No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
انسپکٹر جمال اُس کے بابا کی ایج کے تھے۔۔۔ اور جب سے اُس نے یہ فورس جوائن کی تھی وہ اُسی کے انڈر کام کررہے تھے۔۔۔۔
اُسے اُن سے زیادہ کسی پر بھروسہ نہیں تھا۔۔۔
وہ ابھی اُنہیں مزید کچھ بتانے ہی لگی تھی۔۔۔ جب اُس کا موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔
آئی جی صاحب کا نمبر دیکھ اُس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔۔۔
“ایس پی حبہ آج شام پانچ بجے میٹنگ ہے۔۔۔ ایک بہت امپورٹنٹ کیس کے حوالے سے بات کرنی ہے۔۔۔”
ای جی صاحب اُسے آرڈر دیتے فون رکھ چکے تھے۔۔۔ جبکہ حبہ موبائل سکرین کو گھور کر رہ گئی تھی۔۔۔
بھلا آج ہی یہ نیا کیس آنا تھا۔۔۔۔
حبہ دانت پیستے موبائل سامنے پڑے ٹیبل پر پٹخ گئی تھی۔۔۔
“میم میرے لیے اب کیا آرڈر ہے۔۔۔۔؟”
انسپکٹر جمال اُس کا خراب ہوتا موڈ دیکھ سمجھ چکا تھا۔۔۔۔
“آپ جائیں آج ہم نہیں جا پائیں گے وہاں۔۔۔۔”
حبہ نے بے دلی سے اُنہیں کہتے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائی تھی۔۔۔۔
آنکھیں موندے وہ رات کو بیتے لمحوں کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔۔۔ پہلے اُس لیٹر کا آنا پھر اچانک یوں غائب ہوجانا۔۔۔۔ اُس پر لکھی ہینڈرائٹنگ حبہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔
کیونکہ یہ ہینڈ رائٹنگ جس انسان کی تھی وہ اُس کی سانسوں میں بستا تھا۔۔۔ وہ بھلا کیسے اُسے بھول پاتی۔۔۔۔۔۔۔
حبہ کتنے ہی لمحے اُسی پوزیشن میں بیٹھی سوچتی رہی تھی۔۔۔ وہ جب بھی آنکھیں بند کرتی تھی۔۔۔ سیاہ نقاب سے جھانکتی دو آنکھیں اُسے بے چین کر دیتی تھیں۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ میرا دل جو محسوس کررہا ہے ویسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ وہ بہت رحم دل اور نرم جذبے رکھنے والا پیارا انسان تھا۔۔۔ وہ اتنا بے درد نہیں ہوسکتا۔۔۔ وہ تو چیونٹی کے بھی اپنے پیر کے نیچے آجانے پر کتنے لمحے افسوس میں گزار دیتا تھا۔۔۔ وہ بھلا انسانوں کا قاتل کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔ نہیں تم خونی درندے نہیں ہوسکتے۔۔۔ تم بلیک سٹار نہیں ہو۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔۔۔
میں پاگل ہوں ایسا بھلا سوچ بھی کیسے سکتی ہوں۔۔۔۔”
حبہ کا چہرا بالکل زرد پڑ چکا تھا۔۔۔ آنکھوں سے آنسو چھلکنے کو تیار تھے۔۔۔۔
اُس نے اپنے ہاتھوں میں واضح کپکپاہٹ محسوس کی تھی۔۔۔۔
“لیکن اگر حقیقت میں ایسا ہوا تو۔۔۔۔۔”
حبہ کی آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کر چہرے پر بکھر گئے تھے۔۔۔۔
“میں کیا کروں گی۔۔۔؟؟؟”
حبہ ساکت و صامت سی بیٹھی تھی جب دروازے پر ہوتی دستک نے اُسے ہوش کی دنیا میں واپس کھینچا تھا۔۔۔
وہ آنسو صاف کرتی فوراً خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے سیدھی ہوئی تھی۔۔۔
“میم یہ آپ کے لیے آیا ہے۔۔۔”
حبہ کے اشارے پر پولیس اہلکار ٹیبل پر وہ گفٹ پیک رکھتا واپس مُڑ گیا تھا۔۔۔ حبہ روئی روئی لال آنکھوں سے اُسے پیک کو دیکھتی اُسے اپنی جانب کھینچ گئی تھی۔۔۔۔
“یہ کس نے بھیجا ہے۔۔۔۔؟؟؟”
پورے گفٹ پیک کو اُلٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد بھی اُسے کہیں کوئی نام لکھا نظر نہیں آیا تھا۔۔۔
اُس نے تجسس کے ہاتھوں مجبور جلدی سے اُسے چاک کیا تھا۔۔۔ مگر آگے سے جو نکلا تھا اُسے دیکھ حبہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔۔۔۔
وہ کتنے ہی لمحے بت بنی اُس لال عروسی دوپٹے کو گھورتی رہی تھی۔۔۔۔ دس سال پہلے اُس نے کسی سے اِسی دوپٹے کی ضد کی تھی۔۔۔۔ اور آج دس سال بعد اُس کی ضد پوری کردی گئی تھی۔۔۔
مگر۔۔۔۔۔
کس نے؟؟؟؟
اس سوال کا جواب جانتے ہوئے بھی وہ انجان بننے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔۔۔
حبہ کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوچکے تھے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
مہروسہ نے دھڑک دھڑک کر بے قابو ہوتے دل کے ساتھ حمدان کے روم میں قدم رکھا تھا۔۔۔ وہ فرح کے ساتھ پہلے بھی ایک دو بار آچکی تھی۔۔۔
حمدان کو وہاں نہ پاکر وہ جلدی سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ جہاں کپڑوں کی الماری کے پاس ہی پریسر لگائی گئی تھی۔۔۔ سامنے ٹیبل پر رکھے اُس کے یونیفارم کو دیکھ مہروسہ سکھ کا سانس لیتی یونیفارم پریس کرنا شروع ہوچکی تھی۔۔۔
وہ بس جلد از جلد یہ کام کرکے یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔۔۔ جب اُسی لمحے اُسے واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔۔۔ مہروسہ نے گہری سانس ہوا میں خارج کرتے خود کا بمشکل نارمل رکھنا چاہا تھا۔۔۔۔
ایس پی حمدان صدیقی کا یہ رُوپ اُس کے لیے سب سے زیادہ جان لیوا تھا۔۔۔ وہ اِسی شخص کی ستمگری برداشت کرسکتی تھی۔۔۔ مگر اُس کے اس محبت بھرے انداز کا عادی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ۔۔۔۔
اُس کے کانوں میں حمدان کے لمحہ با لمحہ قریب آتے قدموں کی آواز گونجتی اُس کی سانسوں کی رفتار مزید بڑھا گئی تھی۔۔۔۔
“یونیفارم پریس ہوگیا۔۔۔۔”
حمدان نے دروازے میں رکتے نہایت ہی نرم لہجے میں سوال کیا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے کپڑے پریس کرتے مہروسہ کے ساتھ کپکپا اُٹھے تھے۔۔۔ پریسر شرٹ پر پھیرنے کے بجائے وہ اپنی اُنگلی پر پھیر چکی تھی۔۔۔
مگر وہ دیوانی لڑکی اِن بوجھل دھڑکنوں کے پیچھے اِس جلن کو محسوس ہی نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
“جی بس تھوڑی سی دیر ہے۔۔۔۔”
مہروسہ بہت مشکل سے یہ الفاظ ادا کر پائی تھی۔۔۔ اُس نے پلٹ کر حمدان کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔
“تمہاری ایجوکیشن کیا ہے اُجالا۔۔۔۔؟؟”
حمدان دروازے سے جما کھڑا اُس سے مزید بات کرنے کا خواہش مند تھا۔۔۔
“گریجویشن کیا ابھی۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ نے اپنے لہجے کو ہموار رکھا تھا۔۔۔۔
“کہاں سے۔۔۔۔؟؟”
حمدان کی پراسرار نظریں اُس کی پشت پر گڑھی ہوئی تھی۔۔۔۔
“وہیں گاؤں میں پرائیویٹ کالج تھا اُسی کے تھرو۔۔۔۔”
مہروسہ کا لہجہ مضبوط تھا۔۔۔۔
جب اُسی لمحے حمدان کی نظر اُس کے کندھے سے خون نیچے بہہ کر کمر پر آتے خون پر پڑی تھی۔۔۔
“تمہیں چوٹ لگی ہے۔۔۔۔؟؟”
وہ اُس کے ہاتھ سے اپنی شرٹ لیتا حیرت زدہ سا اُس کا رُخ اپنی جانب موڑ گیا تھا۔۔۔۔
“نن نہیں تو۔۔۔۔”
مہروسہ نے بوکھلاہٹ میں انکار کیا تھا۔۔۔
“تمہارا خون نکل رہا ہے۔۔۔۔”
حمدان نے اُس کے کندھے پر لپٹے دوپٹے کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔
“نن نہیں وہ بس معمولی سا۔۔۔۔”
مہروسہ تو اُس کے چہرے پر پھیلتی فکر دیکھ کر ہی اپنا ہر درد بھول گئی تھی۔۔۔
“معمولی سی چوٹ پر اتنا خون نہیں بہتا۔۔۔۔”
اُس کے پیچھے ہونے پر حمدان اُسے بازو سے تھام کر روکتے ہوئے بولا۔۔۔
یہ چوٹ بھی ایس پی حمدان کو اُس کے حوالے سے مشکوک کر گئی تھی۔۔۔ اِس بات سے انجان کے یہ ستم اُسی کا ڈھایا ہوا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ اپنا شک دور کرنے کی کوشش کرتا دروازے پر ہوتی آہٹ پر دونوں نے اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں کھڑی مریم سامنے کا منظر دیکھ اندر سے جل بھن کر کوئلہ ہوچکی تھی۔۔۔
حمدان مہروسہ کے دونوں بازو تھامے فکر مند سا اُس کے زخم کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔۔ جبکہ مہروسہ اُسے اپنا زخم دیکھانے کے حق میں بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔
“لگتا ہے میں غلط وقت پر آگئی۔۔۔۔”
مریم حمدان کے سامنے مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بولی۔۔۔۔
جبکہ اُسے واقعی غلط ٹائم پر آتا دیکھ جہاں حمدان نے ہونٹ بھینچے تھے وہیں مہروسہ نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔
اگر یہ شخص مزید اُسے فکر دیکھاتا تو اُس نے حیرت کے مارے اُوپر پہنچ جانا تھا۔۔۔۔
“تم یہاں۔۔۔ کب آئی۔۔۔۔؟”
حمدان بنا مہروسہ سے دور ہٹے وہیں کھڑا مریم سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔ جس پر مہروسہ نے حیرت سے اُسے گھورا تھا۔۔۔۔ وہ حمدان کی مریم کے لیے فکر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی۔۔۔ مگر آج اُس کا مریم کے حوالے سے یہ لاپرواہ انداز وہ ہضم نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
“لگتا ہے آپ کو میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگا۔۔۔ اٹس اوکے۔۔۔ میں باہر ویٹ کررہی ہوں آپ کا۔۔۔ آپ فری ہوکر آجائیے گا۔۔۔۔”
مریم اُس کے سوال کا بُرا مناتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔
مہروسہ یک ٹک سی کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔ اِسی دھیانی میں اُس کا دوپٹہ کندھے سے پھسل گیا تھا۔۔۔
“وہ آپ سے ناراض ہوگئی ہیں۔۔۔ آپ کو اُنہیں منانا چاہیے۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے اُسے وہاں سے بھیجنا چاہا تھا۔۔۔
“تمہیں یہ چوٹ نیچے لگی۔۔۔ اور تم نے مجھے بتایا ہی نہیں۔۔۔ تم جیسی پاگل لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔۔۔۔۔”
حمدان اُس کے کندھے سے بال ہٹاتا اُس کی سانسیں حلق میں ہی اٹکا گیا تھا۔۔۔۔
“آپ یہ۔۔۔۔”
مہروسہ نے بولنا چاہا تھا۔۔۔۔
جب حمدان اُس پر ایک سخت نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
اُسے وہیں کھڑے چند سیکنڈز ہی گزرے تھے جب فرح پریشان سی اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا تمہیں۔۔۔؟؟ پھر چوٹ لگوا لی تم نے۔۔۔۔ یہ بھائی جب بھی آس پاس ہوتے ہیں۔۔۔ تم خود کو زخمی ہی کرتی رہتی ہو۔۔۔۔ “
فرح فرسٹ ایڈ باکس نکال کر اُس کے قریب آتی اُس کا زخم دیکھ فکرمندی سے بولی تھی۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں یار۔۔۔ تمہیں کس نے بھیجا۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ اُنہیں کیا بتاتی کہ یہ معمولی سی چوٹیں اُس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔۔۔۔
” بھائی نے بھیجا ہے۔۔۔ بہت پریشان لگ رہے تھے وہ۔۔۔ اور ہونا بھی چاہیئے دیکھو نا۔۔۔ کتنی چوٹ آئی ہے تمہیں۔۔۔ اپنا خیال کیوں نہیں رکھتی لاپرواہ لڑکی۔۔۔ یا تم یہ چاہتی ہو کہ بھائی تمہارا خیال رکھیں۔۔۔”
فرح اُسے ڈانٹنے کے ساتھ ساتھ آخر میں معنی خیزی سے چھیڑتے ہوئے بولی۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔”
مہروسہ حمدان کے جانے کے بعد اب نارمل ہوچکی تھی۔۔ اور اُس کا دماغ بھی کچھ سوچنے کے قابل ہوا تھا۔۔ اُسے حمدان صدیقی کا یہ رویہ بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
فرح کے جاتے ہی وہ بھی حمدان کے روم سے نکلی تھی جب اُس کا موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔
“ایس پی حمدان صدیقی کے آدمی اُجالا کے گاؤں پہنچ کر اُس کے حوالے سے ساری معلومات اکٹھی کررہے ہیں۔۔۔ ایس پی صاحب کھیل کھیل رہے ہیں تمہارے ساتھ۔۔۔ اُس سے تمہاری جان کو خِطرہ ہے۔۔۔۔ بی کیئر فل۔۔۔۔”
حازم سرد و سپاٹ لہجے میں اُسے ہدایت دے کر فون بند کرگیا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ کے آنسو آنکھوں کے راستے دل میں اُترنے لگے تھے۔۔۔۔
“تو یہ مہربان رُوپ صرف ایک فریب تھا ایس پی صاحب۔۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتی ریلنگ سے نیچے جھانکا تھا۔۔۔ جہاں حمدان مریم کے بہت پاس کھڑا اُس کی کسی بات پر مسکرا رہا تھا۔۔۔
اچانک اُس نے نظریں اُٹھا کر مہروسہ کو دیکھا تھا۔۔۔ دونوں کی نگاہیں ملی تھیں۔۔۔ اِس سے پہلے کے مہروسہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں ہوتا وہ وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“بات مکمل کریں اپنی مسٹر شاہ ویز سکندر۔۔۔ کیوں میرے خاندان والوں کو مجھ پر بھروسہ نہیں۔۔۔ اگر اُن کے متعلق زرا سا بھی پروف ہے تو سامنے لاؤ۔۔۔ تم اپنی دشمنی میں مجھے اُن کے خلاف کرکے اپنے فائدے کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔۔۔۔ اور نہ میں اتنی بے وقوف ہوں کہ تمہاری باتوں میں آؤں گی۔۔۔ تم جیسے لوگ۔۔۔۔”
پریسا اُس کے بات ادھوری چھوڑنے پر اُس کی کشادہ پشت کو گھورتی غصے سے بولی تھی جب شاہ ویز نے ایک دم واپس پلٹتے اُس کی دونوں کلائیاں تھام کر کمر پر مڑورتے اُسے اپنے قریب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
“میں کون ہوں؟؟؟ کیا ہوں۔۔۔؟؟ اگر یہ تمہیں اور تمہارے خاندان والوں کو پتا چل گیا تو پیروں تلے زمین نہیں بچے گی۔۔۔ اِس لیے دوبارہ ایسی بکواس مت کرنا۔۔۔ مجھے تمہیں کسی کے خلاف کرنے کا کوئی شوق نہیں۔۔۔ نہ ہی اپنی سائیڈ لانے کی کوئی خواہش ہے۔۔۔ تم اپنے اُس سفیان آفندی کو ہی مبارک ہو۔۔ “
شاہ ویز آگ اُگلتے لہجے میں بولتا پریسا آفندی کا چہرا لال کر گیا تھا۔۔۔۔
“تو کیوں سائن کروانا چاہتے ہیں اِن پیپرز پر۔۔۔ خود ہی کرلو۔۔۔۔”
پریسا کو اُس کا حد درجہ رُوڈ انداز بہت کھلا تھا۔۔۔ یہ شخص ہر وقت بس تلخ الفاظ ہی منہ سے نکال کر مقابل کی عزت دو کوڑی کی کرکے رکھ دیتا تھا۔۔۔
“میں کرچکا ہوں۔۔۔ اب تمہاری باری ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز نے بہت ہی سکون سے اُس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔۔ وہ مسلسل اُس سے اپنی کلائیاں آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ مگر وہ اپنی بات پر بضد کھڑا تھا۔۔۔۔
“کک کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟ کونسے پیپرز ہیں۔۔۔ ہم دونوں کے سائن۔۔۔ کہیں تم دھوکے سے مجھ سے نکاح۔۔۔۔۔”
پریسا کے ہونٹوں سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلے تھے۔۔۔
“واٹ نان سینس۔۔۔۔ میرا دماغ بالکل بھی خراب نہیں ہے۔۔۔۔ جو تم جیسی لڑکی سے نکاح کروں۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی کلائیاں آزاد کرتا اُسے خود سے دور کرگیا تھا۔۔
جبکہ اُس کی بات پر پریسا کو بہت زیادہ انسلٹ فیل ہوئی تھی۔۔۔۔
“کیا مطلب ہے تمہاری اِس بات کا۔۔۔۔ مجھ جیسی لڑکی۔۔۔ کیسی لڑکی ہوں میں۔۔۔”
پریسا احساسِ توہیںن سے لال پڑتے چہرے کے ساتھ اُس کے سامنے آئی تھی۔۔۔۔ اُسے اب شاہ ویز سکندر سے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا تھا۔۔۔ جو یہ بات تو جان گئی تھی کہ وہ اُسے نقصان کبھی نہیں پہنچائے گا۔۔۔۔
اُس کے دل کے اندر کسی کونے میں اِس شخص کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوچکا تھا۔۔۔ جس سے وہ خود بھی انجان تھی۔۔۔۔
“تمہیں میری یہ بات اتنی بُری کیوں لگ رہی ہے۔۔۔؟؟”
شاہ ویز اُس کی آنکھوں میں جگمگاتی نمی دیکھ ٹھٹھکا تھا۔۔۔۔
“مجھ جیسی لڑکی سے کیا مراد ہے تمہاری۔۔۔؟؟ کیسی لڑکی ہوں میں۔۔۔۔؟؟”
پریسا کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔ سیگریٹ سلگھاتا شاہ ویز سکندر اُس کی گھنیری پلکوں پر ٹھہرتا آنسو دیکھ پل بھر کے لیے اپنی جگہ تھم سا گیا تھا۔۔۔۔
یہ لڑکی اُس کی چھوٹی سی بات کو اتنا سیریس کیونکر لے گئی تھی۔۔۔۔
“میں بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔۔۔ اپنے اُس سفیان سے پوچھنا۔۔۔۔”
شاہ ویز ایک دم لاپرواہ بنتا واپس صوفے پر جا بیٹھا تھا۔۔۔
پریسا کتنے ہی لمحے اپنی جگہ کھڑی اُسے غصے سے گھورتی رہی تھی۔۔۔ یہ شخص اتنا بدتمیز اور ہٹ دھرم کیوں تھا۔۔۔ اُس کا اِس وقت دل چاہا تھا اِس کا اِس مغرور نقوش سے سجے چہرے پر چھائی یہ ساری اکڑ کہیں غائب کردے۔۔۔۔
“تمہیں بتانا ہوگا۔۔۔۔”
پریسا اُس کے پاس آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
“جب ہم دونوں کا کوئی لنک ہی نہیں ایسا تو تم اپنے بارے میں میرے خیالات جان کر کیا کرو گی۔۔۔”
شاہ ویز نے سیگریٹ کا گہرا کش لیتے اُس کے بے چین انداز کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“میری نظر میں تمہاری اور تمہارے خیالات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔۔ تم بھی بھاڑ میں جاؤ۔۔۔ اور تمہارے یہ پیپرز بھی۔۔۔ میں اب اِن پر کسی قیمت پر سائن نہیں کروں گی۔۔۔۔”
پریسا نے آگے بڑھتے اُن پیپرز کو پھاڑنے کی نیت سے اُن کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔ مگر اُس کے وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی شاہ ویز اُس کی کلائی تھام کر اُسے اپنے قریب صوفے کی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
پریسا اُس کی اِس حرکت پر اپنا توازن برقرار نہ رکھ پاتے سیدھی اُس کے قریب رکھے صوفے پر آن گری تھی۔۔۔
“یہ کیا بہودگی ہے۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے اپنی کلائی سہلاتے اُسے غصے سے گھورا تھا۔۔۔
“تم سائن کرو پھر بہت اچھے سے ایکسپلین کروں گا۔۔۔۔”
شاہ ویز سکندر کی چمکتی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ پریسا کو زچ کر کے اُسے کتنا مزا آرہا ہے۔۔۔۔
“نہیں کروں گی سائن۔۔۔۔”
پریسا نے اُسے گھورتے صاف انکار کیا تھا۔۔۔
“میں یہ کام زبردستی بھی کروا سکتا ہوں۔۔۔۔ مگر میں چاہتا ہوں تم اپنی مرضی سے سائن کرو۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کی جانب گردن موڑی تھی۔۔۔ جو اُس کے نہایت قریب بیٹھی لال چہرے کے ساتھ اپنی کلائی سہلا رہی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
