Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Pt.2

حازم کے بنائے گئے پلان کے مطابق وہ دونوں پولیس اسٹیشن کے دروازے تک جا پہنچے تھے۔۔۔ جہاں حبہ کی لگائی گئی سیکیورٹی نے اُنہیں آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔۔۔ حازم اِس بات سے پہلے ہی واقف تھا۔۔۔
اُس کا اشارہ کرتے ہی زونیا نے اپنا ایکشن سٹارٹ کردیا تھا۔۔۔ وہ اپنی پھٹی سیاہ شال کا پلو اُٹھا کر منہ پر رکھتی اونچی اونچی آواز میں رونا شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔
اور وہاں کھڑے ایک اہلکار کا گریبان سختی سے تھام لیا تھا۔۔۔
“کیوں کیا میرے ساتھ ایسا۔۔۔۔؟؟ جب ساتھ نبھانا ہی نہیں تھا تو محبت کے سبز باغ کیوں دکھائے مجھے۔۔۔ میں بتا دوں گی دنیا والوں کہ میری موت کے زمہ دار تم ہوگے۔۔ دینے جا رہی ہوں میں اپنی جان۔۔۔۔ “
زونیا اُس شخص کو بنا کچھ سمجھنے کا موقع دیا بغیر اُس کے کندھے پر سر رکھتی زارو قطار رونا شروع ہوچکی تھی۔۔۔ وہ شخص بچارا گھبرا گیا تھا۔۔۔
سب لوگ اِس اچانک بنتے ڈرامے پر حیران ہو کر اُس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کا فائدہ اُٹھاتے حازم سب کی نگاہوں سے بچتا اندر کی جانب بھاگ گیا تھا۔۔۔۔
بنا چیکنگ کے وہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔
سامنے سے آفس میں اُسے بہت سارے پولیس اہلکار آتے جاتے دکھائی دیئے تھے۔۔۔۔
حبہ اُن میں کہیں نہیں تھی۔۔۔ نہ اُسے اپنے لوگ کہیں دکھ رہے تھے۔۔۔۔
حازم ایک جانب بینچ پر بیٹھا چاروں جانب نگاہیں دوڑاتا ماحول کا پوری طرح سے جائزہ لینے لگا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے اُسے فون کان سے لگائے حبہ ایک جانب سے آتی دکھائی دی تھی۔۔۔
فل یونیفارم میں ملبوس سر کس سیاہ حجاب سے کور کیے وہ پوری طرح الرٹ تھی۔۔۔ وہ جس تیزی سے قدم اُٹھاتی دوسری جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ حازم سمجھ چکا تھا کہ اُس کے لوگوں کو وہیں رکھا گیا تھا۔۔۔
وہ فوراً حبہ کے پیچھے گیا تھا۔۔۔
حبہ جس آفس میں داخل ہوئی تھی حازم بھی پیچھے وہیں داخل ہوا تھا۔۔۔ مگر وہ آفس بالکل خالی تھا۔۔۔ حبہ آفس کے بیچ میں پہنچتی ایک دم رکی تھی۔۔۔
حازم ابھی دروازے میں ہی تھا۔۔۔
“میں جانتی تھی تم ضرور آؤ گے۔۔۔۔ “
حبہ بنا پلٹے بھی جان گئی تھی کہ حازم اُس کے پیچھے اندر آچکا ہے۔۔۔۔
اُس کی بات پر حازم حیران رہ گیا تھا۔۔۔
حبہ پلٹی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا حازم سالار تم مجھے سرپرائز دینا چاہتے تھے نا۔۔۔ دیکھو میں نے تمہیں سرپرائز کردیا۔۔۔ کیسا لگا میرا سرپرایز ڈئیر ہزبینڈ۔۔۔ دلہا دلہن ایک دوسرے کو شادی کی پہلی رات ایک دوسرے کو محبت بھرے تحفے دے کر زندگی بھر ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کا وعدہ کرتے ہیں۔۔۔۔ مگر ہم دونوں کی زندگی ہمیشہ سب سے مختلف رہی ہے نا۔۔۔۔ حجلا عروسی کے بجائے رخصتی کے بعد ہماری پہلی ملاقات پولیس اسٹیشن میں ہورہی ہے۔۔۔ “
حبہ حازم کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلی تھی۔۔۔۔
“بالکل اور ایسا پہلی بار ہے کہ شوہر کو اپنی نئی نویلی دلہن کی صورت تک دیکھنے میں بھی کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔۔۔۔ میرے لوگوں کو آزاد کردو ورنہ تمہارا یہ پولیس اسٹیشن اُڑانے میں زیادہ ٹائم نہیں لگے گا مجھے۔۔۔۔”
حازم مُٹھیاں بھینچے غصے سے دھاڑا تھا۔۔۔
“آہستہ بولیں مسٹر حازم سالار یہ آپ کا بلیک ہاؤس نہیں ہے۔۔۔۔ میرا پولیس اسٹیشن ہے۔۔۔ جہاں آپ کی دہشت نہیں چلے گی۔۔۔۔”
حبہ اُس کے چلانے پر اُسے تنبیہی نگاہوں سے گھورتے بولی تھی۔۔۔۔
حازم نے نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ سیاہ حجاب میں اُس کی دودھیا رنگت دھمک رہی تھی۔۔۔۔ گلابی غصے کی وجہ سے کپکپاتے ہونٹ اور براؤن آنکھوں پر سجی گھنیری پلکیں غصے کی شدت سے لرزتیں حازم سالار جو جیسے اپنے حُسن کے تعویز میں جکڑنے لگی تھیں۔۔۔
وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے سخت خفا تھے۔۔۔۔
اور شدید غصے میں بھی۔۔۔ مگر یہ بھی بہت بڑی حقیقت تھی کہ اُن دونوں کے بیچ کی بے پناہ محبت ایک پرسنٹ بھی کم نہیں ہوپائی تھی۔۔۔۔
دونوں کے دل آج بھی ایک دوسرے کے لیے دھڑک رہے تھے۔۔۔ بس ایک غلط فہمی نے اُن دونوں کو فاصلے پر جاکھڑا کیا تھا۔۔
تڑپ ابھی بھی ایک دوسرے کے لیے ہنوز تھی۔۔۔۔
“تم پولیس اسٹیشن میں بھی میری بیوی اور بلیک ہاؤس میں بھی۔۔۔ “
حازم اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“اپنی لمٹس میں رہیں۔۔۔۔ “
حبہ اُسے کڑے تیوروں سے قریب آتے دیکھ۔۔۔ باز رکھتے بولی تھی۔۔۔
“یہ آپ کا پولیس اسٹیشن ہے۔۔۔ آپ بتا دیں مجھے میری لمٹس کیا ہیں۔۔۔ “
حازم اُس کے نہایت قریب آتے بولا تھا۔۔۔ حبہ پیچھے ہوتی ٹیبل سے جاٹکرائی تھی۔۔
“مجھ سے دور رہو حازم سالار۔۔۔۔ مجھے اِس وقت شدید نفرت محسوس ہورہی ہے تم سے۔۔۔۔”
حبہ اُس کو اپنے اُوپر جھکتا دیکھ ٹیبل پر بالکل ڈھے گئی تھی۔۔۔ اُس نے حازم کے سینے پر دونوں ہتھیلیوں کا دباؤ ڈالتے اُسے پیچھے دھکیلا تھا۔۔۔
جب حازم اُس کی دونوں کلائیاں اپنی گرفت میں لیتا اُنہیں ٹیبل پر ٹکاتا اُس کے چہرے کی جانب جھکا تھا۔۔۔
“تمہیں مجھ سے مسئلہ ہے تو مجھے نقصان پہنچاؤ۔۔۔ میرے لوگوں نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا اُنہیں آزاد کردو۔۔۔ “
حازم اُس کے چہرے پر اپنی تپیش زدہ سانسیں چھوڑتا حبہ کو کی سانسیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔
وہ مسلسل اپنے ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی۔۔ جس کے جواب میں حازم اُس کی دونوں ہاتھ اُس کی کمر پر باندھتا اُسے اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔
“میں دو بھول ہی گیا تھا۔۔ دو دن پہلے رخصتی ہوئی ہے نا ہماری۔۔۔۔ تمہیں تمہاری منہ دکھائی کا گفٹ تو دیا ہی نہیں میں نے۔۔۔۔ “
حازم اُس کی سکارف کی پن کھول چکا تھا۔۔۔
حبہ اُس کے اچانک بدلتے اِس انداز پر بوکھلا گئی تھی۔۔ اُسے اِس سیریس سچویشن میں حازم سے اِس سب کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔
اُس کے گال خفت و حیا کے مارے دہک اُٹھے تھے۔۔۔ چاہے درمیان میں کتنے بھی اختلاف سہی مگر اُس کا دل صرف اور صرف حازم سالار کے لیے ہی دھڑکتا تھا۔۔۔
جس کی زرا سی قربت اُس کو ہمیشہ ایسے ہی پگھلا کر رکھ دیتی تھی۔۔۔
بڑے بڑے دشمنوں کو ایک اکیلی مار گرانے والی حازم کے سامنے خود کو آزاد تک نہیں کروا پاتی تھی۔۔۔
“مجھے اپنے بابا کے قاتل سے کوئی تحفہ نہیں چاہیے۔۔۔”
حبہ نے اُسے وہ بات یاد دلانی چاہی تھی جس کی وجہ سے وہ اُس سے دور ہوئی تھی۔۔۔
حبہ نے پراپر انویسٹی گیشن کروائی تھی۔۔۔ جس کے بعد حازم کا کہا سچ نکلا تھا حازم نے ہی اُس کے بابا کو مارا تھا۔۔۔۔ یہ سچائی سن کر حبہ اندر سے ٹوٹ گئی تھی۔۔۔ مگر ابھی بھی وہ اُس کی جانب سے وضاحت کی اُمید رکھتی تھی۔۔۔
اُس کا دل ابھی بھی اُس سے یہی کہہ رہا تھا کہ اصل حقیقت کچھ اور ہے۔۔۔۔
“مگر میں اپنی بیوی کی اُس کی خوبصورتی کے شیانے شان ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں۔۔۔ تم اُس رات میری دلہن بنی بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔ ہتھیاروں سے نہ سہی مگر اپنے قاتلانہ حُسن سے تم مجھ بچارے کو قتل کرنا چاہتی ہو۔۔۔ اسی لیے میں اُس رات نہیں آیا تمہارے پاس۔۔۔۔”
حازم اُس کی خمدار ٹھوڑی کو ہونٹوں سے چھوتا حبہ کی دھڑکنیں بڑھا گیا تھا۔۔۔۔
حبہ نے گھبرا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
اُس کی بڑی بڑی حسین آنکھیں حازم سالار کو مزید اپنا دیوانہ بنا گئی تھیں۔۔۔ وہ جھکا تھا اور باری باری اُس کی دونوں آنکھوں پر اپنے ہونٹوں کا شدت بھرا لمس چھوڑتے اُس کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر گیا تھا۔۔۔۔
حبہ اُس سے اپنے ہاتھ چھڑوا پانے میں ہلکان ہوتی اُس کے اِس دہکتے لمس پر جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“تم یہاں اپنے آدمیوں کو چھڑوانے آئے تھے حازم سالار۔۔۔ تم اپنے مقصد سے بھٹک رہے ہو۔۔۔۔”
حبہ اب کی بار اُسے اپنے ہونٹوں پر جھکتے دیکھ چلا اُٹھی تھی۔۔۔ جبکہ اُس کی لرزتی آواز پر حازم اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا۔۔۔
اُس کے چھٹ پھاڑ قہقے پر حبہ نے اُسے آنکھیں نکالی تھیں۔۔۔ یہ شخص اُسے سسپینڈ کروا کر ہی سکون سے بیٹھنے والا تھا۔۔۔۔
اگر باہر کھڑے گارڈز کسی گڑبڑ کا سوچتے اندر آجاتے تو اپنی سخت گیر ایس پی صاحبہ کو اپنے شوہر کے آگے یوں بھیگی بلی بنے دیکھ وہ ضرور اپنے حواس کھو بیٹھتے۔۔۔
حبہ اپنے محکمے کی سخت گیر آفیسرز میں سے ایک تھی۔۔۔۔۔
نجانے اپنے سے نیچے کتنے لوگوں کو اُن کی نااہلی یا رشوت لینے کے جرم میں سسپینڈ کر چکی تھی۔۔۔
اِس لیے سب اُس سے بہت ڈرتے تھے۔۔۔
مگر اُن میں سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ اُن کی ہٹلر ایس پی کی بولتی اُس کے جانِ ستمگر کے آگے بند ہوجایا کرتی تھی۔۔۔
جیسے اِس وقت ہوئی تھی۔۔۔
“تم ایک پولیس آفیسر کے آفس میں داخل ہوکر اُسے ہراساں کررہے ہو۔۔۔ یہ کوئی چھوٹا جرم نہیں ہے۔۔۔ “
حبہ اُس کی جانب دیکھتے اُسے وارن کرتے بولی۔۔۔
“ایسی کی تیسی تمہارے قانونوں کی۔۔۔ میں باہر تمہاری جمع کی گئی اُس ساری مخلوق کے سامنے تمہیں اُٹھا کر لے جانے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔۔۔۔ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ پائے گا۔۔۔۔ “
حازم اُس کے دھکتے گالوں پر لب رکھتا گھمبیر بھاری لہجے میں بولتا حبہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا تھا۔۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

پریسا روم میں آئی تھی جب اُس کی نظر ڈریسنگ روم کے دروازے کے ساتھ پڑے بیگ پر پڑی تھی۔۔۔ جس کے ساتھ بینچ پر ایک درمیانی سائز کا باکس بھی رکھا گیا تھا۔۔۔۔
پریسا پر تجسس سی اُس بیگ کی جانب بڑھی تھی۔
جسے کھولتے ہی اُس کی آنکھوں میں ستائش بھر گئی تھی۔۔۔۔
اُس میں نہایت ہی خوبصورت ڈریسز تھے۔۔۔ ویسے ہی ڈریسز جو پریسا پسند کرتی تھی۔۔
“واؤ۔۔۔ یہ یہاں پہلے تو نہیں تھے۔۔۔۔ “
پریسا کے ہونٹ کسی خیال کے تحت مسکرائے تھے۔۔۔
باکس کھولتے ہی آگے سے بہت کی نفیس سی جیولری بر آمد ہوئی تھی۔۔۔
“اوہ۔۔۔ تو اس وحشی کو اِس کے بارے میں بھی پتا ہے۔۔۔۔۔”
پریسا اُن میں سے پنک کلر کا ایک بہت کی خوبصورت سا ڈریس اور اُس کے ساتھ میچنگ وائٹ کلر کی جیولری لیتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
کچھ ہی لمحوں بعد وہ نک سک سے تیار شاہ ویز سکندر کے دل پر بحلیاں گرانے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔
اُس کے غصے کا سوچتے پریسا کا دل ایک بار بہت شدت سے دھڑکا تھا۔۔۔۔
مگر اب وہ پیچھے ہٹ کر شاہ ویز اور اپنے درمیان مزید دوریاں پیدا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
پریسا خود کو بہادر ظاہر کرتی روم سے نکل آئی تھی۔۔۔
گارڈز سے پوچھ کر وہ بلیک ہاؤس کے ایک الگ تھلگ کونے میں بنی ایک چھوٹی سی بلڈنگ کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
جہاں اِس وقت شاہ ویز سکندر موجود تھا۔۔۔۔
پریسا آج تک وہاں نہیں گئی تھی۔۔۔
اُس کا دل بہت بُری طرح سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
پریسا نے اندر قدم رکھا تھا۔۔۔۔
سامنے ہی بڑا سا سیاہ رنگ کا لکڑی کا گیٹ تھا۔۔۔ اور اُس کے دائیں جانب کھڑکی تھی۔۔۔۔
پریسا نے اندر جانے کے بجائے احتیاطاً پہلے وہاں سے اندر جھانکا تھا۔۔۔
لیکن سامنے کا منظر دیکھ پریسا کا دل دہل گیا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز اندھا دھند پنچنگ بیگ پر مکے برساتا اپنا سارا غصہ اور قہر اُسی پر نکال ریا تھا۔۔۔۔
وہ سانس لینے کے لیے ایک سیکنڈ بھی نہیں رک رہا تھا۔۔۔ وہ جیسے اپنا سارا غصہ اِسی بے جان شے پر نکال دینا چاہتا تھا۔۔۔
پریسا خوف کے مارے چند قدم دور ہوئی تھی۔۔۔ اُسے محسوس ہورہا تھا کہ شاہ ویز نے پنچنگ بیگ کو اُس کی صورت ہی تصور کر رکھا تھا۔۔۔ اور اپنا سارا غصہ یوں اندھا دھند نکالے جارہا تھا۔
ایک پل کے لیے تو اُسے یہیں سے واپس لوٹ جانا ہی مناسب لگا تھا مگر اُس کا دل یہ بات ماننے کو بھی بالکل بھی تیار نہیں تھا۔۔۔
جس پر لرزتی ٹانگوں کے ساتھ پریسا دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوچکی تھی۔۔۔
شاہ ویز سیاہ ٹراؤزر اور سلیو لیس ٹی شرٹ میں ملوس تھا۔۔۔۔ جس سے اُس کے کسرتی چوڑے مضبوط کندھے نمایاں ہورہے تھے۔۔۔۔
پورے روم میں نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
پریسا کی جانب اُس کی بیک تھی۔۔۔ مگر دروازہ کھلنے کی وجہ سے روم میں ہلکی سی روشنی کی کرن داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
اور اُس کے ساتھ ہی پریسا کے پیروں میں پہنی پائلوں کی چھن چھن بھی۔۔۔۔
جو شاہ ویز کے کانوں تک باآسانی پہنچ بھی رہی تھیں۔۔۔ لیکن وہ اِس دلکش فریب سے اپنی آنکھیں اور کان بند کیے ہوئے تھا۔۔۔۔
پریسا دھیرے دھیرے چلتی اُس سے کچھ فاصلے پر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
پریسا نے اُسی کا پرفیوم لگا رکھا تھا۔۔۔ جو شاہ ویز سکندر محسوس بھی کرچکا تھا۔۔۔
مگر اِس پری پیکر کے ہوش رُبا حُسن کی جانب دیکھنے سح گریز برتتا وہ بس بیگ پر مکے برسائے جارہا تھا۔۔۔ جس میں اب مزید تیزی آچکی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر کو آج تک کبھی کسی سے خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔ مگر اِس وقت اُس کا دل بہت زیادہ خوفزدہ تھا۔۔ پریسا آفندی سے سامنا کرنے سے خوفزدہ تھا وہ۔۔۔۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔”
پریسا نے اُسے پکارا تھا۔۔۔۔
مگر شاہ ویز کی جانب سے کوئی جواب نہیں مل پایا تھا اُسے۔۔۔۔
“میں تم سے بات کر رہی ہوں شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ “
پریسا اب کی بار قدرے اُونچی آواز میں چلائی تھی۔۔۔۔
مگر اُس کے اِس بپھرے وحشی پر اُس کی آواز کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
پریسا نے نم ہوتی آنکھوں اور خفگی بھرے تاثرات کے ساتھ اُسے دیکھا تھا۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ اُس کی جانب بڑھتی پنچنگ بیگ کی جانب ہاتھ بڑھا گئی تھی۔۔۔
شاہ ویز کو اُس سے ایسی بے وقوفی کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔ وہ بیگ سنبھال نہیں پایا تھا۔۔۔۔
جو سیدھا جاکر کر پریسا کے سر پر لگا تھا۔۔۔۔
وہ منہ کے بل زمین بوس ہونے کو تھی۔۔۔ جب شاہ ویز نے جلدی سے آگے بڑھتے اُسے تھام لیا تھا۔۔۔۔
پریسا نے نگاہیں اُٹھا کر خود پر جھکے شاہ ویز کو دیکھا تھا۔۔۔
اُس کے سر میں درد سے ٹیسیں اُٹھی تھیں۔۔۔۔
جبکہ شاہ ویز تو سامنے سارے ہتھیاروں سے لیس پنک پری بنی کھڑی پریسا کو دیکھ کر اپنی نگاہیں چرانا بھول چکا تھا۔۔۔۔
پنک ڈریس کے ساتھ گول گول آنکھوں میں کاجل لگا کر اُن کی دلکشی کو مزید چار چاند لگایا گیا تھا۔۔۔۔ گالوں کی لالی تو اُسے کے دیکھتے ہی کئی گنا بڑھ گئی تھی۔۔۔ جبکہ بالوں کو جوڑے میں مقید کیے صراحی دار صاف شفاف گردن کا پردہ بالکل ہٹا دیا گیا تھا۔۔۔۔
دودھیا چمکتی گردن اور اُس کے عین درمیان میں جگمگاتا سیاہ تل شاہ ویز سکندر کا ایمان ڈانوں ڈول کرگیا تھا۔۔۔۔ پنک لپسٹک سے سجے تراشیدہ نازک ہونٹ اُس کے خوف سے لرزتے شاہ ویز سکندر کی بے قراری میں کئی گنا اضافہ کر گئے تھے۔۔۔۔
اور رہی سہی کسر اُس کے چہرے کو بار بار آن چھوتیں اُس کی باریک لٹوں نے پورا کردی تھی۔۔
جو کبھی اُس کے ہونَٹوں کو، کبھی گالوں کو چھوتیں شاہ ویز سکندر کے دل پر قیامت برپا کر گئی تھیں۔۔۔۔
شاہ ویز کو اپنا آپ بچانا مشکل لگا تھا۔۔۔ مگر یہ لڑکی جو غلطی کر چکی تھی۔۔۔ وہ اُسے اتنی آسانی سے معاف کرنے کا ارادہ بالکل بھی نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔
“کیوں آئی ہو یہاں۔۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز نے اُسے اپنے سہارے سیدھا کرتے اُس کی پیشانی سے بال ہٹاتے اُس کے ماتھے کا جائزہ لیا تھا۔۔۔
جو اُس کی کارگزاری کی وجہ سے سوج چکا تھا۔۔۔
ابھی جو کچھ ہوا تھا اُس کے خوف سے پریسا کا پورا وجود لرز رہا تھا۔۔۔۔ لیکن یہ چیز ایک طرح سے اُسے اپنے فیور میں آتے محسوس ہوئی تھی۔۔۔
کیونکہ اُس کے سینے سے لگے پریسا نے اُس کے اعصاب ڈھیلے پڑتے محسوس کیے تھے۔۔۔۔
وہ اُس کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔۔۔۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔ “
پریسا نے اُسے اپنے آنے کی وجہ بتائی تھی۔۔۔
مگر اُس کی بات کو صاف نظر انداز کرتے شاہ ویز جلدی سے دراز سے فرسٹ ایڈ باکس لگاتا اُس کے ماتھے پر ٹیوب لگا گیا تھا۔۔۔ جو کافی زیادہ سوج چکا تھا۔۔۔۔
پریسا کو ایسے ہی اپنے ساتھ لگائے کھڑے اُس نے پریسا کو دوا لگاتے اپنے حصار سے آزاد کردیا تھا۔۔۔
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی تم جاسکتی ہو یہاں سے۔۔۔۔ “
شاہ ویز ایک بار پھر پنچنگ بیگ کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔ مگر اِس بار پریسا نے اُسے روکا نہیں تھا بلکہ وہ خود ہی بیگ کو دور دھکیلتی شاہ ویز کے بہت قریب عین اُس کے سامنے جاکھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
“تم پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔۔؟؟”
پریسا کے دھکے کی وجی سے ہوا میں جھولتا بیگ واپس اُس کے سر پر آکر لگنے والا تھا جب شاہ ویز نے ہاتھ بڑھا کر بیگ کو تھامتے اُسے محفوظ رکھا تھا۔۔
“ہاں تم جیسے وحشی سے محبت کرنے والی لڑکی پاگل ہی ہوسکتی ہے نا۔۔۔۔ “
پریسا اُس سے آج کسی صورت دبنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
“تمہاری بھلائی اِسی میں ہے کہ تم میری نگاہوں سے اوجھل ہوجاؤ اِس وقت۔۔۔۔”
شاہ ویز نے جیسے ہی اپنی ضبط سے لال پڑتی نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا لمحے بھر کو پریسا کا دل خوف سے کانپ گیا تھا۔۔۔
اُس کے قدم چند انچ پیچھے کی جانب اُٹھے تھے۔۔۔
جبکہ مُٹھیاں سختی سے بھینچتے پریسا نے اپنی بے قابو ہوتی دھڑکنوں پر قابو پایا تھا۔۔۔۔
“میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔۔۔۔ “
پریسا اُس کو واپس سے وحشیانہ روپ دھاڑتے دیکھ بولی تھی۔۔۔
“مجھے تم سے اور تمہاری معافی سے اب کوئی غرض نہیں ہے۔۔۔ دھوکے باز لوگوں کی شاہ ویز سکندر کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز نے مُٹھیاں بھینچتے بہت مشکل سے خود پر ضبط کر رکھا تھا۔۔۔۔
“دھوکا میں نے نہیں کیا شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ تم نے مجھ سے دھوکا کیا ہے۔۔۔ ہم دونوں کی زندگی کا اتنا بڑا سچ چھپایا تم نے مجھ سے۔۔۔۔ تم ہمیشہ خود کو میرا دشمن کہہ کر خود کو مجھ سے متعارف کرواتے رہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سب سے بڑے خیر خواہ تم تھے۔۔۔ مجھ سے محبت کرتے تھے تم مگر تم نے ہمیشہ سے مجھے نفرت سے اپنے قریب آنے سے دھتکار دیا۔۔۔ تم پہلے دن سے سمجھ گئے تھے کہ میں تم سے محبت کرنے لگی ہوں۔۔۔ مگر تم پھر بھی میری فیلنگز کے ساتھ کھیلتے رہے۔۔۔۔ میں شہباز آفندی اور اُن نے خاندان والوں کو اپنا قصور وار نہیں مانتی ۔۔ کیونکہ وہ تو پہلے دن سے ہی مجھے استعمال ہی کررہے تھے۔۔۔ اُن میں سے کسی کو مجھ سے محبت نہیں تھی۔۔۔ میرے دل میں اب اُن کے لیے ایک زرا سا احساس بھی باقی نہیں رہا۔۔۔۔ کیونکہ کبھی اُن کی محبت مجھے سچی اور خلوص بھری لگی ہی نہیں۔۔۔ ہمیشہ اُن سب کے بیچ رہتے ایک عجیب سا خالی پن رہا میرے اندر۔۔۔ جس خالی پن کو دور کرنے والی تھی تمہاری محبت۔۔۔ تمہارے ہونے کا احساس۔۔۔
مگر تم واقعی انسان نہیں ایک بیسٹ ہی ہو۔۔۔۔ ایک ایسا درندہ جسے صرف اپنی انا، اپنی دلی خواہشیں عزیز ہیں۔۔۔۔ جو صرف وہی کرنا چاہتا ہے جو اُس کے لیے ٹھیک ہو۔۔۔۔ میرے اصل قصور وار تم ہو۔۔۔۔ تم اگر پہلے دن ہی مجھے بتا دیتے تو میں اتنی اذیت میں نہ رہتی۔۔۔ میں اُن لوگوں کو تو شاید کبھی آگے چل کر معاف کردوں۔۔ مگر تمہیں کبھی معاف نہیں کرون گی شاہ ویز سکندر کبھی نہیں۔۔۔۔ دھوکے باز تم ہو میں نہیں۔۔۔۔ مجھ سے محبت کرنے کے باوجود نفرت کا اظہار کرنے والے جھوٹے اور منافق انسان تم ہو۔۔۔ میں نہیں۔۔۔۔ “
وہ اُس کے آگے سے ہٹنے لگا تھا جب پریسا اُس کا گریبان اپنی مُٹھیوں میں دبوچتی جارحانہ تیور لیے بولتی شاہ ویز سکندر کو پل بھر کے لیے ساکت کر گئی تھی۔۔۔
پریسا کا پورا چہرا بولتے بولتے آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ بھول گئی تھی کہ وہ معافی مانگنے آئی ہے۔۔۔ مگر وہ اتنا جانتی تھی کہ سامنے کھڑا شخص نرمی سے بات سننے والوں میں سے نہیں تھا۔۔۔ اُسے اُسی کے انداز میں ڈیل کرنا تھا۔۔۔۔
لیکن یہ سب بولتے پریسا کا دل اُس کے خوف سے لرز رہا تھا۔۔۔ اگر اُس کی بولی گئی اِن باتوں کا اِس وحشی اُلٹا اثر پڑتا تو اُس کی خیر نہیں ہونے والی تھی۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے اس کا گریبان آزاد کرتے پریسا اُس کی پہنچ سے دور جاتی شاہ ویز اُس کی کلائی تھام کر اپنی آہنی گرفت میں لے کر اُس کی کمر کے پیچھے موڑتا اُسے اپنے نہایت قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔
پریسا سیدھی اُس کے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔
“کیا بکواس ہے یہ۔۔۔۔ تمہیں میں مہلت دیتا ہوں تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ تم کچھ بھی بولو گی۔۔۔۔ تمہیں آفندی خاندان کے ایک ایک انسان سے نفرت کرنی ہوگی۔۔۔ کیونکہ وہ سب تمہارے مجرم ہیں۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی گرم سانسیں پریسا کا چہرا جھلساتی اُسے اُس کے شدید طیش میں ہونے کا پتا دے رہی تھیں۔۔۔
اُس کی آہنی گرفت اور قربت کے احساس سے پریسا اندر تک لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
اُس کا پورا چہرا لال ہوچکا تھا۔۔۔ جبکہ کلائی تکلیف کے مارے ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
مگر وہ اِس بپھرے زخمی شیر کو جو بول چکی تھی۔۔۔ اُس کا نتیجہ بھی بھگتا تھا اُسے۔۔۔ جس کے لیے وہ خود کو تیار کرکے آئی تھی۔۔۔
مگر شاہ ویز سکندر کی قربت اُس کی نازک جان پر بہت بھاری تھی۔۔۔۔
“میری جانب دیکھو پریسا شاہ ویز۔۔۔۔۔ تمہیں زرا بھی اندازہ ہے ابھی جو بکواس تم نے کی ہے۔۔۔ میں اُس کے جواب میں کیا کرسکتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔۔ میرے سامنے آج تک کسی نے اونچی آواز میں بات کرنے کی جرأت نہیں کی۔۔۔ اور تم مجھے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کے لرزتے کانپتے ہونٹوں کو دیکھتے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔۔
اُس کی ٹھوڑی تھام کر اُس کا چہرا اپنی جانب موڑتے وہ اُس کی سہمی ہرنی جیسی آنکھوں میں جھانکتے بولا تھا۔۔۔۔
“کیا کرو گے تم۔۔۔۔؟؟ مجھے سزا دو گے۔۔۔ پھر سے اپنے کال کوٹھڑی میں بند کردو گے۔۔۔۔ جو سزا دینی ہے دے دو۔۔۔ نہیں ڈرتی میں اب تم سے۔۔۔۔”
پریسا اُس سے اپنا آپ آزاد کروانے کی کوشش کرتی نڈر انداز میں بولی تھی۔۔۔۔
جبکہ اُس کے سرخی مائل چہرے کو دیکھتا شاہ ویز سکندر دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔۔
جو دیکھ پریسا کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔۔۔۔
اِس شخص کی طرح اِس کی مسکراہٹ بھی بہت دلکش تھی۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔ میری اب کی دی سزا برداشت نہیں کر پاؤ گی تم پریسا شاہ ویز۔۔۔۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ کوشش کرنا میری اپنے لیے موجود بے پناہ نفرت کو چھیڑنے کی کوشش مت کرنا۔۔۔ برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے ہلکے سے جھکے سے اپنے مزید قریب کرتا اُس کے چہرے پر جھکا تھا۔۔۔۔
اور اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش پر اپنے ہونٹوں کا شدت بھرا لمس چھوڑتا پریسا کی سانسیں بکھیرے گیا تھا۔۔۔۔ پریسا کو اُس سے اِس سزا کی توقع بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
اُس کا چہرا شاہ ویز سکندر کی ہلکی ہلکی داڑھی کی چھبن سے جل اُٹھا تھا۔۔۔
“کاش کے تم میرے دل میں جھانک کر دیکھ سکتی کہ پریسا آفندی کا کیا مقام ہے تو ابھی جو فضول باتیں کہیں ہیں وہ کہنے سے پہلے ہزار بار سوچتی۔۔۔۔ تم میری محبت نہیں میرا جنون ہو۔۔۔۔ جس کے لیے سالوں تڑپا ہوں میں۔۔۔ مگر اب تمہیں میرے اِسی جنون اور تڑپ کا حساب دینا ہوگا۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے کان کی لوح پر جھکتا سرگوشیانہ گھمبیر بوجھل لہجے میں بولتا پریسا کی دھڑکنیں منجمند کر گیا تھا۔۔۔۔
اپنے وحشی کا جنونیت بھرا یہ وحشیانہ انداز دیکھ اُس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ گیا تھا۔۔۔۔
اُس کی بولتی شاہ ویز سکندر ایک منٹ کے اندر ہی بند کرچکا تھا۔۔۔۔ اُس کے سارے الزام دھڑے کے دھڑے رہ گئے تھے۔۔۔
“تم اِس کا الزام مجھ پر نہیں لگا سکتی۔۔۔ کیونکہ تم نے خود میری تڑپ کو ہوا دی ہے۔۔۔ اب تمہیں اِسے ختم بھی کرنا ہوگا۔۔۔”
شاہ ویز جیسے ہی اُس کے ہونٹوں کی جانب جھکا پریسا اپنا لرزتا ہاتھ اُس کے ہونٹوں پر رکھتی اپنے دھڑک دھڑک کر پاگل ہوتے دل کو سنبھلنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی اُس ستمگر سے لمحہ بھر کی مہلت مانگ گئی تھی۔۔۔
اُسے شاہ ویز سکندر کی دی وارننگز بہت اچھے سے یاد آئی تھیں۔۔۔۔
مگر اب وہ اُسے چھیڑ چکی تھی۔۔۔ اب خود کو اپنے اِس وحشی سے بچا پانا مشکل تھا اُس کے لیے۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر تمہیں پہلے میرے ہر الزام کا جواب دینا ہوگا۔۔۔۔ “
پریسا کپکپاتے لہجے میں بولتی شاہ ویز کو اتنی پیاری لگی تھی کہ وہ خود کو مزید بہکنے سے نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔
اُس نے ایک جھٹکے سے پریسا کو اپنی گرفت سے آزاد کردیا تھا۔۔۔
“تم جا سکتی ہو۔۔۔۔ تمہیں تمہارے ایک ایک الزام کا جواب مل جائے گا۔۔۔۔”
شاہ وزیر اُس کی جانب سے رُخ موڑتا اپنے بے قابو ہوتے جذبات پر بندھ باندھنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔۔
وہ اب بھی خود کو پریسا کے قریب جانے سے روکتا خود کو اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔۔۔۔
“میں کہیں نہیں جارہی شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ اب ساری زندگی تمہیں ہی مجھے جھیلنا ہوگا۔۔۔ “
پریسا اُس کے دور ہونے پر اُس کی جانب بڑھتی پیچھے سے اُس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار قائم کرتے اُس کے سینے پر بازو باندھتی اُس کی چوڑے کندھے پر اپنی پیشانی ٹکا گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر اُس کے گداز ملائم ہاتھوں کا لمس اپنے سینے پر محسوس کرتا اپنی جگہ منجمند ہوگیا تھا۔۔۔
اُس کا دل پوری شدت سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔
“تم بہت ظالم ہو شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ تم میری جانب سے منہ موڑ رہے ہو۔۔۔ میں آخری بار بتا رہی ہوں تمہیں۔۔ اگر اب بھی تم نے اپنے اُوپر چڑھایا یہ نفرت اور اجنبیت کا خول نہ توڑا تو میں بہت دور چلی جاؤں گی تم سے۔۔۔ اتنی دور کہ مجھے واپس لانے میں تمہاری یہ طاقت بھی کام نہیں آئے گی۔۔۔۔ میں یہی سمجھوں گی کہ تم میرے قریب واقعی اپنا بدلہ پورا کرنے کے لیے آنے والے ایک بزدل انسان تھے۔۔۔۔ جس نے اپنا بدلہ پورا ہوتے ہی مجھے چھوڑ دیا۔۔۔۔”
پریسا کے ہونٹوں کا لمس شاہ ویز کے دل و دماغ میں تغیانی برپا کر گیا تھا۔۔۔
پریسا اُس کے ساتھ لگی کھڑی بھیگے لہجے میں بولتی اُس سے دور ہوئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز کو ویسے ہی پتھر بنا کھڑا دیکھ پریسا کے آنسوؤں میں مزید رفتار آگئی تھی۔۔۔
وہ مرجھائے چہرے کے ساتھ واپس کی جانب پلٹی تھی۔۔۔
“اتنی جلدی ہار مان لی۔۔۔۔ بس اتنی سی ہی تھی تمہاری محبت۔۔۔ میں نے کہا تھا تمہاری محبت کبھی بھی میرے جنون کا مقابلہ نہیں کر پائے گی۔۔۔۔ اتنے وقت سے تم سے دور رہ کر تمہارے لیے تڑپتا آیا ہوں۔۔۔ تمہیں اپنے دشمنوں کے بیچ رہتے دیکھ اذیت کی بھٹی میں جلتا رہا ہوں۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ پاگل ہوتا رہا ہوں۔۔۔۔۔ اور تم میرا یہ چند سیکنڈز کا منہ موڑنا بھی برداشت نہیں کر پائی۔۔۔۔ یہی تھی تمہاری محبت۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی گھمبیر بھاری آواز نے دروازے کے قریب پہنچتے پریسا کے قدم وہیں جکڑ لیے تھے۔۔۔
وہ جھٹکے سے پلٹتی بے یقین نگاہوں سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
“میری زندگی کا کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرا جس دن میں آفندی مینشن میں نہ آیا ہوں۔۔۔ وہ میرا گھر تھا۔۔۔ جہاں میں خون کے آنسو بہاتا دوسروں کو اُس میں راج کرتے دیکھتا تھا۔۔۔۔
مجھے آفندی مینشن کے ہر فرد سے شدید نفرت محسوس ہوتی تھی۔۔۔ دل کرتا تھا پورے آفندی مینشن کو آگ لگا کر وہاں کہ ایک ایک مکین کو زندہ جلا دوں۔۔۔ میں ایسا کر بھی گزرتا اگر وہ گھر میرے باپ نے اپنی حلال کی کمائی اور محبت سے بنایا تھا۔۔۔۔ جہاں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ کر ایک خوشحال زندگی کے خواب دیکھے تھے اُنہوں نے۔۔۔۔ آفندی مینشن والوں کے لیے وہ ایک شاندار عمارت تھی۔۔۔۔
مگر میرے لیے وہ میرے ماں باپ کی اکلوتی نشانی تھی۔۔۔
جہاں میرے والدین کی یادیں بستی تھیں۔۔۔۔ میں وہاں روز جاتا تھا اور خود سے عہد کرتا تھا کہ اِن سب لوگوں کو برباد کرکے رکھ دوں گا۔۔۔۔ جب ایک رات میں نے وہاں لان میں پڑے سنگی بینچ پر تمہیں ظفر آفندی کی تصویر کو اُٹھائے دیکھا تھا۔۔۔۔
مجھے تم سے سب سے زیادہ نفرت محسوس ہوئی تھی۔۔۔ کیونکہ تم میرے سب سے بڑے دشمن ظفر آفندی کی بیٹی تھی۔۔۔ میرا دل چاہا تھا کہ تمہیں تو ختم ہی کردوں۔۔۔
لیکن قریب آنے پر تمہاری آنکھوں سے بہتے آنسو اور تمہاری سسکیوں نے میرے قدموں کو وہیں جکڑ لیا تھا۔۔۔ اور شاید آج تک میں خود کو اُس لمحے سے نکال نہیں پایا۔۔۔ جب مجھ جیسے احساس سے عاری انسان کو تمہارے آنسوؤں نے تکلیف دی تھی۔۔۔ تم بھی میری طرح اکیلی تھی۔۔۔ بس فرق اتنا تھا تمہارے اردگرد بناوٹی اور دھوکے باز لوگوں کی بھیڑ تھی۔۔۔۔ اور مجھے اُنہیں لوگوں سے نفرت۔۔۔۔ میں درخت کی اوٹ میں کھڑا نجانے کتنے ہی لمحے تمہیں دیکھتا رہا تھا۔۔۔
تم روتے ہوئے تصویر کو اپنے سینے سے لگائے ہی سو گئی تھی۔۔۔ تب میں تمہارے قریب آیا تھا اور تم سے ظفر آفندی کی تصویر چھین لی تھی۔۔۔۔
میں اس وقت اپنی کیفیت سمجھ نہیں پایا تھا۔۔ تمہارے لیے اپنی محبت، اپنا جنون نہیں سمجھ پایا تھا۔۔۔۔ مگر میں تمہارے قریب اُن میں سے کسی کی پرچھائی بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
تم روئی تھی۔۔ پریشان بھی ہوئی تھی۔۔۔ اور تم نے اُس تصویر کو پورے آفندی مینشن میں ڈھونڈا تھا۔۔۔ لیکن میں تو اُسے جلا کر راکھ کر چکا تھا۔۔۔۔
میں اُس کے بعد روز تمہیں دیکھنے کی نیت سے آفندی مینشن کے بہت سارے حصے میں ڈھونڈنے لگا تھا تمہیں۔۔۔۔
جس کے بعد تم مجھے اُس خاندان کے کسی نہ کسی فرد کے ساتھ پائی نظر آتی تھی۔۔۔۔
مجھے سب سے زیادہ آگ اُس وقت لگتی تھی جب میں تمہیں سفیان کے ساتھ دیکھتا تھا۔۔۔۔
جس کے بعد میں کئی بار سفیان کو پیٹ بھی چکا تھا۔۔۔ مگر آج تک شہباز آفندی سراغ نہیں لگا پایا کہ اُس کے بیٹے کو ٹارچر کون کرتا تھا۔۔۔
میں چاہے جتنے اہم کام پر ہی کیوں نہ ہوتا میں تمہیں دیکھنے ضرور آتا تھا۔۔۔۔ تمہاری ایک جھلک جیسے میری اذیت کی دوا بنتی جارہی تھی۔۔۔ میں جانتا تھا تمہاری قربت میری تمام تکلیفوں کا مداوا کردے گی۔۔۔
گزرتے وقت کے ساتھ تمہارے لیے میری محبت جنون سے عشق کی منزل طے کرتی چلی گئی تھی۔۔۔۔ اور اس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہا تھا تمہارے لیے میرا غصہ۔۔۔۔ میں چاہتا تھا کہ تم اُن سب سے دور رہو۔۔۔۔ اُن سے نفرت کرو۔۔۔ اپنے ہی غصے میں یہ بات سوچ اور سمجھ ہی نہیں پایا تھا کہ تم بنا اُن کا سچ جانے بھلا اُن سے نفرت کیسے کرسکتی تھی۔۔۔۔ میں بس یہی چاہتا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرو۔۔۔ ساری زندگی نفرت کرتے کرتے میں جذبات کے معنی سے بالکل نابلد ہوچکا تھا۔۔۔
میں بس ہر کام زور زبردستی کی بنیاد پر کرنا جانتا تھا۔۔۔۔ میں نے کئی بار سوچا تھا کہ تمہیں آفندی مینشن والوں سے چھین کر اپنے پاس قید کرلوں۔۔۔
جب تم پہلی بار مجھ سے ٹکرائی تھی۔۔۔ اور پہلی بار میں ہی تم میرا اصل روپ دیکھ گئی تھی۔۔۔ اُس دن میں نے تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے خوف دیکھا تھا۔۔۔ جو مجھے بہت اچھا لگا تھا۔۔۔
میں چاہتا تھا تم ڈر کر یا خوف کھا کر بس کسی بھی طرح میرے انڈر رہو میرے بات مانو۔۔۔ جب تم سے دوبارہ اُسی شاپ کے سامنے میری دوسری ملاقات ہوئی تب مجھے تم پر شدید غصہ تھا جس کی وجہ تمہارا سفیان کے ساتھ طے پانے والا نکاح تھا۔۔۔
مجھے تم پر بہت غصہ آتا تھا کہ تم اُن دھوکے باز لوگوں کی بناوٹی محبت اور فریب کیوں نہیں سمجھ پارہی تھی۔۔۔۔ تم اتنی معصوم کیوں تھی کہ اتنے آرام سے شہباز آفندی کے کہے پر اُنہیں کسی بھی پیپر پر سائن کردیتی تھی۔۔۔۔ وہ لوگ تمہیں استعمال کرتے رہے اور تم ہوتی رہی۔۔۔۔۔۔
یہی چیز مجھے تم پر شدید غصہ دلاتی تھی۔۔۔۔ لیکن تم یہاں بھی مجھے بے بس کردیتی تھی۔۔۔ جب بھی تم پر غصہ کرنے لگتا تم بے ہوش ہوکر میری جان مزید عذاب میں ڈال دیتی تھی۔۔۔۔
اور پھر ایک دن اپنے دل کی خواہش پر عمل کرتے میں نے تمہیں اُن سب کی آنکھوں کے سامنے سے اُٹھا کر اپنی قید میں لے گیا تھا۔۔۔۔ جہاں تمہارے قریب ہوکر۔۔۔ تم سے دور رہنا میری اذیت اور فرسٹریشن کو کئی گنا بڑھا جاتا تھا۔۔۔
تمہیں میں اُن لوگوں کی اصلیت کیا بتاتا جب تم اُن کے خلاف کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔۔۔
تمہارے دل و دماغ پر میں اپنی حکمرانی چاہتا تھا۔۔۔ مگر تمہارا سفیان کے لیے سوچنا مجھے پاگل کر جاتا تھا۔۔۔ میں تمہیں صرف اپنے لیے ہی تڑپتے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
میں چاہتا تھا تم بھی مجھ سے ویسی ہی لازوال محبت کرو جیسی میں تم سے کرتا ہوں۔۔۔۔
پھر ایک دن میرے رب کو جیسے مجھ پر رحم آہی گیا تھا۔۔۔ اُس نے مجھ سے لیے گئے امتحان میں مجھے سرخرو کرتے تمہارے دل میں میری محبت ڈال دی تھی۔۔۔
میں بہت حیران ہوا تھا کہ تمہیں بھلا مجھ جیسے بقول تمہارے وحشی درندے سے بھلا محبت کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ میں اُس رات بے پناہ خوش تھا۔۔۔ میں جانتا تھا تمہیں انکار کرکے میں نے تمہیں بہت تکلیف دی تھی۔۔۔ مگر میں اگر اُس دن تمہاری محبت قبول کرلیتا تو خود کمزور پڑ جاتا۔۔۔۔۔
میں اپنے لیے تمہاری محبت کی طاقت بھانپنا چاہتا تھا۔۔۔ اور یہ تمہاری اور میرے ساتھیوں کی بہت بڑی بھول تھی کہ شاہ ویز سکندر پریسا آفندی سے دستبردار ہونا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ تم میری تھی اور تمہیں میرا ہی رہنا تھا۔۔۔ میں اُس دن صبح ہی سارے معاملات طے کرچکا تھا۔۔۔۔
اور یاسمین آفندی سے تمہاری اپنے لیے دیوانگی کی داستان بھی سن چکا تھا۔۔۔۔
یہ بات پہلے دن سے ہی میرا دل ڈیسائیڈ کر چکا تھا کہ پریسا آفندی نے صرف شاہ ویز سکندر کی دلہن ہی بننا تھا۔۔۔۔
تمہیں حاصل کرنے کے بعد بھی میں اپنے اُوپر سے یہ خول نہیں ہٹا پارہا تھا۔۔۔ اتنے سال نفرتوں اور ظالموں سے لڑتے میرا دل پتھر کا ہوچکا ہے۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے تم جیسی نازک لڑکی مجھ جیسے درندے کو برداشت نہیں کر پائے گی۔۔۔ میں تمہیں کبھی اذیت نہیں دینا چاہتا تھا مگر اپنے جنون کی آگ میں سب سے زیادہ دل تمہارا ہی جلایا ہے میں نے۔۔۔۔
مجھے محبت نہیں عشق ہے تم سے۔۔۔۔ میں عشق کرنا تو جانتا ہوں مگر اُسے نبھانا نہیں۔۔۔ میں نے اب تک تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے۔۔۔۔ جس کے لیے میں تو خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔۔۔ مگر میں تم سے معافی مانگ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ آج پہلی بار شاہ ویز سکندر کسی انسان کے سامنے جھکنے لگا ہے۔۔۔۔ اور وہ واحد انسان ہمیشہ تم ہی رہو گی جس کے آگے جھکنے میں بھی مجھے کوئی عار محسوس نہیں ہورہی۔۔۔۔۔ مجھے معاف کردو پریسا شاہ ویز سکندر۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا پریسا کے سن ہوتے وجود میں جان ڈال گیا تھا۔۔۔
وہ اُس کا ایک ایک لفظ سن کر شاک کی کیفیت میں گھری کھڑی تھی۔۔۔ اُس کا پورا چہرا آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر کی اذیت بھری زندگی کی ساری کہانی وہ اُس کے لوگوں سے سن چکی تھی۔۔۔
مگر اُس کی اِس اذیت میں وہ بھی اُس کی ساتھی رہی تھی۔۔۔ پریسا کو اِس بات کی خبر آج ہوئی تھی۔۔۔
یہ شخص اُس کے سامنے جھکنے لائق نہیں تھا۔۔۔۔ اِس پیارے انسان کی جگہ اُس کے دل میں تھی۔۔۔ پیروں میں نہیں۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر اگر نہ ہوتا تو آج اُس کا بھی نام و نشان مٹ چکا ہوتا۔۔۔۔ اُس کے باپ سے اتنی شدید نفرت ہونے کے باوجود وہ اُس سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔۔۔ اِس بات نے پریسا کو اُس کا مزید دیوانہ بنا لیا تھا۔۔۔۔۔
پریس آگے بڑھی تھی۔۔۔ اور اُس کے ہاتھ ہٹاتی اُس کے سینے میں سما گئی تھی۔۔۔۔
“میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔ تم چاہے کتنے بھی بڑے وحشی درندے بن جاؤ۔۔۔ میں تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔ چاہے تم مجھ سے محبت کرو یا نفرت۔۔۔۔ میں اب تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ کیونکہ میں جانتی ہوں تم دنیا کے سب سے پیارے انسان ہو۔۔۔ “
پریسا اُس کے سینے پر سر ٹکائے جذب کے عالم میں بولتی شاہ ویز کے تڑپتے دل پر اپنے لفظوں سے مرہم رکھ گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز نے مسکرا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اِس وقت خود کو پوری طرح اُس کے سپرد کر گئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز اُس کے گرد بانہوں کا حصار قائم کرتا اُسے اپنے سینے سے لگائے کھڑا کر گیا تھا۔۔۔
پریسا نے اُس سے دور ہونا چاہا تھا جب اُس کی مضبوط گرفت پر اُس نے نگاہیں اُٹھا کر شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ مگر اُس کے تاثرات پریسا کا دل بُری طرح دھڑکا گئے تھے۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے جانا ہے۔۔۔۔ “
پریسا اُس کی خمار آلود نگاہیں دیکھ گھبراتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔
“اب تمہارے سارے راستے یہیں نکلتے ہیں تم کہیں نہیں جاسکتی۔۔۔۔ ویسے تم نے اُس دن میرے بارے ایک بات کہی تھی۔۔۔ جو ابھی تک میرے دماغ میں چل رہی ہے۔۔۔۔ بھولا نہیں ہوں میں۔۔ “
شاہ ویز نے اُس کے چہرے سے ٹکراتی لٹ کو تھام کر اُس کے کان کے پیچھے اڑسا تھا۔۔۔۔
“کک کون سی بات۔۔۔۔؟؟”
پریسا کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اُس کا موڈ اتنی جلدی بدل جائے گا۔۔۔ وہ تو وہاں سے کھسکنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔
مگر اُسے اب اندازہ ہورہا تھا کہ شاہ ویزسکندر سے اب اُسے اتنی آسانی سے چھوٹ نہیں ملنے والی تھی۔۔۔
“یہی کہ وحشی درندہ ہونے کے ساتھ ساتھ میں نہایت ہی اَن رومینٹک بندہ ہوں۔۔۔ جسے صرف مار کٹائی آتی ہے۔۔۔ پیار محبت کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے بالوں میں ہاتھ پھنساتا اُس کا چہرا اپنے قریب کرتے بولا تھا۔۔۔۔
اِس لڑکی کے لیے اب تک وہ بہت تڑپا تھا۔۔۔ اُس نے کب کب۔۔۔ کیسے کیسے اِس لڑکی کے بہت قریب ہوتے ہوئے بھی خود پر ضبط کرتے اُسے خود سے دور رکھا تھا۔۔۔ یہ وہی جانتا تھا۔۔۔
مگر اب وہ اپنی ہر تکلیف کا ازالہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔
“مم میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔۔”
پریسا اُس کے خطرناک تیور دیکھ لرز اُٹھی تھی۔۔۔
پریسا فوراً اُس کے حصار سے نکلی تھی۔۔۔۔
“تمہیں میں نے کہا تھا پریسا آفندی جس دن میں نے اپنی محبت کا اظہار کردیا تم میری دیوانگی سے بچ نہیں پاؤ گی۔۔۔ اور آج وہ دن آچکا ہے۔۔۔ اب تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا پریسا شاہ ویز سکندر۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی جانب بڑھتا خمار آلود لہجے میں بولا تھا۔۔۔
“مگر تم نے ابھی تک اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا۔۔۔۔”
پریسا پیچھے سے ہوتی دروازے سے جا لگی تھی۔۔۔ بڑے سے لکڑی کے دروازے سے اُس کی کمر زور سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز اُس کے اردگرد اپنی ہتھیلیاں جماتا اُس کو پوری طرح اپنے چوڑے وجود کے پیچھے قید کر گیا تھا۔۔۔
پریسا کے فرار کی ساری راہیں مسدور ہوچکی تھیں۔۔۔
“وہیں تو کرنے لگا ہوں۔۔۔۔ مگر مجھے ایک بات سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز کے ہونٹ دلکشی سے مسکرائے تھے۔۔۔۔
” کس بات سے۔۔۔۔ ؟؟”
پریسا نے جانثار نگاہوں سے اُس کی مسکراہٹ دیکھی تھی۔۔۔۔ اُس نے اِس شخص کو مسکرانا سکھا دیا تھا۔۔۔۔
“میرے اظہار کا طریقہ دیکھ تم بے ہوش نہ ہوجاؤ۔۔۔ “
شاہ ویز اپنی بات مکمل کرتا اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے میں جان بوجھ کر بے ہوش ہوتی ہوں۔۔۔ تم سچ میں بہت بڑے وحشی انسان ہو۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے مذاق اُڑانے پر منہ بسور گئی تھی۔۔۔
“ہر بار نہیں مگر ایک دو بار تم جان بوجھ کر بے ہوش ہوئی ہو۔۔۔۔ میں تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔۔۔ تم کب سوتی ہو۔۔۔ کب اُٹھتی ہو؟ کس بات پر تم خوش ہوتی ہو۔۔۔ کس پر تم ہرٹ ہوتی ہو۔۔۔ گل بہار بیکرز کے کیک میں تمہاری جان بستی ہے۔۔۔ بلیک رنگ تمہیں سخت ناپسند ہے۔۔۔ میرا ناپسندیدہ کریم کلر تمہارا فیورٹ کلر ہے اور میرے غصے سے بچنے کے لیے کب تم جان بوجھ کر بے ہوش ہوتی ہو۔۔۔ سب کا علم ہے مجھے۔۔۔۔ “
شاہ ویز کو اُس کے جوڑے میں جکڑے بال دیکھ اُلجھن ہورہی تھی۔۔۔ اُس نے ہاتھ بڑھا کر پریسا کا کیچر نکالتے اُس کا جوڑا کھول دیا تھا۔۔۔
اور ساتھ ہی اُس کا کیچر بھی توڑ دیا تھا۔۔۔ یہ پریسا کا فیورٹ کیچر تھا جو اُس کے وحشی کی بھینٹ چڑھ چکا تھا۔۔۔۔
پریسا کی دودھیا نازک گردن سیاہ زلفوں میں جا چھپی تھی۔۔۔۔
“اور میں کتنا بڑا وحشی ہوں یہ بھی ابھی باور کروا دیتا ہوں تمہیں۔۔۔ “
شاہ ویز کی اُنگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس ہوتے پریسا کے وجود میں برقی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔
“پلیز۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی گردن پر جھکا ہی تھا جب پریسا کی منمناہٹ کے ساتھ ساتھ کسی نے دروازہ ناک کیا تھا۔۔۔۔
جس پر جہاں پریسا نے سکھ کا سانس لیا تھا وہیں شاہ ویز سکندر کی پیشانی پر سلوٹوں کا جال پھیل گیا تھا۔۔۔ جو دیکھ پریسا اپنی مسکراہٹ نہیں روک پائی تھی۔۔۔۔ جبکہ اُس کی ہونٹوں کے کناروں میں قید یہ ہنسی شاہ ویز کی نگاہوں سے نہیں بچ پائی تھی۔۔۔
“شاہ سر۔۔۔۔ وہ۔۔۔ “
ثاقب ابھی اتنا ہی بولا تھا۔۔۔ جب شاہ ویز کی دھاڑ پر اُس کے اگلےالفاظ منہ میں ہی اٹک کر رہ گئے تھے۔۔۔۔
“اگر دوبارہ مجھے اِس انیکسی کے آس پاس کسی کی آہٹ بھی محسوس ہوئی یا کوئی نظر آیا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔”
شاہ ویز کا اتنا ہی کہنا تھا کہ ثاقب بند دروازے کے پیچھے سے آتی اُس کی خونخوار دھاڑ سن کر بنا پلٹ کر دیکھے وہاں سے بھاگ نکلا تھا۔۔۔۔
جبکہ پریسا اپنے دہلتے دل پر ہاتھ رکھی اُسے گھور کر رہ گئی تھی۔۔۔
یہ بات دیکھ اُسے پوری طرح سے کلیئر ہوچکا تھا کہ آج اُس کی خیر بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
“تم شروع سے ہی اتنے ہی جنگلی تھے۔۔۔۔”
پریسا نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا تھا۔۔۔۔
“نہیں تم سے ملنے کے بعد زیادہ ہوا ہوں۔۔۔ “
شاہ ویز اُس پر جھکتا اُسے مزید بولنے کا موقع دیئے بغیر اُس کی سانسوں کو اپنی قید میں لیتا پریسا کے چودہ طبق روشن کر گیا تھا۔۔۔
پریسا اُس کے لمس میں بے قراری، جنونیت، شدت پسندی اور بے پناہ محبت محسوس کرتی اُس کے گریبان کو مُٹھیوں میں دبوچ گئی تھی۔۔۔۔ پریسا کا نازک وجود تھر تھر کانپ رہا تھا۔۔۔ جبکہ وہ شاہ ویز سکندر کے رحم و کرم پر کھڑی اُس کی اپنے لیے بے پناہ وارفتگی محسوس کررہی تھی۔۔۔۔
یہ شخص ہمیشہ اُس کی قربت سے گریز برتتا آیا تھا۔۔۔ مگر آج اُس کی بے چینی اور بے قراری دیکھ پریسا اُس کی محبت کی شدت کا اندازہ باآسانی لگا پارہی تھی۔۔۔۔
اُس وحشی کی نازک پری اُس کی یہ دیوانگی برداشت کرتی ہلکان ہوئی تھی۔۔۔ جب اُس کی مدھم ہوتی سانسیں محسوس کرتے شاہ ویز اُسے آزادی بخش گیا تھا۔۔۔
پریسا اُس کے سینے پر سر ٹکاتی اُس کی جذبے لُٹاتی بے باک نگاہوں سے بچنے کے لیے اُسی میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔
“آئ لو یو۔۔۔۔ تم شاہ ویز سکندر کا جنون ہو۔۔۔ جس میں، میں پور پور ڈوبنا چاہتا ہو۔۔ “
شاہ ویز نے اپنے دہکتے لب اُس کی گردن پر رکھتے اُس کے کپکپاتے نازک وجود کو اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔۔
اُس کی داڑھی کی چھبن محسوس کرتی پریسا کسمسائی تھی۔۔۔ وہ اُس کی سیاہ زلفوں کی مہکتی خوشبو سے اپنی سانسوں کو معطر کرتا اُس کی گردن پر جا بجا اپنے لب رکھتا چلا گیا تھا۔۔۔
“شاہ۔۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے شدتوں پر اُس کے حصار میں لرز اُٹھی تھی۔۔۔
شاہ ویز نے نگاہیں اُٹھا کر اُس لال چہرے اور اُس کی لرزتی کانپتی پلکوں کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“جی جانِ شاہ۔۔۔ آپ کا شاہ آپ سے بھی اِسی محبت کا منتظر ہے۔۔۔ میرے میدان میں آتے ہی آپ فرار اختیار کر گئیں۔۔۔ یہ غلط ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے سُرخی مائل ستواں ناک سے اپنا ناک مس کرتے بولتا اُس کے ہونٹوں کے اُوپری حصے پر جگمگاتے تل پر لب رکھ گیا تھا۔۔۔۔
“تم بہت بڑے وحشی ہو۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے وحشناک لمس سے جلتی گردن کی جلن محسوس کرتے بولی تھی۔۔۔
“ابھی کہاں پریسا شاہ ویز۔۔۔ ابھی تو میری اصل دیوانگی کی داستان بتانا تو باقی ہے۔۔۔۔ آپ اتنے میں ہی گھبرا گئیں۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی کمر میں بازو ڈالتے اُس کا رُخ مخالف سمت موڑ گیا تھا۔۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر پریسا کے بالوں کو گردن سے ہٹایا تھا۔۔۔ اور جھک کر اُس کی شفاف گردن پر لب رکھتے وہ اُس کی دھڑکنیں منجمند کر گیا تھا۔۔۔
شاہ ویز نے پاکٹ سے ایک بہت ہی باریک سی نفیس چین نکالتے اُس کی گردن میں پہنا دی تھی۔۔۔
“تمہارے میری زندگی میں شامل ہونے سے میری تمام تکلیفوں کا مداوا ہوگیا ہے۔۔۔ چند مہینے پہلے میرے اندر سے جینے کی خواہش بالکل ختم ہوچکی تھی۔۔۔۔
مگر اب میں سو سال سے بھی زیادہ جینا چاہتا ہوں تمہارے سنگ۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے بانہوں میں اُٹھاتے بولتا اُس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ پریسا اُس کے اِس محبت بھرے رُوپ کی اسیر ہوتی دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر بجا لائی تھی۔۔۔
جس نے اُس کی زندگی کو اندھیرے اور فریب کی نظر ہونے سے بچا کر اُسے شاہ ویز سکندر جیسا پیارا انسان سونپا تھا۔۔۔۔ جو صرف اُس کا تھا۔۔۔۔
جس کا غصہ۔۔۔ جس کی بے پناہ محبت اور وحشت سب اُسی کے لیے تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

جاری ہے