Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

“نہیں سٹوپڈ تو بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ آخر کو تمہارے ایس پی حمدان صاحب نے بنایا ہے۔۔۔۔ “
حازم کا سنجیدہ ہونے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔۔۔
مگر مہروسہ کی پریشانی نوٹ کرتے آخر اُسے سیریس ہونا پڑا تھا۔۔۔۔
“وہ لوگ جو کررہے ہیں اُنہیں کرنے دو۔۔۔۔ اور ہم وہ کریں گے جو ہم نے سوچا ہے۔۔۔۔ وہ لوگ ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔۔۔ مگر ہم پر دوہری زمہ داری ہے۔۔۔ ہمیں اپنے ساتھ ساتھ اُنہیں بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔۔۔ تبھی ہم اپنے مقصد میں پوری طرح کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔۔”
حازم کی بات پر مہروسہ کی پریشانی کچھ حد تک کم ہوئی تھی۔۔۔۔
“تو اب ہم کیا کریں۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ ہمیشہ ایس پی حمدان کے پاس سے آنے کے بعد کچھ ٹائم کے لیے اپنے حواسوں میں نہیں رہتی تھی۔۔۔
“وہی جو ہم کرنے والے تھے۔۔۔۔ آج اکبر سعید کے بنگلے پر ایک بہت اہم محفل سجے گی۔۔۔ بس اُسی کی ریکارڈنگ کرکے آخر میں اپنا کام کرکے نکل آنا ہے۔۔۔۔ بس اب وہاں یہ دونوں جینیئس ایس پیز نہ پہنچ جائیں۔۔۔۔”
حازم سنجیدگی سے اُسے اپنا پلان بتاتا آخر میں شرارتی لہجے میں بولا تھا۔۔۔
“وہ تو ضرور آئیں گے۔۔۔ وہ اب ہر اُس جگہ آئیں گے جہاں اُنہیں ہمارے آنے کی زرا سی بھی بھنک پڑ جائے۔۔۔”
مہروسہ دانت پیستے بولی تھی۔۔۔۔
“ڈونٹ وری کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
حازم اُسے واپس آنے کا کہتا فون بند کر گیا تھا۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“ہماری پری نے اُن ظالموں کا آخر بگاڑا ہی کیا ہے۔۔۔ وہ اُس معصوم کو کیوں اپنے ساتھ اُٹھا کر کے گئے۔۔۔ دو دن گزر چکے ہیں۔۔۔ مگر آپ لوگ اتنی فورسز ہونے کے باوجود ابھی کچھ کر کیوں نہیں پارہے۔۔۔ میری بچی کی کوئی خیر خبر نہیں ہے۔۔۔۔ اگر اُنہوں نے اُسے کچھ کردیا تو۔۔۔۔۔ نن نہیں پلیز آپ لوگ کچھ بھی کرکے میری پری کو ڈھونڈیں نا۔۔۔”
یاسمین بیگم کا رو رو کر بُرا حال تھا۔۔۔
پریسا کا یوں سب کے سامنے اغوا ہوجانا کوئی عام بات نہیں تھی۔۔۔ اُس سے بھی زیادہ خطرناک تھے وہ بلیک سٹارز جن کے پاس جانے والا آج تک کوئی بھی زندہ سلامت واپس نہیں آیا تھا۔۔۔۔
پچھلے دو دن سے آفندی ولا میں سوگ و غم کی فضا قائم تھی۔۔۔۔ کسی نے کچھ کھایا تک نہیں تھا۔۔ سفیان اور شہباز آفندی سمیت گھر کے تمام مرد ہی بھاگ بھاگ کر تھک گئے تھے۔۔۔ پی ایم تک کو اِس کیس میں انوالو کر چکے تھے۔۔۔۔۔
مگر کوئی اب تک پریسا کی بازیابی کے لیے کچھ نہیں کر پایا تھا۔۔۔ بلیک سٹارز کا مطالبہ سننا تو دور کی بات وہ لوگ اُن سے رابطہ ہی نہیں کر پارہے تھے۔۔۔۔
بینک لوٹ کر وہ لوگ پہلے ہی شہباز آفندی سمیت بہت سارے امیر بزنس مین افراد کا دیوالیہ نکال چکے تھے۔۔۔ مگر اِس وقت شہباز آفندی کے لیے ضروری تھی تو صرف پریسا کی رہاعی۔۔۔ جس کے لیے وہ سر توڑ کوششیں کر چکے تھے۔۔۔ مگر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔
“ماما پلیز کول ڈاؤن۔۔۔۔ اِس طرح تو آپ اپنی طبیعت خراب کرلیں گی۔۔۔۔ پری کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ وہ لوگ اُس کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے۔۔۔۔ “
سفیان اپنی ماں کی خراب ہوتی حالت دیکھ فکرمندی سے اُن کے قریب آتے بولا۔۔۔
“میری بچی بہت معصوم ہے۔۔۔ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔۔۔۔ خدا کے لیے اُسے واپس لے آؤ۔۔۔”
یاسمین بیگم مسلسل روتے ایک ہی بات دوہرائے جارہی تھیں۔۔۔۔ گھر کی باقی خواتین کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔۔۔۔
اُن سب میں ایک فضہ ہی تھی جو گم صم سی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔ بینک میں جو کچھ بھی ہوا تھا اُس نے اپنی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔۔ جس میں اُسے اُن ڈاکووں کے انداز میں کہیں سے بھی ایسا نہیں لگا تھا کہ وہ پریسا کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے لے جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اُس نے سب لوگوں کو آرڈر دیتے اُن کے لیڈر کے انداز میں پریسا کے لیے بہت فکر دیکھی تھی۔۔۔ جب پریسا بے ہوش ہوئی تھی۔۔۔ تو اُس شخص کا پریسا کے لیے بے اختیار انداز وہ چاہ کر بھی بھول نہیں پارہی تھی۔۔۔
اُسے معاملہ کچھ اور ہی لگا تھا۔۔۔ مگر سب کے بہت پوچھنے کے بعد بھی وہ باقی سب کو ایسا کچھ نہیں بتا پائی تھی۔۔۔۔
کیونکہ اُس کے لیے پریسا کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی اِس سب میں کوئی پریسا پر اُنگلی اُٹھائے۔۔۔۔
وہ بس دل ہی دل میں پریسا کے سہی سلامت لوٹنے کے لیے دعا گو تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میں کہاں ہوں۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے کسمساتے کمبل کو اپنی مُٹھیوں میں دبوچتے کروٹ بدلی تھی۔۔۔۔ رات کو جو حرکت اُس نے کی تھی۔۔۔ اور اُس کے بعد جو کچھ اُسے دیکھنا پڑا تھا۔۔۔ اُس کے خوفناک سپنے پوری رات اُسے خوفزدہ کرتے رہے تھے۔۔۔
“جہنم میں۔۔۔۔۔”
پریسا کی آنکھیں بند تھیں۔۔۔ مگر اِس کرخت آواز کے کانوں میں پڑتے ہی اُس نے لرزتی پلکیں اُٹھا کر بیڈ کے عین سامنے کھڑے شاہ ویز کو دیکھا تھا۔۔۔ اور کمبل کو مزید سختی سے اپنے گرد لپیٹ لیا تھا۔۔۔
شاہ ویز جن خون آشام نگاہوں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ پریسا اندر تک لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“تم ہزار کوششوں کرلو۔۔۔ مگر جب تک میں نہیں چاہوں گا۔۔۔۔ تمہارا یہاں سے باہر نکلنا ناممکن ہے۔۔۔ اور اگر دوبارہ ایسی حرکت کی تو خود اُٹھا کر تمہیں اُن بھوکے کتوں کے آگے ڈال دوں گا۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے قریب آکر دھاڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
پریسا زرد ہوتی سہم کر بیڈ کراؤن سے جا لگی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز کا یہ رُوپ ہمیشہ اُس کی جان نکال دیتا تھا۔۔۔۔
“آئم سوری۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کو باہر جاتا دیکھ پریسا کے لب ہولے سے ہلے تھے۔۔۔۔ جو سنتے شاہ ویز جھٹکے سے پلٹا تھا۔۔۔۔
“واٹ۔۔۔؟؟؟”
اُسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ اُس کے اتنے بُرے رویے کے بعد یہ لڑکی اُس سے سوری کیوں بول رہی تھی۔۔۔
“مجھ سے جو بھی غلطی سرذد ہوئی ہے۔۔۔ پلیز مجھے معاف کردیں۔۔۔۔ مگر مجھے یہاں سے جانے دیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ میرا یہاں دم گھٹ جائے گا۔۔۔۔ “
پریسا اپنا دوپٹہ اوڑھتی بیڈ سے اُترتی اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔ جو سیاہ پینٹ اور ہاف سلیوز بلیک ٹی شرٹ میں روشن پیشانی پر دنیا جہاں کے بل ڈالے، ہونٹ سختی سے بھینچے اُسے گھور رہا تھا۔۔۔۔ اُس نے اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈال رکھے تھے۔۔۔۔ جس کی وجہ سے اُس کے کسرتی کندھے اور بازو مزید نمایاں ہورہے تھے۔۔۔۔
اُسے ایک نظر دیکھ کر ہی پریسا جلدی سے نگاہیں موڑ گئی تھی۔۔۔چاہے یہ شخص اُسے کس قدر زہر ہی کیوں نہ لگتا ہو۔۔۔ مگر وہ یہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتی تھی کہ وجاہت اور خوبصورتی میں اِس شخص کا کوئی ثانی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔
“تو تم یہاں سے رہاعی چاہتی ہو۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز اُس کے قریب آنے پر چند قدم مزید آگے بڑھاتا درمیانی فاصلہ عبور کرتے اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔
“جج جی۔۔۔۔۔”
پریسا کو اُس کا یہ انداز سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔ اُس کے قریب آنے پر وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔
“یہ صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کے دور ہٹنے پر مزید قریب آیا تھا۔۔۔۔
وہ پچھلے دو دن سے اِسی گلابی جوڑے میں ملبوس تھی۔۔۔ مہروسہ نے اُسے ڈریس دیا تھا مگر اُس نے یہ کہہ کر اُسے وہ ڈریس واپس کردیا تھا کہ وہ سیاہ رنگ نہیں پہنتی۔۔۔ اُسے یہ رنگ بہت بُرا لگتا ہے۔۔۔۔
“کس صورت میں۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے جا لگی تھی۔۔۔۔ اُس نے گھبرا کر شاہ ویز کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اب دیوار پر اپنے مضبوط ہتھیلی جماتے اُسے کی جانب قدرے جھکا کھڑا تھا۔۔۔۔
“اُس گھر میں رہ کر میرے لیے کام کرنا ہوگا۔۔۔۔ سفیان اور شہباز آفندی کے خلاف جو کام میں کہوں گا وہ کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی گول گول دلفریب آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے بولتا اُسے کچھ لمحوں کے لیے سن کرگیا تھا۔۔۔
“نن نہیں میں ایسا کچھ نہیں کرسکتی۔۔۔۔ میں بابا کے خلاف کبھی کچھ نہیں کروں گی۔۔۔ اور سفیان۔۔۔ محبت ہیں وہ میری۔۔۔۔ اُن کے خلاف جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔”
پریسا اُسے خود سے دور دھکیلتی غصے سے بولی تھی۔۔۔ یہ شخص سوچ بھی کیسے سکتا تھا کہ وہ اِس کے گھناؤنے کام میں اِس کا ساتھ دے گی۔۔۔۔
اُس کے آخری الفاظ پر شاہ ویز اُسے لال خون ٹپکاتی نگاہوں سے دیکھتا بنا کچھ بولے جانے کے لیے پلٹا تھا۔۔۔
“کون ہو تم؟؟؟ اور کیا چاہتے ہو؟؟؟؟”
پریسا اُسے باہر جاتا دیکھ اُس کے راستے میں آتے ایڑیوں کے بل اونچا ہوتی اُس کا گریبان دونوں مُٹھیوں میں دبوچتی چلائی تھی۔۔۔۔
جبکہ اُس کی اپنے سامنے اتنی دیدہ دلیری شاہ ویز سکندر کو بھی آگ لگا گئی تھی۔۔۔۔ وہ ایک نظر اپنے گریبان پر ڈالتا ہاتھ بڑھا کر پریسا کے بال گدی سے اپنی مُٹھی میں دبوچ گیا تھا۔۔۔۔
پریسا کو اُس سے ایسے کسی وحشیانہ عمل کی توقع نہیں تھی۔۔۔ وہ بالوں میں ہوتے درد سے بلبلاتی اُس کا گریبان چھوڑ چکی تھی۔۔۔۔
“پوری دنیا جانتی ہے میں کون ہوں۔۔۔۔ بلیک بیسٹ ہوں میں۔۔۔ جان پہلے نکالتا ہوں وجہ بعد میں بتاتا ہوں۔۔۔۔ میرا مجرم کبھی مجھ سے بچ نہیں پایا۔۔۔۔ سفیان آفندی اور شہباز آفندی کی بربادی چاہتا ہوں میں۔۔۔۔ اگر میں چاہتا تو اب تک اُنہیں اُن کے انجام تک پہنچا چکا ہوتا۔۔۔ مگر میں تمہارے ہاتھوں اُن کی بربادی چاہتا ہوں۔۔۔۔ جو کہ میں کرکے رہوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی گرفت اتنی سخت تھی کہ پریسا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
“دوبارہ میرے سامنے اپنے الفاظ کا چناؤ اور اپنے ہاتھوں کا استعمال کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔۔۔۔ ورنہ اگلی بار کی سزا تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کا چہرا اپنے قریب لاتا اُس کی بھیگی آنکھوں میں جھانکتا وارننگ دیتے بولا تھا۔۔۔۔ قریب ہونے کی وجہ سے وہ باآسانی سے محسوس کرسکتا تھا کہ یہ لڑکی اُس کے خوف سے کس بُری طرح لرز رہی ہے۔۔۔۔ چند لمحے اُس کے بھیگے خوشنما چہرے کو ایسے ہی گھورتا وہ اُس کے بال آزاد کرتا روم سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
پریسا وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا خوف کے مارے بُرا حال تھا۔۔۔ اِس شخص کے حوالے سے اُس کا خوف مزید کئی گنا بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ اُس کی نفرت ٹپکاتی آنکھیں وہ چاہ کر بھی بھول نہیں پارہی تھی۔۔۔۔ آخر یہ شخص اُس کے خاندان والوں سے اتنی نفرت کیوں کرتا تھا۔۔۔۔۔
اور اِس نفرت میں ہتھیار کی طرح اُسے کیوں استعمال کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
“غنڈہ موالی کہیں کا۔۔۔۔ اللہ کرے مر جائے۔۔۔۔ جہاں جارہا ہے وہاں سے کبھی واپس نہ آئے۔۔۔ “
پریسا اپنے دکھتے بالوں کو سہلاتی روتے ہوئے بولی۔۔۔ آج تک کبھی کوئی اُس پر زور سے چلایا تک نہیں تھا۔۔۔ ایسے درد پہنچانا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
اکبر سعید کے بنگلے پر سیکیورٹی کے پورے انتظامات کردیئے گئے تھے۔۔۔ بنگلے کی عمارت کے اندر قابلے اعتبار لوگوں کے سوا کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ پولیس والوں کو بھی نہیں۔۔۔۔
بلیک سٹارز نے جو تباہی مچا رکھی تھی۔۔۔ ایسے ہلکے ضمیر کے سیاست دان اپنے آدمیوں سے بھی خوف زدہ ہوچکے تھے۔۔۔۔
اُنہیں کسی پر بھی اعتبار نہیں تھا۔۔۔۔ حکومت سے کیے جانے والے اُن کے مطالبے پر اُن کی سیکورٹی مزید بڑھا دی گئی تھی۔۔۔۔۔
ایس پی حمدان اور ایس پی حبہ نے خود آگے بڑھ کر اُن کی سیکورٹی کی زمہ داری لینے کی حامی بھری تھی۔۔۔۔
وہ لوگ آج کسی بھی قیمت پر بلیک سٹارز کی کوششوں کو ناکام بنا کر اُنہیں گرفتار کرنے کے ارادے سے وہاں آئے تھے۔۔۔۔۔
“ایس پی حمدان میں نے سب کچھ چیک کرلیا ہے۔۔۔۔ عمارت کے اندر کوئی بھی مشکوک شخص موجود نہیں ہے۔۔۔۔ سب لوگ اکبر سعید صاحب کے خاص آدمی ہیں۔۔۔۔۔۔”
حبہ ابھی مزید بول ہی رہی تھی جب اُس کا موبائل زور و شور سے بج اُٹھا تھا۔۔۔۔
“ایس پی صاحبہ آپ سب کچھ چیک کرچکی ہیں۔۔۔ مگر اِس بنگلے کا بیسمنٹ تو چیک ہی نہیں کرپائیں۔۔۔ “
دوسری جانب سے حازم کی گونجتی شوخ آواز پر حبہ جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔۔۔۔
جو بات اُس نے ابھی کہی تھی اُس کا جواب یہ شخص بھلا کہاں سے دے پارہا تھا۔۔۔۔۔ اُسے اپنے آس پاس حمدان کے سوا کوئی بھی دیکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔۔
“کیا بکواس کررہے ہو تم….؟؟؟”
حبہ دبی دبی آواز میں چلاتی ایک سائیڈ پر ہوئی تھی۔۔۔ کیونکہ اُسے سیڑھیوں سے اکبر سعید اپنے آدمیوں کے ساتھ نیچے آتے دیکھائی دیئے تھے۔۔۔۔
“بکواس نہیں حقیقت ہے۔۔۔۔ تمہارے اِس ایماندار سیاسی لیڈر نے بیسمنٹ میں دو سو کے قریب افراد کو قید کر رکھا ہے۔۔۔ جنہیں وہ آج اُوپر چلتی محفل کے دوران نیچلی راستے سے افغانستان سمگل کرنے والا ہے۔۔۔۔۔”
حازم نے نہایت ہی تحمل سے اُس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ تم بکواس کررہے ہو۔۔۔۔۔”
حبہ کا بس نہیں چل رہا تھا فون میں سے ہاتھ ڈال کر اِس شخص کی گردن دبوچ لے۔۔۔۔۔
“میں جانتا ہوں تم میری بات پر کبھی یقین نہیں کرو گی۔۔۔۔ مگر ایک چھوٹی سی بات تو مان ہی سکتی ہو۔۔۔ خود سوچو اگر میں سچا ہوا تو دو سو لوگوں کی گنہگار ہوگی تم۔۔۔۔ ابھی جاؤ اپنے اُس ایماندار لیڈر کے پاس اور فون پر بات کرتے صرف اِس بنگلے کے بیسمنٹ کے کھلے ہونے اور اپنے پولیس والوں کو بھیجنے کی بات کرو۔۔۔۔ اگر بیسمنٹ میں کچھ نہ ہوا تو اکبر سعید کا ری ایکشن نارمل ہوگا۔۔۔ اور اگر جو میں کہہ رہا ہوں وہ سچ ہوا تو ری ایکشن نارمل کسی صورت نہیں ہوسکتا۔۔۔۔”
حازم کی بات سنتے حبہ ناچاہتے ہوئے بھی صرف اُن لوگوں کی خاطر آگے بڑھی تھی۔۔۔ اور اکبر سعید سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے حازم کے کہے الفاظ دوہرائے تھے۔۔۔
جسے سنتے ہی اکبر سعید ایسے اُچھلا تھا جیسے اُسے کرنٹ چھو گیا ہو۔۔۔۔
“کک کیا کہہ رہی ہو ایس پی۔۔۔۔ میری اجازت کے بغیر بیسمنٹ کیسے کھلوا سکتی ہو۔۔۔۔”
اکبر سعید حبہ کی جانب ایسے غصے سے بڑھا تھا جیسے اُسے ابھی کچا چبھا جائے گا۔۔۔۔ مگر راستے میں اچانک پاؤں کے نیچے کچھ آجانے پر وہ لڑکھڑاتے لڑکھڑاتے بچا تھا۔۔۔۔
جبکہ حبہ تو ایسا ری ایکشن دیکھ شدید جھٹکے کے زیرِ اثر تھا۔۔۔ جس کا یہی مطلب تھا کہ اُس کا دشمن اُسے ٹھیک اطلاع دے گیا ہے۔۔۔۔۔
وہ فوراً اپنے پولیس اہلکاروں کو لیتی بیسمنٹ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ مگر وہاں داخل ہوتے اُس کا دماغ بالکل گھوم گیا تھا۔۔۔ بیسمنٹ تو بالکل خالی پڑا تھا۔۔۔ بالکل صاف و شفاف۔۔۔ جس کا یہی مطلب تھا کہ اُس نے اپنے دشمن کی بات پر یقین کرکے بہت بڑی غلطی کی تھی۔۔۔
حمدان اُسے اکبر سعید کے آس پاس رہنے کا کہتا خود باہر کی سیکورٹی چیک کرنے گیا تھا۔۔۔ اور وہ بے وقوف بن کر یہاں نیچے آگئی تھی۔۔۔
حبہ کو خطرے کی بو محسوس ہوئی تھی۔۔۔ وہ فوراً اُوپر بھاگی تھی۔۔۔
“ایم این اے صاحب کہاں ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ سیڑھیوں کے قریب کھڑے ملازمین کے قریب پہنچتی چلا کر بولی۔۔۔
“کچھ دیر میں محفل شروع ہوجانی ہے۔۔۔ مہمان آنا شروع ہوچکے ہیں۔۔ وہ چینج کرنے اپنے کمرے میں گئے ہیں۔۔۔”
ملازمین کے بتانے پر حبہ شدید پریشانی کے عالم میں اُوپر روم کی جانب بھاگی تھی۔۔۔۔ وہ روم میں نہ جاکر اُس دن والی غلطی نہیں دوہرانا چاہتی تھی۔۔۔۔
دروازہ ہلکا سا ناک کرتے وہ اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ جہاں اکبر سعید کو صحیح سلامت کھڑا دیکھ اُس نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
“ایس پی صاحبہ اب روم میں آ ہی گئی ہیں تو ہماری تیاری میں ہی مدد کروا دیں۔۔۔۔”
وہ واپس پلٹنے ہی والی تھی۔۔۔ جب اکبر سعید کے ادا کیے جانے والے یہ الفاظ اُس کے قدم روک گئے تھے۔۔۔۔
“سر میں۔۔۔۔۔”
اُس نے سوالیہ نگاہوں سے اُس سفید داڑھی مونچھوں والے ادھیڑ عمر کے شخص کو گھورا تھا جو اِس وقت اُس کی جانب پیٹھ کیے کھڑا تھا۔۔۔۔۔ جس کی وہ بہت زیادہ عزت کرتی تھی۔۔۔۔۔
“جی آپ۔۔۔۔ وہ شال اور گھڑی پکڑا دیں مجھے۔۔۔۔ میں جھک نہیں سکتا۔۔۔ “
حبہ جو پہلی بات سن کر کافی غصے میں آچکی تھی۔۔۔ اُن کی اگلی بات پر نارمل ہوتی ٹیبل پر رکھی انتہائی قیمتی گھڑی اور شال اُٹھائے اُن کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
مگر جیسے ہی دونوں چیزیں اُس نے آگے بڑھائیں مقابل چیزیں لینے کے بجائے اُس کی کلائی دبوچ چکا تھا۔۔۔
“سر یہ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے شدید طیش میں آتے اُسے تھپڑ رسید کرنا ہی چاہا تھا۔۔۔ جب اُس کی دوسری ہتھیلی بھی اپنی گرفت میں جکڑ کر وہ شخص پلٹتا حبہ کے چودہ طبق روشن کر گیا تھا۔۔۔۔
“ہائے کاش جو اتنی سعادت مندی سے آپ ہمارا بھی کوئی کام کردیں۔۔۔۔”
اُس کی دونوں کلائیاں دبوچ کر اپنے قریب کھینچتے حازم دلربانہ انداز میں بولتا حبہ کا تن بدن جلا کر خاک کرگیا تھا۔۔۔۔ اکبر سعید کی طرح سفید قمیض شلوار اور سیاہ واسکٹ پہنے۔۔۔ پیچھے سے حبہ کو وہ اکبر سعید ہی لگا تھا۔۔۔ حازم نے سر پر اُسی کی طرح سیاہ ٹوپی پہن رکھی تھی۔۔۔۔ مگر پلٹتے ہی اُس کا سیاہ نقاب زدہ چہرا سامنے آتے ہی حبہ کو زلزلوں کی نذر کر گیا تھا۔۔۔۔ یہ شخص پچھلے چند منٹوں سے اکبر سعید کی آواز میں بولتا اُسے بے وقوف بنا رہا تھا۔۔۔۔
اگر یہ شخص یہاں تھا تو اکبر سعید کہاں گیا تھا۔۔۔۔ اِس کا مطلب وہ اِس شخص سے ایک بار پھر ہار چکی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
حمدان باہر کی سیکورٹی چیک کرکے واپس اندر آیا تھا۔۔۔ جہاں اُسے حبہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔ وہ متلاشی نگاہوں سے چاروں جانب دیکھتا آگے بڑھا ہی تھا جب اُسے دائیں جانب سے ہیلز کی ٹک ٹک کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
بے اختیار وہ اُس طرف پلٹا تھا۔۔۔ جہاں سے اُسے سیاہ ساڑھی میں ایک درمیانی عمر کی عورت آتی دیکھائی تھی۔۔۔۔ اُس نے چہرے پر لباس کے ڈیزائن کا ماسک لگا رکھا تھا۔۔۔ میک اپ سے سجی آنکھوں پر نظر کی گلاسز لگارکھی تھیں۔۔۔۔ اُس کی جھڑیوں زدہ پیشانی اور جوڑے میں جکڑے سفیدی لیے بالوں سے حمدان اُس کی عمر کا اندازہ لگا پایا تھا۔۔۔
اُسے اپنی جانب آتا دیکھ حمدان وہیں رُک گیا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔