Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

“مجھے آپ کی مدد کرکے بہت خوشی ہوتی بیٹا۔۔۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ باہر جو کیمرہ لگا ہے وہ ایک ہفتے سے خراب ہے۔۔۔۔ اُس میں تو کوئی ریکارڈنگ ہو ہی نہیں رہی۔۔۔۔۔۔”
گل شیر کی بات پر پریسا کے چہرے پر نااُمیدی پھیل گئی تھی۔۔۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر اُنہیں خدا حافظ کرتے وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔
“اب میں کیسے ثبوت اکٹھے کروں گی اُس شخص کے خلاف۔۔۔۔۔۔”
پریسا زیرِ لب بڑبڑاتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ جب کسی نے اُس کی کلائی اپنی فولادی گرفت میں سختی سے جکڑتے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔
پریسا نے چلانا چاہا تھا مگر مقابل نے اُس کے نازک لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ جماتے اُس کی آواز کا گلا گھونٹ دیا تھا۔۔۔
پریسا اُس کی سخت گرفت میں پھڑپھڑا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ بے بسی کے احساس سے اُس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔۔۔۔۔ خوف کے عالم میں اُس کا دل بُری طرح لرز رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ہر طرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا جس کی وجہ سے اُس سنسان پڑی جگہ پر وہ کسی کی نظر میں نہیں آسکے تھے۔۔۔۔۔ وہ شخص اُسے یوں ہی اپنے ساتھ لگائے ایک تاریک گلی میں لے آیا تھا۔۔۔۔۔
پریسا کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ اِس شخص نے جس بے دردی سے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ پریسا سانس نہ آنے کی وجہ سے اُس کی گرفت میں تڑپ رہی تھی۔۔۔۔ اُسے لگا تھا اب وہ مزید زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پائے گی۔۔۔۔
جب اُس پر نجانے کس احساس کے تحت ترس کھاتے اُس شخص نے اُس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا دیا تھا۔۔۔۔۔
جس کے ساتھ ہی پریسا بُری طرح کھانستی اُسے خود سے دور دھکیلنے لگی تھی۔۔۔۔۔
“کک کون۔۔۔ کون ہو۔۔۔تم۔۔۔۔۔ “
پریسا کو بولنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔۔۔۔ اندھیرے کی وجہ سے وہ اُس شخص کا چہرا نہیں دیکھ پارہی تھی۔۔۔۔۔
“وہی جس کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنا چاہتی ہو تم۔۔۔۔۔ وہی ثبوت دینے آیا ہوں تمہیں۔۔۔۔”
پریسا جو اُس سے دور ہونے کے لیے مسلسل مزاحمت کررہی تھی۔۔۔۔۔ مقابل شخص کی آواز اور لب و لہجے پر وہ لمحے بھر کو بت بن چکی تھی۔۔۔۔۔ خوف کی شدید لہر اُس کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی۔۔۔۔
یہ شخص تو جیل میں قیدر تھا۔۔۔۔ تو پھر یہ یہاں۔۔۔۔؟؟؟
پری کو اپنا سر بُری طرح چکراتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔۔ سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔ تم نے تو میرے خلاف ثبوت دینے تھے نا پولیس والوں کو۔۔۔۔۔ یہاں تک تم کس لیے آئی۔۔۔۔ مجھے دیکھنے کے لیے۔۔۔۔۔؟؟؟ تو آؤ دیکھو میرا چہرا۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے ایک جھٹکے سے اپنے بے حد قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔۔ اُس کی آہنی سخت گرفت اپنی نازک کمر پر محسوس کرتے پریسا درد سے بلبلا اُٹھی تھی۔۔۔۔ وہ کانچ سی نازک گڑیا اتنی سختی کی عادی کبھی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس سے شاہ ویز کی تپیش زدہ چہرا جھلساتی گرم سانسیں اور ہڈیوں کو چٹخاتا لمس برداشت کرنا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔۔
شاہ ویز کے قریب کرنے پر اب وہ اُس کا چہرا دیکھ پارہی تھی۔۔۔۔ وہی بالوں اور داڑھی سے بھرا خوفناک چہرا۔۔۔۔۔ شاہ ویز نے جس طرح اُسے تھما رکھا تھا۔۔۔۔ وہ اپنا چہرا پیچھے نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔ مگر خوف کے عالم میں بُری طرح لرزتے اُس کی گول گول آنکھوں کی پتلیاں ناقابلے یقین حد تک پھیل گئی تھیں۔۔۔۔
مگر اگلے ہی لمحے اُسے پہلے سے زیادہ شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔۔
جب شاہ ویز نے اپنے چہرے سے نقاب کھینچ دیا تھا۔۔ جس کے بعد سامنے آنے والا اُس کا دلکش مغرور نقوش سے سجا خوبرو چہرا دیکھ پریسا کے گلابی ہونٹ حیرت سے واں ہوئے تھے۔۔۔۔۔
وی اِس وقت حیرت اور بے یقینی کی تصویر بنے آنکھیں پھاڑے اور ہونٹ واں کیے اتنی حسین لگ رہی تھی۔۔۔ اگر اِس وقت شاہ ویز سکندر کی جگہ اگر کوئی اور اُس کے اتنے قریب ہوتا تو اب تک اپنا دل ہار چکا ہوتا۔۔۔
مگر سامنے کھڑے احساس و جذبات سے عاری شخص کو نہ ہی اِس لڑکی کے حُسن میں کوئی انٹرسٹ تھا۔۔۔ اور نہ ہی اُس کے پاس محبت جیسے کسی بھی فضول کام کے لیے وقت تھا۔۔۔۔۔
اُس کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا۔۔۔ جسے پورا کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔۔۔۔
“آآآپ۔۔۔۔پپ۔۔۔ آپ۔۔۔ وہ۔۔۔۔”
پریسا نے بولنا چاہا تھا۔۔۔ مگر اُس کی لال وحشت ٹپاتی حسین آنکھوں سے خوف کھاتے وہ ہکلا کر رہ گئی تھی۔۔۔ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر اِس شخص نے اُس کے سامنے اپنی شناخت کروائی ہی کیوں تھی۔۔۔۔
“اپنا چہرا اِس لیے دیکھایا ہے تمہیں۔۔۔۔ بہت جلد پتا چل جائے گا۔۔۔۔ لیکن اگر دوبارہ میرے خلاف ثبوت اکٹھا کرنے کا خیال دل میں لایا تو وہ حال کروں گا تمہارا کہ تمہارے گھر والے پہنچان بھی نہیں پائیں گے تمہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کا جبڑا اپنی سخت گرفت میں جکڑ کر اُسے وارن کرتا وہاں سے پلٹا تھا۔۔۔۔
اُس کے ایک جھٹکے سے چھوڑنے کی وجہ سے پریسا کا سر زور سے پیچھے دیوار سے جا لگا تھا۔۔۔۔
“قاتل ہو تم۔۔۔۔ چار لوگوں کو مارا ہے تم نے۔۔۔۔۔ میں سب کو بتاؤں گی تمہاری اصلیت۔۔۔۔۔”
پریسا میں نجانے اتنی ہمت کہاں سے آئی تھی۔۔۔۔ جبکہ اُس کے الفاظ پر شاہ ویز واپس مُڑا تھا۔۔۔۔
اُس کے سیاہ لباس میں ملبوس چوڑے وجود کے سامنے آجانے کی وجہ سے باہر روڈ سے آتی لائٹ کی مدھم روشنی بھی چھپ گئی تھی۔۔۔۔
” سوچ لو جو انسان چار قتل کر سکتا ہے۔۔۔۔ اُس کے لیے پانچواں قتل کرنا کونسا مشکل ہوگا۔۔۔۔۔ میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔ تم آنے والے وقت کے لیے میرا بہت اہم مہرا ہو۔۔۔۔ اگر تم نے کسی کے آگے بھی منہ کھولنے کی کوشش کی تو تمہیں تمہاری دنیا سے اُٹھا کر اپنی دنیا میں لے جاؤں گا۔۔۔۔ جہاں اندھیروں میں سر پٹخنے کے سوا کچھ نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے اُنگلی اُٹھا کر وارن کرتا اُس کی ابھی مجتعم کی گئی ساری بہادری جھاگ کر گیا تھا۔۔۔۔
پریسا کو اُس سے بے پناہ خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔ اِس شخص کی سیاہ آنکھیں جتنی خوبصورت تھیں۔۔۔ اُن کے رنگ اتنے ہی خوفناک تھے۔۔۔۔۔ جو کچھ وہ ابھی برداشت کرچکی تھی۔۔۔۔ یہ اُس جیسی نازک لڑکی کے لیے بہت زیادہ تھا۔۔۔۔ پریسا کا سر بُری طرح چکرایا تھا۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ لہرا کر وہیں زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ اُس کے ایک بار پھر بے ہوش ہوجانے پر شاہ ویز سکندر اِس لڑکی کی اِس قدر نزاکت پر غصے سے جھنجھنا اُٹھا تھا۔۔۔۔۔ ایک بار تو اُس کا دل چاہا تھا اِس لڑکی کو اُس دن کی طرح یہیں پھینک جائے۔۔۔۔
مگر آگے آنے والے وقت میں یہ لڑکی اُس کے لیے بہت کارآمد ثابت ہونے والی تھی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ اُسے ایسے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔
شاہ ویز آگے بڑھا تھا اور نہایت ہی ناگواری بھرے تاثرات کے ساتھ اُس کے خوشبوئیں بکھیرتے نازک وجود کو اپنی فولادی بانہوں میں اُٹھاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“ایک اور مشن میں جیت کی مبارک ہو میرے دوست۔۔۔۔۔”
حازم روم میں داخل ہوتے شاہ ویز سے بغل گیر ہوتے بولا۔۔۔۔ جس پر شاہ ویز بھی اُسے جواباً اُسی گرمجوشی کے ساتھ اپنے سینے میں بھینچتے بولا۔۔۔
وہ جانتے تھے کہ اِس مشن میں اُن کو کچھ بھی ہوسکتا تھا۔۔۔۔ مگر اُن کے بلند حوصلوں نے کبھی اُنہیں ناکامی کا منہ نہیں دیکھایا تھا۔۔۔۔
“اچھا جی میرے بغیر سیلیبریٹ کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔ کرلیں سوتیلا پن آپ دونوں مجھ سے۔۔۔۔۔”
مہروسہ کی چہکتی شکوے بھری آواز پر وہ دونوں اُس کی جانب پلٹے تھے۔۔۔
“ہماری کوئی بھی سیلیبریشن تمہارے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے اُسے اشارے سے اپنے پاس بلایا تھا۔۔۔۔ جس پر مہروسہ کا چہرا مزید کھل اُٹھا تھا۔۔۔۔ شاہ ویز سے ایسی تعریف کم ہی سننے کو ملتی تھی۔۔۔ مگر جب وہ کرتا تھا تو مہروسہ ایسے ہی خوش ہو جاتی تھی۔۔۔۔
“بالکل۔۔۔۔ اگر یہ تیسرا بلیک سٹار اپنی اُلٹی کھونپڑی نہ چلاتا تو اب تک وہ سرپھرے پولیس والے ہمیں اُوپر پہنچا چکے ہوتے۔۔۔۔ “
حازم کی بات پر جہاں مہروسہ کی آنکھوں کے سامنے ایس پی حمدان صدیقی کا غصے بھرا چہرا جگمگایا تھا۔۔۔ وہیں شاہ ویز اُسے تیز نگاہوں سے گھور کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
“ایسے مت دیکھے مجھے ڈر لگ رہا ہے تم سے۔۔۔۔۔”
حازم نے خوفزدہ ہونے کی ایکٹنگ کی تھی۔۔۔
“اپنی عادتیں درست کرلو۔۔۔۔ وہ ایس پی کہیں کسی دن تمہاری ناکامی کا باعث نہ بن جائے۔۔۔۔ ہم جو کام کررہے ہیں۔۔۔ اُس میں دل کی سننے والا خود اپنے ہاتھوں سے خود کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے تنبیہ کرنا نہیں بھولا تھا۔۔۔۔ اُس نے جو پسندیدگی حازم کی آنکھوں میں اُس لڑکی کے لیے دیکھی تھی۔۔۔ آج سے پہلے کبھی اُسے کسی لڑکی کے لیے ایسے بے خود ہوتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
“فکر مت کرو۔۔۔۔ معاملہ اتنا سیریس نہیں ہے۔۔۔۔۔ بس اُس ایس پی کو تنگ کرنے میں مزا آتا ہے۔۔۔۔۔ چھوڑو اِس بات کو۔۔۔۔ آج ہم اپنی کامیابی کو پوری طرح سیلیبریٹ کریں گے۔۔۔۔۔ جنید آج رات کی پارٹی کی تیاری کررہا ہے۔۔۔ تمہیں آنا ہوگا۔۔۔۔”
حازم فوراً بات ٹال گیا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ ایس پی حبہ امتشال اور وہ بہت الگ دنیا کے باسی تھے۔۔۔۔ اُن کا ایک ہونا ناممکن سی بات تھی۔۔۔۔ اِس لیے اپنے تڑپتے دل کو تھپک تھپک کر سلاتے اُس نے اُس راہ پر نہ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔۔ جس کی کوئی منزل ہی نہیں تھی۔۔۔۔
پوری دنیا کے لیے وہ بلیک سٹارز انتہائی بُرے انسان تھے۔۔۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا اُنہوں نے اپنی خواہشات اور دل کے ارمانوں کا گلا کیسے گھونٹ رکھا تھا۔۔۔۔۔
“جب جانتے ہو کہ میرا جواب انکار ہی ہے۔۔۔ تو کیوں پوچھتے ہو ہر بار۔۔۔۔ اِن رونق میلوں سے وحشت ہے مجھے۔۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز اپنے مخصوص سنجیدہ انداز میں جواب دیتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے آج بھی یوں چلے جانے پر وہ دونوں ایک دوسرے کی جانب افسوس سے دیکھ کر رہ گئے تھے۔۔۔۔
“شاہ سر کس بارے میں بات کررہے تھے۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔
“ایس پی حبہ امتشال کے بارے میں۔۔۔۔۔”
حازم اُس کا نازک سراپا یاد کرتے ٹھنڈی سانس ہوا میں خارج کرتا پیچھے رکھے صوفے پر براجمان ہوا تھا۔۔۔
“کیا آپ کو پسند ہیں وہ۔۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ نے اشتیاق بھری نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔ مہروسہ شاہ ویز کی نسبت حازم سے آرام سے بات کرلیا کرتی تھی۔۔۔۔ حازم زیادہ تر اچھے موڈ میں ہی رہتا تھا۔۔۔ اُسے کم ہی کبھی غصہ آتا تھا۔۔۔ مگر جب آتا تھا تو وہ شاہ ویز کے سوا کسی کے قابو میں نہیں آتا تھا۔۔۔۔
“بہت۔۔۔۔”
سیگریٹ ہونٹوں میں دباتے تصور میں وہ اُس کا لڑتا جھگڑتا روپ دیکھتا مسکرایا تھا۔۔۔۔
“تو اُٹھوا لیتے ہیں نا اُسے۔۔۔۔ آپ جیسے انسان کے ساتھ رہنے سے بھلا کون پاگل لڑکی انکار کرے گی۔۔۔۔۔”
مہروسہ کو اُس کا یہ مایوسی بھرا انداز پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔ وہ چاہتی تھی جیسے ہر مشکل سے مشکل مشن میں حازم پرعزم رہتا تھا۔۔۔ اپنی محبت حاصل کرنے کے معاملے میں بھی ایسے ہی رہتا۔۔۔۔
“ہاں آئیڈیا اچھا ہے۔۔۔۔ ایس پی حبہ امتشال کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ ایس پی حمدان صدیقی کو بھی اُٹھوا لیتے ہیں۔۔۔۔۔ اُن دونوں کو بھی ایک دوسرے کی کمپنی مل جائے گی۔۔۔۔”
حازم سیگریٹ کا دھواں چھوڑتا اُس کی پچکانہ بات کا مذاق بنانے کے ساتھ ساتھ اُس پر حمدان کے حوالے سے چوٹ بھی کرگیا تھا۔۔۔۔
“آپ کو اُس جنید کے بچے نے سب بتا دیا۔۔۔۔؟؟؟ سر ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔”
مہروسہ دانت پیس کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ اور حازم کے سامنے یہ بات آنے پر الگ شرمندہ تھی۔۔۔۔
“اگر ایسی کوئی بات ہے بھی تو ہمارا یہ ہٹلر ہونے نہیں دے گا۔۔۔۔ شدید نفرت ہے اُسے اِن باتوں سے۔۔۔۔۔”
حازم تلخی سے مسکرایا تھا۔۔۔ جبکہ مہروسہ بھی گہری سانس بھرتی دھیرے سے سر ہلا گئی تھی۔۔۔
شاہ ویز سکندر چاہے کتنا ہی سخت اور روڈ کیوں نہ ہوجائے اُن سے۔۔۔ اُن کے لیے سب سے پہلے وہی آتا تھا۔۔۔۔ وہ اُسے ہرٹ کرکے اپنی خوشی حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“مجھے کچھ نہیں پتا۔۔۔ اگلے پندرہ گھنٹوں تک آفس سے مجھے کوئی کال نہیں آنی چاہیے۔۔۔۔ “
حبہ نے ڈرائینگ روم میں داخل ہوتے موبائل آف کرکے صوفے پر پھینکا تھا۔۔۔۔ اُس کا غصے سے لال پڑتا دیکھ نجمہ بیگم اور اُن کے دائیں جانب بیٹھی صبا نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ اِس غصے اور فرسٹریشن کی وجہ بہت اچھی طرح جانتی تھی۔۔۔۔ وہ آج پورے دو دن بعد گھر واپس آئی تھی۔۔۔۔ لگاتار ڈیوٹی کرنے اور جواب میں خالی ہاتھ رہ جانے کی وجہ سے اُس کی تھکن کئی گنا بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“میرا بیٹا اتنے غصے میں کیوں ہے۔۔۔۔؟؟؟ حکومت نے جو بھی فیصلہ کیا اُن معصوم بچوں کی زندگی کے لیے ہی کیا۔۔۔۔۔ اگر اُن میں سے کسی بچے کو بھی کچھ ہوجاتا تو۔۔۔۔۔۔۔”
نجمہ بیگم اُس کے قریب آن بیٹھتیں اُس کا سر دباتے ہوئے بولیں۔۔۔ جو صوفے پر آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔۔۔
“تو پھر ہمیں کس لیے رکھا گیا ہے۔۔۔۔ ہم کررہے تھے نا کام۔۔۔۔ ایس پی ہمدان پہنچ چکے تھے اُن کی تیسری ساتھی تک۔۔۔۔ لاسٹ موومنٹ کر روک دیا گیا۔۔۔۔ ہمیشہ ایسے ہی وہ ہمارے منہ پر ہنس کر جاتے ہیں۔۔۔۔ جیسے آج وہ خبیث انسان گیا ہے۔۔۔۔ کاش ایک بار دوبارہ وہ میری نظروں کے سامنے آجائے۔۔۔۔ اب کسی کا آرڈر نہیں سنوں گی۔۔۔۔ عین سینے میں گولی نہ اُتاری تو میرا نام بھی حبہ امتشال نہیں۔۔۔۔۔۔ “
حبہ مُٹھیاں بھینچتے ایسے بولی تھی جیسے اس وقت حازم اُس کے سامنے ہو۔۔۔۔
“آپی آپ کو اِن سے ڈر نہیں لگا۔۔۔۔۔ دیکھیں نا اِن کے فیسز کیسے عجیب سے ہیں۔۔۔۔”
صبا ٹی وی سکرین پر بار بار دیکھائے جاتے حازم اور شاہ ویز کے چہروں کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“سکن ماسک لگا رکھے ہیں اِنہوں نے۔۔۔۔ جنہیں اُتارنے تک کی اجازت نہیں دی گئی ہمیں۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے ہمارے اپنے آفیسرز اِن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔۔۔۔ جو اِنہیں ہاتھ تک لگانے کی اجازت نہیں دی گئ۔۔۔ ورنہ میرے ایک ہی ڈنڈے پر اِس شخص نے اپنے ساتھی کا نام اُگل دینا تھا۔۔۔۔۔۔۔”
حبہ کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔ نجمہ بیگم نے صبا کو مزید کچھ بھی بولنے سے منع کردیا تھا۔۔۔۔ حبہ فریش ہونے کی غرض سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ آفس سے چینج کرکے ہی نکلی تھی۔۔۔ مگر شدید تھکاوٹ کے باعث وہ اِس وقت شاور لینے کی غرض سے دوپٹہ اُتار کر بیڈ پر پھینکتی، شولڈر کٹ سلکی بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹتی کیچر میں مقید کر گئی تھی۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے اُس کی صراحی دار دودھیا گردن سے بالوں کا پردہ ہٹ گیا تھا۔۔۔۔ سلیوز کو کہنیوں تک فولڈ کرتے اُس کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ اِس وقت اُس کے علاوہ بھی کوئی ہستی نہ صرف اُس کے کمرے میں موجود ہے بلکہ اُسے نہایت ہی پسندیدگی بھری نگاہوں سے گھورا بھی جارہا ہے۔۔۔
اچانک کسی غیر معمولی احساس کے تحت حبہ نے نگاہیں گھما کر پورے کمرے پر نظریں دوڑائی تھیں۔۔۔ مگر کسی کو نہ پاکر وہ سر جھٹکتی واش روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔
مگر جیسے ہی اُس نے واش روم کا دروازہ کھولا اپنے دھیان میں ہونے کی وجہ سے وہ واش روم سے برآمد ہوتے شخص کے چوڑے سینے سے بُری طرح ٹکرا گئی تھی۔۔۔
حبہ کا پیر سلپ ہوا تھا۔۔۔ جب مقابل نے بازو اُس کے گرد حمائل کرتے اُسے گرنے سے محفوظ رکھا تھا۔۔۔
لیکن ایسا صرف چند سیکنڈز کے لیے ہی ہوا تھا۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے حبہ اُس کے پیٹ میں زور دار گھونسہ رسید کرتی پھرتی سے اُس کے حصار سے نکلتی سائیڈ دراز میں رکھا اپنا پسٹل نکال کر سامنے کھڑے شخص پر تان گئی تھی۔۔۔
“کون ہو تم اور کیا کررہے ہو اِس وقت میرے گھر پر۔۔۔۔”
حبہ نے ٹریگر پر ہاتھ رکھتے اُس گھنگھریالے بالوں اور رف سے حلیے والے شخص کی عین کنپٹی پر نشانہ باندھ رکھا تھا۔۔۔
جو بنا خوفزدہ ہوئے دونوں ہاتھ سرینڈر کرنے کے انداز میں اُوپر اُٹھائے گہری نگاہوں سے اُس کی چمکتی گردن اور اُس میں لٹکتی چین کو گھور رہا تھا۔۔۔۔ حبہ نے اُس کی نگاہیں محسوس کرتے اپنے بالوں سے کیچر نکال کر بال کھلے چھوڑ دیئے تھے۔۔۔ جنہوں نے آبشار کی طرح گردن کے گرد بکھرتے اُسے پوری طرح ڈھانپ دیا تھا۔۔۔
“آپی یہ کیا کررہی ہیں آپ۔۔۔۔؟؟ نیچے کریں پسٹل۔۔۔ یہ بچارا پلمبر ہے کوئی چور نہیں۔۔۔۔ آپ کے واش روم کا نل خراب تھا۔۔۔ وہی ٹھیک کرنے کے لیے بلایا تھا میں نے۔۔۔”
صبا اندر داخل ہوتی سامنے کا منظر دیکھ ہول اُٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر حبہ نے سر سے پیر تک اپنی قاتلانہ نگاہوں سے اُس پلمبر کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔۔۔۔۔ جو اُسے بچارہ تو کہیں سے نہیں لگا تھا۔۔۔۔
وہ پسٹل نیچے رکھتی جلدی سے بیڈ پر پڑا اپنا دوپٹہ اوڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اُس کی اِس احتیاط پر پلمبر کا رُوپ دھاڑے کھڑا میر حازم سالار کی آنکھیں مسکرا اُٹھی تھیں۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حمدان بہت ہی خراب موڈ کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ آج زندگی میں پہلی بار اُس کی ہار ہوئی تھی۔۔۔ جو برداشت کرنا اُس کے لیے آسان نہیں تھا۔۔۔
کیپ اور سٹک ہاتھ میں اُٹھائے وہ گاڑی سے نکل کر صدیقی ولا کے ڈرائینگ روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ مگر خلافِ معمول اندر چھائے اندھیرے کو دیکھ وہ حیرت کا شکار ہوا تھا۔۔۔۔ اگرچہ بارہ بجے کا وقت تھا۔۔۔ مگر پھر بھی صدیقی ولا کا ڈرائینگ ہمیشہ اُجالوں سے جگمگاتا ہی رہتا تھا۔۔۔۔
کوئی ملازم وغیرہ بھی اُسے دیکھائی نہیں دے رہے تھے۔۔۔۔
حمدان نے ابھی پہلا قدم اندر بڑھایا ہی تھا۔۔۔ جب اچانک تالیوں کے شور کے ساتھ لائٹ آن ہوئی تھی۔۔۔۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر حمدان۔۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔۔”
گھر کے سب لوگ ڈرائینگ روم میں اکٹھے ہوئے۔۔۔ ڈرائینگ روم کو غباروں اور پھولوں سے ڈیکوریٹ کیے خوشی سے جگمگاتے چہروں کے ساتھ اُسے وش کررہے تھے۔۔۔۔
اور اُن سب میں سب سے آگے تھی مریم۔۔۔۔۔ جس نے حمدان کے خراب موڈ کو ٹھیک کرنے کے لیے یہ سارا پلان کیا تھا۔۔۔۔
حمدان کے چہرے پر چھاتی مسکراہٹ کو دیکھ وہ اس میں کامیاب ہوتی دیکھائی بھی دے رہی تھی۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔