Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

2nd Last Episode Part 1

“شاہ ویز سکندر کسی کو خود پر یوں چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کی سانسوں کی مہک محسوس کرتا اُسے اپنے مزید قریب کر گیا تھا۔۔۔
“پریسا آفندی بھی کسی کو یوں خود پر حق جمانے کی اجازت نہیں دیتی۔۔۔ “
پریسا اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بے خوفی سے بولی تھی۔۔۔۔
“کاش مجھے تم سے محبت نہ ہوئی ہوتی شاہ ویز سکندر تو میری زندگی کتنی خوبصورت ہوتی۔۔۔۔”
پریسا کی آنکھوں سے آنسو گرے تھے۔۔۔ جبکہ اُس کی بات سن کر شاہ ویز اپنی گرفت سے اُسے آزاد کر گیا تھا۔۔
“اب کیا ہوسکتا ہے۔۔۔ تم اپنی زندگی کی یہ سب سے بڑی غلطی کر چکی ہو۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی پاکٹ سے سیگریٹ نکالتے لاپرواہی سے بولا تھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔ مگر تمہیں معاف کرکے اب دوسری غلطی کبھی نہیں کروں گی۔۔۔۔”
پریسا کو اُس کا یہ لاپرواہ انداز آگ لگا گیا تھا۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے مجھے تمہاری معافی کی ضرورت پڑے گی۔۔۔”
شاہ ویز کو غصے سے آگ بھگولا ہوتی سامنے کھڑی لڑکی پر بے اختیار پیار آیا تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔ پریسا آفندی نے غلط فہمیاں پالنا چھوڑ دی ہیں۔۔۔ اب میری صرف ایک ہی خواہش ہے شاہ ویز سکندر۔۔۔ تمہیں اپنی محبت میں تڑپتے دیکھنا۔۔۔ اُس لمحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں۔۔ جب مجھے سامنے نہ پاکر تم پاگل ہوجاؤ گے شاہ ویز سکندر۔۔ جس دن تم میرے پیچھے دیوانے ہوئے پھرو گے۔۔۔ مجھے بس وہ دن دیکھنا ہے۔۔۔۔”
پریسا تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولتی شاہ ویز کے چہرے کے بدلتے تاثرات نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز سائیڈ ٹیبل پر رکھا گلاس اُٹھا کر فرش پر مارتا پریسا کو خوفزدہ کر گیا تھا۔۔۔ اُس کے پتھریلے تاثرات اور خون ٹپکاتی آنکھوں کو دیکھ پریسا سہم کر چند قدم پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
شاہ ویز اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
“میں کب کب۔۔۔ کہاں کہاں اور کس طرح تڑپا ہوں۔۔ اگر تم یہ جان لو۔۔۔ تو آئندہ کبھی ایسی بددعا دے کر میرے دل کا خون کرنے کا سوچو بھی نہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز جھک کر اُس کے بہتے آنسوؤں پر اپنے لب رکھتا اُس کے پیچھے موجود دراز سے فائل نکالتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
اُس کے اِس انداز اور الفاظ پر پریسا نے اُلجھ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

آج حبہ اور حازم کی رخصتی تھی۔۔۔ جس کا انتظام بلیک سٹارز کے لوگوں نے بہت اعلی پیمانے پر کیا تھا۔۔۔ وہاں اُن کے گینگ کے بہت سارے لوگ موجود تھے۔۔۔
اور آج بہت دنوں بعد مل کر ایک ساتھ کوئی خوشی سیلیبریٹ کرنے والے تھے۔۔۔
حبہ نے اپنے چند ایک کولیگز کو انوائٹ کیا تھا جن میں حمدان صدیقی بھی شامل تھا۔۔ جو اپنی بیوی مہروسہ کنول کے ساتھ وہاں آنے والا تھا۔۔۔۔
وہ پولیس آفیسرز نہیں جانتے تھے کہ آج وہ جس فنکشن میں شریک ہونے والے تھے وہ پوری طرح اُنہیں لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ جنہیں گرفتار کرنے کے لیے وہ اپنی دن رات ایک کررہے تھے۔۔۔ مگر بلیک سٹارز تک نہیں پہنچ پارہے تھے۔۔۔۔
حبہ نے حمدان کا پسند کیا برائیڈل ڈریس پہنا تھا۔۔ جس میں اُس کا کلیوں جیسا حسین وجود نکھر آیا تھا۔۔ وہ فل میک اپ اور لائٹ سی جیولری میں اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
آج حازم سالار کی خیر نہیں ہونے والی تھی۔۔۔ دونوں کے بیچ چھڑی سرد جنگ آج کس پار لگنے والی تھی کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
حازم وہاں سب سے پہلے پہنچا تھا۔۔۔ جہاں کے انتہائی خوبصورت انتظامات دیکھ وہ مُسکراتے چہرے کے ساتھ جنید کے قریب آیا تھا۔۔۔
“تمہیں میری شادی کی کچھ زیادہ خوشی نہیں ہے۔۔۔۔”
حازم جانتا تھا جنید اُس کی خوشی میں بہت خوش تھا۔۔ مگر وہ اُس کی چمکتی آنکھوں پر چوٹ کرنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔۔
“سر آپ کی شادی ہوگی تب ہی تو مجھ غریب کی باری آئے گی۔۔۔۔ ویسے بھی آپ کی ایس پی صاحبہ اور مہرو میم کے ایس پی صاحب تو ویسے ہی میرے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں۔۔۔۔”
جنید کی بات پر حازم مسکرائے بنا نہیں رہ پایا تھا۔۔۔ آج وہ دل سے خوش تھا۔۔۔ جس دن کا اُس نے برسوں سے انتظار کیا تھا۔۔۔ چاہے زبردستی ہی سہی مگر اُس کی زندگی کا یہ سب سے حسین دن آج آن پہنچا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا اُسے اپنی بیوی سے نفرت کے سوا کچھ نہیں ملنے والا تھا۔۔۔
لیکن پھر بھی اُسے پوری طرح پا لینے کے خیال سے ہی وہ بہت زیادہ خوش تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

مہروسہ کی آنکھ صبح دس بجے کے قریب کھلی تو اُس نے خود کو بیڈ پر پایا تھا۔۔۔ وہ اتنا زیادہ کبھی بھی نہیں سوئی تھی۔۔۔ اور اُس سے بھی زیادہ حیران وہ اِس بات پر تھی کہ رات کو اُسے ہوا کیا تھا۔۔۔
وہ بے ہوش کیسے ہوئی تھی۔۔۔۔ اگر حمدان نے کیک میں کچھ ملا کر اُسے کھلایا تھا تو کیا ریزن تھا اِس کے پیچھے۔۔۔۔
اُس کے پاس سوال بہت تھے۔۔۔ مگر کسی ایک کا بھی جواب نہیں جانتی تھی وہ۔۔۔
بیدار ہوتے ہی اُس کی نظر سب سے پہلے بیڈ کی دوسری جانب گئی تھی۔۔۔ جہاں حمدان کی سائیڈ بنا کسی سلوٹ کے صاف شفاف پڑی تھی۔۔۔
فریش ہوکر روم سے نکلتے اُسے ملازم سے پتا چلا تھا کہ حمدان تو رات سے ہی واپس نہیں آیا۔۔۔۔ مہروسہ کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔۔
پورا دن اُس کا انتظار میں گزر گیا تھا۔۔ مگر نہ تو حمدان خود آیا تھا نہ اُس کا میسیج۔۔۔ شام سات بجے کے قریب اُسے ملازمہ کے ہاتھوں انتہائی خوبصورت سا بلیک کلر کا فراک دیا گیا تھا۔۔۔ جو بہت ہی نفاست سے میچنگ جیولری اور سینڈلز کے ساتھ پیک کیا گیا تھا۔۔۔
اور اُس کے اوپر جگمگاتے لفظوں میں لکھا گیا تھا۔۔۔
“فار مائی بیوٹی فل وائف۔۔۔۔”
مہروسہ کو یاد آیا تھا۔ کل حمدان نے اُسے اپنی کسی کولیگ دوست کی شادی میں جانے کا کہا تھا۔۔۔۔ مہروسہ صرف حمدان سے ملنا چاہتی تھی۔۔۔ اُسی اُمید کے زیرِ اثر جلدی سے وہ پیروں تک آتا فل ایمبرائیڈری سے سجا بلیک فراک زیب تن کیے حمدان کی پسند کے مطابق تیار ہوچکی تھی۔۔۔
مگر حمدان پورے دو گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی گھر نہیں آیا تھا۔۔۔ اُس نے میسج کرکے اُسے ڈرائیور کے ساتھ مقررہ جگہ پر آنے کا کہا تھا۔۔۔
مہروسہ کی چھٹی حس کچھ بہت غلط ہونے کا الارم دے رہی تھی۔۔۔ مگر وہ بنا خوف کھائے اور اپنے ساتھیوں کو انفارم کیے حمدان کی ہر بات مانتی جارہی تھی۔۔
ڈرائیور کے ساتھ وہ شہر سے باہر ایک بہت ہی خوبصورت لوکیشن پر آن پہنچی تھی۔۔۔
ابھی گاڑی انٹرنس کے سامنے رکی ہی تھی۔۔۔ جب کسی نے اُس کی سائیڈ کا دروازہ واں کرتے اُس کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔۔ مہروسہ نے گھبرا کر اُوپر دیکھا تھا۔۔۔ جہاں بلیک تھری پیس سوٹ میں مسکراتے چہرے اور سرد آنکھوں سے اپنی جانب دیکھتے حمدان کو پاکر کر مہروسہ کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔۔۔
حمدان نہایت ہی احتیاط اور محبت سے اُس کا ہاتھ تھامے اُسے گاڑی سے باہر نکال چکا تھا۔۔۔۔۔
“آپ پورا دن کہاں تھے۔۔۔۔؟؟ میں آپ کا انتظار کرتی رہی۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ اُسے سامنے دیکھ اپنا شکوہ نہیں روک پائی تھی۔۔۔
جبکہ حمدان تو اُس کا یہ دلفریب روپ دیکھ کر کتنے ہی لمحے اُس پر سے نگاہیں نہیں ہٹا پایا تھا۔۔۔۔
“اپنی بیوٹی فل وائف کے لیے ایک بہت زبردست سرپرائز تیار کررہا تھا۔۔۔۔ “
حمدان اُسے اپنے ساتھ لگائے اندر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے اتنے خوشگوار انداز پر مہروسہ ٹھٹھکے بنا نہیں رہ پائی تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

پریسا کو شاہ ویز نے کال کرکے تیار ہونے کا کہا تھا۔۔۔ مگر وہ اُس کے ساتھ کہیں بھی جانے سے انکار کرتی۔۔۔ آرام سے سو گئی تھی۔۔۔
شاہ ویز کی دھمکی کا بھی اِس بار اُس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔ شاہ ویز اُسے اپنے ساتھ آفندی مینشن سے واپس بلیک ہاؤس لے آیا تھا۔۔۔ جہاں وہ شہباز آفندی کو اُس کے خاندان سمیت ٹارچر کرکے اپنے خاندان کی اذیت کا بدلہ لے رہا تھا۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا پریسا وہ سب دیکھے اور اُس سے مزید نفرت کرے۔۔۔۔
شاہ ویز جیسے ہی روم میں داخل ہوا اُمید کے عین مطابق وہ اُسے کمبل سے خود کو پوری طرح ڈھکے سوئی ہوئی ملی تھی۔۔۔
شاہ ویز بنا کوئی لحاظ کیے آگے بڑھا تھا اور اُس کے اُوپر سے کمبل کھینچتے صوفے پر اُچھال دیا تھا۔۔ پریسا جس کی ابھی کچھ دیر پہلے ہی آنکھ لگی تھی۔۔۔ اُس کے اِس جارحانہ عمل پر گھبراہٹ کے مارے اُس کے ہونٹوں سے چیخ نکلی تھی۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی شاہ ویز آگے بڑھا تھا اور اُس کے نازک وجود کو بانہوں میں اُٹھاتے واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
پنک ڈریس میں بنا دوپٹے کے، کھلے بالوں اور کچی نیند سے سُرخ پڑتی آنکھوں کے ساتھ اُس کے سینے پر سر ٹکائے وہ شاہ ویز سکندر کے ہوش اُڑا گئی تھی۔۔۔
شاہ ویز نے اُس کے اِس ہوش رُبا حلیے سے کتنی مشکل سے نگاہیں چرائی تھیں یہ وہی جانتا تھا۔۔۔
“شاہ ویز سکندر تک پاگل ہوگئے ہو کیا۔۔۔ مجھے سکون سے کیوں نہیں رہنے دیتے۔۔ مجھے بہت سخت نیند آئی ہے۔۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔۔۔ “
پریسا اُس کے اِس دھونس بھرے انداز پر چلائی تھی۔۔۔ مگر شاہ ویز سکندر کی اگلی حرکت اُسے ساکت کر گئی تھی۔۔۔
“میرے بھائی سے بڑھ کر دوست کی زندگی کا سب سے بڑا دن ہے آج۔۔۔ جس میں۔۔ میں اپنی بیوی کے ساتھ شرکت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ میری زندگی میں خوشیوں اور سکون کے پل بہت کم آتے ہیں۔۔۔۔ جب آتے ہیں تو میں اُنہیں ایسے ہی بھرپور طریقے سے جینے کی خواہش رکھتا ہوں۔۔۔ اپنے اہم ترین لوگوں کے ساتھ۔۔۔”
شاہ ویز اُسے واش روم میں لاکر نیچے اُتارتے بولتا اُس کے ماتھے پر مہر محت ثبت کر گیا تھا۔۔۔ جبکہ پریسا خاموشی سے شاہ ویز سکندر کا یہ نیا رُوپ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جو آج پہلی بار بنا دھمکی دیئے اُسے محبت سے منا رہا تھا۔۔۔۔
“اگر میں پھر بھی نہ آنا چاہوں تو۔۔۔۔”
پریسا بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی۔۔۔۔ چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے جھٹکتی دوبدو بولی تھی۔۔۔
“تو پھر میں اپنے طریقے سے لے جاؤں گا مسز۔۔۔ آپ بھول رہی ہیں مجھے بلیک بیسٹ بننے میں زیادہ ٹائم نہیں لگے گا۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی زندگی کی اِس واحد ایسی ہستی کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔۔۔ جو نہ تو شاہ ویز سکندر سے ڈرتی تھی نہ ہی بلیک بیسٹ سے۔۔۔۔
شاہ ویز کی دھمکی پر پریسا نے ایک نظر اُسے دیکھا تھا اور دوسری اُس کے سر کے اُوپر موجود شاور پر۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ نل کھول گئی تھی۔۔۔۔
جس سے نکلتا پانی شاہ ویز سکندر کو پوری طرح بھگو گیا تھا۔۔۔
شاہ ویز نے ایک نظر دور کھڑی کھلکھلاتی پریسا پر ڈالی تھی۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے اُس کی کلائی تھام کر وہ اُسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔
پریسا کے ہونٹوں سے چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔ اور وہ سیدھی شاہ ویز کے سینے سے آن ٹکراتی تیزی سے آتے پانی میں پوری طرح بھیگ گئی تھی۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔ “
پریسا اُس سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ جب اُسی دوران شاہ ویز اُسے اپنے مزید قریب کرتا اُس کا چہرا اپنے چہرے کے قریب کر گیا تھا۔۔۔
“پریسا آفندی تم ہمیشہ شاہ ویز سکندر کی پہنچ میں ہی رہو گی۔۔۔ تمہارے پاس دس منٹ ہیں جلدی سے تیار ہوجاؤ۔۔۔ ورنہ ایسے ہی اُٹھا کر اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔۔ مجھے ایسے لے جانے میں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے پانی سے بھیگتے ہونٹوں کو دھیرے چھوتا اُسے محبت بھری دھمکی سے نواز گیا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی آنکھوں میں اُبھرتے محبت کے رنگ پریسا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئے تھے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“رابطہ کرو اُس شہباز آفندی سے۔۔۔ کیوں فون نہیں اُٹھا رہا ہمارا۔۔۔ مجھے اِس حرام خور سے اِسی بات کی اُمید تھی۔۔۔ وقت آنے پر ایسے ہی دھوکا دے گا۔۔۔۔”
اقبال کیانی کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹتا اپنے اسسٹنٹ سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔ شہزاد کیانی کرنٹ لگنے کے بعد سے بے ہوش تھا۔۔۔ جس کے بعد اقبال کیانی مزید تشویش کا شکار ہوچکا تھا۔۔۔
بلیک سٹارز کی دھمکیوں نے الگ اُس کا جینا حرام کر رکھا تھا۔۔۔ اُس کے پاس سیکیورٹی تھی۔۔۔ عوام کا ساتھ تھا اور اپنی پوری پارٹی کا سپورٹ بھی ۔۔۔ مگر وہ خوفزدہ تھا تو بلیک سٹارز کے پاس موجود اپنے خلاف ثبوتوں سے۔۔۔ جو اگر ایک بار منظرِ عام پر آجاتے تو اُس کا نہ صرف سیاسی کیرئیر برباد ہوجانا تھا بلکہ اُسے بلیک سٹارز نے ملک سے بھاگنے بھی نہیں دینا تھا۔۔۔
وہ اب تک جو کالے کرتوت کرچکا تھا بلیک سٹارز اُسے وہ بھولنے نہیں دے رہے تھے۔۔۔
ہمیشہ اپنی راہ میں آئی ہر پارٹی کو لات مار کر ہٹانے والا بلیک سٹارز کے آگے بے بس ہوچکا تھا۔۔۔ جو بنا سامنے آئے بھی اُس کا جینا حرام کر چکے تھے۔۔۔
“سر آفندی مینشن کے کسی بھی فرد کی کوئی خیر خبر نہیں ہے۔۔۔ نہ ہی اُن میں سے کوئی اپنے آفس گیا ہے اور نہ گھر سے نکلا ہے۔۔۔۔۔ “
اقبال کیانی کا اسسٹنٹ ابھی بول ہی رہا تھا۔۔۔ جب اُسی لمحے فیصل بخشی اپنے آدمیوں کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
“میں نے آپ سے کہا تھا کیانی صاحب یہ شہباز آفندی اعتبار کے قابل انسان بالکل بھی نہیں ہے۔۔ جو شخص اپنے سگے بھائی کو مار سکتا ہے وہ بھلا ہمارے ساتھ وفاداری کیسے کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ اگر میرے کہے کے مطابق اُس کی وہ سونے کی چڑیا کو اپنے قبضے میں لے لیتے نا تو آج یہ نوبت نہ آتی۔۔۔۔ “
فیصل بخشی اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا اقبال کیانی کو اُس کی غلطی کا احساس دلا گیا تھا۔۔۔
“میں نے نہیں مانی تمہاری بات۔۔۔ مگر تم تو اُٹھوا سکتے تھے نا اُس لڑکی کو۔۔۔۔ “
اقبال کیانی اپنی غلطی ماننے کے ساتھ ساتھ اُلٹا اُس پر برسا تھا۔۔۔
“کئی بار کوشش کی اُس پریسا آفندی کو اُٹھوانے کی مگر ہر بار نجانے وہ بلیک سٹارز کہاں سے بیچ میں آکر اُس لڑکی کو بچا لیتے تھے۔۔۔۔ “
فیصل بخشی کی بات پر وہاں موجود سب افراد ٹھٹھکے تھے۔۔
“ایک منٹ بلیک سٹارز ہر بار اُس لڑکی کو کیوں بچانے آجاتے ہیں۔۔۔ کہیں اُس لڑکی کا اُن سے کوئی لنک تو نہیں ہے۔۔۔ ہمیں جلد از جلد اُس لڑکی تک پہنچنا ہوگا۔۔۔ یہی اب ہمیں بلیک سٹارز تک لے کر جائے گی۔۔۔ بہت اُچھل رہے ہیں یہ لوگ اپنی شناخت چھپا کر۔۔۔ اِن کا بھی وہی حال کروں گا جو آج تک مجھ پر ہاتھ ڈالنے والوں کا عبرت ناک انجام ہوا ہے۔۔۔۔”
اقبال کیانی کی بات پر فیصل بخشی دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔۔
“مجھے تو بس وہ لڑکی چاہیے کیانی صاحب۔۔۔ بہت چھوٹی سی تھی تب سے نظر ہے اُس پر۔۔۔ بس ابھی تک ہاتھ نہیں آپارہی۔۔۔۔”
فیصل بخشی خباثت سے قہقہ لگاتے بولا تھا۔۔۔ جس میں اقبال کیانی نے بھی اُس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔۔۔۔
“شعیب اپنے آدمیوں کو آفندی مینشن کے آس پاس پھیلا دو۔۔۔ اور کچھ کو اندر بھیج کر پتا کرنے کی کوشش کرو کہ آخر اصل معاملا ہے کیا۔۔۔۔”
اقبال کیانی اپنے خاص اور سب سے قابلے اعتبار آدمی کو ہدایت دیتے بولا تھا۔۔۔ جس پر وہ سر ہلاتا فوراً وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
“بلیک سٹارز کو بہت جلد اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا۔۔۔ “
اقبال کیانی کا بس نہیں چل رہا تھا ابھی بلیک سٹارز کا اپنے سامنے حاضر کرلے۔۔۔
“سر ابھی ابھی خبر ملی ہے۔۔۔ مریم فرار ہوگئی ہے۔۔۔ قاسم اُسے بلیک ہاؤس نہیں لے کر گیا تھا۔۔۔ بلکہ اُسے کہیں اور رکھا ہوا تھا۔۔۔ آج جب اس سے مریم کے بارے میں پوچھا گیا تو اُس نے ابھی اطلاع دی ہے کہ مریم فرار ہوچکی ہے۔۔۔۔ وہ مہرو میم کے بارے میں جانتی ہے۔۔۔ اُن کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔۔۔۔ اگر اُس نے ایس پی حمدان کو بتا دیا تو۔۔۔۔”
جنید گھبرایا سا حازم کے قریب آیا تھا۔۔۔ وہ اتنی خوشی کے موقع پر حازم کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ مگر یہ بات بتانا بھی ضروری تھی۔۔۔
“اِس کا مطلب قاسم پر کیا گیا ہمارا شک ٹھیک نکلا۔۔۔ ہماری جو چند باتیں ایس پی حمدان تک پہنچی ہیں وہ بھی شاید پھر قاسم کی حرکت ہی ہے۔۔۔۔ اِسے تو میں اب کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔مگر اُس سے پہلے مریم کو تلاش کرنا ہوگا۔۔۔ کہیں وہ اقبال کیانی کے ہاتھ نہ لگ جائے۔۔۔۔”
حازم کا چہرا مہروسہ کی فکر سے متغیر ہوچکا تھا۔۔۔
وہ باہر کی جانب بڑھنے ہی لگا تھا جب سامنے سے اُسے مہروسہ اور ایس پی حمدان داخل ہوتے نظر آئے تھے۔۔۔
وہاں موجود گینگ کے تمام افراد ایس پی حمدان کو اپنے بیچ دیکھ ایک دم سنبھل چکے تھے۔۔۔۔
جبکہ حازم کے اشارے پر جنید وہاں سے غائب ہوچکا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کی نگاہیں حازم پر ٹکی تھیں۔۔۔ وہ حازم کا لال پڑتا چہرا دیکھ دور سے ہی سمجھ گئی تھی۔۔ یقیناً کوئی گڑبڑ ہے۔۔۔۔ وہ تینوں اِس قدر سمجھتے تھے ایک دوسرے کو۔۔۔
حمدان چہرے پر دھیمی مسکراہٹ سجائے سٹیج کے پاس کھڑے حازم کے قریب آیا تھا۔۔۔ حمدان کو وہاں آتا دیکھ نجمہ بیگم اُسے ویلکم کرنے پاس آئی تھیں۔۔۔ حبہ کچھ ہی دیر میں پہنچنے والی تھی۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو آپ کو مسٹر حازم سالار۔۔۔۔ بہت اچھا لگا آپ سے مل کر۔۔۔۔۔”
حمدان کا لہجہ بہت عام سا تھا۔۔ مگر حازم کی نظریں اُس کی ہتھیلی میں مضبوطی سے قید مہروسہ کے ہاتھ پر تھیں۔۔۔
“سیم ہیر ایس پی حمدان۔۔۔ حبہ سے بہت ذکر سنا ہے آپ کا۔۔۔ “
حازم نے بہت مشکل سے اپنا لہجہ نارمل رکھا تھا۔۔۔ ورنہ اب تک یہ شخص اُس کی مہرو کو جتنی تکلیف اور درد دے چکا تھا۔۔۔ حازم کا کوئی ارادہ نہیں تھا اُس سے بات کرنے کو۔۔۔۔
جبکہ دوسری جانب مہروسہ حمدان اور حازم کو یوں آمنے سامنے کھڑا دیکھ گھبراہٹ کا شکار ہوئی تھی۔۔۔ وہ حمدان کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ یہاں موجود تمام افراد کو کتنے اچھے سے جانتی ہے۔۔۔۔ مگر حمدان کے تیور دیکھ کر اُسے لگ رہا تھا جیسے وہ حازم کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتا ہے۔۔۔۔
اُسے یہی محسوس ہورہا تھا کہ حمدان اور حازم ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں نگل جائیں گے۔۔۔
مہروسہ نے ایک جانب کھڑی انعم کو اشارے سے حازم کو بلانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
“وہ حبہ آگئی۔۔۔۔”
اِس سے پہلے کہ انعم قریب آتی۔۔۔۔ نجمہ بیگم کی آواز پر سب لوگ انٹرنس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔
جہاں حبہ صبا کا ہاتھ تھام سہج سہج کر چلتی اُن کے قریب آرہی تھی۔۔۔
حازم کی حبہ کی جانب اُٹھتی نگاہیں واپس پلٹنا بھول چکی تھیں۔۔۔۔ وہ مبہوت سا اپنے نام کی دلہن بنی اُس حسین دوشیزہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو صرف اور صرف اُس کی تھی۔۔۔
حازم اُس کی طرف بڑھتے حبہ کے آگے اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلا گیا تھا۔۔۔
حبہ نے ایک نظر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اور مسکراتے ہوئے اپنا مہندی اور جیولری سے سجا دودھیا ہاتھ اُس کی مضبوط ہتھیلی پر رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ دونوں ہی شاید اس وقت اردگرد موجود لوگوں کو اپنے درمیان چلتی سرد جنگ سے آگاہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔
حازم اُس کی خوبصورتی کو سراہتی نگاہوں سے دیکھتا اُسے لیے باقی سب کے قریب آیا تھا۔۔۔
نہ حازم نے اُس کی تعریف کی تھی۔۔۔ اور نہ ہی حبہ نے اُس سے کوئی بات کی تھی۔۔۔
مگر حازم کی مضبوط گرفت حبہ کو بہت کچھ کہہ گئی تھی۔۔۔۔
مہروسہ نے مسکراتی محبت پاش نگاہوں سے حازم اور اُس کی حبہ کو دیکھا تھا۔۔۔ اُس سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا کہ حازم سالار اِس لڑکی کے لیے کتنا تڑپا تھا۔۔۔
حمدان نے گردن گھما کر دلکش مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے کھڑی مہروسہ کو دیکھا تھا۔۔۔۔ حمدان کو اِس دلفریب مسکراہٹ میں اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ اُس نے آج سے پہلے مہروسہ کو یوں مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
حمدان کے دیکھنے پر مہروسہ گڑبڑا گئی تھی۔۔۔
“مسز حمدان صدیقی سر عام ایسی حرکتیں مت کریں اگر آپ کا یہ ایس پی بہک گیا تو قصور وار آپ ہی ہونگی۔۔۔۔”
حمدان اُس کی جانب جھکتا سرگوشیانہ لہجے میں بولا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی بات اور انداز پر مہروسہ سر سے پیر تک لال ہوئی تھی.۔۔۔
اُس نے گھبرا کر اردگرد دیکھا تھا۔۔۔ اُس کے سبھی لوگوں کی نگاہیں انہیں پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ وہ اپنے گینگ میں شاہ ویز کے بعد انتہائی کھڑوس گینگ لیڈر مشہور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے وار سے آج تک کوئی نہیں بچ پایا تھا۔۔۔ لڑتے ہوئے اُس کی دہشت سے اُس کے گینگ کے اکثر لوگ کانپ اُٹھتے تھے۔۔۔
اُس کا ایک امیج تھا لوگوں کے سامنے۔۔۔ جو اُسے محسوس ہورہا تھا آج اُس کے ایس پی صاحب بالکل ختم کردیں گے۔۔۔۔۔
“حمدان یہ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟ سب لوگ ہماری طرف ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔”
مہروسہ نے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر حمدان اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا اُسے واپس اپنے ساتھ کھڑا کر گیا تھا۔۔۔۔ مہروسہ کا لال چہرا بتا رہا تھا۔۔۔ ابھی وہاں سے خون چھلک پڑے گا۔۔۔۔
حمدان کی اگلی بے باکی پر مہروسہ چکرا کر رہ گئی تھی۔۔۔ اُس نے شکر ادا کیا تھا کہ حازم اور باقی لوگ اُن کی جانب متوجہ نہیں ہیں۔۔۔ مگر ایک جانب کھڑی انعم اور اقراء کی شوخ نگاہیں دیکھ اُس نے اُن دونوں کو گھورا تھا۔۔۔۔
“ہماری طرف کوئی نہیں دیکھا رہا۔۔۔۔ بلکہ آپ کی یہ بوکھلاہٹیں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کررہی ہیں۔۔ اور مجھے اپنا مزید دیوانہ بنا رہی ہیں مسز۔۔۔۔”
حمدان اُس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کان کے پیچھے اڑستے اُسے کے حسین مکھڑے کو تکے گیا تھا۔۔۔۔
کاجل سے سجی اُس کی قاتل نگاہیں حمدان کو اپنا دیوانہ کررہی تھیں۔۔۔۔
مہروسہ کو حمدان کے قریب کھڑے رہنا کسی خطرے سے کم محسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“میں نے تمہیں دس منٹ دیئے تھے۔۔۔ اب سولہ منٹ ہوچکے ہیں۔۔۔”
شاہ ویز فون کان سے لگائے روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔ سیاہ پینٹ شرٹ میں ملبوس وہ اپنے وجیہہ سراپے کے ساتھ بہت زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔ اُس کی بات کے جواب میں اُسے گھورتی پریسا بے اختیار دل میں ماشاء اللہ کہے بنا نہیں رہ پائی تھی۔۔۔
اتنا پیارا لگنے کے باوجود ماتھے سے سلوٹیں اِس وقت بھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔۔۔۔
دوسری جانب شاہ ویز سکندر کے دل کا حال بھی کچھ الگ نہیں تھا۔۔۔ کریم کلر کے پیروں تک آتے فینسی گاؤن میں بالوں کو ڈھیلے سے جوڑے میں مقید کیے وہ جلدی جلدی ہاتھوں میں سُرخ چوڑیاں اور گجرے پہنتی اپنی آدھی ادھوری تیاری کے ساتھ شاہ ویز کو سیدھی اپنے دل میں اُترتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
وہ جلدی جلدی کرنے کی کوشش میں مزید ہڑبڑاہٹ کا شکار ہورہی تھی۔۔۔
شاہ ویز بنا اُسے مزید کچھ بولے۔۔۔ وہاں سامنے رکھے صوفے پر براجمان ہوتا اپنی بازو صوفے کی پشت پر پھیلائے وہ اپنے مخصوص سٹائل میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھتا پرسکون انداز میں اُسے دیکھے گیا تھا۔۔۔
پریسا جو پہلے ہی جلدی جلدی کے چکر میں ٹھیک سے تیار نہیں ہو پارہی تھی۔۔۔ شاہ ویز سکندر کی نگاہوں کے فوکس نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی۔۔۔
لپسٹک لگاتے پریسا کے ہاتھ لرز گئے تھے۔۔۔ مرر کے اندر سے اُسے گھورتی وہ لپسٹک لگانے کا ارادہ ترک کرتی سامنے رکھا نیکلیس پہننے لگی تھی۔۔۔۔
جو گردن تک لے جاتے شاہ ویز کی گہری نگاہوں کے ارتکاز کی وجہ سے اُس کے ہاتھ سے دو بار چھوٹ کر گرا تھا۔۔۔
آخر کار تنگ آتے پریسا لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ جمائے شاہ ویز کی جانب پلٹی تھی۔۔۔۔
“تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے وحشی انسان۔۔۔ کیوں تیار نہیں ہونے دے رہے تم مجھے۔۔۔”
پریسا نے اپنی بلی جیسی گول گول آنکھیں گھما کر اُسے گھورا تھا۔۔۔
“میں نے تو ابھی تک کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔ میں تو انتہائی شرافت کا مظاہرہ کرتا خاموشی سے یہاں بیٹھا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے بنا دوپٹے کے دلنشین سراپے کو سر سے پیر تک شوخ نگاہوں سے گھورتا اُسے اچھا خاصہ نروس کر گیا تھا۔۔۔
پریسا نے فوراً خیال آتے ایک جانب رکھا دوپٹہ اُٹھا کر اپنے اُوپر اوڑھا تھا۔۔۔۔
“تم کافی سمجھدار ہو۔۔۔”
شاہ ویز اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔
“میں تیار ہوں۔۔۔ ہمیں دیر ہورہی ہے۔۔۔ جانا چاہیے۔۔۔ ورنہ آپ کے دوست ناراض ہوجائیں گے۔۔۔۔”
پریسا اُس کو قریب آتا دیکھ اُلٹے قدموں پیچھے ہٹتی مرر کے ساتھ جالگی تھی۔۔۔
“پریسا آفندی میرے دل کی دنیا میں ہلچل مچا کر۔۔۔ اتنی آسانی سے کیسے فرار اختیار کر سکتی ہو تم۔۔۔۔ تمہیں ابھی بھی لگتا ہے کہ یہ بلیک بیسٹ اب تمہیں کہیں جانے دے گا۔۔۔۔”
شاہ ویز ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا اُس کا نیکلیس اُٹھا کر اُس کے مقابل آتا درمیانی فاصلہ ختم کر گیا تھا۔۔۔
“تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔۔۔ اور میں اپنی محبت کو مزید بے مول نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ تم دیکھنا شاہ ویز سکندر ایک دن تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔۔۔ “
پریسا اِس سرد مہر کو اپنی محبت میں تڑپانا چاہتی تھی۔۔۔ اُسے اپنی محبت کی اذیت سے گزرتے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
اُس کی بات کے جواب میں شاہ ویز اُسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچ چکا تھا۔۔۔
اُس کی گرفت کی سختی پریسا کو اُس کے غصے کا احساس دلا گئی تھی۔۔۔
“ہر اُس انسان کو کاٹ کر رکھ دوں گا۔۔ جو تمہیں مجھ سے دور کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔ مجھے اپنی اِس بے لوث محبت کا عادی بنا کر میری قید سے رہاعی اختیار کر لو گی۔۔ یہ تمہاری زندگی کی بہت بڑی بھول ہے۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی اُنگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے پریسا کپکپا گئی تھی۔۔۔ شاہ ویز اُسے نیکلیس پہنانے اُس کی جانب جھکا تھا۔۔۔ پریسا کی جان حلق میں اٹکی تھی۔۔۔۔۔
“تم نے مجھ سے بدلہ لینے کے لیے شادی کی ہے۔۔ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔ تم نے مجھے اپنی محبت گرفتار کرکے مجھے سزا دینی چاہی ہے۔۔۔ مگر تم یہ سب کیوں کررہے ہو۔۔۔ میں نہیں جانتی۔۔۔ اور نہ جاننا چاہتی ہوں۔۔۔ “
شاہ ویز کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے پریسا کی بولتی بند ہوچکی تھی۔۔۔۔
اُس نے گھبرا کر شاہ ویز کی گرفت سے نکلنا چاہا تھا۔۔۔
مگر شاہ ویز کا شکنجہ اتنا کمزور نہیں تھا کہ وہ آسانی سے نکل پاتی۔۔۔
“اگر اتنا ہی بُرا لگتا تھا تو محبت کیوں کی مجھ سے۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز اُس کے نیکلیس کی ہک بند کرتا اپنے دہکتے ہونٹ اُس کی صاف شفاف گردن پر رکھتا پریسا کی جان نکال گیا تھا۔۔۔ پریسا اُس کا کالر مُٹھی میں دبوچے اُس کے تپیش زدہ لمس پر سہمی سی اُس کے ساتھ لگی کھڑی رہی تھی۔۔۔
“کیونکہ میں دنیا کی بے وقوف ترین لڑکی ہوں۔۔۔ جس نے تم جیسے وحشی سے محبت کی۔۔ جسے صرف ظلم ڈھانا آتا ہے محبت کرنا نہیں۔۔۔۔”
پریسا لہو رنگ چہرے کے ساتھ اُس کے سینے پر دونوں ہتھیلیوں کا دباؤ ڈالتی اُس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے بولی۔۔۔
“میری محبت سے بچی ہوئی ہو اِس میں تمہارا ہی فائدہ ہے پریسا آفندی۔۔۔۔ خدانخواستہ اگر کسی دن مجھے تم سے محبت ہو گئی تو اُس دن خیر نہیں ہوگی تمہاری۔۔۔۔”
پریسا کی دودھیا خوبصورت گردن شاہ ویز سکندر کے جذبات میں تغیانی برپا کرتی اُسے گستاخی پر اُکسا رہی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز ایک نظر اپنے حصار میں لرزتی کانپتی اپنی نازک سی بیوی پر ڈالتا۔۔۔ اپنے دل کی خواہش کو سختی سے دباتا ہاتھ بڑھا کر اُس کا جوڑا کھول گیا تھا۔۔
جنہوں نے اُس کی گردن کو اپنی سیاہ چادر کے اندر ڈھانپ لیا تھا۔۔۔
پریسا نے خفگی سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔ مگر شاہ ویز کی ضبط سے سُرخ پڑتی آنکھیں دیکھ پریسا اگلے ہی لمحے اُس سے سہم کر پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔
“گڈ۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کی اِس احتیاط پر مسکراتا اُسے مزید کوئی بھی تیاری کرنے کا موقع دیئے بغیر اُس کا ہاتھ تھامتا روم سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
پریسا اُس کے تیور دیکھ لپسٹک تک نہیں لگا پائی تھی۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

“تو آج ہر طرف تم نے اپنے گینگ کے لوگوں کو پھیلا رکھا ہے۔۔۔۔ ہم پولیس والوں کو بہت ہلکے میں لے رہے ہو تم۔۔۔۔ “
حبہ نے اپنے برابر میں آکر بیٹھتے حازم کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
“ہم نے آپ کو کبھی ہلکے میں نہیں لیا ایس پی صاحبہ۔۔”
حازم کا جگمگاتا چہرا اُس کی بے پناہ خوشی کا پتا دے رہا تھا۔۔۔
مگر حبہ جس نے اتنے سالوں تک آج کے دن کا بے صبری سے انتظار کیا تھا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی آج کے دن کی خوشی کو دل سے محسوس نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔ اُس کے دل میں بے چینی سی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
“وہ دن دور نہیں ہے جس دن بلیک سٹارز کا نام و نشان اِس دنیا سے مٹ جائے گا۔۔۔۔۔”
حبہ نے اپنی کاجل اور مسکارے سے سجی قاتل نگاہیں موڑ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جن سے حازم سالار کو اپنا دل واقعی زخمی ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
“ایسے خواب اب تک بہت سارے لوگ دیکھ چکے ہیں۔۔۔ مگر بلیک سٹارز کو اپنی جگہ سے نہیں ہٹا پائے۔۔۔ ہاں خود ضرور مر مٹ گئے ہیں۔۔۔ کیونکہ بلیک سٹارز سے اُلجھنے والا بچتا نہیں ہے۔۔۔۔ “
حازم اُس کی جانب وارفتگی بھری نگاہوں سے دیکھتا سرد لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔۔
“تم مجھے دھمکی دے رہے ہو۔۔۔۔؟؟”
حبہ اُس کے لہجے کی پختگی اور اٹل ارادوں پر جل بھن کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
“اُف خدایا۔۔۔۔ کیا کروں میں اِن دونوں اُلٹی کھونپڑی والے بلیک سٹارز کا۔۔۔ بھلا شادی والے دن سٹیج پر بیٹھ کر ایسی دھمکی آمیز باتیں کون کرتا ہے اپنی بیویوں سے۔۔۔ پہلے ایک شاہ سر کیا کم تھے کہ میر سر اُن سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ چکے ہیں۔۔۔۔۔”
حمدان کسی فون کے لیے وہاں سے ہٹا تھا جب سٹیج کے قریب آتے مہروسہ خفگی سے بڑبڑائی تھی۔۔۔
جو حازم کے کانوں تک تو نہیں پہنچ پائی تھی۔۔۔ مگر قریب ہی کھڑے جنید اور اقراء اپنی ہنسی نہیں روک پائے تھے۔۔۔
“دو نہیں ہمارے تینوں گینگ لیڈرز ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔۔۔ آپ بھی تو اتنے ہینڈسم بندے کی محبت کا جواب بورنگ سے انداز میں دے رہی ہیں۔۔۔۔”
جنید نے اُن دونوں کے ساتھ ساتھ مہروسہ کو بھی لتاڑا تھا۔۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔ اُس ہینڈسم بندے کی نظر پڑ گئی نا تم پر تو یہیں کھڑے کھڑے گولی مار دے گا۔۔۔۔”
مہروسہ نے دور سے آتے حمدان کی جانب محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے جنید کو آگاہ کیا تھا۔۔۔۔
“یہ تیسری گینگ لیڈر بھی گئیں کام سے۔۔۔ اپنے ہی لوگوں کو دھمکی دیتے ایک دم پولیس والے کی بیوی لگ رہی ہیں۔۔۔۔ ایس پی حمدان کے سارے رنگ چڑھ چکے ہیں آپ پر۔۔۔۔”
جنید حمدان کو آتا دیکھ وہاں سے کھسکتے مہروسہ کو چھیڑنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
“مہرو میم۔۔۔۔ اتنے غصے والے لگتے ہیں یہ۔۔۔۔ آپ کیسے ہینڈل کر پارہی ہیں اپنے ایس پی صاحب کو۔۔۔ دیکھیں نا جب سے آئیں ہیں شاہ سر کی طرح اِن کے چہرے پر بھی میں نے مسکراہٹ کا زرہ تک نہیں دیکھا۔۔۔۔۔ “
اقراء کو دور سے ہی حمدان سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ وہاں موجود بہت سی لڑکیوں کی نگاہیں حمدان پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ مگر اُس کے ایس پی نے کسی ایک کی جانب بھی نگاہیں اُٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔۔۔
کال پر بات کرتے اُس کی نگاہیں ایک دو بار اُٹھی تھیں۔۔۔ مگر صرف مہروسہ کی تلاش میں۔۔۔ اور اُس پر نظر پڑتے ہی ہر بار حمدان صدیقی کی نگاہیں کی چمک واضح ہوجاتی تھی۔۔۔
اور ساتھ ہی دل کی دھڑکنیں بھی۔۔۔۔۔۔
“مہرو میم۔۔۔۔ اتنے غصے والے لگتے ہیں یہ۔۔۔۔ آپ کیسے ہینڈل کر پارہی ہیں اپنے ایس پی صاحب کو۔۔۔ دیکھیں نا جب سے آئیں ہیں شاہ سر کی طرح اِن کے چہرے پر بھی میں نے مسکراہٹ کا زرہ تک نہیں دیکھا۔۔۔۔۔ “
اقراء کو دور سے ہی حمدان سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ وہاں موجود بہت سی لڑکیوں کی نگاہیں حمدان پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ مگر اُس کے ایس پی نے کسی ایک کی جانب بھی نگاہیں اُٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔۔۔
کال پر بات کرتے اُس کی نگاہیں ایک دو بار اُٹھی تھیں۔۔۔ مگر صرف مہروسہ کی تلاش میں۔۔۔ اور اُس پر نظر پڑتے ہی ہر بار حمدان صدیقی کی نگاہیں کی چمک واضح ہوجاتی تھی۔۔۔
اور ساتھ ہی دل کی دھڑکنیں بھی۔۔۔۔۔۔
مہروسہ کے لیے یہ احساس ہی کافی تھا کہ کسی بات کے تحت ہی سہی مگر وہ اپنے ایس پی کے لیے اہم تو ہوئی تھی۔۔۔۔
“وہ شاہ سر بھی آگئے اپنی پری کے ساتھ۔۔۔۔۔”
اقراء کی ایکسائٹڈ سی آواز پر مہروسہ نے اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس پریسا کا ہاتھ تھامے انٹرس سے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔ جس کے ساتھ ہی وہاں موجود تمام لوگوں کی ستائشی نگاہیں اُن کے خوبصورت کپل پر جم کر رہ گئی تھیں۔۔۔۔
سختی بھرے تاثرات اور ماتھے پر ہمیشہ کی طرح سلوٹوں کا جال بنے شاہ ویز سکندر اپنے پہلو میں نازک سی گڑیا جیسی پریسا آفندی کو لیے اندر آرہا تھا۔۔۔۔ پریسا کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔ ریڈ گاؤن فل پیروں تک آتے گاؤن میں اُس کا نازک سراپا اور دودھیا چمکتی رنگت اُس کے حُسن کی رعنائیوں میں مزید اضافہ کررہی تھی۔۔
اُس نے بال کھول رکھے تھے۔۔۔ جبکہ سر پر دوپٹہ پنوں کی مدد سے سیٹ کر رکھا تھا۔۔۔ جس میں سے نکلتے سلکی بال اُس کے چہرے سے ٹکراتے ہونٹوں سے چھیڑ خانیاں کررہے تھے۔۔۔
وہاں سب نے بلیک ڈریس پہن رکھے تھے۔۔۔ کیونکہ اُن کے گینگ لیڈرز ہو بلیک رنگ پسند تھا۔۔۔۔ اِس رنگ کے علاوہ کوئی اور رنگ پہننا اُن کے لیڈرز کا پسند نہیں تھا۔۔ مگر پریسا آفندی کو ریڈ گاؤن میں دیکھ وہ سب خوشگوار حیرت سے نہیں نکل پائے تھے۔۔۔ شاہ ویز سکندر کے اندر آتی اِس اتنی بڑی تبدیلی پر اُن سب کی محبت بھری نگاہیں پریسا پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
جو اپنی معصوم اداؤں سے اُن کے لیڈر کی بے رونق زندگی میں آہستہ آہستہ رنگ بھر رہی تھی۔۔۔
سب کو اپنی جانب دیکھتا پاکر پریسا کنفیوژ ہوئی تھی۔۔۔ اور جلدی سے شاہ ویز کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا تھا۔۔۔۔
“آپ کے لوگ ہمیشہ ایسے گھور رہے ہیں جیسے ہم دلہا دلہن ہیں۔۔۔۔ میرا ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔ “
پریسا اُس سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے بولی۔۔۔
“جو تم پہن کر آئی ہو اِس میں تم کسی دلہن سے کم نہیں لگ رہی۔۔۔ اسی لیے گھور رہے ہیں سب تمہیں۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔
“کیا۔۔۔ میں اتنی اوور لگ رہی ہوں۔۔۔ تم نے بتایا کیوں نہیں مجھے۔۔۔۔”
پریسا نے صدمے سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُسی لمحے شاہ ویز نے بھی اُس کے دلفریب رُوپ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اور بے اختیار اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔