No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
“تمہیں کیا لگا۔۔۔۔؟؟ تم اپنے پاک صاف اور ایماندار ہونے کی کہانی سناؤ گے اور میں مان جاؤں گی۔۔۔۔ اُس دن تو چکما دے کر بھاگ نکلے تھے۔۔۔ آج کیا کرو گے۔۔۔ آج اگر یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی تو میری فورسز کا کوئی بھی آدمی تمہیں گولی سے اُڑا دے گا۔۔۔۔ “
جو کچھ تھوڑی دیر پہلے اِس شخص نے اُس کے ساتھ کیا تھا۔۔۔ اُس کی دھڑکنیں ابھی تک قابو میں نہیں آسکی تھیں۔۔۔۔ وہ خود سمجھ نہیں پارہی تھی اِس انسان کے قریب آنے سے اُس کا دل اتنی بُری طرح کیوں دھڑک رہا ہے۔۔۔۔ آخر کیوں اِس کی قربت اُس کے دل و دماغ پر اتنی اثر انداز ہورہی تھی۔۔۔۔ وہ اُسے کیوں نہیں روک پاتی تھی اپنے قریب آنے سے۔۔۔۔
حازم وہی کھڑا والہانہ نگاہوں سے اپنی جنگلی بلی کو ایکشن میں آتے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب دروازہ کھول کر چار پولیس والے اندر داخل ہوکر حبہ کے آس پاس آن کھڑے ہوتے ۔۔۔ حازم پر اپنے ہتھیار تان گئے تھے۔۔۔
جس کے ساتھ ہی حازم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔۔۔
“تم اتنی بھولی کیسے ہوسکتی ہو ایس پی صاحبہ۔۔۔۔”
حازم مسکراتی والہانہ نگاہوں سے خود پر بندوق تانے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جس کی آنکھوں میں اُس کے لیے نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔ اس بکواس کا۔۔۔۔۔”
حبہ نے دانت پر دانت چڑھائے خود کو بمشکل سامنے کھڑے شخص پر گولی چلانے سے روکا ہوا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے اُس کے دو پولیس اہلکار ہڑبڑاہٹ میں بھاگتے ہوئے اُس کے پاس آئے تھے۔۔۔۔
“میم ہم نے شمشیر خان اور اُس کے تمام آدمیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔۔۔ اور یہ پورا بنگلہ چھان مارا ہے۔۔۔ مگر آپ کی فیملی کا یہاں نام و نشان تک نہیں ہے۔۔۔۔۔”
پولیس والے کی بات سن کر حبہ نے شاکی نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔
“تمہاری فیملی میرے پاس میرے قبضے میں ہے۔۔۔۔ “
حازم کی بات سنتے حبہ کے دونوں ہاتھ اُس کے پہلو میں جاگرے تھے۔۔۔۔
“تم نے اتنا بڑا دھوکا دیا مجھے۔۔۔۔ تمہیں چھوڑوں گی نہیں میں۔۔۔۔”
حبہ زخمی شیرنی بنی اُس پر جھپٹ پڑی تھی۔۔۔ مگر حازم اُسے بنا کوئی موقع دیئے بغیر اُس کی دونوں کلائیوں سے دبوچ کر کمر کے پیچھے باندھتا اُسے پوری طرح اپنے قبضے میں لے گیا تھا۔۔۔۔
“دھوکا میں نے نہیں تم نے دیا ہے۔۔۔ اپنے اِن پولیس والوں کو بلا کر۔۔۔۔ مجھے گرفتار کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔ جتنا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔۔ اِس کام میں میں نے سب کچھ سیکھا ہے۔۔۔۔ سوائے اعتبار کرنے پے۔۔۔۔ تم پر جو تھوڑا بہت اعتبار کرنا شروع کیا تھا وہ بھی ختم ہوچکا ہے اب۔۔۔۔
اِن سب کو کہو اپنا کام ختم کرکے نکلیں یہاں سے۔۔۔۔ مگر تم یہیں رکو گی میرے ساتھ اِس بنگلے میں۔۔۔ جب تک میں جانے کو نہ کہوں۔۔۔۔”
حازم اُس کی ٹھوڑی مُٹھی میں دبوچے بولا تھا۔۔۔۔ حبہ نے بے یقینی سے اُس کا یہ سرد و سپاٹ انداز دیکھا تھا۔۔۔ آج تک اُس نے ہمیشہ اُس کی ہر بدتمیزی کا مسکرا کر ہی جواب دیا تھا۔۔۔۔
مگر دھوکا تو میر حازم سالار کو کسی قیمت پر پسند ہی نہیں تھا۔۔۔۔ وہ کیسے نہ غصہ کرتا۔۔۔۔۔
“تم ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔۔”
حبہ اُس کے خلوص کو بُری طرح ٹھکرا کر اُسی کی سزا میں تبدیل کر چکی تھی۔۔۔ مگر اب بھی اُسے اُمید تھی یہ شخص اُس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرسکتا۔۔۔۔
جب وہ بالکل بے بس ہوتی ہار ماننے والی تھی تب حازم سالار نے ہی اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے اُمید کی نئی کرن دیکھائی تھی۔۔۔ اُسے ہارنے نہیں دیا تھا۔۔۔۔
مگر اُس نے کیا کیا تھا۔۔۔۔؟؟ اپنے ہمدرد کو ہی اپنا شکار بنا لیا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
پریسا گہری نیند میں سورہی تھی۔۔۔ جب اچانک اُسے اپنے بہت قریب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔۔۔
اُس نے خوفزدہ ہوتے پٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں۔۔۔
“تت تم یہاں۔۔۔ تم یہاں کیسے پہنچے۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا آنکھیں کھولتے ہی اپنے عین سامنے بیڈ پر بیٹھ کر سیگریٹ پیتے شاہ ویز سکندر کو گھورا تھا۔۔۔
جو اُس کے بیڈ کو بھی اپنی جاگیر سمجھے بیٹھا تھا۔۔۔
“تمہیں کیا لگا تھا۔۔۔ اتنی آسانی سے مجھ سے پیچھا چھڑوا لو گی۔۔۔۔ تم پر اب شاہ ویز سکندر کا سایہ پڑ چکا ہے۔۔۔ جس سے تم اب پوری زندگی چھٹکارا حاصل نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔”
شاہ ویز سکندر اُس کے بنا دوپٹے کے ہوش ربا حُسن کو شوخ نگاہوں سے گھورتا اُس کے قریب ہوا تھا۔۔۔۔
“پپ پلیز ۔۔۔ یہ تم۔۔۔۔”
پریسا اُس کے قریب آنے پر پیچھے کو کھسکی تھی۔۔۔۔ اُس کا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔۔۔۔
“شش۔۔۔۔”
پریسا کے ہونٹوں پر اُنگلی رکھتا وہ اُس پر جھکا تھا۔۔۔۔
اُسی لمحے پریسا کی انکھ کھل گئی تھی۔۔۔ اُس نے خوف سے زرد پڑتے چہرے کے ساتھ پورے کمرے پر نظر دوڑائی تھی۔۔۔ مگر اُس کے علاوہ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔۔
پریسا پوری طرح پسینے میں بھیگ چکی تھی۔۔۔
“کیا یہ صرف ایک خواب تھا۔۔۔ وہ وحشی یہاں نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔؟؟”
پریسا نے بیڈ سے اُٹھتے کھڑکی سے باہر جھانکا تھا۔۔۔
مگر وہاں بھی گارڈز کھڑے مستعدی سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔۔۔۔
پریسا نے لائٹ آن کرکے ایک ایک پردہ ہٹا کر۔۔۔ یہاں تک کہ بیڈ کے نیچے بھی دیکھا تھا۔۔۔ مگر وہ ہوتا تو اُسے نظر آتا۔۔۔۔
“تو کیا وہ میرے خواب میں آیا تھا۔۔۔ مگر وہ میرے خواب میں کیونکر کر آیا تھا۔۔۔۔ اور خواب بھی اِس قدر بے ہودہ۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔ یہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔۔۔ کچھ دنوں بعد میرا سفیان سے نکاح ہے۔۔ مجھے تو اُن کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔۔ پھر اِس فضول انسان کا خیال کیوں نہیں پیچھا چھوڑ رہا میرا۔۔۔۔”
پریسا بالوں کو مُٹھیوں میں جکڑے پریشانی سے بولی تھی۔۔۔۔ خواب میں جو کچھ بھی اُس نے دیکھا تھا وہ یاد کرتے اُس کا چہرا شرم اور خفت سے بالکل لال ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
“تم سب سے بڑی ایڈیٹ ہو۔۔۔ اُس کے بارے میں اتنا سوچو گی تو خواب بھی اُسی کے آئیں گے نا۔۔۔ اور اُس بے ہودہ انسان کے حوالے سے خواب اچھے کیسے ہوسکتے ہیں۔۔۔”
اُس نے خوف سے جھڑجھڑی لیتے گھڑی پر ٹائم دیکھا تھا۔۔۔۔۔
“یہ تو فجر کا ٹائم ہے۔۔۔ اور ماما تو یہی کہتی ہیں اِس ٹائم جو بھی خواب آئیں وہ سچ ہوتے ہیں۔۔۔۔ نن نہیں۔۔۔ خدا نہ کرے یہ خواب کبھی سچ ہو۔۔۔ “
پریسا کا پورا وجود اِس خیال سے ہی لرز اُٹھا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر کے ساتھ گزرے پل ہی اُس کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھے۔۔۔ وہ اب آگے ایسا کبھی بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
نہ ہی اُس شخص کے سامنے کبھی جانا چاہتی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میں کیا کچھ کرسکتا ہوں۔۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ تمہارے پاس دس منٹ ہیں۔۔۔ اِن سب کو یہاں سے فارغ کرو۔۔۔ ورنہ یہ کام میں کروں گا۔۔۔۔۔”
حازم اُسے آزاد کرتا کھڑکی کی جانب مُڑتا سیگریٹ سلگھا کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔
اُس نے جیسے ہی اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا۔۔۔ حبہ نے دبے پاؤں اُس کے قریب جانا چاہا تھا۔۔۔ مگر اُس سے پہلے ہی حازم نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے وہیں روک دیا تھا۔۔۔۔
“یہ غلطی مت کرنا۔۔۔۔۔ میری صورت دیکھنا تمہاری مشکلات میں اضافہ کردے گا۔۔۔۔۔”
حازم کے بھاری گھمبیر لہجے اور اُوپر کو اُٹھی چوڑی ہتھیلی کو دیکھ حبہ کو ایک بار پھر گہرا شاک لگا تھا۔۔۔
وہ بنا آواز پیدا کیے اُس کے قریب جارہی تھی۔۔۔ پھر بھی وہ کیسے جان گیا تھا۔۔۔۔
حبہ کا دل بہت زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔
مگر وہ خاموشی سے واپس پلٹ گئی تھی۔۔۔۔ اِس وقت یہ شخص اُسے کچھ بھی سننے یا ماننے کے موڈ میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔
اُس نے تمام پولیس اہلکاروں کو شمشیر خان اور اُس کے آدمیوں کو لے کر وہاں سے جانے کا کہہ دیا تھا۔۔۔۔ اُس نے بہت کوشش کی تھی اُس لڑکی کو بھی گرفتار کروانے کی جسے اُس نے حازم کے گلے لگتے دیکھا تھا۔۔۔ مگر وہ شاید حازم کی طرح بہت چالاک تھی۔۔۔ پہلے ہی یہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
حبہ اُس کا کہا پورا کرتی واپس روم میں لوٹی تھی۔۔۔
“سب لوگ جا چکے ہیں۔۔۔۔ میں نے تمہاری بات مان لی ہے۔۔۔ اب تم بھی میری فیملی کو میرے حوالے کر دو۔۔۔۔”
حبہ نے اپنے اندر اُٹھتے غصے کے اُبال پر قابو پاتے نہایت تحمل سے اُسے کہا تھا۔۔۔۔
وہ بڑے شاہانہ انداز میں صوفے پر براجمان ٹیبل پر ٹانگیں رکھے بیٹھا تھا۔۔۔۔
حبہ کی بات پر نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“تم کوشش بھی کیوں کرتی ہو؟؟؟”
حازم نے سوالیہ نگاہوں سے اُسے گھورا تھا۔۔۔۔
“کس بات کی۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔۔۔
“مجھے دھوکا دینے کی۔۔۔ اور مجھ سے ہوشیاری کرنے کی۔۔۔۔”
حازم اپنی جگہ سے اُٹھتا اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“میں نے اب ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔”
حبہ اُسے کے بہت قریب آکر کھڑے ہونے پر اُلٹے قدموں پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔
“میں نے کچھ وقت کے لیے ہم دونوں کے درمیان تنہائی مانگی تھی۔۔۔۔”
حازم نے ہر قدم کے ساتھ درمیانی فاصلہ ختم کررہا تھا۔۔ مگر حبہ بھی اُلٹے قدم پیچھے کی جانب لیتی وہ فاصلہ بڑھا دیتی تھی۔۔۔
“میں نے مانی ہے تمہاری بات۔۔۔۔ سب لوگ جا چکے ہیں۔۔۔۔”
حبہ نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔
“آر یو شیور۔۔۔۔؟؟؟”
حازم نے کھڑکی کی جانب دیکھتے ایک بار پھر اُس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔ جس کے ساتھ ہی حبہ کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا۔۔۔۔
مگر پھر بھی اپنا کانفیڈنس قائم رکھتی وہ سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔۔۔ جب اچانک پیچھے دیوار آجانے کی وجہ سے اُسے زور کا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔
“یہ معصوم چہرا اتنا دھوکے باز کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟ کچھ پلوں کی وفاداری ہی تو مانگی تھی۔۔۔۔؟؟ وہ بھی نہیں دے پائی تم۔۔۔۔؟؟ اتنا بُرا بھی نہیں ہوں۔۔۔ اِس قربت کا سب سے بڑا حقدار ہوں۔۔۔ ایسا ظلم کیسے کر سکتی ہو تم مجھ پے۔۔۔۔؟؟”
حازم اُس کے گرد دیوار پر دونوں ہاتھ ٹکائے اُس پر حاوی ہوتا اُس کے کان کی لوح پر جھکتا اپنے اندر کا غصہ اُس پر لُٹاتا اُسے لال کرگیا تھا۔۔۔۔
حبہ نے سختی سے مُٹھیاں بھینچ رکھی تھیں۔۔۔
“کیا واقعی یہاں اور کوئی نہیں ہے۔۔۔۔؟؟؟”
حازم نے ایک بار پھر پوچھا تھا۔۔۔ جس پر بھی حبہ کا جواب نفی میں تھا۔۔۔۔
جب اُسی لمحے حازم نے زرا سا آگے ہوتے کھڑکی کے باہر ہاتھ بڑھا کر باہر کھڑے پولیس والے کو اندر کھینچ لیا تھا۔۔۔ وہ حبہ کا ٹینڈ کمانڈو تھا۔۔۔۔
مگر حازم سالار جیسے شخص کے سامنے اُس کی کوئی ٹریننگ کام نہیں آئی تھی۔۔۔ وہ پکڑا جاچکا تھا۔۔۔۔
اُس نے حازم پر گولی چلا دی تھی۔۔۔ مگر اُس سے بھی دوگنا زیرک نگاہ رکھنے والے بلیک سٹار نے اپنی پھرتی دیکھاتے نہ صرف اُس کا نشان ضائع کروا دیا تھا۔۔۔ بلکہ اُسے بنا کوئی نقصان پہنچائے اُس کی گردن کی مخصوص رگ دباتے اُسے بے ہوش کردیا تھا۔۔۔۔
حبہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُس کی فائٹنگ کی مہارتیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ یہ کوئی عام انسان نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ یہ شخص اُس کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ آگے تھا۔۔۔۔
اور جس بات نے حبہ کو سب سے زیادہ حیران کیا تھا وہ تھا حازم کا خود پر گولی چلانے والے شخص کو بنا کوئی نقصان پہنچائے چھوڑ دینا۔۔۔
“کون ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ بتاؤ مجھے کون ہو تم۔۔۔؟؟”
حبہ اُسے ایک بار پھر کالر سے پکڑ چکی تھی۔۔۔۔ ایک نظر اُس کی مُٹھیوں میں جکڑے اپنے گریبان پر ڈالتے۔۔۔ حازم اُس کی کمر پر دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈالتا اُسے اپنے ساتھ لگاتے اُس کے بہت قریب چہرا لے آیا تھا۔۔۔
“میں کون ہوں۔؟؟ کیا ہوں۔۔۔؟؟ تمہارے گلے میں موجود لاکٹ میں سب کچھ موجود ہے۔۔۔۔ جو شاید میری طرح تمہارے لیے کوئی امپورٹنس نہیں رکھتا۔۔۔۔۔ اپنی سچائی اپنی زبان سے تو کبھی نہیں بتاؤں گا۔۔۔۔ تمہیں خود مجھے پہچاننا ہوگا۔۔۔ ڈھونڈنا ہوگا مجھے۔۔۔ اور وہ تم بنا کسی کی مدد کے بھی کرسکتی ہو۔۔۔ یہ لاکٹ صرف تمہارے ہاتھ سے ہی کھلے گا۔۔۔ ہر ایک کے آگے اپنی یہ حسین گردن پیش کرنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ ہاں میرے آگے پیش کرنا چاہو تو کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔۔ تمہاری فیملی کو نقصان پہنچانے کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔ اور ایسا کرنے کا سوچنے والوں کا بھی وہی حال ہوگا جو اب شمشیر خان کا ہونے والا ہے۔۔۔۔
وہ لوگ باحفاظت گھر پہنچ چکی ہیں۔۔۔ میری بات پر اندھا دھند یقین کرکے اپنی پوری فورسز کو یہاں سے بھیج کر اور یہ تنہائی بھرے لمحے بخشنے کے لیے شکریہ۔۔۔۔”
حازم اُسے کی گردن میں موجود لاکٹ کو ہونٹوں سے چھوتا اُسے وہیں ساکت چھوڑتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
“اپنے اِس بچارے کمانڈو کو بھی بعد میں اُٹھوا لینا۔۔۔”
حازم اُس بے ہوش پڑے شخص کی جانب اشارہ کرتے حبہ کو بانہوں میں اُٹھائے باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“یہ کیا کررہے ہو تم۔۔۔ چھوڑوں مجھے۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ کا سکتہ ٹوٹا تھا۔۔۔ وہ زور سے چلائی تھی۔
“میں تمہیں اس کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر تو جا نہیں سکتا۔۔۔۔ بے شک یہ بے ہوش ہے۔۔۔ مگر میری غیرت پھر بھی کسی صورت گوارہ نہیں کرتی۔۔۔۔ “
حازم اُس کے مکے گھونسے خوشدلی سے برداشت کرتا اُسے لیے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“واہ بھئی کیا تیاری ہے۔۔۔۔ سنا ہے اپنے ہونے والے اُن کے ساتھ لانگ ڈرائیو اور کینڈل لائٹ ڈنر پر جایا جارہا ہے۔۔۔۔”
پریسا سفیان کے بہت زیادہ اصرار پر اُس کے ساتھ لانگ ڈرائیو پر جارہی تھی۔۔۔ سفیان صبح سے اُس کا موڈ ٹھیک کرنے کے جتن کررہا تھا۔۔۔۔
مگر اب جاکر کہیں پریسا اُس کی بات ماننے پر راضی ہوئی تھی۔۔۔۔
“پیارا انسان ہمیشہ ہر رُوپ اور ڈریس میں پیارا ہی لگتا ہے۔۔۔۔۔”
یاسمین بیگم اُس کے پاس آتیں اُس کی نظر اُتار کر پیشانی چومتے بولیں۔۔۔ جو پرپل لانگ شرٹ ٹراؤزر اور کریم کلر کے دوپٹے میں اپنی دودھیا رنگت میں بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔
“سفیان آفندی کی ہونے والی بیوی ہے۔۔۔ سب سے الگ تو لگے گی نا۔۔۔۔”
سفیان اُس کی جانب والہانہ نگاہوں سے دیکھتا اُس کا ہاتھ تھامے باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ یاسمین بیگم نے بے اختیار دونوں کی نظر اُتاری تھی۔۔۔
پریسا نے محبت پاش نظروں سے سفیان اور باقی سب گھر والوں کو دیکھا تھا۔۔۔
اُسے یہی لگا تھا۔۔ کہ یہ معاشرہ اور اُس کے خاندان والے اُسے ایک اغوا شدہ لڑکی سمجھ کر قبول کرنے سے انکار کردیں گے۔۔۔ اُس پر الزام لگائیں گے۔۔۔ مگر یہاں سب کی نگاہوں میں اپنے لیے پہلے سے بھی زیادہ چاہت اور فکر دیکھ پریسا کے دل میں اُن سب کے لیے محبت مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“ہم کہاں جارہے ہیں۔۔۔۔؟؟”
پریسا نے سفیان کو گاڑی شہر کی آبادی سے باہر لے جاتے دیکھ عام سے لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔ نجانے کیوں اُس کے دل میں ایک انجانہ سا خوف بیٹھ چکا تھا۔۔۔
شاہ ویز سکندر سے دوبارہ سامنا ہوجانے کا خوف۔۔۔۔
“وہاں جہاں ہم دونوں کے سوا کوئی نہ ہو۔۔۔ آج کی شام ہم دونوں فارم ہاؤس پر گزاریں گے۔۔۔۔ “
سفیان سے اُس کے دلکش سراپے سے نظریں ہٹا پانا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
پریسا اُسے گھورتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی۔۔۔
جب اچانک سامنے سے ایک گاڑی اُن کے سامنے آتی راستہ کاٹ گئی تھی۔۔۔۔ سفیان نے تصادم سے بچانے کے لیے بامشکل گاڑی کو بریک لگاتے وہاں روکا تھا۔۔۔۔
اُس گاڑی سے کسی کو نہ نکلتے دیکھ سفیان نے گاڑی ریورس کرنی چاہی تھی۔۔۔۔
جب اُسی لمحے گاڑی کے چاروں ٹائرز پر فائر کرتے گاڑی کو نکارہ کردیا گیا تھا۔۔۔۔
“یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔ سفیان پلیز کچھ کریں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔”
پریسا بُری طرح خوفزدہ ہوتی سفیان کا بازو تھام کر رو دی تھی۔۔۔۔
“کک کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں بابا کو کال کررہا ہوں۔۔۔ وہ سیکیورٹی بھیج دیں گے۔۔۔۔”
سفیان نے موبائل نکالتے کال ملانی چاہی تھی۔۔۔ جب گاڑی کی بونٹ پر ہونے والی فائرنگ سے گھبراتے موبائل اُس کے ہاتھ سے چھوٹتا گاڑی میں ہی نیچے جاگرا تھا۔۔۔۔
گاڑی سے نکل کر اُن نقاب پوش افراد کو اپنے قریب آتا دیکھ پریسا کی چیخیں پوری گاڑی میں گونج اُٹھی تھیں۔۔۔۔۔
وہ لوگ گاڑی کے قریب پہنچتے شیشہ بجاتے دروازہ کھولنے کا اشارہ کرنے لگے تھے۔۔۔
“پلیز دروازہ مت کھولیئے گا۔۔۔۔”
پریسا نے لاک کی جانب ہاتھ بڑھاتے سفیان کو روکا تھا۔۔۔
“پری اگر اُن کی بات نہ مانی تو وہ ہم پر گی چلا دیں گے۔۔۔۔۔۔”
سفیان کی حالت بھی اِس سچویشن سے کافی خراب ہوچکی تھی۔۔۔ پریسا تو پھر لڑکی تھی۔۔۔ وہ یہ سب پہلے بھی دیکھ چکی تھی۔۔۔ اُس کی خوف سے جان نکل رہی تھی۔۔۔۔
سفیان کے دروازہ کھولتے ہی اُن نے سفیان کو کھینچ کر باہر نکالا تھا۔۔۔ اور پھر پریسا کو بھی ایسے ہی بے دردی سے باہر گھسیٹا تھا۔۔۔۔
پریسا جو یہی سمجھ رہی تھی کہ یہ کارنامہ پھر سے بلیک سٹارز کا تھا۔۔۔ اُن کا خود سے رواں رکھے جانے والا سلوک دیکھ اُسے سمجھنے میں ایک سیکنڈ لگا تھا کہ یہ بلیک سٹارز نہیں تھے۔۔۔
جس کے ساتھ ہی اُس کا خوف کئی گنا بڑھ گیا تھا۔۔۔
“بتا دینا اپنے باپ کو۔۔۔ اُس کی یہ سونے کی چڑیا لے کر جارہے ہیں ہم۔۔۔ ہمیں ہمارے پیسے واپس کردے اور آکر چھڑا لے اِسے۔۔۔ تب تک ہم اِس حُسن کی پُڑیا سے لطف اندوز ہونگے۔۔۔”
وہ شخص انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتا پریسا کو اپنے ساتھ گھسیٹتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
جبکہ تین افراد سفیان پر گن تانے کھڑے تھے۔۔۔۔
جو اپنی جان جانے کے خوف سے ایک لفظ نہیں بول پایا تھا۔۔۔
“سفیان پلیز۔۔۔ بچائیں مجھے۔۔۔ پلیز۔۔۔ سفیان۔۔۔”
پریسا رو رہی تھی گڑگڑا رہی تھی۔۔۔ مگر سفیان بے بسی سے ساکت کھڑا اُسے اپنی نظروں سے دور جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
پریسا کا دوپٹہ سر کندھوں سے پھسل کر روڈ پر گر چکا تھا۔۔۔ جسے وہ لوگ پیروں تلے مسلتے آگے بڑھ آئے تھے۔۔۔
“یہ چڑیا تو میری سوچ سے بھی زیادہ حسین ہے۔۔۔ اِس کے ساتھ تو اور مزا آئے۔۔۔۔”
ابھی اُس شخص کی بات پوری نہیں ہوئی تھی۔۔ جب دائیں جانب سے پڑنے والا تھپڑ اُس کا جبڑا ہلا گیا تھا۔۔۔۔
پریسا سمیت اُن سب نے پلٹ کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جہاں سیاہ لباس میں ملبوس،نقاب سے چہرا ڈھکے لال آنکھوں میں آگ کے شعلے برساتے اُن کو بھسم کردینے کی نگاہ سے دیکھتے بلیک بیسٹ کو کھڑا دیکھ کئی آنسو ٹوٹ کر پریسا کی آنکھوں سے گرے تھے۔۔۔۔
“کون ہو تم۔۔۔۔؟؟”
پریسا کو تھامے کھڑے شخص نے شاہ ویز کی جانب دیکھتے حیرت زدہ سا سوال کیا تھا۔۔۔
“تمہاری موت۔۔۔۔۔”
آگے بڑھ کر پریسا کا زمین پر گرا دوپٹہ اُٹھاتے اُس نے آگ اُگلتے لہجے میں جواب دیا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
