No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
“یہ کیا بہودگی ہے۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے اپنی کلائی سہلاتے اُسے غصے سے گھورا تھا۔۔۔
“تم سائن کرو پھر بہت اچھے سے ایکسپلین کروں گا۔۔۔۔”
شاہ ویز سکندر کی چمکتی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ پریسا کو زچ کر کے اُسے کتنا مزا آرہا ہے۔۔۔۔
“نہیں کروں گی سائن۔۔۔۔”
پریسا نے اُسے گھورتے صاف انکار کیا تھا۔۔۔
“میں یہ کام زبردستی بھی کروا سکتا ہوں۔۔۔۔ مگر میں چاہتا ہوں تم اپنی مرضی سے سائن کرو۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کی جانب گردن موڑی تھی۔۔۔ جو اُس کے نہایت قریب بیٹھی لال چہرے کے ساتھ اپنی کلائی سہلا رہی تھی۔۔۔۔
“مگر آخر ہے کیا اِن پیپرز میں….؟؟؟”
پریسا آخر کا ہار مانتے بولی۔۔۔۔
“اِس پر سائن کرنے سے تمہیں نقصان بالکل بھی نہیں ہوگا۔۔۔ ایسا کرنے سے تمہارا ہی فائدہ ہے۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز بھی سنجیدہ ہوا تھا۔۔۔
“مجھے تم پر اعتبار نہیں ہے۔۔۔۔”
پریسا نے اُس کی جانب دیکھتے اُسے غصہ دلانا چاہا تھا۔۔۔
“مجھے اِس بات کی پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔ اور نہ ہی میں چاہتا ہوں کہ تم مجھ پر اعتبار کرو۔۔۔ کیونکہ مجھے نہ ہی اعتبار رکھنا آتا ہے اور نہ ہی دوسروں کے دل۔۔۔۔۔”
شاہ ویز چہرے پر پتھریلے تاثرات سجائے اُس کے پاس سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔
پریسا کتنے ہی لمحے خاموش نگاہوں سے اُسے تکے گئی تھی۔۔۔ یہ شخص کیا اندر سے بھی اتنا ہی پتھر اور احساس سے عاری تھا۔۔۔ جیسا یوں ہر وقت اُس کے سامنے ظاہر کرتا تھا۔۔۔۔
یا اِس کا یہ سنگدلانہ رُوپ صرف اُسی کے لیے تھا۔۔۔
پریسا نے آنکھیں موندتے ایک لمحے کے لیے سائن کرنے کے بارے میں سوچا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ فیصلہ کرتی ٹیبل پر رکھے پیپرز کی جانب جھکی تھی۔۔۔۔
اور لرزتے ہاتھوں سے پین اُٹھا کر بنا اُنہیں پڑھے سائن کرنے لگی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر کچھ فاصلے پر کھڑا سیگریٹ کا دھواں اُڑاتا اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ رف سے حلیے میں بھی وہ اُداس تنہا سی لڑکی اپنی جانب کھینچنے کی طاقت رکھتی تھی۔۔۔۔۔
اُس کے سیاہ بال اُس کے چہرے کے گرد ہالہ بنائے بار بار اُسے ڈسٹرب کررہے تھے۔۔۔۔ وہ اپنی نازک مخروطی اُنگلیوں سے اُنہیں کانوں کے پیچھے اڑستی تھی۔۔۔ اور ہر بار وہ پھسل کر پھر اُس کے حسین چہرے سے آن ٹکراتے تھے۔۔۔
یہ منظر اتنا دلفریب اور دلکشی بھرے تھا۔۔۔ کہ شاہ ویز جیسا انسان کچھ پل کے لیے سیگریٹ پینا بھول چکا تھا۔۔۔۔ سیگریٹ اُس کی اُنگلی کو جلاتا کب راکھ بن گیا تھا۔۔۔ اُسے اندازہ بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔
نگاہوں کی تپیش پر گھبراتے پریسا نے جیسے ہی اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔ شاہ ویز بے اختیار اپنی نِظریں پھیر گیا تھا۔۔۔ کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی مگر دل کے کسی کونے میں بہت عرصے بعد ایک سرور سا سرایت کر گیا تھا۔۔۔
یہ میٹھا سا نرم گرم درد شاہ ویز سکندر کے لیے بہت بڑا تھا۔۔۔۔
“میں نے سائن کردیئے ہیں۔۔۔۔”
پریسا پیپرز اُٹھائے اُس کی جانب آتے بولی۔۔۔۔
شاہ ویز گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کرتا واپس پلٹا تھا۔۔۔۔
“گڈ۔۔۔۔ تم مجھ سے جتنا دور رہو اُتنا تمہارے لیے بہتر ہوگا۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کی جانب دیکھنے سے اب بھی گریز کیا تھا۔۔۔ پریسا نے اُس کا بدلہ انداز واضح طور پر نوٹ کیا تھا۔۔۔۔ یہ شخص آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خوفزدہ کرنا جانتا تھا۔۔۔۔ مگر یہ نظریں چرانا تو اِس کا خاصہ نہیں تھا۔۔۔۔
مگر وہ یہ صرف سوچ کر ہی رہ گئی تھی۔۔۔ کیونکہ سوال کے بدلے میں اِس شخص سے کسی سیدھے جواب کی توقع تو تھی ہی نہیں۔۔۔
“اب میں سائن کرچکی ہوں۔۔۔ اب تو تم بتا سکتے ہوں کہ اِن پیپرز میں کیا ہے۔۔۔۔؟؟”
پریسا ایک بار پھر بضد ہوئی تھی۔۔۔ کیونکہ شاہ ویز کی نظریں اُس کے سائن والے حصے پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔
“تمہارے خاندان کی بربادی ہے یہ۔۔۔۔۔ ایسا ذلیل اور رسوا کروں گا۔۔۔ کہ کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔۔۔۔”
شاہ ویز کی آنکھوں میں جلتے آگ کے شعلے پریسا کا سانسیں منجمند کرگئے تھے۔۔۔
“کک کیا مطلب ہے اِس بات کا۔۔۔۔؟؟؟ کیا کرنے والے ہو تم۔۔۔؟؟؟ تم نے دھوکا دیا مجھے۔۔۔ اگر میرے خاندان والوں کے ساتھ کچھ بھی کیا تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔”
پریسا اُس کی بات سن کر غصے سے چلاتی اُس کا گریبان مُٹھیوں میں دبوچتی اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
وہ پہلے بھی ایک بار یہ حرکت کرچکی تھی۔۔۔ جس کا نتیجہ شاید وہ ابھی کچھ لمحوں کے لیے فراموش کر گئی تھی۔۔۔
شاہ ویز نے اُس کی اِس حرکت پر اُسے آگ اُگلتی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ اِس لڑکی کو تو کیا دنیا کے کسی انسان کو اپنے گریبان تک پہنچنے کی جرأت نہیں کرنے دے سکتا تھا۔۔۔۔
“دھوکے باز، قاتل، فریبی، بدکردار سب کچھ ہوں میں۔۔۔۔ اور یہ سب جانتے ہوئے بھی تم نے میرے کہنے پر اِن پیپرز پر سائن کیے ہیں۔۔۔ تو سوچو یہاں بے وقوفی کس نے کی ہے۔۔۔ تم بے وقوف لڑکی ہو یا میں دھوکے باز ہوں۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر اُس کا چہرا اُوپر کرتے زہر خند لہجے میں بولتا اُس کا چہرا اپنی گرم سانسوں سے جھلسا گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے طنزیا انداز پر پریسا نے اندر کی تکلیف سے نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔
تو بنا اُس کے اعتراف کیے وہ اُس کی فیلنگز سے واقف ہوچکا تھا۔۔۔۔ اپنے جذبات تو وہ اب تک خود سے بھی چھپاتی آرہی تھی۔۔۔۔ پھر یہ شخص۔۔۔۔۔
پریسا کی گرفت اُس کے گریبان پر مزید سخت ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی شاہ ویز کی بھی۔۔۔۔
“آہہہ۔۔۔۔”
پریسا کی کراہ نکلی تھی۔۔۔ کیونکہ شاہ ویز کی سخت گرفت سے اُس کے بالوں میں کھنچاؤ بڑھا تھا۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ اِس شخص کو اُس کے بال پسند تھے یا بہت بُرے لگتے تھے۔۔۔ مگر وہ ہر بار اُسے بالوں سے ہی ہرٹ کرتا تھا۔۔۔۔
“تم جیسا انسان محبت کے نہیں صرف اور صرف نفرت کے قابل ہے۔۔۔ اور میں شدید نفرت کرتی ہوں تم سے۔۔۔۔ میری فیملی کو نقصان پہنچانے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔۔۔ کیونکہ اُن کے آگے میں کھڑی ہوں۔۔۔۔ اگر اُنہیں کچھ بھی کیا تو میں تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔”
پریسا میں اچانک نجانے اتنی ہمت کہاں سے آئی تھی۔۔۔ کہ وہ بلیک بیسٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اُسے دھمکی دے گئی تھی۔۔۔۔
“میں انتظار کروں گا اِس وقت کا۔۔۔ کیونکہ تمہارا خاندان تو ضرور برباد ہوگا۔۔۔ وہ بھی میرے ہاتھوں۔۔۔۔۔ کتے کی موت نہ مارا اُنہیں تو میرا نام بھی شاہ ویز سکندر نہیں۔۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز کی آنکھوں میں وحشت ناکی کئی گنا بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“بلیک بیسٹ کو آج پہلی بار کسی نے دھمکی دی ہے۔۔۔۔ تمہاری اس جرأت اور حوصلے کو خراجِ تحسین بہت جلد بخشوں گا۔۔۔ میرا انتظار کرنا۔۔۔۔۔”
یہ بات کہتے پریسا کو لگا تھا شاہ ویز سکندر کی آنکھیں مسکرائی تھیں۔۔۔ پریسا ساکت سی کھڑی اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے اب تک اِس شخص کے چہرے پر تو مسکراہٹ کی زرا سی جھلک تک نہیں دیکھی تھی۔۔۔ مگر اِن سیاہ گہری آنکھوں کا مسکرانا اُسے مسمرائز سا کرگیا تھا۔۔۔
مگر وہ اِس مسکراہٹ کی وجہ سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتی شاہ ویز پاکٹ سے رومال نکال کر اُس کے منہ پر رکھتا اُسے بے ہوش کرچکا تھا۔۔۔۔
پریسا کے ہاتھ اُس کے گریبان سے نیچے گرے تھے۔۔۔۔
وہ ایک نظر اُس حسین پری پر ڈالتا اُسے بانہوں میں اُٹھاتا واپسی کے راستے پر چل دیا تھا۔۔۔ کیونکہ اِس پری پر اُس کا کوئی اختیار نہیں تھا۔۔۔۔ اور نہ ہی کوئی اختیار حاصل کرنے کا خواہش مند تھا وہ۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“ایس پی حبہ امتشال۔۔۔ یہ کیس بہت ہی پیچیدہ اور حساس ہے۔۔۔۔ اِس لیے اِس کے لیے میں نے آپ کو چنا ہے۔۔۔۔ اور مجھے پوری اُمید ہے کہ آپ اِس کو ہمیشہ کی طرح بہت اچھے سے ہینڈل کریں گی۔۔۔۔۔ یہ شخص اِس علاقے کا وڈیرا ہے اور پچھلے چند سالوں میں پچاس کے قریب لڑکی کی ونی لے چکا ہے۔۔۔۔ ونی میں لینے کے بعد وہ اُنہیں دوسرے ملکوں میں سمگل کردیتا ہے۔۔۔ غریب ماں باپ ساری زندگی اپنی بیٹیوں سے ملنے کے لیے تڑپتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔”
آئی جی صاحب اُسے ساری صورتحال سے آگاہ کرتے بولے۔۔۔ جبکہ ظلم کی یہ انتہا سنتے حبہ کا دل درد سے بھر گیا تھا۔۔۔۔ کوئی انسان بھلا اتنا بے رحم کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔ کہ صرف پیسے کی لالچ میں انسانی جانوں کا سودا کردے۔۔۔۔۔
“سر اگر ہم اِس وڈیرے کے بارے میں اتنا سب جانتے ہیں تو اِسے گرفتار کیوں نہیں کررہے۔۔۔”
حبہ نے سوالیہ نگاہوں سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“کیونکہ ہمارے پاس اُن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں۔۔۔ وہ بہت پاور فل شخص ہے۔۔۔ بڑے بڑے سیاستدانوں کو پیسہ کھلا چکا ہے۔۔۔۔ کوئی اُس پر ایک آنچ تک نہیں آنے دیتے۔۔۔۔ ہم ثبوتوں کے ساتھ بھی اتنی آسانی سے اُس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔۔۔۔ ایک اور اہم بات وہ اپنے علاقے کے اردگرد کسی بھی فورسز کے انسان کو بھٹکنے تک نہیں دیتا۔۔۔۔ وہاں کسی آرمی یا پولیس والے کی جرأت نہیں ہے جانے کی۔۔۔۔ یہ کیس جتنا میں آپ کو بتا رہا ہوں اُس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔۔۔ اِس میں کامیاب ہونے کے چانسز بیس پرسنٹ اور مارے جانے کے اسی فیصد ہیں۔۔۔۔ پچھلے سال دو آفیسرز کو میں نے آپروچ کیا تھا۔۔۔ مگر وہ دونوں ہی اِس خطرے میں ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں تھے۔۔۔۔
میں آپ کو بھی چوائس دے رہا ہوں۔۔۔ کیا آپ یہ کیس لینا چاہیں گی۔۔۔؟؟؟ “
آئی جی صاحب نے فیصلے کا اختیار اُسے دیا تھا۔۔۔
“سر اگر موت سے ڈر لگتا تو یہ فیلڈ کبھی چوز نہ کرتی۔۔۔۔ میں نے اپنی عوام کی خدمت کرنے کی قسم کھائی ہے۔۔۔ تو میں کیسے مرنے کے ڈر سے پیچھے ہٹ سکتی ہوں۔۔۔ میں یہ کیس ضرور لوں گی اور انشاءاللہ کامیابی بھی حاصل کروں گی۔۔۔۔ “
حبہ نے پورے جذبے کے ساتھ یہ الفاظ ادا کرتے آئی جی صاحب کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔۔۔
“آئم پراؤڈ آف یو ایس پی حبہ۔۔۔ میں جانتا تھا آپ انکار نہیں کریں گی۔۔۔ اِس لیے پہلے ہی آپ کا نام آگے دے چکا ہوں۔۔۔۔ آپ بہت اچھے سے جانتی ہیں کہ آپ کو اِس کیس میں صرف ایک وڈیرے سے نہیں لڑنا۔۔۔۔ بلکہ اِن سیاسی طاقتوں سے بھی لڑنا ہے۔۔۔ جو کرسی کے نشے میں۔۔۔ ملک میں ہوتے ظلم و ستم پر آنکھیں بند کیے۔۔۔ اُوپر سے اُوپر اُٹھتے جا رہے ہیں۔۔۔ اور اِن کا منہ کیسے بند کروانا ہے آپ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔۔۔۔”
آئی جی صاحب اشارتاً ہی اُسے بہت کچھ سمجھا گئے تھے۔۔۔۔
“یس سر۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔ میں پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اُتروں گی۔۔۔۔”
حبہ پورے یقین سے کہتی اُنہیں سلوٹ کرتی وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔
باہر آکر وہ پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ جب اُسے اپنی گاڑی کے برابر ہی ایک کالے شیشوں والی گاڑی کھڑی نِظر آئی تھی۔۔۔ جس کی دن کے وقت جلتی ہیڈ لائٹس اُسے عجیب سے احساس سے دوچار کر گئی تھیں۔۔۔
مگر وہ اِس بات کو سر جھٹک کر نظر انداز کرتی اپنی گاڑی میں بیٹھتی گاڑی وہاں سے نکال کر لے گئی تھی۔۔۔۔ جب تھوڑا آگے جاکر اُسے احساس ہوا تھا کہ وہ گاڑی اُس کا پیچھا کر رہی ہے۔۔۔۔
“اب یہ لوگ پولیس والیوں کو چھیڑیں گے۔۔۔ایڈیٹ۔۔۔ تمہیں تو میں بتاتی ہوں۔۔۔۔”
حبہ دانت پیستی گاڑی کی سپیڈ فل کرگئی تھی۔۔۔ اُس نے گاڑی کو سنسان راستے پر ڈال دیا تھا۔۔۔ اُس کی نظریں بیک ویو مرر پر تھیں۔۔۔ پیچھے آتی گاڑی کی سپیڈ بھی اُس کے ساتھ ہی تیز ہوچکی تھی۔۔۔۔
“لوفر کہیں کے۔۔۔ ابھی توڑتی ہوں تمہارا منہ۔۔۔۔”
حبہ نے اُس گاڑی کو فل سپیڈ میں بالکل اپنے پیچھے آتے دیکھ اچانک بیچ روڈ پر گاڑی کو بریک لگا دی تھی۔۔۔۔ وہ روڈ بالکل سنسان تھا وہاں اُن دو کے سوا کوئی گاڑی نہیں تھی۔۔۔۔
حبہ کے یوں اچانک روکنے پر پچھلی گاڑی سیدھی اُس کی گاڑی میں آن گھسی تھے۔۔۔۔ حبہ نے سیٹ بیلٹ پہلے ہی کس لیا تھا۔۔۔ اور ہاتھ ٹیکتے اپنی پیشانی ٹکرانے سے بچائی تھی۔۔۔ مگر پیچھے ہوئے دھماکے سے لگ رہا تھا کہ پیچھا کرنے والے کا منہ واقعی ٹوٹ چکا ہے۔۔۔۔
حبہ گاڑی کا دروازہ کھولتی باہر نکل آئی تھی۔۔۔۔ اور تیز تیز قدموں سے اُس گاڑی کے قریب گئی تھی۔۔۔
مگر اُس گاڑی کا دروازہ کھولتے ہی اُسے شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔ کیونکہ وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔ پوری گاڑی میں جھانکنے کے بعد بھی اُسے کہیں کوئی دکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔۔
“واٹ دا ہیل۔۔۔۔ یہ کیا معاملہ ہے۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ کا ماتھا ٹھنکا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے وہ گاڑی کی جانب بڑھتی۔۔۔ اُس کے کانوں میں چھوٹے بچوں کی ننھی منھی آوازیں اور کھلکھلاہٹیں گونجی تھیں۔۔۔
وہ جیسے ہی پلٹی اُس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔۔۔
بیس پچیس کے قریب چھوٹے چھوٹے بچے ہاتھوں میں پھول، کارڈز اور بکے اُٹھائے اُس کی جانب بھاگے آرہے تھے۔۔۔۔۔
“بوتییفل لل کی زلا نیتے تو جھتنا۔۔۔۔۔”( بیوٹیفل لڑکی زرا نیچے کو جھکنا۔۔۔)
ایک بہت ہی کیوٹ سی بچی اپنی توتلی زبان میں اُسے نیچے جھکنے کا اشارہ کرتے بولی تھی۔۔۔
حبہ انکار نہ کر پاتے نیچے کو جھکی تھی۔۔۔ جب وہ سب باری باری اُس کا گال چومتے اُسے وہ کارڈز اور پھول تھماتے وہاں سے واپس مُڑتے رہے تھے۔۔۔۔
حبہ نے اُنہیں روکنے اور پوچھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر وہ اُسے اپنی توتلی زبان میں نجانے کیا بتاتے وہاں سے غائب ہوچکے تھے۔۔۔
حبہ نے پھولوں کو گاڑی میں رکھتے اُن کارڈز کو کھولا تھا۔۔۔ جہاں لکھے الفاظ اُسے ایک نئے شاک میں مبتلا کر گئے تھے۔۔۔
“ہیپی نکاح اینورسری مائی لو۔۔۔۔”
حبہ کا دل بہت زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔ آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کر چہرے پر بکھر گئے تھے۔۔۔
“تت تو اِس کا مطلب۔۔۔ میرا دل ٹھیک کہتا تھا۔۔۔ تم زندہ ہو۔۔ تم میرے آس پاس ہوکر بھی سامنے کیوں نہیں آرہے۔۔۔۔۔”
حبہ نے بے چینی سے چاروں جانب نگاہیں دوڑائی تھیں۔۔ مگر وہاں اُسے کوئی دکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
مہروسہ خود کو ایک دم نارمل کرکے باہر سب کے بیچ آچکی تھی۔۔۔ وہاں موجود تمام گھر والے جو صبح تک بہت خوش تھے۔۔ اِس وقت اُن سب کے چہرے مرجھا چکے تھے۔۔۔۔ سوائے ایک بندے کے۔۔۔ جو مریم اور اُس کی فیملی کے آنے سے کافی خوش لگ رہا تھا۔۔۔۔
مہروسہ نے اُسے گہری نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔ جس کی ساری توجہ صرف اُس کے ساتھ بیٹھی مریم پر تھی۔۔ اور محترم اب تو آفس جانا بھی بھول چکے تھے۔۔۔
“کیا ہوا آپی۔۔۔؟؟ آپ اچانک سے اتنی اُداس کیوں ہوگئی ہیں۔۔۔ کوئی پرابلم ہے۔۔۔۔”
مہروسہ ایک جانب بیٹھی فرح کے قریب کھسکتی سرگوشیانہ لہجے میں بولی تھی۔۔۔
“پوری آفت اور منحوسیت جو چل کر ہمارے گھر آگئی ہے۔۔۔۔ اب بھلا کیسی خوشی۔۔۔۔ “
فرح کے ہر انداز سے مریم کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔۔۔
“کیا مطلب میں سمجھی نہیں۔۔۔؟؟”
مہروسہ اب تک نہیں سمجھ پائی تھی کہ یہ لوگ مریم اور اُس کے گھر والوں سے اتنی نفرت کیوں کرتے تھے۔۔۔ اور حمدان اپنے گھر والوں سے بھی زیادہ اُن لوگوں کو اتنی اہمیت کیوں دیتا تھا۔۔۔۔
“اِس لڑکی نے مجھ سے میرا ایک بھائی چھینا ہے۔۔۔ ہمارا ہنستا بستا گھر تباہ کیا ہے۔۔۔ اور اب یہ مجھ سے میرا دوسرا بھائی بھی چھیننا چاہتی ہے۔۔۔ بہت بڑا کھیل کھیل کر یہ نے نہ صرف حمدان بھائی کے سامنے مظلوم بن گئی ہے۔۔۔ بلکہ اُنہیں ہم سب سے بھی دور کردیا ہے۔۔۔۔ یہ بہت شاطر عورت کے۔۔۔۔ اب یہ دوبارہ یہاں کسی مقصد سے ہی آئی ہے۔۔۔۔”
فرح کے لہجے میں ایک عجیب سا خوف تھا۔۔۔
“یہ تو حمدان کی فیانسی ہے نا۔۔۔؟؟ اور یہاں آنے کا کیا غلط مقصد ہوگا اِس کا۔۔۔۔”
مہروسہ آج فرح سے سب سچ جاننے کی متمنی تھی۔۔۔ جو سچ اُن گھر والوں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
“نہیں یہ اُن کی فیانسی نہیں۔۔۔ میرے بڑے بھائی ارسلان کی بیوہ ہے۔۔۔۔ اور اب یہ حمدان بھائی سے شادی کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔ پہلے دن سے کی اِس کی نظر حمدان بھائی پر ہی تھی۔۔۔ مگر جب اِسے پتا چلا کہ وہاں اِس کی دال نہیں گلنے والی تو اِس نے ارسلان بھائی کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ہمارے گھر میں داخل ہوئی۔۔۔ اور میرے بھائی کو مہرا بنا کر حمدان بھائی تک پہنچنا چاہا۔۔۔۔ جب تک ہم اِس کی یہ چالاکی سمجھ پاتے تب تک یہ ہمارے بھائی کی زندگی نگل گئی۔۔۔۔ اور حمدان بھائی کے سامنے اپنی مظلومیت کا جو ناٹک کیا۔۔۔ اُس کے بعد بھائی تو کیا اںس کی اصلیت سے ناواقف ہر انسان یہی سمجھتا کہ اِس سے زیادہ مظلوم لڑکی اِس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ شاید حمدان بھائی عنقریب اِس سے شادی بھی کرلیں۔۔۔ مگر ہمدردی کے زیرِ اثر۔۔۔ کیونکہ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں کہ حمدان بھائی اس لڑکی سے محبت تو بلکل بھی نہیں کرتے۔۔۔۔”
اپنے گھر کے اُجرنے کی درد بھری داستان سناتے فرح کا پورا چہرا آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ مہروسہ گم صم سی بیٹھی ایس پی حمدان صدیقی کو گھور رہی تھی۔۔۔
جو شخص اب تک اُس جیسی بلیک سٹار کے ہاتھوں بے وقوف نہیں بن سکا تھا۔۔۔ وہ اِس عام سی لڑکی کے ہاتھوں بھلا کیسے بے وقوف بن سکتا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
