No Download Link
Rate this Novel
Episode 53
“یہ میر حازم سالار کی بیوی کو بُری نگاہوں سے دیکھے اور سمجھے گا بچ جائے گا۔۔۔۔”
سب کی توجہ شہزاد کیانی کی جانب تھی۔۔۔ جو ابھی تک بجلی کے جھٹکے کھا رہا تھا۔۔۔ وہ بالکل دروازے کے ساتھ تھا۔۔۔ اگر کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا تو اُس نے بھی کرنٹ کی لپیٹ میں آجانا تھا۔۔
اپنے کانوں میں پڑتی گھمبیر آواز پر حبہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔
“تم۔۔۔۔۔؟؟”
حبہ کو یقین نہیں آیا تھا کہ وہ لوگ جن بلیک سٹارز کے لیے اتنے منصوبے بنا رہے تھے۔۔۔ وہ اِس طرح بے خود ہو کے نہ صرف اُن کے ساتھ اُن کے بیچ آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔ بلکہ اتنے بڑے سیاسی شہزاد کیانی پر حملہ آور بھی ہوچکا تھا۔۔۔۔
“جہاں تم وہاں میں۔۔۔۔ ایس پی صاحبہ۔۔۔۔”
حازم کی آنکھوں کے سرد و سپاٹ تاثرات حبہ کے وجود میں سنسنی دوڑا گیا تھا۔۔۔
“وہ مرجائے گا۔۔۔۔ اُسے بچاؤ۔۔۔۔”
حبہ دھیمی آواز اور منت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔
“تو میں نے کونسا مذاق کیا ہے۔۔۔ مارنے کے لیے ہی کرنٹ لگایا ہے اُسے۔۔۔۔”
حازم بڑے ریلیکس موڈ میں اُس شخص کو بجلی کے زور دار جھٹکے کھاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تم کیا چاہتے ہو۔۔۔؟؟”
حبہ نے دانت پیستے پوچھا تھا۔۔۔۔
“میں جو چاہتا ہوں تم بہت اچھے سے جانتی ہو۔۔۔۔”
حازم نے سامنے رکھی ٹرے سے بسکٹ اُٹھا کر منہ میں ڈالا تھا۔۔۔۔
اقبال کیانی چیخ رہا تھا چلا رہا تھا اپنے بھتیجے کی جان بچانے کے لیے سب کے آگے فریاد کررہا تھا۔۔۔ جبکہ حمدان سینے پر بازو باندھے اُس شخص کو جھٹکے کھاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔ مہروسہ بھی خاموشی سے سرجھکائے کھڑی تھی۔۔۔
کمشنر صاحب خود بے بسی سے یہ دیکھ رہے تھے۔۔۔
وہ کس کو موت کے منہ میں جانے کا کہتے۔۔۔۔
“میں نہیں جانتی۔۔۔۔ “
حبہ نگاہیں چراتے انکاری ہوئی تھی۔۔۔
“رخصتی چاہتا ہوں تمہاری۔۔۔ اور جو تم مجھ سے طلاق لینے کے لیے وکیلوں سے رابطے کررہی ہو اُسے ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
حازم کی بات پر حبہ نے سختی سے مُٹھیاں بھینچی تھیں۔۔۔۔
“میں اپنے باپ کے قاتل سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔”
حبہ نے دانت پر دانت چڑھاتے کاٹ دار نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“تو ٹھیک ہے مرنے دو پھر اِن چچا بھتیجے کو۔۔۔ جس کا الزام آئے گا تمہارے کمشنر صاحب پر۔۔۔ بچارا اتنی محنت کرکے اِس پوسٹ تک پہنچا ہے اور اتنے بڑے سیاسی کے قتل میں بے عزت کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔۔۔۔”
حازم کی بات پر حبہ کا دل چاہا تھا اُسے اپنی نگاہوں سے غائب کردے۔۔۔۔۔ یہ شخص ہر بار اُسے ایسے ہی بے بس کردیتا تھا۔۔۔
“میں تمہاری بات ماننے کو تیار ہوں۔۔۔ پلیز اُسے بچا لو۔۔۔”
حبہ نے اپنی مُٹھیاں بھینچے بہت مشکل سے جواب دیا تھا۔۔۔۔
جس پر حازم نے ایک زخمی مسکراہٹ اُس پر اُچھالتے ایک جانب رکھی لکڑی کی کرسی اُٹھا کر شہزاد کیانی کے پیر پر دے ماری تھی۔۔۔۔
حازم نے شہزاد کیانی کی گھٹیا حرکت کو دیکھتے سب سے نظر بچا کر بورڈ سے بجلی کی ننگی تار لے کر شہزاد کیانی کے پیروں میں پھینک دی تھی۔۔۔
اُس کے کرسی مارنے پر تار ایک جھٹکے سے دور ہوئی تھی۔۔۔۔ اور شہزاد کیانی بے دم سا ہوتا منہ کے بل کرسی سے نیچے جا گرا تھا۔۔۔۔
مہروسہ نے دھیرے سے جاکر سوئچ آف کرتے تار کا دوسرا سرا بورڈ سے نکال دیا تھا۔۔۔ شہزاد کیانی کی جانب متوجہ ہوتے باقی لوگ تو یہ نہیں دیکھ پائے تھے۔۔۔ مگر حمدان صدیقی کی نگاہیں تو اُس سیاہ شال میں لپٹی لڑکی پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔۔
جلدی سے ایمبولنس بلاتے شہزاد کیانی کو فوری طور پر ہاسپٹل لے جایا گیا تھا۔۔۔
حازم اور مہروسہ نے وہاں سے الگ الگ نکلنا تھا۔۔۔ حازم جاچکا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ نکلنے ہی والی تھی جب اُسے اپنی کلائی کسی کی مضبوط گرفت میں قید ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اُسے پلٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی تھی۔۔۔ کیونکہ یہ بے رحم لمس محسوس کرکے ہی وہ پہچان گئی تھی کہ پیچے کھڑا شخص اُس کا ستمگر ہی تھا۔۔۔
“آپ ایسے نہیں جاسکتیں۔۔ آپ کون ہے اور اِس پولیس اسٹیشن میں کیا کررہی ہیں۔۔۔۔ ؟؟”
حمدان اُس کی کلائی سختی سے مڑورتے پوچھ رہا تھا۔۔۔ جبکہ مہروسہ اِس وقت شدید مشکل میں پھنس چکی تھی۔۔۔۔
مگر اِس وقت وہ حمدان کے سامنے وہ اپنی شناخت نہیں لاسکتی تھی۔۔۔۔
اُس نے بنا مُڑے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا تھا۔۔۔ جب حمدان نے اُسے اپنی گرفت سے یوں بے قابو ہوتے دیکھ اُس کی کمر بازو حمائل کرتے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں اِس وقت جس کوریڈور میں کھڑے تھے وہ بالکل سنسان پڑا تھا۔۔۔ اُن کی ہاتھا پائی کوئی بھی نہیں دیکھ پارہا تھا۔۔۔۔
مہروسہ اُسے خود پر حاوی ہوتا دیکھ پلٹی تھی۔۔۔ اور اُس کے پیٹ پر اپنا زور دار پنچ رسید کرتی حمدان صدیقی کو لمحے بھر کے لیے بھونچکا کر رکھ گئی تھی۔۔۔
اُس نے آج تک مہروسہ کے ساتھ فائٹ نہیں کی تھی۔۔۔ اِس لیے وہ اُس کی اِن صلاحیتوں سے واقف نہیں تھا۔۔۔ یہ پنچ کوئی عام پنچ نہیں تھا۔۔۔ وہ پراپر ٹرینڈ کمانڈوز کی طرح لڑنا جانتی تھی۔۔۔۔
حمدان کو شدید حیرت ہوئی تھی۔۔۔ اگر یہ لڑکی کمشنر صاحب کے کہے کے مطابق اور اب اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد اتنی زیادہ سٹرانگ تھی تو اب تک اُس کی سختی اتنے آرام سے کیونکر برداشت کرتی آئی تھی۔۔۔۔
اُس پر جوابی وار کیوں نہیں کیا تھا۔۔۔۔
کیا یہ اُس کی بے پناہ محبت تھی۔۔۔؟؟
حمدان اپنی سوچوں میں اُلجھا تھا۔۔ جب اُس کی گرفت کمزور پڑتی دیکھ مہروسہ وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔۔ حمدان خاموشی سے کھڑا اُسے وہاں سے جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اُس کے نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی وہ وہاں سے ہٹا تھا۔۔۔ جب اُسے اپنے پیر کے نیچے کسی شے کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔۔۔
پیر ہٹاتے وہ نیچے بیٹھتا وہاں گرا سیاہ رنگ کا انتہائی خوبصورت جھمکا اپنی ہتھیلی پر رکھتا اُسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔ کچھ لمحے اُسے ایسے ہی دیکھتے رہنے کے بعد وہ اُسے سنبھال پر جیب میں رکھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“شاہ ویز نے تمہارے پیرنٹس کا قتل کیا ہے۔۔۔ اور اب وہ باقی سب کو مار کر تمہارے نام پر موجود ساری جائیداد حاصل کرنا چاہتا ہے۔۔۔ اُس نے تم سے نکاح بھی صرف اِسی وجہ سے کیا ہے۔۔ کیونکہ ایسا کرنے سے وصیت کے مطابق ساری دولت جائیداد تمہارے شوہر کے نام پر ٹرانسفر ہوسکتی ہے۔۔۔ اُس نے تمہاری معصومیت دیکھ تمہارے سامنے محبت کا ناٹک کرکے تمہیں صرف پھنسایا ہے۔۔۔۔ ہم سب کو مارنے کے بعد، وہ ساری جائیداد اپنے نام لگوائے گا۔۔۔ اور پھر تمہیں بھی مار دے گا۔۔۔ یہی ہے اُس کی اصل حقیقت۔۔۔ وہ صرف تمہیں استعمال کررہا ہے۔۔۔۔”
یاسمین بیگم اپنے شوہر اور خاندان والوں کے مجبور کرنے پر پریسا کے سامنے شاہ ویز کے حوالے سے جھوٹ بولتیں۔۔۔ اندر سے خون کے آنسو رو رہی تھیں۔۔۔ شاہ ویز اورپریسا کی شادی سے سب سے زیادہ وہی خوش تھیں۔۔۔ اُن کی لاڈلی سفیان سے شادی کرکے برباد ہونے سے بچ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
لیکن اِس وقت وہ مجبور تھیں۔۔۔ شہباز آفندی نے اُنہیں پریسا کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔۔۔
“ماما یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا فق پڑتے چہرے کے ساتھ۔۔۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُنہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے خاندان کے ہر فرد کی بات جھٹلا سکتی تھی سوائے یاسمین بیگم کے۔۔۔
اور سب نے اِسی بات کا فائدہ اُٹھایا تھا۔۔۔
“آپ کو لگتا ہے پری تائی جان کی باتوں کا یقین کرے گی۔۔۔”
فضہ اپنی ماں کے کان میں سرگوشی کرتے بولی تھی۔۔
“پری بہت پاگل ہے یقین کرلے گی۔۔۔ پتا نہیں اُس کروڑوں کی وراثت کے مالک کو اِس میں کیا نظر آگیا۔۔ بس اِدھر پری بات پر یقین کر گی اُدھر تم نے شاہ ویز سکندر کے پاس پہنچ جانا ہے۔۔۔ وہ کنگال سفیان اب اِس پری کو ہی مبارک ہو۔۔۔ تم بس شاہ ویز سکندر کو اپنی مُٹھی میں کرنے کی کوشش کرو۔۔۔ “
فضہ کی ماں اپنی بیٹی کو اِس مشکل سے نکلنے کی ترکیب بتا رہی تھیں۔۔۔ اُن دونوں ماں بیٹی کو شاہ ویز پہلی نظر میں ہی بہت زیادہ پسند آیا تھا۔۔۔۔
“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں شاہ ویز سکندر کو اِس پریسا کے خلاف کروں گی میں۔۔۔ ہر بار ہر اچھی شے کو اُسی کی جھولی میں کیوں ڈالا جاتا ہے۔۔۔ پہلے بھی سب پریسا پریسا کرتے تھے اور اب یہ شاہ ویز سکندر بھی اُسی کو بیوی بنا بیٹھا۔۔۔۔”
فضہ کی آنکھوں میں پریسا کے لیے نفرت ہی نفرت تھی جو آج برا وقت آنے پر سامنے آرہی تھی۔۔۔۔
“میں بالکل سچ کہہ رہی ہو پری۔۔۔ تم جانتی ہو چاہے کچھ بھی ہوجائے میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گی۔۔۔ “
یاسمین بیگم آس پاس موجود لوگوں کے خیال سے پریسا کو کوئی بھی اشارہ نہیں دے پارہی تھیں۔۔۔
“پری بیٹا بچپن سے لے کر اب تک آپ کو سگی اولاد کی طرح پال پوس کر بڑا کیا ہے۔۔۔ آپ کی چھوٹی سے چھوٹء خوشی کا خیال رکھا ہے۔۔۔ مگر مجھے بہت دکھ ہورہا ہے آج۔۔۔۔ کہ آپ ہم سے زیادہ ایک غیر انسان پر بھروسہ کررہی ہیں۔۔۔ “
شہباز آفندی اُسے نرم پڑتا دیکھ مزید ایموشنل بلیک میل کر گئے تھے۔۔۔
پریسا جو اپنے پیرنٹس کا سن کر پہلے ہی نڈھال سی بیٹھی تھی۔۔۔ شہباز آفندی کی بات پر بالکل ڈھے گئی تھی۔۔ وہ اپنی آنکھوں سے شاہ ویز کو قتل کرتے دیکھ چکی تھی۔۔۔
اور اب اُس کے اتنے قریبی رشتے اُسے یہ سب بول رہے تھے۔۔۔ جس پر یقین کرنے کے سوا اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں بچتا تھا۔۔۔
اُس کا دل مسلسل دہایا دے رہا تھا۔۔۔ مگر وہ اپنی آنکھ اور کان بند کیے اِس وقت دل کی سننے سے بالکل انکاری تھی۔۔۔۔۔
“لیکن وہ بہت پاور فل ہے بابا۔۔۔ ہم چاہ کر بھی اُس کا کچھ نہیں کرسکتے۔۔۔۔ “
پریسا نے اُس کی گینگسٹر والی بات بتا کر اُن سب کو مزید خوفزدہ نہیں کیا تھا۔۔۔
اُس کی بات سن کر وہاں موجود سب کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے تھے۔۔۔ جبکہ یاسمین بیگم نے بے یقینی سے پریسا کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
وہ بھلا ایسے کیسے شاہ ویز کے خلاف جاسکتی تھی۔۔۔ وہ تو بے پناہ محبت کرتی تھی۔۔۔
“ہم نہیں مگر تم کرسکتی ہو۔۔۔ “
شہباز آفندی اُسے مانتا دیکھ آنکھوں میں چمک بھرے اُس کے قریب آئے تھے۔۔۔
“کیا۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“شاہ ویز سکندر کو زہر دے سکتی ہو تم۔۔۔۔ اُس کا بُرا سایہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمارے سروں سے ٹل جائے گا۔۔۔۔”
شہباز آفندی کی بات پر پریسا کا دل کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔۔۔
وہ کتنے ہی لمحے کچھ بول پانے کے قابل نہیں رہی تھی۔۔۔ اِس سوچ سے ہی اُس کی آنکھوں کے گوشوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔۔
“میں تیار ہوں۔۔۔۔ آپ مجھے سارا پلان سمجھا دیں۔۔۔۔۔”
پریسا کی بات پر شہباز آفندی کو زندگی میں پہلی بار اُس پر پیار آیا تھا۔۔۔
اُسی لمحے گاڑی کا ہارن بجا تھا۔۔۔ شاہ ویز سکندر کی آمد کا سن کر پریسا سمیت ہر فرد خوف سے کانپ گیا تھا۔۔۔
ماں کے اشارے پر فضہ سب سے نظر بچا کر وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“میر سر آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟ آپ نے اس طرح اچانک کال کیوں کی۔۔۔۔؟؟؟”
مہروسہ حازم کو یوں اچانک شاہ ویز کو بھی کانفرنس کال پر لیتا دیکھ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوئی تھی۔۔۔۔
“دو بہت اہم گڈ نیوز ہیں میرے پاس۔۔۔ وہی بتانے کے لیے کال کی ہے۔۔۔۔”
حازم بات کرتے مسکرایا تھا۔۔۔۔
“جی بتائیں جلدی سے۔۔۔ اتنے دنوں سے کان گڈ نیوز سننے کے لیے ترس سے گئے تھے۔۔۔۔۔”
مہروسہ فوراً ایکسائیٹڈ ہوئی تھی۔۔۔
“جنید کو ہوش آگیا ہے۔۔ وہ اب کومہ سے باہر ہے اور بالکل ٹھیک ہے۔۔۔ “
حازم کی بات سن کر شاہ ویز اور مہروسہ دونوں کے دل میں سکون سا اُتر گیا تھا۔۔۔
“اور دوسری خبر۔۔۔۔”
مہروسہ چہکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
“میری شادی ہے کل۔۔۔۔ اور وہ بھی ویسی ہی شان و شوکت کے ساتھ۔۔۔ جیسے ہم تینوں چاہتے تھے۔۔۔ کل بلیک سٹارز پوری دنیا کے سامنے جشن منائیں گے۔۔۔ اور اُس کے بعد شروع ہوگی دنیا والوں کی تباہی۔۔۔۔”
حازم کی بات پر اُن دونوں کی آنکھوں میں بھی چمک واضح ہوئی تھی ۔۔۔
“بالکل ٹھیک کہا تم نے۔۔۔ کل کا فنکشن بہت سارے لوگوں کے لیے یادگار ہونا چاہیے۔۔۔ سب کو پتا چلنا چاہیے بلیک سٹارز کتنے شاہانہ طریقے سے اپنی خوشی مناتے ہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز کے انداز میں عجیب سا سرد پن تھا۔۔۔
“شاہ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟”
حازم کے ساتھ ساتھ مہروسہ بھی ٹھٹھکی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں ایک سیکنڈ میں پہچان جاتے تھے جب شاہ ویز اپنے بلیک بیسٹ موڈ میں ہوتا تھا۔۔۔
“جس کی بیوی اُسے زہر دینے کی پلاننگ کررہی ہو۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔۔ وہ شخص کیسا محسوس کرسکتا ہے۔۔۔ اور انسان بھی مجھ جیسا۔۔۔ جو غداروں سے ایک لفظ بھی سننے سے پہلے اُنہیں موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز کے لہجے کی سنگینی اُن دونوں کو پریشان کر گئی تھی۔۔۔ کیونکہ اِس وقت اُس کے غصے کو کم کرنے کے لیے وہ دونوں اُس کے ساتھ موجود نہیں تھے۔۔۔
“شاہ سر پری حقیقت سے آگاہ نہیں ہے۔۔ وہ وہی مانے گی جو اُسے وہ لوگ کہیں گے۔۔۔ بچپن سے لے کر اب تک وہ اُنہیں کے ساتھ رہی ہے۔۔۔۔”
مہروسہ کو اُس کے لہجے سے خوف آیا تھا۔۔۔
“اُس کا دعوا ہے کہ محبت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔۔ “
شاہ ویز سیگریٹ سلگھاتے خود بھی سلگھا تھا۔۔۔
“تم کیا سمجھتے ہو۔۔ بلکہ چاہتے ہو۔۔۔۔ جس دیوانگی سے تم اُسے چاہتے ہو۔۔ ویسے ہی وہ بھی تمہیں چاہے۔۔۔؟؟ تمہاری محبت کا مقابلہ اُس کی محبت کبھی نہیں کرسکے گی۔۔ جتنے تم دیوانے ہو اُس کے۔۔۔ وہ نازک لڑکی اُتنی دیوانگی نہیں رکھ سکتی تم جیسے مشکل ترین انسان کے لیے۔۔۔ جو اُس سے محبت نہیں عشق کرتا ہے۔۔۔ اُسے تکلیف میں دیکھ تڑپ اُٹھتا ہے۔۔۔ اُس کی پائل کو ہر وقت اپنے سینے کی جیب میں ڈال کر ہر وقت خود کو اُس کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔۔۔ اُس کی زرا سی مہک سے پاگل ہو اُٹھتا ہے۔۔۔ اگر کچھ دن وہ نظر نہ آئے تو شاہ کا سکندر سے بلیک بیسٹ بن جاتا ہے۔۔۔۔ “
حازم ابھی مزید بھی بول رہا تھا۔۔۔ جب شاہ ویز غصے سے دھاڑا تھا۔۔۔
“بکواس بند کرو میر۔۔۔ ہر وقت مذاق کرنے کا نہیں ہوتا۔۔۔۔ نہیں ہے اتنی ضروری پریسا آفندی میرے لیے۔۔ نہیں مر رہا میں اُس کے بغیر۔۔۔۔ “
شاہ ویز سکندر اضطراری کیفیت میں بولتا انکار میں بھی اقرار کر گیا تھا۔۔۔ کہ کیسے وہ پل پل تڑپ رہا تھا اُس لڑکی کی قربت کے لیے ۔۔۔۔
“تو ٹھیک ہے۔۔۔ تمہاری اذیت کی وجہ کو ہی میں جڑ سے ختم کردیتا ہوں۔۔۔۔ پریسا آفندی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر۔۔۔۔۔”
حازم نے عین اُس کے دل پر ہاتھ ڈالا تھا۔۔۔
“میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ دوبارہ ایسی بکواس بھی کی تو۔۔۔۔”
شاہ ویز کی کنپٹی کی رگیں تن گئی تھیں۔۔۔
“شاہ سر۔۔۔ یہ پریسا آفندی کی چاہت ہی ہے کہ آپ کے بارے میں بنا کچھ جانے وہ آپ سے نکاح کرچکی ہے۔۔۔ اُس کی نظر میں آپ ایک گینگسٹر ہی ہیں۔۔۔ وہ بہت معصوم ہے۔۔۔ جیسے سچا دل خود رکھتی ہے ویسا ہی دوسروں کو سمجھتی ہے۔۔۔۔ “
مہروسہ نے ہمیشہ کی طرح تحمل کے ساتھ اُسے سمجھانا چاہا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی شاہ ویز کا غصہ کتنا بُرا تھا۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
