No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
“نہیں ہے محبت مجھے اُس سے۔۔۔۔ کتنی بار بتاؤں میں تم سب کو۔۔۔ میرے ماں باپ کے قاتل کی بیٹی ہے وہ۔۔۔ اور شاہ ویز سکندر اتنا اعلٰی ظرف بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ اُس لڑکی کو اپنے دل کی رانی بنائے۔۔۔۔”
شاہ ویز کو حازم کی کہی محبت والی بات بالکل بھی اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔ وہ غصے سے چلاتا جیسے اِس وقت خود سے بھی سخت ناراض لگا تھا۔۔۔
حازم کو لگ رہا تھا کہ عنقریب اُس کا بلیک بیسٹ موڈ آن ہونے والا ہے۔۔۔۔ اِس لیے وہ اِس حالت میں اُسے اکیلا چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
وہ دونوں اس وقت وسیع و عریض آفندی مینشن کے دائیں جانب کھڑے تھے۔۔۔ جہاں سے پریسا کا کمرا صاف دکھائی دیتا تھا۔۔۔۔
اِس پورے آفندی مینشن کا اکلوتا وارث شاہ ویز سکندر تھا۔۔۔ مگر اِس وقت اُسے اِن مینشن میں موجود ہر فرد انتہائی بُرا لگ رہا تھا۔۔۔ اُس کا دل چاہ رہا تھا سب کچھ تہس نہس کرکے رکھ دے۔۔۔۔
جب اُسی لمحے دائیں جانب سے اُنہیں سیاہ لباس اور سیاہ نقاب میں ملبوس لڑکی اپنی جانب آتے دکھائی دی تھی۔۔۔۔ وہ ایک نظر دیکھ ہی پہنچان گئے تھے کہ یہ اُن کی گینگ لیڈر مہروسہ کنول ہے۔۔۔۔
“مہرو تم یہاں کیوں آئی ہو۔۔۔۔ ؟؟ اگر تمہارے ایس پی کو شک ہوگیا تو اُلٹا معاملہ خراب ہوجانا ہے۔۔۔۔”
وہ دونوں اُس سرپھری لڑکی کو گھورنے لگے تھے۔۔ جو ہمیشہ ایسے ہی اپنی لائف ڈینجر میں ڈالتی رہتی تھی۔۔۔
“ڈونٹ وری۔۔۔ میرے ایس پی کو بالکل بھی پتا نہیں چلے گا۔۔۔ میں پورا انتظام کرکے آئی ہوں۔۔۔ اور ویسے بھی جب آپ دونوں مجھے میری مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑتے تو میں کیوں کروں ایسا۔۔۔”
وہ دونوں جو گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔۔۔ مہروسہ بھی شاہ ویز کے ساتھ آکر اُسی کے انداز میں کھڑی ہوچکی تھی۔۔۔
“ایکسکیوزمی۔۔۔۔ ہم پر کوئی مشکل گھڑی نہیں آئی ہوئی۔۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے گردن موڑ کر اُسے گھورا تھا۔۔۔ جو نقاب اُتارتی حازم کو دیکھ اب مسکرا رہی تھی۔۔۔
“شاہ سر ضروری تو نہیں نا کہ نکاح کرنے کے لیے محبت ہونا ضروری ہے۔۔۔۔ نفرت کے تحت بھی تو نکاح کیا جاسکتا ہے نا۔۔۔ جیسے حمدان نے کیا میرے ساتھ۔۔۔۔ آپ بھی تو ایسا کرسکتے ہیں نا۔۔۔۔”
مہروسہ نے حازم کے اشارہ کرنے پر ڈرتے ڈرتے بات کا آغاز کیا تھا۔۔۔۔
“تم دونوں جو کرنا چاہتے ہو میں بہت اچھے سے سمجھ رہا ہوں۔۔۔ میں بلیک سٹارز کا بلیک بیسٹ ہوں۔۔۔ مجھے بے وقوف سمجھنے کی غلطی مت کرنا۔۔۔۔ میں جارہا ہوں واپس۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُن دونوں کو تیز نگاہوں سے گھورتا گاڑی کی جانب پلٹا تھا۔۔۔ جس دوران اچانک اُس کی غیر ارادی نگاہ پریسا کے ٹیرس کی جانب اُٹھی تھی۔۔۔ اور پھر جیسے پلٹنا بھول چکی تھی۔۔۔۔
سُرخ عروسی لباس میں سر سے پیر تک سجی۔۔۔ وہ اُسے کوئی اپسرا معلوم ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ ٹیرس کی ریلنگ تھام کر کھڑی بُری طرح سسک رہی تھی۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر کو لگا تھا وہ اب کبھی اِس منظر سے نکل نہیں پائے گا۔۔۔
حازم اور مہروسہ بھی اُس کی نگاہوں کا تعاقب کرتے پریسا کو دیکھ چکے تھے۔۔۔
“بہت خوش قسمت ہیں سر آپ۔۔۔ یہ لڑکی اتنی محبت کرتی ہے آپ سے۔۔۔ آج کل کے دور میں ایسی سچی محبت ملنا آسان نہیں ہے۔۔۔ اور اِس پرخلوص محبت کو ٹھکرانے سے بڑا گناہ بھی کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ “
مہروسہ نم آنکھوں سے بولی تھی۔۔ جبکہ حازم بس یہی دعا کررہا تھا۔۔۔ کہ اُس کا دوست اِس وقت غصے میں اپنی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ نہ کردے۔۔۔۔
مہروسہ اور حازم بہت اچھے سے سمجھتے تھے شاہ ویز کو۔۔۔ وہ جانتے تھے کہ شاہ ویز سکندر پریسا سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔۔۔ کیونکہ پریسا ہی وہ واحد لڑکی تھی جسے شاہ ویز سکندر سے اتنی اہمیت ملی تھی۔۔۔ ورنہ اُس کے سوا تو شاہ ویز نے کبھی کسی لڑکی پر نگاہ تک نہیں ڈالی تھی۔۔۔
” بیس منٹ بعد پریسا کا نکاح ہے۔۔۔ مولوی صاحب آفندی مینشن آچکے ہیں۔۔۔”
حازم نے اُسے یک ٹک پریسا کی جانب دیکھتا پاکر اُسے احساس دلانا چاہا تھا۔۔۔
“اُٹھوا لو اُس مولوی کو۔۔۔ “
شاہ ویز پریسا پر نگاہیں گاڑھے بولتا۔۔۔ اُن دونوں کو گہرے جھٹکے سے دوچار کر گیا تھا۔۔۔ دونوں شاہ ویز کی جانب مُڑے تھے۔۔۔
“تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟”
حازم کو یقین نہیں آیا تھا۔۔۔۔ مہروسہ بھی مسکراتے چہرے کے ساتھ اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اُن دونوں کے مرجھائے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے تھے۔۔۔
“میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُن دونوں پر ایک نظر ڈالتے آفندی مینشن کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ پریسا اب ٹیرس سے ہٹ چکی تھی۔۔۔ شاید اُسے نکاح کے لیے بلانے آگئے تھے۔۔۔
“شاہ سر ایک منٹ۔۔۔۔ “
مہروسہ گاڑی سے کچھ نکال کر اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔
“یہ ڈریس۔۔۔۔ پریسا کے لیے۔۔۔ آپ کو اُس دن شاپ میں اِس ڈریس کی جانب غور سے دیکھتا پاکر مجھے یہی لگا تھا کہ شاید یہ ڈریس آپ کو پریسا کے لیے اچھا لگا ہے۔۔۔ تو میں نے یہ خرید لیا تھا۔۔۔ اُس پورے مال میں بلیک کلر کا یہ ایک ہی برائیڈل ڈریس تھا۔۔۔۔”
مہروسہ کی بات پر شاہ ویز نے اُس کے ہاتھ میں پکڑے ڈریس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
اُسے بہت اچھے سے یاد تھا کہ پریسا سے پہلی ملاقات میں اُس نے پریسا کو سفید فراک میں دیکھا تھا۔۔۔ جو دیکھ اُسے پریسا پر زیادہ غصہ آیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ اُس کا سب سے ناپسندیدہ کلر تھا۔۔۔ تبھی اگلے دن ایک مشن کے دوران اُس کی نظر اِس بلیک ڈریس پر پڑی تھی۔۔۔ اور نجانے کیوں چند سیکنڈ کے لیے ہی سہی وہ پریسا آفندی کو اِس ڈریس میں تصور کر گیا تھا۔۔۔
اُسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اُس کے ساتھی اُسے اتنے اچھے سے آبزرو کرتے تھے۔۔۔۔
“شکریہ۔۔۔۔”
وہ سرد تاثرات کے ساتھ اُس کے ہاتھ سے وہ پیکٹ تھامتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ حازم اور مہروسہ ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر مسکرا دیئے تھے۔۔۔ وہ پہلے ہی سارا انتظام کرچکے تھے۔۔ وہ جانتے تھے کسی بھی معاملے میں ہار نہ ماننے والا شاہ ویز سکندر محبت کے آگے ضرور گھٹنے ٹیک دے گا۔۔۔ اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔
وہ اندر ہی اندر کمزور پڑ چکا تھا۔۔۔ مگر اُس کی انا اُسے اقرار کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
پریسا کی سانسیں اٹک رہی تھیں۔۔۔ اُسے روم میں عجیب سی گھٹن محسوس ہورہی تھی۔۔۔ اُس لیے وہ باہر آئی تھی۔۔۔۔ اُس کے فرشتوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اُس کی یہ سسکیاں اُس کے پروردگار کے ساتھ ساتھ شاہ ویز سکندر کے کانوں تک بھی پہنچ جائیں گی۔۔۔
نیچے سفیان کی رسم چل رہی تھی۔۔۔ تو سب لوگ ہی وہ دیکھنے اُسے اکیلا چھوڑ کر نکل گئی تھیں۔۔۔ وہ اپنا بھاری بھرکم لہنگا سنبھالتی تھکے تھکے سے انداز میں صوفے پر جا بیٹھی تھی۔۔۔۔
صوفے کی پشت سے سر ٹکاتے ابھی اُسے لیٹے چند سیکنڈز بھی نہیں گزرے تھے جب اُسے ٹیرس پر آہٹ کا احساس ہوا تھا۔۔۔
پریسا خوفزدہ سی آنکھیں کھولتی سیدھی ہوئی تھی۔۔۔
“کک کون ہے۔۔۔۔؟؟”
پریسا پر اب تک جتنے حملے ہو چکے تھے وہ اندر سے بہت زیادہ سہم چکی تھی۔۔۔ اُس میں ہمت نہیں تھی صوفے سے اُٹھ کر روم سے باہر بھاگنے کی۔۔۔ جب اُسی لمحے ٹیرس کے پردے ہٹاتے جو شخص برآمد ہوا تھا۔۔۔
اُسے دیکھ پریسا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا تھا۔۔۔۔ پریسا کو لگا تھا اُس کی آنکھوں کو کوئی دھوکا ہوا ہے۔۔۔ وہ صوفے سے اُٹھتی شاک کی کیفیت میں سیاہ لباس میں اپنی شخصیت کی تمام تر سحر انگیزی کے ساتھ کھڑے شاہ ویز کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
جس نے ہمیشہ کی طرح آج اپنا چہرا رومال سے ڈھکا ہوا نہیں تھا۔۔۔
پریسا کو یہی لگا تھا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔۔۔ ورنہ شاہ ویز سکندر اِس وقت اُس کے روم میں کیوں آتا۔۔۔
پریسا بے خود سی چلتی اُس کے مقابل آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو قطار در قطار بہہ رہے تھے۔۔۔
اُسے شاہ ویز سکندر اپنا وہم لگا تھا۔۔۔ جسے دور کرنے کے لیے اُس نے بے خود انداز میں اُسے چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔۔ مگر جیسے ہی اُس کا ہاتھ شاہ ویز سکندر کے ہلکی ہلکی شیو زدہ چہرے سے ٹکرایا پریسا نے کرنٹ کھا کر اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔
جو سرد پتھریلی نگاہوں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تم۔۔۔ تم۔۔ سچ میں یہاں۔۔۔؟؟”
پریسا ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی۔۔۔ اِس چکر میں اپنے ہی لہنگے سے الجھتی وہ بُری طرح لڑکھڑا کر پیچھے گرتی۔۔۔ شاہ ویز نے بازو پھیلا کر اُسے اپنے قریب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
پریسا سیدھی اُس کے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگا تھا۔۔۔ اتنی آسانی سے میری نفرت سے بچ جاؤ گی۔۔۔ دور سے نفرت کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ اِس لیے میں اب پوری زندگی تم سے اپنی نفرت نبھاؤں گا۔۔۔ تمہیں اپنے ساتھ رکھ کر۔۔۔۔”
شاہ ویز سکندر نے دنیا کے سب سے نرالے انداز میں اُس کے سامنے اپنا پروپوزل پیش کیا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی سخت گرفت میں سہمی کھڑی پریسا سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔ کہ وہ اب پھر اُسے یہاں کونسی نئی سزا سنانے آیا تھا۔۔۔
“کک کیا مطلب۔۔۔۔؟؟ یہ کیا کررہے ہو تم۔۔۔؟؟”
پریسا ہکلا گئی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ ہاتھ بڑھا کر اُس کے کانوں میں پہنے جھمکے اُتار چکا تھا۔۔۔۔
پریسا اُس کی حرکت پر جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔
“تم پاگل ہوگئے ہو کیا وحشی انسان۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا اُس کی گرفت سے اپنے آپ کو آزاد کروانے کی کوشش کرتے چلائی تھی۔۔۔ جو اُس کا حلیے خراب کرنے کے ارادے سے ہی آیا تھا۔۔۔
“اب تمہیں یہ پاگل انسان اپنی وحشت ناکی سے ہی روشناس کروائے گا۔۔۔ چپ چاپ کھڑی رہو۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے کی دونوں کلائیاں کمر کے پیچھے باندھتا اب اپنا ہاتھ اُس کی ماتھا پٹی کی جانب بڑھا چکا تھا۔۔۔ وہ اُسے کسی اور کے نام کی دلہن بنی بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر یہ کیا کررہے ہو تم۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر میں نکاح ہے میرا۔۔۔ “
پریسا چلائی تھی۔۔۔۔
“اُسی کے لیے تیار کررہا ہوں۔۔۔۔”
شاہ ویز نے ماتھا پٹی اُتارتے جیسے ہی اُس کے نیکلس کی جانب ہاتھ بڑھایا پریسا نے گھبرا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔ اُس کا چہرا خطرناک حد تک لال پڑ چکا تھا۔۔۔
اُس کی حالت دیکھ شاہ ویز کے آنکھیں میں ہلکی سی مسکراہٹ اُبھری تھی۔۔۔۔
جو دیکھتے پریسا بے خود ہوئی تھی۔۔۔
اُس نے آج پہلی بار اِس شخص کے چہرے پر مسکراہٹ کی یہ ہلکی سی جھلک دیکھی تھی۔۔۔۔
جو اگلے ہی لمحے معدوم بھی ہوچکی تھی۔۔۔
شاہ ویز اُسے آزاد کرتا پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔
” دس منٹ ہے تمہارے پاس۔۔۔۔ جلدی سے تیار ہوکر باہر آؤ۔۔۔ فکس پندرہ منٹ بعد نکاح ہے ہمارا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے ایک جانب پڑے ڈریس کا پیکٹ پکڑاتا حاکمانہ لہجے میں بولتا پریسا کو دوہرے شاک میں مبتلا کر گیا تھا۔۔۔
وہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں رہی تھی۔۔۔
“ہمارا نکاح۔۔۔۔؟؟؟”
پریسا نے خود کو بمشکل بول پانے کے قابل کرتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو سینے پر بازو باندھے اُس کے ردعمل کا انتظار کررہا تھا۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر تم سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے پریسا آفندی اتنی گئی گزری ہے۔۔ کہ تم جب چاہو گے اُسے ٹھکرا دو گے۔۔۔ اور جب دل چاہے گا۔۔۔ اُسے اپنا لو گے۔۔۔۔ میں ساری زندگی کے لیے اذیت برداشت کرلوں گی شاہ ویز سکندر مگر اب تم جیسے پتھر دل، بے رحم وحشی درندے سے بھیک میں ملا یہ رشتہ قبول نہیں کروں گی۔۔۔۔۔”
پریسا اُس کی بات سن کر جیسے آپے سے باہر ہوچکی تھی۔۔۔۔ اگر شاہ ویز یہی بات اُسے محبت سے کہتا تو وہ اُس کے آگے اپنا سب کچھ قربان کردیتی۔۔۔ مگر اُس کی نگاہوں میں اب بھی اپنے لیے ویسی ہی سرد مہری اور نفرت دیکھ وہ اپنے دل کو ایک بار پھر سے لہولہان ہونے سے نہیں روک پائی تھی۔۔۔
شاہ ویز اُس سے ایسے ہی کسی ردعمل کی توقع کررہا تھا۔۔۔۔
“تم کیا چاہتی ہو۔۔۔؟؟ میں آج ہی آفندی مینشن میں لاشوں کا ڈھیر لگا کر تمہیں زبردستی یہاں سے اُٹھا کر لے جاؤں۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز نے اُس کے بکھرے ہوش ربا حلیے سے نگاہیں چراتے کہا تھا۔۔۔۔ یہ لڑکی اُس کو آزمائش میں ڈال رہی تھی۔۔۔۔
اُس کی بات پر پریسا نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ بالکل سنجیدگی سے بولتا اپنی پاکٹ سے گن نکال چکا تھا۔۔۔۔
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔”
پریسا نے اُسے دروازے کی جانب قدم بڑھاتے دیکھ گھبرا کر کہا تھا۔۔۔
“ایک وحشی درندہ سب کچھ کر سکتا ہے۔۔۔۔ اور لوگوں کی جان لینا تو میرا سب سے پسندیدہ مشغلہ ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز کے اِس وحشت ناک انداز پر پریسا کا خوف سے پورا وجود لرز اُٹھا تھا۔۔۔
“تم بہت ظالم ہو شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ کاش میں شدید نفرت کر پاتی تم سے۔۔۔۔ مگر جو تم کررہے ہو ایک دن تمہیں ضرور پچھتانا پڑے گا۔۔۔ جب یوں سزائیں سنانے کے لیے تمہارے سامنے پریسا آفندی نہیں ہوگی۔۔۔۔ “
پریسا آنکھوں میں آئے آنسو بے دردی سے رگڑتی ڈریس اُٹھائے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
جب اُس کی بات پر غصے سے بپھرتا اُس کے قریب آتا شاہ ویز اُس کی کلائی دبوچ کر کمر کے پیچھے مڑورتا اُسے اپنے قریب تر کر گیا تھا۔۔۔۔
“کیوں نہیں ہوگی تم میرے سامنے۔۔۔۔ ؟؟ شاہ ویز سکندر ایسا دن آنے ہی نہیں دے گا جس دن وہ پریسا آفندی کو دیکھ نہ پائے۔۔۔ شاہ ویز سکندر کی نفرت کی انتہا بھی پریسا آفندی ہے اور عشق کی بھی۔۔۔۔ “
پریسا کی دی بد دعا شاہ ویز سکندر کے دل پر زہریلے خنجر کی طرح آن پیوست ہوئی تھی۔۔۔ جسے برداشت نہ کر پاتے وہ بلبلا اُٹھا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کے زبان سے ادا ہوتے آخری الفاظ پر پریسا کو اپنی سماعتیں سن ہوتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ تو کیا وہ بھی اُسے چاہتا تھا۔۔۔۔؟؟؟
شاہ ویز سکندر کی گرم تپیش زدہ سی چہرے کو جھلساتی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتی وہ ساکت سی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو غصے میں اپنے ہونٹوں سے یہ الفاظ تو نکال گیا تھا۔۔۔ مگر ابھی واپس سے اپنے گرد وہی نفرت کی چادر چڑھاتا اُس سے دور ہوا تھا۔۔۔
مگر اُس کے دور ہونے سے پہلے ہی پریسا اُس کا گریبان مُٹھیوں میں دبوچتے اُس کے قریب ہوئی تھی۔۔۔
اُس کے منہ سے نکلا اقرار پریسا آفندی کی دل کی دنیا ہلا کر رکھ گیا تھا۔۔۔
“تم بہت دوغلے انسان ہو شاہ ویز سکندر۔۔۔ منہ پر کچھ اور دل میں کچھ اور۔۔۔ تمہیں یہی لگتا ہے نا کہ ہر شے پر اپنا اختیار بنا کر سب کچھ اپنے حساب سے موڑ لو گے…؟؟ تو بہت بڑی بھول ہے یہ تمہاری۔۔۔۔ آج تک ہر ایک کو اپنے سامنے دباتے اور خود سے ڈراتے آئے ہو نا۔۔۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا شاہ ویز سکندر۔۔۔۔ اب میں تمہیں بتاؤں گی کے جو تم کررہے ہو۔۔۔ ویسا اگر کوئی تمہارے ساتھ کرے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ پریسا آفندی کو بہت ہلکے میں لے رہے تھے تم۔۔۔ “
پریسا بنا اُس سے ڈرے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے بولتی شاہ ویز سکندر کو اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔
“میں تمہیں صرف اپنی بیوی بنا رہا ہوں۔۔۔ اتنی اہمیت بالکل بھی نہیں دے رہا کہ تمہارے ہاتھ میرے گریبان تک جا پہنچیں۔۔۔۔”
شاہ ویز کو اندازہ ہو رہا تھا کہ غصے کی شدت سے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلے الفاظ اِس سامنے کھڑی لڑکی کو بہادر بنا گئی تھی۔۔۔
وہ اُس کے بالوں کی گدی میں ہاتھ پھنساتا اُس کا چہرا اپنے چہرے کے مزید قریب کرتا اُس پر جھکا تھا۔۔۔
“میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔۔۔ اِسی بات کا شکر مناؤ۔۔۔ میری محبت برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔ پناہ مانگو گی مجھ سے۔۔۔ اور میرے سوا کہیں پناہ کہیں نہیں ملے گی۔۔۔۔۔ اِسی لیے دعا کرو میری نفرت ہی قائم رہے۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے میک اپ سے سجے دلنشین چہرے اور لال لپسٹک سے مزین کپکپاتے سُرخ ہونٹوں پر ایک گہری نگاہ ڈالتا اُسے آزاد کرتا اُس کی جانب سے رُخ موڑتا سیگریٹ سلگھا چکا تھا۔۔۔۔
جبکہ پریسا اُس کے اِس روح کو فنا کرتے عمل اور الفاظ پر جیسے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔
“تمہارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں تیار ہونے کے لیے۔۔۔ پانچ منٹ تم خود ضائع کر چکی ہو۔۔۔۔”
شاہ ویز کی بات پر پریسا ایکدم ہوش میں آتی اپنے لرزتے وجود کے ساتھ بمشکل چل پاتے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
“وحشی درندہ کہیں کا۔۔۔ پانچ منٹ میں کونسی دلہن تیار ہوتی ہے بھلا۔۔۔”
پریسا کو محسوس ہورہا تھا جیسے شاہ ویز کے آنے کے بعد بہت بھاری بوجھ اُس کے سر سے سرک گیا تھا۔۔۔۔ شاہ ویز سکندر جیسے بلیک بیسٹ سے نکاح کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔۔۔
مگر اِس وقت پریسا آفندی کا دل جیسے خوشی سے جھومنے کو چاہ رہا تھا۔۔۔ اُس نے شاہ کا سکندر سے سچے دل سے محبت کی تھی۔۔۔ جو اُس کے رب نے اُس کی جھولی میں ڈال دی تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
