتی بالکل بند ہوچکی تھی۔۔۔
وہاں سے بھاگنے کے لیے اُس کے پیروں میں جان باقی نہیں رہی تھی۔۔۔۔
وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ شاہ ویز سکندر کا نشانہ آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے مس ہوا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اگر شاہ ویز کا ارادہ واقعی اُسے مارنے کا ہوتا تو اب تک وہ اِس دنیا کو خیر آباد کہہ چکی ہوتی۔۔۔
شاہ ویز نے آنکھیں کھول کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
یہ لڑکی پریسا کی بیسٹ فرینڈ تھی۔۔۔ جسے شاہ ویز نے ہر وقت پریسا کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔
اور یہ اُس کی بیوی کو دھوکے باز بول رہی تھی۔۔۔
“گیٹ لاسٹ اگر دوبارہ میری بیوی کے بارے میں غلط سوچا بھی تو اُس دن یہ گولی دیوار میں نہیں تمہاری کھونپڑی میں لگے گی۔۔۔۔”
شاہ ویز کی دھاڑ پر فضہ لڑکھڑاتی روم سے نکلی تھی۔۔۔۔۔ جب اُسی لمحے گولی کی آواز سن کر پریسا گھبرائی سی روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ باقی سب بھی اُس کے پیچھے سیڑھیوں کے قریب رک گئے تھے۔۔۔ جبکہ فضہ کو شاہ ویز کے روم سے نکلتا دیکھ وہ سب حیران ہوئے تھے۔۔۔
شاہ ویز نے پریسا کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو واقعی ہاتھ میں کافی کا مگ اُٹھائے اندر آتی اُسے خونخوار نگاہوں سے گھور رہی تھی۔۔۔
“تم نے اُس بچاری کو کیوں ڈرایا۔۔۔ ؟؟ مجھے لگا تھا تم لڑکیوں پر وار نہیں کرتے۔۔۔۔ مگر تم ہر بار میری سوچ کو غلط ٹھہرا کر خود کو میری نگاہوں میں مزید نیچے گرا دیتے ہو۔۔۔۔”
پریسا زہر خند لہجے میں بولتی اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔
اُس نے کافی کا مگ وہیں سنٹرل ٹیبل پر ہی رکھ دیا تھا۔۔۔
“اِس وقت دور رہو مجھ سے پریسا آفندی میں شدید غصے میں ہوں۔۔۔ نہیں چاہتا تم میرے قہر کا نشانہ بنو۔۔۔”
شاہ ویز سگریٹ جلا کر ہونٹوں میں دباتا واپس پہلی والی پوزیشن میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا چکا تھا۔۔۔
پریسا کو بھی اس وقت اُس پر شدید غصہ تھا۔۔۔۔
“ہر بار تم مجھے خود سے خوفزدہ نہیں کرسکتے۔۔۔ نہیں ڈرتی میں تمہارے کسی بھی قہر سے۔۔۔۔”
وہ آگے بڑھی تھی اور شاہ ویز کے ہونٹوں سے سگریٹ کھینچتی اُسے ساتھ رکھی ایش ٹرے میں مسلتے۔۔۔ سگریٹ کی پوری ڈبی اُٹھا کر پانی کے جگ میں ڈال گئی تھی۔۔۔ شاہ ویز نے اپنی لال آنکھیں کھول کر ایک نظر پنک لباس میں دلکش بکھیرتے حسین رُوپ کے ساتھ سامنے کھڑی پریسا کو دیکھا تھا۔۔۔ اور اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے اپنے برابر بیڈ پر گرا لیا تھا۔۔۔۔
“پریسا آفندی اب تم مجھ سے خود کو نہیں بچا پاؤ گی۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے فرار کی ساری راہیں مسدود کرتا اُس کے گرد اپنی مضبوط بانہوں کا حصار قائم کر گیا تھا۔۔۔
وہ اِس وقت شدید زہنی اذیت کا شکار تھا۔۔۔ صرف اور صرف اپنی بانہوں میں مقید لڑکی کی بے اعتباری کی وجہ سے۔۔۔۔
وہ اُسے حقیقت سے آگاہ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اور یہ بھی چاہتا تھا کہ پریسا اُس سے نفرت نہ کرے۔۔۔۔
پریسا جو بہت بہادر بن کر روم میں آئی تھی۔۔ اِس وقت شاہ ویز سکندر کے آہنی حصار میں قید پھڑپھڑا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔ میں نفرت کرتی ہوں تم سے۔۔۔۔”
پریسا اُس کی وحشت ناک لال آنکھیں دیکھ خوف سے لرز گئی تھی۔۔۔ ساتھ ہی اُس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔ یہ شخص ہر وقت اتنی اذیت میں کیوں رہتا تھا۔۔۔ جب اپنے اردگرد ہوتی ہر شے پر اختیار رکھنے کا دعوا کرتا تھا تو اپنی اذیت کم کیوں نہیں کرتا تھا۔۔۔
مگر پریسا یہ نہیں جانتی تھی کہ شاہ ویز سکندر کے زخموں کی دوا صرف اور صرف وہ تھی۔۔۔ اگر پریسا کو اس بات کا اندازہ ہوجاتا تو وہ کبھی اُس سے خود کو دور رکھنے کی کوشش نہ کرتی۔۔۔
“اتنی نفرت نہیں کرپاؤ گی تم مجھ سے۔۔۔ جتنی میں کرتا ہوں۔۔۔۔ آج میری وہی نفرت برداشت کرنے کے لیے خود کو تیار کرلو پریسا آفندی۔۔۔۔”
شاہ ویز وحش ناک لہجے میں بولتا پریسا کی گردن سے بال ہٹاتے اُس پر جھکا تھا۔۔۔ اور اپنے جارحانہ لمس سے اُس کی دھڑکنوں میں طغیانی برپا کر گیا تھا۔۔۔ اُس کی ہلکی ہلکی داڑھی کی چبھن محسوس کرتی وہ کسمسائی تھی۔۔۔۔۔ اور اُس کی شرٹ کے کالر کو سختی سے دبوچ لیا تھا۔۔۔
وہ شاہ ویز سکندر کی یہ نفرت برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز کے لمس سے اُسے اپنی گردن جلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
“پریسا آفندی بہت مہلت دی ہے میں نے تمہیں اب تک۔۔۔ مگر اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ وحشی درندہ کیسا ہوتا ہے۔۔۔ جب اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کو زندگی کی بھیک مانگتے دیکھو گی۔۔۔ بہت عزیز ہیں نا یہ سب تمہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنے زرا سے لمس پر اُس کا خطرناک حد تک لال پڑتا چہرا دیکھ اُسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔
پریسا بنا اُس کی بات کا جواب دیئے جواباً اُس سے بھی زیادہ غصہ آنکھوں میں بھرے اُس کے وجاہت سے بھرپور مغرور نقوش کو تکے گئی تھی۔۔ جو ہمیشہ کی طرح اِس وقت بھی غصے سے تنے ہوئے تھے۔۔۔ اور ماتھے پر دنیا جہاں کی شکنیں پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔
اپنے اِس وحشی کو دیکھ نجانے کیوں اُس کا دل چاہا تھا وہ اُس کی پیشانی پر لب رکھ کر اُس کی شکنوں کے جال کو ختم کردے۔۔۔ اُس کی آنکھوں کی وحشت اور اذیت کو ختم کرکے اُس میں محبت اور چاہت کے رنگ بھر دے۔۔۔۔
لیکن مگر اِس شخص کے سامنے وہ ایسا صرف سوچ ہی سکتی تھی۔۔۔ ایسا کرنے کی جرأت نہیں تھی اُس میں۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حمدان فل یونیفارم میں ملبوس روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔ آہٹ پر مرر کے سامنے کھڑی اپنی چین کی ہک بند کرتی مہروسہ کے ہاتھ سے چین چھوٹ کر نیچے جا گری تھی۔۔۔ وہ ابھی نہا کر نکلی تھی۔۔۔
اُس نے گیلے بالوں کو ٹاول میں قید کر رکھا تھا۔۔۔ جبکہ دوپٹہ اِس وقت بیڈ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ اُس نے رُخ نہیں موڑا تھا۔۔۔ مگر حمدان کو سیدھا اپنی جانب آتا دیکھ اُس کا دل زور زور سے دھڑکنیں لگا تھا۔۔۔
وہ جانتی تھی آج پولیس اسٹیشن میں حمدان اُسے پہچان چکا تھا۔۔۔۔ اور اب شاید اُس کی زندگی کا وہ وقت آگیا تھا جس کے لیے وہ بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔
نہ زندگی میں کبھی وہ حمدان صدیقی کو چھوڑنے کے لیے تیار ہوسکتی تھی۔۔۔۔
حمدان پر بحالتِ مجبوری اُسے حملہ آور ہونا پڑا تھا۔۔۔ مگر وہ اپنی اُس حرکت کے لیے خود کو کبھی معاف نہیں کرنے والی تھی۔۔۔
“گڈ ایوننگ مائی لیڈی۔۔۔۔”
حمدان چلتا ہوا اُس کے عقب میں آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔ مرر پر اب دونوں کے عکس ایک ساتھ اُبھرتے اُن کی جوڑی کی ایک مکمل تصویر کررہے تھے۔۔۔
مہروسہ نے بے اختیار اُس عکس کی نظر اُتارتے اپنی جوڑی کے ہمیشہ ایسے ہی سلامت رہنے کی دعا کی تھی۔۔۔
حمدان کا گھمبیر دلکش لہجہ اُس ہی سماعتوں سے ٹکراتا اُسے اچھا خاصہ نروس کر گیا تھا۔۔۔
وہ تو اُس کی جانب سے اپنی اصلیت سامنے آنے کے بعد کسی شدید ردعمل کی توقع کررہی تھی۔۔۔ وہ اِس قدر بوکھلا چکی تھی کہ بوکھلا کر پلٹتی وہ اُس کی بات کا جواب نہیں دے پائی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا مائی لو۔۔۔۔ کوئی پریشانی ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟”
حمدان نے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنے قریب کھینچا تھا۔۔۔۔
حمدان کا یہ محبت بھرا دلربانہ انداز دیکھ مہروسہ کا دل اُچھل کر باہر آنے کو تیار ہوچکا تھا۔۔۔۔
وہ اِس وقت سیاہ لباس میں ملبوس بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔ اُس کا یہ لرزتا کانپتا انداز حمدان کے دل و دماغ پر ایک خمار سا طاری کر گیا تھا۔۔۔۔
“نن نہیں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”
مہروسہ اُس کا محبت بھرا انداز دیکھ اپنی آنکھوں کے گوشے نم ہونے سے نہیں روک پائی تھی کیونکہ اُسے کہیں نا کہیں فیل ہوچکا تھا کہ اُس کی ایس پی کی محبت کا یہ انداز آج بہت بناوٹی تھا۔۔۔
جو دھوکا وہ اُسے دے رہی تھی۔۔۔۔ حمدان بھی اُسے اُسی دھوکے کی مار مارنا چاہتا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کو اپنے آنسو دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔ وہ اب تک جو کھیل کھیل رہی تھی اُس یا دی اینڈ ہونے والا تھا۔۔۔۔
جو سوچ کر ہی مہروسہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔
“مگر مجھے تو ایسا کچھ نہیں لگ رہا۔۔۔۔”
حمدان اُس کے بالوں سے ٹاول نکال کر دور اُچھال چکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ اُسی کے سہارے سر جھکائے کھڑی رہی تھی۔۔۔
وہ حمدان صدیقی کی محبت چاہتی تھی مگر یہ بناوٹی نہیں۔۔۔
“تم جانتی ہو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔۔۔”
حمدان اُس کے کانوں سے بال ہٹاتے سرگوشیانہ لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
مہروسہ نے اپنی جھیل سی بڑی بڑی آنکھوں پر سجی گھنیری پلکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اب اُسے حمدان کی آنکھوں اور لہجے میں سچائی نظر آئی تھی۔۔۔۔
“اپنے ماں باپ کے بعد جتنی آج تک کبھی کسی سے نہیں کی۔۔۔ “
حمدان جھک کر اُس کے سرخ پڑتے گال پر مہرِ محبت ثبت کرتا سچے لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کی سانسیں اُس کے اِس اظہارِ محبت کے ساتھ تیز ہوتی جارہی تھیں۔۔۔ اُسے محسوس ہورہا تھا جیسے یہ لمحے اُس کی زندگی کے سب سے حسین ترین لمحے تھے۔۔۔۔
“میں محبت نہیں کرنا چاہتا تھا تم سے۔۔۔ کیونکہ آج تک ہمیشہ میرا قریبی ترین رشتہ مجھے دھوکا دیتا آیا ہے۔۔ مجھ سے جھوٹ بولا ہے۔۔۔ میں سب کچھ برداشت کرسکتا ہوں مگر جھوٹ اور فریب بالکل بھی نہیں۔۔۔۔”
حمدان اُس کی جانب دیکھتا زخمی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بولا مہروسہ کو دل چیر گیا تھا۔۔۔
وہ بھی تو اُسے دھوکا ہی دے رہی تھی نا۔۔۔۔
“مگر میری بے بسی دیکھو۔۔۔ کہ اپنے دل کو تمہیں چاہنے سے نہیں روک پایا۔۔۔۔ تم نے مجھے اپنا عادی بنا لیا ہے۔۔۔۔”
حمدان کی گرم سانسیں اپنے کان کی لوح پر محسوس کرتے مہروسہ خود میں سمٹی تھی۔۔۔
اُس کا دل بُری طرح سے لرز رہا تھا۔۔ اُسے حمدان کی باتوں سے خوف محسوس ہورہا تھا۔۔۔ وہ کیسے بتاتی کہ وہ بھی اُسے دھوکا ہی دے رہی تھی۔۔۔
مگر حمدان صدیقی کے لیے اُس کے دل میں کتنی محبت تھی یہ سچ شاید وہ کبھی نہ جان پاتا۔۔۔۔
“میں بھی آپ سے دور کبھی نہیں جانا چاہتی۔۔۔ پلیز کبھی مجھے خود سے دور مت کیجیئے گا۔۔۔۔ “
مہروسہ اُس کے سینے پر اپنی کپکپاتی ہتھیلی جماتے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ اُس کے چہرے کا زرد رنگ ہی حمدان کو سمجھا گیا تھا کہ یہ لڑکی اُسے دھوکا دے رہی تھی۔۔۔
وہ ایک دم اُس سے دور ہوا تھا۔۔۔۔
“کل میری ایک بہت قریبی دوست کی شادی ہے۔۔۔ ہم دونوں نے ایک ساتھ شرکت کرنی ہے۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کل میری بیوی پورے دل سے میرے لیے تیار ہو۔۔۔۔ “
حمدان کے پر اسرار انداز پر مہروسہ ٹھٹھکی تھی۔۔۔
“جی۔۔۔ “
وہ مزید کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔۔۔ حمدان اُسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتا واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
جبکہ حمدان کے جاتے ہی مہروسہ نے بھیگتی آنکھوں کے ساتھ شاہ ویز اور حازم کے نمبر پر میسیج سینڈ کیا تھا۔۔۔
“آج رات رضوان صدیقی کے پاس موجود اقبال کیانی کے خلاف تمام ثبوت آپ لوگوں تک پہنچ جائیں گے۔۔۔ ہمارے سب سے بڑے مشن کو لے کر میرا کام ختم ہوجائے گا۔۔۔ مگر آپ دونوں کو میری قسم ہے مجھے چاہے کچھ بھی ہو آپ لوگ حمدان صدیقی کو زرا سی خراش تک نہیں پہنچائیں گے۔۔۔ اگر آپ دونوں میں سے کسی نے بھی ایسا کچھ کیا۔۔۔ تو کبھی معاف نہیں کروں گی آپ لوگوں کو۔۔۔۔”
یہ میسیج ٹائپ کرتے مہروسہ کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
