Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

وہاں ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا۔۔۔ آگ کے شعلوں کی خوفناک روشنی پریسا کی جان نکال رہی تھی۔۔۔۔
وہ خوف کے عالم میں بُری طرح سسکتے وہیں دیوار کے ساتھ لگتی نیچے بیٹھ گئی تھی۔۔۔
تو کیا اُس کی موت کا وقت آچکا تھا۔۔۔؟؟
لمحہ با لمحہ قریب آتی آگ کو دیکھتے پریسا نے خوف کے عالم میں سوچا تھا۔۔۔
کیونکہ اِس پوری دنیا میں وہ کسی کے لیے بھی اتنی اہم نہیں تھی۔۔۔ کہ کوئی اپنی جان داؤ پر لگا کر اُسے بچانے آتا۔۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے اُس سے محبت کا دعوے دار۔۔۔ اُس کی جان دینے کے وعدے کرنے والا۔۔۔ ایک بار پھر اُسے فراموش کرتا اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا تھا۔۔۔
پریسا کو آگ کے شعلے تیزی سے اپنی جانب بڑھتے محسوس ہورہے تھے۔۔۔
اُس سے سانس لینے میں دشواری پیش آرہی تھی۔۔۔ وہ ابھی مرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ وہ بھی اتنی درد ناک موت نہیں۔۔۔۔ اُس نے خوف سے جھڑجھڑی لیتے اپنی آنکھیں سختی سے میچی تھیں۔۔۔
جب آنکھوں کے سیاہ پردے پر شاہ ویز سکندر پوری آب و تاب کی طرح روشن ہوا تھا۔۔۔
پریسا نے فوراً گھبرا کر آنکھیں کھول دی تھیں۔۔۔
اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔ ہمیشہ اُس کے مشکل وقت میں یہی انسان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اُس کے پاس آیا تھا۔۔۔ تو کیا آج بھی۔۔۔۔؟؟
“نہیں وہ بلیک بیسٹ ہے۔۔۔ وہ نفرت کرتا ہے مجھ سے۔۔۔ اُس دن اُس نے میری جان صرف اپنے مقصد کے لیے ہی بچائی تھی۔۔۔ جو اُن پیپرز پر سائن کرتے اب پورا ہوچکا ہے۔۔۔ یہاں اب کوئی بھی اپنی زندگی کو رسک میں ڈال کر نہیں آنے والا۔۔۔۔ میں اتنی اہم کسی کے لیے نہیں ہوں کہ کوئی میری خاطر اپنی جان دے۔۔۔۔”
پریسا کی آنکھیں دھویں اور آنسوؤں سے بالکل دھندلا گئی تھیں۔۔۔
اُس کا سر بُری طرح چکرا رہا تھا۔۔۔ دھواں اُس کے منہ اور گھاس میں گھس چکا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حبہ آئی جی صاحب سے ملنے والے آرڈر کے مطابق بھیس بدل کر مطلوبہ علاقے میں پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
جہاں پہلے ہی اُس کی فورسز کے دو لوگ موجود تھے۔۔۔ اور میاں بیوی بن کر وہاں رہ رہے تھے۔۔۔۔
حبہ کو اُنہیں کے پاس رہنا تھا۔۔۔۔
وہ مغرب کے قریب وہاں پہنچی تھی۔۔۔ یہ دیہاتی علاقہ تھا۔۔۔ جہاں آج بھی مٹی کے کچے مکان تھے۔۔۔ لوگ آج بھی کھلے آسمان تلے ایک ساتھ چارپائیاں بچھا کر سوتے تھے۔۔۔ بظاہر یہ گاؤں بہت ہی پرسکون اور خوشحال لگا رہا تھا۔۔۔ دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہاں درندے صفت وڈیرے آئے روز اپنا قہر ڈھاتے رہتے تھے۔۔۔
اور سب سے بڑا ستم یہ تھا کہ وہاں کے بچارے مکین اپنے غم کسی کو بتا بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔ اُن کا کوئی مددگار نہیں تھا۔۔۔ مگر یہاں قدم رکھتے حبہ نے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ اب یہاں سے تب تک نہیں جائے گی۔۔۔
جب تک اِن لوگوں کو اِن کی آزادی نہ مل جائے۔۔۔۔
اُسے کبھی بھی اپنی زندگی کی پرواہ نہیں رہی تھی۔۔۔۔
اور اب بھی وہ اپنی جی جان لگانے والی تھی۔۔۔
“اے لڑکی۔۔۔۔ نئی آئی ہے کیا یہاں۔۔۔۔ تجھے پہلے دیکھا کبھی نہیں۔۔۔۔”
وہ بس سے اُتر کر اپنا چھوٹا سا سیاہ بیگ اُٹھائے آگے بڑھ رہی تھی جب نجانے کہاں سے تین چار اوباش لڑکے سیٹیاں مارنے کے ساتھ ساتھ فضول سے جملے کستے اُس کے ساتھ ساتھ چلنے لگے تھے۔۔۔۔
حبہ اِس وقت لان کے عام سے سوٹ میں سکن کلر کی شال سے چہرے کو ڈھکے تیز تیز چل رہی تھی۔۔۔۔
“اے دیکھ نہیں رہا اِس کی چکنی چمڑی۔۔۔ یہاں کی لڑکیاں بھلا ایسی کہاں دکھتی ہیں۔۔۔۔ “
اُن میں سے ایک حبہ کے مزید قریب ہوکر چلنے لگا تھا۔۔۔
حبہ نے مُٹھیاں سختی سے بھینچتے خود کو کوئی سنگین حرکت کرنے سے روکا تھا۔۔۔
ورنہ اُس کا دل کیا تھا ابھی اور اِسی وقت اِن اوباش لڑکوں کی چمڑی اُدھیڑ کر رکھ دے۔۔۔۔
وہ بہت مشکل سے ضبط کیے ہوئے تھی۔۔۔ جب اُن میں سے کسی نے حبہ کے ہاتھ کو ٹچ کرنا چاہا تھا۔۔۔
اور بس پھر حبہ کا ضبط ختم ہوا تھا۔۔۔۔ وہ گھما کر اُس لڑکے کو پنچ مارنے ہی والی تھی۔۔۔ جب اچانک سے وہاں رضیہ اور جاوید نے آکر اُسے روک لیا تھا۔۔۔
“میم پلیز کنٹرول۔۔۔۔ یہ لوگ اُسی وڈیرے کے آدمی ہیں۔۔۔ آپ کی ایسی کوئی بھی حرکت اُن کو الرٹ کر سکتی ہے۔۔۔ آپ کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ مشن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔۔۔۔”
رضیہ اُن کو دکھانے کے لیے بظاہر حبہ کے گلے لگ کر کان میں سرگوشی کرتے درحقیقت اُسے مارنے سے روکے ہوئے تھی۔۔۔ حبہ اتنے غصے میں آچکی تھی کہ اگر یہ لوگ نہ آتے تو اب تک وہ اِن اوباش لڑکوں کا صفایا کر چکی ہوتی۔۔۔
حبہ نے گہری سانس خارج کرکے اُنہیں دیکھا تھا۔۔ جو اب بھی حبہ کو عجیب نگاہوں سے ہی گھور رہے تھے۔۔۔
حبہ دل ہی دل میں اُن کی عقل ٹھکانے لگانے کا سوچتی اُن دونوں کے ساتھ وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

وہ آنکھیں موندے اندھیرے کمرے میں بیٹھا ریوالونگ چیئر پر جھول رہا تھا۔۔۔ جب اچانک اُس کا سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل زور و شور سے بچ اُٹھا تھا۔۔۔۔
اُس نے اپنی سرد وحشت ناک سی لال آنکھیں کھول کر غصے سے موبائل سکرین کو گھورا تھا۔۔۔ اُس کے پتھریلے تاثرات بتا رہے تھے کہ اُسے اپنا ڈسٹرب کیا جانا کتنا بُرا لگا ہے۔۔۔۔ جب وہ اِس کمرے میں ہوتا تھا تو کوئی اُسے ڈسٹرب نہیں کرتا تھا۔۔۔۔ مگر آج یوں جنید کی آتی کال نے اُسے تشویش میں بھی مبتلا کر دیا تھا۔۔۔
اُس نے اُنہیں سرد تاثرات کے ساتھ کال اٹینڈ کرتے فون کان سے لگایا تھا۔۔۔
“بولو۔۔۔۔۔”
سرد و سپاٹ لہجے میں پوچھا گیا تھا۔۔۔
“شاہ سر سٹی شاپنگ مال میں بہت شدید آگ بھڑک اُٹھی ہے۔۔۔۔ اُس کا پانچواں پورشن بالکل جل کر بھسم ہوچکا ہے۔۔۔۔ وہاں موجود سب افراد باہر آگئے ہیں سوائے ایک کہ۔۔۔۔۔۔۔”
جنید نے بہت ڈرتے ڈرتے اُسے اطلاع دی تھی۔۔۔ کیونکہ شاہ ویز نے اُسے ہی پریسا کے آس پاس رہنے کا کہہ رکھا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی بات سنتے شاہ ویز کو اپنے دل و دماغ میں آگ بھڑکتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔۔۔ کسی انہونی کے احساس سے اُسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“اور وہ انسان پریسا آفندی ہے۔۔۔۔۔”
جنید نے کمزور سی آواز میں اُسے بتایا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز نے مُٹھیاں بھینچتے سختی سے اپنی آنکھوں کو میچ لیا تھا۔۔۔۔
“تم سب کہاں مرے ہوئے تھے۔۔۔ اگر اُسے زرا سی خراش بھی آئی تو میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں گا۔۔۔ پریسا آفندی کو چوٹ پہنچانے کا حق صرف اور صرف شاہ ویز سکندر کو ہے۔۔۔ اُسے سزا صرف میں سنا سکتا ہوں۔۔۔ اور کوئی نہیں۔۔۔۔ “
شاہ ویز موبائل کو کھینچ کر دیوار پر مارتا اتنے زور سے دھاڑا تھا کہ پورے بلیک ہاؤس کے درو دیوار لرز اُٹھے تھے۔۔۔۔۔
وہ تیز قدموں سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔ اُس کی آواز سن کر سارے گارڈز اور ملازمین باہر آچکے تھے۔۔۔
آج بہت دنوں بعد سب شاہ ویز کو بلیک بیسٹ کے رُوپ میں واپس آتا دیکھ رہے تھے۔۔۔
جو اپنی گاڑی میں بیٹھتا۔۔۔ بنا خود پر منڈلاتے خطروں کی پرواہ کیے وہ وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے اِس وقت آگ میں جھلستا وہ گھر آرہا تھا جس میں اُس کے ماں باپ اور بہن کو پریسا کے باپ نے زندہ جلایا تھا۔۔۔
جس شخص سے وہ شدید نفرت کرتا تھا۔۔۔ مگر آج پھر ویسی ہی آگ اُس شخص کی بیٹی کو جھلسانے کے لیے تیار تھی۔۔۔ لیکن شاہ ویز سکندر کے اندر کی آگ اِس بات پر کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اُسے تو خوش ہونا چاہئے تھا اُس کے دشمن کی بیٹی کا انجام بھی ویسا ہی ہورہا تھا۔۔۔
مگر اُس کا دل اتنی تکلیف میں کیوں تھا۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔۔۔۔
ہوا کی دوش پر ڈرائیونگ کرتے نجانے کتنی بار اُس کی گاڑی ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔۔۔
تین منٹ کا فاصلہ دس منٹ میں طے کرتا وہ وہاں پہنچ تھا۔۔۔ اُس کی نظر پانچویں پورشن پر لگی آگ پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔
حازم بھی جنید کی اطلاع پر اُسی وقت وہاں پہنچا تھا وہاں عجیب سی افراتفری مچی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ لوگوں کا بڑی تعداد میں رش موجود تھا۔۔۔۔
“شاہ ویز۔۔۔۔۔”
حازم بھاگ کر اندر کی جانب بڑھتے شاہ ویز کے قریب آیا تھا۔۔۔۔ جنید بھی اُس کے ساتھ ہی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں ہی نہیں چاہتے تھے شاہ ویز اندر جائے کیونکہ اطلاعات کے مطابق پانچواں پورشن پوری طرح جل چکا تھا۔۔۔ وہاں اب کوئی شے بھی سلامت نہیں بچی تھی۔۔۔
“شاہ ویز رک جاؤ۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔ تمہارا اندر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔۔۔ آگ ہر شے کو تباہ کر چکی ہے۔۔۔۔۔”
حازم نے اُسے بازو سے جکڑتے وہیں روکنا چاہا تھا۔۔۔
جس پر شاہ ویز نے پلٹ کر اُسے خون آشام نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
“تم مجھے اندر جانے سے روک رہے ہو۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اندر پریسا آفندی موجود ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے چبا چبا کر لفظ ادا کرتے اُس کی گرفت سے اپنا بازو چھڑوایا تھا۔۔۔
“تم تکلیف ہی دینا چاہتے تھے نا اُس لڑکی کو۔۔۔۔ اُسے اُس کے باپ کی غلطی کی سزا مل چکی ہے۔۔۔ تمہارا انتقام قدرت نے پورا کردیا ہے۔۔۔۔”
حازم اُس کے آگے آن کھڑا ہوتا اُسے جانے سے روک گیا تھا۔۔۔
شاہ ویز کو حازم پر اتنا غصہ کبھی نہیں آیا تھا جتنا اِس وقت آرہا تھا۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر اپنا انتقام خود لیتا ہے۔۔۔۔ اور پریسا آفندی کی سزا بھی صرف میں تجویز کروں گا۔۔۔ یہ آگ شاہ ویز سکندر کے ہوتے ہوئے پریسا آفندی کا ایک بال بھی بیکار نہیں کر سکتی۔۔۔ میں نہیں چاہتا میں تم لوگوں کے سامنے بیسٹ بنوں۔۔۔ اِس لیے تم دونوں ہٹ جاؤ میرے سامنے سے۔۔۔۔ کیونکہ اگر آج پریسا آفندی کو کچھ ہوا تو شاہ ویز سکندر برباد ہوجائے گا۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی بات سن کر وہ دونوں سکتے میں آچکے تھے۔۔۔۔ شاہ ویز خود بھی نہیں جانتا تھا کہ انجانے ميں وہ اُن کے سامنے کتنا بڑا اعتراف کر گیا ہے۔۔۔
وہ اعتراف جو آج تک اُس نے اپنے سامنے بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

مہروسہ کھڑکی میں کھڑی دور اندھیرے میں جلتی چھوٹی چھوٹی روشنیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ آج اُس کا دل بہت زیادہ اُداس تھا۔۔۔۔ اُس نے نسرین بیگم کی رضامندی پر حمدان صدیقی کے پروپوزل کا ہاں میں جواب دے دیا تھا۔۔۔ مگر اُس کے بعد سے اُس کا دل پوری طرح سے بے سکون ہوچکا تھا۔۔۔۔
وہ حمدان صدیقی کے ساتھ یوں دھوکے سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی حمدان بھی صرف اُس کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے۔۔۔ مگر پھر بھی مہروسہ کے لیے نکاح کا رشتہ بہت اہمیت رکھتا تھا۔۔۔۔
وہ اِس میں دھوکا دہی نہیں لانا چاہتی تھی۔۔۔۔ وہ حمدان کو بتانا چاہتی تھی کہ وہ اُس کی پھوپھو زاد نہیں ہے۔۔۔ نہ ہی اُس کے قابل ہے۔۔۔۔
نسرین بیگم نے حمدان صدیقی کے گھر میں داخل ہونے میں اُس کی صرف مدد کی تھی۔۔۔
ایک سال پہلے اُس نے نسرین بیگم کی بیٹی اُجالا کو غنڈوں کے ہاتھوں اغوا ہونے سے بچا کر اُسے با حفاظت گھر پہنچایا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے نسرین بیگم اور اُن کے گھر والے اُس کے بہت زیادہ مشکور ہوئے تھے۔۔۔ اور نسرین بیگم ایک طرح سے اُسے اپنی بیٹی مان چکی تھیں۔۔۔۔۔
ایک دن مہروسہ کو ایک مشن میں ٹانگ پر گولی لگی تھی۔۔۔ اُس کا بہت زیادہ خون بہہ گیا تھا۔۔۔ وہ اُس وقت اپنے پیچھے لگی پولیس کی وجہ سے نہ تو ہاسپٹل جاسکتی تھی۔۔۔ نہ ہی اُس ایریا سے نکل سکتی تھی۔۔۔ حازم اور شاہ ویز سے بھی اُس وقت وہ کانٹیکٹ نہیں کر پائی تھی۔۔۔ تب اُسے آخری راہ نسرین بیگم کا گھر ہی نظر آیا تھا۔۔۔۔
وہ اُسی زخمی حالت میں آدھی رات کو اُن کے دروازے پر جا پہنچی تھی۔۔۔ وہ سب اُسے اُس حال میں دیکھ گھبرا گئے تھے۔۔۔۔ لیکن نسرین بیگم نے سگی ماں کی طرح اُس کی دیکھ بھال کی تھی۔۔۔۔
اپنی پروسن کو بلا کر نہ صرف اُس کا علاج کروایا تھا۔۔ بلکہ اُسے پولیس والوں سے بھی چھپا کر رکھا تھا۔۔۔۔ مہروسہ دو دن بعد ہوش میں آئی تھی۔۔۔ مگر اِن دو دنوں میں نسرین بیگم اور اُن کے گھر والوں نے جس طرح مہروسہ کا خیال رکھا تھا۔۔۔ وہ اُن کا یہ احسان ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں محفوظ کر گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے اُن سب پرخلوص لوگوں کو اپنی اصلیت بتا دی تھی۔۔۔۔ وہ اُنہیں دھوکا نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اُس کی ساری سچائی جان کر اُنہوں نے اُس سے نفرت نہیں پہلے سے بھی زیادہ محبت دی تھی۔۔۔۔
تب سے مہروسہ اُن کے لیے اُن کی بیٹیوں جیسی ہی تھی۔۔۔ حمدان سے ملنے کے بہت بعد اُسے پتا چلا تھا کہ حمدان نسرین بیگم کا بھتیجا ہے۔۔۔ جو جان کر اُسے بے پناہ خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اور ایک بار پھر مہروسہ نسرین بیگم جی دہلیز پر مدد مانگنے جا پہنچتی تھی۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح اُسے اِس بار بھی انکار نہیں کیا گیا تھا۔۔۔ نسرین بیگم کو اُس پر پورا بھروسہ تھا۔۔ وہ اُسے اُجالا بنا کر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے تیار ہوگئی تھیں۔۔۔۔
لیکن مہروسہ کی اصل پہچان کیا تھی۔۔۔ وہ یہ کبھی کسی کے سامنے نہیں آنے دینا چاہتی تھی۔۔۔ اُس کی اِس پہچان سے صرف حازم اور شاہ ویز ہی واقف تھے۔۔۔۔
اِن دو لوگوں کے سوا وہ کسی کو نہیں بتانا چاہتی تھی کہ وہ ایک کوٹھے کی ناجائز پیداوار تھی۔۔۔ اُس کی ماں شکیلا بائی اپنے وقت کی بے حد حسین اور جانی مانی طوائف تھی۔۔۔۔ مہروسہ کا باپ ایک بہت بڑا رئیس زادہ اور بہت بُرا انسان تھا۔۔۔ جس نے کچھ عرصے اُس کی ماں کو اپنے ساتھ رکھا تھا مگر اپنا نام نہیں سے پایا تھا۔۔۔
مہروسہ سے بڑی دو سوتیلی بہنیں بھی تھیں۔۔ جنہیں اپنے باپ کا علم بھی نہیں تھا۔۔۔
وہ دونوں بھی اب اپنی ماں کے نقشِ قدم پر چلتیں طوائفیں بن چکی تھیں۔۔۔ مگر مہروسہ پندرہ سال کی عمر میں ہی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوچکی تھی۔۔ وہ بے پناہ حسین تھی۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے گاہک اتنی چھوٹی سی عمر میں ہی اُس کی ڈیمانڈ کرنے لگے تھے۔۔۔
جس کی وجہ سے اُس کی سگی ماں نے اُسے رقص سیکھنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
مگر مہروسہ نے ایسی حرام زندگی جینے سے حرام موت کو گلے لگانا بہتر سمجھا تھا۔۔۔ وہ خود کشی کے ارادے سے کوٹھے سے فرار ہوئی تھی۔۔۔
مگر اُس کے مہربان رب نے شاہ ویز سکندر اور حازم سالار کی صورت دو فرشتوں کو اُس کی زندگی میں بھیج کر اُسے دنیا کے بہت ہی خوبصورت رُخ سے متعارف کروایا تھا۔۔۔۔۔
مہروسہ کو یہی لگا تھا جیسے اُن کے کوٹھے پر آئے باقی مرد اُنہیں حقارت سے دیکھتے تھے ویسے ہی حازم اور شاہ ویز بھی اُس کی اصلیت جان کر بُرا سلوک کریں گے۔۔۔ مگر اُن کا محبت بھرا نرم رویہ مہروسہ کے زخموں پر مرہم رکھ گیا تھا۔۔۔۔
وہ اُسے اپنی سگی بہن کے جتنی اہمیت اور محبت دیتے اُسے اپنا تیسرا ساتھی بنا گئے تھے۔۔۔۔۔
جس کے بعد مہروسہ کو اپنی بے مقصد زندگی میں جینے کا اصل مقصد مل گیا تھا۔۔۔۔
مگر مہروسہ جانتی تھی اُس کی اصلیت جان کر حمدان صدیقی اُس سے پہلے سے بھی زیادہ نفرت کرے گا۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر اپنی زندگی کے بہت مشکل موڑ پر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
کئی آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر بے مول ہوتے اپنی قدر کھو بیٹھے تھے۔۔۔۔ مہروسہ اپنے دل کو حمدان صدیقی کی جانب سے پتھر بنانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر وہ چاہ کر بھی ایسا کچھ نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل بس اُسی سنگدل کی جانب ہی ہمک رہا تھا۔۔۔
“شاہ سر ٹھیک کہتے تھے۔۔۔ ہم جیسے لوگوں کے نصیب میں یہ محبت نہیں لکھی۔۔۔ یہ نرم و پاکیزہ جذبہ صرف ہماری بربادی ہے۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔۔”
مہروسہ بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتی نڈھال سے انداز میں بولتی کھڑی کے پٹ کے ساتھ سر ٹکا گئی تھی۔۔۔۔۔
کچھ دونوں بعد اُس کا اپنی زندگی کے محبوب ترین انسان سے نکاح تھا۔۔۔ مگر اُس کی بدقسمتی ہی یہی تھی کہ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی پر کھل کر مسکرا بھی نہیں سکی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی عنقریب وہ حمدان صدیقی کا بے رحم رُوپ دیکھنے والی تھی۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

شاہ ویز سکندر اِس وقت بلیک بیسٹ بنا خود کو روکنے کی کوشش کرتے راستے میں آئے ہر انسان اور چیزوں کو ٹھوکروں سے اُڑاتا اُوپر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
بلنڈنگ سے سب لوگوں کو نکال دیا گیا تھا۔۔۔۔ کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔ مگر وہ سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے گارڈ اُس بلیک بیسٹ کو نہیں روک پائے تھے۔۔۔
جو چاروں پورشن کراس کرتا اب پانچویں پورشن کی بھڑکتی آگ میں کودنے کو تیار کھڑا تھا۔۔۔۔
وہاں جلتے آگ کے شعلوں کو دیکھ کر لمحہ بھر کو شاہ ویز سکندر کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ کیونکہ انہیں دیکھ اندر موجود انسان کے بچ جانے کے ایک پرسنٹ چانسز بھی موجود نہیں تھے۔۔۔۔
“پریسا۔۔۔۔۔۔”
وہ آگ میں جمپ کرتا پوری شدت سے دھاڑا تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔