Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“حبہ میری جان۔۔۔۔ آپ روم میں جاؤ میں آپ سے۔۔۔۔”
نجمہ بیگم نے اُسے سنبھالنا چاہا تھا۔۔۔۔ جس کے دل پر گہری چوٹ آئی تھی یہ سب دیکھ کر۔۔۔۔
“میرا شوہر زندہ ہے ماما۔۔۔۔ کسی کے بھی کہہ دینے پر آپ بھلا کیسے یقین کرسکتی ہیں کہ وہ مرگئے ہیں۔۔۔ آپ لوگوں کو زرا سا بھی خوف محسوس نہیں ہوتا۔۔ ایک زندہ انسان کے بارے میں یہ سب کہتے اور کرتے ہوئے۔۔۔۔؟؟؟ میں اِس سب کے لیے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔”
حبہ بُری طرح روتی اُن سے اپنا آپ چھڑواتی اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“کسی کو معاف نہیں کروں گی۔۔۔ آپ کو بھی نہیں۔۔۔۔”
حبہ بُری طرح روتی سسکتی اپنے روم کا دروازہ اندر سے لاک کر گئی تھی۔۔۔۔
بیڈ روم کی ساری چیزوں کو تہس نہس کرکے بھی اُسے سکون نہیں ملا تھا۔۔۔
“کیوں۔۔۔ کیوں میری زندگی میں ہی یہ درد لکھا گیا ہے۔۔۔ کیوں مجھے یہ جدائی کا عذاب سہنا پڑ رہا ہے۔۔۔ کیوں واپس نہیں آجاتے آپ میرے پاس۔۔۔۔۔”
حبہ ہچکیوں سے روتی فریاد کرتی اپنی الماری کے سیف کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ جہاں اُس نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی شے محفوظ کر رکھی تھی۔۔۔
پرپل کلر کے مخملی باکس سے ایک تصویر اور ریڈ لہنگے میں ملبوس ایک چھوٹی سی خوبصورت گڑیا کو باہر نکال کر سینے سے لگاتے وہ وہیں الماری سے ٹیک لگاتی نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔۔۔
“پلیز واپس آجائیں۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ میرے پاس لوٹ آئیں۔۔۔ نہیں رہ سکتی آپ کے بغیر۔۔۔۔۔”
حبہ کو اُسی طرح ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر روتے نجانے کتنے گھنٹے گزر چکے تھے۔۔۔۔
نجمہ بیگم اور صبا دروازہ ناک کرتے کرتے تھک ہار کر واپس لوٹ گئی تھیں۔۔۔ ایک ہی جگہ اتنی دیر بیٹھنے کی وجہ سے اُس کا پورا جسم سن ہوچکا تھا۔۔۔۔
بھیگی آنکھوں کے ساتھ وہ غنودگی میں جارہی تھی جب اُسے اپنے آس پاس وہی جانی پہچانی خوشبو محسوس ہوئی تھی۔۔۔ جس کو صدیوں بعد بھی وہ بھلا نہیں پائی تھی۔۔۔
کچھ لمحوں بعد اُسے ایک مہربان لمس اپنے کندھوں اور بالوں میں محسوس ہوا تھا۔۔۔
بنا آنکھیں کھولے بھی وہ اِس لمس اور اِس شخص کی دلفریب مہکتی قربت کا پہچان گئی تھی۔۔۔ اُس نے آنکھیں کھولنی چاہی تھیں۔۔۔ وہ اپنے محبوب ترین شخص کا چہرا دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اُس شخص نے اُس کی آنکھوں پر اپنی مضبوط ہتھیلی جماتے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔۔۔۔۔
“میں کبھی کہیں دور گیا ہی نہیں تھا میری زندگی۔۔۔ ہمیشہ سے تمہارے ساتھ، تمہارے بہت پاس رہا ہوں۔۔۔۔ تم نے پہنچاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔۔۔ “
وہ اُسے بانہوں میں اُٹھا کر بیڈ پر لٹاتے اُس کے کانوں میں سرگوشی بھرے انداز میں بولتا اُسے اپنے ساتھ باندھنے لگا تھا۔۔۔۔
وہ مسمسرائز سی آنکھیں موندے اُسے سن رہی تھی۔۔۔ اُسے اپنے بے حد قریب محسوس کررہی تھی۔۔۔ جو اُس کے قریب نیم دراز اُس کے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتا اُسے پوری طرح اپنے سحر میں جکڑ گیا تھا۔۔۔۔
حبہ آنکھیں کھولنا چاہتی تھی۔۔۔ اُسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس روک لینا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اِس وقت کچھ بھی اُس کے اختیار میں نہیں رہا تھا۔۔۔ نیند کی وادیوں میں اُترتے اُس نے اپنے ماتھے پر شدت بھرا لمس محسوس کیا تھا۔۔۔۔ جس کے بعد وہ پوری طرح غنودگی میں جاچکی تھی۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“تم ٹھیک ہو۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز نے لان میں بیٹھے حازم اور مہروسہ کے قریب آتے مہروسہ کو مخاطب کیا تھا۔۔۔ جو اس وقت لان کے قدرے تاریک حصے میں بیٹھے اپنی ڈیلی کی روٹین کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ سونے سے پہلے یہ ایک گھنٹہ ضرور سپینڈ کرتے تھے۔۔
“جی سر میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ “
مہروسہ نے بشاشت سے جواب دیتے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائی تھی۔۔۔
جس پر شاہ ویز نے طنزیہ نگاہوں سے اُن دونوں کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“تم لوگوں کو ابھی بھی لگتا ہے کہ میں تمہاری اِس بناوٹی مسکراہٹ سے دھوکا کھا جاؤں گا۔۔۔ میں بہت اچھے سے جانتا ہوں تم دونوں ہی ٹھیک نہیں ہو۔۔۔۔”
شاہ ویز اُن دونوں کی آنکھوں میں اذیت کی جھلک دیکھ اپنے سینے میں بھڑکتی آگ کو بجھانے کے لیے سیگریٹ سلگھاتا ہونٹوں سے لگا چکا تھا۔۔۔
“محبت کا روگ بہت دردناک ہوتا ہے۔۔۔ اچھے بھلے انسان کو ناکارہ بنا کر رکھ دیتا ہے۔۔۔ میرا رب تمہیں اِس روگ سے محفوظ رکھے۔۔۔ ہم دونوں تو پھر کنٹرول میں ہیں۔۔۔ کیونکہ اصل تباہی تو تب مچے گی جب شاہ ویز سکندر کو محبت میں درد برداشت کرنا پڑے گا۔۔۔۔”
حازم اُس کی بات کے جواب میں اُسی کا مذاق اُڑاتا ماحول کو خوشگوار بناتے بولا۔۔۔
“بالکل ٹھیک کہا آپ نے میر سر۔۔۔۔ شاہ سر نے تو گن پوائنٹ پر اُس لڑکی سے نہ صرف اپنی محبت کا اظہار کروانا ہے۔۔۔ بلکہ اُٹھا کر یہاں لے بھی آنا ہے۔۔۔”
مہروسہ نے بھی شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ شاہ ویز کا چھیڑا تھا۔۔۔
“واٹ ربش۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ میرے نزدیک یہ محبت وحبت فضولیات سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔۔۔ “
شاہ ویز نے اُن کی باتوں کی سختی سے تردید کردی تھی۔۔۔۔ جب اُسی لمحے ایک ساتھ تینوں کی نظر سامنے والے دروازے سے چھپ چھپا کر نکلتی پریسا پر پڑی تھی۔۔۔۔ جو یہی سمجھ رہی تھی کہ اِس وقت وہاں لان میں کوئی گارڈ موجود ہے ہی نہیں۔۔۔۔ اور وہ آرام سے بھاگ سکتی ہے۔۔۔
جبکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اُن گارڈز کو بلیک سٹارز نے اپنی پروائیوسی کی خاطر ہٹایا تھا۔۔۔ اور اِس وقت وہ بلیک سٹارز کی آنکھوں کے سامنے اُن کی بلیک ہاؤس سے فرار ہونے کی گستاخی کررہی تھی۔۔۔
“ویسے کافی کیوٹ ہے یہ لڑکی۔۔۔۔”
مہروسہ نے پریسا کو پودوں کی اوٹ میں ہو کر گارڈز سے چھپتے دیکھ مسکراتے کہا تھا۔۔۔ مگر شاہ ویز کی گھوری پر اگلے ہی لمحے اُس کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔۔۔
“کیوٹ نہیں۔۔۔ ایک نمبر کی بے وقوف اور گدھی ہے۔۔۔۔ جسے بے ہوش ہونے کے سوا کچھ آتا ہی نہیں۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے فرار ہونے کا بھونڈا طریقہ دیکھ دانت پیستے بولا۔۔۔
“ویسے اِس لڑکی کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جاننے لگے تم۔۔۔۔”
حازم کو شاہ ویز کا پریسا پر کچھ ایکسٹرا توجہ دینا ٹھٹکا رہا تھا۔۔۔
“دشمنوں کو ہرانے کے لیے پہلے اُن کی سب سے بڑی کمزوری دیکھی جاتی ہے۔۔۔۔ اور میرے دشمنوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ لڑکی ہے۔۔۔۔ اور میرا سب سے بڑا مہرا۔۔۔ “
شاہ ویز کی آنکھوں میں پریسا آفندی کے لیے نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ حازم اور مہروسہ اپنی سوچ کی نفی ہونے پر افسوس سے سر ہلا کر رہ گئے تھے۔۔۔
وہ اب یہ تو مان ہی چکے تھے۔۔۔ کہ اُن کا یہ ساتھی سینے میں دل نہیں پتھر لے کر گھومتا تھا۔۔۔۔ جو احساسات و جذبات سے بالکل نابلد تھا۔۔۔
شاہ ویز نے گارڈز کو کال کرکے ڈوگز کھولنے کا حکم دے دیا تھا۔۔۔۔
“وہ ڈر جائے گی۔۔۔۔ یا پھر بے ہوش بھی ہوجائے ڈوگز کو اپنے اتنے قریب سے دیکھ کر۔۔۔۔”
حازم نے اُسے پریسا کو ایسی سزا دینے سے باز رکھنا چاہا تھا۔۔
مگر وہ شاہ ویز ہی کیا جو کسی کی سن لے۔۔۔۔
گارڈز نے فوراً اُن ہٹے کٹے شیر کی سی جسامت رکھنے والے ڈوگز کو رہاع کردیا تھا۔۔۔۔ جو زور و شور سے بھونکتے پریسا کے سر آن ہوئے تھے۔۔۔۔
“اوہ نو۔۔۔۔۔ یی یہ کہاں سے آ آآ گئے۔۔۔ اب میں کیا کروں۔۔۔۔”
پریسا اُن ڈوگز کو دیکھ تھر تھر کانپتی اپنا فرار ہونا بھولتی اُُلٹے قدموں واپس بھاگی تھی۔۔۔۔ وہ اِس قدر خوفزدہ ہوچکی تھی کہ یہ تک فراموش کر گئی تھی کہ اُس کا دوپٹہ وہیں زمین بوس ہوچکا ہے۔۔۔۔
وہ چیخنے کے ساتھ اپنے بچاؤ کے لیے اندھا دھند بھاگتی جارہی تھی جب پیچھے مُڑ کر اُن کتوں کو دیکھنے کی کوشش کرتے وہ ایکدم سامنے سے آتے شاہ ویز سے بُری طرح ٹکراتی اُس کی بانہوں میں سما گئی تھی۔۔۔۔
“وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ ڈوگز۔۔۔۔ پپ پلیز مجھے بچا لیں۔۔۔۔”
پریسا خوف کے عالم میں تھرتھر کانپتی ہکلاتے ہوئے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرتی چہرا شاہ ویز کے سینے میں چھپائے ہوئے تھی۔۔۔ جس پر شاہ ویز نے سختی سے اپنی مُٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔۔۔
وہ مزید چند سیکنڈز بھی اس لڑکی کو اپنے اتنے قریب برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔۔ اُس پریسا کو دونوں کندھوں سے تھام کر خود سے دور کرتے گارڈز کو ڈوگز کو واپس لیجانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔
پریسا نے ایک نظر مُڑ کر شرافت سے واپس جاتے ڈوگز کو دیکھا تھا۔۔۔۔ اور پھر مُڑ کر شاہ ویز کی لال انگارہ آنکھوں کو۔۔۔۔ جس کا یہی مطلب تھا کہ وہ اُس کے فرار ہونے کے ارادے سے باخبر ہوچکا تھا۔۔۔۔
پریسا کو اُس کی سرد ٹھٹھرتی نگاہوں سے اپنی ریڑھ کی ہڈی سنسناتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس نے لرزتی پلکیں اُٹھا کر شاہ ویز کی جانب دیکھا ہے تھا جن کی تاب نہ لاتے اگلے ہی لمحے وہ شاہ کی بانہوں میں لہرا گئی تھی۔۔۔۔۔
اِس لڑکی کی یہ حرکت شاہ ویز کو سر سے پیر تک سلگھا گئی تھی۔۔۔۔۔
پنک لباس میں رف سے حلیے میں، لمبے کھلے بال اُس کے بنا دوپٹے کے نازک وجود کو ڈھانپے ہوئے تھے۔۔۔ ٹھنڈ کی وجہ سے لال ہوئی ستواں ناک میں پہنی نوز پن چاند کی روشنی میں جگمگاتی دیکھنے والوں کو اپنی دلفریبی میں گم کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔۔۔
مگر سامنے کھڑے شخص کو اِن دلفریبیوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔۔۔۔ اُس کا دل تو چاہا تھا اِس لڑکی کو یہی پٹخ کر خود اندر چلا جائے۔۔۔۔
مگر نجانے کس احساس کے زیرِ اثر وہ ایسا سنگدلانہ عمل اِس لڑکی کے ساتھ نہیں کر پایا تھا۔۔۔ ورنہ اُس کے بلیک ہاؤس سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والوں کے لیے جو سزا اُس نے رکھی ہوئی تھی۔۔۔ وہ تو سن کر ہی پریسا آفندی نے بے ہوش ہوجانا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز چہرے پر پتھریلے تاثرات سجائے اُسے بانہوں میں اُٹھاتا وہاں سے جانے کے لیے پلٹا ہی تھا۔۔۔ جب سامنے کھڑے حازم اور مہروسہ کو مسکراتے دیکھ اُس کی بھنویں مزید تن گئی تھیں۔۔۔۔
“واٹ۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز نے سوالیہ نگاہوں سے اُن دونوں کو گھورا تھا۔۔۔۔
“یہ لڑکی کتوں سے زیادہ تم سے ڈرتی ہے۔۔۔۔ کتوں کو دیکھ کر بے ہوش نہیں ہوئی۔۔۔ مگر تمہیں ایک نظر دیکھتے ہی اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔۔۔۔”
حازم اپنے ہونٹوں پر بے ساختہ اُمڈ آنے والی مسکراہٹ نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔
جبکہ مہروسہ کا انداز بھی کچھ ایسا ہی تھا۔۔۔۔
“شٹ اپ اینڈ سٹاپ دس نان سینس۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُنہیں وارننگ دیتی نگاہوں سے دیکھتا آگے بڑھا تھا۔۔۔ جب حازم کی پکار پر اُسے ایک بار پھر رکنا پڑا تھا۔۔۔
“آج تک تمہارے دو دشمنوں نے تمہارے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ جسے کامیاب ہونے دینے سے پہلے ہی تم اُن کا نام و نشان اِس دنیا سے مٹا چکے ہو۔۔۔ مگر آج مجھے اپنی اِن گناہگار آنکھوں پر یقین نہیں آرہا ہے۔۔۔۔ پہلی بار شاہ ویز سکندر نے اپنے گریبان پر ہاتھ ڈالنے والی اپنی دشمن کو اپنی بانہوں میں اُٹھا رکھا ہے۔۔۔۔”
حازم پرمزا انداز میں یہ الفاظ کہہ کر اُسے مزید تپاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے جاتے ہی شاہ ویز نے غصے بھری نگاہوں سے اپنے گریبان کو مُٹھی میں دبوچے پریسا کے ہاتھ کو دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ یہ بات پہلے کیوں نہیں دیکھ نوٹ کر پائی تھی۔۔۔
شاہ ویز خود کو ہی سرزنش کرتا اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حبہ آنکھیں کھولتے ہی جھٹکے سے اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔ اُس نے متلاشی بے چین نگاہوں سے پورے کمرے کا ایک ایک کونا چھان مارا تھا۔۔۔ مگر وہاں اُسے کسی کا نام و نشان نہیں ملا تھا۔۔۔۔
“تو اِس کا مطلب رات کو جو کچھ بھی میں نے فیل کیا وہ صرف ایک خواب تھا۔۔۔۔ حقیقت نہیں۔۔۔۔ نن نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ وہ میرے پاس تھے۔۔۔ میرے بہت قریب تھے۔۔۔ نہیں یہ خواب نہیں ہوسکتا۔۔۔۔”
حبہ بالوں کو مُٹھیوں میں بھینچتی ہزیانی انداز میں چلا اُٹھی تھی۔۔۔۔۔
جب اچانک ایک بات کے خیال سے وہ وہیں منجمند سی ہوئی تھی۔۔۔ اُسے بہت اچھے سے یاد تھا کہ وہ روتے روتے الماری کے پاس زمین پر ہی بیٹھ گئی تھی۔۔۔ پھر وہ بیڈ پر کیسے پہنچی تھی۔۔۔
حبہ اپنے آنسو صاف کرتے جلدی سے الماری کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ مگر وہاں سیف کو لاک پڑا دیکھ اُسے گہرا جھٹکا لگا تھا۔۔۔ اُس نے جلدی سے لاک کھولا تھا۔۔۔ جہاں اُس کی دونوں چیزیں بالکل محفوظ ویسے ہی پڑی تھیں۔۔۔ جیسے وہ رکھتی تھی۔۔۔ اِس کا مطلب صاف یہی تھا کہ وہ سب خواب تھا۔۔۔ جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھی تھی۔۔۔ نہ تو کوئی اُس کے روم میں آیا تھا اور نہ اُس نے خود اپنا سیف کھول کر چیزیں باہر نکالی تھیں۔۔۔
حبہ گہرا سانس ہوا میں خارج کرتی واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ وہ خود کو اتنی جلدی کمزور نہیں پڑنے دے سکتی تھی۔۔۔
حبہ فل یونفیارم میں ملبوس گھر سے نکل آئی تھی۔۔۔ نجمہ بیگم اور صبا سے ناراضگی ظاہر کرتے اُس نے ناشتہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“سر ایس پی حبہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔۔۔۔”
حمدان اپنے آفس میں بیٹھا کسی امپورٹنٹ کیس کی فائل کو ریڈ کررہا تھا۔۔۔ جب حبہ کے آنے کی اطلاع پر فوراً اُسے اندر بھیجنے کا حکم دے گیا تھا۔۔۔۔
“گڈ مارننگ ایس پی حمدان۔۔۔۔ “
حبہ اپنے مخصوص پروفیشنل انداز میں اُسے مخاطب کرتی اُس کے اشارے پر سامنے رکھی کرسی پر براجمان ہوئی تھی۔۔۔۔
“مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ ہم دونوں کبھی کسی کیس پر ایک ساتھ کام کریں گے۔۔۔۔”
حمدان اور حبہ اپنی ٹریننگ میں ایک ساتھ تھے۔۔۔ دونوں کو ہی جیتنے کی عادت تھی۔۔۔ اِسی وجہ سے دونوں کا مقابلہ ہمیشہ ٹکر کر رہا تھا۔۔۔ یہ فیلڈ جوائن کرنے کے بعد بھی دونوں کے نام رینکنگ میں اُوپر نیچے ہوتے رہتے تھے۔۔۔۔ دونوں ہی اپنے کام میں بہت ایماندار تھے۔۔۔۔۔
“مجھے بھی۔۔۔۔ مگر اب ہمیں جن لوگوں سے مقابلہ کرنا ہے اُس کے لیے ایک یونٹ بن کر ہمیں اُن کی یونیٹی توڑنی ہوگی۔۔۔ تب ہی ہم لوگ اپنے اُن دشمنوں کو نست و نابود کرسکتے ہیں۔۔۔۔ “
حبہ کے لہجے میں بلیک سٹارز کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔۔۔ جسے محسوس کرتے حمدان کو بہت خوشی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
“اُن تینوں کو کمزور تب ہی کیا جاسکتا ہے جب ہم اُن تینوں کو ایک دوسرے سے بدظن کردیں۔۔۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی ہم صرف ایک بلیک سٹار مہروسہ کنول کی شناخت کر پائے ہیں۔۔۔ باقی دونوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔۔۔۔ “
حمدان کی بات پر چائے اندر لاتے چھوٹو نے نگاہیں اُٹھا کر اُسے گھورا تھا۔۔۔
“میں اُن کے دوسرے ساتھی کے بہت قریب پہنچ چکی ہوں۔۔۔۔ بہت جلد اُس کی شناخت بھی کرلوں گی۔۔۔ مگر ہمیں کرنا کیا ہوگا۔۔۔۔۔”
حبہ نے سوالیہ نگاہوں سے حمدان کو دیکھتے اُس کا پلان سننا چاہا تھا۔۔۔
“اُن کو اُنہیں کے کھیل میں مات دینی ہوگی۔۔۔ وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ ہم قانونی دائرے میں رہ کر اُن کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے۔۔۔ مگر اُنہیں اُن کی اِس غلط فہمی کا بہت خوبصورت تحفہ دینا چاہتا ہوں۔۔۔ جو محبت کا کھیل وہ لوگ ہمارے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں۔۔۔ اُس میں اُنہیں الجھا کر اُنہیں اپنے قدموں میں پٹخنا ہوگا۔۔۔۔”
حمدان کی بات ابھی مکمل نہیں ہو پائی تھی۔۔۔ جب وہاں چائے دینے کے لیے آئے کھڑے چھوٹو کے ہاتھ سے کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔۔۔۔
حمدان نے اِس ڈسٹربنس پر اُسے گھورتے باہر جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔ جس پر اُس نے باہر جانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی حمدان نے اپنا سارا پلان حبہ کو بتایا تھا جس کے بغیر اُن لوگوں تک پہنچنے کا اُن کے پاس کوئی حل نہیں تھا۔۔۔۔ حبہ نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد اثبات میں سرہلا دیا تھا۔۔۔۔ بلیک سٹارز اب تک اُن کے علاقوں میں بہت تباہی مچا چکے تھے۔۔۔۔
اب اُنہیں تباہ و برباد کرنے کا اصل وقت آچکا تھا۔۔۔۔
مگر اُن دونوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اُن کا یہ پلان اب تک بلیک سٹارز تک پہنچ بھی چکا ہے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میر سر میں نے آپ کو اتنی سیریس بات بتائی ہے۔۔۔ اور آپ ہنس رہے ہیں۔۔۔۔۔”
مہروسہ حازم کے سپیکرز کے پردے پھاڑ کر باہر آتے قہقوں پر تپ کر بولی تھی۔۔۔۔ حازم کو جیسے ہی پتا چلا تھا کہ حبہ حمدان سے ملنے جارہی ہے۔۔۔ اس نے مہروسہ کو چائے والے کا بھیس اپنا کر حمدان کے آفس بھیجا تھا۔۔۔ جہاں سے اُنہیں جو بات سننے کو ملی تھی۔۔۔ اُسے سننے کے بعد حازم سے اپنے قہقہ روک پانا ناممکن ہوچکا تھا۔۔۔۔
“مہرو میں کیا کروں۔۔۔ تم نے بات ہی ایسی کہی ہے۔۔۔ ایس پی حبہ مجھے کمزور کرنے اور ہرانے کے لیے میرے ساتھ محبت کا ناٹک کرے گی۔۔۔۔ لگتا ہے اتنی موٹی موٹی کتابیں پڑھ کر اِن پولیس والوں کا دماغ خراب ہوچکا ہے۔۔۔۔ “
حازم مہروسہ کے چڑنے پر بمشکل سنجیدہ ہوتے بولا۔۔۔۔
“آپ جتنا مذاق بنا رہے ہیں اتنا سٹوپڈ پلان بھی نہیں ہے اُن کا۔۔۔”
بندوقوں اور گولیوں سے کھیلنے والی مہروسہ محبت کا کھیل کھیلنے سے حد درجہ خوفزدہ تھی۔۔۔ کیونکہ اُسے پورا یقین تھا کہ وہ ہار جائے گی ایس پی حمدان کے آگے۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں سٹوپڈ تو بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ آخر کو تمہارے ایس پی حمدان صاحب نے بنایا ہے۔۔۔۔ “
حازم کا سنجیدہ ہونے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔۔۔
مگر مہروسہ کی پریشانی نوٹ کرتے آخر اُسے سیریس ہونا پڑا تھا۔۔۔۔
“وہ لوگ جو کررہے ہیں اُنہیں کرنے دو۔۔۔۔ اور ہم وہ کریں گے جو ہم نے سوچا ہے۔۔۔۔ وہ لوگ ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔۔۔ مگر ہم پر دوہری زمہ داری ہے۔۔۔ ہمیں اپنے ساتھ ساتھ اُنہیں بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔۔۔ تبھی ہم اپنے مقصد میں پوری طرح کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔۔”
حازم کی بات پر مہروسہ کی پریشانی کچھ حد تک کم ہوئی تھی۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔